Ishq Zard Rang Maiel Novel by Rose Marie – Episode 6

0

عشق ذرد رنگ مائل از روز میری – قسط نمبر 6

–**–**–

 

احتشام سندس کے مد مقابل ممتاز کے برابر والی چیئر پہ بیٹھا تھا۔۔۔ نین تارا احتشام کیلیئے چائے بنا لائی تھی جو وسط میں رکھے میز پہ پڑی تھی۔۔۔۔ پیالی سے اٹھتا دھواں اس بات کا چشمدید گواہ تھا کہ اس میں موجود چائے شدید گرم ہے۔۔۔۔ نین تارا بقیہ برتن کچن میں سمیٹ آئی تھی پھر احتشام کے بائیں ہاتھ پہ رکھی چیئر پہ براجمان تھی۔
“سندس مجھے چائے پکڑا دو پلیز”۔ احتشام کے یوں مخاطب کرنے پہ سندس کا چہرہ کھل اٹھا تھا جبکہ نین تارا کیلیئے یہ بات خلاف طبیعت تھی کہ احتشام نے اسکے ہوتے سندس کو مخاطب کیا۔
سندس چائے کا کپ اٹھائے چہرے پہ دلفریب مسکان سجائے احتشام کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ اسکے قدم جیسے زمین سے ہوا میں معلق ہو گئے ہوں۔
“او شٹ ۔۔۔ ایم سوری”۔ سندس کے قریب آتے ہی احتشام نے پاوں پہ کچھ چبھنے کی ایکٹنگ کرتے نشست چھوڑ دی تھی جس سے اسکا ہاتھ سندس کے ہاتھ میں موجود پیالی سے جا ٹکرایا۔۔۔ پیالی میں موجود چائے سندس کے ہاتھ پہ گر گئی تھی جبکہ پیالی زمین بوس ہو چکی تھی۔
“سندس میری بچی تم ٹھیک ہو؟؟”۔ سندس کی چیخ پہ تبسم کا دل لرزا۔
“ماما بہت جلن ہو رہی ہے؟؟”۔ ہاتھ کی جانب دیکھتے وہ چلائی۔ ممتاز اور تبسم فورا سے اسکے قریب آئے۔
“میں سمجھ سکتا ہوں سندس کہ۔۔۔۔ جب ہاتھ جلتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے”۔ سندس کے قریب ہوتے اسنے کراہت بھرے انداز میں کہا۔
احتشام کی نظریں بے ساختہ نین تارا کی جانب اٹھیں جو حیرت کا مجسمہ بنی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ احتشام سے سوال کرتی احتشام اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احتشام آپ نے ایسا کیوں کیا؟؟؟”۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا جب نین تارا اسکے قریب آئی۔
“کیا کیا ہے میں نے؟؟”۔ شیشے میں اسکا عکس دیکھتے وہ انجان بنا۔
“آپ جانتے ہیں احتشام کہ میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں”۔
“کس بارے میں نین تارا؟؟”۔ مصنوعی بے زارگی کے تاثرات چہرے پہ فکس کیئے وہ بیڈ کی جانب بڑھا۔
“احتشام آپ نے سندس کا ہاتھ کیوں جلایا ہے؟؟”۔ اسکے بازو کو تھامتے وہ اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“میں اسکا ہاتھ کیوں جلانے لگا نین تارا۔۔۔ یہ سب تو اتفاقا ہوا ہے”۔ احتشام نے معصومیت بھرے انداز میں بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔
“میں جانتی ہوں احتشام کہ یہ سب آپ نے جان کے کیا ہے”۔ نین تارا کا لہجہ اب قدرے سنجیدہ ہوا۔
“ہاں یہ سب میں نے جان کے کیا ہے اور کیا غلط کیا ہے؟؟ ۔۔۔ موقع بھی تھا اور دستور بھی۔۔۔ میں نے تو بس موقع سے فیض حاصل کیا ہے اور کچھ نہیں”۔ اسکے شانوں پہ ہاتھ رکھے اسنے متبسم انداز میں کہا۔
“کیا ملا آپکو یہ سب کر کے؟؟ اس بے چاری کا ہاتھ جل گیا کتنی تکلیف ہوئی ہو گی نا اسے”۔ نین تارا کا دل پسیجا۔
“نین تارا تم پتھر کی بنی ہو یا پھر درد پروف ہو؟؟۔۔۔۔ اسکی فکر کرنا چھوڑ دو ۔۔۔ بہت ڈھیٹ ہے اسے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ اور پلیز اسکے لیئے ایسے الفاظ استعمال نا کرو وہ ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ بے چارے لوگ جان لیوا سازشیں کر کے کسی کو بلاوجہ کی اذیت نہیں پہنچاتے”۔ احتشام نے بھڑاس نکالتے کہا۔
احتشام نے پہلی بار نین تارا کو سرد مہری سے جواب دیا تھا جس پہ وہ اسے متعجب دیکھ رہی تھی اور گم سم بیڈ کی پائینتی پہ ڈھے سی گئی تھی۔
“میری جان تم بہت معصوم ہو ۔۔۔۔۔ اس فریبی دنیا کے مکار لوگوں کی سازشوں کے آگے تمھاری معصومیت بھی گھٹنے ٹیک دے گی۔۔۔ زمانے کے ساتھ چلنا سیکھو۔۔۔۔ مقابل انسان کے لہجے کا جواب ٹکر سے دو۔۔۔۔ یہ بات ذہن نشین کر لو نین تارا کہ اب تم کوئی معمولی لڑکی نہیں ایس-پی احتشام شامیر کی جان ہو۔۔۔ اور میرے حساب سے تو میری جان کو سخت جان ہونا چاہیئے نا کہ ڈری ڈری،، سہمی سہمی سی”۔ پیروں کو حرکت دیتا وہ پنجوں کے بل نین تارا کے قدموں میں آ بیٹھا تھا۔
“ون منٹ”۔ اٹھتے ہی وہ وارڈ روب کی جانب بڑھا۔ جو شاپنگ بیگ شام سے اس میں رکھا تھا اس میں سے کچھ نکال کر احتشام نے وارڈ روب میں رکھا باہم اسکو رکھتے وقت اسکی آنکھوں میں پر نور چمک نمایاں تھی۔۔ پھر وہی شاپنگ بیگ لیئے نین تارا کی جانب آیا۔
“کافی دن گزرے ہم کہیں آوٹنگ پہ نہیں گئے۔۔۔ میں چاہتا ہوں کل تم یہ ڈریس پہن کر میرے ساتھ چلو”۔ شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھاتے احتشام نے خواہش ظاہر کی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح کے سات بج رہے تھے وہ کافی شاپ میں بیٹھا ایک کپ کافی سے انصاف کر کے دوسری کا آرڈر بھی دے چکا تھا جو اس بات کی زندہ دلیل تھی کہ وہ کسی کا افراط سے منتظر ہے۔
“ہاں بلال بول۔۔۔۔ تو نے مجھے اتنی صبح کیوں بلایا ہے؟؟ وہ بھی اتنی جلدی”۔ بلال کے رو برو اسنے چیئر گھسیٹی اور اس پہ بیٹھ گیا۔
“شمون یار بس کیا کروں؟۔۔۔ دماغ کے ہاتھوں مجبور ہو کر تجھے یہاں مجبوری کے تحت بلایا ہے”۔ چیئر کی پشت چھوڑتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ اتنے میں ویٹربھی کافی لے آیا تھا جسے بلال نے شمون کیلیئے بھی ایک کپ کافی کا کہہ دیا تھا۔
“لوگ دل کی سنتے ہیں اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر سخت اقدام اٹھاتے ہیں مگر یہ میں پہلی بار سن رہا ہوں کہ کوئی دماغ کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوئی قدم اٹھا رہا ہے”۔ بولتے ہی وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“اچھا مذاق بنانا بند کر اور میری بات سن”۔
“بول کیا بات ہے؟؟”۔
“یار شمون میں نے جب سے اس جج کی بیٹی کو دیکھا ہے وہ میرے دماغ میں آ کر ایسی فٹ ہوئی ہے کہ کچھ اور سوچنے کی جیسے صلاحیت ہی ختم ہو گئی ہے”۔ بلال نے بولتے ہی گزشتہ رات کی کیفیت اس پہ عیاں کر دی تھی۔
“تو اس میں، میں کیا کر سکتا ہوں؟”۔ شمون متجسانہ اسے دیکھ رہا تھا۔
“ایک ملاقات۔۔۔۔۔ بس ایک ملاقات کرنا چاہتا ہوں اور وہ تو کروا سکتا ہے”۔ مدعہ بیان کرتے اسکے لبوں پہ تمسخرانہ مسکراہٹ رینگی تھی جسے شمون بخوبی جان چکا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احتشام کے کپڑے وارڈ روب میں رکھنے کی غرض سے وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی تھی۔ کپڑوں کو ترتیب دیتے وہ جیسے ہی پیچھے ہٹی اسکی نظر کونے میں رکھیں بوٹیز پہ پڑی۔
بوٹیز کو ہاتھ میں پکڑتے اسنے وارڈ روب کا دروازہ بند کیا ہی تھا کہ احتشام روم میں داخل ہوا۔۔۔ نین تارا کے ہاتھ میں بوٹیز دیکھتے احتشام پل بھر کو رکا پھر نظریں چرا کر واش روم چلا گیا تھا۔
چند لمحوں میں احتشام واش روم سے باہر آ گیا تھا جبکہ نین تارا ویسے ہی کھڑی ان بوٹیز کو دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا نین تارا؟؟”۔ قدموں کو اسکی جانب حرکت دیتے احتشام نے دھیرے سے کہا۔
“احتشام یہ بوٹیز کس کی ہیں؟؟”۔ نین تارا کی آنکھوں میں قطعی جداگانہ چمک تھی جو احتشام نے اچھے سے محسوس کی تھی۔
“نین تارا نا یہ تمھاری سائز کی ہیں نا مجھے پوری ہیں تو یقینا یہ ہم میں سے کسی کی نہیں”۔ اپنی ہنسی کو بمشکل دانتوں تلے دبائے اسنے جبرا سنجیدگی صورت پہ سجائی۔
“تو پھر کس کی ہیں؟؟”۔ بے اختیار مزید سوال کرتے اسنے احتشام کے دل میں پنہاں ارمانوں کو کریدا۔
“نین تارا آئی ایم گیٹنگ لیٹ۔۔۔۔ واپسی پہ ملاقات ہو گی”۔ بولتے ہی اسنے نین تارا کے دائیں رخسار پہ محبت کی مہر ثبت کی پھر روم کی دہلیز پار کر گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“روہینہ تم لوکل کیسے جاو گی اگر چاہو تو میں تمھیں ڈراپ کر سکتا ہوں”۔ روہینہ کے ہمراہ وہ یونیورسٹی گیٹ کی جانب قدم اٹھا رہا تھا۔
“نہیں بلال بھائی کا میسج آیا ہے کہ میں پندرہ منٹ تک تمھیں یونی سے پک کر لوں گا”۔ نفی کرتے اسنے مزید کہا۔
“یہ تو اچھا ہو گیا۔۔۔۔۔ او ہو لگتا ہے میں اپنا سیل کلاس روم میں ہی بھول آیا ہوں”۔ جونہی اسنے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالا اسے اندیشہ ہوا۔ ” روہینہ تم جاو میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں”۔ بولتے ہی وہ تیزی میں کلاس روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
دس منٹ کی تاخیر سے احتشام بھی یونی گیٹ پہ پہنچ گیا تھا۔
“احتشام بھائی آ گئے ۔۔۔۔ پتہ نہیں یہ بلال کدھر رہ گیا ہے؟؟”۔ سرکاری نمبر پلیٹ لگی بلیک چمچکاتی پراڈو نے اسے یونی کے اندر جھانکنے پہ مجبور کیا جہاں سے اسکی نگاہ خالی ہاتھ لوٹ آئی تھی۔
پھر زبردستی اسنے اپنے قدم پراڈو کی جانب اٹھانا شروع کیئے۔
کچھ ہی منٹوں میں بلال بھی وہاں آن پہنچا تھا جسکی نگاہیں ناک کی سیدھ پہ روہینہ پہ جا ٹکیں جو پراڈو میں احتشام کے برابر بیٹھ چکی تھی۔
“روہینہ کا بھائی اور کوئی نہیں بلکہ ایس- پی ۔۔۔۔۔۔۔ شٹ اتنی بڑی خطا مجھ سے کیسے سرزد ہو گئی؟؟۔۔۔۔۔ نا ممکن ہے۔۔۔ وٹ دا ہیل آئی واز ڈوئینگ؟؟”۔ احتشام تک نظروں کی رسائی نے اسکے دل میں گزشتہ دنوں سے بجھے بدلے کے انگاڑوں کو دوبارہ دہکا دیا تھا۔ جسکے شعلے اسکے وجود کو اپنی لپیٹ میں پوری طرح لے چکے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا چل۔۔۔۔۔۔”۔ روم کی دہلیز سے ڈریسنگ ٹیبل تک اسکی آنکھوں کی رسائی کی دیر تھی باقی ماندہ الفاظ کی ادائیگی اسکے لبوں نے گستاخی جانی۔
آنکھوں کے نشانے پہ نین تارا کا چمکو وجود تھا۔۔۔۔ قدموں کی جنبش ٹھہرے وقت کی مانند رک سی گئی تھی۔
آف وائٹ ڈریس پینٹ پہ گھٹنوں تک محرون کافطان سٹائل شرٹ جسکی بائیں جانب نہایت باریکی اور لطافت سے کڑھائی کی گئی تھی۔
سٹیپس میں کٹے بھورے بال شانوں پہ ڈال کر انہیں اپنے حال پہ چھوڑ دیا گیا تھا،، کالی آنکھیں مکمل کاجل کے سحر انگیز حصار میں تھیں
دراز پلکیں وشال آنکھیں
مصوری کا کمال آنکھیں
شراب رب نے حرام کر دی
خدا کی بندی سنبھال آنکھیں
دونوں کلائیوں میں ایک ایک جوڑی دار کنگن، گلے میں رونمائی میں ملا نیکلیس اور پیروں میں شرٹ کے ہم رنگ سینڈل نما ہیل۔
نین تارا اس وقت خوشہء پروین کے مابین کھڑی ایک خوبصورت شہزادی کا عکس لگ رہی تھی۔۔۔۔ اسکی نرم ملائم شفاف گوری رنگت تائی سے مشابہت رکھتی تھی۔
“احتشام چلیں؟”۔ البیلی چال چلتی وہ احتشام کے قریب آئی۔
“ششششش”۔ احتشام نے انگشت شہادت اسکے لبوں پہ رکھی۔
“سچ پوچھو تو میرا رتی برابر بھی دل نہیں مان رہا اس روم کی حد پار کرنے کو۔۔۔۔۔ تمھارے اس سنہرے روپ نے جیسے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے”۔ بغیر پلکیں جھپکائے اسنے دل میں اٹھتے جذبات نین تارا کی جانب اچکائے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاتھ میں فون پکڑے وہ بے چینی سے روم میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ فون پہ رنگ ٹون سے اسکے قدم تھمے۔
“جی وکیل صاحب بولیئے؟”۔ کال اٹینڈ کرتے ہی اسنے کہا۔
“کیا واقعی؟؟”۔ اسکے چہرے پہ پر اسرار مسکراہٹ رینگی۔
“ٹھیک ہے آپ وہ ڈاکومنٹس پاس رکھئے میں کل یونی سے واپسی پہ آپ سے ریسیو کر لوں گا۔۔۔ بہت شکریہ بائے”۔ کال کاٹتے ہی اسنے اطمینان سے فون بیڈ پہ پھینکا پھر روم سے نکل گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام کے سات بج رہے تھے۔ احتشام کی کار ساحل سمندر پہ آ رکی۔۔۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولے وہ مخالف سمت بیٹھی نین تارا کی طرف بڑھا۔
ٹانگیں باہر کی جانب نکالے نین تارا سینڈلز کے کلپ کھولنے کی غرض سے جونہی جھکی احتشام اسکے قدموں میں پنجوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ ایک کے بعد ایک احتشام نے اسکے پاوں اپنے گھٹنے پہ رکھتے اسکے سینڈلز اتارے پھر اسکی جینز کو تین فولڈز اوپر کو کیا کہ پانی میں جانے کی وجہ سے وہ گیلی نا ہو جائے۔
جھاگ سے پاک سمندر کے پانی کی زرد رنگ سے آمیزش لہریں ساحل پہ اپنا دم توڑ رہیں تھیں۔۔۔۔ غروب آفتاب کی دن بھر کی تھکی ہاری کرنیں سمندر پہ اپنا سنہرا رنگ اچھالتے اسے بھی ہم رنگ کر رہیں تھیں۔
پانی میں اپنے پیر بھگوتے دونوں ہم قدم ساحل کی جانب چند قدم بڑھے تھے۔
بلیک جینز پہ ململ کی ہلکی شرٹ جو ہوا کے زور پہ پھڑپھڑا رہی تھی۔۔۔ نین تارا بھی بارہا چہرے کی حدود پار کرنی والی تمام گستاخ لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑس رہی تھی۔
دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹس میں ڈالے وہ ساحل سمندر پہ نین تارا کے برابر کھڑا قدرت کی دلفریب اور دلکش منظر کشی دیکھ رہا تھا کہ دیکھنے والا بنانے والے کی تعظیم میں سر جھکائے بنا نا رہ سکے۔
“احتشام آپکا بہت شکریہ میری زندگی اتنی حسین بنانے کیلیئے”۔ احتشام کے قریب ہوتے اسنے احتشام کے سینے پہ سر ٹکا لیا تھا جس پہ احتشام نے اسے اپنے بازووں کے حصار میں لے لیا۔
ہر شر، ہر بلا اور ہر بری نظر سے محفوظ عشق کے تحفظ میں
احتشام کے بازووں نے اسے جیسے مکمل چھپا لیا تھا۔۔۔ معصوم سی روتی ہوئی کلی کی ادا کی مانند اسنے شرم کے مارے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا۔
“آپ کچھ نہیں کہیں گے؟؟”۔ ہوا کی سرسراہٹ کے باعث اسکی آواز اب مدھم ہو گئی تھی۔
“نین تارا کہنے اور سننے میں بہت فرق ہے اس سے بھی افضل ہے محسوس کرنا۔۔۔۔۔ عشق میں محبوب کی قربت کو محسوس کرنا اس طرح کہ اسکی خوشبو آپکی روح سے آمیزش اختیار کرکے آپکے وجود میں مکمل سما جائے۔۔۔۔۔ افضل النفضیل ہے۔۔۔ یہ حس کم ہی اہل عشق کے پاس ہوتی ہے”۔ تمسکن آمیز انداز میں بولتے اسنے نین تارا کے سر پہ اپنی تھوڑی ٹکا کر لمحہ بھر کو آنکھیں موند لیں تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کل صبح سوچیں گے جو آج رات کیا
کل صبح گن لیں گے ساری غلطیاں
تو میرا ابھی ،،، ہو جانا اجنبی پھر
ہم ملیں گے نا کبھی
کل صبح چلے جائیں گے ہے گھر جہاں
کل صبح بولے جو بھی بولے گا جہاں
تو میرا ابھی ،،، ہو جانا اجنبی پھر
ہم ملیں گے نا کبھی”
شہر کا یہ بڑا کلب ویسٹرن کے نام سے مشہور تھا۔۔۔ بالخصوص غیر مذہب کے لیئے توجہ کا مرکز اور پیسے کمانے کا بہترین ذریعہ تھا۔
پاکستان کی بگڑی اور نامور اشکال بھی اکثر و بیشتر یہاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔
کلب میں اسے آئے ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔۔۔ شام ڈھل کر رات میں تبدیل ہو چکی تھی۔
بلیک جینز پہ سلکی سنہری شرٹ جو بالکل سادہ تھی،،، گلے میں ایک چین تھی۔۔۔۔ بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کر رکھا تھا۔۔۔ کانوں میں گول سادہ بڑے آویزے جبکہ پیروں میں ویلوٹ کے بلیک کوٹ شوز۔
اپنی دھن میں وہ البیلی چال چلتی پارکنگ ایریا کی اور اپنے قدم اٹھا رہی تھی۔
“ہو دا ہیل آر یو؟؟”۔ جونہی اسنے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولنا چاہا کسی نے اسکا ہاتھ تھاما جس پہ وہ غصے میں اسکی جانب پلٹی تھی۔
“غصہ انسان کیلیئے محضر صحت ہوتا ہے اور خاص کر تمھاری جیسی بیوٹی کو تو بالکل نہیں کرنا چاہیئے”۔ لبوں میں سگریٹ دبائے اسنے لائٹر کی مدد سے اسے سلگایا پھر انگلیوں میں دباتے چہرہ اوپر کو کرتے پھونک ماری تھی جس سے سرمئی دھواں ہوا میں تحلیل ہوا۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا راستہ روکنے کی؟؟”۔
“میری ہمت کو مت للکارو۔۔۔۔ تمھارے لیئے اچھا نہیں ہوگا”۔ مزید قدم اٹھاتا وہ اسکے قریب آیا ۔ ” تم جانتی ہو میں کون ہوں؟؟۔۔۔۔۔ اس شہر کے نامور ارب پتی سیٹھ رفیق نیازی کا اکلوتا وارث ۔۔۔ بلال رفیق نیازی اور تم ٹھہری ہائی کورٹ کے لکھ پتی جج نصیر الدین کی اکلوتی بیٹی ۔۔۔۔ نبیہا نصیر”۔ سگریٹ کو زمین پہ پھینکتے اسنے پیر سے مسلا تھا۔
“بہت پہنچے ہوئے ہو۔۔۔ میری بائیوگرافی، ہسٹری سب معلوم بھی کر لی”۔ سینے پہ ہاتھ باندھے وہ طنزیہ ہنسی۔
اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں”۔ اسنے نخوت سے کہا۔
“اپنی شہرت اور پیسے کا جھانسہ کسی ایسی کو دینا جو اس میں آ جائے مجھے نہیں۔۔۔ انڈر سٹینڈ”۔ بولتے ہی اسنے بلال کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی پھر ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا۔
“میں تم سے بات۔۔۔۔۔۔”۔
“چٹاخ”۔ نبیہا کے قریب ہوتے اسنے نبیہا کا دائیاں ہاتھ پکڑا تھا جو اگلے ہی لمحے پر زور آواز کے ساتھ اسکے چہرے پہ اپنے نشانات چھوڑ آیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
واجد صحن میں چیئر پہ اطمینان سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا بڑے انہماک سے اخبار کے اوراق پلٹ رہا تھا جب نین تارا ہاتھ میں چائے کی پیالی پکڑے اس طرف آئی تھی۔
“تایا ابو یہ چائے”۔ پیالی واجد کے سامنے میز پہ رکھتے وہ جونہی کچن کی جانب مڑی اسکا سر چکرا گیا تھا جس سے وہ ہڑبڑا کر ایک قدم پیچھے کو ہٹی۔
“کیا ہوا نین تارا؟؟ تم ٹھیک ہو؟؟”۔ اخبار سائیڈ پہ کرتے اسنے کہا۔
“ج۔ جی تایا ابو بس چکر آ گئے”۔ دونوں ہاتھوں میں چہرہ تھامے وہ چیئر پہ بیٹھ گئی تھی۔
واجد فورا سے اخبار چھوڑتا اسکی جانب لپکا۔
“احتشام نجانے کب آئے؟ چلو میں تمھیں ہوسپٹل کے چلتا ہوں”۔ نین تارا کو سہارا دیتے وہ انٹرنس کی جانب بڑھا تھا۔
انٹرنس پہ انکا ٹاکرا مخالف سمت سے آتی تبسم سے ہوا جو جلدی میں سیڑھیاں چڑھتی انٹرنس کی دہلیز تک آئی تھی۔
“ارے بھائی صاحب آپ نین تارا کو لے کر کہاں جا رہے ہیں؟؟”۔ اسنے دلچسپی سے پوچھا۔
“تبسم نین تارا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے سوچا ہوسپٹل لے جاوں۔۔۔۔ تم اندر جاو ہم ہوسپٹل سے ہو آئیں”۔ اسکو آگاہ کرتے وہ انٹرنس پار کر گئے تھے۔
“ایسا بھی کیا ہو گیا ہے جو ہوسپٹل لے کر جا رہے ہیں؟۔۔ مر تو نہیں رہی تھی”۔ تبسم بڑبڑاتی گھر میں داخل ہوئی۔
“تبسم تمھیں کیا ہوا ہے؟؟ لگتا ہے کسی سے منہ ماری کر کے آئی ہو؟؟”۔ متضاد سمت سے آتی ممتاز نے بے زارگی ظاہر کرتے اندازہ لگایا۔
“آپا یہ واجد بھائی نین تارا کو ہسپتال کیوں لے کر گئے ہیں؟؟”۔ تبسم نے عادتا بال کی کھال نکالنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
“کیا؟؟ واجد نین تارا کو ہوسپٹل لے کر گئے ہیں؟”۔ تبسم کا تیر جیسے نشانے پہ لگا تھا۔
“آپا آپکو بھائی صاحب نے کچھ نہیں بتایا بھئی ایسا بھی کیا ہو گیا تھا جو آپکو بتانا مناسب نا سمجھا؟؟”۔ چور نگاہ ممتاز پہ ڈالتے وہ چیئر پہ سکون سے بیٹھ گئی جبکہ ممتاز آگ بگولہ ہوتی اپنے روم کی جانب گھومی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا بہت مبارک ہو۔۔۔۔ اللہ کی ذات تمھیں اور احتشام کو یہ خوشی دیکھنا نصیب کرے۔۔۔ اللہ کا حکم ہوا تو میں بھی اپنے پرپوتوں کی صورت دیکھ لوں گی”۔ قدسیہ بیگم کے روم میں وہ قدسیہ بیگم کے سامنے بیڈ پہ بیٹھی تھی جب قدسیہ بیگم نے خوشی کا اظہار کرتے مزید کہا۔
“انشاءاللہ بی جان”۔ نین تارا کے چہرے پہ لال لالی تیزی سے آ سموئی تھی۔
“بی جان۔۔۔ بی جان آپ کیلیئے ایک سرپرائز ہے”۔ قدسیہ بیگم کے روم میں داخل ہوتے اسنے پرتپاک انداز میں کہا۔
“احتشام میرے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہمارے پاس بھی تمھارے لیئے ایک سرپرائز ہے”۔ نین تارا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے قدسیہ بیگم نے متبسم انداز میں کہا پھر ہنس دیں جسے احتشام نا سمجھ سکا۔ ” بتاو تو کیا سرپرائز ہے؟؟”۔ احتشام کی متحیر ساکت نظریں نین تارا پہ تھیں جب قدسیہ بیگم نے دوبارہ سے کہا۔
“بی جان آپ اور پاپا کیلیئے جو عمرے کی ایپلیکیشن سبمٹ کرائی تھی وہ منظور ہوگئی ہے آج سے ٹھیک چھ دن بعد آپکی فلائٹ ہے۔۔۔ ہے نا سرپرائز؟؟”۔ پرجوش انداز میں ہاتھوں کے اشاروں کیساتھ اسنے تفصیل دی۔
“اس پاک پروردگار یکتا کا بہت بڑا احسان ہے کہ اسنے ہم جیسے گنہگار باسیوں کی فریاد سن لی اور اپنے حرم میں اپنے روبرو حاضری کا شرف بخشا”۔ بولتے ہی اسنے دعا میں ہاتھ اٹھاتے چہرے پہ پھیرے تھے۔
“اچھا اب آپ لوگ بتائیں میرے لیئے کیا سرپرائز ہے؟؟؟”۔ احتشام کے تجسس میں دگنا اضافہ ہوا۔
“احتشام پہلے تم بیٹھ جاو مجھے ڈر ہے کہ کہیں چکرا کے گر نا جاو”۔ قدسیہ بیگم نے شریر انداز میں کہا۔
“بولیں بھی بی جان اتنا سسپنس کیوں کریٹ کر رہی ہیں؟؟”۔ احتشام نے بے زارگی ظاہر کی۔ “چلیں بتائیں کیا بات ہے؟”۔ گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتے وہ قدسیہ بیگم کی جانب جھکا۔
“تم باپ بننے والے ہو”۔ قدسیہ نے دانستہ سرگوشی کی۔
نین تارا نے لاجونتی آنکھ سے احتشام کو دیکھا جسے دو سو واٹ کا کرنٹ لگا تھا۔
“سچ بی جان؟؟”۔ اسکا دل بہت کچھ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر جیسے اسکا وجود خواب کی سنہری نگری میں کھڑا تھا اور اسے یقین نا آیا تھا۔
جوابا قدسیہ نے” ہاں” میں سر ہلا دیا۔
“او مائی گاڈ”۔ چلاتے ہی وہ سیدھا ہوا۔
“تھینک یو۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ تھینک یو۔۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ میری جان۔۔۔ میں بس ابھی آیا”۔ نین تارا کی پیشانی پہ پیار بھری پانچ مہریں ثبت کرتے وہ روم سے باہر کی جانب دوڑا جبکہ نین تارا قدسیہ بیگم کی موجودگی میں اسکی اس حرکت پہ مزید شرمندہ ہو گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میں بہت خوش ہوں نین تارا۔۔۔ الفاظ کی عدم دستیابی کے باعث میں ان الفاظ کا چناو کرنے سے قاصر ہوں جو میرے دل میں پنہاں جذبات کو صحیح معنوں میں تم پہ آشکار کر سکیں ۔۔۔۔۔ میرا بس نہیں چل رہا ورنہ میں اس دنیا کو چیخ چیخ کر بتاوں کی احتشام کی فیملی مکمل ہونے جا رہی ہے”۔ بیڈ پہ نین تارا کی گود میں سر رکھے اپنے چہرے پہ نین تارا کا جھکا چہرہ بڑی چاہت سے دیکھ رہا تھا جبکہ نین تارا اسکے پاگل پن پہ مسکرا رہی تھی۔
“بہت شکریہ نینی مجھے اتنی بڑی خوشی سے دوچار کرنے کیکیئے”۔ ہنوز پر لطف،،، سنجیدہ انداز۔۔۔۔سینے پہ لپٹے ہاتھ کو اسنے نین تارا کے چہرے کی جانب بڑھایا۔
“نینی”۔ پہلی بار احتشام کی زبان سے اپنے نام کی یوں ادائیگی اسے تھوڑی نادر لگی۔
“بی جان تمھیں اکثر اسی نام سے مخاطب کرتی ہیں ۔۔۔ کیا تمھیں میرا یہ نام لینا اچھا نہیں لگا؟؟”۔ بولتے ہی اسنے کنفرم کیا۔
“نہیں ایسی بات بالکل بھی نہیں ۔۔۔ دراصل آپ نے کبھی اس نام سے پکارا نہیں تو اس لیئے”۔
احتشام نے اپنا بائیاں ہاتھ بڑھاتے نین تارا کے سر کی پشت کو اپنے چہرے پہ جھکاتے اسکا چہرہ خود سے قریب کیا ہی تھا کہ روم کا دروازہ اچانک سے کھلا جس پہ احتشام بوکھلا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
“سوری بیٹا بنا دستک کے ہی روم میں آ گئی۔۔۔ وہ میں نین تارا کیکیئے دودھ لائی تھی”۔ معذرت کرتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑے گلاس کی جانب اشارہ کیا۔
“کوئی بات نہیں ماما”۔ شرٹ کے بٹن بند کرتے وہ بیڈ سے اتر گیا تھا۔
“ارے تائی جان آپ کیوں لے آئیں میں خود لے لیتی”۔ ممتاز کا بدلہ رویہ اس کیلیئے نا قابل فہم تھا جبکہ یہ عمل اسکی سمجھ سے بالا تر۔
“نین تارا تم اس حالت میں کہاں تکلیف اٹھاتی ۔۔۔ میں نے سوچا خود ہی لے آوں”۔ گلاس نین تارا کی جانب بڑھاتے اسنے مزید کہا.

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: