Ishq Zard Rang Maiel Novel by Rose Marie – Episode 7

0

عشق ذرد رنگ مائل از روز میری – قسط نمبر 7

–**–**–

 

آسمان پہ ہلکی ہلکی بدلی چھائی تھی جس سے سورج نصف چھپ گیا تھا۔
سندس اپنے روم میں نین تارا اور احتشام کی زندگی میں رونما ہونے والی نئی تبدیلی کو لے کر بے حد پریشان تھی۔
“سندس امی ناشتے کیلیئے بلا رہی ہیں”۔ تقی اسکے روم میں آ کر کہنے لگا۔
“تم جاو مجھے نہیں کرنا”۔ نفی کرتے اسنے منہ پھیرا۔
“آج سے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تم نے یوں کھانے سے انکار کیا ہو۔۔۔ پھر آج کیوں؟؟”۔ تقی متحیر سا اسکے قریب آ کر کہنے لگا۔
“آج سے پہلے میرے ساتھ بھی تو ایسا کبھی نہیں ہوا”۔ رخسار پہ بہنے والے آنسوؤں کو پونچھتے اسنے افسردگی سے کہا۔
“تم احتشام اور نین تارا کی وجہ سے اپنا خون جلا رہی ہو؟؟”۔ اسکے چہرے کے تاثرات بھانپتے اسنے کنفرم کیا جس پہ اسے کوئی جواب نا ملا۔
“احتشام سے تو میں نے اپنا پرانا حساب برابر کرنا ہے۔۔۔ نین تارا کی وجہ سے اسنے میرے گریبان پہ ہاتھ ڈالا تھا یہ بات میں قطعا بھولنے والا نہیں ۔۔۔ تم فکر نا کرو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ان دونوں کو ہرگز سکون سے نہیں رہنے دوں گا”۔ غصے میں بولتا وہ روم سے نکل گیا تھا۔
“اسے روکنا ہو گا یہ میرے احتشام کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔ نین تارا کو بھلے مار دے مگر میرے احتشام کو کچھ نا کرے”۔ سندس بڑبڑاتی بیڈ سے اٹھی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نبیہا رکو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے”۔ اپنی فرینڈ کے ہم قدم وہ کلاس روم سے نکل کر کیفے کی جانب بڑھ رہی تھی جب عقب سے آتی آواز اسکی توجہ اپنی جانب راغب کرتے اسکے قدم وہیں روک گئی۔
“کیا ہوا شمون؟؟ کوئی پریشانی ہے کیا؟؟”۔ تیز تیز قدم اٹھاتا وہ اسکے مقابل آ کھڑا ہوا جب اسنے حیرت سے پوچھا۔
“وہ مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے”۔ اسکے برابر کھڑی اریج کی جانب اشارہ کرتے اسنے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔
نبیہا کے اشارہ کرتے ہی اریج کیفے میں داخل ہو گئی تھی۔
“کہو کیا بات ہے؟؟”۔ سن گلاسز سر پہ ٹکاتے اسنے بازووں کو سینے پہ لپیٹا۔
“بات یہ ہے نبیہا کہ کل شام کلب کے باہر جس لڑکے سے تمھاری تکرار ہوئی تھی وہ میرا دوست ہے بلال”۔ سنجیدگی میں اسنے وضاحت کرنا شروع کی۔
“او تو وہ چیپسٹر تمھارا دوست ہے۔۔۔ تم تو اتنے سلجھے ہوئے ہو پھر ایسے لوگوں سے اپنی دوستی رکھ کے اپنی ایمیج کیوں ڈاون کر رہے ہو؟؟”۔ شمون کی بات پہ وہ حیران ہوئی پھر چہرہ پھیر لیا۔
“نہیں نبیہا وہ دل کا بہت اچھا ہے بس غصے کا تیز ہے۔۔۔ وہ بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔۔۔ اگر تم اسے سوری کر دو گی تو اسکا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا”۔ بات سنبھالتے اسنے بلال کی طرف داری کی۔
“وٹ؟؟”۔ شمون کی بات نے جیسے جلی پہ تیل ڈالا تھا۔ “سوری مائی فٹ ۔۔۔۔۔ اسے غصہ ہے یا نہیں ۔۔۔ وہ کیا چاہتا ہے کیا نہیں ۔۔۔ نن آف مائی بزنس۔۔۔ اوکے”۔ غصے میں بولتی وہ بھی کیفے میں داخل ہوئی۔
نبیہا کے جاتے شمون نے ناک کی سیدھ میں تھوڑا فاصلے پہ کھڑے بلال کو نفی میں سر ہلاتے معاملے سے آگاہی دی تھی۔۔۔ جس پہ اسکا خون مزید کھول اٹھا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یونی سے چھٹی ہو گئی تھی۔۔۔ تقریبا ہر ڈیپارٹمنٹ آف ہو چکا تھا ایسے میں آنکھوں میں ہو رہی جلن سے اکتاتے وہ واش روم کی جانب بڑھی اس بات سے یکسر بے خبر کہ کوئی ازل سے اسکے تعاقب میں ہے۔
اپنے ڈیپارٹمنٹ کے اندرونی جانب بنے لیڈیز واش روم میں لگے بیسن پہ جھکے وہ منہ پہ پانی کے چھینٹے مار رہی تھی۔۔۔۔ ارد گرد ماحول کا جائزہ لیتے وہ بھی اسکے تعاقب میں واش روم میں داخل ہوا اور اسے لاک کر لیا تھا۔
پورے ڈیپارٹمنٹ میں ان دو کے علاوہ کوئی موجود نا تھا۔۔۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پہ وہ بوکھلا کر سیدھی ہوئی۔۔ سامنے دیوار پہ لگے آئینے سے بلال کا عکس دیکھتے اسکے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تھی۔
بلال کو اپنے عقب میں کھڑا دیکھ وہ بسرعت پلٹی۔
“ک۔ ک۔ کیوں آئے ہو تم ی۔ یہاں؟؟ اور ی۔ یہ تم نے دروازہ ک۔ کیوں بند کیا ہے؟؟”۔ اس کی جانب بلال کے بڑھتے قدموں پہ اسکی زبان میں لکنت پیدا ہوئی تھی۔۔۔ اسی وقت نبیہا کے وجود میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی۔
واش روم میں اسکی حاضر باشی پہ نبیہا کا داخلی وجود پوری طرح خوف سے لرز اٹھا تھا۔۔۔۔ شرٹ کے بٹن کھولنے کے بعد اب بلال کے ہاتھ بیلٹ کی جانب بڑھے تھے۔
بلال کا آہنی پیکر سینہ نبیہا پہ نمایاں ہوا جس سے اسکے خوف و ہراس میں بالمضاعف اضافہ ہوا تھا۔
“میرے پاس مت آنا ورنہ میں چلاوں گی”۔ ہاتھ کے اشارے سے وارن کرتی وہ جیسے خود کو تسلی اور اسے ڈراوا دے رہی تھی۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ اس دن منع کیا تھا تمھیں کہ میری ہمت کو مت للکارو۔۔۔۔۔ تم نے نہیں سنا اور میرے منہ پہ طمانچہ مارا دیا جسکے نشان لکیلی اب میرے چہرے سے مٹ چکے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر اب جو داغ میں تمھارے کردار اور عزت پہ لگاوں گا نا،،، دنیا کی کوئی طاقت اسے صاف نہیں کر سکتی۔۔۔۔ اس تھپڑ کا اذالہ تمھیں اپنی عزت گنوا کر ادا کرنا ہو گا”۔ بے ہنگم قہقہ لگاتے وہ قدم اٹھاتا اسکے بالکل قریب جا کھڑا ہوا پھر اسکی کمر کو جھٹکا دیتے اسے خود سے قریب کیا تھا۔
نوٹ: یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔ زنا اور ریپ گنہاہ کبیرہ ہیں اس کی سزا عدیم الوجود ہے(بہت بڑا عذاب)۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“یا اللہ میری بچی بخیر و عافیت ہو۔۔۔ اسکی حفاظت فرما”۔ دل میں اٹھتے ہزار طرح کے وسوسے،،، آنکھوں میں نبیہا کو صحیح سلامت دیکھنے کی آرزو لیئے،، گیٹ پہ ٹک ٹکی باندھے وہ لان میں بے چین بیٹھی تھی۔
چند لمحوں میں گیٹ کھلا تو زینت کے دل کی ہشاش دنیا ویران ہو گئی تھی۔۔۔ بوکھلا کر چیئر سے اٹھتے وہ نبیہا کی جانب لپکی۔
“نبیہا میری بچی کیا ہوا ہے؟؟۔۔۔۔۔ تمھاری یہ حالت؟؟؟۔۔۔۔۔ بتاو نا نبیہا میرا دل بیٹھا جا رہا ہے”۔ نبیہا کی غیر ہوتی حالت نے زینت کے دل میں جیسے درد ناک سانحے کی مہر لگا دی تھی۔
مٹی سے میلے کپڑے،، پیٹ اور بازووں سے چاک شرٹ،، بکھرے بال،، چہرے پہ جا بجا خراشیں،، ہونٹوں کے دائیں کونے پہ زخم تھا جو خون کے آنسو روتے اب چپ ہو چکا تھا۔
زینت نے فورا اپنی چادر اتارتے اسکے گرد کی پھر اسکے وجود کو بمشکل حرکت دیتے گھر کے اندرونی جانب بڑھ گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اپنے روم میں وہ بیڈ کے تاج کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا۔۔۔ دائیں ٹانگ کھڑی جبکہ بائیں سیدھی کر رکھی تھی۔۔۔ دائیں ٹانگ کے گھٹنے پہ اسنے اپنا دائیاں بازو ٹکایا تھا جبکہ ہاتھ کو ڈھیلا چھوڑا تھا۔۔۔ سفید شرٹ کے بٹنز مکمل کھلے تھے جس سے اسکا سینہ نمایاں تھا۔
بے ضمیر انسان سے بدتر کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ یہ بات اس پہ پوری طرح فٹ بیٹھتی تھی۔۔۔۔ اسکے مردہ ضمیر نے ایک معصوم روح کو رسوائی اور ذلت کے تاریک کنویں میں دھکیل دیا تھا۔۔ یہ ہولناک سانحہ اسکے لیئے ذرا بھی غرور شکن ثابت نا ہوا۔
دن والے سانحے کو یاد کرتے اسکے لبوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ تا ہنوز رواں تھی۔۔۔ جو اسکے انسان نہیں درندہ ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔
فون پہ رنگ ٹون اپنے پورے زور پہ چنگاڑی تو اسنے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھاتے کال ریسیو کی۔
“ہیلو بلال میں تمھیں کب سے کالز کر رہی ہوں تم میری کال اٹینڈ کیوں نہیں کر رہے؟؟؟ اور یہ تم دن کے کہاں غائب ہو؟؟”۔ دوسری جانب روہینہ کی بھڑکیلی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
“کچھ نہیں یار بس سو رہا تھا اور فون سائلنٹ پہ تھا ۔۔۔ اس وجہ سے دیکھ نا سکا سوری”۔ عادت ثانیہ کے تحت وہ جھوٹ بولنے میں سرخرو رہا۔
“اچھا کوئی بات نہیں ۔۔۔ یہ بتاو تم نے مجھ سے کوئی بات کرنی تھی؟؟۔۔۔ تمھارا میسج آیا تھا”۔
“بات؟؟۔۔۔ ہ۔ ہاں روہینہ وہ میں تم سے کل ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اسی لیئے میسج کیا تھا کہ تم کچھ وقت نکال کر مجھے عنایت کرو”۔ ذہن پہ ہلکا سا دباو ڈالتے وہ گویا ہوا۔
“اچھا ٹھیک ہے میں کل چار بجے یونی کے باہر ملوں گی تم آ جانا۔۔۔ یاد سے بھول نا جانا ۔۔۔ اوکے پھر کل ملاقات ہوگی بائے”۔ باور کراتے ہی اسنے کال کاٹ دی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سورج کی زراندوز جوش مارتی کرنیں بالکونی کے گلاس ڈور کو چیرتیں روم میں داخل ہو کر اسے پر نور بنا کر نور صبح کا خوبصورت پیغام دے رہی تھیں۔
احتشام سویرے ہی ڈیوٹی پہ چلا گیا تھا۔۔۔ روم کی صفائی کرتے وہ روم سے نکل گئی تھی۔۔۔ ہلکے قدم رکھتے اسنے احتیاط برتتے سیڑھیاں عبور کیں۔
“ارے احتشام آپ اتنی جلدی آ گئے؟”۔ متضاد سمت سے آتے احتشام کا وجود نین تارا کیلیئے خاصی حیرت کا سبب بنا۔۔ احتشام کے بعد اسکی نظروں کی رسائی ان لڑکیوں تک پہنچی جو احتشام کے عقب میں تھیں۔
“مجھے چھوڑو تم یہ بتاو روم سے باہر کیوں آئی؟؟ تمھیں تو میں نے ریسٹ کرنے کا بولا تھا”۔ نین تارا کے قریب آتے اسنے خفگی کا اظہار کیا۔
“احتشام آج تم جلدی کیسے آ گئے؟؟”۔ احتشام کے روم میں جانے کی غرض سے ممتاز بھی اس جانب آئی تھی۔
“جی ماما بس تھوڑی دیر کیلیئے ہی آیا ہوں ۔۔۔ اچھا یہ سنبل ہے اور یہ نازلی۔۔۔ سنبل گھر کے کام سنبھالے گی اور نازلی کم عمر ہونے کی وجہ سے صرف اور صرف نین تارا کی خدمت پہ معمور رہے گی۔۔۔ نازلی میری بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ نین تارا کو کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف نا پہنچے۔۔۔ اسکے قدم روم تک محدود رکھنا تمھاری ذمہ داری ہے”۔ ممتاز اور نین تارا کو آگاہ کرتے اسنے کم سن خادمہ کو سختی سے باور کراتے سرزنش کی جس پہ اسنے سر ہلا دیا تھا۔
“مگر احتشام میں اپنے روم میں کیسے رہ سکتی ہوں؟؟”۔ نین تارا نے بے زارگی سے کہا۔
“احتشام بالکل ٹھیک بول رہا ہے نین تارا جب نازلی اور سنبل ہیں تو تمھیں فکر مند ہونے کی قطعا ضرورت نہیں”۔ ممتاز نے احتشام کی پیروی کی۔ ” اچھا نین تارا جو میں بات کرنے آئی تھی وہ تو بھول گئی۔۔۔ یہ تعویز میرے پاس برسوں سے ہے سوچا تھا احتشام کی بیوی کو دوں گی جب وہ اس گھر کو وارث دے گی۔۔۔۔ اب اسکی ضرورت تمھیں ہو گی ،یہ تم رکھ لو”۔ ماتھا تھپکاتے اسنے نین تارا کی جانب ہاتھ میں پکڑا تعویز بڑھایا جو مستعطیل نما ٹھوس سونے کا بنا تھا اور اس پہ ای- ایس کندہ تھا۔
“ماما یہ تعویز تو”۔ تعویز کو دیکھتے احتشام کے منہ سے بے ساختہ الفاظ نکلے۔
“ہاں احتشام یہ وہی تعویز ہے جو بی جان نے مجھے دیا تھا۔۔۔۔ تمھارے بعد یہ تعویز روہینہ کو باندھا تھا اب اسکی ضرورت میرے پوتے کو ہو گی”۔ ممتاز نے تفصیل دی جسے احتشام اور نین تارا دلچسپی سے سن رہے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بلال ۔۔۔ بلال یہ میں کیا سن رہا ہوں؟”۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے وہ نزاکت سے بال بنانے میں لگا تھا جب رفیق برہمی سے اسکے روم میں داخل ہوا۔
“کیا ہوا ڈیڈ؟؟؟ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟”۔ ہنستے ہی وہ مطمئن انداز میں بولتے اسکی جانب دھیرے سے پلٹا۔
“کیونکہ جو حرکت تم نے کی ہے وہ سراہے جانے کے بالکل قابل نہیں”۔ بلال کے چہرے سے ہنوز پھوٹتی مسکراہٹ نے اسے مزید طیش دلایا تھا۔
“ہوا کیا ہے ڈیڈ ۔۔۔ آپ پریشان کیوں ہیں؟؟”۔ رفیق کے چہرے کے تاثرات بھانپتے وہ اسکے قریب آ کر کہنے لگا۔
“کیا یہ سچ ہے کہ تم نے نصیر الدین کی بیٹی کے ساتھ؟؟”۔ غصے پہ ضبط کرتے اسنے دھیمے لہجے میں کنفرم کیا۔
“جی۔۔۔۔ اور آپ اتنے ہائپر کیوں ہو رہے ہیں یہ تو عام بات ہے ۔۔۔ اتنی سی بات کیلیئے آپ اوور ری ایکٹ کیوں کر رہے ہیں؟” تمسکن آمیز انداز میں بولتا وہ دوبارہ سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گھوما۔
“یہ اتنی سی بات نہیں ہے بلال ۔۔۔ سراسر حماقت کی بنا پر تم نے۔۔۔۔ کیا تمھیں لڑکیوں کی کمی تھی جو تمھیں اس سے ہاتھ صاف کرنے پڑے؟؟ بلال تمھیں تلوار پکڑنا تو آ گئی مگر چلانا نہیں آئی”۔ بلال کے لاپرواہ رویے پہ وہ مزید تپ اٹھا۔ ” اب مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا۔۔ تم پہ رہا تو نجانے کیا کیا دیکھنے کو ملے گا”۔ بولتے ہی وہ روم سے نکل گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاتھ میں فون پکڑے وہ ڈائننگ روم میں داخل ہوا جب اسکی نظر مقابل صوفے پہ براجمان رفیق پہ پڑی جو اسی کا منتظر تھا اور اسکے آتے ہی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“سلام نصیر صاحب”۔
“جی رفیق صاحب کہیئے؟”۔ قدم اٹھاتا وہ رفیق کی دائیں جانب آ بیٹھا تھا ساتھ ہی اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
الفاظ کی مجموعہ بندی کے بعد اسنے قصد دل کے ساتھ اس مجموعے کو لبوں تک دخل یابی دی۔
“میں جانتا ہوں نصیر صاحب ایک بیٹی کا باپ ہونے کی حیثیت سے آپکا دل جبرا کس اذیت کے گھونٹ پینے پر مجبور ہے۔۔۔۔ میں ہرگز اسکا ازالہ نہیں کر سکتا بلال کی اس غلطی کیلیئے میں آپ سے معافی کا طلبگار ہوں”۔
“رفیق صاحب بچوں کی ہر غیر معیاری اور غیر مہذب حرکت کو معمولی غلطی کہہ دینے والے والدین درحقیقت ان کے بہت بڑے دشمن کہلاتے ہیں”۔ نہایت آزمودہ کار انداز میں نصیر نے جواب دیتے سرزنش کی۔
“دیکھئے نصیر صاحب میں آپکی بات سے سولہ آنے متفق ہوں ۔۔۔ آپکا کہنا بجا ہے مگر نصیر صاحب عزت ایک ایسی شے ہے جس کی مرادف باذ پس کسی صورت ممکن نہیں۔۔۔ میں اپنے بیٹے کی اس حرکت پہ بہت نادم ہوں”۔ بات سنبھالنے کی کوشش میں اسنے مزید الفاظ لڑی میں پروئے تھے۔۔ اسی لمحہ نبیہا کا وہاں سے گزر ہوا جب اسکی سماعتوں میں رفیق کی بات رقص کرتی اس کے پیروں میں زنجیر ڈالتی اسکے قدم وہیں روک گئی۔
“نصیر صاحب ہم جیسے لوگوں کیلیئے اس ملک میں رہنا نہایت دشوار ہے۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔۔۔ دیکھئے نصیر صاحب عزت ایک بار چلی جائے تو کسی صورت واپس نہیں آ سکتی۔۔۔ میں اسکا ہرجانہ دینے کو تیار ہوں”۔ پس و پیش رفیق نے اپنی بات مکمل کر دی۔
“رفیق صاحب آپکا کہنے کا مطلب ہے کہ میں اپنی بیٹی کا سودا کر لوں”۔ نصیر نے سرد مہری سے کہا۔
“نہیں نصیر صاحب میں تو بس امن و امان کا سوداگر ہوں۔۔۔۔ دیکھیں آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ ہمارے علاقے کی پولیس بھی ہماری مٹھی میں نہیں صرف اور صرف اس ایس پی کی بدولت۔۔۔۔ اگر اسے اس معاملے کی بھنک بھی پڑ گئی تو میرے ساتھ ساتھ آپکی اور آپ کے خاندان کی بدنامی ہے۔۔۔ پھر برسوں سے کمائی عزت کو یقینا آپ بھی پل بھر میں ملیامیٹ نہیں ہونے دینا چاہیں گے۔۔۔۔ امید ہے آپ میری بات پر غور ضرور کریں گے”۔ بولتے ہی اسنے نشست چھوڑ دی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یونیورسٹی سے واپسی پر وہ بلال سے ملنی کی غرض سے ڈیوائن ریسٹورنٹ میں سلیقے سے لگائے گئے چیئر ٹیبل میں سے ایک پہ بیٹھی تھی۔
“ہیلو”۔ اپنے ہاتھ میں فائل پکڑے وہ روہینہ کے مقابل آ بیٹھا تھا۔
“تم ہمیشہ لیٹ ہوتے ہو”۔ روہینہ نے بازو میز پہ ٹکاتے ہاتھوں پہ چہرہ جما لیا تھا۔
“ٹھیک ویسے ہی جیسے تم پہلے پہنچ جاتی ہو”۔ وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“یہ کونسی فائل ہے؟”۔ ہاتھ بڑھاتے اسنے بلال کے سامنے رکھی فائل اٹھا لی۔
“بنگلے کے ڈاکومنٹس”۔ آنکھوں کو عیاں کرتے اسنے سن گلاسز اتار کے ٹیبل پہ رکھیں۔
“تو یہ تم اپنے ساتھ لے کر کیوں گھوم رہے ہو؟؟”۔ فائل کے صفحات پلٹتے اسنے سرسری نگاہ دوڑائی۔
“تمھارے لیئے”۔
بلال کے ان لفظوں نے روہینہ کے ہاتھ کی حرکت کو ساکت کر دیا تھا۔
“میرے لیئے؟”۔ بے یقینی کی گرفت میں آتے اسنے بات دوہرائی۔
“ہاں روہینہ تمھارے لیئے۔۔۔ تمھاری برتھ ڈے پہ تمھیں گفٹ نا دے سکا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کونسا گفٹ دوں جو تمھارے قابل ہو۔۔۔ پھر سوچا اس سے اچھا گفٹ تمھارے لیئے ہو ہی نہیں سکتا”۔ تفصیل دیتے اس نے چیئر کی بیک سے پشت ٹکا لی۔
“سچ بلال؟؟۔۔۔ یہ بنگلہ واقعی میرا ہے؟”۔ روہینہ جیسے آسمان میں اڑنے لگی تھی۔
“یقین نہیں تو دیکھ لو۔۔۔ ان ڈاکومنٹس پہ تمھارا نام لکھا ہے جو اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ تم اسکی لیگلی آنر ہو”۔ روہینہ کے بائیں رخسار کو تھپتھاتے اسنے محبت آمیز انداز میں کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا کیا کر رہی ہو؟؟”۔ سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھاتے اسنے ایک نظر اسے دیکھا پھر بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا۔
“پاکستان میں کتنے یتیم خانے ہیں یہ سرچ کر رہی ہوں”۔ احتشام کے مخاطب کرتے اسنے فون سے نگاہ ہٹا کر احتشام کو دیکھا جو تاج کے ساتھ سر لگائے دلفریب نگاہ نین تارا پہ منجمد کیئے ہوئے تھا۔
“آرفنیج۔۔۔ مگر وہ کیوں؟؟”۔ اسے حیرت ہوئی۔
“ویسے ہی دیکھنا چاہتی ہوں کہ ایسے کتنے ادارے ہیں جو یتیم بچوں کو کھانا، بستر اور سر پہ چھت مہیا کر کے انکی کفالت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ انکے لیئے جینے کا سامان میسر کرتے ہیں”۔ فون سائیڈ پہ رکھتے وہ احتشام کے قریب ہوئی اور اپنا سر اسکے بائیں کندھے پہ ٹکا کر پرسکون ہو گئی۔
“ویل ڈن ۔۔۔۔ میری جان خوبصورت ہونے کیساتھ ساتھ خوب سیرت اور عقل مند بھی ہے”۔ احتشام نے بولتے ہی نین تارا کے سر پہ اپنا سر رکھ لیا ۔۔۔۔ اسی اثنا میں دروازے پہ دستک ہوئی۔
“آ جاو”۔ اپنے درمیان فاصلہ قائم کرتے نین تارا احتشام سے دور ہٹی۔
“نازلی مجھے دودھ کی بالکل طلب نہیں تم کیوں لے آئی؟؟ ابھی شام کو ہی تو پیا تھا”۔ نازلی ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیئے روم میں داخل ہوئی جس پہ نین تارا چڑ گئی۔
“یہ کیا بات ہوئی نین تارا ۔۔۔۔ کوئی نخرہ نہیں چلے گا۔۔۔۔ یہ لو اور فورا پی جاو”۔ بیڈ سے اٹھتے احتشام نازلی کی جانب بڑھا پھر اسکے ہاتھ سے گلاس پکڑے نین تارا کے سامنے جا بیٹھا تھا۔
“نہیں نا احتشام سچ میں میرا بالکل دل نہیں چاہ رہا”۔ نین تارا نے معصومیت بھرے انداز میں اسے کنونس کیا۔
“نین تارا ابھی میں یہاں ہوں تو تم ایسے کر رہی ہو۔۔۔ اگر نہیں ہوں گا تو تم کیا کرو گی؟”۔ احتشام نے سختی سے کہا۔
“کیوں ۔۔۔ آپ تو ہمیشہ میرے پاس ہی رہیں گے۔۔۔۔ کہاں جانا ہے آپ نے؟؟”۔
“ہو سکتا ہے مجھے اسی ہفتے اسلام آباد جانا پڑ جائے ایک ٹریننگ کے سلسلے میں ۔۔۔۔ تو کیا میں وہاں بھی تمھاری وجہ سے یونہی پریشان رہوں گا”۔ نین تارا کی سانسیں جیسے رک سی گئی تھیں۔
“نین تارا دو تین دن کی بات ہوگی۔۔ پھر انشاءاللہ میں اپنی جان کے پاس”۔ گلاس کو ٹیبل پہ رکھتے اسنے نین تارا کا ہاتھ تھاما جہاں کوئی حرکت نا تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسکا وجود روم کے فرش پہ بے حس و حرکت پڑا تھا جب چڑیوں کے چہچہانے کی آواز سے اسکی آنکھیں کھلیں۔۔ اپنے ساتھ ہوئے سانحے کو یاد کرتی وہ تلملا اٹھی۔
بیڈ کی جانب پلٹتے اسنے بیڈ پہ رکھی شال اٹھا کر اپنے گرد کی پھر حلیہ درست کرتے روم سے نکل گئی۔۔۔ اردگرد ماحول پہ حدت نظر کرتے وہ اپنے قدم دھیرے سے رکھ رہی تھی۔
“نبیہا”۔ جونہی اسنے انٹرنس کا دروازہ اپنی جانب کھولا،، نصیر کی فلک بوس آواز اسکے کانوں تک پہنچی جس پہ وہ بوکھلا کر اسکی جانب گھومی۔
“کہاں جا رہی ہو؟؟”۔ قدم اٹھاتا وہ اسکے قریب آ کر تلخی سے گویا ہوا۔
“پولیس سٹیشن۔۔۔ رپورٹ درج کرانے”۔ وہ آنکھیں جو رونق سے خالی تھیں نصیر کی آنکھوں میں بے خوف جھانک رہی تھیں۔
“نا ہی تم پولیس سٹیشن جاو گی۔۔ نا ہی کوئی رپورٹ درج ہو گی”۔ نصیر نے تحکم انداز میں کہا۔
“کیوں پاپا؟؟ رپورٹ کیوں نہیں درج ہوگی؟؟۔۔ وہ وحشی انسان کھلے عام گھوم رہا ہے آج میری عزت پامال ہوئی ہے کل کو کسی اور کی ہو گی۔۔۔ پاپا کیا آپ چاہتے ہیں کہ پھر کوئی لڑکی اس درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ذلت و رسوائی کا مجسمہ بن کر رہ جائے؟ پھر کوئی فیملی رنجیدہ ہو جائے؟”۔ نصیر کے قریب آتے نبیہا نے جیسے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر نصیر دل کی جگہ پتھر رکھ چکا تھا۔
“نبیہا میں مزید بحث کے موڈ میں نہیں ۔۔۔۔۔ تمھاری یہ تمام دلیلیں رائیگاں ہیں”۔ سنجیدہ لہجے میں بولتے اسنے نبیہا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔
“پاپا یہ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں؟؟؟ پلیز چھوڑ دیں مجھے ۔۔۔ میں انصاف چاہتی ہوں”۔ نبیہا کا جسم بے جان گڑیا کی مانند اسکے عقب میں گھسیٹتا چلا جا رہا تھا۔
“پاپا پلیز مجھے نکالیں باہر۔۔۔ پاپا پلیز میری بات سنیں”۔ نبیہا کو اسکے روم میں بند کرتے اسنے دروازہ لاک کر دیا تھا۔
نبیہا کی آنکھیں خالی خالی اور بے کیف تھیں مگر انہی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جوش سے بہہ رہا تھا۔
نبیہا کے احتجاج کا نصیر پہ رتی برابر بھی اثر نا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“زندگی ہاتھوں سے جا رہی ہے
شام سے پہلے رات آ رہی ہے
صاحب عالم کہاں رکے ہو؟
کلی تمھاری مرجھا رہی ہے”۔
کچن میں سنک کے پاس کھڑی وہ پورے جوش سے گلوکارہ کی کاپی کرتے گانا گنگنا رہی تھی جب ممتاز اسکے عقب میں آ کھڑی ہوئی۔
“بیگم صاحبہ آپکو کچھ چاہیئے؟”۔ جونہی وہ دروازے کی جانب گھومی ممتاز کو دیکھتے اسنے فورا سے کہا۔
“نہیں مگر مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے اگر تم وہ کام پوری ایمانداری سے سر انجام دو گی تو میں تمھیں اسکی بڑی اجرت دوں گی”۔ دروازے کی طرف جھانکتے اسنے تسلی کی پھر آواز کو قدرے دھیما کیا۔
“کونسا کام بیگم صاحبہ؟؟ آپ بے فکر رہیں جو بھی کام ہو گا میں پوری ایمانداری سے سر انجام دوں گی۔۔۔ مجھے امید ہے آپکو میری جانب سے کوئی شکایت نہیں ہو گی”۔ انعام کے جھانسے میں آتے ہی اسنے جھٹ سے پیش کش قبول کر لی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نازلی ادھر آو ۔۔۔ میرے پاس بیٹھو”۔ نازلی نین تارا کے روم میں اسے ناشتہ دینے کی غرض سے آئی تھی جب اسنے نازلی کو مخاطب کیا۔
“جی”۔ قدم اٹھاتی وہ بیڈ پہ نین تارا کے سامنے آ بیٹھی۔
پرانے لباس میں زیب تن وہ کوئی اٹھارہ سال کی لڑکی سادگی کا عنصر معلوم ہو رہی تھی،،، چہرے پہ بلا کی معصومیت،، آنکھوں میں بے نور چمک جیسے دنیا کی رنگینیوں سے مایوس ہو چکی ہو۔۔۔ امید کا چراغ بجھ چکا ہو،، جہان فانی سے بے نیاز روح۔
“تمھاری فیملی میں کون کون ہے؟؟”۔
“ج۔ جی؟؟”۔ نین تارا کے سوال پہ اسکی ساکت پلکوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔
“کیا ہوا نازلی؟؟ تم پریشان کیوں ہو؟؟”۔ اسکا ہاتھ تھامتے نین تارا نے ہولے سے کہا۔
“میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ۔۔۔ میں تنہا ہوں”۔ نازلی کے یہ الفاظ نین تارا کے دل کو ایک سحر میں لے چکے تھے ۔۔۔ ایسا سحر جس نے اسکے دل کی دھڑکنوں کو ماضی کی ڈور سے الجھا دیا تھا۔
“یہ پرانی بات ہے نازلی۔۔۔۔ اب تم اس دنیا میں اکیلی نہیں ۔۔۔ میں ہوں نا تم مجھے اپنا سمجھو۔۔۔۔ بلکہ مجھے بے حد مسرت ہوگی اگر تم مجھے اپنا کہو۔۔۔۔ فکر مند ہونے کی قطعا ضرورت نہیں۔۔۔۔ تمھیں جب بھی کسی چیز کی حاجت ہو ۔۔۔ تم بلا جھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو”۔ نازلی کے قریب ہوتے نین تارا نے اسے گلے لگا کر اپنائیت بھرے لہجے میں کہا۔
“آپ بہت اچھی ہیں ۔۔۔۔ نین اپیا”۔ برسوں بعد اسکی روح دور گزشتہ کی کرب ناک بیڑی کو توڑتی آج آسودہ ہوئی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: