Ishq Zard Rang Maiel Novel by Rose Marie – Episode 8

0

عشق ذرد رنگ مائل از روز میری – قسط نمبر 8

–**–**–

 

“کیا ہوا ماما؟۔۔۔ آپ اور پاپا کہاں سے آ رہے ہیں؟؟”۔ ممتاز اور واجد یکجا انٹرنس کی دہلیز پار کرتے صحن میں آمنے سامنے آ بیٹھے تھے جب روہینہ اس طرف آ کر پر مزہ انداز میں پوچھنے لگی۔
“تمھاری خالہ کی طرف گئے تھے”۔ تھکان کے باعث ممتاز نے مختصرا کہا۔
“روہینہ جاو بیٹا ۔۔۔ پانی لے آو”۔ اپنے آپکو ڈھیلا چھوڑتے وہ چیئر کی پشت سے ٹیک لگاتے پرسکون ہو گیا۔
چند منٹوں کے نقصان پہ روہینہ ممتاز اور واجد کیلیئے پانی لے آئی تھی۔
“اچھا ماما بتائیں فرحان بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی؟”۔ ممتاز کے برابر میں بیٹھتے روہینہ نے دل آویزی ظاہر کی۔
“ہاں ہو گئی اگلے ماہ کی یکم کو۔۔۔ تم اپنی تیاری ابھی سے شروع کر دو۔۔۔ شادی کے نزدیک مجھ سے بھاگ دوڑ نہیں ہوتی”۔ آزمودہ کاری کے بعد وہ اٹھ کر اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کی روشنی ڈریسنگ کے شفاف آئینے کے پاس ہی جل رہی تھی۔۔۔ آئینے میں وہ اپنی ہی مصیبت زدگی دیکھ رہی تھی۔
اسکا تلخی بھرا چہرہ۔۔۔ اسکے چہرے کے عکس میں اسکی بے بسی،، رنج،، ملال اور ناامیدی کا عکس چھلک رہا تھا۔
وہ بغیر آنسو بہائے رو رہی تھی۔۔۔ اسکی آواز خشک تھی،، روح بے آواز رو رہی تھی جبکہ دل خون کے آنسوؤں سے لبریز تھا۔
نا چاہتے ہوئے بھی یہ ڈراونا خواب اب اسکے حال اور مستقبل سے منسلک ہو چکا تھا۔۔۔ یہ ایک ایسا زہریلا تیر تھا جسکا ہدف نبیہا کی بقیہ زندگی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وارڈ روب کا دروازہ کھولے وہ کپڑوں کی سلیکشن دیکھ بھال کے کر رہا تھا جب نین تارا بیڈ سے اٹھتی اس طرف آئی۔
“احتشام فرحان بھائی کی شادی کی ڈیٹ رکھ دی گئی ہے”۔ ہاتھوں کی انگلیوں سے اٹکیلیوں کی وجہ سے کلائیوں میں پہنی کانچ کی چوڑیاں جھوم اٹھیں تھیں۔
“ہاں جی خبر ملی ہے”۔ نین تارا کی جانب پشت کیئے احتشام نے جواب دیا۔
“آپ تو بزی ہوتے ہیں اتنا وقت نہیں ہوتا آپ کے پاس۔۔۔۔ میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ کیا میں روہینہ یا تائی جان کے ساتھ شاپنگ پہ چلی جاوں؟؟”۔ احتشام کی خصلت کے پیش نظر اسنے ہچکچاتے پوچھا۔
“ہرگز نہیں ۔۔۔۔ تمھیں اشیا چاہیئں وہ میں تمھیں فراہم کروں گا۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک چیز تمھارے قدموں میں رکھ دوں گا مگر میں تمھیں بازار جانے کی بالکل اجازت نہیں دے سکتا”۔ نین تارا کی جانب سرعت سے پلٹے احتشام دوبارہ سے وارڈ روب کی جانب گھوم گیا۔
“مگر احتشام میں اس بار اپنی پسند کی چیزیں لینا چاہتی ہوں”۔
“نین تارا تمھیں میری پسند پہ ذرہ برابر بھی شک نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ میری پسند کتنی لاجواب ہے تمھیں بتانے کی ضرورت درپیش نہیں ۔۔۔ جیتی جاگتی مثال تمھارے سامنے ہے”۔ نظروں کا اشارہ نین تارا کی جانب کرتے وہ سائیڈ ٹیبل کی جانب مڑا۔
“احتشام آپ میری بات سمجھ کیوں نہیں رہے؟۔۔۔ میں اس کمرے میں قید رہ کر بور ہو گئی ہوں۔۔۔ کچھ دیر باہر جانا چاہتی ہوں”۔ اب کی بار نین تارا کی آواز قدرے اونچی ہوئی۔
” نین تارا میری لگائی بندشوں میں قید رہ کر اگر تم نہیں رہنا چاہتی تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔۔۔ میری عدم موجودگی میں تم جو کرنا چاہو کر سکتی ہو”۔ چہرے پہ تاہنوز سنجیدگی آراستہ کیئے اسنے وارڈ روب سے ایک بیگ نکال کر بیڈ پہ رکھا پھر اس میں اپنے حساب سے کپڑے رکھنا شروع کیئے۔
“کیا احتشام آپ اتنی سی بات پہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے؟”۔ احتشام کی اس عجلت پہ وہ ہانپتی احتشام کے قریب آئی۔
” جو تم چاہتی ہو میں وہی تو کر رہا ہوں”۔ وارڈ روب کی جانب گھومتے اسنے نین تارا کی طرف پشت کی۔۔۔ شریر ہنسی نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا جسے اسنے جبرا ضبط کیا۔
“نہیں احتشام ایسا مت کریں پلیز۔۔۔۔ میں آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہوں۔۔۔۔ میں بوسیدہ لباس اور سوکھی روٹی پہ گزارہ کر سکتی ہوں مگر آپکے بنا میرا ایک پل بھی دشوار ہے۔۔۔۔ آپ یوں مجھے چھوڑ کے۔۔”۔ بے رنگ موتی نین تارا کی پلکوں سے آ لپٹے تھے۔
“نین تارا ۔۔۔۔۔ نین تارا ۔۔۔۔۔ پاگل تو نہیں ہو گئی ہو؟؟ کیا سوچنے لگ گی؟۔۔ تم سے کس نے کہا کہ میں گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔۔۔ تمھیں بتایا تھا میں نے ٹریننگ کے سلسلے میں اسلام آباد جانا ہے”۔ نین تارا کے آنسوؤں اور سسکیوں نے اسکے دل کو آ جکڑا تھا۔۔۔ اسکے آنسوؤں کو انگلی کے پوروں کی مدد سے صاف کرتے نین تارا کو اپنے سینے سے لگا کر مطمئن کیا۔
“نینی میری جان تم کب بہادر ہو گی؟؟ یوں تو مجھے تمھاری فکر کبھی نا چھوڑے گی۔۔۔۔ تم اس قدر حساس اور معصوم ہو مجھے ڈر ہے کہیں مجھے تمھاری معصومیت کسی بڑی ناقابل پیمائش آزمائش میں نا ڈال دے”۔ نین تارا کی غیر ہوتی حالت نے اسے ایک اور خوف سے روبرو کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح کے نو بج رہے تھے۔۔ کار ہوسپٹل پارکنگ ایریا میں پارک کرتے وہ ہوسپٹل کے اندرونی جانب متوازن چال چلنے لگا تھا۔
راستے میں ملنے والا ہر خاص و عام اس پہ سلامتی بھیج رہا تھا جسے وہ ہلکا سا سر میں خم لاتے جواب دے رہا تھا۔
“ارے فریال تم؟؟”۔ اپنے کیبن میں فریال کی موجودگی اسے سخت شاق گزری۔
“مجھے دیکھ کر چونک کیوں گئے؟؟۔۔ تمھارے چہرے کے تاثرات تو یوں ہیں جیسے کوئی جن بھوت دیکھ لیا ہو”۔ بولتے ہی وہ مبشر کے قریب آئی۔
“بے وقت،، بلا ضرورت تمھاری یہاں موجودگی میرے لیئے قابل تسکین تو ہو گی نہیں”۔ فریال کو اگنور کرتا وہ اپنی چیئر پہ جا بیٹھا۔
“مبشر پھر تو یہ قیامت کا دن ہی ممکنہ ہے جب مجھے دیکھ کر تمھارے چہرے پہ مسکراہٹ آئے”۔ اس پہ طنز کرتے فریال اسکی جانب گھومی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
قدسیہ بیگم اور واجد کا سفر اللہ کی امان میں اس پاک اور بابرکت ذات کے گھر کی جانب شروع ہو چکا تھا۔۔۔ نین تارا اپنے روم میں اسی سوچ کے بھنور میں ڈوبی تھی جب احتشام روم میں داخل ہوا۔
“احتشام آپ بی جان اور تایا ابو کو چھوڑ آئے؟”۔ وہ جو بیڈ پہ پرسکون لیٹی تھی احتشام کے آتے ہی سیدھی ہو بیٹھی۔
“ہاں چھوڑ آیا ہوں ۔۔۔ اب تک تو جہاز ٹیک آف بھی کر چکا ہو گا”۔ بولتے ہی وہ واش روم کی جانب بڑھا۔
“اللہ انہیں اپنے تحفظ میں رکھے ۔۔۔ آمین”۔ بولتے ہی اسنے دعا میں ہاتھ اٹھائے۔
سادہ لباس کو اپنے مخصوص یونیفارم سے تبدیل کرتے احتشام بھی واش روم سے نکل آیا تھا۔۔ ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھتے اسنے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر گلے کے دونوں اطراف چھڑکا پھر نین تارا کی جانب گھوما جو مسلسل اس پہ نظر کرم کیئے بیٹھی تھی۔
“اوکے نینی میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے”۔ احتشام کے قریب آتے ہی وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ “پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ۔۔۔ میں ویڈیو کال پہ تمھیں تنگ کر کے پل پل اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہوں گا اور ہاں ۔۔۔ تم نے اپنا اور میرے ہونے والے بچے کا خاص طور پہ خیال رکھنا ہے۔۔۔ یہ تو تمھیں بالکل تنگ نہیں کرے گا مجھے ہنڈرڈ پرسنٹ شورٹی ہے کیونکہ اسکا باپ نہایت ہی شریف،، مہذب،، اچھا،، کیئرنگ اور لونگ ہے رہی بات تمھاری تو۔۔۔۔ نین تارا خبر دار جو میرے بچے کو پریشان کرنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔۔ ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاوں گا”۔ اسکا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیتے احتشام نے الفاظ کا چناو وقت کی مناسبت سے کیا جس پہ نین تارا مسکرا دی تھی۔
“اسکا مطلب ہے احتشام باپ جتنا تنگ کرتا ہے ۔۔۔ بچہ اس سے ڈبل کرے گا؟”۔ آنکھوں میں آئی نمی چھپانے کی غرض سے نین تارا نے جبرا زبان کو حرکت دی۔
“یہ تو اب مجھے نہیں پتہ ۔۔۔۔ اوکے نین تارا اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔۔۔۔۔ انشاءاللہ یہ تین دن چٹکی بجاتے گزر جائیں گے۔۔۔ فی امان اللہ”۔ کچھ لمحے کیلیئے اپنے لب نین تارا کی پیشانی پہ رکھتے احتشام نے خود کو پرسکون کیا پھر بمشکل خود کو نین تارا سے دور کرتے وارڈ روب کی جانب گھوما۔۔۔ وارڈ روب کے پاس رکھے بیگ کا ہینڈل پش کرتے اوپر کو کیا پھر نین تارا کی جانب دیکھے بغیر روم سے نکل گیا۔
نین تارا پہ الوداعی نظر نا ڈالنے کی بنیاد نین تارا کا حساس دل تھا جو احتشام کے دور ہونے کے خوف سے ہی کانپ اٹھا تھا،،،،، نین تارا کی وہ آنکھیں تھیں جن کی بصارت میں احتشام کی جدائی کا منظر اسے انمول موتی گنوانے پہ اکسا رہیں تھیں۔
خیال آتے ہی نین تارا نے کانپتے ہاتھوں سے سر پہ سلیقے سے دوپٹہ سیٹ کیا۔۔۔ آیت الکرسی پڑھ کر آنکھیں موند لیں جسکے باعث اسکے آنسو رخسار پہ بہہ نکلے۔۔۔۔ پھر احتشام کا تصور کرتے آیت الکرسی اس پہ پھونک دی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اچھا موقع ہے آپا آپ اس نین تارا کی اچھی طرح کلاس لے لیں ۔۔۔۔ بھائی صاحب اور بی جان تو عمرے پہ گئے ہیں اور احتشام ٹریننگ پہ ۔۔۔۔۔ میں تو کہتی ہوں اسے اسکی اوقات بتا دیں ورنہ کل کو بڑی مصیبت ہو جائے گی”۔ اپنے روم میں بیڈ پہ بیٹھے فون کان کے ساتھ لگائے وہ ممتاز سے گفت و شنید میں محو تھی جب تقی اور سندس ہاتھوں میں شاپنگ بیگز پکڑے روم میں داخل ہوئے۔ “ٹھیک ہے آپا جیسے آپکو مناسب لگے۔۔ آپ زیادہ بہتر سمجھتی ہیں ۔۔۔ خدا حافظ”۔ بولتے ہی تبسم نے لائن ڈسکنیکٹ کر دی۔
“خالہ کی کال تھی۔۔۔ کیا بول رہیں تھیں؟”۔ شاپنگ بیگز تبسم کے سامنے بیڈ پہ رکھتے وہ بھی اسکے سامنے آ بیٹھی۔
“آپا بتا رہیں تھیں کہ احتشام تین دن کی ٹریننگ کے سلسلے میں اسلام آباد گیا ہے”۔ فون سائیڈ پہ رکھتے اسنے کہا۔
“کیا؟؟؟؟؟۔۔۔۔ مطلب احتشام یہاں نہیں ہے؟؟”۔ تبسم کے قریب آتے اسنے کنفرم کرتے پوچھا جس پہ پراسرار ہنسی نے اسکے ہونٹوں کا رخ کیا۔ “اچھا ماما یہ سامان آپ دیکھ لیں ۔۔۔۔ جو رہ گیا ہے اسکی لسٹ بنا لیں تاکہ خریدنے میں آسانی ہو”۔ ہا تھ میں پکڑے شاپنگ بیگز کو تبسم کی جانب بڑھاتے تقی نے مزید کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ڈنر کے بعد وہ اپنے روم میں آئی ہی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا فون اپنی قوت سے دھاڑا جس پہ وہ تیز قدم اٹھاتی اسکے قریب آئی ۔۔۔ فون کی سکرین پہ احتشام کا نمبر آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔ نین تارا کے بے قرار دل کو قرار پہنچا۔۔۔۔ فورا سے کال ریسیو کرتے وہ بیڈ پہ بیٹھ گئی۔
“لگتا ہے اپنے اکلوتے شوہر کے بغیر بڑے سکون سے رہا جا رہا ہے؟”۔ دوسری جانب پر فاش گری کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
“احتشام مجھے آپ سے یہ امید نا تھی۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میرا دل اس وقت کس اذیت سے گزر رہا ہے؟؟۔۔۔۔ کاش کہ دل کی کیفیت انسان کے چہرے پہ عیاں ہوتی”۔ نین تارا نے افسردگی سے چہرہ جھکا لیا۔
“جس دل پہ میرا راج ہے اسکی سلطنت میں رونما ہونے والی تبدیلی سے میں کس طرح بے خبر رہ سکتا ہوں؟؟؟۔۔۔۔۔ اچھا بتاو کھانا کھایا تم نے یا مجھے تنگ کرنے کا پلین ہے؟”۔ اندرونی کیفیت اس پہ اجاگر کرتے احتشام نے مزید کہا۔
“جی کھا لیا ہے اور آپ نے؟؟”۔ احتشام کی باتیں نین تارا لے لبوں پہ امڈتی شرمیلی مسکراہٹ کا سبب بنیں۔
“نہیں یار بس ابھی ہی ہوٹل پہنچا ہوں۔۔۔ آرڈر دیا ہے بس فریش ہو کر کھاوں گا۔۔۔ ایک اور بات نینی اکیلے ہرگز مت سونا ایسا کرو ماما کو بلوا لو یا میں خود انہیں کہہ دیتا ہوں”۔
“نہیں احتشام تائی جان کو کیا تکلیف دینی۔۔۔ میں آپ سے وہی پوچھنے والی تھی کہ میں نازلی کو اپنے پاس سلا لوں؟ جب تک آپ نہیں آ جاتے”۔ نفی کرتے اسنے مزید کہا۔
“جناب والا۔۔۔ میری اتنی حیثیت کہاں کہ آپکو انکار کر سکوں ۔۔۔ آپ کو جو مناسب لگے آپ کیجیئے”۔ ہنوز شریر پن سے کام لیا گیا۔
“احتشام”۔ نین تارا نے خفگی سے اسکا نام پکارا جس پہ احتشام کا بلند بانگ قہقہ ہوا میں تحلیل ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ارے نازلی تم نے صفائی کیوں کر دی؟؟ میں کر لیتی”۔ نین تارا کے فریش ہونے تک نازلی نے ہر چیز اپنی مخصوص جگہ پہ رکھ دی تھی۔
“کوئی بات نہیں نین اپیا۔۔۔۔۔ اچھا آپ بیٹھیں میں آپ کیلیئے ناشتہ لے آتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ روم سے نکل گئی تھی۔
نازلی ہلکے قدم اٹھاتی ۔۔۔ سیڑھیاں عبور کرتی کچن میں پہنچی جہاں سنبل ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔۔ کیبنٹ سے ٹرے نکالتے نازلی نے اس میں ناشتے کی اشیا رکھنا شروع کیں پھر ٹرے اٹھائے دروازے کی جانب بڑھی جب سنبل نے اسے ٹوکا۔
“تم یہ ٹرے لے کر کہاں جا رہی ہوں؟”۔
“نین اپیا کو ناشتہ دینے”۔ سنبل کی آواز پہ وہ اسکی جانب گھومی۔
“کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔ خدا نے اسے دو ٹانگیں دی ہیں جو صحیح سلامت ہیں۔۔۔ اسکے باپ نے یہاں خادموں کی لائن نہیں لگائی جو اسکے آگے پیچھے گھومتے رہیں”۔ ناشتہ کرنے کی غرض سے ممتاز بھی کچن کی جانب آئی جب اسکی نظر نازلی کے ہاتھوں میں مختلف اشیا سے سجی ٹرے پر گئی۔ ” یہ ٹرے تم واپس رکھو اور اسے یہیں بلا کر لاو۔۔۔ اور خبردار جو اسے کھانا روم میں دینے گئی۔۔۔ سمجھ گئی؟؟”۔ ممتاز نے تلخی سے کام لیا جس پہ نازلی بمشکل سر ہی ہلا سکی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بیٹا تم نے اپنے بارے میں نہیں بتایا”۔ ڈرائنگ روم میں وہ کشور کے مقابل بیٹھی تھی جب کشور نے اسے مخاطب کیا۔
“آنٹی میرا نام فریال ہے۔۔۔۔ میں بھی مبشر کے ساتھ قائداعظم انٹرنیشنل ہوسپٹل میں ڈاکٹر ہوں ۔۔۔۔ پاپا آرمی آفیسر ہیں اور ماما این جی او چلاتی ہیں ۔۔۔ ہم لوگ دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں ۔۔۔ بھائی اور بہن بڑے ہیں انکی شادی ہو چکی ہے بس ایک میں ہی رہتی ہوں”۔ بولتے ہی اسنے شانوں پہ بکھرے بال پشت پہ کیئے۔
“تو کیا تمھاری منگنی ہو چکی ہے یا رشتہ؟؟”۔ کشور نے دلچسپی سے کہا۔
“نہیں آنٹی ابھی تک تو نہیں ۔۔۔ دراصل میرے ماما پاپا چاہتے ہیں کہ میں انکے بتائے لڑکے سے شادی کر لوں مگر میں اس میں انٹرسٹڈ نہیں”۔ فریال نے نزاکت سے الفاظ کو جوڑا۔
“کوئی پسند ہے؟؟”۔
“نہیں آنٹی بس وہ۔۔۔۔”۔
“فریال تم، تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟۔۔۔ میں نے تمھیں ہوسپٹل بات کرنے سے منع کیا تھا تو تم منہ اٹھائے گھر تک چلی آئی ۔۔۔۔ آخر تمھاری پرابلم کیا ہے؟؟”۔ مبشر بھی گھر پہنچ گیا تھا جب ڈائننگ روم سے آتی قہقہوں کی آواز اسکی توجہ کا مرکز بنی۔
“یہی تو میں تم سے پوچھنا چاہ رہی ہوں مبشر کہ تمھاری پرابلم کیا ہے؟؟ آخر تم مجھے اتنا اوائیڈ کیوں کرتے ہو؟؟”۔ غصے میں بولتی وہ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اگر کوئی آپکو اوائیڈ کرے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔ لازمی نہیں کہ بارہا اسکے سامنے آ کر اسے طیش دلایا جائے”۔ مبشر کی آواز قدرے اونچی ہوئی۔
“یہ میری محبت ہے مبشر جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں اپنی انسلٹ بھولتے تمھارے پاس چلی آتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ مبشر کے قریب ہوئی۔
“او پلیز اپنی یہ سستی شوٹنگ کہیں اور کرنا۔۔۔ ہر جگہ یہ ایکٹنگ کی دکان مت کھول کے بیٹھ جایا کرو”۔ مبشر نے تپ کر کہا جس پہ فریال غصے میں کلچ اٹھاتی ڈرائنگ روم سے نکل گئی تھی۔
“مبشر بیٹا تم فریال سے آرام سے بھی بات کر سکتے تھے۔۔۔ پتہ نہیں کیا گزر رہی ہو گی اس کے دل پہ”۔ مبشر کے قریب آتے کشور نے تاسف سے کہا۔
“لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ماما۔۔۔ اسے چھوڑیں آپ ۔۔۔۔ میرے لیئے کھانا لگا دیں پلیز میں فریش ہو کر آتا ہوں”۔ بولتے ہی وہ بھی ڈرائنگ روم سے نکل گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سارا دن کام سے دوچار ہونے کے بعد اب اسکا بدن کسل مندی سے روبرو تھا۔۔۔ بیڈ پہ لیٹتے ہی وہ نیند کے حلقہ آغوش میں چلی گئی تھی۔
“ارے نین اپیا تو سو گئیں”۔ ہاتھ میں کھانا لیئے وہ جونہی روم میں داخل ہوئی اسکی نظریں نین تارا کے وجود پہ گئیں جو بیڈ پہ بے جان پڑا تھا۔
نین تارا کے قریب آتے ہی اسنے ٹرے تھوڑا فاصلے پہ پڑے میز پہ رکھا ہی تھا کہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا نین تارا کا فون چنگاڑا جس پہ وہ اسکی جانب گھومی۔۔۔ سکرین پہ احتشام کا نام دیکھ وہ درجہ کشمکش میں تھی۔
نین تارا کے جسم میں حرکت محسوس نا کرتے نازلی نے بالآخر کال ریسیو کر لی۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ نازلی کی ہچکچاہٹ بھری آواز احتشام کی حس سامعہ سے آویزش ہوئی۔
“کون؟؟”۔ ان بھول آواز پہ احتشام کے چہرے پہ استعجاب کی شکن ابھری۔
“احتشام بھائی میں نازلی”۔ آواز کو دھیما کرتے جواب دیا۔
“نین تارا کدھر ہے؟؟۔۔ میں کب سے کالز کر رہا ہوں وہ میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی؟؟”۔ احتشام نے کوفت سے کہا۔
“وہ نین اپیا سو رہی ہیں”۔ نازلی نے مختصرا کہا۔
“سو رہی ہے۔۔۔ یہ کونسا ٹائم ہے سونے کا؟؟ کھانا کھایا کیا اسنے؟؟۔۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا اسکی؟؟۔۔۔۔ نازلی مجھے بتاو طبیعت تو ٹھیک ہے نا نین تارا کی؟”۔ وہ جو کہ پرسکون بیٹھا تھا اب بے آب ہوتے ہی نشست چھوڑ دی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آنکھوں سے نیند کا پردہ ہٹا تو وہ فورا اٹھ بیٹھی ۔۔۔ احتشام کا خیال آتے ہی سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر اسے کال ملائی۔
“دا نمبر یو ہیو ڈائلڈ از پاور آف”۔
“یہ احتشام کا فون کیوں بند ہے؟”۔ فون سائیڈ پہ رکھتے ہاتھوں میں چہرہ پکڑے وہ ملول بیٹھی تھی جب نازلی روم میں داخل ہوئی۔
“کیا ہوا نین اپیا آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں”۔
“ہاں وہ کل احتشام سے بات نا ہو سکی اور ابھی انکا فون آف ہے اس وجہ سے پریشان ہوں”۔ بولتے ہی وہ بیڈ سے اتر کر سلیپر پہننے لگی۔
“کل رات کو انکی کال آئی تھی ۔۔۔ آپ سو رہیں تھیں تو جگانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔ آپکا پوچھا پھر کال کاٹ دی”۔ نین تارا کے قریب آتے نازلی نے تفصیل دی۔
“ہو سکتا ہے وہ بزی ہوں بعد میں دوبارہ کوشش کروں گی۔۔۔ اچھا میں فریش ہو کر آتی ہوں پھر ناشتہ کرنے چلیں گے”۔ بولتے ہی وہ واش روم کی جانب بڑھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دن کے بارہ بج رہے تھے جب وہ متوازن چال چلتا ہوٹل کے مقرر کردہ روم میں داخل ہوا۔۔۔ کوٹ اتارتے سائیڈ پہ رکھا،، کالر اور کف بٹنز کھولتے خود کو پرسکون کرتے صوفے پہ بیٹھ کر ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پہ رکھتے سر پشت پہ رکھ کر ریلیکس ہو گیا۔
پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر سوئچڈ آن کیا جو میٹنگ کی وجہ سے آف کر رکھا تھا۔۔۔ سکرین پہ نظر پڑتے اسکے لبوں پہ مبہم مسکراہٹ رقصاں ہوئی جہاں نین تارا کی جانب سے کال آنے کا خاموش پیغام تھا۔
“نہیں کال نہیں کرتا۔۔۔۔ خود وہاں جا کر نین تارا کو سرپرائز دوں گا۔۔۔ وہ کتنا خوش ہوگی نا مجھے دیکھ کر”۔ کنٹیکٹس مینیو کلوز کرتے گیلری اوپن کرتے اسنے نین تارا کی تصاویر دیکھنا شروع کیں۔
“آئی لو یو نینی،،،، تھینک یو سو مچ فار میکنگ مائی لائف بیوٹیفل”۔ لبوں سے سکرین کا بوسہ لیتے اسنے فون سینے پہ الٹاتے آنکھیں موند لیں جیسے نین تارا کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہو۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام ڈھل کر کالی رات میں بدل رہی تھی۔۔۔۔ روہینہ ،،، ممتاز اور نازلی کی رہنمائی میں فرحان کی شادی کی شاپنگ کے سلسلے میں بازار گئی تھی۔
اندھیرا اپنے جوبن پہ نین تارا کے دل میں ہزار وسوسے بننے لگا تھا۔۔۔ صحن میں مضطرب دل کے ساتھ چہل قدمی کرتے نین تارا کی نظریں انٹرنس کی جانب تھیں۔
“پتہ نہیں یہ تائی جان اور روہینہ کہاں رہ گئے؟؟ نازلی بھی نہیں ہے ۔۔۔ میرا فون؟؟ ۔۔۔ میرا فون تو روم میں رہ گیا”۔ خیال آتے ہی وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
روم میں داخل ہوتے اسنے بیڈ پہ رکھا فون اٹھا کر انلاک کیا ہی تھا کہ روم میں جلتی مصنوعی روشنی زندگی کی بازی ہار گئی۔
“اف خدایا یہ لائٹ کو بھی ابھی ہی جانا تھا۔۔۔ اب میں کیا کروں؟”۔ فون کی لائٹ آن کرتے وہ ڈریسنگ کی جانب گھومی۔۔۔ ڈریسنگ کے دراز ٹٹولتے اسنے ٹارچ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔۔۔۔
“کون؟؟”۔ جونہی وہ ایڑیوں کے بل مڑی اسکا وجود راستے میں حائل شخص کے سینے سے جا ٹکرایا جس پہ وہ سہم کر دو قدم پیچھے کو ہوئی۔
“کیا ہوا نین تارا ۔۔۔ تم گھبرا کیوں رہی ہو؟؟۔۔ ڈرو مت میں ہوں،،، تمھارا عزیز”۔ نقاب سے ڈھکے اس شخص کی بے ہنگم آواز نین تارا کو مزید پریشان کر گئی۔
“ت۔ ت۔ تم کون ہو؟؟ ۔۔۔ کیا چاہتے ہو؟؟ ۔۔۔ ک۔ ک کیوں آئے ہو تم یہاں؟؟”۔ پسینے کے ننھے قطرے اسکی پیشانی پہ آ بسے۔
“تم سے اور تمھارے شوہر سے پرانا حساب برابر کرنا ہے”۔ نین تارا کے قریب ہوتے اسنے نین تارا کا ہاتھ اپنے ہاتھ کے شکنجے میں لیا جس پہ نین تارا کا فون زمین بوس ہو گیا تھا۔
اس شخص کے ہاتھ پہ اپنے دانتوں کے نشان ثبت کرتے نین تارا بد حواس مضطرب دروازے کی جانب دوڑی۔
بغیر کسی روشنی کے؛ اندھیرے کے چنگل میں وہ دیوانہ وار بھاگ رہی تھی۔۔۔ سناٹے کی بدولت اسکے قدموں کی آہٹ پورے گھر میں گونج رہی تھی۔
“آ”۔ ایک زوردار چیخ کے بعد نین تارا کی آواز اس خوفناک اندھیرے میں کہیں دب سی گئی تھی۔۔۔ بغیر کسی مشقت کے اسکا وجود زینے اتر گیا۔
چاروں اور پھیلتی تاریکی سے استفادہ حاصل کرتے وہ شخص بھی کہیں غائب ہو گیا تھا۔
انصاری ہاوس اس وقت تاریکی میں ڈوبا تھا۔۔۔ ہر سو خاموشی تھی۔۔۔ مکمل خاموشی۔ ایسی خاموشی جس نے نین تارا کے ساتھ ایک اور روح کو نوچ ڈالا تھا۔
اندھیرے کے باعث انٹرنس کھلنے کی آواز دور تک واشگاف سنائی دی تھی۔۔ تاریکی کے یوں استقبال پہ وہ بہت حیران ہوا پھر پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر لائٹ آن کی جسکی روشنی مدہم تھی۔۔۔ ہلکے قدم اٹھاتا وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔
فرش پہ اسکے بے جان وجود نے احتشام کے پیروں کی حرکت کو روکا۔۔ پل بھر کو اسکا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔۔۔ اسکی مستقل چلتی سانسیں اکھڑیں تھیں۔۔۔ ہاتھ میں پکڑا بیگ اسنے وہیں پھینکا پھر پنجوں کے بل زمین پہ بیٹھ گیا۔۔۔ ہاتھ بڑھاتے احتشام نے اسکا سر اوپر کو کیا جو لال رنگ سے رنگ چکا تھا۔۔۔ ہاتھ پہ نمی محسوس کرتے اسنے اسکا سر دوبارہ سے زمین پہ رکھا پھر فون کی لائٹ کی مدد سے ہاتھ پہ نظر ثانی کی جس سے اسکی دل کی سلطنت پہ ناگہانی آفت برپا ہوئی۔
کپکپاتے ہاتھوں سے اسنے لائٹ کا رخ اسکے چہرے کی جانب کیا۔۔۔۔ نقوش واضح ہوتے احتشام کے بدن میں سنسنی خیز لہر دوڑ گئی تھی۔
جو ملبہ احتشام کے وجود پہ آ گرا تھا اسنے احتشام کا وجود مکمل توڑ کر جابجا بکھیر دیا تھا۔
“گھائل ہے میری روح شب دوام سے
نہیں کوئی غرض اب صبح و شام سے
اس طرح سے اب،،، تڑپ رہی ہے یہ
پرندہ تیر کھا کے کوئی گرے اڑان سے”

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: