Ishq Zard Rang Maiel Novel by Rose Marie – Episode 9

0

عشق ذرد رنگ مائل از روز میری – قسط نمبر 9

–**–**–

 

اوٹی کے باہر اپنے جسم کو دیوار سے لگائے اسنے دونوں بازو سینے پہ لپیٹ رکھے تھے۔۔۔ رات کی وجہ سے کوریڈور سنسان تھا۔۔۔ خاموشی کے باعث اسکے دل کی بالمضاعف چلتی دھڑکنیں واشگاف سنائی دے رہیں تھیں۔۔۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے اوٹی کی لال بتی کو دیکھتے سرد آہ بھری۔۔۔ اسکا دل شدت سے نین تارا کی جھلک کا طلب گار تھا۔
“کاش کہ یہ جدائی طویل نا ہوتی۔۔۔ تمھاری روح اس درد ناک اذیت سے ہرگز دوچار نا ہوتی۔۔۔ میری حد بینائی صرف تمھاری ذات تک محدود رہتی تو آج تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ کے جو تیر میں نے چلائے تھے انکی تکمیل میں، میں ناکام ٹھہرا”۔
“ڈاکٹر کیا ہوا؟؟؟ مجھے بتائیے”۔ احتشام برق رفتاری سے اوٹی سے باہر آتی ڈاکٹر کی جانب لپکا۔
“آئی ایم سوری مسٹر شامیر”۔ چہرے سے ماسک اتارتے ڈاکٹر نے تاسف سے کہا جس پہ احتشام آہیں بھرتا رہ گیا۔ “بچے کو بچانا نا ممکن تھا۔۔۔ ہم تھوڑی دیر میں پیشنٹ کو روم میں شفٹ کر دیں گے پھر آپ ان سے مل سکیں گے۔۔۔ ایکس کیوز می”۔ احتشام کو آگاہ کرتے ڈاکٹر وہاں سے چلی گئی تھی۔
بظاہر جفاکش، مستحکم اور بلند ہمت شخص کے اندر بتدریج کچھ نا کچھ ٹوٹ کے بکھر رہا تھا۔۔۔ لبوں کو جبرا سی لینے میں اسنے عقلمندی گردانی۔
وجود میں کوئی حرکت نا تھی مگر روح دیوانہ وار چیخ رہی تھی۔۔۔ اسکی بے بسی پہ ماتم کر رہی تھی۔
وہ ایس پی جو اپنی قابلیت اور ذمہ داری کے نام سے مقبول تھا آج وہ شکستہ ہو کے حالات اور وقت کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا۔۔۔ آج وہ ہار گیا تھا بحیثیت ایک مجاذی خدا اور والد کے۔۔۔۔ یہ ہار اسے توڑنے کیلیئے یکساں کافی تھی مگر اسنے اپنے آپکو جوڑ رکھا تھا صرف اور صرف نین تارا کیلیئے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
طلوع آفتاب کی روشنی اپنے معمول پہ ہر دنیا دار پہ اپنی گہری ضربیں لگا کر اپنے ہونے کا خوبصورت احساس دلا رہی تھی۔۔۔ اسکے برعکس احتشام کی زندگی میں گزشتہ رات سے برپا اندھیرا اس روشنی سے فیض حاصل نا کر سکا۔
آٹھ گھنٹے کی لگاتار بے ہوشی کے بعد اب نین تارا نے آنکھیں کھول دیں تھیں۔۔۔ سر پہ گہری چوٹ کے باعث ڈاکٹر نے اسے کسی بھی قسم کا سٹریس لینے سے منع کیا تھا۔۔۔ اس دورانیے میں احتشام نے لمحہ بھر کیلئے بھی اس سے غفلت نہیں برتی تھی۔
بیڈ کے قریب رکھے سٹول پہ بیٹھے وہ نجانے کب سے نین تارا کے ہاتھ پہ سر رکھے سو گیا تھا۔۔۔ احتشام کو یوں سوتا دیکھ نین تارا نے اپنا ہاتھ یونہی ساکت رکھا تھا کہ کہیں وہ احتشام کی نیند میں مخل نا ہو جبکہ آنکھوں کے کناروں سے بے رنگ موتی مستقل رواں تھے۔
“ارے نین تارا ۔۔۔ شکر ہے تمھیں ہوش آ گیا۔۔۔ میں بہت پریشان تھا تمھارے لیئے”۔ چند ہی منٹوں میں احتشام کی آنکھ کھلی جب اسنے نین تارا کی آنکھیں خود پہ فکس پائیں۔ ” اب کیسی طبیعت ہے؟؟ کیسا فیل کر رہی ہو؟؟”۔ اس پہ ہلکا سا جھکتے احتشام نے اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھا جہاں بینڈیج تھی۔
احتشام کے جواب میں نین تارا کی خاموشی اور مسلسل روتی آنکھیں اسے مزید توڑنے پہ لگیں تھیں۔۔۔ نین تارا کے سامنے خود کو پرعزم اور مضبوط انسان ثابت کرنا اسکے لیئے دنیا کا مشکل ترین کام تھا اور یہ مرحلہ دشوار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم جلدی سے ٹھیک ہو جاو۔۔۔ میری پہلے والی نین تارا بن جاو بس”۔ چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ لیئے اسنے کہا۔
“آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں؟؟”۔ رنجیدہ خاطر نین تارا نے دھیرے سے کہا۔
“ناراض؟؟”۔ احتشام پوری طرح چونکا۔ “نینی میں بھلا تم سے ناراض کیوں ہونے لگا؟؟ پاگل”۔ پنہاں کیفیت چھپانے کی غرض سے اسنے منہ پھیرا۔
“کیونکہ میں نے آپکی اولاد کا خون کر دیا۔۔۔ آپ نے مجھے۔۔۔۔ کہا تھا کہ اگر میں نے آپکے ۔۔۔ بچے کو کچھ بھی کہا تو آپ ۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔”۔ تا ہنوز بہتے آنسوؤں کی وجہ سے اسکی آواز اب جیسے حلق میں پھنس گئی تھی۔۔۔ گلے میں خراش پیدا ہو گئی تھی۔
نین تارا کی بات نے احتشام کے دل پہ ضرب لگاتے اسکی دھڑکن روک دی تھی ۔۔۔۔ احتشام کی مسلسل لرزتی پلکیں ایک جگہ منجمد ہوئیں۔
احتشام کی حالت دل میں پیوست اس خنجر کی مانند تھی جو نا نکالنے پہ تکلیف دہ ثابت ہو رہا تھا اور نکالنے پہ جان لیوا
“یہ کیسا شورش برپا ہے دل کی اس وادی میں
کیوں حوصلہ ہار کے تو زخموں سے چکنا چور ہوا
کم ہمتی سے تو،،، تو نے کبھی سوچا بھی نا تھا
حالات کی چکی میں پھر کیوں پسنے پر مجبور ہوا
راستے تو کھلے ہیں تیرے چار سو ابھی بھی
خود ہی اپنے آپ میں اس طرح سے محصور ہوا”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نین تارا ڈسچارج ہو کر گھر آ گئی تھی۔۔۔ احتشام اسکو اپنے روم میں ہی لے آیا تھا۔
“ارے احتشام بیٹا میں بہت پریشان تھی تمھارے لیئے۔۔۔۔ جب سے مجھے خبر ملی ہے کہ نین تارا سیڑھیوں سے گر گئی میرا تو کلیجا جیسے منہ کو آ گیا”۔ ممتاز ہڑبڑاہٹ میں روم میں وارد ہوئی۔
“تمھیں کسی چیز کی ضرورت ہے؟؟”۔ ممتاز کی بات پہ کان نا دھرتے احتشام نین تارا کی جانب جھکا جس پہ نین تارا نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
“نین تارا تمھاری طبیعت کیسی ہے؟؟”۔ نین تارا کے قریب آتے ممتاز نے کہا۔
“میں ٹھیک ہوں تائی جان”۔
“ڈاکٹر نے کیا کہا ہے احتشام بیٹا؟”۔ نین تارا کے بعد وارڈ روب کی جانب بڑھتے احتشام کو اسنے مخاطب کیا۔
“ٹھیک ہے نین تارا پریشانی والی کوئی بات نہیں”۔ وارڈ روب سے سوٹ نکالتے اسنے دروازہ بند کیا پھر واش روم کی جانب بڑھا۔
“اور بچہ؟؟”۔ دل آویزی سے احتشام کو دیکھتے ممتاز نے مزید کہا۔
“اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی آپکے دل میں اس بات کی رمق بھر امید بھی باقی ہے کہ میرا بچہ ٹھیک ہو گا”۔ سرعت سے ممتاز کی جانب پلٹتے احتشام نے باطنی عداوت سے کہا۔ “میں نے آپ سے کچھ نہیں چاہا تھا ماما۔۔۔۔ صرف اور صرف اتنا کہ آپ میری بیوی اور ہونے والے بچے کا خیال رکھنا مگر آپ لوگ تو اپنی ہی دنیا میں مست تھے۔۔۔۔ میرا بچہ آپ لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے اس دنیا میں نا آ سکا”۔ احتشام کی دل خراش آواز ممتاز کے کانوں میں پگھلے سیسے کی مانند پہنچی۔
رخسار پہ بہتے آنسوؤں کو نین تارا بارہا صاف کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
“احتشام تم اپنی ماں کی پاک نیتی پہ شک کر رہے ہو؟؟”۔ ممتاز نے تلخی سے کہا۔
“شک نہیں کر رہا۔۔۔۔ بیتے دنوں میں آپ سے کہے الفاظ آپکو یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔ اینی وے جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔ سچ کہتے ہیں اپنے مرے سوا جنت نہیں ملتی۔۔۔ آئیندہ میں اپنی ذمہ داری کسی دوسرے کے کندھے پہ ہرگز نہیں ڈالوں گا”۔ اسکو باور کراتے احتشام واش روم کی جانب گھوما۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“سندس میرے سر میں بہت درد ہے پلیز میرے لیئے ایک کپ چائے بنا کے میرے روم میں لے آو”۔ تقی جو اسی وقت گھر میں داخل ہوا سیدھا سندس کے روم میں آیا تھا۔
“اوکے”۔ منہ کے زاویے بگاڑتے وہ بھی بالآخر کچن میں چلی گئی تھی۔
“یہ لو تقی تمھاری چائے”۔ چند منٹوں کی کوتاہی کے بعد سندس ہاتھ میں چائے کا مگ پکڑے تقی کے روم میں داخل ہوئی۔ ” یہ تمھارے ہاتھ پہ کیا ہوا ہے؟؟۔۔۔ کسی چیز کے کاٹنے کا نشان معلوم ہو رہا ہے؟”۔ مگ تقی کی جانب بڑھاتے اسکی نظر تقی کے بائیں ہاتھ کی پشت پہ پڑی جس سے اسنے تخمینہ کرتے کہا۔
“ہاں وہ بس ۔۔۔ اسے چھوڑو تم سناو تمھاری شادی کی شاپنگ ہو گئی ہے یا کچھ باقی ہے؟”۔ بات کو ٹالتے اسنے چائے کا سپ لیا۔
“نہیں تقی ابھی رہتی ہے۔۔۔ سچ پوچھو تو یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے ابھی شاپنگ شروع ہی نہیں کی”۔ تقی کی مخاطبت پہ وہ اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گزرتے وقت نے نین تارا اور احتشام کے زخم پہ خاصی مرہم رکھی تھی۔۔۔ ان دونوں کے چہروں پہ رونق اور خوشی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوا تھا۔۔۔ واجد اور قدسیہ بیگم بھی بخیر و عافیت پاک سرزمین سے رخصت ہوتے اپنے وطن اہل و عیال کے پاس آ پہنچے تھے۔
“نین تارا میں تمھارے لیئے بہت فکر مند تھی۔۔۔۔ یہ صدمہ تمھارے اور شامیر کیلیئے بہت بڑا تھا میری زبان پل پل تم لوگوں کیلیئے دعا گو تھی۔۔۔۔ وہ ذات بہتر جانتی ہے ہم انسانوں کی کیا بساط؟۔۔۔۔ اب تو بس یہی دعا ہے جو ہو تم دونوں کے حق بہترین ہو”۔ قدسیہ بیگم کے روم میں نین تارا اسکے سامنے بیٹھی تھی جب قدسیہ بیگم نے اسے کہا۔
“آمین”۔ نین تارا نے متبسم کہا۔
“اچھا نینی یہ کھجوریں اور زم زم تمھارے اور احتشام کیلیئے”۔ بولتے ہی اسنے مخصوص شاپنگ بیگ نین تارا کی جانب بڑھایا۔
“واہ بھئی کیا مذاکرات چل رہے ہیں؟؟ جان من اور جان تمنا کے مابین”۔ روم میں داخل ہوتے احتشام نے بلند بانگ کہا۔
“کچھ خاص نہیں۔۔۔۔ یہ پندرہ دن پندرہ صدیوں کے برابر گزرے۔۔۔۔ بی جان کو بہت یاد کیا تو میں بی جان کے پاس چلی آئی۔۔۔ یہ دیکھیں بی جان نے کھجوریں اور زمزم بھی دیا ہے”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ کی جانب اشارہ کیا۔
“ہہمم گریٹ۔۔۔۔ اچھا تو بی جان بتائیے آپ نے میرے اور نین تارا کیلیئے کون کون سی دعائیں مانگیں؟؟؟ ۔۔۔ مانگیں بھی ہیں یا نہیں؟؟”۔ بولتے ہی وہ قدسیہ بیگم کی جانب متوجہ ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا چلو جلدی سے تیار ہو جاو”۔ عجلت میں وہ روم میں داخل ہوا۔
“مگر کیوں؟؟”۔ نین تارا جو وارڈ روب کے پاس کھڑی تھی متحیر احتشام کو دیکھنے لگی۔
“شاپنگ پہ جانا ہے”۔ نین تارا کے قریب آتے اسنے مختصرا کہا۔
“احتشام میرا دل نہیں چاہ رہا آپ کسی اور کو لے جائیں پلیز”۔ دبے تھکے لہجے میں بولتی وہ بیڈ کی جانب بڑھی۔
“اچھا تو پھر ٹھیک ہے میں ایسا کرتا ہوں کہ سندس کو لے جاتا ہوں”۔ ہنسی دباتے اسنے مصنوعی سنجیدگی ظاہر کی۔
“احتشام آپ اسکا نام میرے سامنے مت لیں ۔۔۔ وہ مجھے ذرا بھی اچھی نہیں لگتی”۔ نین تارا نے منہ بنایا۔
“ہاں لیکن اگر تم میرے ساتھ جانے کیلیئے رضا مند نہیں تو مجھے مجبورا یہ قدم اٹھانا پڑے گا”۔ احتشام ہنوز شریر انداز میں گویا ہوا۔
“آپ راستے سے کسی بھکارن کو لے جائیں میں برا نہیں مناوں گی مگر اسے بالکل بھی نہیں”۔ بولتے ہی وہ بیڈ پہ جھکتے کمفرٹر سیٹ کرنے لگی جبکہ احتشام ہلکے قدم اٹھاتا اسکے مقابل جا کھڑا ہوا جس پہ وہ سیدھی ہوئی۔
“جب اللہ رب العزت نے مجھے ملکہ دی ہے تو میں کیوں کسی بھکارن کے ساتھ جانے کی چاہ کروں ؟؟۔۔۔۔ بہتر ہے کہ تم اپنا حق استعمال کرتے میرے ساتھ چلنے کی خواہش خود ہی ظاہر کر دو ورنہ۔۔۔۔۔”۔ بولتے ہی اسنے دائیاں آبرو اچکاتے قدرے اوپر کو کیا۔
“ورنہ کیا؟؟”۔ کمر پہ ہاتھ رکھے نین تارا اسکے قریب ہوئی۔
“ورنہ جیسا آپ مناسب سمجھیں ۔۔۔ بندہ نا چیز کی کیا جرات اف بھی کر سکے”۔ دل موہ لینے والی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا رخ کیا۔۔۔ اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کرتے احتشام نے اپنی ناک اسکی ناک کیساتھ دھیرے سے رگڑا۔ ” چلو اب جلدی سے تیار ہو کر نیچے آ جاو۔۔ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں”۔ بولتے ہی وہ دروازے کی جانب پلٹا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آج فرحان کی مہندی کی تقریب تھی جو خاص طور پہ رات کو ہی منعقد کی جاتی ہے۔
بلیک شلوار قمیض پہ ڈارک محرون کوٹ پہنے وہ بہت منفرد، نفیس اور پیارا لگ رہا تھا۔
“نین تارا تم تیار ہو؟؟”۔ قدم اٹھاتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف آیا جہاں نین تارا اسکی جانب پشت کیئے کھڑی تھی اور شیشے سے اسکا عکس دیکھتے اسکی جانب گھومی۔
“جی میں تیار ہوں”۔ اسنے نیوی بلیو نیٹ کے لہنگے پہ سلور شرٹ پہن رکھی تھی۔۔۔۔ لہنگے کا ہم رنگ دوپٹہ دائیں جانب سلیقے سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔۔ سامنے کے بالوں کو بائیں جانب ٹویسٹ کیا تھا ساتھ ہی دائیں جانب جھومر لگایا تھا۔۔۔ گلے میں نفیس گلبند ۔۔۔ بقیہ بالوں کو کھلا چھوڑتے انکے کرلز بنائے تھے اور چہرے پہ میک اپ کا ہلکا ٹچ دیا تھا۔
“ایک کمی باقی ہے”۔ بولتے ہی احتشام اسکے مزید قریب ہوا۔ “اب تم محفوظ ہو۔۔۔ عشق کے حصار میں شامیر کی پناہ میں”۔ نین تارا کے دونوں رخساروں پہ ایک کے بعد ایک محبت کی مہریں ثبت کرتے اسنے پر اعتماد انداز میں کہا۔
“پاگل”۔ نین تارا ہنس دی۔
“عشق کی راہ پہ قدم انسان یہ سوچے سمجھے بنا رکھتا ہے کہ اسے منزل ملے گی یا نہیں۔۔۔۔ ایسے میں جنونیت،، پاگل پن،، آوارگی عام بات ہے”۔ احتشام نے کندھے اچکائے۔
“اگر انسان کو اس بات کا علم ہو کہ اسے منزل مل جائے گی پھر؟؟”۔ نین تارا نے دلچسپی سے پوچھا۔
“پھر شاید اتنی شدت، تکلیف برداشت کرنے کا مزہ اور اتنی کشش باقی نہیں رہتی۔۔۔ پتہ ہے جب مجھے تم سے عشق ہوا تھا مجھے اس بات کا قطعا علم نا تھا کہ تم مجھے ملو گی یا نہیں اور دیکھو تم میرے سامنے ہو ۔۔۔ میری دسترس میں”۔ احتشام نے فاتحانہ انداز میں کہا۔
“اب آپکو مجھ سے محبت نہیں رہی کیا؟؟”۔ اسنے پے در پے سوال کرتے کہا۔
“ہرگز نہیں بلکہ تمھارا احساس، وجود اور تمھاری قربت میرے عشق کی شدت کو دوبالا کر گئے”۔ احتشام نےمتبسم کہا۔
“عشق کی انتہا بعض اوقات انسان کے خود کیلیئے مہلک ثابت ہوتی ہے”۔ احتشام کے چہرے کی جانب دلربا نظر اچھالتے نین تارا نے کہا۔
“عشق کی کوئی انتہا نہیں ہوتی ۔۔۔ چاہے عشق حقیقی ہو یا مجاذی دونوں صورتوں میں محبوب کی جدائی انسان کو ملنگ بناتی ہے ۔۔۔ اسکی دید کا،،،، اسکی قربت کا،،،، اسکے حصار کا”۔ احتشام نے خوبصورتی سے الفاظ کو یکجا کیا جس پہ نین تارا منجمد کھڑی اسے دیکھتی رہ گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آج کا دن نین تارا اور احتشام کیلیئے یادگار تھا کیونکہ تقدیر نے ان پہ خاصی کرم نوازی کرتے انہیں رشتہ ازدواج میں جوڑا تھا۔۔۔ نین تارا کی زندگی کو احتشام کے حکم کے تابع کر دیا تھا مگر احتشام نے اسے اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کے رکھا تھا۔
حسین یادوں کے سفید گھوڑے پہ بیٹھتی وہ سوچ کی سنہری وادی میں کہیں دور نکل گئی تھی۔۔۔ کچن میں احتشام کے دائیں جانب بیٹھے اپنا دائیاں بازو ڈائننگ ٹیبل پہ ٹکائے اسنے ہاتھ پہ چہرہ جمایا تھا جسکا رخ احتشام کی جانب تھا۔ احتشام جو کافی دیر سے یہ نوٹ کر رہا تھا بالآخر نین تارا کے قریب ہوتے اسنے زبان کو حرکت دی۔
“نین تارا”۔ اسکے لبوں پہ مسلسل امڈتی مسکراہٹ میں ذرا بھی کمی نا ہوئی۔ “نین تارا میری جان کیا ہوا ہے؟؟”۔ ہاتھ بڑھاتے احتشام نے اسکا بائیاں رخسار سہلایا۔
“ج۔ ج۔ جی؟”۔ حقیقی دنیا میں دوبارہ سے وارد ہوتے ہی اسنے فورا سے اپنی پلکیں جھپکائیں۔
“کہاں گم ہو؟؟”۔
“کہیں نہیں احتشام یہیں ہوں آپ ناشتہ کر۔۔۔۔”۔ بولتے ہی اسنے احتشام کے سامنے رکھی پلیٹ کی جانب اشارہ کیا جو اب خالی پڑی تھی۔
“آئی ہیو ڈن مائی بریک فاسٹ۔۔۔۔ ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں”۔ نیپکن سے منہ صاف کرتے وہ چیئر سے اٹھتا دروازے کی جانب بڑھا۔
“مگر آپ کہاں جا رہے ہیں؟؟”۔ نین تارا بے ساختہ اسکے تعاقب میں اٹھی جس پہ وہ حیرانی سے اسکی جانب گھوما۔
“نین تارا میں ڈیوٹی پہ جا رہا ہوں اور ایسا پہلی بار تو ہوا نہیں ۔۔۔ کیا تمھاری طبیعت ناساز ہے؟؟”۔ بولتے ہی وہ اسکے قریب ہوا۔
“نہیں نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔ سو سوری خیال نہیں رہا”۔ بولتے ہی وہ مسکرا دی۔
“چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔ ٹیک کیئر بائے”۔ اسکی پیشانی پہ فریفتہ لمس چھوڑتے وہ کچن کی دہلیز پار کر گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سادہ سرخ جوڑا زیب تن کرتے وہ واش روم سے نکلتے دائیں جانب ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ لبوں کو لال لالی سے ڈھکتے چھوٹے جھمکے اٹھا کر کانوں میں انکی آرائش کی۔
“تیار تو میں ہو گئی ہوں مگر یہ بات ابھی بھی میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ انہیں تحفے میں کیا دوں ۔۔۔ میں چاہتی ہوں ایک ایسا تحفہ جو انہیں ہمیشہ یاد رہے”۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھتے وہ سوچ میں ڈوبی ہی تھی کہ اسکا سر چکرایا۔ “یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟؟۔۔۔ آج تو میں نے ناشتہ بھی ٹھیک سے کیا ہے پھر یہ چکر؟؟”۔ وہ وارفتہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
“ایسا کروں گی پہلے ڈاکٹر سے چیک اپ کروا لوں گی پھر مارکیٹ جاوں گی”۔ بولتے ہی وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی۔۔۔ وارڈ روب سے کلچ نکالتے وہ روم سے نکل کر سیڑھیاں اترتے سیدھا ممتاز کے روم کے باہر پہنچی۔
“تائی جان وہ میں آپ سے پوچھنے آئی تھی کہ میں اک کام سے مارکیٹ جا رہی ہوں آپ کو کچھ منگوانا ہے؟؟”۔ دروازہ ناک کرتے ہی اسنے ہچکچاتے پوچھا۔
“کم بخت ماری تو بازار جا رہی ہے تو کام کون کرے گا؟؟”۔ وہ جو سکون سے بیڈ پہ بیٹھی تھی اب آگ بگولہ ہوئی۔
“تائی جان میں جلدی آ جاوں گی”۔ نین تارا نے مزید کہا۔
“ٹھیک ہے جلدی آ جانا وہیں مت دن گزار آنا۔۔۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے نجانے کیا بنے گا؟؟”۔ ممتاز نے تلخی سے بولتے منہ پھیرا۔
“نازلی میں مارکیٹ جا رہی ہوں تم پلیز بی جان کا خیال کر لینا میں جلدی واپس آ جاوں گی”۔ جونہی اسنے اپنے قدم ممتاز کے روم سے الٹے لیئے متضاد سمت سے آتی نازلی کو دیکھتے وہ پل بھر کو رکی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا پریشانی والی کوئی بھی بات نہیں ہے۔۔۔ ایسی کنڈیشن میں چکر آنا نارمل ہے”۔ نین تارا کی جانچ کے بعد ڈاکٹر اپنی مخصوص سیٹ پہ آ بیٹھی تھی۔
“کیا مطلب ڈاکٹر میں کچھ سمجھی نہیں؟”۔ ڈاکٹر کی بات پہ وہ بھچک کر رہ گئی۔
“رپورٹس آ جائیں میں آپکو کلیئر کر دوں گی ۔۔۔۔۔ کم ان”۔ دروازے پہ ناک ہوا تو ڈاکٹر نے با آواز بلند کہا۔
“میم یہ رپورٹس”۔ ایک نرس ہاتھ میں فائل پکڑے اس جانب آئی۔
“تھینک یو ریحانہ”۔ اسکے ہاتھ سے فائل پکڑتے ڈاکٹر نے سرسری نگاہ رپورٹس پہ ڈالی۔ “میرا اندازہ بالکل درست تھا”۔ نظریں اٹھاتے اسنے متبسم انداز میں نین تارا کو دیکھا جہاں اب مزید حیرت در آئی تھی۔
“کونگریجولیشنز یو آر ایسپیکٹنگ”۔ بولتے ہی اسنے رپورٹس نین تارا کی جانب بڑھائیں۔
نین تارا کے دل کے ویران چمن میں آس کا اک نیا کنول کھلا۔۔۔ احتشام کی ٹوٹی امید جیسے بر آئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ٹھیک ہے تم لوگ تیار رہو۔۔۔۔ میں سر کے کیبن سے ہو کر ابھی آیا”۔ اپنے پیچھے سپاہیوں کو خبردار کرتے وہ عجلت میں قدم اٹھاتا احتشام کے کیبن کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“ارے سر آپ یہاں بیٹھے ہیں؟؟”۔ جونہی اسنے کیبن کا دروازہ کھولا احتشام کو اپنی جگہ مطمئن بیٹھا دیکھ وہ متحیر ہوا۔
“وٹ ڈز اٹ مینز؟؟”۔ سعد کی آواز پہ فائل پہ اسکا جھکا سر اوپر کو ہوا۔
“سر میں نے آپکو کالز کیں مگر آپ نے رسپانس نہیں دیا پھر میں نے آپکے نمبر پہ ٹیکسٹ چھوڑا تھا”۔ قدم اٹھاتا وہ احتشام کے قریب آیا۔
“ڈیم اٹ میرا فون گھر ہی رہ گیا ہے”۔ سعد کی بات پہ اسنے فورا سے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالا جو خالی لوٹ آیا تھا پھر چیئر سے اٹھتا وہ سعد کے قریب آیا۔
“سر پچھلے سال جو مخبری کی گئی تھی اسکا ٹھوس ثبوت ہا تھ لگا ہے۔۔۔۔ فحاشی کا بازار گرم تھا ریڈ مارنے کا اس سے بہتر موقع ہمیں نہیں ملنا سر ویسے بھی ہم برسوں سے اسی دن کے تو منتظر تھے۔۔۔۔ یہی میسج میں نے آپکو کیا تھا میرے حساب سے تو آپکو میسج مل جانا چاہیئے مگر آپکو تو کوئی معلومات ہی نہیں”۔ تفصیل دیتے اسنے احتشام کو باور کرایا۔
“تم گاڑی نکالو ہم فورا نکلیں گے۔۔۔ سپاہیوں کی تعداد گنی چنی ہو تو بہتر ۔۔۔ اور ہاں تم فورا اپنا یونیفارم بدل لو سادہ لباس میں تمھارا چلنا زیادہ کار آمد ہو گا۔۔۔۔۔ ناو لیو ہری اپ”۔ تحکم انداز میں بولتا وہ ایڑیوں کے بل مڑ گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“نین تارا ۔۔۔۔ نین تارا”۔ نین تارا کو آوازیں لگاتی وہ اسکے روم کی دہلیز تک آ پہنچی۔
احتشام اور نین تارا کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے وہ روم میں داخل ہوتے وارڈ روب کی جانب بڑھی۔۔۔۔ وارڈ روب کا دروازہ کھولتے اسنے تیز فہمی سے ہر چیز دیکھنا شروع کی۔۔۔۔ اپنی تسلی کرتے اسنے وارڈ روب کا دروازہ بند کیا پھر سائیڈ ٹیبل کی جانب گھومی جہاں اسکی نظر احتشام کے فون پہ گئی۔
“ارے احتشام بھائی اپنا فون یہیں بھول گئے۔۔۔ احتشام بھائی بھی نا”۔ بے خیالی میں بولتے وہ ایڑیوں کے بل مڑی ہی تھی جب ایک تمسخرانہ سوچ نے اسکے دماغ پہ گھیرا تنگ کیا جس پہ وہ دوبارہ مڑی اور فون ہاتھوں کے شکنجے میں لیا۔
چھوٹی بہن ہونے کے ناطے فون کے پاسورڈ سے عارف کامل ہونے کا شرف اسے حاصل تھا جس سے مکمل فیض یاب ہوتے اسنے فون انلاک کیا جہاں سکرین پہ سعد کی جانب سے آئی کالز اور میسجز کی ڈیٹیلز تھیں۔
میسج اوپن کرتے جوں جوں اسنے میسج میں لکھا ایک ایک حرف نظر سے گزارہ ٹھیک ویسے ہی شیطانی منصوبے کا ایک جال اسکے ذہن کو اپنی حراست میں لے رہا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ قدسیہ بیگم کے روم کے باہر سے گزر رہی تھی جب اسکی حس سامعہ میں قدسیہ بیگم کی آواز پہنچی جس پہ وہ قدم اٹھاتی اسکے روم میں چلی گئی۔
“نازلی نین تارا کدھر ہے؟”۔
“جی وہ نین اپیا مارکیٹ گئی ہیں ۔۔۔ بول رہی تھیں تھوڑی دیر تک آ جاوں گی تب تک میں آپکا خیال رکھ لوں”۔ قدسیہ بیگم کے قریب آتے اسنے آگاہی دی۔
“مارکیٹ گئی ہے”۔ اسے تعجب ہوا۔ “آج سے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نین تارا یوں گھر سے باہر گئی ہو۔۔۔ نجانے ایسا کونسا کام تھا جسکی بنا پہ وہ اکیلے مارکیٹ چلی گئی”۔ قدسیہ بیگم نے زیر لب کہا۔
“بی جان آپکو کچھ چاہیئے”۔
“ہاں نازلی پانی ختم ہو گیا ہے تو وہی چاہیئے تھا۔۔۔۔ ایسا کرو مجھے اس جگ میں نیم گرم پانی لا دو”۔ بولتے ہی اسنے سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھاتے نازلی کی جانب بڑھایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میں احتشام کیلیئے ایک ایسا تحفہ چاہ رہی تھی جو انہیں ہمیشہ یاد رہے۔۔۔ خدا نے یہ خوشخبری دے کر میری مشکل آسان کر دی۔۔۔ جتنی خوشی مجھے ہے میرا کامل یقین اس بات کی پختگی کرتا ہے کہ احتشام کو بالمضاعف ہوگی۔۔۔۔ مجھ سے مزید صبر نہیں ہو رہا دل کر رہا ہے کہ اڑ کے پہنچ جاوں اپنے احتشام کے پاس”۔ ہوسپٹل سے واپسی پر وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی ہزار سوچوں سے گھری تھی۔
اسی اثنا میں اسکا فون پوری ہمت سے دھاڑا ۔۔۔ اپنے تمام جذبات دل میں مقید کرتے اسنے گود میں رکھا فون اٹھاتے کال ریسیو کی۔

 

Read More:  Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: