Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 1

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 1

–**–**–

کئی سو برس پہلے کی بات ہے ۔ دور بہت دور اس کرہ ارض پر ایک ریاست ہوا کرتی تھی ۔ جو ریاست عثمانیہ کے نام سے مشهور تھی ۔ اس کی حدود کا اندازہ اس طرح لگایا جاتا تھا کہ راجہ ، اپنی پوری ریاست کا دورہ اپنے تیز رفتار گھوڑوں پر ایک ماہ میں مکمل کرتا تھا ۔
راجہ بہت انصاف پسند اور رحم دل تھا ۔پوری ریاست کا اکیلا وارث تھا ۔اسے اپنی رعایا کے ساتھ بیحد محبت تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ سال کا آخری دن وہ اپنی رعایا کے ساتھ جشن مناتا ۔ دوران سال سے آخری ماہ تک ریاست میں جتنا منافع حاصل ہوتا وہ جشن میں لگا دیا جاتا ۔ ریاست میں رہنے والے تمام امیر غریب مرد و عورت بچے بوڑھے اس جشن میں شامل ہوتے۔ طرح طرح کے لوازمات سے لطف اندوز ہوتے ۔موسیقی کی محفلیں سجتی ۔ہنر مند اپنی اپنی بنائی ہوئی چیزوں کی نمائش کرتے اس طرح جسے جو چیز پسند آتی سستے داموں فروخت بھی کرتا ۔ جشن والے دن کی ایک خاص بات یہ ہوتی ۔ . غریب نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی باہمی رضامندی سے انکی شادی کروائی جاتی ۔ جشن کے اختتام پر جس ہنر مند کی بنائی ہوئی چیزیں زیادہ بکتی راجہ اسے بھاری انعامات سے نوازتا تاکہ وہ اگلے سال اس سے بھی بڑھ کر اچھی چیزوں کی نمائش لگا سکے ۔ اسی دوران راجہ پوری ریاست سے انے والے ہنر مند لوگوں کو الگ کرتا رہتا تھا اور ان سے خاص کام لیا جاتا . اس سے تمام رعایا کو حوصلہ ملتا اور نئے جشن کیلئے خوب سے خوب تر اشیا تیار کرتے ۔ جشن سارا دن جاری رہتا اور سورج ڈھلتے ہی رعایا راجہ کو ڈھیروں ڈھیر دعائیں دیتے اور رخصت ہو جاتے ۔ اس جشن کا انتظار ریاست کے ہر فرد کو بڑی بے چینی سے رہتا ۔
کئی سالوں سے راجہ ہنر مندوں کو منتخب کرتے اور کسی نامعلوم مقام پر بھیج دیتے ۔ وہ اپنی رانی کی بیسویں سالگرہ کیلئے کچھ خاص تحفہ تیار کروا رہے تھے جسکا علم کسی کو نہیں تھا ۔ ریاست بھر سے ہنر مند اتے اور راجہ کے خفیہ تحفے کی تکمیل میں شامل ہو جاتے ۔
راجہ طہماسب کو اپنی رانی سے بیحد محبت تھی ۔ وہ رانی کو ہمیشہ جان عزیز کہہ کر پکار تے ۔
رانی قدسیہ انتہائی خوبصورت تھی ۔ انکی سراحی دار گردن میں پہنی ہوئی مالا میں جڑے اصلی ہیروں کی چمک جب وہ ہنستی انکے دانتوں سے ٹکراتی انکی ہنسی میں چار چاند لگا دیتیں ۔ راجہ طہماسب رانی کی ایک ہنسی پر فدا ہو جاتے ۔ انکی گہری جھیل سی آنکھوں میں ڈوب کر دنیا و مافیہا سے بے خبر انکی خوبصورتی پر قصیدے پڑھنے لگتے ۔ فرط جنوں کا یہ عالِم ہوتا کہ رانی کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیتا اور اکثر اوقات راجہ طہماسب کی اس کیفیت سے محل میں موجود وزرا اور دوسرے اراکین دبی دبی مسکراہٹ لئے دائیں بائیں ہو جاتے ۔ راجہ صاحب جب ہوش و حواس کی دنیا میں واپس اتے ،کھسیانے ہو جاتے ۔
راجہ رانی کی محبت کے چرچے ہر طرف مشھور تھے ۔ سننے میں آیا تھا کہ راجہ رانی کی بیسویں سالگرہ پر رانی کو کوئی خاص تحفہ دینے والے ہیں جسکا علم صرف راجہ کے چند خاص بندوں کو ہے ۔ اور دنیائے عشق میں راجہ طہماسب کا دیا ہوا تحفہ اپنی مثال آپ تھا ۔ (جو کئی سو برس گزرنے کے بعد بھی راجہ رانی کی محبت کی یادگار بن گیا ۔)
پوری ریاست اس تحفے کے متعلق جاننے کیلئے بیقرار تھی ۔
رانی قدسیہ کی سالگرہ کے دن جیسے جیسے قریب اتے گئے ۔راجہ کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی جانے تحفہ کی تکمیل ہو پائے گی ۔
بلاآخر وہ دن بھی ا گیا جب رانی پورے بیس سال کی ہوئیں ۔ پوری ریاست سے قیمتی تحائف اور دعائیں بھیجی گئی ۔ جنہیں راجہ رانی بخوشی قبول کرتے اور شکریہ ادا کرتے ۔
رانی دن بھر بے چین رہیں جانے راجہ طہما سب کیا خاص تحفہ دینے والے ہیں ۔
رعایا سے فارغ ہو کر راجہ رانی کے پاس آئے اور محبت کا اظہار کرنے لگے ۔
آج ہم اپنی جان عزیز کو ایسا تحفہ پیش کریں گے کہ جسے پا کر آپ کو ہماری محبت پر ناز رہے گا ۔ راجہ نے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔
میرے محبوب طہما سب ہمیں آپ کی محبت پر شک تھا نا ہے ۔ ہمیں اب بھی آپ کی محبت پر ناز ہے ۔ بس تجسس ہے ۔سننے میں آیا ہے کہ آپ ہمیں وہ تحفہ پیش کرنے والے ہیں جو آج تک کسی نے کسی کو نہیں دیا ۔ اور نہ ھی کوئی دے پائے گا ۔ ہم تو صرف آپ کی محبت کا یہ انوکھا انداز دیکھنا چاہتی ہیں ۔ رانی نے راجہ کی محبت کی پہر پور تائید کرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے آپ وعدہ کیجئے جب تک ہم نہ کہیں اپنی آنکھیں مت کھولیے گا ۔
راجہ نے اگے بڑھ کر رانی کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور انکی آنکھوں پر اپنے لب پیوست کے اور چلتے ہوئے اپنے محل سے ملحقہ ایک اور دروازے سے باہر نکل گئے ۔ یہاں پہنچ کر راجہ نے اپنے لبوں سے رانی کی آنکھوں کو آزاد کیا چند لمحے رانی کی بند آنکھوں کی خوبصورتی کو دیکھا اور اپنی بانہوں سے اتار دیا اور دھیرے سے بولے ۔
جان طہماسب اپنی آنکھیں کھول دیجیئے ۔ اور دیکھئے اپنے دیوانے راجہ کا انوکھا تحفہ ۔
رانی نے آنکھیں کھول دی اور سامنے کے منظر کو حیرت سے دیکھنے لگی ۔ ایسا خوابناک منظر دیکھ کر گنگ ہو گئیں ۔ بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیل گئی ۔ خوبصورت موتیوں جیسے دانتوں سے اپنے ہونٹ کو دبا لیا ۔ بے یقینی کا یہ عالِم تھا کہ آنکھوں دیکھا سچ نہیں لگ رہا تھا ۔ چند لمحوں بعد رانی نے پلکوں کو تیز تیز چھپکنا شروع کر دیا ۔
یہ ایک جزیرہ نما جگہ تھی ۔ جہاں ایک شفاف ندی، ندی کے بیچ ایک کشتی جس میں راجہ رانی محبت بھرے لمحات گزار سکیں ۔ تمام اطراف پھلدار درخت، سونے کا تخت جسکے پائیوں میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے تھے ۔ اس تخت کے اوپر ایک سایہ دار بہت بڑی چھتری تھی جو نہایت قیمتی کپڑے سے تیار کی گئی تھی ۔ روشنیوں کے قمقمے . بہتے ہوئے شفاف پانی شور ۔ خوبصورت پرندوں کی جوڑیاں ۔ اس پورے جزیرے کو خوبصورت پہاڑوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ ان پہاڑوں پر روشنی کا ایسا انتظام تھا جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں ۔ پہاڑوں کے وسط میں چودھویں کا چاند ۔
ہم جیتی جاگتی دنیا میں ہیں ۔ یا یہ ایک خواب ہے ۔ رانی بے یقینی کی سی کیفیت میں بولی .
راجہ نے رانی کا ہاتھ تھاما اور تخت پر لے گئے ۔ بڑے بڑے تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ھی تھے کہ سامنے درخت پر دو ہنسو کا جوڑا ان بیٹھا ۔ جو ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز ایک دوسرے کی محبت میں گم ہو گئے ۔ شائد دونوں اپنی زبان میں کوئی محبت بھرا خوبصورت گیت گا رہے تھے ۔کیوں کہ دونوں ھی مسرور تھے ۔
راجہ اور رانی بڑی چاہ سے دونوں کو دیکھتے رہے ۔
محبت میں سر شار رانی نے راجہ کے شانے پر سر رکھا اور اس انوکھے تحفے کا شکریہ ادا کیا ۔
راجہ رانی کی اس ادائے حسن سے متاثر ہوتے ہوئے کہا ۔
جان طہما سب ،یہ ایسا جزیرہ ہے جسے بنانے میں کئی سال بیت جاتے ۔ مگر میری ریاست کے سبھی ہنر مندوں نے دن رات ایک کر دیا اسے بنانے میں ۔ یہاں قدرت کی عطا کردہ تمام نعمتیں موجود ہیں ۔ اسکی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب آپ مسکرائیں گی یہاں کی ہر چیز مسکرائے گی ۔ آپ کی اداسی میں بھی یہاں موجود سب اداس ہو جائیں گے ۔ اور اگر زیادہ دیر یہاں اداسی رہی تو پیار کرنے والے سب یہاں سے کوچ کر جائیں گے ۔ دوسری خاص بات ۔ اسکا صدر دروازہ ہمارے محل میں کھلتا ہے ۔ یہاں ہمارے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ا سکتا سوائے پرندوں کے ۔ اسکے چاروں طرف پہاڑ ہیں جو اس جزیرے کی حفاظت کیلئے بنائےگئے ہیں ۔ یہاں کے درختوں کے پھل میٹھے ہونگے اور پورا سال ختم نہیں ہونگے ۔ آپ اسے جادو کی نگری بھی کہہ سکتی ھیں ۔ کیونکہ یہاں کوئی ایسا پرندہ ،جانور یا نقصان پہنچانے والی کسی قسم کی مخلوق داخل نہیں ہو سکتی ۔ یہ پیار کرنے والوں کی نگری ہے اور اگر خدا نخواستہ کوئی بد مخلوق گھس آئی تو وہ کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ ہوگی ۔ ایک بات کا خاص خیال رکھے گا کہ یہ نگری اداس نا ہونے پائے ۔ کسی بھی قیمت پر ۔ یہ ہماری التجا ہے ۔
یہاں ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے میں آزاد ہیں ۔ بس ایک خامی رہ گئی جسے جلد از جلد دور کر دیا جائے گا ۔ راجہ نے رانی کو پوری تفصیل بتائی ۔
وہ کمی کیا ہے میرے محبوب راجہ ۔ تاکہ میرے علم میں بھی یہ بات رہے ۔
رانی نے مخمور انداز میں راجہ کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا ۔
شائد ان پہاڑوں کے درمیان کوئی سوراخ رہ گیا ۔ جہاں سے کل کوئی چرواہا اندر داخل ہو گیا . ہم فوری طور پر اس سوراخ کو ڈھونڈ کر بند کروا دیں گے ۔ آپ جب چاہیں یہاں اکیلی بھی آ سکتی ہیں ۔ اور چاہیں تو کنیزیں بھی لا سکتی ہیں ۔ یہ جگہ محفوظ ہے اور محل سے جڑی ہے ۔
راجہ رانی کا ہاتھ پکڑ کر ندی میں کھڑی کشتی پر سوار ہوئے اور کشتی میں شب کے اس آخری حصہ کو سال گرہ کی ایک خوبصورت یادگار بنا دیا ۔
چاند پر بیٹھی چرخہ کاتتی بڑھیا بھی راجہ رانی کی اس مسحور کن محبت پر مسکرا اٹھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: