Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 2

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 2

–**–**–

رانی جزیرے کو پا کر بہت خوش تھیں ۔ راجہ اور رانی فراغت کے لمحات اپنے جزیرے پر گزارتے ۔ چہل قدمی کرتے ۔راجہ طہماسب درختوں سے تازہ پھل توڑ کر رانی کو پیش کرتے۔ ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے سے پانی پیتے ۔ پرندوں کے نغموں سے لطف اندوز ہوتے ۔
راجہ طہماسب ریاستی کاموں میں ایسے مصروف ہوۓ کہ پہاڑوں کے درمیان رہ جانے والے شگاف کو بند کروانا بھول گئے ۔ اسی اثنا ساتھ والی ریاست سے ایک قاسد آیا ۔ جو امن و سلامتی کے پیام کے ساتھ اپنے راجہ کا خط دیا ۔
راجہ طہماسب نے خط کھولا اور پڑھنے لگے ۔
بردار عزیز ۔
پچھلے چند دنوں سے طبیعت ناساز ہے۔ ورنہ ہم خود آپ کی خدمت میں حاضری دینے آپ کی ریاست چلے اتے ۔ ہماری ریاست میں کچھ ایسے مسائل ان پڑے ھیں جنکا حل صرف آپ کے پاس ہے ۔ آپ کی مدد اور تعاون کے طلب گار ھیں ۔ ہم امید رکھتے ھیں ہمارا خط موصول ہوتے ہی تعاون فرمائیں گے ۔
. فرمانبدار ۔
راجہ زولقرنین ۔
راجہ طہماسب اپنے دوست کا خط پڑھ کر بے چین ہو گئے ۔ جلد از جلد دوست تک پہنچنا چاہتے تھے ۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست تک پہنچنے میں بھی پورا ماہ لگ جاتا ۔ راجہ طہماسب کوئی وقت ضائع کئے بغیر نکل جانا چاہتے تھے ۔
رانی راجہ کی جدائی کا سنکر بیحد اداس ہو گئیں ۔ راجہ نے وعدہ کیا اپنا پورا خیال رکھیں گے اور روزانہ چٹھی ارسال کرینگے . اسطرح راجہ رانی سے جدا ہو کر اپنے دوست کی ریاست چلے گئے ۔
کئی دن رانی،راجہ کی یاد میں اداس اور بھوکی پیاسی اپنے کمرے تک محدود رہیں ۔ ایک شام تنہا اداس بیٹھی تھی کہ اسے باہر سے کوئل کے گانے کی آواز آئی. رانی جھٹ سے اٹھی اس نےکمرے کی کھڑکی کھولی اور جزیرے کی طرف جھانک کر دیکھا ۔ درخت کی ٹہنی پر ایک تنہا کوئل اداس بیٹھی ہوئی تھی ۔ رانی کی نظر چاند پر بیٹھی بڑھیا پر پڑی ۔ وہ بھی خاموش تھی ۔ پرندے بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں چپ تھے ۔ ندی کا پانی ساکت تھا ۔ پہاڑوں پر ٹمٹماتی روشنیاں مدھم ہو رہی تھیں ۔ ہنسوں کا جوڑا گردن جھکائے بیٹھا ہوا تھا ۔ درختوں کے پھلوں میں تازگی نا تھی ۔ پھول مرجھا رہے تھے ۔
کوئل بار بار یہ گیت گا رہی تھی ۔
میرا راجہ بن دل گھبرائے ۔
مجھے یاد پیا کی ستا ئے ۔
رانی یہ منظر اور کوئل کا گیت سنکر حیران رہ گئی ۔ رانی کو راجہ کی بات یاد آ گئی کہ جادو نگری کی اداسی کی وجہ خود رانی ہونگی ۔ رانی تیزی سے اپنے محل سے نکلی اور اپنے جزیرے میں چلی گئی ۔ رانی نے جیسے ہی جزیرے میں قدم رکھا پرندے خوشی سے چہچہانے لگے درختوں کے پھلوں میں رس بھر آیا کوئل خوشی سے ادھر ادھر پھدکنے لگی چاند پر بیٹھی بوڑھیا مسکرانے لگی پہاڑوں کی روشنیاں جگمگانے لگی ندی کے ساکت پانی میں خوشی کی لہریں پیدا ہونے لگی جزیرے پر جیسے رونق واپس آگئی رانی کے ایک مسکرانے سے جزیرے پر زندگی کی لہر دوڑ گئی رانی بہت خوش ہوئی اس نے کہا یہ تو واقعی جادو کی نگری ہے یہاں پر میرے مسکرانے سے سب مسکراتے ہیں ۔
یہی کہا تھا میرے محبوب راجہ نے یہ جادو کی نگری ہے ۔ آپ کی مسکراہٹ سے ھی یہ نگری آباد رہے گی ۔
کوئل تم جو گیت گا رہی تھی مجھے وہ گیت پھر سے گا کر سناؤ ۔
ہماری رانی اداس ہے بن راجہ کے
اسے پل پل راجہ کی یاد ستائے ۔
رانی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اسی اثنا ایک سفید کبوتر اپنی چونچ میں راجہ کی چٹھی دبائے رانی کے شانوں پر آن بیٹھا ۔ رانی خوشی سے جھوم اٹھی اور اس نے کہا ۔ اے جادو کی نگری ۔ اب ہماری وجہ سے یہاں کوئی اداس نہیں رہے گا ۔ ہم اپنے راجہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کو بھول گئے تھے ۔لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔ رانی نے درخت سے تازہ خوبانی توڑنے کیلئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تھا کہ ٹہنی خود بخود نیچے آ گئی اور رانی نے آگے بڑھ کر خوبانی کو توڑ لیا۔ کچھ دیر رانی جادو کی نگری میں چہل قدمی کرتی رہی اور پھر واپس اپنے محل آگئی تاکہ اپنے محبوب کی چٹھی پڑھ سکیں ۔ رات کی دوسرے پہر رانی کو راجہ کی یاد ستائی تو اٹھ کر بیٹھ گئی ۔رانی نے جادو کی نگری کی طرف کھلتی ہوئی کھڑکی کو کھولا اور ایک عجیب منظر دیکھا ۔ چند پریاں خوبصورت لباس میں ملبوس سفید دھودیا بڑ ے بڑے پروں والی ندی کے پاس اتر رہی تھیں ۔ کچھ دیر چہل قدمی کرنے لگیں ۔ سب پریوں نے مل کر ایک خوبصورت پوٹلی اٹھائی ہوئی تھی ۔اسے ندی کے پانی میں چھوڑ کر ہنستی مسکراتی کھلکھلاتی آسمان کی طرف اڑنے لگی چاند پر بیٹھی بوڑھیا بھی ان کا یہ کھیل سمجھ گئی۔ اور مسکرانے لگے ۔
. رانی کھڑکی سے تمام ماجرا دیکھتی رہی ۔رانی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ اور وہ سوچنے لگی کہ راجہ نے یہ نہیں بتایا تھا یہاں آدھی رات کو پریاں بھی آتی ہیں ۔
ابھی رانی کھڑکی کے بند کرنے کو تھی کہ ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا ۔ ایک بدنما کوا درخت پر بیٹھا کائیں کائیں کرنے لگا اور پریوں کی رکھی ہوئی پوٹلی کو ٹٹولنے لگا ۔ درختوں کے پھلوں کو نقصان پہنچانے لگا ۔ رانی بیحد پریشان ہو گئیں اور جزیرے کی طرف بھاگنے لگی ۔ تاکہ کوے کو اڑا سکے.
رانی نے تمام حالات راجہ کو چٹھی میں لکھ بھیجے ۔ کوے والی بات دانستہ چھپا لی ۔ راجہ پہلے اداس ہوئے کہہ رانی انکی غیر موجودگی میں دکھی ھیں ۔ پھر مسکرائے، کھلکھلا ئے ۔ یہ جان کر کہ جادو نگری کا ، رانی کے مسکرانے سے کھل اٹھنا اور پریوں کا ندی میں آنا اور پوٹلی رکھ جانا ۔
میری پگلی رانی ۔ پریاں تو اچھی نوید دی گئی ہیں ۔ ہماری ریاست کے وارث کی نوید ۔ چاند کی بڑھیا بھی یہی دیکھ کر مسکرائی ہوگی ۔
میری رانی یہ چٹھی ارسال کرتے ھی میں یہاں سے چل پڑوں گا اور ٹھیک ایک ماہ تک پہنچ جاؤں گا ۔ میرے پہنچنے تک میرے وارث کا بہت خیال رکھیے گا ۔
رانی راجہ کی چٹھی پڑھ کر خوش ہو گئی ۔ رانی راجہ کی واپسی کے دن گننے لگیں ۔ بلاآخر کبوتر نے راجہ کی ریاست میں قدم رکھنے کی نوید سنا دی ۔
راجہ کے استقبال کی شاندار تیاریاں شروع کردی گئی ۔ راجہ کی کمی نا صرف رانی کو محسوس ہوئی بلکہ ریاست میں سبھی اداس تھے ۔ راجہ جن راستوں سے گزرتے رعایا ان پر پھول نچھاور کر کے خوش آمدید کے نعرے لگاتے ۔
رانی بیچینی سے کبھی محل کی چھت پر چڑھ جاتی کبھی کبھی محل کی کھڑکی میں کھڑی ہو جاتی ۔ وہ دور سے راجہ کو اتے دیکھنا چاہتی تھی ۔
رانی کا انتظار ختم ہوا ۔ شمال کیطرف سے گرد و غبار اڑتا دکھائی دیا ۔ راجہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرپٹ بھاگتے گھوڑوں کے ساتھ نظر آ گئے ۔ محل کے دروازے پر بے شمار لوگ پھولوں کی پتیاں لیے استقبال کیلئے پہنچ گئے ۔ رانی بھی انہی لوگوں میں شامل ہو گئیں ۔ وہ سب سے پہلے خود اپنے راجہ کا استقبال کرنا چاہتی تھیں ۔
محل کے دروازے پر پہنچتے ہی راجہ طہماسب گھوڑے سے اترے رانی کو دیکھ کر مسکرائے ۔رانی کا ہاتھ تھاما خوش آمدید کہنے والوں کے ساتھ خوش دلی سے ملاقات کی ۔ سفر کی تھکان کے باوجود رعایا سے حال احوال مسلے وغیرہ پوچھتے رہے ۔ کافی وقت رعایا کے ساتھ گزارنے کے بعد رانی کے ساتھ محل تشریف لے گئے ۔
آج سننے سنانے کی رات تھی ۔ گئے دنوں کی باتیں کچھ راجہ نے سنائی ۔کچھ رانی سناتی رہی ایسے ھی رات بیت گئی ۔ رانی نے راجہ سے پوچھا ۔
میرے محبوب راجہ ۔ اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک بات پوچھوں ۔
کیوں نہیں ۔جان طہما سب ۔ آپ میری زندگی کا حصہ ھیں ۔ آپ کو سب معلوم ہونا چاہیے ۔
رانی کی اس بات پر راجہ چونک گئے ۔
میں نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا ۔ آپ کے ہاتھ خون سے رنگے ہوۓ تھے ۔ شائد کسی کا خون ہوا آپ سے . پھر کہیں سے ایک بھیڑ یا نمودار ہوتا ھے . اور آپ کے جسم کے ایک حصے کو سخت نقصان پہنچاتا ھے .
راجہ رانی کا خواب سنکر بیحد پریشان ہوئے اور بولے ۔
قدسیہ بیگم دراصل آپ بیمار ہیں . اور اس بیماری میں ایسے خواب آنا پریشاں کن بات نہیں ہے ۔
راجہ طہماسب لمحے بھر کو سوچ میں پڑ گئے ۔ساتھ ہی دماغ سے خیال جھٹک دیا ۔
راجہ کو اچانک یاد آ گیا کہ پہاڑوں کے درمیان شگاف بند کروانا ہوگا . لیکن رانی کی دن بدن خرابئ طبیعت کی وجہ سے پھر بھول گئے ۔
وقت بیتا ۔ رانی نے ایک نہیں بلکہ جڑواں بیٹوں کو جنم دیا ۔ رعایا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ رعایا اپنے ہر دلعزیز راجہ کی خوشی میں بھر پور خوشیاں منانے لگی ۔ پوری ریاست میں مٹھآئیاں تقسیم کی گئی . غریبوں میں چالیس دن لگاتار خیرات بانٹی گئی ۔
شہزادوں کا نام راجہ طہماسب نے خود اپنی پسند سے جہانگیر اور عالمگیر رکھے ۔
راجہ اپنی رانی اور شہزادوں کے ہمراہ جادو نگری میں آئے کچھ وقت بتانے ۔ جادو نگری میں قدم رکھتے ھی پرندوں نے چہچہا نا شروع کر دیا جیسے سبکو شہزادوں کی آمد کی خبر دے رہے ہوں ۔ درختوں کے پتوں کی سر سرا ہٹ نے بھی خوش آمدید کہا ہو جیسے ۔
فضا میں خوشبو بکھر گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں ہجوم لگ گیا ۔ پرندے اپنی چونچ میں دبائے خوبصورت قیمتی موتیوں کی مالا شہزادوں کے پاس رکھ گئے ۔ ہنسوں کا جوڑا قیمتی ریشمی رومال چھوڑ گئے ۔ پریوں کی اک قطار زمین پر اتر آئی ۔باری باری تمام پریاں قیمتی تحائف دیتی جا رہی تھیں ۔ چاند کی بڑھیا نے ایک خوبصورت جھولنا پیش کیا ۔ جس میں دونوں شہزادے با آسانی لیٹ سکتے تھے ۔ راجہ رانی بیحد خوش تھے ۔
کافی وقت جزیرے پر گزارنے کے بعد راجہ رانی محل واپس جانے والے تھے کہ نجانے کہاں سے ایک کوا اڑتا ہوا آیا اور چونچ مار کر ایک شہزادے عالمگیر کی بائیں آنکھ کو زخمی کر دیا ۔
راجہ طہماسب کو سنبھلنے کا موقع ھی نا ملا اور کوا بیحد کرخت آواز میں کائیں کائیں کرتا مشرق کی جانب اڑتا چلا گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے جادو کی نگری غم میں ڈوب گئی ۔ جانے کہاں راجہ سے چوک ہوئی کہ یہ واقع رونما ہوا ۔ ننھے عالمگیر کی آنکھ بچ تو گئی لیکن بری طرح سے زخمی ہو چکی تھی ۔ فوری طور پر طبیب کو بلایا گیا ۔بظاھر کوئی بڑا زخم نہیں آیا ۔ آنکھ میں تھوڑی سی سوجن ہوئی ۔ طبیب نے کچھ اختیاط بتائی اور خدشہ ظاہر کیا کہ شائد عمر کے کسی حصے میں انکی آنکھ کا نور ختم ہو جائے گا اس آنکھ سے دیکھ نہیں پائیں گے ۔ لیکن شائد ایسا نہ بھی ۔ رانی دل ھی دل میں بیحد پریشاں رہنے لگی ۔ایک نا معلوم سی کسک رانی کو مغموم کیے جا رہی تھی ۔
رانی دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھیں ۔ راجہ رانی کو دن رات خوش رکھنے میں بھر پور توجہ دینے لگے ۔ شہزادوں کا خیال بھی خود ھی رکھتے ۔
رانی نے دونوں شہزادوں میں ایک بات نوٹ کی ۔ شہزادہ جہانگیر جو عالمگیر سے چند گھڑیاں پہلے دنیا میں آئے بہت نرم مزاج اور ہنس مکھ تھے جبکہ عالمگیر کی طبیعت انتہائی جلالی قسم کی تھی ۔ بھوک لگنے پر چیخ چیخ کر روتے اور پیروں کی ایڑیاں زور زور سے مارتے جبکہ جہانگیر چپ چاپ انگوٹھا چوستے رہتے ۔
شہزادے تیزی سے پروان چڑھنے لگے ۔اور رانی کی صحت دن بدن بگڑتی ھی جا رہی تھی ۔ ایک دن راجہ نے رانی کا دل بہلانے کو شکار کا پروگرام بنایا ۔ دونوں شہزادوں کو ساتھ لیا اور اپنے جزیرے پر آئے ۔ جسے رانی نے جادو نگری کا نام دے دیا تھا ۔
یہاں خوبصورت پرندے اور معصوم جانور سبھی راجہ کے دوست تھے ۔ راجہ نے رانی کو بتایا کہ وہ کسی جانور یا پرندوں کا شکار نہیں کرینگے بلکہ سب سے اونچے پہاڑ پر جلتے ہوئے قمقمے کو پھوڑیں گے ۔ پھر درختوں سے تازہ پھلوں کا جوس پیئے گے ۔
راجہ نے اپنا تیر کمان اٹھایا اور دور پہاڑ پر ایک قمقمے کو نشانہ بنایا اور تیر چلا دیا ۔ اک دلدوز آواز پورے جزیرے میں گونج اٹھی ۔ ہر سو سناٹا چھا گیا ۔ شمال کی جانب سے دھواں اڑتا ہوا دکھائی دیا ۔ جو قریب آ کر ایک خوفناک کالی پر ی کا روپ دھار لیا ۔ پری نے پورے جزیرے پر پھونک ماری اور اڑ گئی ۔ ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا جزیرہ تاریکی میں ڈوب گیا ۔ راجہ نے دیکھا چاند پر بیٹھی بڑھیا راجہ کو غضبناک انداز میں دیکھ رہی تھی اور گریہ و زار کرنے لگی ۔
چاند کی بڑھیا کا ایک آنسو شہزادہ جہانگیر پر بھی پڑا جو درد کی شدت سے تڑپ اٹھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: