Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 3

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 3

–**–**–

رانی اپنے لخت جگر کی تکلیف میں تڑپ اٹھی ۔ راجہ طہماسب سخت پریشان تھے ۔ انکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ کیا ماجرا ہو گیا ۔
جزیرہ مکمل تاریکی میں ڈوب گیا ۔ آدھی رات کو جزیرے سے رونے کی آوازیں بلند ہوتی جو صبح اذان کے وقت ختم ہو جاتی ۔ جادو نگری اندھیر نگری میں بدل گئی ۔
راجہ نے اپنی ریاست کے بزرگ رہنماؤں کو بلایا اور تمام ماجرا سنایا ۔
بزرگوں نے مشورہ دیا کہ جزیرے کا کونہ کونہ چھان ماریں اور دیکھیں تیر کہاں ھے ۔
ریاست کی تمام فوج کو مصنوعی روشی میں پورے جزیرے کا معائنہ کرنے بھیجا گیا ۔ پورے سات دن اور سات راتوں بعد سپاہی ناکام واپس آ گئے ۔ تیر کا نام و نشان نظر نہیں آیا ۔
ہر طرف سے ناکامی کے بعد بزرگ رہنماؤں نے راجہ کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ یاد کریں کہ کہیں کوئی کوتاہی ہوئی ہو ۔ راجہ طہماسب کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آ رہی تھی ۔
چاند کی بڑھیا کے آنسو کا قطرہ جہانگیر کے دل پر ایسا گرا کہ وہ دل کے موزی مرض کا شکار ہو گئے ۔ رانی جو پہلے ہی کافی کمزور ہو چکی تھی ۔ ایک دن شدید پیٹ کے درد کی تکلیف جانبر نہ ہو سکی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی ۔
رانی کی وصیت کے مطابق رانی کو جادو نگری میں دفنا دیا گیا ۔
راجہ رانی کی جدائی کے صدمہ سے نڈھال ہو گئے ۔
شہزادے دن بدن جوان ہوتے گئے ۔ راجہ کی سخاوت اور محبت نے رعایا کا دل جیت رکھا تھا ۔ یہی وجہ تھی رعایا کی ہمدردیاں ابھی تک اپنے راجہ کے ساتھ تھیں ۔
راجہ طہماسب شہزادوں کے جوان ہونے کا بےصبری سے انتظار کر رہے تھے ۔تاکہ کسی ایک کو راجہ کا تاج پہنا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں ۔
آخر وہ وقت آن پہنچا ۔عالمگیر اور جہانگیر خوب رو جواں بن چکے تھے ۔ ایک دن راجہ نے دونوں کو اپنے کمرے میں بلایا اور اپنا فیصلہ سنایا ۔
میرے بہادر شہزادو ۔ ریاست کے قانون کی رو سے بڑے شہزادے کو راجہ بنایا جاتا ہے ۔ اور اگر دوسرا بھائی اعتراض کرے تو اسے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ ریاست عثمانیہ محبت کی بنیاد پر وجود میں آئی ۔ یہاں کا ہر باشندہ دوسرے سے محبت کرتا ھے ۔ راجہ اور رعایا میں کوئی فرق نہیں ۔ہاں اگر فرق ہے تو ذمہ داریوں کا ۔
بڑے ہونے کے ناطے جہانگیر کو ریاست کا راجہ بنایا جانا چاہئے تھا ۔ بیشک جہانگیر چند گھڑیاں پہلے دنیا میں آئے ۔ لیکن !!!
راجہ نے عالمگیر کی ناگواری کو بھانپ لیا اور بولے ۔ جہانگیر دل کے مریض ھیں ۔ جبکہ عالمگیر بائیں آنکھ کی بصارت سے محروم ہیں ۔ لہٰذا دونوں باہمی تعاون سے اس ریاست کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ھیں ۔ یاد رکھنا کہ اس ریاست کی بنیاد پیار اور محبت پر قائم ھے ۔ اس روایت کو اسی طرح قائم رکھنا ۔ ہم جلد ہی اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ھیں ۔ ریاست میں برسوں سے یہ ریت چلی آ رہی ہے کہ نئے راجہ کو عھدہ سنبھالنے سے پہلے شادی کرنا پڑتی ہے ۔ لہٰذا ہم آپ دونوں کی جلد از جلد شادی کر دینا چاہتے ہیں ۔
عالمگیر اور جہانگیر نے اپنے بابا کے فیصلے سے اتفاق کیا ۔
راجہ طہما سب دونوں کو فیصلہ سنانے کے بعد اس کھڑکی کے پاس آئے جو جادو نگری کی جانب کھلتی تھی ۔ راجہ طہماسب جادو نگری کی تاریکی اور یہاں سے انے والی بدبو سے دکھی ہو گئے ۔ جانے کیا گناہ ہوا کہ ہنستی بستی نگری اجڑ کر رہ گئی ۔ میری قدسیہ اسکی لپیٹ میں آ گئی ۔ راجہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کھڑکی کے پٹ ہمیشہ کیلئے بند کر دیے ۔
دونوں شہزادوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہونے کے بعد راجہ طہماسب نے ایک نئی ریت قائم کر دی ۔ اس مرتبہ تاج کسی کو نہیں پہنایا گیا ۔ ریاست کے آدھے حصے کی ذمہ داری راجہ جہانگیر اور ادھے حصے کی ذمہ داری راجہ عالمگیر پر لگا دی خود محل کے کمرے میں گوشہ نشیں ہو گئے ۔
راجہ عالمگیر بیحد ہوشیار تھے جبکہ راجہ جہاںگیر اپنے باپ کی طرح سادہ لوح اور محبت کرنے والے ۔
جادو نگری راجہ عالمگیر کے حصے میں شامل تھی اور وہ اس بات سے سخت خفا تھے کہ ناکارہ حصہ انکی طرف کیوں آیا ۔ عالمگیر کو راجہ طہماسب کی اس زیادتی پر شدید غم و غصہ تھا کسی مصلحت کے تحت خاموش رہنا مناسب سمجھا ۔ راجہ عالمگیر کی رانی بھی بہت چالاک تھی ۔ ہر وقت راجہ جہانگیر کے حصے کی ریاست کو ہڑپ کرنے کے منصوبے بناتی رہتی ۔ رعایا کو اپنے راجہ جہانگیر سے بےپناہ محبت تھی ۔ جبکہ راجہ عالمگیر کی رعایا اپنے راجہ سے منحرف ہونے لگی تھی ۔
وقت گزرا راجہ عالمگیر کے ہاں شہزادے نے جنم لیا ۔ رعایا میں وہ جوش نہیں تھا کہ خوشیاں منائی جاتی ۔ سرسری سی رسومات ادا کی گئی ۔
دوسری طرف راجہ جہانگیر کے ہاں بیٹی نے جنم لیا ۔ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی رانی کی موت ہو گئی ۔ راجہ جہانگیر کی ریاست اور خود راجہ گہرے صدمے سے دوچار ہو گئے ۔ راجہ عالمگیر نے موقع سے فائدہ اٹھایا راجہ جہانگیر کو پاگل قرار دیا اور ننھی شہزادی کو منحوس قرار دیکر جادو نگری میں پھینک دیا اور اس طرح پوری ریاست پر قبضہ کرلیا ۔
چاند پر بیٹھی ناراض بڑھیا یہ سب ماجرا دیکھتی رہی ۔
ننھی شہزادی اندھیر نگری میں بھوک کی شدت سے تڑپنے لگی۔ وہ جیسے جیسے دودھ کیلئے ٹرپتی اندھیر نگری میں بدبو اور اندھیرا بڑھتا جاتا ۔ چاند کی ناراض بڑھیا جو راجہ طہما سب سے بیحد خفا تھیں ۔ اسے ننھی شہزادی پر بہت رحم آیا اور اس نے جھک کر ننھی شہزادی کے انگوٹھے پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور پھر انگوٹھا اسکے منہ میں ڈال دیا ۔ ننھی شہزادی انگوٹھا چوسنے لگی ۔ انگوٹھا چوستے چوستے ننھی شہزادی مسکرائی ۔ ننھی شہزادی کی اک مسکراہٹ پر آسمان پر اک تارہ روشن ہوا ۔ چاند کی بڑھیا مسکرائی ۔ اندھیر نگری میں اک جگنو بھی چمکتا ہوا دکھائی دیا ۔
ننھی شہزادی کی بھوک انگوٹھے سے نکلنے والے دودھ سے پوری ہونے لگی ۔ شہزادی جیسے جیسے مسکراتی پہاڑوں پر اک قمقمہ روشن ہوتا دکھائی دیتا ۔
چاند کی بڑھیا شہزادی کو نور کہہ کر بلانے لگی ۔
شہزادی نور بیحد حسین تھی ۔ چاند کی بڑھیا ہر وقت اسے ھی دیکھتی رہتی ۔ نور کی پیاری مسکراہٹ سے بڑھیا کی ناراضی پیار میں بدلنے لگی ۔ جیسے جیسے نور مسکراتی روشنیاں بڑھنے لگتی ۔
اک سہانی شام پریوں کا گزر اس نگری سے ہوا ۔ انہوں نے نور کو دیکھا اور زمین پر اتر آئیں ۔ نور کے پاؤں میں مخملی جوتا پہنایا ۔ سرخ رشمی لباس پہنایا اور واپس اڑ گئیں ۔ پریوں نے معمول بنا لیا ۔ ہر روز نور کو نیا لباس پہناتی اور واپس چلی جاتی ۔ ہنسوں کے جوڑے کا گزر جادو نگری سے ہوا انہوں نے نور کے سر پر موتیوں کا تاج پہنا دیا ۔ درختوں پر پھر سے پھل لگنا شروع ہو گئے ۔ پرندوں کے گیت سنائی دینے لگے ۔ سب ملکر ننھی شہزادی کی دیکھ بھال کرنے لگے ۔ جادو نگری پھر سے ہری بھری ہوتی جا رہی تھی ۔یہاں تک کہ نور پورے پندرہ برس کی ہو گئی۔ ابھی تک اس نے اپنے علاوہ کوئی انسان نہیں دیکھا ۔
. راجہ طہماسب ایسے گوشہ نشین ہوے کہ وہ کسی سے نا ملتے تھے ۔ ایک روز خواب میں اپنی رانی قدسیہ سے ملاقات ہوئی ۔ رانی بیحد ناراض تھیں ۔
خواب میں رانی ،راجہ سے ہمکلام ہوئیں ۔
آپ نے میرے لحت جگر کو تنہا چھوڑ دیا ۔ وہ زندان میں قید ہے اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں سخت اذیت میں مںبتلا ہے ۔ اور اس سبکے ذمہ دار آپ ہیں ۔ اگر آپ نے بر وقت شگاف بند کروا دیا ہوتا ہم پر اتنی مصیبت کبھی نہیں آتی ۔ اور ایک خاص بات جسکا آپ کو علم نہیں ۔ اس میں آپ کے مشیر خاص کا ہاتھ ہے آپ اس کی خبر رکھیں ۔
راجہ طہماسب یکدم نیند سے بیدار ہو کر اٹھ بیٹھے اور سوچنے لگے کہ ایسا خواب کیونکر آیا ۔ اچانک یاد آیا اور خود سے مخاطب ہوے ۔یہی غلط ہوا مجھ سے ۔میں شگاف بند نہیں کروا سکا ۔ لیکن ایسا کیوں ہوا ۔ مشیر خاص نے تو بہت تعاون کیا تھا ۔
نخیف راجہ کمزوری کی وجہ سے آہستہ آہستہ کمرے سے باہر نکلے اور محل کے اندرونی حصے میں داخل ہونے ۔ راجہ عالمگیر اور رانی گانے کی محفل سجائے بیٹھے تھے ۔اچانک راجہ طہماسب کو دیکھ کر محفل میں سناٹا چھا گیا ۔ راجہ طہماسب کو دیکھ کر محفل تتر بتر ہوگئی ۔
راجہ طہماسب نے گرجدار آواز میں پوچھا راجہ جہانگیر کہاں ہیں ۔ انہیں جلد از جلد پیش کیا جائے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aatish Zar e Paa By Badar Saeed – Episode 15

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: