Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 4

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 4

-**–**–

شہزادی نور پورے پندرہ برس کی ہو چکی تھی ۔ جادو نگری ہی اس کا گھر تھا ۔ یہاں پیار ہی پیار تھا ۔ درخت ،پرندے ندی کا پانی سب نور سے باتیں کرتے رہتے ۔ نور کبھی ایک پرندے سے باتیں کرتی تو کبھی کسی جانور کی پیٹھ پر بیٹھ کر سواری کے مزے لوٹ رہی ہوتی ۔ کبھی ایک درخت کا پھل کھاتی تو کبھی ٹھنڈا میٹھا پانی پیتی ۔ رات کو دو پریاں زمین پر اترتی نور کو ٹھنڈی میٹھی پیار بھری لوری سناتی نور مزے سے تخت پر گہری نیند سوتی رہتی ۔ چاند کی بڑھیا بھی مسلسل دھیان رکھے ہوئے ہوتی ۔۔ نور اکثر چاند پر جانے کی ضد کرتی جسے بڑھیا بڑے پیار سے ٹالتی رہتی ۔
ایک سہانی صبح کوئل اپنے ساتھی کوئل کیلئے محبت بھرا گیت گا رہی تھی ۔اسکا گیت سنکر ہنسوں کا جوڑا بھی جھوم اٹھا ۔ گیت کی آواز سنکر ہرن اور ہرنی بھی پہنچ گئے ۔ وہ بھی اس گیت میں شامل ہو گئے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے نگری کے تمام جانور اور پرندے اس گیت کو ملکر گانے لگے ۔ سب جوڑوں کی شکل میں جھوم کر گیت گانے لگے ۔ نور بھی سبکے ساتھ جھومنے لگی اتنے میں ایک مورنی نے نور سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا !!
ہم سب اپنے اپنے ساتھ کیلئے گیت گا رہے ہیں اور تم کس کیلئے گا رہی ہو ۔
میں بھی اپنے تمام ساتھیوں کیلئے گیت گا رہی ہوں ۔ نور نے جواب میں کہا ۔
مورنی مسکرائی اور بولی ۔
پگلی نور ۔ہم سب آپ کے دوست ہیں ساتھی نہیں ۔
بی بطخی سن رہی تھی اس نے مسکرا کر نور کو سمجھایا ۔
نور جیسے ہرنی اپنے ساتھی ہرن کیلئے گاتی ہے ۔
جیسے مورنی ، اسکی تمام شوخیاں اپنے ساتھی مور کیلئے ہیں ۔
نور پریشان ہو گئی اور آسمان کیطرف دیکھ کر بولی ۔ نانی میرا ساتھی کون ہے اور کہاں ہے ۔ میں بھی اس کیلئے گیت گانا چاہتی ہوں ۔ چاند کی بڑھیا مسکرا اٹھی ۔ نور نے درختوں سے پوچھا جواب نا ملا ۔ نور بھاگتی ہوئی مینا کے پاس گئی ۔اور پوچھا اچھی مینا میرا ساتھی کہاں ہے ۔ ؟؟؟؟ مینا خاموش رہی ۔ نور بھاگتی بھاگتی پہاڑ پر چڑھ گئی وہاں جگنو سے پوچھنے لگی ۔ میرا ساتھی کون ہے اور کہاں ہے ۔ ؟؟؟
غرض کوئی بھی نور کو جواب نہیں دے پایا ۔نور اداس ہو گئی ۔ نور کی آنکھ سے آنسو کا پہلا قطرہ گرا ۔۔۔۔۔درخت کے پتے افسردہ ہو کر زمین پر گر گئے ۔
دوسرا آنسو کا قطرہ گرا ۔۔۔ پھلوں نے مرجھانا شروع کر دیا ۔
تیسرا قطرہ گرا ۔۔۔۔۔۔۔ جانور پرندے دکھ سے نڈھال ہو گئے ۔ نور نے آسمان کیطرف دیکھا چاند بدلیوں میں چھپ گیا ۔
نگری اداس ہو گئی ۔ ابھی سب محبت کا گیت گا رہے تھے اور ابھی نور کی اداسی نے نگری کو بھی اداس کر ڈالا ۔
اچانک ایک سفید پری زمین پر اتری اسکے ساتھ ایک پنک پری بھی تھی ۔ سفید پری نے نور کو گود میں بھر لیا پنک پری نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور وعدہ کیا کہ وہ نور کے ساتھی کو جلد از جلد ڈھونڈ نکالیں گی ۔ نور دونوں پریوں کی بات سنکر خوش ہو گئی اور مسکرا اٹھی ۔
نور کے مسکرانے سے اداس نگری کی رونق پھر بحال ہو گئی ۔ سب نے پھر سے گیت گانا شروع کر دیا ۔ پنک پری اور سفید پری نور کو لیکر اڑ نے لگئی ۔ نور نے خوش ہو کر گیت کو مکمل کیا ۔درختوں کے پتے پھر سے واپس آ گئے ۔ پھل پھول ہرے بھرے ہونے لگے ۔ پرندے اور جانور اپنے اپنے گھروں میں گھس گئے ۔ پنک پری نے پیاری سی لوری سنائی اور نور سفید پری کی گود میں سر رکھ کر سوچنے لگئی کہ جانے کیسا ہوگا میرا ساتھی کب آے گا ۔ یہی سوچتے سوچتے جانے کب آنکھ لگئی اور سو گئی ۔ سفید پری نے نور کو دعا دی اسے صبح کے اجالے کے سپرد کر کے اپنے دیس واپس چلی گئی ۔
اجالا پھیلتے ھی نور آنکھیں ملتی اٹھ بیٹھی ۔ موسم کی رنگینی اس کے دل کو بھانے لگی ۔ درختوں کی ٹہنیاں زمین پر بچھ گئیں ۔ نور نے سیر ہو کر پھل کھائے اور اپنے مخملی جوتے پہنے نگری کی سیر کو نکل پری ۔ چلتے چلتے بی بطخی بھی ساتھ ہو لی ۔ مورنی بھی اپنے پورے پر پھیلائے خراماں خراماں ساتھ چلنے لگئی ۔ ایک ایک کرتے تمام پرندے جانور نور کے ساتھ صبح کی سیر کو نکل پڑے ۔
اتنے میں شمال کی طرف سے اڑتا اڑتا کبوتر بھی ان پہنچا اور نور کو بتایا کہ پہاڑوں کے نیچے وسط میں ایک خوفناک شگاف ہے ۔ شائد وہاں سے کوئی ہماری نگری میں گھس آیا ۔ وہ زخموں سے گھائل ہے چلو سب اسکی مدد کرتے ہیں ۔
نور اپنا پورا ٹولہ لیکر شگاف کیطرف بڑھنے لگئی ۔ یہ سائیڈ بہت پیچھے کو تھی ۔ یہاں کوئی نہیں آیا کرتا تھا ۔ جانے کیسے سیر کرتے ہوئے کبوتر کی نظر پڑی اور اب سب پہلی مرتبہ اس جانب جا رہے تھے ۔ کسی کی مدد کرنے ۔ کوئی اجنبی اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا ۔اسکی کمر میں زخم آئے تھے ۔ کانچ کے ٹکڑے اسکے جسم کے اندر تک جا چکے تھے ۔ مینا نے دیکھتے ہی شور مچا دیا
آہا یہ تو نور کا ساتھی ہے ۔ بلبل بھی خوشی سے پھدکنے لگی ۔ مورنی ، بطخی ممنا سبھی ناچنے لگے ۔ نور بڑی غور سے اجنبی کو دیکھنے لگی اور سب سے مخاطب ہو کر بولی ۔ اپ سبکو کیسے معلوم ہوا ہے کہ یہی میرا ساتھی ہے ۔ کبوتر نے بتایا کہ یہ بھی تمہاری طرح کا انسان ہے ۔ نور یہ سنکر بہت خوش ہوئی کہ یہ انسان ہے ۔ مگر یہ باتیں کیوں نہیں کرتا ۔ اور یہ دیکھتا بھی نہیں ہل جل بھی نہیں سکتا کیا انسان ایسے ہوتے ہیں ۔
طوطے نے بتایا کہ یہ زخمی ہے ۔ او سب مل کر اسکی کمر سے کانچ نکلیں اسکا زخم ٹھیک کریں ۔
نور نے سب کے ساتھ ملکر اجنبی کے جسم سے کانچ نکالے ۔ ننھا ہاتھی اپنی سونڈ میں ندی کا پانی بھر لایا اور اجنبی پر پھنیکا ۔
طوطے نے پھل توڑے اور اسکے منہ میں ڈالے ۔ سبکی کوششوں سے اجنبی کو ہوش آ گیا ۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا ۔ پرندوں جانوروں نے خوشی سے جھومنا شروع کر دیا ۔ اجنبی سبکو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا ۔اتنے میں اسکی نظر نور پر پڑی جوتمام پرندوں جانوروں کے سنگ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے گھورے جا رہی تھی ۔ اجنبی کو محسوس ہوا جیسے وہ خطرے سے باہر ہے ۔ نور معصومیت سے پوچھنے لگی ۔
تم انسان ہو نا ۔
اجنبی نے بتایا کہ ہاں وہ انسان ہے ۔
اچھا تو تم میرے ساتھی ہو۔۔۔۔ ۔؟؟؟ نور نے پوچھا ۔
کیا مطلب تمہارا ۔!!! اجنبی نے حیران ہوکر پوچھا ۔
“”ساتھی “” جسکے لیے میں محبت بھرا گیت گاؤں گی ۔ جیسے مور ساتھی ہے مورنی کا ۔
جیسے طوطا ساتھی ہے مینا کا ۔
لیکن پہلے مجھے یقین دلاو کہ تم انسان ہو ۔ ایسا نا ہو کہ تم میرے ساتھی ھی نا ہو ۔
نور اجنبی کے قریب ہوئی اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔
تمہارے چہرے پر اتنے بال کیوں ہیں ۔ تم اتنے کالے کیوں ہو ۔
اجنبی نے جھٹکے سے نور کو پیچھے کیا۔ نور دھڑام سے زمین پر گر گئی ۔ اور بولا بےشرم لڑکی تمہیں شرم نہیں آتی کسی لڑکے کے اتنے قریب اتے ہوے ۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 29

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: