Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 5

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 5

–**–**–

اجنبی نے جھٹکے سے نور کو پیچھے کیا۔ نور دھڑام سے زمین پر گر گئی ۔ اور بولا بےشرم لڑکی تمہیں شرم نہیں آتی کسی لڑکے کے اتنے قریب اتے ہوے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نور روہانسی ہو کر اٹھی اور بولی ۔ تم لڑکے ہو ۔ میں سمجھی انسان ہو ۔
میں انسان نہیں تو اور کیا ہوں ۔ اجنبی نے غصے میں کہا ۔
ابھی تو کہہ رہے تھے کہ لڑکا ہوں ۔ نور نے معصومیت سے جواب دیا ۔
تم پاگل تو نہیں ۔ اجنبی نے چیختے ہوۓ کہا ۔
نہیں تو !!! ۔ میں تو نور ہوں . مجھے تو کبوتر نے بتایا تھا میرا ساتھی آیا ہے اس نگری میں ۔ اسی لئے تمہیں ملنے آئی تھی ۔ مگر تم لڑکے ہو ۔ میرے ساتھی نہیں ۔ نور کی انکھوں میں آنسو آ گئے ۔
نور کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اجنبی شرمندہ ہو گیا ۔ بولا ۔ تم نے میری مدد کی اس کیلئے شکریہ ۔ میں شائد زخمی تھا ۔
نور جواب دیئے بغیر واپس جانے کو مڑی ۔اجنبی نے آواز دی ۔
سنو !! میں یہاں نیا ہوں مجھے یہاں کے راجہ سے ملنا ہے کیا میری مدد کروگی ۔
کون راجہ ۔ میں کسی راجہ کو نہیں جانتی ۔ نور نے کہا ۔
تمہارے امی ابو تو جانتے ہونگے۔
امی ابو کیا ہوتا ہے ۔۔؟؟؟؟ نور نے انتہائی معصومیت سے جواب دیا ۔
اف جنکے ساتھ تم رہتی ہو ۔ اجنبی نے کہا ۔
میں تو اپنے دوستوں کے ساتھ رہتی ہوں ۔ نانی سے پوچھ لو ۔ نور نے چاند کی بڑھیا کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
اور رات کو سفید پری کی گود میں سوتی ہوں ۔ پنک پری کی لوری سنتی ہوں ۔
اجنبی کو حیرت ہوئی ۔ بولا ۔
مجھے اپنے گھر لے جا سکتی ہو ۔
یہ نگری پوری میرا گھر ھی تو ہے ۔ نور نے جواب دیا ۔
یہاں میں اور میرے دوست رہتے ہیں ۔
اجنبی نور کی باتیں سنکر سوچ میں گم ہو گیا ۔
نور افسردہ ہو کر اپنے دوستوں کے ساتھ واپس چلی گئی ۔ اجنبی دور تک نور اور اسکے دوستوں ، پرندوں جانوروں کو دیکھتا رہا ۔
کیسی عجیب لڑکی تھی ۔ یہ سوچ کر اجنبی نگری میں گھومنے لگا ۔ وہ راجہ سے کیوں ملنا چاہتا ہے یہ وہ بھول چکا تھا ۔ کہاں سے آیا اور کیوں ۔ کیسے زخمی ہوا یہ بھی بھول گیا ۔ گھومتے ہوئے شام ہو گئی ۔
یہاں کی شام بہت سہانی تھی ۔ تمام پرندے اور معصوم جانور خوشی سے جھوم رہے تھے ۔ سبھی شام کے حسن سے سرشار دکھائی دے رہے تھے ۔اسی عالم میں پرندے اور جانور محبت بھرا گیت گانے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرندے جانور اپنی اپنی جوڑی بنائے ایک دوسرے قریب انے لگے ۔ نور اکیلی ھی گیت گا رہی تھی وہ کبھی درخت کی ٹہنی سے لپکتی کبھی ندی میں کھڑی کشتی پر سوار ہو جاتی ہوا کی لہروں کے ساتھ جھومتی ۔آخر میں سب پرندے ،جانور اکیلی نور کے گرد جمع ہو جاتے اور اس کے لئے دعا کرتے کہ اللہ‎ جلد تمہیں اپنا ساتھی دے ۔ نور اداس ہو جاتی پرندے جانور اسے ہنسانے لگ جاتے ۔ اجنبی کو نور کے اکیلے پن پر ترس ا گیا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے شام کا حسین وقت ختم ہوا رات کی سیاھی پھیلنے لگی ۔ سب طرف خاموشی چھا گئی ۔ صرف تیز پانی کے بہنے کا شور سنائی دینے لگا ۔ رات تو شام سے بھی زیادہ حسین تھی ۔
اب تمام نگری روشنیوں قمقموں سے جگمگا اٹھی ۔ ہر سو ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی ۔ پورا چاند پہاڑوں کے وسط میں کھڑا بہت خوب دکھائی دے رہا تھا . اجنبی نے ایک عجیب منظر دیکھا ۔ نگری میں نور کے علاوہ کوئی بھی انسان نہیں تھا ۔ اسے نور کی معصومیت کا اندازہ ہونے لگا ۔ وہ جان گیا کہ نور آج تک کسی انسان سے نہیں ملی ۔ من ھی من میں
مسکرا یا اور سوچا یہی وجہ تھی کہ وہ مجھے اپنا ساتھی سمجھنے لگی ۔
اتنے میں ایک اور عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا . بیشمار پریاں زمین پر اتری نور کے ساتھ کھیلنے لگیں تھوڑا وقت گزارا اور اڑ گئیں ۔صرف دو پریاں زمین پر رہ گئی ۔ اجنبی نے درخت کی اوٹ سے دیکھا سفید پری نے نور کو اپنی گود میں بھر لیا خوب پیار کرنے لگی ۔ جبکہ پنک پری اسے خوبصورت لوری سنا رہی ہے لوری کی آواز اتنی اونچی اور سریلی تھی کہ پوری نگری میں جادو کا سا ماحول بننے لگا ۔ پنک پری بار بار اسکی پیشانی پر بوسہ دیئے جا رہی تھی ۔ اجنبی نے غور سے دیکھا مزید حیران رہ گیا ۔اسے اپنے آنے کا مقصد یاد آ گیا ۔ سفید پری تو رانی قدسیہ تھی ۔ راجہ طہماسب کی محبت ۔مگر یہ پری کے روپ میں کیوں ہیں ۔ اجنبی نے چاہا باہر نکل آئے ۔ابھی وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے دیکھا نور مکمل طور پر سو چکی تھی ۔ پنک پری نے نور کو تخت پر ڈالا اور دونوں اڑ گئیں ۔ چاند کی بڑھیا ایک خوشنما پنکھی سے سوئی ہوئی نور کو پنکھا جھلنے لگی ۔ دیکھتے ھی دیکھتے نور کا تخت اجنبی کی آنکھوں سے اؤجھل ہو گیا ۔
اجنبی کو یاد آ گیا ۔ آہا ۔ یہی ہے وہ جادو نگری ۔جسکو بنانے میں ایک ہنر مند نے بہت بڑی سازش کی تھی ۔ یہی تو بتلانے میں خود آیا تاکہ راجہ طہماسب کو یقین آ جائے ۔ کیونکہ راجہ میری بات کو کبھی نہیں ٹال سکیں گے ۔ آخر میں ملک فارس کا شہزادہ ہوں ۔ انکے عزیز ترین دوست کا بیٹا ۔
لیکن نگری میں داخل ہوتے ہی مجھے ایسا کیا ہوا کہ میں اتنا زخمی ہو گیا ۔ راجہ تک پہنچنے کا کون سا راستہ اختیار کیا جائے ۔ نگری تو تمام اطراف سے مکمل طور پر بند ہے ۔ اجنبی کو یکایک شگاف یاد آ گیا ۔ ہاں یہی تو بتانے آیا تھا کہ شگاف کس نے اور کیوں جان بوجھ کر چھوڑ دیا ۔
رات کافی بیت چکی تھی ۔ اجنبی نے سوچا کچھ دیر آرام کرے گا اور صبح اس شگاف کو ڈھونڈ کر باہر نکلے گا تاکہ راجہ طہماسب تک پہنچا جائے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: