Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 6

0

جادو کی نگری از جیا مغل – قسط نمبر 6

–**–**–

صبح کا اجالا پھیلتے ھی اجنبی نیند سے بیدار ہوا ۔ اس نے محسوس کیا صبح کا اجالا بھی شام اور رات کی طرح حسین تھا ۔
اجنبی نے چاروں جانب نظر دوڑائی شائد کہیں شگاف دکھائی دے ۔ وہ جلد از جلد راجہ طہما سب تک پہنچنا چاہتا تھا ۔ اجنبی نے ایک سرے سے چلنا شروع کر دیا ۔ شگاف کہیں بھی نظر نہیں آیا ۔ کس سے پوچھا جائے یہاں تو نور کے علاوہ اور کوئی ہے ھی نہیں ۔ اجنبی نے سوچا نور سے ھی مدد لی جائے ۔ اسے معلوم ہو گا شگاف کا ۔
اجنبی نے نور کو ڈھونڈنا شروع کر دیا ۔ نور اپنے دوستوں کے ہمراہ سیر کرتی ہوئی نظر آئی ۔
سنو ۔۔مجھے باھر جانے کا راستہ بتا سکتی ہو ۔
اجنبی نے پوچھا !!!
کہاں باہر ۔ نور نے جواب دیا ۔
اس نگری سے باہر جانے کا راستہ ۔ کیوں کہ مجھے راجہ طہماسب سے ملنا ہے ویسے تم یہاں کب اور کیسے آئی ۔
میں تو شروع سے ھی یہاں رہتی ہوں ۔ نور نے کہا ۔
یعنی تمہیں معلوم ھی نہیں کہ تم یہاں کیسے آئی ۔ اجنبی نے کہا ۔
تمہیں بھی تو نہیں پتا تم یہاں کیسے آئے ۔
میں بتاؤں یہ یہاں کیسے آیا ۔ طوطے نے جھٹ سے کہا ۔
کیوں کہ ہم سب نے دعا کی تھی کہ نور کا ساتھی ہو ۔
اجنبی مسکرا اٹھا ۔
لیکن اب میں اسے اپنا ساتھی نہیں مانتی ۔ نور نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ۔
کیوں . !!!!! . . . ؟؟؟؟؟؟
اجنبی نے حیرت سے پوچھا ۔
کیوں کہ مجھے انسان پسند نہیں ۔ وہ تکلیف دیتے ہیں ۔ مجھے کبھی درد کا احساس نہیں ہوا تھا ۔ تم نے مجھے گرایا اور مجھے درد ہوا ۔
ویسے لڑکے ایک بات بتاؤ ۔
انسان زیادہ برا ہوتا ہے یا لڑکا ۔ نور نے معصومیت سے پوچھا ۔
اوہ !!! میں معذرت چاہتا ہوں ۔نور ۔
مجھے حقیقت معلوم نہیں تھی ۔ مگر اب کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے ۔ تم یہاں ماں باپ کے بغیر رہ رہی ہو ۔تمہارے علاوہ یہاں اور کوئی انسان نہیں ۔
تو کیا میں بھی انسان ہوں ۔ ؟؟؟ نور نے پوچھا ۔
ہاں تم بھی میری طرح انسان ہو ۔ اجنبی نے بتایا ۔
لیکن تمھارے چہرے پر اتنے خوفناک بال ہیں ۔ تمھارے سر پر بھی لمبے بال نہیں ۔ تم اتنے لمبے چوڑے ہو ۔ نہیں میں شائد انسان نہیں ہوں ۔ میں تم سے مختلف ہوں ۔
ہاں تم مختلف ہو کیوں کہ تم لڑکی ہو ۔
نور نے حیران ہوکر پوچھا ۔ اوہ . یعنی میں بھی انسان ہوں اور لڑکی بھی ہوں اور نور بھی ہوں اور پاگل بھی ہوں ۔ مجھے تو پتا ھی نہیں تھا ۔
ہاہاہا ۔نہیں تم انسان ہو اور لڑکی ہو ۔ پاگل تو میں نے تمہیں غصے میں کہا تھا اجنبی نے کہا ۔
لیکن تمہیں کس نے بتایا کہ میں لڑکی ہوں ۔
مجھے خود معلوم ہو گیا ۔ کیوں کہ تم بہت خوبصورت ہو لمبے بالوں والی گڑیا ہو ۔ اور لڑکیاں اتنی ھی پیاری ہوتی ہیں ۔ اجنبی نے اسے سمجھایا
اگر میں اتنی پیاری ہوں تو پھر تم میرے ساتھی کیوں نہیں بنے ۔ میں تمہارے ساتھ محبت کا گیت گاتی جیسے سب جانور اور پرندے گاتے ہیں ۔
نور ۔۔انسانوں اور پرندوں جانوروں کے گیت میں فرق ہوتا ہے ۔ انسان محبت کا گیت دوسرے طریقے سے گاتے ہیں ۔ لیکن خیر یہ بہت بعد کی بات ہے تم ابھی نہیں سمجھو گی ۔
مجھے تم سکھاؤ گے انسانوں والا گیت ۔
ہاں کیوں نہیں ۔ لیکن ابھی مجھے یہاں سے نکلنا ہوگا ۔ میں یہاں کسی مقصد سے آیا تھا ۔
بس مجھے یہاں سے نکلنے والا شگاف نظر آ جائے ۔
کبوتر اجنبی کی بات سنکر نیچے آیا اور اجنبی سے کہنے لگا ۔ میں جانتا ہوں اس شگاف کو ۔ اور راجہ طہماسب کو بھی ۔
اجنبی کبوتر کی بات سنکر بیحد خوش ہوا اور بولا ۔ کیا مجھے تم ابھی راجہ تک پہنچا سکتے ہو ۔
ہاں کیوں نہیں ۔ لیکن ابھی نہیں ۔ ابھی میری کبوتری میرا انتظار کر رہی ہوگی ۔
تو کیا تم چلے جاؤ گے ۔ میرے ساتھی نہیں بنو گے ۔ نور نے اداس ہو کر پوچھا ۔
میں بہت جلد واپس ا جاؤں گا نور ۔ تمہارے والدین کو بھی ساتھ لاؤں گا ۔
لیکن میں کیا کروں گی والدین کو ۔۔۔؟؟؟؟
اوہ پاگل لڑکی ۔ تم والدین کے متعلق کیا جانو ۔ اجنبی نے کہا ۔
اب پھر مجھے غصے سے پاگل کہا ۔
ہاہاہا ۔ اجنبی نے نور کے چہرے پر تھپتپایا ۔
تمام پرندے جانور پھر سے محبت کا گیت گانے لگے ۔ اس مرتبہ اجنبی بھی گیت میں شامل تھا ۔ نور بھی خوشی سے اجنبی کے گرد گھومنے لگتی ۔ مورنی پر پھیلائے اپنے ساتھی کے ساتھ جھوم رہی تھی ۔ نگری میں سبھی جھوم رہے تھے ۔ نور جھومتے جھومتے اجنبی کے بالکل قریب آ گئی ۔ اسکا ہاتھ تھاما اور اسکے چہرے پر پہلا محبت کا بوسہ دیا ۔ اجنبی نور کے اس خوبصورت انداز میں جھوم اٹھا ۔اس نے گیت میں پیار کا رنگ بھر دیا ۔ اجنبی نے نور کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور لہرانے لگا ۔ نور کو آج سے پہلے محبت کا گیت اتنا اچھا نہیں لگا ۔ وہ اجنبی کی شانے پر سر ٹکائے گم سم نجانے کن سوچوں میں گم ہو گئی ۔
گیت کے ختم ہوتے ہی کبوتر اجنبی کے پاس آیا اور کہا ۔ او میں تمہیں باہر جانے والا راستہ دکھاؤں ۔ اور راجہ طہماسب کا محل یہاں سے دور نہیں ۔ تم آسانی سے وہاں تک پہنچ جاؤ گے ۔ لیکن ایک بات کا خاص خیال رکھنا ۔ راجہ عالمگیر کی رانی سے بچ کر رہنا وہ کالی پری کی سہیلی ہے ۔ اس سے ہرگز نور اور اس نگری کا ذکر مت کرنا ۔ راجہ جہانگیر بھی انکے قبضے میں ہے ۔
اجنبی نے یقین دلایا کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھے گا ۔ اجنبی کبوتر کے ساتھ چلنے لگا کہ نور نے کہا۔
لڑکے انسان ۔ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ میں تم سے آلتجا کرتی ہوں ۔ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔
اجنبی نے پلٹ کر نور کو دیکھا ۔ اسکا ہاتھ تھاما ۔ اسکے ہاتھوں پر بوسہ دیا ور کہا ۔
نور ۔میرا نام سلیمان ہے ۔ میں ملک فارس کا شہزادہ ہوں ۔ راجہ طہماسب اس وقت مصیبت میں ہیں انہیں میری مدد کی ضرورت ہے ۔ میں بہت جلد واپس آؤنگا ور تمہارے ساتھ اس نگری میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہنے لگوں گا ۔ پھر تمہیں اپنی محبت کا گیت سناؤں گا اور سکھاوں گا ۔ کیوں کہ مجھے معلوم ہو چکا تم کون ہو ور یہاں کیسے آئی ۔
بولو میرا انتظار کرو گی نا ۔
نور نے نم انکھوں سے سر ہلایا اور سلیمان کے سینے سے لگ گئی ۔
میں انتظار کرونگی ۔ جلد واپس آنا ۔
نور دور تک سلیمان کو جاتا دیکھتی رہی اور اداس ہو گئی ۔
چاند کی بڑھیا نے نور دلاسہ دیا اور لمبا رسہ نیچے پھینکا ۔ آج نور کا جھولا جھولنے کا بھی جی نہیں چاہ رہا تھا ۔
محل کا منظر عجیب و غریب ہوا جا رہا تھا ۔ راجہ طہماسب کے حکم کو نا صرف رد کردیا گیا ۔ بلکہ انہیں بھی راجہ جہانگیر کے ساتھ زندان میں ڈال دیا گیا تھا ۔ راجہ عالمگیر کی رانی پوری ریاست پر قابض ہو چکی تھی ۔ رانی کا بیٹا شہزادہ ثقلین انتہائی عیاش اور جھگڑالو تھا ۔ عوام راجہ سے بیحد متنفر تھی ۔ ریاست کی خوبصورت لڑکیاں گھروں میں چھپی ہوئی رہتی ۔ پہلے پہل سال کے آخری دن ایسا میلہ لگتا تھا کہ لڑکے لڑکیوں کی شادی کروا دی جاتی تھی جس کے تمام اخراجات راجہ طہماسب کے ذمہ ہوتے تھے ۔ موجودہ صورتحال میں خوبصورت لڑکیاں ثقلین کے محل میں کنیزیں بنکر رہ جاتی تھی ۔
امیر رعایا اپنے سرمائے چھپا کر رکھتے کیوں کہ ثقلین کے ساتھی انہیں لوٹ لیا کرتے ۔ کام کاج ٹھپ ہو چکا تھا ۔ ریاست دن بدن خسارے میں جا رہی تھی ۔ ہنر مندوں کی کمی ہوتی جا رہی تھی ۔ ہنر مند اس ریاست کو چھوڑ کر جانے میں دلچسبی رکھتے تھے ۔
شہزادہ سلیمان ریاست پہنچتے ہی تمام حالات سے واقف ہو چکے تھے ۔ اب انہیں زندان تک پہنچنا تھا ۔ شہزادہ نے کسی کو کان و کان خبر نا ہونے دی کہ وہ ملک فارس کے شہزادے ہیں ۔ کبوتر مسلسل شہزادے کے ساتھ ساتھ رہا ۔
یہ وہی کبوتر تھا جو رانی قدسیہ تک راجہ طہماسب کے خط پہنچاتا تھا ۔ کبوتر ہر حال میں اپنے راجہ کو رہا کروآنا چاہتا تھا ۔ نگری کے تمام جانور اور پرندے بھی راجہ کے دیدار کو تڑپ رہے تھے ۔
شہزادہ سلیمان نے راجہ عالمگیر کو پیغام بھجوایا کہ وہ اپ سے ملنا چاہتے ہیں انکے پاس نگری کا کوئی راز ھے ۔
راجہ عالمگیر کئی مرتبہ نگری میں جھانک چکے تھے ۔انہیں آج بھی نگری میں اندھیرا اور بد بو آتی ۔ ریاست کا یہ حصہ آج بھی دونوں(عالمگیر اور انکی رانی )کو کھٹکتا ۔ جب سے کالی پری نے نگری پر پھونک ماری نگری برباد ہو گئی تھی ۔ دنیا والے آج بھی اسے ہرا بھرا دیکھنے سے قاصر تھے ۔
رانی نے سنتے ہی فورا سلیمان سے ملنے کی خواہش کر ڈالی ۔
رانی نے سلیمان سے ملتے ہی بےصبری سے پوچھا ۔ بتاؤ کیا راز ھے تمہارے پاس نگری کا ۔ کیا تم نگری کو واپس اسی حالت میں لا سکتے ہو ۔ میں چاہتی ہوں میں بھی اس نگری کی سیر کو جاؤں اس تخت پر بیٹھوں ۔اس نگری کے پھل کھاؤں ۔ میں نے سنا ھے نگری کے پھاڑ سونے کے ہیں اور ان پر چمکتے قمقمے نیلم اور زمرد ہیں ۔
تم مجھے نگری آباد کا طریقہ بتاؤ میں تمہیں مالا مال کر دونگی ۔
شہزادہ مسکرایا اور بڑے رازدارانہ انداز میں بولا ۔ اسکے لئے مجھے دودن کا چلا کاٹنا پڑیگا ۔ چلا بیحد سخت ھے ۔ اسکے لئے مجھے راجہ طہماسب اور چھوٹے راجہ جہانگیر کے خون کی ضرورت پڑ ے گی ۔
ہاں ہاں تم اسکی فکر مت کرو ۔ دونوں کو تمہارے حوالے کر دیا جائے گا ۔ رانی نے خوش ہوکر کہا ۔ راجہ عالمگیر کی آنکھ میں بھی چمک نظر آئی ۔ شہزادہ سلیمان عالمگیر کی لالچی طبیعت کو دیکھ کر بھت دکھی ہو گیا ۔ کیسے نگری حاصل کرنے کیلئے باپ اور بھائی کا خون تک دینے کو تیار ھے ۔
مجھے محل کا وہ کمرہ دکھایا جائے جہاں سے دروازہ نگری کی جانب کھلتا ھے ۔ اسی کمرے میں، میں دو دن کا چلہ کاٹوں گا ۔ راجہ طہماسب اور جہانگیر کے خون کے قطرے وقفے وقفے سے نگری میں پھینکوں گا ۔ لیکن شرط یہ ھے کہ چلہ کاٹتے ہوئے کوئی کمرے میں نہیں آے گا ۔
چلاک رانی کچھ دیر سوچنے لگی پھر بولی ۔ اگر تم نے دھوکہ دیا تو تمہیں بھی زندان میں پھینک دیا جائے گا ۔ اور مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو ۔
شہزادہ سلیمان نے جھوٹ بول کر رانی کو مطمئن کیا کہ وہ کالی پری جسکی اپ دوست تھی ۔ اسی پری کا میں شاگرد ہوں ۔ مجھے کالی پری نے آپ کی مدد کو بھیجا ۔ رانی بیحد خوش ہوئی کہ اسے کالی پری نے ھی بھیجا ہوگا ۔
راجہ طہماسب اور راجہ جہانگیر کو زندان سے نکال کر محل کے کمرے میں پہنچا دیا گیا ۔ سلیمان کی درخواست پر تیز خنجر بھی مہیا کیے گئے ۔ کبوتر ہوا میں ھی تمام کارروائی دیکھتا رہا ۔
شہزادہ سلیمان نے راجہ طہماسب اور جہانگیر کے انے کے فورا بعد کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔ دونوں بیحد گھبرائے ہوئے تھے ۔ راجہ طہماسب آج بھی وہی حسن سیرت رکھتے تھے ۔ انہوں نے روتے ہوئے درخواست کی کہ میرا خون حاضر ھے لیکن میرے بیٹے جہانگیر کو چھوڑ دو ۔ میرے بیٹے نے بہت دکھ دیکھے زندگی میں ۔
راجہ یہ کہہ کر زارو قطار رونے لگے ۔ جہانگیر نے اگے بڑھ کر راجہ کو تسلی دی اور کہا ۔ بابا جان اپ میری فکر مت کریں ۔ مجھے اپنے رب پر بڑا بھروسہ ھے وہ کبھی بھی ہمارے ساتھ برا نہیں کرے گا ۔ اپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ زندان میں ایک قابل استاد جنہیں عالمگیر نے قید کر رکھا تھا ۔ انہوں نے مجھے قران کریم کی نا صرف تعلیم سکھائی بلکہ حفظ بھی کرا دیا ۔ یہ شائد میں باہر رہ کر نا سیکھ پاتا ۔ اب بھی معاملہ میرے اللہ‎ کے حوالے وہی ہماری مدد کرنے والا ھے ۔ جہانگیر کے اس بیان پر شہزادہ سلیمان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ اور بولے ۔ بیشک آپ کی مدد کیلئے ھی اللہ‎ نے مجھے آج سے بیس برس پہلے بھیج دیا تھا ۔
شہزادہ سلیمان راجہ طہماسب کے پاس بیٹھ گئے اور بولے ۔ راجہ صاحب میرے چہرے کو غور سے دیکھیں کیا اس چہرے میں آپ کو کوئی نظر نہیں آ رہا ۔ کوئی ایسا جو اپکا بہت اپنا ہو ۔
راجہ طہماسب نے غور سے دیکھا اور بولے ۔ تم میرے دوست بادشاہ حیدر کے ۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی اور سلیمان کو سینے سے لگا لیا ۔ شہزادہ سلیمان جہانگیر سے بھی ملے ۔
میرے یار نے آج سے پہلے اتنی دیر نہیں لگائی میری مدد کو ۔ پھر اس مرتبہ ایسا کیا ہوا جو تم اتنی دیر سے پہنچے ۔ راجہ طہماسب نے پوچھا ۔
راجہ صاحب میں آج سے بیس برس پہلے آپ کی مدد کو نکل آیا تھا ۔ آپ کو نگری کے شگاف کی حقیقت بتانے ۔ میں نے جیسے ہی نگری میں قدم رکھا ۔ عین اسی وقت اپ رانی قدسیہ کے ہمراہ نگری میں شکار کی نیت سے آئے ۔ اپکا تیر بجائے پہاڑ پر لگنے کے سیدھا مجھے لگا جوکہ کالی پری کی سازش تھی ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ میں آپ کو شگاف کا راز بتلاؤں ۔ شگاف دراصل جان بوجھ کر رکھا گیا تھا ۔ آپ کے ایک ہنر مند نے آپ کے ساتھ سازش کی تھی ۔ اسی ہنر مند کی بیٹی راجہ عالمگیر کی بیوی ھے ۔ کالی پری اسکی سہیلی تھی ۔ شگاف سے ھی آپ کے ہنر مند نے اس نگری پر قبضہ کر لینا تھا ۔ چاند کی بڑھیا کو میری ہلاکت پر بہت غم ہوا ۔ انہیں اپ پر بہت غصہ تھا کہ اپ جیسے انسان نے شگاف کو بھرنے میں اتنی کوتاہی کیوں برتی ۔ میں لمبے عرصے سے بیہوش رہا ۔ اگر نور میرے اندر سے تیر اور کانچ کی جادوئی کرچیاں نا نکالتی تو میں آج بھی بیہوش رہتا ۔
راجہ طہماسب نے حیران ہوکر پوچھا ۔ نگری میں نور ۔۔۔
وہ کون ھے ۔
شہزادے نے مسکرا کر جہانگیر کیطرف دیکھا اور کہا ۔
نور ۔۔راجہ جہانگیر کی بیٹی ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: