Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Last Episode 7

0

جادو کی نگری از جیا مغل – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

راجہ جھانگیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ میری بیٹی کو تو عالمگیر نے منحوس قرار دے کر اندھیر نگری میں پھینک دیا تھا ۔ وہ زندہ کیسے رہ سکتی ھے ۔
وہ زندہ ھی ھے اپ میرا یقین کیجئے ۔ اور اس کی پرورش خود اسکی دادی ، رانی قدسیہ اور اسکی اپنی چھوٹی رانی ماں نے کی ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے ۔ راجہ طہماسب بھی یہ سنکر سکتے میں آ گئے ۔
لیکن نگری تو ڈوب چکی تھی ۔ وہاں سے بدبو آتی ہے اندھیرا چھا گیا تھا ۔ راجہ طہماسب نے بیقراری سے بتایا ۔
ایسا ھی ھے ۔ چاند کی بڑھیا ہر روز رات کو نگری پر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں تاکہ نگری دنیا والوں کی نظروں سے بچی رہے وہ یہی سمجھیں کہ نگری برباد ہو چکی ہے ۔ اور شہزادی نور آسانی سے زندگی گزار سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ رانی قدسیہ اور چھوٹی رانی شہزادی نور کو آرام سے پال رہی ہیں ۔
اب اگے کیا ہوگا کہ میں نور کو دیکھ سکوں ۔اپنی ماں رانی قدسیہ اور اپنی بیوی چھوٹی رانی کو بھی مل سکوں ۔ جہانگیر نے بیتابی سے پوچھا ۔ اسکے آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کرنے لگے ۔
ہمیں جلد از جلد عالمگیر کی بیوی کو قید میں رکھنا پڑے گا ۔ کیوں کہ وہ ہر ماہ ایک کنواری لڑکی کی بلی چڑھاتی ھے راجہ عالمگیر کے دماغ کو سلا دیتی ہے ۔ پوری ریاست اس کے قبضے میں ھے ۔ اپ لوگوں کو شائد یاد ہو راجہ عالمگیر کی ایک آنکھ کالے کوے کی وجہ سے ضایع ہوئی تھی ۔ دراصل وہ دونوں شہزادوں میں اپنی چونچ سے زخمی کر کے انکے اندر اپنی شیطانی جراثیم بھر دینا چاہتا تھا ۔ راجہ عالمگیر کا بیٹا ثقلین اور اسکی ماں مکمل شیطان ہیں ۔ انکی طاقت ختم کرنے کے بعد انہیں زندان میں ڈال دیا جائے۔ اسطرح ریاست انکے چنگل سے بچ جانے گی ۔ جب ریاست آزاد ہوگی تو نگری بھی آباد ہو جائے گی ۔ اور شگاف بھی خود بخود ختم ہو جائے گا ۔
لیکن ہم کیسے انکا مقابلہ کریں گے ۔ کیوں کہ ثقلین اور رانی بہت طاقت ور ہیں ۔ جہانگیر نے بے چینی سے پوچھا ۔
شہزادہ سلیمان نے ہنس کر کہا ۔ پوری ریاست اب بھی راجہ طہماسب کے گیت گاتی ھے ۔ ہم جیسے ہی جنگ کا آغاز کریں گے سب ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے ۔
ہمارے ساتھ نگری کے تمام جانور اور پرندے بھی شامل ہیں ۔ دیکھنے میں وہ بہت معصوم ہیں ۔ لیکن انکا پھنیکا ہوا ایک کنکر بھی تباہی کیلئے کافی ھے ۔
بس اپ محل سے نگری کا دروازہ کھول دیں ۔ ایسا صرف راجہ طہماسب ھی کر سکتے ہیں ۔
کیونکہ ان کا بند کیا ہوا دروازہ کوئی نہیں کھول سکتا تھا ۔
راجہ طہماسب جھٹ سے محل کی اس جانب بڑھے جہاں دروازہ تھا ۔ انہوں نے جیسے ہی دروازے پر ہاتھ لگایا دروازہ خود بخود کھل گیا ۔ دروازہ کھلتے ھی تمام پرندے چہچہانے لگ گئے ۔ درخت اپنے محبوب راجہ کو دیکھر جھومنے لگ گئے ۔ پھولوں کی پتیاں اڑ اڑ کر راجہ کا استقبال کرنے لگیں ۔ جانور خوشی سے منہ سے آوازیں نکالنے لگے ۔ ہنسوں کا جوڑا محبوب راجہ کو دیکھ کر گیت گانے لگا ۔ خوبصورت بلبل ہمیشہ کی طرح راجہ کے شانے پر آ بیٹھی ۔ راجہ نے پیار سے اسے اپنی ہتھیلی میں بٹھایا ۔ بلبل نے سرگوشی کی کہ آج بھی اس دونیا کی خوبصورت جوڑی آپ کی اور رانی قدسیہ کی ھے ۔
نور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سیر کر رہی تھی ۔
ابھی نور اپنے دادا راجہ طہماسب اور اپنے بابا جہانگیر سے مل ھی نہیں پائی کہ ثقلین جو سلیمان کی تمام باتیں سن رہا تھا ۔ انکے نگری میں اتے ھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نگری میں گھس آیا ۔ سب سے پہلے اس نے نور کو قبضے میں لیا ۔ نور درد کی شدت سے چیخ اٹھی ۔ نور کی چیخ پوری نگری میں گونج اٹھی ۔ راجہ طہماسب جہانگیر اور سلیمان سمیت تمام جانور پرندے ثقلین کے گرد جمع ہو گئے ۔ ثقلین نے ایک تیز دھار خنجر نور کی گردن پر رکھا اور سبکو پیچھے ہٹ جانے کو کہا ۔ ثقلین نے نور کو کھینچ کر اپنے ساتھ گھوڑے پر بیٹھا لیا ۔ نور خنجر کی نوک کی تکلیف سے رونے لگی ۔ ثقلین نے کہا مجھے جانے دو تمام نگری تمہاری ۔ میں یہاں سے صرف نور کو لیجانا چاہتا ہوں ۔
شہزادہ سلیمان اپنی بےبسی پر تلملا اٹھا ۔ راجہ طہماسب اور جہانگیر اس کرب سے تڑپ اٹھے ۔ سب نے ثقلین کا راستہ چھوڑ دیا ۔ چاند کی بڑھیا غضبناک حالت میں آ گئی ۔ کبوتر پھڑ پھرانے لگے ۔ اچانک ایک بطخی نے گھوڑے کے پاؤں میں آ کر زور سے کاٹا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑے کے پاؤں کے قریب درختوں نے اپنی ٹہنیاں بکھیر دیں ۔ گھوڑا بری طرح سے بدک اٹھا ۔ نور گھوڑے سے گرنے کو تھی کہ ایک سفید دیو ہیکل پرندے نے نور کو اپنی پیٹھ پر بیٹھا لیا ۔اور اڑتا ہوا غائب ہو گیا ۔ ثقلین کے نیچے گرتے ہی نگری کے تمام پرندے جانور ثقلین پر ٹوٹ پڑے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے نجانے کہاں سے بیشمار پرندے اور جانور پورے محل پر چھا گئے ۔ ثقلین زخمی حالت میں محل میں داخل ہوا ۔ رانی اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر غضبناک ہو گئی ۔ ابھی کوئی منتر پھونکنے کو تھی کہ نگری کے پرندوں اور جانوروں نے دھاوا بول دیا ۔ رانی اور ثقلین انکے حملوں سے بچ نا پائے ۔ دونوں ھی جاں بحق ہو گئے ۔
شہزادہ سلیمان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دیکھنے میں یہ بے ضرر جانور اور پرندے دراصل کتنے خطرناک ہیں ۔
پورے محل میں اب پرندوں جانوروں کا راج تھا ۔ ثقلین اور رانی کے مرتے ھی پرندے غول
در غول نگری میں سما گئے ۔ راجہ طہماسب کے قدموں میں بیٹھ گئے ۔
جہانگیر زارو و قطار رونے لگے کہ نور کو کوئی پرندہ لے اڑا ہم اسے بچا نہیں پائے ۔
شہزادہ سلیمان نے بتایا کہ وہ محفوظ ھے ۔ خون خوار پرندہ اسکا دوست ھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرندہ نور کو لیکر راجہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ۔ ہم شرمندہ ہیں ۔ہم آپ کی اس وقت حفاظت نہیں کر سکے تھے ۔ لیکن ہم نگری کے تمام پرندے جانور درخت اور چاند کی بڑھیا نے ملکر نور کی بہت حفاظت کی ۔ رانی قدسیہ اور چھوٹی رانی نے نور کو بہت پیار سے پا لا
راجہ جہانگیر نے اگے بڑھ کر بیٹی کو گلے سے لگا لیا جی بھر کر روئے ۔پیار کیا ۔ نگری کا موسم بہت سہانا ہو گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے پریاں زمین پر اترنے لگیں ۔ نور کو نئی زندگی کی مبارک باد دینے لگیں ۔ رانی قدسیہ اور چھوٹی رانی نے نور کو گود میں بھر لیا ۔ نور کو راجہ طہماسب اور راجہ جہانگیر کے حوالے کرتے ہوئے کہا ۔ ہم سبکو ملانے کیلئے شہزادہ سلیمان کا اہم کردار ھے ۔ یہ نور کا ساتھی ھے ۔
نگری کی خوشیاں اور رونقیں بحال ہو گئیں ۔ نور اور سلیمان کی شادی میں سبھی بہت خوش ہوئے ۔ راجہ طہماسب رانی قدسیہ ، راجہ جہانگیر اور چھوٹی رانی ۔ نور اور سلیمان سمیت سب پرندے جانور محبت کا گیت گانے لگے ۔ سب ہنسی خوشی رہنے لگے ۔
ختم شد ۔۔۔
–**–**–
نانی کی کہانی اپ سب بچوں کے نام ۔
ویسے اپس کی بات ھے اپ لوگ کوئی بچے ہو جو یہ کہانی پڑھ لی ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Shatranj Novel by Muskan Kanwal – Episode 14

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: