Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 1

0
جہاں پریاں اترتی ہیں از ڈاکٹر محمد اقبال ہما  – قسط نمبر 1

ہے اس میں حسن ذرا کم ادا زیادہ
–**–**–

The first condition of happiness is that the link between man and nature shall not be broken.

Leo Tolstoy

’’پُر مسرت زندگی  گزارنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اور فطرت کا  بندھن ٹوٹنے نہ پائے ۔ ‘‘

لیو ٹالسٹائی

 فطرت اور انسان کا بندھن قائم و دائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ فطرت نَوردی انسان کے معمولات میں روح کی طرح رچ بس جائے۔خوش قسمتی سے باشند گانِ پاکستان کے لئے فطرت سے ناتا جوڑے رکھنا بے حد آسان ہے کیونکہ کائنات کے دلکش ترین فطرت کدے (شمالی علاقہ جات) میں پائی جانے والی ان گنت وادیاں اپنی نکہت بھری فضاؤں کے ساتھ وطنِ  عزیز کے نقشے کو چار چاند لگا رہی ہیں اور:

یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمھیں

خموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمھیں

 آج سے چند سال قبل مستی بھری یہ صدائیں صرف غیر ملکی باشندے سنتے تھے،اہلِ  وطن کان نہیں دھرتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب ملک کے گوشے گوشے میں پائے جانے والے فطرت کے پجاری ان صداؤں پر لبیک کہتے ہوئے شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں ۔یہ صدائیں جنوبی پنجاب کے ’’کاٹن کنگ‘‘  وہاڑی تک بھی پہنچتی ہیں اور ہم جولائی ۲۰۰۸؁ ء کی اک حبس زدہ رات کے پہلے پہر قائدِاعظم پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے، خموشیوں کی صدائیں سُن رہے تھے اور گھر سے نکلنے کا سبب چن رہے تھے۔ اس سال ٹریک کے لئے رش پری لیک،  وادیِ حراموش،  راکاپوشی بیس کیمپ، اورمشہ بروم بیس کیمپ طاہر اور شوکت بھٹہ صاحب کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا موضوع تھے۔شوکت علی بھٹہ صاحب ہمارے گروپ کے نئے رکن ہیں اور اسلامیہ ہائی سکول وہاڑی میں استاد ہونے کے طفیل گفتار کے غازی سمجھے جاتے ہیں ۔ آپ جوڈو،کراٹے میں بلیک بیلٹ ہولڈر اور تیکوانڈو میں ’’استادی‘‘  کے عہدے پر فائز ہونے کے دعوے دار ہیں ۔ بھٹہ صاحب نے ’’ذرا شیوسار جھیل تک‘‘  کا مطالعہ کیا، دیوسائی کی تصاویر دیکھیں اور ہماری ٹیم میں شامل ہو گئے۔

ہم اپنی بحث سمیٹ کر راکا پوشی بیس کیمپ کے حق میں فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ عرفان کا فون آ گیا۔عرفان فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انجینئر ہے۔اسے جنون کی حد تک ٹریکنگ کا شوق ہے۔میں نے عرفان کے ساتھ کوئی مکمل ٹریک نہیں کیا لیکن سکردو اور اسکولی تک ہمراہی کا شرف حاصل کر چکا ہوں ۔اس دوران اتنی ذہنی ہم آہنگی ہو چکی ہے کہ وہ ہر سال اپنے ساتھ ٹریک پر چلنے کی دعوت دیتا ہے اور میں کسی نہ کسی بہانے کنی کترا جاتا ہوں ۔ اس سال بھی وہ ٹیلی فونک رابطے میں تھا اور اُسے علم تھا کہ ٹریک کے تعین کے لئے ہمارے تین رکنی گروپ کا چلتا پھرتا اجلاس جاری ہے۔

’’جی ڈاکٹر صاحب!کہاں کا پروگرام بن رہا ہے؟‘‘  عرفان نے دریافت کیا۔

’’راکاپوشی بیس کیمپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔‘‘

 آپ نے کوئی پاس عبور کیا ہے؟‘‘

’’مارگلہ اور چھاچھر پاس سے گزر چکا ہوں ۔‘‘

’’بس یا جیپ کی بات نہیں ہو رہی، ٹریکنگ کی بات کریں ۔‘‘

’’سوال نصاب سے خارج ہے، مسترد کیا جاتا ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ پہاڑی درے پھلانگنے کے لئے تکنیکی مہارت درکار ہے۔ مجھے اس قسم کی پنگے بازیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔‘‘

’’کوہ نوردی کا دعویٰ کرنے والوں پر کم از کم ایک درہ عبور کرنا واجب ہے۔‘‘

’’میں نے آج تک کوہ نوردی کا دعویٰ نہیں کیا۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب راکاپوشی جیسے زنانہ و  بچکانا پروگرام بنانے کے بجائے دیانتر پاس ٹریک کی تیاری کریں اور یاد رکھیں کہ اس مرتبہ آپ کے پاس انکار کی گنجایش نہیں ہے۔ہمارا گروپ فیصلہ کر چکا ہے کہ آپ ہماری ٹیم کے رکن ہوں گے۔‘‘

’’زبردستی؟‘‘

’’زبردستی کی ضرورت پیش آئی تو کر لی جائے گی۔‘‘

’’اچھا؟میں اتنی اہم شخصیت ہوں ؟‘‘  میں حیران ہوا۔

’’شخصیت کا پتا نہیں ۔ہمارا خیال ہے آپ ہر وقت شغل میلہ لگائے رکھتے ہیں ، بور نہیں ہونے دیتے۔‘‘

’’آپ کا گروپ مجھے درباری مسخرہ سمجھتا ہے؟‘‘ میں نے خفگی کا اظہار کیا۔

’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،آپ شہنشاہِ ظرافت کے پُر وقار عہدے پر فائز ہیں ۔‘‘

’’یعنی درباری مسخرے کا ماڈرن ورژن ؟بہرحال آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مجھے اپنے قدموں پر اتنا قابو نہیں جتنا ایک ٹریکر کو ہونا چاہئے۔اس لئے میں نے کبھی خواب میں بھی پاس عبور کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔‘‘

’’طاہر وغیرہ کے ساتھ آپ اس قسم کی مہم جوئی کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے۔ ہماری ٹیم میں شامل ہو کر با آسانی پاس کراس کرنے کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔ اس دعوت پر شکرگزار ہونے کے بجائے نخرے دکھا نے کی کیا تک ہے؟‘‘

’’نخرے نہیں دکھا رہا،سچ مچ خوفزدہ ہوں ۔‘‘

’’ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھائیں اور بے خوف و خطر دیانتر پاس عبور کر کے پی سی بھوربن میں ڈنر کا بندوبست فرمائیں ۔‘‘

’’بھوربن میں کانفرنس کے بہانے ڈنر کرنا اچھا لگتا ہے۔اپنے ذاتی پیسے بھوربن کے روکھے پھیکے کھانوں پر ضائع کرنا بہت بڑی حماقت ہو گی۔آپ کو شاہی بازار لاہور میں پھجے کے سری پائے کھلائے جائیں گے۔‘‘

’’شاہی بازار لے جا کر بھی سری پائے ہی کھلائے جائیں گے۔‘‘  عرفان نے مایوسانہ انداز میں شکوہ کیا اور فون بند کر دیا۔

ٹریک خواہ جتنا بھی آسان اور بے ضرر ہو، اس کے نام کے ساتھ اگر ’’پاس ‘‘  لگا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس راستے پر چلنا خالہ جی کا گھر نہیں  … یہ وہ راہ ہے جو مقتل سے ہو کے جاتی ہے۔ مازینو پاس اور بروغل پاس کی کٹھنائیوں کے قصے زبان زدِ عام ہیں ۔میں نے دیانتر پاس کا نام ضرور سنا تھا،  اس کی دشواری و خطرناکی سے لاعلم تھا۔ طاہر اور بھٹہ صاحب عرفان کی تجویز پر غیر معمولی حد تک پُر جوش نظر آنے لگے اور دیانتر پاس متوقع ٹریکس کی فہرست میں نمبر ون کے  درجے پر فائز ہو گیا۔فیصلہ کیا گیا کہ دیانتر پاس کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی جائیں اور کوئی خاص رکاوٹ نہ ہو تو اس پروگرام کو حتمی شکل دے دی جائے۔ گائیڈ بکس اور انٹرنیٹ سائیٹس سے استفادہ کرنے کے باوجود دیانتر پاس ٹریک کے بارے میں مکمل تفصیلات میسر نہ آ سکیں ، البتہ دو تین ( Itineraries) آئٹی نریری (پڑاؤ اور پروگرام کی معلومات) اور بنیادی معلومات حاصل ہو گئیں ۔

 دیانتر پاس تقریباً چار ہزار سات سو میٹر بلند(سولہ ہزار فٹ) ایک دشوار گزار پہاڑی درہ ہے۔ یہ درہ سلسلہ ہائے ہندوکش کی پانچ ہزار تیس میٹر بلند چوٹی ’’سنوڈوم‘‘  کے پہلو سے گزرتے ہوئے گلگت کی وادی نل تر کو نگر کی وادی دیانتر(دئینتر) سے ملاتا ہے۔ ہماری گزشتہ رسائی ساڑھے تیرہ ہزار فٹ سے(نانگا پربت بیس کیمپ ۴۱۰۰میٹر) زیادہ نہیں تھی۔ دیانتر پاس ٹریک وادیِ  نل تر، وادیِ  دیانتر اور وادیِ  بر سے (جسے شین بار بھی کہا جاتا ہے) گزرتا ہوا وادیِ نگر کے مرکزی شہر چھلت پہنچتا ہے۔ اس گذر گاہ پر کئی خوبصورت سبزہ زاروں ، برف زاروں ، سنگ زاروں ، شجر پاروں اور آب پاروں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کی خوش خبری سنائی گئی تھی۔ ایک آدھ سائٹ پر تشویشناک انداز میں ٹریک کی تکنیکی دشواریوں کا ذکر بھی کر دیا گیا تھا، لیکن پوری چھان بین کے باوجود اس اہم ترین سوال کا جواب تلاش نہیں کیا جا سکا کہ دیانتر پاس ٹریک کا حاصل کیا ہو گا؟میرے خیال میں ٹریک کی مشقت برداشت کرنے کے لئے ایک عدد ’’حاصل‘‘  کا لالچ بہت ضروری ہے۔پانچ کلومیٹر بے ڈھب چڑھائی کے اختتام پر فیری میڈوز اور نانگا پربت کا دیدار حاصل ہو جائے تو ٹریک پر بہنے والا پسینا کسے یاد رہتا ہے؟

دیانتر پاس ٹاپ سے نظر آنے والے پینوراما کی بے تحاشہ تعریف پڑھنے کے باوجود کسی خاص ’’حاصل‘‘  کے دیدار کی خوشخبری نہ مل سکی جسے دیکھ کر تسکینِ قلب و نظر کی توقع کی جا سکتی ہو۔ ان معلومات کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ دیانتر پاس ٹریک ہم جیسے مبتدیوں کے لئے ایک منفرد اور سنسنی خیز تجربہ ثابت ہو سکتا ہے،اس کی برفیلی بلندیوں سے کسی ’’بیوٹی کوئین‘‘  قسم کے منظر کی توقع نہ رکھی جائے۔

ہے اس میں حسن ذرا کم ادا زیادہ

شراب پھیکی ہے لیکن نشہ زیادہ

ہم اس بات پر متفق تھے کہ اپنے بل بوتے پراس قسم کے نشے سے مخمور ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ عرفان وغیرہ کے ساتھ ’’ٹاپ کراس ٹریکنگ‘‘  کا موقع مل رہا ہے تو اس پیشکش سے فائدہ نہ اٹھانا کفرانِ نعمت ہو گا۔میں نے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مزید چھان بین ضروری سمجھی کیونکہ دیانتر پاس ٹریک کے کچھ مراحل سخت ترین ٹریکنگ کے درجے میں شامل کیے گئے تھے اور میں خود کو سخت ترین ٹریک کے قابل نہیں سمجھتا تھا۔

 میں پاس کرا سنگ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فیصل بینک وہاڑی کے منیجر کامران صاحب کے آفس جا دھمکا۔اُن کی ٹیم نے پچھلے سال مازینو پاس عبور کیا تھا، وہ خود بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس مہم میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔میں نے انھیں اطلاع دی کہ ہم اس سال دیانتر پاس ٹریک کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔

’’آپ نے پہلے کوئی پاس کراس کیا ہے؟ ‘‘  کامران صاحب نے سوال کیا۔

’’نو سر۔‘‘

’’آپ پاس کو کیا سمجھتے ہیں ؟‘‘

’’پاس ایک ایسا راستہ ہوتا ہے جو دو وادیوں کو ملاتا ہے۔آپ کو اتنا بھی نہیں پتا؟ ‘‘

’’پتا لگ جائے گا جب کوئی پاس عبور کریں گے۔مجھے دیانتر پاس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ، لیکن پچھلے سال مازینو پاس کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے علم ہوا کہ پاس کراسنگ کے لئے بہترین قسم کا فٹ نس لیول(Fitness level) درکار ہے۔‘‘

 ’’جیسا طاہر کا ہے؟‘‘

 اس انکشاف پر وہ باقاعدہ اچھل پڑے۔

 طاہر؟ جس کا وزن سو کلو سے زیادہ ہے ؟ ‘‘

’’زیادہ نہیں ہے، سات کلوگرام کم ہو گیا ہے۔ طاہر کا تازہ ترین وزن بانوے کلو نو سو ننانوے گرام ہے۔‘‘

’’بہت خوب۔اللہ کرے زورِ وزن اور زیادہ۔میری دعا ہے کہ آپ بہ خیر و عافیت دیانتر پاس عبور کریں ،اور مشورہ ہے کہ اپنے انتخاب پر دوبارہ غور فرما لیں ۔‘‘

’’ٹریک کا انتخاب عرفان نے کیا ہے اور وہ ہمارے ساتھ جا رہا ہے۔آپ دیانتر پاس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ ‘‘

’’ٹریک پر آپ جا رہے ہیں ،معلومات میں حاصل کروں ۔‘‘

’’آپ ہر وقت انٹرنیٹ سے منسلک رہتے ہیں ۔مجھے باقاعدہ وقت نکالنا پڑے گا۔‘‘

’’آپ لوگ ٹریک کے دوران کھانے کا کیا بندوبست کرتے ہیں ؟‘‘ کامران صاحب نے موضوع تبدیل کر دیا۔

’’یہ شعبہ عرفان کا ہے۔میرا خیال ہے خشک راشن ساتھ لے جائیں گے اور باورچی  ہمارے لیے کھانا تیار کر ے گا۔‘‘

’’کھانا پکانے کے برتن،کراکری،کٹلری،گوشت،انڈے،سبزیاں ،گھی اور چاول وغیرہ ساتھ لے جائیں گے؟‘‘

’’کھانا کھانے کا پروگرام ہوا تو لے جانے ہی پڑیں گے۔‘‘

’’سیزن کے دنوں میں اچھا باورچی بہت مشکل سے ملتا ہے اور ضرورت سے کہیں زیادہ سامان خرید لیتا ہے۔ یہ سامان اٹھانے کے لیے اضافی پورٹرز درکار ہوتے ہیں اور اخراجات  خواہ مخواہ بڑھ جاتے ہیں ۔ میرے ساتھیوں نے مازینو پاس ٹریک پر ڈبہ بند کھانوں کا تجربہ کیا تھا جو بہت کامیاب رہا۔‘‘

’’عرفان پچھلے سال ڈبہ بند کھانے ہی لے گیا تھا، اس کی ٹیم کو پسند نہیں آئے اور وہ پورے ٹریک کے دوران تنقید کا نشانہ بنا رہا۔‘‘

’’وہ کمپنیوں کے تیار کر دہ کھانے کے ڈبے لے گیا ہو گا۔ کھانے گھر میں تیار کروائیں اور انھیں ڈبہ بند کروا لیں ۔چپاتی پورٹر ز کے ساتھ شیئر کر لیں ۔ٹریک پر گھر کے بنے ہوئے کھانے سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے؟‘‘

’’کھانے ڈبہ بند کہاں سے کروائے جا سکتے ہیں ؟‘‘

’’فیصل فوڈ کینر شاہ جمال لاہور سے۔ اردو بازار سے بھی ہو سکتے ہیں ۔‘‘

’’آپ کا مطلب ہے کہ کھانوں کے پتیلے گاڑی میں رکھ کر پیک کروانے کے لئے لاہور لے جاؤں ؟ میں اتنا عقل مند نہیں ہوں ۔‘‘

’’کون بیوقوف آپ کو عقلمند کہنے کی جرأت کر سکتا ہے؟آپ صرف پروگرام فائنل کریں ۔ میں طارق سے درخواست کروں گا کہ کھانے پکوا کر پیک کرائے اور وہاڑی آنے والی کسی بس کے ڈرائیور کے حوالے کر دے۔ آپ ڈبے وصول کریں اور طارق کے آن لائن اکاؤنٹ میں اخراجات کا بل جمع کرا دیں ۔ ‘‘

’’بل جمع کرائے بغیر کام نہیں چل سکتا؟‘‘

’’وہ ڈاکٹر نہیں ہے۔‘‘

میں نے ایک مرتبہ پھر ٹریک کی خوبصورتی اور ’’سخت ترینی‘‘  کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی درخواست کی اور واپس آ گیا۔ چند روز بعد کامران صاحب انتہائی پریشانی کے عالم میں میرے پاس تشریف لائے۔

’’ڈاکٹر صاحب میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے پروگرام پر نظر ثانی کر لیں ۔ دیانتر میں خوبصورتی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ ‘‘

’’آپ کو کیسے پتا چلا؟ ‘‘

’’آپ بھی پتا چلا لیں ۔‘‘ انہوں نے ایک میموری کارڈ میری طرف بڑھایا۔

 میں نے میموری کارڈ لیپ ٹاپ کی سلاٹ میں لگایا اور دنگ رہ گیا۔ دیانتر نامی فولڈر میں ایک سیاہ فام خاتون نیلے پیلے جلوے دکھا کر ’’پاس‘‘  ہونے کی کوشش میں مصروف تھی، لیکن بری طرح ’’فیل‘‘  ہو رہی تھی۔

’’یہ کیا پھڈے بازی ہے؟‘‘ میں کنفیوژ ہو گیا۔

’’یہ آپ کی دیانتر ہے۔ ‘‘

’’خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے …  وادیِ دیانتر گلگت کے گردو نواح میں پائی جاتی ہے،  زمبابوے کے نائٹ کلب میں کیسے پہنچ گئی؟‘‘

’’گوگل سرچ پر دیانتر لکھنے کے نتیجے میں ۔ ‘‘ انھوں نے سادگی سے جواب دیا۔

’’اور آپ اس نتیجے کی تصاویر پر ہاتھ صاف کرتے رہے؟‘‘

’’تصاویر کے علاوہ اس کی کون سی چیز ہاتھ صاف کرنے کے قابل ہے جنابِ عالی؟‘‘  کامران صاحب نے نہایت معصومیت سے وضاحت چاہی۔

کامران صاحب کا فرمانا تھا کہ دیانتر کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ۔وہ دیانتر پاس (DAINTAR PASS) ٹریک سٹوری سرچ کرتے کرتے تنگ آ گئے تو سپیلنگ تبدیل کر کے (DIANTER)سرچ کرنے کی کوشش کی اور جو کچھ ہاتھ لگا جوں کا توں میری خدمت میں پیش کر دیا گیا۔

میں ذہنی طور پر دیانتر پاس ٹریک کے لیے آمادہ ہو چکا تھا، جسمانی طور پر تذبذب کا شکار تھا۔ طاہر اور بھٹہ صاحب کے ذوق و شوق نے تذبذب کا خاتمہ کر دیا اور ہم نے عرفان کی زیرِ  قیادت دیانتر پاس ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

 فیصلے کے بعد سامان مکمل کرنے کی فکر ہوئی۔

ٹریکنگ کے سامان کے بارے میں ہماری معلومات ’’نانگا پربت بیس کیمپ ٹریک‘‘  تک محدود تھیں ۔اس شریف النفس ٹریک میں کیمپنگ اور پاس کراسنگ جیسے مراحل نہیں پائے جاتے، اس لیے باقاعدہ ٹریک کے لئے درکار سامان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ طاہر کا خیال تھا کہ سامان کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،جو چیز کم ہوئی گلگت سے خرید لی جائے گی۔ عرفان نے بھی گلگت ہی سے شاپنگ کا مشورہ دیا۔ بھٹہ صاحب سفر شروع کرنے سے پہلے تمام انتظامات مکمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں ، انھوں نے شرط عائد کر دی کہ ساتھ لے جانا ہے تو سامان کی فہرست فراہم کی جائے۔ میں نے اور طاہر نے اپنے محدود تجربات کی روشنی میں الٹی سیدھی فہرست بنائی اور بھٹہ صاحب کے حوالے کر دی۔

بھٹہ صاحب چند روز بعد کلینک پر نازل ہو گئے۔

’’ڈاکٹر صاحب،یہ آپ نے میرے ہاتھ میں کیا پکڑا دیا ہے؟‘‘ بھٹہ صاحب نے جارحانہ انداز اختیار کیا۔

’’کیا پکڑا دیاہے؟‘‘ میں نے رازدارانہ انداز اختیار کیا۔

بھٹہ صاحب جھینپ گئے اور ان کی جارحیت ہوا ہو گئی۔

’’یہ کس قسم کا سامان ہے جو وہاڑی کی کسی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ؟‘‘

’’آپ کون سے سٹورز پر گئے تھے؟‘‘

’’میں کون سے سٹورز پر نہیں گیا؟‘‘ بھٹہ صاحب نے تنک کر جوابی سوال کیا۔

’’لنڈا بازار گئے تھے؟‘‘

’’لاحول ولا قوۃ! لنڈا بازار میں شاپنگ کرتا ہوا پکڑا گیا تو شاگردوں کو کیا منہ دکھاؤں گا؟  ابا جان الگ چھترول کریں گے۔‘‘

’’کیوں ؟‘‘

’’اُن کا ارشاد ہے کہ فرنگی کا ناپاک لباس سیدھا جہنم میں جائے گا اور پہننے والے کو اپنے ساتھ لے جائے گا۔‘‘

’’فہرست میں صرف لباس نہیں ،اور بھی بہت سی اشیاء شامل ہیں ۔‘‘

’’ابا جان کے اقوالِ زریں انگریز کی استعمال کی ہوئی ہر چیز پر نافذ ہوتے ہیں ۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے آپ فی الحال یہ ٹریک نہیں کر سکتے، کیونکہ پاکستان میں ابھی تک ٹریکنگ کا مکمل سامان دستیاب نہیں ۔ ‘‘

’’اچھا؟یہ تو معذوری ہوئی نا ں جی؛اور معذوری میں  … میرا مطلب ہے … ۔‘‘

’’جی ہاں !معذوری کا سرٹیفکیٹ پیش کر کے آپ جہنم میں گورے ٹیکس کی جیکٹ سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔‘‘  میں نے اُن کی بات مکمل کی۔

’’ٹریکنگ کا سارا سامان لنڈے سے خریدا جائے گا؟‘‘

’’میرا خیال ہے بیش ترسامان یا اس کی متبادل اشیاء عام سٹورز سے مل جائیں گی۔ رک سیک، سلیپنگ بیگ اور ٹریکنگ شوز ملنا مشکل ہے۔‘‘

’’سلیپنگ بیگ میرے پاس ہے۔‘‘

’’آپ کے پاس کس برانڈ کاسلیپنگ بیگ ہے؟‘‘

’’پتا نہیں کون سا ہے۔میرے پڑوسی نے رائے ونڈ سے خریدا تھا۔‘‘

’’ٹریک پر خاص قسم کے سلیپنگ بیگ درکار ہوتے ہیں جو درجہ حرارت کے مطابق منتخب کئے جاتے ہیں ۔دیانترپاس سطح سمندر سے تقریباً سولہ ہزار فٹ بلند ہے اور رات کے وقت اس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے کم ہو جاتا ہے۔ٹاپ پر کیمپنگ کی ضرورت پیش آ گئی تو تبلیغی جماعت کا سلیپنگ بیگ نہیں چلے گا۔‘‘

’’غلط فہمی ہے آپ کی۔ تبلیغی بستر دنیا کے ہر مقام پر چلتا ہے۔ سلیپنگ بیگ کی فکر چھوڑیں اور یہ فرمائیں کہ رک سیک،رین گیئر،گورے ٹیکس جیکٹ یا فلیس کی شرٹ جیسی اوٹ پٹانگ چیزیں کہاں سے ملیں گی؟‘‘

’’لنڈے سے۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔فٹافٹ تیار ہو جائیں ۔‘‘

‘‘ کیا مطلب؟‘‘

’’ٹریک باجماعت ہو گا تو لنڈے سے خریداری بھی با جماعت ہو گی۔‘‘

’’بالکل ہو گی،لیکن وہاڑی میں نہیں ، گلگت میں ۔‘‘

’’میں خریداری مکمل کر کے سفرشروع کرنے کا قائل ہوں ۔‘‘

’’خریداری کے لئے ایمرجنسی پھیلانے کی کیا ضرورت ہے۔ میں فی الحال مصروف ہوں ۔ آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا ہو گی۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد دوبارہ حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘

ہماری توقع کے خلاف وہاڑی کے لنڈا بازار میں ایک عدد ’’یتیم و مسکین‘‘  رک سیک کے علاوہ کوئی اور چیز دستیاب نہ ہو سکی۔میں نے بھٹہ صاحب کو مشورہ دیا کہ لاہور تشریف لے جائیں ، وہاں ہر قسم کا سامان دستیاب ہو گا۔بھٹہ صاحب نے یہ تجویز اعتراض لگا کر مسترد کر دی۔

’’مجھے علم ہی نہیں کہ ٹریکنگ شوز، گورے ٹیکس(Gore-Tex) اور فلیس(Fleece) کن بلاؤں کے نام ہیں تو خریدوں گا کیسے؟‘‘

’’اس مسئلے کا ایک ہی حل …  گلگت چل بھئی گلگت چل۔‘‘

بھٹہ صاحب مجبوراً خریداری ملتوی کرنے پر رضامند ہو گئے۔

ہم پروگرام کے مطابق بائیس جولائی ۲۰۰۸؁  کو ڈاہابرادرز کے بس سٹینڈ پر پہنچے اور رات نو بجے والے اے۔سی ٹائم میں تشریف فرما ہو گئے۔بس چلتے ہی شوکت علی بھٹہ صاحب کھڑے ہو گئے اور شور مچانا شروع کر دیا:

’’روکیں روکیں  … بس روکیں  … میں نے نہیں جانا۔‘‘

’’اوئے کیوں نہیں جانا ؟‘‘ طاہر نے اُن کا بازو پکڑ لیا۔

’’شدید گھبراہٹ ہو رہی ہے،فوراً بس رکوائیں ۔‘‘

بھٹہ صاحب ایک ہاتھ سے باری باری اپنی پیشانی اور سینہ سہلا رہے تھے، دوسرے ہاتھ سے طاہر کے ساتھ پنجہ آزمائی میں مصروف تھے جو انہیں زبردستی سیٹ پر بٹھائے رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انھوں نے بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح ٹکر رسید کرنے کی کوشش کی اور طاہر بوکھلا گیا۔بھٹہ صاحب نے اپنی کلائی چھڑا کر جست لگائی اور بس کے دروازے میں کھڑے ہوئے کنڈیکٹر سے جا ٹکرائے۔کنڈیکٹر نے انھیں اپنی سیٹ پر تشریف رکھنے کا مشورہ دیا تو انھوں نے مولا جٹ اینڈ نوری نت انداز میں بڑھک لگائی۔

’’اوئے چھیتی دروازہ کھول اوئے۔ نئی تے میں ایتھے ای مر جانا اے تیرے لئی نواں پواڑا پے جانا اے۔‘‘

کنڈیکٹر بھٹہ صاحب کے انداز سے گھبرا گیا۔اُس نے ڈرائیور کو بریک لگانے کا اشارہ کیا اور دروازہ کھول دیا۔بھٹہ صاحب نیچے اترے اور فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر گہری گہری سانسیں لینے لگے۔میں صورتحال جاننے کے لیے دروازے تک پہنچا تو بھٹہ صاحب کنڈیکٹر سے نہایت عاجزانہ انداز میں درخواست کر رہے تھے کہ ان کا سامان اتار دیا جائے، وہ کسی قیمت پر اسلام آباد نہیں جائیں گے۔

میں چکرا گیا۔بھٹہ صاحب ٹریک کیلئے ہم سے زیادہ پر جوش تھے۔

بھٹہ صاحب کی بہکی بہکی گفتگو سے بمشکل اندازہ لگایا گیا کہ وہ ’’کلوزڈ سپیس فوبیا‘‘   میں (بند جگہوں پر دم گھٹ جانے کا خوف ) مبتلا ہیں ،  اے سی بس میں سفر نہیں کر سکتے۔

’’یہ مسئلہ آپ کو ابتدا ہی میں بتا دینا چاہیے تھا۔ہم اے۔سی بس کے بجائے ٹرین سے سفر کر سکتے تھے۔‘‘  میں نے ناگواری کا اظہار کیا۔

’’میرا خیال تھا آپ لوگ ساتھ ہوں گے تو ڈر نہیں لگے گا۔ ‘‘ بھٹہ صاحب نے سہمے ہوئے انداز میں شرمندگی کا اظہار کیا۔

’’آپ آ جائیں ، خدانخواستہ کچھ ہوا تو سنبھال لیا جائے گا۔‘‘ میں نے حوصلہ دیا۔

’’کچھ ہو ہی گیا تو کیا سنبھالیں گے؟‘‘ بھٹہ صاحب نے مایوسانہ لہجے میں کہا۔

’’قبر میں تین چار روشن دان رکھوا دیں گے۔‘‘ میں نے نہایت خلوص سے وعدہ کیا۔

 ڈرائیور نے ہمارے مذاکرات طویل ہوتے دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا۔ اُسے اڈہ چھوڑنے کا نوٹس مل چکا تھا اور وہ بس سٹاپ کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا۔

’’آپ کی سزا یہ ہے کہ کھلے شیشوں کی بس میں راولپنڈی پہنچیں ۔سامان ہمارے ساتھ جائے گا اور آپ وہاں نہ پہنچے تو کسی ڈسٹ بن میں پھینک دیا جائے گا۔اللہ نگہبان۔ ‘‘  میں نے بھٹہ صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا اور دروازہ بند کر دیا۔

بس روانہ ہوئی، بھٹہ صاحب فٹ پاتھ پر کھڑے ہماری شان میں ناروا گستاخیاں فرماتے رہے اور ہم ان کے ارشاداتِ عالیہ کی زد سے دور ہوتے چلے گئے۔

بھٹہ صاحب بہ ظاہر داغِ مفارقت دے گئے تھے لیکن ہم اس جدائی کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ میں نے اپنے فارماسسٹ شاہد چوہدری سے موبائل فون پر رابطہ کر کے صورتِ حال سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ بس سٹینڈ پہنچ کر بھٹہ صاحب کو واپس جانے سے باز رکھے۔ شاہد نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد فون پر اطلاع دی کہ بھٹہ صاحب کو بس کنڈکٹر کی سپرداری میں دے کر ہدایت کر دی گئی ہے کہ انھیں فرار ہونے کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔ کنڈکٹر نے اس ذمہ داری سے دامن بچانا چاہا لیکن لمبی سواری کے لالچ اور شاہد کی صحافیانہ ’’تڑی‘‘  کے سامنے بے بس ہو گیا۔

 ہم نے ساہیوال کے قریب پہنچ کر بھٹہ صاحب سے رابطہ کیا۔

’’کہاں پہنچ چکے ہیں جناب؟‘‘

’’کہیں بھی نہیں ۔وہاڑی سے نکلے ہی تھے کہ ٹائر پنکچر ہو گیا۔ بس کا پورا عملہ وھیل تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔‘‘

’’اور آپ؟‘‘  میں پریشان ہو گیا۔

’’میں نزدیکی پٹرول پمپ کے ڈرائیور ہوٹل پر چائے پی رہا ہوں اور کوشش کر رہا ہوں کہ کوئی ٹرک ڈرائیور مجھے وہاڑی تک لفٹ دینے پر رضامند ہو جائے۔ ‘‘

’’سر جی !سارا پروگرام خراب ہو جائے گا۔‘‘ میں بوکھلا گیا۔

’’راولپنڈی سے آگے نان اے۔سی بس میں سفر کرنے کا حلف دیں تومیں اپنے ارادے پر نظر ثانی کر سکتا ہوں ورنہ … لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔‘‘

’’آپ کے سرِ عزیز کی قسم، راولپنڈی سے آگے گدھا گاڑی بھی قبول ہو گی۔‘‘

’’عرفان وغیرہ نہ مانے تو؟‘‘

’’وہ مانیں یا نہ مانیں ، ہم دونوں آپ کا ساتھ دیں گے۔ ‘‘

بھٹہ صاحب نے طاہر سے بھی وعدے وعید لیے اور راولپنڈی کے لیے سفر جاری رکھنے پر رضامند ہو گئے۔ ہم نے مطمئن ہو کر نشستوں کی پشت سے ٹیک لگا لی۔

٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: