Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 12

0
جہاں پریاں اترتی ہیں از ڈاکٹر محمد اقبال ہما – قسط نمبر 12

–**–**–

Study nature, love nature, stay close to nature. It will never fail you

Frank Lloyd Wright

فطرت کا مطالعہ کیجئے،اس سے محبت کیجئے، اس کی قربت حاصل کیجئے۔ یہ آپ کو ناکام نہیں ہونے دے گی۔

فرانک لائڈ رائٹ

صبح سویرے آنکھ کھلی تو نیند کا خمار اور بدن میں ٹوٹ پھوٹ کے آثار باقی تھے۔جوں ہی خیمے سے باہر آیا،طبیعت باغ باغ ہو گئی۔

جھیل سیف الملوک والی ملکہ پربت تھولائی بر میں کہاں سے آ گئی؟

تھولائی برکی خیمہ گاہ اور اس پر سایہ فگن برف پوش چوٹیوں کی ’’پیالہ نمائی‘‘  ملکہ پربت اور اس کے دربار سے اس حد تک مشابہ ہیں کہ آنکھیں دھوکا کھا جاتی ہیں۔ کیمپنگ سائٹ برف پوش چوٹیوں سے گھری ہوئی تھی اور ’’پائیں باغ‘‘  کے سبزہ زار کو نیلگوں پانیوں کے کئی دھارے قطع کرتے تھے۔ یہ چھوٹا سا لینڈ سکیپ اپنی بناوٹ کے لحاظ سے انتہائی منفرد تھا۔ چٹانی حجم کے بے شمار پتھروں سے ترتیب پانے والے در و دیوار سے سبزہ اگ رہا تھا۔ ارد گرد سے اترنے والے گلیشئرز اور ان سے پھوٹنے والے جھرنے اور آبشار در و دیوار کو مزید دلکش بنا رہے تھے۔ فضائیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے معمور تھیں لیکن پرندے نظر نہیں آرہے تھے، ان کی جولان گاہ دور دور تک پھیلے ہوئے صنوبر اور جونیپر کے بلند و بالا جھرمٹوں میں چھپی ہوئی تھی۔تھولائی بر دئینتر پاس ٹریک کا بہترین منظر نہ سہی، بہترین ماحول ضرور تھا۔

 میری وارفتگی اس وقت ختم ہوئی جب بھٹہ صاحب کیمپنگ سائٹ کے نزدیک سے گزرنے والے نالے کے صاف و شفاف پانی سے ٹائلٹ بوتل بھرتے نظر آئے۔ تھولائی بر کی صبح کے رومان پرور ماحول میں اتنی غیر رومانی ترمیم مجھے پسند نہیں آئی،رشک ضرور آیا کہ اتنا گل و گلزار ’’فراغت خانہ‘‘  اس جہانِ رنگ و بو کے کتنے باسیوں کو نصیب ہوتا ہے؟

میر عالم اور شیر احمد نے خیمے سمیٹنے شروع کر دیے۔ عالم خان ناشتا بنانے کی تیاری کر نے لگا۔ بستی کی جانب سے ایک مقامی شخص مٹی کی ہانڈی ہاتھ میں لٹکائے ہمارے کیمپ کے کچن کی طرف آتا نظر آیا،یہ غالباً تازہ دودھ کی سپلائی تھی۔

 میں نے ایک پتھر پر بیٹھ کر طلوعِ آفتاب کے دلکش منظر کا نظارہ کیا۔ یخ بستہ پانی سے برش کیا … شیو کی …  اور ڈرائی کلین ہونے کے بعد ’’کچن‘‘  کا رخ کیا جہاں عالم خان انڈے ابالنے کے ساتھ ساتھ مقامی شخص سے گپ شپ میں مصروف تھا۔

’’تم نے لیڈی کو گود میں اٹھایا ؟‘‘ عالم خان مقامی شخص کا انٹرویو لے رہا تھا۔

’’جی آ‘‘  مقامی شخص نے والہانہ انداز میں جواب دیا۔

’’کیسی تھی؟‘‘ عالم خان نے رازدارانہ انداز میں پوچھا۔

’’بہت اچھا تھا۔اس کا سارا چیز بہت اچھا تھا۔جی آ۔‘‘

’’سارا چیز؟ اس کا سارا چیز نظر آتا تھا؟‘‘

’’جی آ۔اس کا پینٹ غلط جگہ سے پھٹتا تھا۔شرٹ بی غلط جگہ سے پھٹتا تھا۔ پھر سارا چیز نظر آتا تھا کہ نئی آتا تھا؟جی آ۔ام اللہ کے ڈر سے اپنا ایک آنکھ بند کرتا تھا، مگر دوسرا کھل جاتا تھا۔ اللہ ام کو ماف کرے گا۔جی آ۔‘‘

’’نہیں کرے گا۔تم نے اسے گود میں اٹھایا تھا تو چھیڑ چھاڑ بھی کیا ہو گا۔ زنانہ لوگ سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کو اللہ معاف نہیں کرتا۔‘‘

’’وہ خود امارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا تھا۔جی آ۔ اپنا دونوں بازو ہمارا گردن میں ڈالتا تھا۔ اللہ اس کو پکڑے گا۔ام کو کیوں پکڑے گا؟ جی آ۔‘‘

’’اوئے یہ کیا پھڈے بازی ہے؟اتنے فحش انداز میں کس لیڈی کا ذکر ہو رہا ہے۔‘‘  میں نے دخل اندازی کی۔

’’لیڈی کا ذکر تو فوش انداز میں ہو گا سر۔ پاک صاف انداز میں کیسے ہو گا؟‘‘

’’یار عالم خان تم گلگت سے یہاں تک جتنا فلسفہ بگھار چکے ہو اس کی بنیاد پر کوئی بھی یونیورسٹی تمھیں فلسفے میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری دے سکتی ہے۔تم ہر ٹریکر کے ساتھ اتنے ہی فلسفیانہ انداز میں گفتگو کرتے ہو؟‘‘

’’ہر کلائنٹ بات کدھر سنتا ہے سر؟۔آپ ناراض نہیں ہوتا تو آپ کے ساتھ تھوڑا گپ شپ کر لیتا ہے۔ابھی آپ ناراض ہوتا ہے توہم خاموش ہو جاتا ہے۔‘‘

’’یہ کس لڑکی کا تذکرہ ہے؟‘‘

’’آپ کے مطلب کا کہانی ہے سر۔یہ بولتا ہے دو سال پہلے ادھر ایک گورا جوڑا آیا تھا۔ اُن لوگوں نے دئینتر کراس کیا تھا اور بہت برے حال احوال میں ادھر پہنچا تھا۔‘‘

’’اس میں میرے مطلب کی کیا بات ہے؟‘‘

’’ہم آپ کو بولتا تھا کہ ہم نے بڑی محنت سے آپ کے لیے راستہ بنایا ہے تو آپ ہمارا مذاق اڑاتا تھا۔ یہ بتاتا ہے کہ گورا جوڑا گائیڈ کے بغیر ادھر آ کر بہت خوار ہوا تھا۔ وہ لوگ راستہ بھول گیا تھا اور پانچ دن میں بیس کیمپ سے تھولائی بر پہنچا تھا۔ اس نے ان کا مدد کیا تھا۔‘‘

’’لڑکی کو گود میں اٹھا کے؟‘‘

’’جی آ۔‘‘  عالم خان کے بجائے مقامی شخص نے جواب دیا۔

’’اُس کے ساتھی نے کیوں نہیں اٹھایا؟‘‘  میں نے سوال کیا۔

 ’’ساتھی میں خود کھڑا ہونے کا بی ہمت نئی ہوتا اے۔ جی آ۔ وہ ادر ای پڑا رہتا اے۔ام پہلے لیڈی صائبہ کو بہک میں لٹا کر آتا اے،پھر اس کے ساتھی کو لے جاتا اے۔ ان کو گرم گرم دودھ مودھ پلاتا اے تو وہ اٹھ کے بیٹھتا اے۔جی آ۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب کل بھی عرض کی گئی تھی کہ صبح کا آغاز اللہ تعالیٰ کے با برکت نام سے کرنا چاہیے۔آپ پھر نا معقولات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب نے دخل اندازی کی۔

’’یہ نا ما قو لات نئی اے۔بالکل سچا بات اے۔جی آ۔‘‘  مقامی شخص برا مان گیا۔

’’تمھیں ان کی زبان آتی تھی؟‘‘

’’کدر آتا تھا؟وہ فرانس کا لوگ تھا۔اُدر کا زبان بولتا تھا۔جی آ۔‘‘

’’پھر تمہیں کیسے پتا چلا کہ وہ دئینتر پاس کراس کر کے آئے ہیں اور پانچ دن میں یہاں  پہنچے ہیں۔ ‘‘  میں نے اعتراض کیا۔

’’ام کو پتا چل گیا۔ وہ پتا نئی کیا کیا بولتا تھا،ام کو دئینتر اور گلگت سمجھ آتا تھا۔ ام ان کو تالنگ لے گیا۔ادر جیپ آیا ہوا تھا۔ ڈرائیور نے ان کا بات سنا اور ام کو بتایا۔جی آ۔‘‘

ناشتہ تیار ہو گیا تو عالم خان نے کارن فلیکس اور دلیے کا آمیزہ ہانڈی میں ڈال کر مقامی شخص کے حوالے کیا۔اُس نے بتایا کہ دودھ تحفتاً پیش کیا گیا تھا اور مقامی رسم و رواج کے مطابق تحفہ دینے والے شخص کو خالی ہاتھ لوٹانا اُس کی توہین کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ مقامی شخص ہانڈی ہاتھ میں لٹکائے خوشی خوشی واپس چلا گیا … جی آ۔

ناشتے کے بعد تالنگ تک سفر کا مرحلہ درپیش تھا اور مجھے پسینے آرہے تھے۔میں چلنے سے زیادہ عالم خان کے جوگرز سے خوف زدہ تھا جو مجھے بہت زیادہ تنگ تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جوگرز کے بجائے اپنے چپل استعمال کروں گا۔یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب راستہ نہ تو بہت زیادہ طویل ہو اور نہ اس میں بے تکے اتار چڑھاؤ ہوں۔

’’عالم خان تالنگ یہاں سے کتنا دور ہے اور راستہ کیسا ہے؟میرا مطلب ہے اترائی چڑھائی کتنی ہے؟‘‘

’’سر بالکل صاف اور سیدھا رستہ ہے۔آپ سمجھ لو مارننگ واک کے لیے نکلتا ہے اور آدھا گھنٹہ میں تالنگ پہنچتا ہے۔‘‘

تھولائی بر سے نکلتے ہی ایک ایسے پہاڑی نالے سے واسطہ پڑا جس نے مارننگ واک کا تصور درہم برہم کر دیا۔عرفان کی معلومات کے مطابق اس نالے پر گلیشئر کا پل ہونا چاہیے تھا۔پل موجود تھا،لیکن برف پگھلنے کی وجہ سے اس کی پسلیاں نظر آ رہی تھیں اور بظاہر وہ ہمارا وزن برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔ عرفان گلیشئر سے تھوڑا اوپر جا کر نالا عبور کرنا چاہتا تھا۔ میرے خیال میں اُس جگہ نالے کا پاٹ کافی وسیع تھا اور گہرائی کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے تجویز پیش کی کہ تھوڑا نہیں،  بہت زیادہ اوپر جا کر اُس مقام سے نالا عبور کیا جائے جہاں اس کا پاٹ نسبتاً تنگ ہو اور تہہ کے پتھر نظر آ رہے ہوں۔

’’ایسا مقام نہ مل سکا تو؟‘‘  عرفان نے اعتراض کیا۔

’’تو … تو … پتا نہیں کیا تو۔میرا مطلب ہے آپ لیڈر ہیں، آپ خود فیصلہ کریں کہ ایسا مقام نہ ملا تو کیا کریں گے۔‘‘

’’آپ خواہ مخواہ ڈرتا ہے سر۔تالنگ کا سارا لوگ یہ پل کراس کرتا ہے۔ ہم پہلے گزرتا ہے ناں۔ پھر آپ لوگ نہیں ڈرے گا۔‘‘  عالم خان نے حوصلہ دیا۔

’’تم؟تمھارا وزن ہی کتنا ہے؟‘‘

اس بحث کے دوران تالنگ کی جانب سے ایک گدھا آیا اور بغیر سوچے سمجھے پل عبور کر کے تھولائی بر کی طرف روانہ ہو گیا۔

’’ڈاکٹر صاحب ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ بے فکر ہو کر بسم اللہ کریں۔ یہ پل ایک گدھے کا وزن با آسانی برداشت کر سکتا ہے۔‘‘  طاہر نے فرمایا۔

’’پہلے آپ۔‘‘  میں نے احتراماً جھک کر کہا۔

’’ناں جی ناں۔ اسے پہلے نہ بھیجیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب نے سہمے ہوئے لہجے میں التجا کی۔

’’کیوں ؟اس میں سرخاب کے پر لگے ہیں ؟‘‘  میں نے تنک کر پوچھا۔

’’پتا نہیں یہ پل دو گدھوں کا وزن برداشت کر سکتا ہے یا نہیں ؟‘‘  بھٹہ صاحب نے نہایت معصوم لہجے میں تشویش کا اظہار کیا۔

طاہر نے خونخوار نظروں سے بھٹہ صاحب کو گھورا،اور بغیر سوچے سمجھے پل عبور کر لیا۔

’’عالم خان یہ نالا کہاں سے آ رہا ہے؟‘‘ پل عبور کرنے کے بعد میں نے سوال کیا۔

’’اوپر سے آتا ہے ناں۔ ‘‘

’’اوپر سے کہاں سے؟اُس جگہ کا کوئی نام تو ہو گا۔‘‘

’’یہ تو سر ابھی تک کسی کو بھی پتا نہیں چل سکا۔ادھر کا لوگ بولتا ہے جو اس نالے کا سورس (source) دیکھنے اوپر جاتا ہے اسے دیو لوگ اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پورا گورا ٹیم غائب ہو گیا تھا ناں۔ ‘‘

’’ٹیم غائب ہو گئی تھی؟‘‘

’’ہاں ناں۔ وہ کئی لوگ تھا۔ دئینتر نالے کے ساتھ ساتھ سفر کرتا تھا اور بولتا تھا کہ وہ اس کا سورس معلوم کرنے آیا ہے،بس پھر وہ غائب ہو گیا۔‘‘

’’غائب نہیں ہوئے ہوں گے۔ منبع دیکھنے کے بعد کوئی پہاڑی درہ عبور کر کے کسی اور وادی میں اتر گئے ہوں گے۔‘‘

’’ادھر ایسا نہیں ہوتا سر۔وہ کہیں بھی اترتا مقامی لوگ خبردار ہو جاتا۔‘‘

’’تمھارا مطلب ہے انھیں جن بھوتوں نے غائب کر دیا؟‘‘

’’دیو لوگ نے ناں۔ ‘‘

’’اُس ٹیم میں لڑکیاں شامل تھیں ؟‘‘

’’لڑکی کوئی نہیں تھا۔‘‘

’’پھر دیو لوگ نے ان کا کیا کیا ہو گا؟‘‘

’’سر اُدھر پری بھی تو ہوتا ہے ناں، وہ لوگ پریوں کے کام آیا ہو گا۔ ویسے سر ادھر کا لوگ بتاتا ہے کہ گورا لڑکا بہت خوبصورت تھا۔دیو لوگ کو پسند آ سکتا تھا۔‘‘

’’دیو لوگ میں بھی پٹھان لوگ ہوتا ہے؟‘‘

’’ضرور ہوتا ہو گا سر۔پٹھان لوگ کدھر نہیں ہوتا؟ہماری طرف کا لوگ بولتا ہے کہ آلو، پٹھان اور گورا دنیا میں ہر جگہ ملتا ہے۔‘‘

’’بہت خوب۔‘‘  میں اس کہاوت سے محظوظ ہوا۔

اُس وقت مجھے یہ داستان سو فیصد من گھڑت اور افسانوی لگی،بعد میں علم ہوا کہ برطانوی مہم جو سر جارج کاکرل اور سر فرانسس ینگ ہسبینڈ اس کہانی کے حقیقی کردار تھے۔ یہ دونوں حضرات بیسویں صدی کے آغاز میں دئینتر نالے کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک دشوار گزار درہ عبور کر کے وادیِ  اشکومن میں داخل ہو گئے تھے۔ مقامی لوگ یہی سمجھتے رہے کہ انھیں جن بھوتوں نے غائب کر دیا ہے اور ان کی مہم ایک ’’دیو پرور‘‘ داستان بن گئی۔

’’سر آپ کے پاؤں کا کیا حال ہے؟‘‘  عالم خان نے میری خیریت دریافت کی۔

’’چپل کا کنارہ ناخن سے نہ ٹکرائے تو بالکل ٹھیک ہے۔‘‘

’’ہم بہت شرمندہ ہوتا ہے سر۔‘‘

’’کیوں ؟‘‘

’’آپ کا پاؤں ہمارے جوگر نے خراب کیا ہے ناں۔ آپ درد کی وجہ سے رکتا ہے تو ہم خود بخود شرمندہ ہوتا ہے۔‘‘

’’تمہارے جوگرز نہ ہوتے تومیں تھولائی بر کیسے پہنچتا؟‘‘

’’کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی جاتا۔ہمارا جوگر پر الزام نہ آتا۔‘‘

’’شاید پہنچ جاتا،لیکن بات صرف انگوٹھے کے ناخن پر نہ ٹلتی۔ میرے دونوں پاؤں بری طرح زخمی ہو جاتے۔میں تمہارا ہی نہیں، تمہارے جوگرز کا بھی شکر گزار ہوں، اس لیے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ‘‘

’’اچھا؟پھر تو ذرا جلدی جلدی قدم اٹھاؤ سر جی۔اس رفتار سے چلتا ہے تو مغرب کے بعد تالنگ پہنچتا ہے۔‘‘

’’تم کہہ رہے تھے کہ تالنگ مارننگ واک کے فاصلے پر ہے اور وہاں سے گلگت صرف  دو گھنٹے کا سفر ہے۔ پھر اتنی افراتفری مچانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

’’تالنگ سے اگر جیپ نہیں ملتا ہے تو کیا کرے گا؟‘‘

 ’’کیا مطلب؟جیپ کیوں نہیں ملے گی؟‘‘ میں چلتے چلتے رک گیا۔

’’سر ادھر باقاعدہ جیپ سروس نہیں ہے ناں۔ آلو اٹھانے والا لوڈر جیپ آتا ہے۔ آج پتا نہیں آتا ہے یا نہیں آتا،اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صبح صبح آیا ہو اور آلو اٹھا کر چلا گیا ہو۔‘‘

’’جیپ نہ ملنے کی صورت میں کیا ہو گا؟‘‘ میں نے گھبرا کر سوال کیا۔

 ’’برداس تک ٹریک کرنا پڑتا ہے ناں۔ ‘‘ اُس نے سادگی سے انکشاف کیا۔

 ’’برداس کیا بلا ہے؟‘‘

’’گاؤں ہے ناں۔ اُدھر دئینتر نالا اور گرم سائی نالا ملتا ہے۔گلگت سے برداس تک جیپ اور ہائی ایس چلتا ہے۔‘‘

’’میری معلومات کے مطابق اس گاؤں کا نام تربتوداس ہونا چاہیے جہاں گرم سائی نالا دئینتر نالے سے ملتا ہے اور جہاں پبلک ٹرانسپورٹ مل سکتی ہے۔‘‘

’’آپ لوگ پتا نہیں کیسا کیسا الٹ پلٹ کتاب پڑھتا ہے۔ اس علاقے کا سارا لوگ برداس بولتا ہے تو وہ تربتوداس کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’پتا نہیں کتاب الٹا پلٹا ہے یا تم لوگوں کا زبان الٹا پلٹا ہے۔ سب جگہوں کے نام بگاڑے ہوئے ہیں۔ بہرحال وہ تربتوداس ہو یا برداس،تالنگ سے کتنا دور ہے؟‘‘

 ’’تقریباً دو گھنٹے کا راستہ ہے۔‘‘

’’تمہارے دو گھنٹے کا مطلب ہے میرے تین گھنٹے۔‘‘

’’اس طرح چلتا ہے تو پانچ گھنٹے۔‘‘

’’عالم خان۔‘‘

’’جی سر۔‘‘

’’تم مجھے اپنی کمر پر لاد کر تربتوداس لے جا سکتے ہو؟‘‘

’’ہم گھوڑا نہیں ہے۔‘‘ اُس نے بدک کر کہا۔

’’ویری سیڈ‘‘  میں نے افسوس کا اظہار کیا۔

’’سر آپ فکر نہ کریں۔ تالنگ میں جیپ وافر نہیں ملتا مگر گدھا بہت وافر ملتا ہے۔ آپ مزے سے ٹخ ٹخ کرتا ہوا برداس پہنچے گا۔‘‘

’’میں ٹخ ٹخ کرتا ہوا برداس نہیں جاؤں گا۔‘‘

’’پھر کیسے جائے گا؟‘‘  اس نے سادگی سے پوچھا۔

 ’’جیسے اب جا رہا ہوں۔ ‘‘

 ’’ایسے تو آپ آدھی رات کو برداس پہنچے گا۔‘‘

 ’’میں گدھے پر بیٹھ گیا تو پوری رات تک بھی برداس نہیں پہنچ سکوں گا۔‘‘

 ’’کیوں سر؟‘‘

’’طاہر ایک ایک قدم کی مووی بنائے گا،عرفان تصاویر بنائے گا، بھٹہ صاحب براہِ راست تبصرہ نشر کریں گے۔ اس فلم کا عنوان ہو گا ’’ڈاکٹر صاحب ٹخ ٹخ کرتے ہوئے‘‘  اور یہ شرمناک فلم یو ٹیوب (youtube)پر ریلیز کر دی جائے گی تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت ڈاکٹر صاحب کو ’’تھلے لگانے‘‘  کے کام آئے۔‘‘

 ’’یہ شرمناک نہیں، یادگار فلم ہو گا سر۔‘‘  عالم خان اس منظر کشی سے بہت خوش ہوا۔

’’میں اس یادگار فلم کا ہیرو نہیں بننا چاہتا۔‘‘

’’ہیرو تو گدھا بنے گا سر۔‘‘  عالم خان نے معصومیت سے بتایا۔

میں یہ معلومات عرفان کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا۔لیکن وہ کافی آگے نکل چکا تھا اور میں مزید تیزی نہیں دکھا سکتا تھا۔ میں نے سوچا جو ہو گا دیکھا جائے گا پیشگی پریشانی سے فائدہ؟

تھولائی بر سے تالنگ تک راستہ واقعی بہت آسان اور خوبصورت ہے۔ دونوں جانب دیودار، بھوج پتر،چیڑ، صنوبر اور جونیپر کے گھنے جنگلات میں چھپی ہوئی ڈھلانیں جہانِ  فطرت کے بہشت زاروں سے اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ بائیں جانب کی سرمئی بلندیوں پر بکھرے ہوئے سفید برف کے تودے نگار خانۂ فطرت میں سجائے گئے اوراقِ  مصوَّر کی مانند نظر آتے تھے۔ ان تضادات کے درمیان بہتے ہوئے دئینتر نالے کے جھاگ اڑاتے پانی روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی موسیقی کی تانیں اڑاتے تھے۔ یہ ایک روایتی پہاڑی منظر تھا، لیکن فطرت کی معجزہ ساز کاری گری یکساں مناظر میں ایسی انفرادیت بھر دیتی ہے کہ ہر قدم نئے جہانوں کی سیر کراتا ہے۔ اس سفر کے دوران تالنگ کا پولو گراؤنڈ ہر وقت نظروں کے سامنے رہتا ہے اور مسلسل یقین دلاتا رہتا ہے کہ تالنگ بس آیا ہی چاہتا ہے،لیکن آدھے گھنٹے کے فاصلے پر موجود تالنگ ڈیڑھ گھنٹے سے پہلے نہیں آتا،اور آتا ہے تو نئی قیامت ڈھاتا ہے۔

تالنگ اَن گھڑے پتھروں اور نا تراشیدہ درختوں کے تنوں سے بنائے گئے ایک یا دو کمروں کے مکانات پر مشتمل روایتی پہاڑی گاؤں ہے۔ یہ گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بنائے گئے ہیں اور آبادی وسیع علاقے میں بکھری ہوئی ہے۔گاؤں کی نمایاں خصوصیت ایک خوبصورت پولو گراؤنڈ ہے جہاں باقاعدہ ٹورنامنٹ منعقد ہوتا ہے جس میں ارد گرد کی بستیوں کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ گندم کی کٹائی کے بعد پولو گراؤنڈ میں ایک عظیم الشان جشن منایا جاتا ہے جس میں لوک رقص اور گدھا دوڑ کے مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی پولو گراؤنڈ میں مقامی باشندوں کی محفل جمی ہوئی تھی۔ گدھوں پر سوار نوعمر لڑکے شہتوت کی خمیدہ شاخوں اور کپڑے کی گیند کی مدد سے ہاکی نما پولو کھیل رہے تھے۔

ہم نے میدان کے ایک گوشے میں ڈیرے ڈال دیے۔ مقامی حضرات نے ہماری آمد پر کوئی توجہ نہ دی اور گپ شپ میں مصروف رہے۔پولو میچ دیکھنے والے چند بچے البتہ ہمارے گرد جمع ہو گئے۔بھٹہ صاحب نے پاؤچ سے ٹافیاں نکالیں اور بچوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ یہ دیکھ کر پولو کھیلنے والے بچے بھی متوجہ ہو گئے۔بھٹہ صاحب نے ایک ’’بالغ نظر‘‘  برخوردار کو انٹرویو کے لیے منتخب کیا۔اُس کی خدمت میں ٹافی کے ساتھ چاکلیٹ بھی پیش کی گئی۔

’’بیٹا آپ کے گاؤں سے گلگت کے لیے جیپ مل جائے گی؟‘‘

’’آلو لینے آتا اے تو مل جاتا اے۔‘‘

’’آج نہیں آئی؟‘‘

’’کل آیا تھا۔اب مشکل آتا اے۔‘‘

’’اس وقت کسی جیپ کے آنے کا کوئی چانس نہیں ؟‘‘

 ’’قسمت کا بات اے۔ آپ کسی کو ٹیم دیتا اے تو وہ ضرور آتا اے۔‘‘

’’ہم نے کسی کو ٹائم نہیں دیا۔‘‘

’’پھر جیپ کا چانس مشکل اے۔‘‘

’’آلو اٹھانے والی جیپ کس وقت آتی ہے؟‘‘

’’سارا جیپ صبح کے ٹیم آتا اے۔کبی کبی تھوڑا لیٹ ہوتا اے۔ابی تھوڑا انتظار کر کے دیکھو۔آپ کا قسمت اچھا ہوتا اے تو جیپ آتا اے۔‘‘

’’ہماری معلومات کے مطابق تالنگ میں ہر وقت جیپ مل سکتی ہے۔‘‘

’’آپ کا مالومات بوت غلط ہوتا اے۔ادھر مشکل سے جیپ ملتا اے۔ آلو زیادہ ہوتا اے تو ڈریور لوگ سواری نئی بٹھاتا۔ بولتا اے جیپ کا بیلنس خراب ہوتا اے۔سارا ٹورسٹ لوگ اپنا جیپ لاتا اے۔ نئی لاتا تو برداس جاتا اے۔ اُدر سے کبی کبی گاڑی مل جاتا اے۔‘‘

’’وہاں سے بھی کبھی کبھی؟‘‘  بھٹہ صاحب گھبرا گئے۔

 ’’ہاں ناں۔ اُدر ہر ٹیم گاڑی کھڑا نئی ہوتا۔‘‘

 ’’وہاں گاڑی نہ ملے تو کیا کرتے ہیں ؟‘‘

’’پھر چھلت جاتا اے۔اُدر سارا دن گاڑی ملتا اے‘‘

’’برداس کا راستہ کیسا ہے؟‘‘

’’بوت اچھا اے۔ پورا سڑک اے۔جیپ چلتا اے ناں۔ ‘‘

یہ انٹرویو جیسے جیسے آگے بڑھتا رہا، میرے ہوش اڑتے گئے اور پاؤں کا انگوٹھے کی ’’پھڑپھڑاہٹ‘‘ میں اضافہ ہوتا گیا۔مارننگ واک کا مارننگ تا ایوننگ واک میں تبدیل ہونا ہم سب کے لیے ’’اعصاب شکن دھماکے‘‘  کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ میر عالم اور شیر احمد سب سے زیادہ پریشان تھے۔اُ ن کا بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا خواب نہ صرف چکنا چور ہوا، بلکہ عالم خان کے ٹھیکیداری نظام کی بدولت ناقابلِ  برداشت نقصان کا باعث بنتا نظر آ نے لگا۔ تالنگ سے  اگر جیپ مل جاتی تو وہ دوپہر تک گلگت اوررات ہونے سے پہلے اپنے اپنے ’’ماشوقوں‘‘  کے پہلو میں پہنچ جاتے۔ موجودہ صورتِ حال میں مغرب سے پہلے گلگت پہنچنا بہت مشکل تھا اور مغرب کے بعد نل تر کے لیے سواری ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تالنگ سے جیپ ملنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی تھی لیکن ہم نے کچھ دیر انتظار کا فیصلہ کیا کہ شاید … ؟میں اور طاہر جیکٹیں بچھا کر سبزے کے فرش پر دراز ہو گئے۔بھٹہ صاحب بچوں میں گھل مل گئے اور عرفان نے مقامی باشندوں کی محفل کا رخ کیا۔بھٹہ صاحب گپ شپ کے دوران چند بچے منتخب کر کے میرے پاس لے آئے۔انھیں طبی امداد کی ضرورت تھی اور ہمارے پاس بچ جانے والی دوائیں اُن کے کام آ سکتی تھیں۔ ان میں سے کئی بچے معمولی نزلہ زکام میں مبتلا تھے، انھیں مناسب ادویات فراہم کر دی گئیں۔ دو بچے خصوصی توجہ کے مستحق تھے اور تالنگ کی پس ماندگی، ناخواندگی، نارسائی اور غربت کی نمائندگی کرتے تھے۔ ایک نو خیز بچی کے رخسار پر ناسور نما  زخم تھا جس نے اس گڑیا کی فطری خوبصورتی کو بد نمائی میں تبدیل کر دیا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب یہ زخم مندمل ہونا چاہیے۔‘‘  بھٹہ صاحب نے سفارش کی۔

’’یہ فنگس ہے۔پوری طرح ٹھیک ہونے میں کئی ہفتے لے سکتی ہے۔ میں دوا لکھ دیتا ہوں، باقاعدگی سے استعمال کی گئی تو انشاء اللہ بہت جلد چہرہ صاف ہو جائے گا۔‘‘

’’ادر دوائی نئی ملتا۔آپ ڈاکٹر  اے تو دوائی کیوں نئی دیتا؟‘‘  بچی کے سرپرست نے کہا۔

  ’’ہمارے پاس ابتدائی طبی امداد کا سامان ہے۔فنگس کی دوائیں شہر سے ملیں گی۔‘‘

’’ام گلگت سے دوا نئی لے سکتا۔‘‘

’’ہم تمھیں پیسے دے دیتے ہیں۔ گلگت جا کر دوائیں خرید لینا۔‘‘ بھٹہ صاحب نے پیشکش کی۔

’’پیسے کا بات نئی اے۔ام دو سال سے گلگت نئی جاتا اے۔ گلگت جاتا اے تو اسپتال سے دوائی لے لیتا اے۔آپ کے پاس دوائی ہوتا اے تو ٹیک اے،نئی تو اللہ مالک اے۔‘‘

میں نے اسے اینٹی بایوٹک گولیاں دیں۔ مجھے علم تھا کہ یہ دوائیں فنگل السر کا علاج نہیں ہیں۔ میں چشمِ تصور سے اس معصوم چہرے کو برباد ہوتے دیکھ رہا تھا۔ناخن وغیرہ کی فنگس بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچاتی، چہرے کی فنگس بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک اور بچے کے سر میں پھوڑا تھا جس سے ریشہ بہہ رہا تھا اور اس کی گہرائی میں رینگنے والے کیڑے صاف نظر آ رہے تھے۔

’’اس کا علاج کیوں نہیں کروایا؟‘‘  میں نے زخم کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا۔

’’بوت علاج کراتا اے مگر یہ ٹھیک نئی ہوتا اے۔‘‘

 ’’کس سے علاج کراتے ہو؟‘‘

’’امار ا حکیم صاب ہوتا اے ناں، وہ تین دن کے بعد پٹی کرتا اے۔‘‘

 ’’تین دن کے بعد ؟اس زخم کی باقاعدہ صفائی ہونی چاہیے اور دن میں دو مرتبہ پٹی تبدیل کی جانی چاہیے۔‘‘

’’اتنا تیل کدھر سے آئے گا؟امارے پاس اتنا پیسا نئی اے۔‘‘

 ’’تیل؟ کیسا تیل؟‘‘

’’حکیم صاحب تیل میں نمک،ہلدی اور گوبر کا راکھ ملا کے پٹی لگاتا اے۔‘‘

’’اس زخم پر گوبر کی راکھ کی پٹی ہوتی ہے؟‘‘  میں ششدر رہ گیا۔

’’جی صاب۔حکیم صاب بولتا اے ایسا زخم کئی سال میں ٹھیک ہوتا ہے۔‘‘

مجھے سخت افسوس ہوا۔اس جدید دور میں راکھ سے پٹی کر کے زخم ٹھیک ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔یہ بچہ بہت زیادہ خوش قسمت تھا کہ اب تک ٹیٹنس سے بچا ہوا تھا۔ زخم پایوڈین سے صاف کیا گیا اور دافع جراثیم مرہم سے پٹی کر دی گئی۔ہمارا ٹریک ختم ہو چکا تھا اور ہمیں چند گھنٹوں میں گلگت پہنچنے کی توقع تھی۔اس لیے بچی ہوئی تمام پایوڈین اور اینٹی بایوٹک ٹیوبز اس بچے کے حوالے کر دیں گئیں۔ مجھے امید نہیں تھی کی حکیم صاحب ایلوپیتھک دواؤں کو گوبر کی راکھ کے خاندانی نسخے پر ترجیح دیں گے، لیکن اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بچوں کے معائنے سے فارغ ہوا تو کچھ لوگ اصرار کرنے لگے کہ میں بستی میں چلوں۔ کوئی اپنی والدہ کا معائنہ کروانا چاہتا تھا اور کسی کی بیوی شدید بیمار تھی۔ میں نے بتایا کہ میرے پاس صرف چوٹ وغیرہ کی دوائیں ہیں اور پاؤں میں درد کی وجہ سے بستی کے گھروں میں جانا ممکن نہیں۔ مریض یہاں آ جائیں تو نسخہ لکھ دیا جائے گا۔

 ’’نسخے کا تعویذ بنا کر گلے میں ڈالتا اے، سب کا بیماری دفع دور ہو جاتا اے۔‘‘  ایک انتہائی سنجیدہ نظر آنے والے پیر فرتوت نے مذاق فرمایا۔

میں نے مذاق پر دھیان دینے کے بجائے برداس ٹریک کی تیاری پر توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ عالم خان کے جوگرز پہننے کے تصور سے باقاعدہ ہول آتے تھے اور چپل پہن کر تین چار گھنٹے کی مسلسل اترائی تقریباً ناممکن تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے جھجکتے ہوئے عرفان سے درخواست کی کہ وہ اپنے ٹریکنگ شوز مجھے عنایت کر دے اور خود میرے چپل پہن کر بقیہ سفر طے کرے،ورنہ میرے لئے برداس تک پیدل سفر کرنا ممکن نہیں۔ عرفان نے معمولی تذبذب کے بعد میری درخواست قبول کر لی۔

ہم نے ایک مقامی باشندے سلطان خان کی معیت میں تالنگ کو خدا حافظ کہا۔ سلطان ایک ہاتھ میں پوٹلی لٹکائے ہوئے تھا اور گلگت جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

تالنگ سے شروع ہونے والے جیپ ٹریک پر ’’پاؤں پاؤں‘‘  چلتے ہوئے ہمیں اپنی منصوبہ بندی کی خامیوں کا ادراک ہوا۔ بے شک اس خامی کی وجہ لا علمی تھی اور لا علمی کی وجہ دئینتر پاس ٹریک پر معلومات کے حصول میں ناکامی تھی۔گائیڈ بکس اور انٹر نیٹ پر اس ٹریک کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں، جو ملتی ہیں اُن میں سے بیش تر انتہائی گمراہ کن ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر ’’طولی بری‘‘  سے جیپ مل جانے کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو دوسری ویب سائٹ پر ٹاپ سے طولی بری تک ایک تا ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچنے کا اطمینان دلایا جاتا ہے۔ تالنگ کے بارے میں دی گئی اطلاعات سے تاثر ملتا ہے کہ ٹریکر وہاں پہنچے گا تو جیپوں کی لمبی قطار اسے خوش آمدید کہنے کے لیے صف آرا ہو گی اور ڈرائیور حضرات چلو چلو گلگت چلو کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ ٹریک کا منتظم اعلیٰ عرفان تھا جس کی زبانی ٹریکنگ کے پندرہ بیس ’’پہلے اصول‘‘  سن سن کر ہم باقی سب اصول بھول چکے تھے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ٹریکنگ کا پہلا اصول سمجھانے کی منہ توڑ (اپنا)کوشش کی جا رہی تھی۔

’’ٹریکنگ کا پہلا اصول ہے کہ جیپ ٹریک پر ٹھمک ٹھمک چلنے کے بجائے جیپ کا بندوبست کیا جائے۔‘‘  بھٹہ صا حب نے ماسٹرانہ لہجے میں قانون پڑھایا۔

’’ٹریکنگ کا پہلا اصول بھول جانا انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘‘  طاہر نے فردِ جرم عائد کی۔

’’ایسی نا اہل انتظامیہ کی پیٹھ پر کوڑے لگنے چاہئیں۔ ‘‘  میں نے سزا سنائی۔

’’انتظامیہ کو موشن لگے ہیں، پیٹھ اُٹھانے کے قابل نہیں ہے۔‘‘  عرفان نے معذوری کا سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ بظاہر وہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا تھا،بباطن ہم سے کم پریشان نہیں تھا۔

تالنگ سے برداس ایک سہانا سفرہے جو جیپ روڈ کی موجودگی میں غیر ضروری مشقت معلوم ہوتا ہے۔ یہ آئٹی نریری کا ’’سرکاری‘‘  حصہ ہوتا تو دئینتر پاس ٹریک کا خوبصورت ترین آئٹم ثابت ہو سکتا تھا۔ تالنگ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر بائیں جانب کی بلندیوں سے آنے والادئینتر نالا تھولائی بر نالے کے ساتھ سنگم بناتا ہے اور ٹریکر سے تقاضا کرتا ہے کہ اس نالے کے ساتھ ساتھ سفر کر کے وادیِ  دئینتر کے پوشیدہ حسن سے لطف اندوز ہوا جائے۔یہ سائیڈ ٹریک دئینتر پاس ٹریک میں ایک دلکش باب کا اضافہ کر سکتا ہے بشرطیکہ آپ ٹریک کی تمام تر رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کا پروگرام بنا کر آئے ہوں۔

 تالنگ کے بعد ہم وادی کے مرکزی گاؤں دئینتر سے گزرے۔ یہ بستی پتھر کے زمانے کی سو فیصد نمائندگی کرتی ہے اور تاریخ کے طالبِ علم جو مختلف ادوار کے عملی مطالعے میں دلچسپی رکھتے ہوں دئینتر کے بے ڈھب پتھروں سے علم کے بیش بہا موتی چن سکتے ہیں۔ تالنگ کے مکانات کا طرزِ تعمیر بھی یہی تھا، لیکن وہ دور دور بکھرے ہوئے تھے اور ’’پتھریت‘‘  کا وہ تاثر پیدا کرنے سے قاصر تھے جو دئینتر کے ’’ہم دیوار‘‘  گھر پیدا کرتے تھے۔ بیش تر مکانات کی چوکھٹ کواڑوں سے بے نیاز تھی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ دئینتر کے خوش قسمت مینل چوری کے کھٹکے سے نا واقف ہیں۔ سوال یہ تھا کہ یہ خوش قسمت لوگ ہیں کہاں ؟دئینتر کے در و دیوار سے پھوٹنے والے پتھریلے تاثر کا بنیادی سبب اس کی پُر اسرار ویرانی ہی تھی۔

’’یہ بستی آباد نہیں ہے؟‘‘ میں نے سلطان سے پوچھا۔وہ غالباً از راہِ مروت میرے ساتھ چل رہا تھا اور میں حسب توفیق اپنے ساتھیوں میں سب سے پیچھے تھا۔

’’آباد کیوں نہیں ہے؟ علاقے کا سب سے بڑا گاؤں ہے۔ہم اس کے سکول میں استاد لگا ہوا ہے۔‘‘

’’ویری گڈ۔آج ڈیوٹی پر نہیں گئے؟‘‘

’’آج انڈے دینے گلگت جانا تھا۔اس لیے چھٹی کر لی ہے۔‘‘

’’انڈے دینے؟آپ انڈے دیتے ہیں ؟‘‘ میں حیران ہوا۔

’’ہاں ناں۔ ‘‘ اُس نے سنجیدگی سے اعتراف کیا۔

’’انڈے دینے کے لیے گلگت جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہیں دے لیا کریں۔ ‘‘  میں نے نہایت خلوص سے مشورہ دیا۔

’’اوئےئے … ہم کیا بکواس کرتا ہے؟‘‘ بات پوری طرح سمجھ آئی تو وہ ہنسی کا گول گپا بن گیا۔’’ہم اردو پڑھاتا ہے مگر ہمارا اردو بہت کمزور ہے۔ ہمارا مطلب ہے ہم تالنگ سے انڈہ اکٹھا کرتا ہے اور گلگت جا کر بیکری والے کو دے دیتا ہے۔یہ ہمارا سائڈ بزنس ہے۔‘‘

’’دئینتر آباد ہے تو اس کے باشندے کہاں ہیں ؟‘‘

’’عورتیں کھیتوں میں کام کر رہی ہوں گی اور مرد خرید و فروخت کے لیے برداس یا گلگت چلے جاتے ہیں۔ ‘‘

’’گھر کھلے چھوڑ کر؟‘‘

’’گھر بند کیسے ہو سکتے ہیں ؟‘‘

’’دروازے لگا کر۔‘‘

’’دروازے صرف جانوروں کے کمرے کو لگائے جاتے ہیں تاکہ بکری کے بچے سخت سردی میں باہر نکل کر بیمار نہ ہو جائیں۔ ‘‘

’’انسانوں کو سردی سے بچاؤ کی ضرورت نہیں ہوتی ؟‘‘

’’ہوتی ہے۔رہائشی کمروں کے لیے ہم لوگ درختوں کی شاخوں اور گھاس سے بنایا گیا ایک سے ڈیڑھ فٹ موٹا پردہ استعمال کرتے ہیں جو رات کو دروازے کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے اور صبح ہوتے ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔‘‘

’’مستقل چوکھٹ اور لوہے یا لکڑی کے کواڑ کیوں نہیں استعمال کرتے؟‘‘

’’وہ ٹھیک طرح سردی نہیں روکتا۔‘‘

دئینتر کے دامن میں بکھری ہوئی بے شمار خود رو جھاڑیوں میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ سلطان جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں داخل ہوا اور کچھ دیر بعد جامنی مائل سرخ رنگ کے فالسہ نما پھلوں کے ساتھ نمودار ہوا۔ اس نے بتایا کہ ان پھلوں کو مقامی زبان میں ’’بھنگروسو‘‘  کہا جاتا ہے اور جو مرد رات کے کھانے کے ساتھ باقاعدگی سے ایک چھٹانک بھنگروسو کھاتا ہے،تین شادی بناتا ہے۔

’’چار کیوں نہیں بناتا ؟‘‘

’’پتا نہیں۔ والد صاحب کہتے ہیں تین بناتا ہے،چار نہیں بناتا۔‘‘

’’آپ رات کے کھانے کے ساتھ ایک چھٹانک بھنگروسو کھاتے ہیں ؟‘‘  میں نے  تجسس آمیز انداز لہجے میں سوال کیا۔

اُس نے مایوسانہ انداز میں گردن ہلا دی۔

’’کیوں ؟‘‘

’’تیسری شادی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ‘‘  لہجے میں حسرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

بھنگروسو کا ذائقہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا۔ممکن ہے تیسری،میرا مطلب ہے دوسری شادی کے خوف نے اس ’’ویاگرا کے پٹھے‘‘  میں کڑواہٹ گھول دی ہو۔

بھنگروسو کی بے ترتیب جھاڑیوں نے مجھے وادیِ  دئینتر کی پھلوں سے تہی دامنی کا احساس دلایا۔ اس وادی کے خط و خال بلتستان کا باغ کہلانے والی وادیِ  شگر سے ملتے جلتے ہیں، لیکن شگر کے مقابلے میں پھل دار درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ خوبانی، شہتوت یا سیب کا اکّا دکّا درخت کہیں کہیں نظر آ جاتا ہے، باغات دکھائی نہیں دیتے۔ جیپ روڈ اور دئینتر نالے کی درمیانی ڈھلان پر آلو، مکئی اور گندم کے کھیت اور چٹانوں کی فطری سبزہ زاری زمین کی زرخیزی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اس زرخیز علاقے کو ’’نگر کے باغ‘‘  میں تبدیل کرنے کے لیے شاید کسی مہتہ منگل سنگھ کی ضرورت تھی، لیکن بلتستان سکھوں کی حماقتوں سے مکمل ’’پاک‘‘  ہو چکا ہے اس لیے فی الحال کسی بڑے پیمانے پر شجر کاری کی توقع کرنا بہت بڑی حماقت ہو گی۔

میرے ساتھی پہلے ہی فراٹے بھرتے ہوئے نظروں سے غائب ہو چکے تھے، سلطان خان بھی میری سست روی برداشت کرتے کرتے اکتا گیا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا:

یہ اکثر دیکھتے ہیں دوستو سنسار کے وچ میں

کہ اپنے چھڈ کے نس جاتے ہیں سب منجدھار کے وچ میں

 ایک مرتبہ پھر میں تھا اور میری تنہائی  …  دور دور تک بکھرے ہوئے دلفریب مناظر تھے اور بے تحاشہ ہریالی  …  رنگارنگ پھولوں کے جھرمٹ تھے اور بے کراں سناٹا  … صاف و شفاف پانی کے گنگناتے ہوئے دھارے تھے اور جھرنوں کی مدھر موسیقی … اور … اور دئینتر کی پتھریلی فضاؤں میں نرماہٹ گھولتے ہوئے نسوانی قہقہے !

یہ قہقہے دئینتر کے ایک موڑ پر اچانک نمودار ہوئے اور مجھے دیکھ کر گم سم انداز میں جیپ ٹریک کے کنارے منجمد ہو گئے۔ میں دئینتر کی ویران فضاؤں میں رنگ برنگی مٹیاروں کا جمگھٹ دیکھنے کی توقع نہیں رکھتا تھا،اس لیے اُن سے زیادہ گم سم ہو گیا۔ چند سیکنڈ بعد مجھے خیال آیا کہ دئینتر پاس ٹریک کے پہلے اور شاید آخری نسوانی منظر سے صرفِ نظر کر کے چپ چاپ گزر جانا انتہائی بد ذوقی ہو گی۔میں نے اپنی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے تکلفانہ اور زوردار انداز میں السلام علیکم کا نعرہ لگایا۔اُنھوں نے چوری چوری اکھیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا  …  چند لمحے تذبذب کا اظہار کیا اور جل ترنگ ہنسی کے ساتھ سلام کا جواب دیا۔اس جل ترنگ میں جھجک نہیں تھی … بے باکی تھی … اور اُ ن کے اڑتے آنچل اور تنگ بدن پیراہن ہنسی سے زیادہ بے باک تھے۔

’’آپ اسی گاؤں میں رہتی ہیں ؟‘‘  میں نے تصدیق چاہی۔

’’اور کدر رہے گا؟‘‘

’’میرا مطلب ہے شاید وہاں رہتی ہوں۔ ‘‘  میں نے عقب میں نظر آنے والی برف پوش بلندی کی طرف اشارہ کیا۔

’’اُدر کوئی نئی رہتا۔ام سب اس بستی میں رہتا اے۔‘‘

’’ہمارا گائیڈ بتا رہا تھا کہ پری لوگ وہاں رہتا ہے۔‘‘

اُن میں سے کچھ نے مجھے غضب ناک نظروں سے گھورا، کچھ کے چہرے گلنار ہوئے اور میں ان کے مزید رد عمل کا انتظار کئے بغیر آگے روانہ ہو گیا۔ دئینتر کی بستی سے کچھ آگے ایک پہاڑی نالے کے راستے میں بڑے بڑے پتھر رکھ کر ایک مصنوعی آبشار بنائی گئی ہے۔ اس آبشار کا پانی جیپ ٹریک سے گزر کر ایک دلدلی جھیل بناتا ہوا کئی نالیوں میں تقسیم ہوتا ہے اور چھوٹے چھوٹے کیاری نما کھیتوں کی آبپاشی کے کام آتا ہے۔ میں آبشار کے کنارے ایک بڑے پتھر پر بیٹھ کر اس کی پھواروں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ یہ ننھی منی آبشار اس علاقے میں پائی جانے والی قدرتی آبشاروں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی،لیکن انسانی ہاتھوں نے اسے سجانے اور سنوارنے کے لیے اچھی خاصی محنت کی تھی۔ ارد گرد اُگی ہوئی خود رو جھاڑیوں کی غالباً باقاعدہ تراش خراش کی جاتی تھی اور پہاڑی پھولوں کے کئی جھرمٹوں کو پتھروں کی بے ترتیب چاردیواری بنا کر محفوظ کر دیا گیا تھا تاکہ انھیں پاؤں تلے روندا جانے سے بچایا جا سکے۔ ایسے ہی ایک جھرمٹ کے سفید براق پھولوں کی دل موہ لینے والی پاکیزگی میرے دل کو بھا گئی اور میں نے اسے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔

 ’’او … نو … نو فوٹو … کون ہو تم؟‘‘  گھبرائی ہوئی آواز نے احتجاج کیا۔

میں چونک اٹھا۔ایک مقامی نو نہال پھولوں کی اوٹ سے نمودار ہو کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہو ا میری جانب آ رہا تھا۔میرا جائزہ لینے کے بعد اس کی گھبراہٹ غصے میں تبدیل ہو گئی۔

’’یہ تصویر ڈیلیٹ کر دو۔‘‘ اُس نے پست آواز میں حکم صادر کیا۔

’’تم اتنے گلفام نہیں ہو کہ میں تمھاری تصویر اتاروں۔ ‘‘ میں نے معذرت خواہانہ کے بجائے جارحانہ لہجہ استعمال کرنا مناسب سمجھا۔

’’میری نہیں ہماری۔‘‘ اس نے پھولوں کے جھرمٹ کی طرف اشارہ کیا۔

میں نے اس کے اشارے کا تعاقب کیا تو ٹھٹک گیا۔ ایک نو خیز دوشیزہ لجائے ہوئے انداز میں اپنا دو پٹا ٹھیک کر رہی تھی۔یہ غالباً اس دور افتادہ علاقے کی ماروی تھی اور اپنے عمر سے ملاقات کے لیے کچھ زیادہ بن ٹھن کر آئی تھی۔اس کی معصوم سفیدی پر اترتے ہوئے شرم و حیا کے رنگ پھولوں کے جھرمٹ سے کم دلکش نہیں تھے۔

’’میں نے تمہاری نہیں پھولوں کی تصویر بنائی ہے۔‘‘  میں نے کیمرے کی ڈسپلے سکرین پر تصویر دکھا کر اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

’’ویسے تمہاری جوڑی پھولوں سے کم خوبصورت نہیں، میں اگر تم دونوں کی تصویر بنا لوں تو تمھارا کیا نقصان ہو گا؟‘‘

’’ہم تصویر نہیں بنوائے گا۔‘‘ اُس نے کھردرے لہجے میں جواب دیا۔

’’اوکے۔اللہ تمھاری محبت میں مزید اضافہ کرے۔‘‘  میں نے بزرگانہ انداز میں دعا دی تو اس کے چہرے پر نرمی کے آثار نظر آئے۔

’’آپ کوئی غلط بات مت سوچو۔ یہ میری منگیتر ہے۔‘‘

 ’’میں کوئی غلط تاثر نہیں لے رہا۔ یہ اگر واقعی تمہاری منگیتر ہے تو چھپ چھپ کر ملنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

 ’’منگیتر بننے سے پہلے ہم سب کے سامنے ملتا تھا۔ ایک مہینے بعد ہمارا شادی ہے اس لیے چھپ کر ملتا ہے۔‘‘  اُس نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’اتنی چھوٹی عمر میں شادی؟ تمھاری منگیتر پڑھتی نہیں ؟‘‘

 ’’پڑھ کر کیا کرے گا؟میرا والدہ صائبہ فوت ہو گیا ہے۔یہ روٹی پکائے گا اور میرے والد شریف کا خدمت کرے گا۔‘‘

 ’’اپنے والد صاحب کی خدمت تمھیں خود کرنا چاہیے۔‘‘

’’لو جی!پھر عورت کس کام آئے گا؟ عورت کا اصل کام یہی ہے کہ گھرس نبھالے اور شوہر کے ماں باپ کا خدمت کرے۔میرا والدہ صائبہ والد کے والد کا خدمت کرتا تھا، یہ میرے والد کا خدمت کرے گا۔‘‘ اُس نے حاکمانہ شان سے فیصلہ سنایا۔

 ’’یعنی تمہارے والد نے الگ گھر نہیں بنایا؟‘‘

’’الگ گھر؟وہ اپنے والد سے الگ گھر کیسے بنا سکتا ہے؟ادھر کا لوگ ایسا نہیں کرتا۔یہ بڑا زبردست نمک حرامی ہوتا ہے۔‘‘

 ’’فرائض کے ساتھ ساتھ بیوی کے کچھ حقوق بھی ہیں۔ الگ گھر بیوی کے بنیادی حق میں شامل ہے۔‘‘ میں نے اُسے جدید دور کے تقاضے بتانے کی کوشش کی۔

 ’’مہربانی کر کے آپ ہماری منگیتر کا ذہن خراب مت کرو۔ ہمارے علاقے میں ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کے پاس ٹائم ہو تو ہم اس  بارے میں باقاعدہ بحث کرتا ہے۔‘‘

’’تم کیا کرتے ہو؟‘‘

’’ایبٹ آباد میں پڑھتا ہے۔‘‘

’’کونسی کلاس میں ؟‘‘

’’سیکنڈ ایئر میں۔ ہم نے کالج میں اس ٹاپک پر تازہ تازہ تقریر کیا ہے۔‘‘

’’کس ٹاپک پر؟‘‘

’’مشترکہ خاندانی نظام کے فائدے اور نقصانات۔‘‘

’’ویری گڈ۔تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ کس قسم کی بحث کرنا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے ریلیکس ہونے کے لیے ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ہم بھی اپنے زمانے میں کالج کے بیسٹ ڈیبیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔

’’دیکھیں جی، ہم ڈاؤن میں روز یہ بات سنتا ہے کہ بیوی کے لیے الگ گھر کا انتظام کرنا شوہر کا مذہبی فریضہ ہے کیونکہ رسول پاک نے اپنا بیوی لوگ کے لیے الگ الگ گھر بنایا تھا۔ آپ ہمیں یہی بات بتانا چاہتا ہے ناں ؟‘‘

’’بالکل۔‘‘

’’آپ جناب (رسولِ پاک ﷺ) نے اپنا بیوی کو کس سے الگ گیا تھا؟‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’آپ جناب نے بیوی لوگ کو اپنا ماں باپ سے الگ گھر لے کر نہیں دیا تھا۔ ایک بیوی کو دوسرا بیوی سے الگ رکھا تھا۔آپ اس میں شک کرتا ہے؟‘‘

’’تم … کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’ہم آپ کا رائے جاننا چاہتا ہے کہ آپ جناب کا والد اور والدہ شریف اماں عائشہ سے شادی کے وقت زندہ ہوتا تواماں عائشہ کیا کرتا ؟آپ جناب کو بولتا ہم آپ کے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہے گا۔ ان کا خدمت آپ جناب پر فرض ہے ہمارے اوپر نہیں ہے؟ ہم ان کے لیے کھانا نہیں بنائے گا، ان کا بدن نہیں دبائے گا، ان کا کپڑا نہیں دھوئے گا۔یہ سارا کام آپ جناب خود کرے گا۔ آپ اماں عائشہ کے بارے میں ایسے ہی سوچتا ہے ناں ؟‘‘

 اُس کے سوال میں انتہائی جارحانہ قسم کی عالمانہ شان تھی،اور میرے پاس اس اچانک سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

’’اصل پرابلم اس لیے بنتا ہے کہ رسولِ پاک کا ماں باپ بچپن میں فوت ہو گیا۔ آپ جناب کا بیوی صائبہ کو اپنے ساس سسر کے ساتھ رہنے کا چانس نہیں ملا،پھر سیرت اور حدیث کی کتاب میں اس رشتے کا ذکر کیسے آئے گا؟آپ نے سیرت کا کتاب پڑھا ہے؟‘‘

’’تھوڑا تھوڑا پڑھا ہے۔‘‘  میں اُس کے انداز سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

’’یہ تو پڑھا ہو گا ناں کہ آپ جناب نے ایک صحابی کو جہاد پر جانے کے بجائے اپنے بوڑھے ماں باپ کا خدمت کرنے کا حکم فرمایا تھا؟‘‘

’’اُس کو فرمایا تھا،اس کی بیوی کو نہیں فرمایا تھا۔‘‘  میں نے اعتراض کیا۔

’’آپ درست فرماتا ہے۔مگر یہ تو بتا یا ہو گا ناں کہ انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرو۔‘‘

میں کیا جواب دیتا؟اُس کے سوالات غیر محسوس انداز میں ایک ایسے فیصلے کی طرف لے جا رہے تھے جو میرے نکتہ نظر سے یکسر مختلف تھا اور میں نے اس موضوع پر اتنی گہرائی میں جا کر کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔

’’آپ ایمانداری سے بتاؤ کہ جس کا رتبہ اللہ کے پاس پاس بتایا جائے اُس کے ماں باپ کا رتبہ کیا بنے گا؟آپ نے قرآن پاک کا ترجمہ پڑھا ہے؟‘‘

’’تھوڑا تھوڑا پڑھا ہے۔‘‘

’’اُس میں لکھا ہے کہ اللہ اور رسول کا حکم مانو۔آپ جناب کی پر وی کرو۔ آپ جناب کا ا دب کرو۔یہ کدھر لکھا ہے کہ آپ کے ماں باپ یا دادا اور چاچا کا ادب کرو؟‘‘

میں خاموش رہا۔کیا کہتا؟

’’آپ یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مسلمان لوگ آپ جناب کے والدین کا عزت کیوں کرتا ہے؟آپ کا چچا آپ پر ایمان نہیں لاتا مگر ابو طالب کو سب لوگ حضرت ابوطالب بولتا ہے۔ کیوں بولتا ہے؟آپ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے بولتا ہے ناں ؟ اب یہ سوچو کہ جس کا رتبہ سجدہ کرنے کے برابر ہو اس کے ماں باپ کا رتبہ کتنا بڑا ہو گا؟ اُن کا کتنا حق بنتا ہے ؟مگر بات نیت کا ہے۔ آپ ٹھیک نیت سے غور کرے گا تو نتیجہ صاف صاف ملے گا۔ نیت خراب ہو گا تو ٹھیک بات کا پتا نہیں چلے گا۔ آپ کو ہمارا بات سمجھ آیا کہ نہیں آیا؟‘‘

چند منٹ تک میں واقعی اُس کی بات سمجھ نہیں سکا …  اور سمجھا تو دم بہ خود رہ گیا۔ میں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ کل کے بچے نے مجھے لا جواب کر دیا تھا۔ اُس وقت میرا خیال تھا کہ تھکاوٹ کی وجہ سے میرا دماغ پوری طرح سوچنے سمجھنے اور جواب دینے کے قابل نہیں ہے، لیکن آج بھی،پوری طرح غور و خوض کرنے کے باوجود میں اُس کے سوال کا مدلل جواب تلاش نہیں کر سکا، کج بحثی اور ہٹ دھرمی کی بات اور ہے۔ جدید ترین معاشرے میں قائم ہونے والے اولڈ ہومز پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ساس سسر کے رشتے کی ’’اسلامی‘‘  تشریح نہ کی گئی تو والدین کی خدمت کے پیمانے روشن خیالی کی شراب سے لبریز ہونے لگیں گے:

شرم کیسی ہے تجھے؟ یہ دور ہے دورِ جدید

بیوی بچے پاس رکھ ’’فادر مدر‘‘  کی خیر ہے

میں نے اُس کی علمیت اور نکتہ رسی کی تعریف کی،مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ہاتھ ملا کر آگے روانہ ہو گیا۔تھولائی بر سے شروع ہونے والی مارننگ واک اپنی فطرت میں نوری کے ساتھ ساتھ ’’ناری‘‘  ہو کر میری تھکاوٹ اور درد کا مداوا بنتی جا رہی تھی۔ دئینتر کے باشندے اور باشندیوں کو دیکھ کر اس کی پتھراہٹ کا تصور درہم برہم ہو گیا۔دئینتر کے در و دیوار جتنا چاہیں پتھر کے دور کی عکاسی فرمائیں، دئینتر کے طرزِ معاشرت میں جگمگانے والے روشن خیالی کے دیپ آنکھیں کھول دیتے ہیں۔

 دئینتر سے آگے جیپ ٹریک عمودی ڈھلوان کی صورت میں نیچے اترتا ہے اور ایک پُل عبور کر کے دئینتر نالے کے دائیں جانب آ جاتا ہے۔ میں نے رفتار میں اضافہ کر کے آرام کے وقفوں کی تلافی کرنے کی کوشش کی۔ایک ایسے منظر نامے میں جس کا چپہ چپہ دعوتِ نظارہ دے رہا ہو، سر جھکا کر چلتے رہنا آسان کام نہیں، اور سر اٹھاتے ہی ٹھوکر لگتی تھی یا غیر متوقع ڈھلان کی وجہ سے پاؤں کے انگوٹھے پر دباؤ آ جاتا تھا۔ تیز رفتاری کا خمار بہت جلد اتر گیا۔

ٹھمک ٹھمک چلنے کی پالیسی دوبارہ اپنانے کے بعد میں نے ارد گرد کے ماحول پر توجہ دی۔ وادیِ  دئینتر کے ہریالے پس منظر میں قدم قدم پر بل کھاتا ہوا سرمئی جیپ ٹریک اور اس کے پہلو میں سفر کرنے والے دئینتر نالے کے نقرئی پیچ و خم ایک منفرد منظر نامہ تخلیق کرتے ہیں۔ جیپ ٹریک کسی بلندی سے گزرتا تو وادی کی گہرائیوں میں اترنے والے لہریے دار مناظر روح کی گہرائیوں میں اترتے محسوس ہوتے تھے۔نل تر نالے پر بنائے گئے پل کھلونے کی مانند نظر آتے تھے۔ ایسے ہی ایک پل کے کنارے نصب خاکی رنگ کے خیمے نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ جیپ ٹریک پر صرف ہم ہی پیدل نہیں چل رہے،کوئی اور بھی ہے جو یہ ’’حماقت‘‘  کر رہا ہے۔میں نے دخل در نا معقولات کرتے ہوئے خیمے میں تانک جھانک کی۔ خلافِ توقع یہ ٹریکرز کا خیمہ نہیں تھا،اس میں چند مقامی حضرات کھانا تناول فرما رہے تھے۔ میں نے سلام کرنے کے بعد سوری کہا اور اپنی راہ لگنے کی کوشش کی۔

اُن میں سے ایک نے جواب دیا اور مجھے آگے بڑھتا دیکھ کر ننگے پاؤں ہی باہر آ گیا۔

’’ایسے کیسے جائے گا؟ آپ ادر مہمان اے، کھانا مانا کھا کے جائے گا۔‘‘

’’جی شکریہ مجھے بھوک نہیں ہے،آپ کو ڈسٹرب کرنے کی معذرت چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’مازرت وازرت کیا چیز ہوتا اے یارا؟ ام اتنا جانتا اے کہ مہمان امارے گھر آتا اے تو کھانا کھائے بغیر باہر نئیں جا سکتا۔‘‘

میں نے ایک مرتبہ پھر معذرت کی جو اُس کے پُر خلوص اصرار نے ناکام بنا دی اور میں کھانے کے تھال کے گرد بنائے گئے دائرے میں شامل ہو گیا۔گرما گرم روٹیاں، سبز مرچ اور چینی ملا ہوا مکھن اور گاڑھی گاڑھی نمکین دہی۔میرا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،لیکن کھانے کی انفرادیت کی وجہ سے پوری روٹی ٹھکانے لگا دی۔تفصیلی تعارف پر علم ہوا کہ یہ حضرات ماڈرن قسم کے خانہ بدوش ہیں۔ گلگت سے مقامی لوگوں کی ضرورت کا سامان خریدتے ہیں اور جگہ جگہ خیمہ نشین ہو کر فروخت کرتے جاتے ہیں۔ واپسی پر مقامی مصنوعات بشمول انڈے، گھی، دستکاری کے نمونے اور چھوٹے موٹے جانور خرید کر گلگت لے جاتے ہیں۔ میرا انٹرویو لینے اور میری دلچسپی کا اندازہ کرنے کے بعد ان میں سے ایک نے پیشکش کی:

’’آپ لوگ سیر کرنے آیا ہے تو ایک آدھ روز امارے ساتھ گزارو،ام آپ کو ایسا ایسا جگہ دکھائے گا جو کوئی بی نئیں دیکھتا۔‘‘

’’آپ بتا دیں۔ موقع ملا تو میں خود ہی دیکھ لوں گا۔‘‘

’’ابی آپ برداس جاتا اے ناں ؟اُدر سے ایک روڈ گرم سائی کا وادی میں جاتا اے۔ آپ اُدر سفر کرو۔ دل خوش نئی ہوتا تو بے شک اپنا خرچا ام سے واپس لو۔‘‘

’’خرچ واپس لینے کے لیے آپ کو کہاں تلاش کروں ؟‘‘  میں نے سنجیدگی سے سوال کیا۔

’’ایسے ای کدر مل جاتا اے ناں۔ ‘‘  اُس نے اتنی ہی سنجیدگی سے جواب دیا۔

’’بہت بہت شکریہ۔ فی الحال میں بہ خیریت و عافیت برداس پہنچ جاتا ہوں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کروں گا۔ برداس یہاں سے کتنا دور ہے؟‘‘

’’دور کدر اے؟ سمجھو پہنچ گیا۔ابی تم جیپ روڈ چھوڑ دو۔ تھوڑا آگے جا کے لیفٹ سائیڈ والا راستہ پکڑو۔ اس کو پکڑتا اے تو پانچ منٹ میں برداس پہنچتا اے۔‘‘

میں نے انھیں اللہ حافظ کہا اور لیفٹ سائیڈ والا راستہ پکڑ کر پانچ منٹ میں برداس پہنچنے کا دل خوش کن تصور لیے آگے روانہ ہو گیا۔وہ مقام جہاں سے بتایا گیا راستہ جیپ ٹریک سے الگ ہوتا تھا،قدرے بلندی پر تھا اور اس جگہ سے برداس نامی بستی پوری طرح نظروں کے احاطے میں  آ جاتی تھی۔برداس پہلی نظر میں ایک غیر فطری بستی معلوم ہوتی ہے۔مجھے محسوس ہو ا کہ اس خوبصورت نشیب کا اصل منظر رنگا رنگ پھولوں سے لبریز ایک سر سبز و شاداب تھال پر مشتمل تھا۔ اس تھال کے وسط میں برداس کا بے جوڑ اضافہ کسی بد ذوق بھوت کی کارستانی تھی جو پتا نہیں کہاں سے یہ بستی اُٹھا لایا تھا اور ایک بہشت سازمنظر کے سحر کو بے اثر کر گیا تھا۔برداس کی مختلف زاویوں سے فوٹو گرافی کرنے کے بعد میں نے بائیں جانب والے راستے پر توجہ دی اور خیمہ نشین حضرات کے مذاق پر دل کھول کر قہقہہ لگایا۔ ایک بے تحاشہ ترچھی ڈھلان برداس کے سبزہ زاروں میں اتر رہی تھی جس پر کسی راستے کا نام و نشان نہیں تھا۔ برداس براستہ لیفٹ سائیڈ والا راستہ پانچ منٹ کے نہیں، صرف ایک لڑھکنی کے فاصلے پر تھا۔ میں یہ لڑھکنی لگانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اس لیے جیپ ٹریک پر گامزن رہا۔

دوکے بجائے چار گھنٹے کے سفر کے بعد میں برداس کی حدود میں داخل ہوا تو سینہ دھونکنی کی طرح پھول پچک رہا تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ سفر تھکا دینے والا یا دشوار ہے۔تھولائی بر سے تربتوداس تک مناظر سے بھرپور واک بہت خوبصورت، بہت دلکش اور بہت ’’حلوہ‘‘  ہے بشرطیکہ ٹریکنگ شوز یا جوگرز اپنے ہوں اور پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن سلامت ہو۔

٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: