Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 13

0
جہاں پریاں اترتی ہیں از ڈاکٹر محمد اقبال ہما – قسط نمبر 13

–**–**–

Mountains are the beginning and the end of all natural scenery

John Ruskin

 بلندیاں ہی فطرت کے دل کش مناظر کا آغاز اور اختتام ہیں

جان رسکن

 میں قصبے کی مرکزی گلی سے گزرتا ہوا ایک چوک تک پہنچا جہاں چند دکانیں مارکیٹ کا منظر پیش کر رہی تھیں اور میرے ساتھی تھڑوں پر اپنے اپنے رک سیک سے ٹیک لگائے آرام فرما رہے تھے۔ مقامی باشندوں کا چھوٹا سا ہجوم اُنھیں گھیرے ہوئے تھا۔میں نے قریب پہنچ کر سلام کیا۔ مقامی حضرات نے جواب دیے بغیر با جماعت انداز میں میرا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے یہاں آ کر کوئی جرم کیا ہے۔

’’یہ بابا تمارا ساتھی اے؟‘‘  ایک بہت زیادہ بابے نے عرفان سے سوال کیا۔

’’اے بابا اے؟ باباتیرے ورگا ہوندا اے بھوتنی دے آ۔‘‘  بھٹہ صاحب نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں اتنی تیزی سے جواب دیا کہ باباجی اور اُن کے چیلے چانٹے سمجھنے سے قاصر رہے۔

’’تم نے اتنا دیر کدر لگا دیا۔‘‘  بابا جی نے سخت لہجے میں مجھے مخاطب کیا۔

میں نے جواب دینے کے بجائے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ جیپ کا بندوبست ہو چکا ہے یا نہیں ؟ عرفان نے بتایا کہ جیپ والے سے سودا بازی ہو رہی ہے،وہ چار ہزار مانگ کر رہا ہے،ہم دو ہزار پر اڑے ہوئے ہیں۔

 ’’تھکاوٹ سے چور ہونے کے باوجود اڑے ہوئے ہیں ؟‘‘

’’ہمیں ایک ہائی ایس کا انتظار ہے۔ابھی ابھی گلگت سے آئی ہے، بر گاؤں میں سواریاں اتار کر واپس آ جائے گی۔اُس کا ڈرائیور مان گیا تو ایک ہزار میں گلگت پہنچ جائیں گے۔‘‘

’’تم امارا بات کا جواب کیوں نئی دیتا؟ اتنا لیٹ کیوں آتا اے؟‘‘  بابا جی نے جارحانہ انداز میں اپنا سوال دہرایا۔

’’یہ بابا جی کیا چیز ہیں ؟‘‘  میں نے اسے جواب دینے کے بجائے عرفان سے سوال کیا۔

’’یہاں کے وڈیرے ہیں۔ ان کی فرمائش ہے کہ ہم بر نامی گاؤں ضرور جائیں اور آج رات یہیں کیمپنگ کریں۔ ‘‘ عرفان نے انگلش میں جواب دیا۔

’’کیوں کریں ؟‘‘

’’تاکہ یہ کیمپنگ فیس وصول کریں۔ دوسو روپے فی کیمپ۔‘‘

بابا جی اس لیے اپنا غصہ اتار رہے تھے کہ میری وجہ سے ہونے والی تاخیر نے انھیں چارسو روپے کی متوقع آمدنی سے محروم کر دیا۔میں بر وقت پر پہنچ جاتا تو شاید وہ ہمیں گرم سائی ٹریک کے لیے قائل کر لیتے اور ہم برداس میں کیمپنگ کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ گرم سائی میں ٹریکنگ کی دعوت مجھے خیمہ نشین پارٹی بھی دے چکی تھی۔

 برداس گرم سائی نالے اور دئینتر نالے کے سنگم سے بننے والی تکون میں واقع ہے۔ مقامی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ گرم سائی دئینتر سے زیادہ خوبصورت ہے۔ یہ ایک گمنام وادی ہے اور اس کے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ تربتوداس کے باشندے یقیناً چاہیں گے کہ دئینتر کی طرح گرم سائی بھی ٹریکرز کی توجہ حاصل کر سکے تاکہ دونوں وادیوں کے جنکشن پر واقع ہونے کی وجہ سے اُن کا گاؤں ٹریکرز کے قیام و طعام کا مرکز بن سکے۔وادیِ  دئینتر اور وادیِ  گرم سائی کے مجموعے کا نام ’’بروادی‘‘  ہے۔ برداس اور تھولائی بر جیسے ناموں میں ’’بر‘‘  اسی وادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ برگاؤں وادیِ  گرم سائی کا مرکزی قصبہ ہے اور برداس یا تربتو داس سے صرف سات کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ہائی ایس سواریاں اتار کر واپس آ گئی۔ اُس کے ڈرائیور نے گلگت جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ گاڑی میں ہیڈ لائٹس نہیں ہیں، وہ اس وقت گلگت جاتا ہے تو رات کو واپس نہیں آ سکے گا اور صبح کے پھیرے سے محروم رہ جائے گا۔

 ایک مرتبہ پھر ’’بابا جی اِن ایکشن‘‘  کا سماں پیدا ہو گیا۔

’’تم لوگ اس وقت بی نکلتا اے تو رات کے ٹیم گلگت پہنچتا اے۔ اس ٹیم گلگت پہنچ کر سونے کے علاوہ اور کیا کرتا اے؟‘‘

’’گلگت جیسے شہر میں رات کے وقت واقعی کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ عرفان نے مایوسانہ لہجے میں اعتراف کیا۔

’’پھر ادر ای سو جاؤ ناں۔ ‘‘

’’ادھر کچھ کر سکتے ہیں ؟‘‘ عرفان نے چونک کر پُر امید لہجے میں دریافت کیا۔

’’چار ہزار روپے بچا سکتا اے۔‘‘  بابا جی نے لالچ دیا۔

’’وہ کیسے؟‘‘  عرفان ایک مرتبہ پھر چونکا۔

’’اس ٹیم آپ گلگت جاتا اے تو جیپ والا تین ساڑھے تین ہزار روپیہ لیتا اے۔ بولو  لیتا اے کہ نئی لیتا اے؟‘‘

’’پتا نہیں لیتا ہے کہ نہیں لیتا۔ چار ہزار پر اڑا ہوا ہے۔‘‘ عرفان نے بیزاری سے کہا۔

’’اور گلگت پہنچ کر ہوٹل والے کو دو تین ہزار دیتا اے۔ بولو دیتا اے کہ نئی دیتا؟‘‘

’’نہیں دیتا۔ہم ہوٹل والے کو صرف آٹھ سو روپے دیں گے۔‘‘

’’آٹھ سو ؟ تم ہوٹل کا بات کرتا اے یا گلگت جا کے بی کیمپ لگاتا اے؟‘‘

عرفان نے اس نامعقول سوال کا کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔

’’چلو آٹھ سو دیتا اے ناں۔ اس کا مطلب اے ایک رات کے لیے چار ہزار سے زیادہ خرچ کرتا اے۔ بولو کرتا اے کہ نئی کرتا؟‘‘

’’کرنے ہی پڑیں گے۔‘‘  عرفان نے مجبوری کا اظہار کیا۔

’’امارا بات مانتا اے تو نئی کرتا اے ناں۔ ابی آپ ادھر کیمپ کرتا اے اور چارسو روپے فیس دیتا اے۔ صبح صبح ہائی ایس سے گلگت جاتا اے اور سات آدمی کا ساڑھے تین سو روپے کرایہ دیتا اے۔ آپ لوگ بڑا آرام سے ساڑھے سات سو میں گلگت پہنچتا ہے اور تین ساڑھے تین ہزار روپیا بچاتا اے۔بولو بچاتا اے کہ نئی بچاتا؟‘‘

’’نہیں بچاتا۔‘‘ عرفان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔

’’کیوں نئی بچاتا؟‘‘ بابا جی نے ڈپٹ کر پوچھا۔

’’مائنڈ یور اون بزنس مسٹر بابا جی۔ بچاتے ہیں یا نہیں بچاتے،تمھیں کیا تکلیف ہے؟‘‘  عرفان کی قوتِ برداشت جواب دے گئی۔

مسٹر بابا جی نے کھا جانے والی نظروں سے عرفان کو گھورا اور مقامی زبان میں غالباً دو چار گالیاں پھٹکارنے اور جہنم میں جانے کا مشورہ دے کر … خود چلے گئے۔بابا جی کے غائب ہوتے ہی جیپ ڈرائیور بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو گیا۔ وہ شاید ہجوم کی اوٹ میں چھپ کر بابا جی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے لیے دعا کر رہا تھا۔ بابا جی کے بتائے ہوئے متبادل اقدامات کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ جیپ ڈرائیور چار ہزار کی رٹ چھوڑ کر ساڑھے تین ہزار پر آیا اور تین ہزار پر رضامند ہو گیا۔عرفان ابھی مزید سودے بازی کے موڈ میں تھا لیکن طاہر نے عالم خان اور پورٹرز کو سامان جیپ میں رکھنے کا اشارہ دے کر ڈرائیور کے چہرے پر خوشیوں کے رنگ بکھیر دیے۔

ہم نے عصر کے وقت برداس یا تربتوداس کو خدا حافظ کہا۔

برداس سے چھلت تک کے راستے کو جیپ ٹریک کے بجائے کچی سڑک کہنا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اس پر نہ صرف باقاعدہ ہائی ایس سروس چلتی ہے بلکہ کہیں کہیں چھوٹے ٹرک بھی نظر آ جاتے ہیں۔ منظر تقریباً وہی تھا جو تالنگ سے برداس تک ہمارے سامنے رہا تھا اس لیے ہم مناظر پر توجہ دینے کے بجائے اونگھنے میں مصروف تھے، لیکن فطرت ہمیں ایک غیر متوقع الوداعی تحفہ پیش کرنا چاہتی تھی۔

 دیکھتے ہی دیکھتے ایک دلکش برفانی حیرت کدہ افق پر نمودار ہوا اور اپنی پوری آب و تاب سے وادیِ  بر کے منظر نامے پر چھا گیا۔ اس برف پوش چوٹی کے سر پر کالے کالے بادل منڈلا رہے تھے اور اس کا چندن روپ کبھی اپنی چھب دکھاتا تھا،کبھی کالی گھٹاؤں کی اوٹ میں چھپ جاتا تھا۔

میں ذہنی اور جسمانی طور پر دئینتر پاس ٹریک کو الوداع کہہ چکا تھا اور اختتامی لمحات میں اتنے زبردست ’’سرپرائز‘‘  کی توقع نہیں رکھتا تھا۔ میرے ساتھی مجھ سے کم حیران نہیں تھے۔

’’ڈاکٹر صاحب یہ کون سی چوٹی ہو سکتی ہے؟‘‘  عرفان نے سوال کیا۔

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں ؟آپ نے ازابیل شا کی کتاب پڑھ کر اس ٹریک کا انتخاب کیا ہے،آپ کو علم ہونا چاہیے کہ تربتو داس سے آگے کون سی چوٹی کا ویو پوائنٹ ہے۔‘‘

’’ازابیل شا بکواس کرتی ہے۔میں شرط لگا تا ہوں کہ دنیا کا کوئی ٹریکر لوئر شانی سے بیس کیمپ ایک گھنٹے میں نہیں پہنچ سکتا۔ بیس کیمپ سے چھ گھنٹے میں تھولائی بر پہنچنا بھی ناممکن ہے۔اس چوٹی کا اس نے کوئی ذکر ہی نہیں کیا، ٹریک کی روداد سنی سنائی باتوں پر رکھ کر خواہ مخواہ گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

 عرفان نے غیر معمولی رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ایک شاندار اور مناظر سے بھرپور ٹریک کے بعد ازابیل شاکا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے تھا … اتنی سخت تنقید مناسب نہیں تھی۔ الفاظ اور انداز بھی عرفان کی ’’آئس کریم طبیعت‘‘  سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ صرف میں ہی ٹوٹ پھوٹ میں مبتلا نہیں،  عرفان کے اعصاب بھی تناؤ کا شکار ہیں۔

’’یہ راکا پوشی اے صاب‘‘  جیپ ڈرائیور نے تجسس کا خاتمہ کر دیا۔

’’راکا پوشی؟‘‘ عرفان نے بے یقینی سے دہرایا۔

اور میں شرمندہ ہوا۔

راکا پوشی نے مجھے ہمیشہ شرمندہ کیا۔ یہ میری پہلی محبت ہے۔اس کی دل کشی نے میرے دل میں کوہ نوردی کا شوق پیدا کیا۔ کریم آباد میں گزری ہوئی ہر صبح کا آغاز اس کی بارگاہِ حسن میں حاضری سے ہو تا تھا۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ راکاپوشی کے دل کش نشیب و فراز بھول سکتا ہوں۔ راکاپوشی اتنی ستم ظریف ہے کہ جب بھی درشن دیتی ہے میری محبت کے آگے سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ فیری میڈوز کے راستے میں دوری کا بہانہ تھا، یہاں میں کیا بہانہ کر سکتا تھا؟ راکا پوشی اپنے پورے جوبن کے ساتھ میری نظروں کے سامنے تھی اور میں اسے پہچاننے سے قاصر رہا تھا۔راکا پوشی سے آنکھیں چار کرنا دشوار تھا، اس کے حسن کی تجلی سے نظریں ہٹانا کسی طور ممکن نہیں تھا۔میرا حال جو تھا سو تھا،عرفان جیسا ’’عادی نشے باز‘‘  بھی راکا پوشی کے اچانک نمودار ہونے والے جلوے کی تاب نہ لا کر بہکا بہکا نظر آتا تھا۔ ہم نے اس مقام پر فوٹو گرافی کا وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ طاہر حسبِ  معمول ویڈیو بنانے میں مصروف ہو گیا۔ میں نے ایک دو شاٹ لیے اور راکا پوشی پر نظریں جما کر اس کی دلکشی میں گم ہو گیا۔ میرے ساتھی جیپ میں سوار ہو گئے اور ڈرائیور نے ہارن دے کر متوجہ کرنے کی کوشش کی تو میں چونکا۔

’’آپ لوگ چند منٹ صبر نہیں کر سکتے؟ پیسے تو اب پورے ہونے لگے ہیں۔ ‘‘

’’اچھا جی؟آپ کے پیسے اب پورے ہونے لگے ہیں ؟دئینتر پاس ٹاپ پر جھک مارتے رہے تھے؟‘‘  عرفان ایک مرتبہ پھر بھڑک اٹھا۔

’’وہ جھونگا تھا۔ کہاں راکاپوشی کہاں دئینتر ٹاپ؟اور مجھے علم ہی نہیں تھا کہ اس ٹریک پر راکا پوشی کے درشن بھی ہوں گے۔ میں آپ کے علاوہ ازابیل شا کی کتاب کا بھی شکر گزار ہوں جس نے آپ کو دئینتر پاس کی راہ دکھائی۔‘‘

’’آپ کچھ زیادہ اوور نہیں ہو رہے؟‘‘  عرفان سنجیدہ ہو گیا۔

 ’’اوور شوورکی بات نہیں، راکا پوشی دیکھ کر پاگل پاگل نظر آنا ان کی پرانی عادت ہے۔ یہ اداکاری فیری میڈوز جاتے ہوئے بھی کی گئی تھی۔‘‘  طاہر نے با موقع اطلاع فراہم کی۔

 ’’عرفان صاحب آپ نے کریم آباد سے راکا پوشی کا نظارہ کیا ہے۔ ایمانداری سے بتائیں یہ جلوہ کریم آباد کے منظر سے زیادہ خوبصورت ہے یا نہیں ؟‘‘

’’کریم آباد سے راکا پوشی کا مغربی پہلو نظر آتا ہے، یہ غالباً ساؤتھ فیس ہے اور بلا شبہ اُس منظر سے زیادہ دلکش ہے۔ میرا خیال ہے راکا پوشی کا اس سے بہتر منظر بیس کیمپ کے علاوہ شاید ہی کسی اور مقام سے نظر آتا ہو۔‘‘  عرفان نے اعتراف کیا۔

’’بھٹہ صاحب نانگا پربت ویو پوائنٹ پر سبحان اللہ کی تسبیح پڑھتے پڑھتے تھک گئے تھے۔ راکاپوشی ویو پوائنٹ کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟‘‘

’’نانگا پربت کے نام سے مردانہ جلال،اور راکا پوشی کے نام سے زنانہ جمال چھلکتا ہے  …   اور … ہم تو عاشق ہیں زنانے نام کے … باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب نے فلسفیانہ انداز میں اظہارِ خیال کیا۔

’’پس ثابت ہو ا کہ راکاپوشی آل ٹائم ملکہ حسن ہے۔دنیا کی کوئی چوٹی راکا پوشی سے زیادہ دلکش نہیں ہو سکتی۔‘‘  میں نے فیصلہ صادر کیا۔

 ’’کے۔ٹو بھی نہیں ؟‘‘ طاہر نے سوال کیا۔

’’ہرگز نہیں۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کنکارڈیا کا منظر نامہ کے۔ٹو کا محتاج نہیں۔ اس میں سے کے۔ٹو نفی کر دیں تب بھی فطرت کے برفانی عجائب گھر کا جادو اسی طرح سر چڑھ کر بولتا رہے گا۔ہنزہ اور نگر سے راکاپوشی غائب ہو جائے تو باقی کیا بچے گا؟راکا پوشی اور کے۔ٹو کا موازنہ کرنا سراسر حماقت ہے۔‘‘

’’کیونکہ کے۔ٹو دسترس سے باہر ہے۔‘‘ طاہر نے ٹھنڈی سانس لی۔

’’بالکل ٹھیک۔میں بھی یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کے۔ٹو کا حسن فطری خوبصورتی نہیں، اُس کی نا رسائی اور بلندی ہے۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ میری پہنچ سے باہر ہے۔ میں اُس حسن سے پوری طرح لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں جو میری دسترس میں ہے۔ اس لیے اپنے اپنے منہ بند رکھیں تو عین نوازش ہو گی۔‘‘

’’راکا پوشی کا فکر مت کرو۔یہ چھلت تک آپ کے سامنے رہے گا۔ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے جتنا مرضی لطف لیتے رہنا۔مگر اب چلنے والا بات کرو۔ہماری گاڑی کا لائٹ نہیں ہے۔ اندھیرا ہوتا ہے اور گاڑی روڈ سے اترتا ہے تو آپ خود ذمہ دار ہو گا۔‘‘

 اندھیرا ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں تھا لیکن جیپ ڈرائیور کی دھمکی بہت خوفناک تھی،میں فٹافٹ جیپ میں سوار ہو گیا۔

چھلت سے پہلے ہمیں بودی لاس (Bodelas) نامی قصبے سے گزرنا چاہیے تھا، لیکن جیپ ڈرائیور کے تلفظ کے مطابق ہم بڑالدس سے گزرے۔بڑالدس کافی بڑا قصبہ ہے اور برنالے کا رخ موڑ کر بنائے گئے پاور ہاؤس کے پس منظر میں اچھا خاصا دلکش معلوم ہوتا ہے۔ بڑالدس کے بعد راکا پوشی اپنے جلوے سمیٹنے لگتی ہے اور چھلت پہنچتے پہنچتے نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ چھلت ایک تاریخی اور وادیِ  نگر کا سب سے بڑا شہر ہے جسے ایک طویل عرصے تک وادیِ  نگر کا دارالحکومت ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔برطانیہ نے بلتستان پر تسلط جمانے کے لیے چھلت فتح کر کے اسے اپنا فوجی مستقر بنایا اور یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا۔ چھلت کے لیے ہونے والی جنگ سے پہلے میر آف ہنزہ نے بیان دیا۔

’’چھلت ہمارے لئے اپنی بیوی کے ازاربند سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘‘

میر آف ہنزہ کا بیان حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔چھلت کا ازار بند کھلتے ہی برطانوی گوروں، نیپالی گورکھوں اور کشمیری ڈوگروں کی متحدہ طاقت نے ۱۸۹۱عیسوی میں وادیِ  ہنزہ اور نگر کی مشترکہ افواج کو نلت کے مقام پر شکستِ فاش دی اور وادی کی عصمت پامال کرنے میں کاما ب ہو گئے۔

چھلت ایک با رونق شہر ہے اور وادیِ بر اور وادیِ چپروٹ میں ٹریکنگ کے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔چھلت میں لنچ اور چند گھنٹے قیام ہمارے پروگرام کا حصہ تھا جو تالنگ سے برداس تک غیر متوقع واک کی نذر ہو گیا۔

دریائے چپروٹ اور دریائے ہنزہ پر بنے ہوئے پل عبور کر کے ہم شاہراہِ قراقرم پر آ گئے۔چھلت سے گلگت کی نسبت کریم آباد زیادہ نزدیک ہے۔دئینتر پاس سے اضافی فوائد حاصل کرنے ہوں تو گلگت کے بجائے کریم آباد تشریف لے جائیں۔ وادیِ  ہنزہ کے حسن سے لطف اندوز ہوں اور وہیں سے راولپنڈی کے لیے بکنگ کرا لیں۔ چند سال پہلے کریم آباد سے پنڈی کے لیے ناٹکو بس سروس دستیاب نہیں تھی … اب ہے۔

چھلت سے گلگت تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ہم نے پندرہ بیس کلومیٹر فاصلہ طے کیا ہو گا کہ طاہر نے فرمائش کی۔

’’کسی جگہ جیپ روک کر مجھے ٹھندا ٹھار پانی پلا دیں۔ سخت پیاس لگی ہے۔‘‘

طاہر چھلت میں پیپسی کی دو عدد ٹھنڈی ٹھار بوتلیں ڈکار چکا تھا اور جیپ کی عقبی نشست پر انٹا  غفیل حالت میں لم لیٹ تھا۔ عرفان اور میں آگے بیٹھے تھے۔ہم نے ٹھنڈے ٹھار پانی کی تلاش میں سڑک کے دونوں جانب نظریں دوڑائیں، لیکن پانی تو دور کی بات ہے آبادی کے بھی آثار نظر نہ آئے۔طاہر نے پانچ منٹ بعد اپنی فرمائش دوہرائی اور جیپ کی رفتار میں کمی کے آثار نظر نہ آئے تو باقاعدہ سُر تال میں گانا شروع کر دیا۔

بچیاں والیو مینوں ٹھنڈا پانی پلا دیو۔

اللہ تہانوں حشر دے میدان وچہ ٹھنڈا پانی پلائے گا۔

ہماری طرف سے جواب نہ پا کر اُسے غصہ آ گیا اور اس نے کڑک کر سوال کیا۔

’’اوئے تسی مینوں ٹھنڈا پانی کیوں نئی پلاندے؟‘‘

’’پانی نظر آئے گا تو ضرور پلائیں گے۔ تم اگر چند منٹ صبر کر لو گے تو کون سی قیامت آ جائے گی ؟ گلگت پہنچ کر جتنا چاہے پانی پی لینا۔‘‘  میں نے تجویز پیش کی۔

’’کیوں ؟یہ کربلا ہے جہاں پانی نہیں ملتا؟ آپ جان بوجھ کر جیپ نہیں روک رہے۔‘‘

’’جیپ میں  نے نہیں ڈرائیور نے روکنی ہے۔آپ لیٹنے کے بجائے سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں اور جہاں پانی نظر آئے گاڑی رکوا لیں۔ ‘‘  مجھے بھی غصہ آ گیا۔

’’ڈاکٹر صاحب آپ ہر جگہ لیڈری چمکانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ٹریک پر سب کے اخراجات برابر ہوتے ہیں اور حقوق بھی برابر ہوتے ہیں۔ میرے لئے گلگت پہنچنے سے زیادہ ٹھنڈا پانی پینا ضروری ہے۔آپ کو کیا اعتراض ہے؟‘‘

دونوں طرف تھی ہائٹ برابر لگی ہوئی۔

عرفان نے ہم دونوں کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور ہمارے ٹھنڈا ہونے سے پہلے رحیم آباد آ گیا جو کسی زمانے میں ماتم داس کہلاتا تھا۔ڈرائیور نے ایک دکان کے سامنے گاڑی روکی۔ منرل واٹر کی دو عدد ٹھنڈی ٹھار بوتلیں طاہر کے حوالے کی گئیں تو وہ ماتم تمام کر کے ایک مرتبہ پھر انٹا غفیل ہو گیا۔ ڈرائیور نے شاہراہِ قراقرم کو خیر باد کہہ کر پرانی گلگت روڈ کا رخ کیا جو دینور سے آگے ایک چھوٹی سی پہاڑی سرنگ سے گزرتی ہے۔جیپ سرنگ سے چند گز کے فاصلے پر رہ گئی تو بھٹہ صاحب نے شور مچانا شروع کر دیا:

’’روکو … روکو۔‘‘

ڈرائیور نے گھبرا کر بریک لگا دیئے۔ جیپ رکتے ہی بھٹہ صاحب نے چھلانگ لگائی اور فرار ہو گئے۔ انھوں نے کافی دور جاکر بریک لگائے اور دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر ہانپنے لگے۔

’’شوکت صاحب کیا مسئلہ ہے؟‘‘  عرفان نے پریشان ہو کر دریافت کیا۔

’’اے شوکت سارے دا سارا ای مسئلہ اے۔‘‘  طاہر نے بیزاری سے کہا جو بھٹہ صاحب کے شور شرابے کی وجہ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا اور صورت حال کا اندازہ کر چکا تھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

 ’’مطلب یہ خود بتائے گا۔‘‘

’’شوکت صاحب پلیز، آخر پرابلم کیا ہے؟‘‘

’’میں اس سرنگ میں سے نہیں گزر سکتا۔‘‘  بھٹہ صاحب نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔

’’کیوں نہیں گزر سکتے؟‘‘  عرفان سخت حیران ہوا

’’مر جاؤں گا۔‘‘ بھٹہ صاحب نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں مختصر جواب دیا۔

’’تسی سارے ای نمونے او۔‘‘ عرفان نے زیر لب تبصرہ کیا۔

’’بھٹہ صاحب آپ کا فوت ہونے کا پروگرام ہوتا تو گلیشئر کی کسی دراڑ میں لڑھک گئے ہوتے۔یہاں تک صحیح سلامت پہنچ گئے ہیں تو آگے بھی کچھ نہیں ہو گا۔آ جائیں شاباش۔‘‘  میں نے پچکارتے ہوئے سمجھایا۔

’’آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ؟بند جگہوں پر میرا دم گھٹتا ہے۔‘‘

’’دم کی ایسی تیسی۔سیدھی طرح آ جاؤ ورنہ … ‘‘  طاہر نے دھمکی دی۔

’’میں نئی آنا۔‘‘  بھٹہ صاحب بچوں کی طرح ٹھنکے۔

’’تیرا تے پیو وی آئے گا۔‘‘

طاہر آستینیں چڑھاتا ہوا جیپ سے نیچے اترا۔ عرفان نے اس کا ساتھ دیا۔ دونوں نے تقریباً ڈنڈا ڈولی کے انداز میں بھٹہ صاحب کو اٹھا کر جیپ میں ’’انڈیل‘‘  دیا۔ اُن کے چہرے پر بے پناہ دہشت چھا گئی، رنگ زرد ہو گیا اور ہونٹوں پر نیلاہٹ دوڑ گئی۔ میں یہ کیفیت دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔

’’یار بھٹہ صاحب کی تھوڑی سی سائیکو تھراپی کر لی جائے تو بہتر ہے۔ سرنگ سے گزرتے ہوئے کچھ ہو گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔‘‘  میں نے تشویش کا اظہار کیا۔

’’چار قدم طویل سرنگ سے گزرتے ہوئے کیا ہو سکتا ہے؟‘‘  عرفان نے سوال کیا۔

’’ویزو ویگل شاک ہو سکتا ہے۔ ان کی جلد کی رنگت بتا رہی ہے کہ بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہو چکا ہو گا۔ اس کیفیت میں بے ہوش ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور فوت ہونے کے خدشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا۔

’’میں سچ مچ فوت ہو جانا اے۔‘‘  بھٹہ صاحب خوفناک آواز میں دہاڑے۔

’’پھر کیا کیا جائے؟‘‘  عرفان میری سنجیدگی دیکھ کر پریشان ہو گیا۔

’’کچھ دیر انتظار کریں۔ انرجائل وغیرہ پلائیں اور ممکن ہو تو سرنگ کی زیارت کرا دیں تاکہ انھیں اطمینان ہو جائے کہ سرنگ زیادہ طویل نہیں ہے۔‘‘

’’او۔کے۔‘‘  عرفان نے منظوری دی۔

بھٹہ صاحب کے چہرے پر اطمینان کے آثار نظر آئے اور چہرے کی رنگت واپس آ گئی۔ طاہر اور عرفان ابھی تک جیپ میں سوار نہیں ہوئے تھے۔ جیپ ڈرائیور نے بہ ظاہر حماقت کا مظاہرہ کیا،بہ باطن ایک زبردست ماہرِ نفسیات ہونے کا ثبوت دیا اور غیر محسوس انداز میں گیئر تبدیل کر کے پوری قوت سے ایکسلریٹر دبا دیا۔ جیپ غراتی ہوئی روانہ ہوئی اور اس سے پہلے کہ بھٹہ صاحب مرحوم و مغفور ہونے کا ارادہ کرتے، سرنگ سے گزر گئی۔

بھٹہ صاحب ہکا بکا رہ گئے۔

عرفان اور طاہر پیدل سرنگ عبور کر کے جیپ تک پہنچے تو بھٹہ صاحب اپنی نبض پر ہاتھ رکھے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہے تھے۔

’’مجھے لگتا ہے میں فوت نہیں ہوا۔‘‘ بھٹہ صاحب نے بے یقینی کا اظہار کیا۔

’’بکواس ہے۔تم سرنگ میں داخل ہوتے ہی فوت ہو گئے تھے اور گلگت پہنچتے ہی دفنا دیے جاؤ گے۔‘‘  طاہر نے بھنا کر کہا اور سیٹ پر بیٹھ گیا۔

جیپ سکائی ویز ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہوئی تو مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں۔

بھٹہ صاحب کو اُن کے شناسا کی دکان میں رکھا ہوا سامان اٹھانے کے لیے بھیج دیا گیا جو ہم ٹریک پر جانے سے پہلے ’’فالتو‘‘  سمجھ کر جمع کروا گئے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھٹہ صاحب کی واپسی پر کسی ایسے بس ٹائم میں بکنگ کروا لی جائے گی جو رات بارہ بجے کے لگ بھگ روانہ ہوتا ہو۔ اس طرح ہم تھوڑی بہت شاپنگ کر کے دو تین گھنٹے آرام بھی کر سکتے تھے۔ بھٹہ صاحب واپس تشریف لائے تو سارا پروگرام درہم برہم ہو گیا۔انھوں نے اطلاع دی کہ نہ صرف ہماری مطلوبہ دکان، بلکہ گلگت کی بیش تر دکانیں بند ہیں اور این۔ایل۔آئی مارکیٹ تو بالکل ہی بند ہے۔ اس لیے نو سامان نو شاپنگ!

گلگت کے بازاروں میں ہر ماہ کی اٹھائیس تاریخ کو کاروباری چھٹی ہوتی ہے۔کیوں ہوتی ہے؟ پوری کوشش کے باوجود اس سوال کا جواب تلاش نہیں کیا جا سکا۔ اس چھٹی کا مطلب تھا کہ آج راولپنڈی کے لیے روانہ ہونا ممکن نہیں، کل بھی دس گیارہ بجے سے پہلے مارکیٹ نہیں کھلے گی اور شاپنگ کرتے کرتے شام ہو جائے گی۔ گلگت کے قیام میں تقریباً ایک دن کا  ’’جورا جوری‘‘  اضافہ ہو گیا ہے۔

دئینتر پاس جیسے انگوٹھا شکن ٹریک کے بعد ایک رات مکمل آرام نہ کرنا اعلیٰ درجے کی بد ذوقی ہے۔ گلگت میں تعطیل کے صدقے ہم اس درجے پر فائز ہونے سے بال بال بچے اور سکائی ویز کے ڈائننگ ہال میں چکن مسالا …  معاف کیجئے گا  …  چکن ہڈی بے مسالا …  تناول فرما کر نیند کی راحت بخش وادیوں میں کھو گئے۔

اگلے روز ہم نے دن چڑھے تک گہری نیند کے مزے لوٹے۔ناشتے کے بعد شام تین بجے روانہ ہونے والی بس میں سیٹیں بک کرائیں اور این۔ ایل۔ آئی (ناردرن ایریا لائٹ انفنٹری) مارکیٹ میں داخل ہو گئے۔ گلگت کی یہ مشہور و معروف مارکیٹ میڈ ان چائنا مال سے اٹی پڑی ہے۔ چین کی بنی ہوئی مصنوعات کے معیار سے قطع نظر پارچہ جات،برقی آلات،کراکری اور سامانِ آرایش و  زیبائش کی بے تحاشہ ورائٹی انتخاب میں دشواری پیدا کرتی ہے۔عرفان اور طاہر کچھ فرمائشی تحائف کی تلاش میں تھے لہٰذا نہایت باریک بینی سے مختلف مصنوعات کا معائنہ کر رہے تھے۔ میں شاپنگ کے سلسلے میں انتہائی نا اہل ثابت ہو ا ہوں اور اہل و عیال میری نالائقی کے طفیل ’’صابر و شاکرہ‘‘  کے پُر تقدس رتبے پر فائز ہو چکے ہیں، میں نے مارکیٹ سے فرار ہو کر سکائی ویز ہوٹل کا رخ کیا۔ میرا خیال تھا جب تک یہ لوگ شاپنگ سے فارغ ہوں گے میں نیند کے مختصر جھونکے سے لطف اندوز ہو چکا ہوں گا۔ تیس گھنٹے کا نان سٹاپ سفر شروع کرنے سے پہلے یہ نیند ایک بہترین جنرل ٹانک ثابت ہو سکتی تھی۔ میں ابھی ہوٹل سے کچھ دور تھا کہ عالم خان سے ٹکراؤ ہو گیا۔اُس کا چہرہ مجھے دیکھ کر کھِل اُٹھا۔

’’اوئے سر جی ہم کافی دیر سے آپ کو تلاش کر تا ہے۔دو بار آپ کے کمرے کا چکر لگا چکا ہے۔ہمارا خیال تھا آپ لوگ آرام کرے گا۔ اتنا جلدی کدھر نکل گیا تھا؟‘‘

’’کہیں نہیں، یہیں مارکیٹ میں تھا۔ سب خیریت ہے ناں ؟‘‘

’’بالکل خیریت ہے سر،بہت زیادہ خیریت ہے۔عرفان صاحب کدھر ہے؟‘‘

’’شاپنگ کر رہا ہے۔‘‘

’’کب فارغ ہو گا؟‘‘

’’پتا نہیں، میرا خیال ہے تین چار گھنٹے لگ جائیں گے۔‘‘

’’اتنا دیر میں ہمارا کام خراب ہو جائے گا۔آپ تھوڑا مہربانی کرو اور مدینہ گیسٹ ہاؤس کا چکر لگا لو تو ہماری روزی کا بندوبست ہو جائے گا۔‘‘

’’اتنی جلدی کوئی اور ٹریک نہیں کیا جا سکتا۔‘‘  میں گھبرا گیا۔

مجھے یاد آ گیا تھا کہ مدینہ ہوٹل کے چکر نے ہمیں عالم خان کے ساتھ معاملات طے کرنے پر مجبور کیا تھا۔

’’آپ کا بات نہیں ہے سر۔ ہوٹل میں ایک گورا گروپ آیا ہے۔وہ راکا پوشی ٹریک کرنا چاہتا ہے۔ آپ اُن کو بتا ؤ کہ دئینتر پاس بہت بیوٹی فل ٹریک ہے اور اس میں راکاپوشی کا زبردست منظر نظر آتا ہے تو ہمارا کام بن جائے گا۔‘‘

’’میں بغیر تعارف اُس گروپ سے گفتگو کیسے کر سکتا ہوں ؟‘‘

’’وہ … سر آپ کا الطاف حسین کے ساتھ سلام دعا تو ہے ناں۔ آپ اُس کو بولو کہ آپ دئینتر پاس ٹریک سے آیا ہے تو وہ خود اُن لوگوں سے آپ کا تعارف کرائے گا اور ہمارا کام سیدھا ہو جائے گا۔‘‘

‘‘ چکر کیا ہے عالم خان؟‘‘  میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وضاحت چاہی۔

’’کوئی چکر نہیں ہے سر۔ گورا گروپ راکاپوشی جاتا ہے توہم ان کے ساتھ نہیں جا سکتا کیونکہ وہ ہمارا سائیڈ نہیں ہے۔ہم نے اُن کے لیڈر کا گفتگو سنا ہے۔وہ کوئی مشکل ٹریک کرنا چاہتا ہے۔ہم نے اسے بتایا ہے کہ راکا پوشی بچہ لوگ کا ٹریک ہے۔‘‘

’’راکا پوشی بچہ لوگ کا ٹریک نہیں ہے۔‘‘  میں نے بات کاٹی۔

’’آپ بات سمجھتا نہیں ہے۔راکاپوشی جیسا بھی ہے گورا لوگ ادھر جاتا ہے تو الطاف ہمیں ان کے ساتھ نہیں بھیجے گا۔ وہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ناں۔ وہ دئینتر پاس جاتا ہے تو لازمی طور پر ہمیں بھیجے گا۔ روزی کا ضرورت کسے نہیں ہوتا سر؟‘‘

’’تم خود کیوں نہیں بتاتے کہ دئینتر پاس کر آئے ہو اور یہ راکا پوشی ٹریک کی نسبت قدرے مشکل اور بہت زیادہ خوبصورت ٹریک ہے۔‘‘

’’ہم بتاتا ہے ناں۔ مگر گورا لوگ ہماری بات پر یقین نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے ہم گائیڈ ہے اور کاروباری بات کرتا ہے۔‘‘

مجھے عالم خان کا فلسفہ سمجھ نہیں آیا لیکن مدینہ ہوٹل جانے کا آئیڈیا پسند آیا۔ میں خود بھی الطاف سے مل کر بتانا چاہتا تھا کہ ہم نے دئینتر پاس ٹریک کے لیے صرف چھ ہزار روپے فی کس (گلگت تا گلگت ) خرچ کئے تھے۔

مدینہ ہوٹل کے کاؤنٹر پر الطاف کی جگہ ایک نیا چہرہ براجمان تھا۔اُس نے بتایا کہ الطاف صاب کسی غیر ملکی گروپ کے استقبال کے لیے ایئر پورٹ گیا ہے۔وہ الطاف خان کا کزن اور بزنس پارٹنر ہے۔

’’آپ کو الطاف صاب سے کیا کام تھا؟‘‘

’’کوئی کام نہیں تھا۔اُس نے کہا تھا ٹریک سے واپسی پر مل کر جانا۔ ہم آج واپس جا رہے ہیں اس لیے الوداعی سلام کرنے حاضر ہوا تھا۔‘‘

’’آپ کون سے ٹریک سے واپس آئے ہیں۔ ‘‘

’’دئینتر پاس گئے تھے۔‘‘

’’جی ی ی …  آپ دئینتر پاس کراس کر آئے ہیں۔ ‘‘ وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’آف کورس۔‘‘   …  ریمبو خوش ہوا۔

’’آپ کس کے ساتھ گیا تھا؟‘‘

 ’’عالم خان کے ساتھ۔وہ بتا رہا تھا کہ اُس کا تعلق اسی ہوٹل سے ہے۔‘‘

’’عالم خان ہمارا با قاعدہ گائیڈ نہیں ہے۔ وہ بہت فراڈی بندہ ہے۔ ہم لوگ اسے چکری خان بولتے ہیں۔ اُس نے آپ کے ساتھ کوئی چکر نہیں چلایا؟‘‘

’’ہرگز نہیں۔ ہم اس کی خدمات کے لیے شکرگزار ہیں۔ ‘‘

 ’’کمال ہو گیا جی۔میں نے پہلا کلائنٹ دیکھا ہے جو چکری خان کی تعریف کر رہا ہے۔ بہرحال یہ بتائیں کہ دئینتر پاس آپ کو کیسا لگا؟ہمارا ایک گروپ دئینتر پاس میں دلچسپی لے رہا ہے اور ہمارے پاس اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ‘‘

’’اُس گروپ سے میری ملاقات نہیں ہو سکتی؟‘‘

’’پتا نہیں سر۔ وہ بہت اکھڑ مزاج لوگ ہے۔‘‘  اُس نے تذبذب کا اظہار کیا۔

’’ہم اُن سے زیادہ اکھڑ مزاج لوگ ہے۔اللہ حافظ۔‘‘  میں اٹھ کھڑا ہوا۔

’’آپ ایک منٹ رکو سر۔میں ان کو بلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ لوگ درمیانے درجے کا کوئی ٹریک کرنا چاہتا تھا اور ہم نے ان کے لیے راکاپوشی ٹریک تجویز کیا تھا۔ یہاں پتا نہیں کس نے کہہ دیا ہے کہ وہ بالکل آسان ٹریک ہے۔ اب وہ خواہ مخواہ ہمارے اوپر غصہ کرتا ہے کہ ہم نے انھیں غلط گائیڈ کیا۔‘‘

اُس نے گھنٹی بجائی اور اس کے نتیجے میں نمودار ہونے والے لڑکے کو حکم دیا کہ کچن میں چائے کا کہنے کے بعد کمرہ نمبر چار سے جیک صاحب کو بلا لائے۔

 چائے آنے کے چند منٹ بعد ایک دبلا پتلا دراز قامت گورا کمرے میں داخل ہوا اور سوالیہ نظروں سے کاؤنٹر مین کو گھورنے لگا۔مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ روایتی ’’گورا صاب‘‘  ہے جو کالوں کو منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔

’’سر یہ لوگ دئینتر پاس ٹریک سے واپس آیا ہے۔‘‘  کاؤنٹر مین نے انتہائی ٹوٹی پھوٹی انگلش میں گورا صاحب کا اطلا ع دی۔

گورا صاحب نے اچٹتی ہوئی نظر مجھ پر ڈالی،پھر تفصیل سے جائزہ لینے کی اداکاری کی۔

’’یہ شخص دئینترکر آیا ہے تو میں اس ٹریک سے دستبردار ہوتا ہوں۔ ‘‘

’’کیوں سر؟‘‘ اُس نے حیرت سے پوچھا۔

 ’’میں نے ہزاروں میل کا سفر واک کرنے کے لیے نہیں کیا۔ ٹریک کسی حد تک ٹف ہونا چاہیے۔ پہلے راکا پوشی،اب دئینتر۔تم کوئی ڈھنگ کا ٹریک منتخب نہیں کر سکتے؟‘‘

’’یہ لوگ مشکل ٹریک کرنا چاہتے ہیں تو تم انھیں غونڈو غورو  یا سنو لیک کیوں نہیں لے جاتے؟‘‘  میں نے اردو میں تجویز پیش کی۔

’’یہ اُدھر نہیں جا سکتا۔‘‘  اُس کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’کیوں نہیں جا سکتے؟‘‘

’’یہ بات ان کا گروپ دیکھنے کے بعد ہی سمجھ میں آئے گا، ایسے بتانا بہت مشکل ہے۔ میں اسے جواب دے لوں پھر آپ سے بات ہو گی۔‘‘

’’راکاپوشی ٹریک واک نہیں ہے سر،اور دئینتر پاس بہت ٹف ٹریک ہے۔‘‘

’’کیا یہ شخص انگلش بول سکتا ہے؟‘‘

کاؤنٹر مین نے جواب طلب نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے بالواسطہ سوال کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور خاموش رہا۔ اس نے فرض کر لیا کہ میں انگلش سے نا بلد ہوں۔

’’تم اسے چند منٹ روکے رکھو۔میں اپنے ساتھیوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ دئینتر پاس کس قسم کے ٹریکرز کو سوٹ کرتا ہے۔‘‘ اُس نے حکم صادر کیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

’’آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔آپ سچ مچ انگلش نہیں سمجھتے؟‘‘

’’جواب بھی دے لیں گے،ذرا اُس کے ساتھیوں کا دیدار ہو جائے۔‘‘

’’ضرور …  ضرور۔بڑا مزہ آئے گا۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

 ’’ابھی وہ لوگ آتا ہے ناں۔ آپ خود سمجھ جائے گا۔‘‘

 چند منٹ بعد جیک تین افراد کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا جن میں دو انتہائی متضاد خواتین شامل تھیں۔ ایک خاتون کی نزاکت گلاب کے پھول کو شرماتی تھی، دوسری کی جسامت گوبھی کے پھول کو ڈراتی تھی۔

 ’’تم دئینتر پاس سے گھبرا رہی ہو۔یہ اولڈ مین دئینتر کراس کر سکتا ہے تو تم کیوں نہیں کر سکیں  ؟ویسے میں اب وہاں نہیں جانا چاہتا۔‘‘  جیک نے دیو قامت خاتون کو مخاطب کیا۔

’’اب کیا ہو گیا ہے؟‘‘

جثے کے برعکس اُس کی آواز انتہائی باریک اور سریلی تھی۔مجھے محسوس ہوا کہ کسی سفید ہتھنی نے پی ہو پی ہو کرنا شروع کر دیا ہے۔

’’میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جس ٹریک کو اس قسم کے حضرات آسانی سے مکمل کر سکتے ہیں وہ دشوار کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’تمھارے ذہن پر دشواری کیوں سوار ہو گئی ہے؟مائیکل بھی اس ٹریک کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے۔یہ ٹریک ہماری توقع سے آسان ہے تو برائی کی کیا بات ہے؟ تم اس سے ٹریک کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرو۔‘‘  گڑیا نما خاتون نے اپنے ساتھی کو تجویز پیش کی۔

’’یہ انگلش نہیں بول سکتا۔‘‘ جیک نے بیزاری سے کہا۔

’’دئینتر پاس ٹریک کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے۔‘‘  خاتون نے الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بیک وقت اشاروں اور آنکھوں کی زبان سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی …  واللہ  …   مزہ آ گیا۔

’’دئینتر پاس اتنا آسان ٹریک نہیں ہے معزز خاتون جتنا تمہارا بوائے فرینڈ سمجھ رہا ہے۔ یہ واقعی سٹرنس ہے اور اس کا ثبوت میرے پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن ہے۔‘‘

’’تم انگلش بول سکتے ہو؟‘‘  جیک نے اس انداز میں سوال کیا جیسے میں نے دھوکے میں رکھ کر اُس کی توہین کر دی ہو۔

’’آف کورس۔‘‘

’’او۔کے۔ ٹریک کے بارے میں بتانے سے پہلے تصحیح کر لو کہ روزی میری گرل فرینڈ نہیں، مائیکل کی ساتھی ہے۔میری گرل فرینڈ ہنی ہے۔‘‘ اس نے مکھن پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھردرے لہجے میں کہا۔

ہنی لمبی چوڑی ضرور تھی،خط و خال برے نہیں تھے۔دیو پیکر کے بجائے دیو اینڈ پری پیکر کا نمونہ تھی۔ موپساں کی باؤل ڈی سوف،مکھن کا پہاڑ۔ نام کی مناسبت سے دیکھا جائے تو شہد ملے مکھن کا پہاڑ۔ میں بخوبی سمجھ گیا کہ کاؤنٹر مین اس گروپ کے بارے میں بتاتے ہوئے مسکرا کیوں رہا تھا۔ جیک ضرورت سے زیادہ سمارٹ تھا اور اس کی گرل فرینڈ کا حجم اُس سے چار گنا زیادہ تھا۔ روزی اور مائیکل کا معاملہ بالکل الٹ تھا۔ یہ سو فیصد پہاڑ اور گلہری یا ہاتھی اور پدی کی جوڑیاں تھیں۔ مجھے اس تضاد اور اس کے ’’نفاذ‘‘  پر شدید حیرت ہوئی۔ مغربی معاشرے کی آزاد خیالی اس قسم کی بے ترتیبی قبول نہیں کرتی۔ نہ جانے وہ کیوں کر ایک دوسرے کا ساتھ نبھا رہے تھے۔

’’تم اگر مائنڈ نہ کرو تو میں ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ ‘‘  میں نے عالم خاں کی خاطر  بے تکلفی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی،اور وہ فوراً پیدا ہو گیا۔

’’ہم ضرور مائنڈ کریں گے۔ تم جو مشورہ دینا چاہتے ہو میں جانتا ہوں۔ دشواری یہ ہے کہ ہم اپنے ساتھی تبدیل نہیں کر سکتے۔ان کا تعلق سپین سے اور ہمارا ہالینڈ سے ہے۔‘‘  جیک کے بجائے مائیکل نے جواب دیا،اور قدرے مسکراتے ہوئے دیا۔

’’میں صرف یہ مشورہ دینا چاہتا تھا کہ مس ہنی نام کی مناسبت سے شہد کا باقاعدہ استعمال شروع کر دیں تو ان کی صحت مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔ ‘‘  میں نے معصومیت سے کہا۔

جیک کے علاوہ سب نے زوردار قہقہہ لگایا۔

’’آپ لوگ اکٹھے کیسے ہو گئے؟‘‘ میں نے مائیکل سے سوال کیا۔

 ’’یاہو (Yahoo)کے ٹریکنگ فورم پر۔ابتدا میں ہمارا گروپ بارہ افراد پر مشتمل تھا۔ آہستہ آہستہ اراکین کی تعداد کم ہوتی گئی۔‘‘

 ’’وہ کیوں ؟‘‘

’’لگتا ہے تمھیں اپنے ملک کے اندرونی حالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ‘‘

’’دہشت گردی کا خوف؟‘‘

’’آف کورس۔‘‘

میں افسردہ ہونے کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا؟

’’تم کسی ثبوت کی بات کر رہے تھے؟‘‘ جیک نے دخل اندازی کی۔

میں نے چپل سے پاؤں نکالا اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔دائیں پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن اکھڑ کر سیاہ ہو چکا تھا۔بائیں پاؤں کے انگوٹھے کے علاوہ چند انگلیوں کے ناخنوں کے نیچے خون جما ہوا تھا۔ بے شک یہ ٹریک کی دشواری سے زیادہ عالم خان کے جوگرز کی کارستانی تھی،لیکن عالم خان کی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ بے ضرر فراڈ ناگزیر تھا۔آخر عالم خان کی روزی کا مسئلہ تھا۔

 جیک کے سپاٹ چہرے پر اکھڑا ہوا ناخن دیکھ کر نرمی اتر آئی اور وہ کئی سیکنڈ تک اوہ مائی گاڈ،اوہ مائی گائیڈ کی گردان کرتا رہا۔

 ’’ویری سیڈ، مگر یہ ہوا کیسے ؟‘‘

 ’’وہاں پتھر بہت زیادہ ہیں اور کوئی باقاعدہ راستہ نہیں ہے۔ خاص طور پر ٹاپ کی چڑھائی اور اترائی کے دوران بے تحاشہ ٹھوکریں لگتی ہیں۔ میرے ٹریکنگ شوز قدرے تنگ تھے اور پاؤں پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے تھے۔‘‘

 ’’اس کا مطلب ہے میں اس ٹریک کیلئے فٹ نہیں ہوں ؟‘‘ پری پیکر ہنی نے کہا۔

 ’’مجھے سخت افسوس ہے مادام کہ میں تمہیں اپنے ساتھی سے نہیں ملوا سکتا جس کا قد مجھ سے ایک انچ کم اور وزن پندرہ کلو زیادہ ہے۔ اس نے ٹریک کے دوران ٹریکنگ شوز استعمال کرنے کی زحمت نہیں کی،عام جوگرز میں ٹریک مکمل کیا ہے۔اُ سے دیکھ کر تمہیں فوراً یقین آ جاتا کہ تم یہ ٹریک با آسانی کر سکتی ہو۔‘‘

’’تمھارا وہ گریٹ ساتھی کہاں ہے؟‘‘

’’شاپنگ کر رہا ہے۔‘‘

’’یہاں نہیں آ سکتا؟‘‘

 ’’کیوں نہیں آ سکتا۔ میں اگر اسے بتاؤں کہ ایک دلکش خاتون اُس سے ملاقات کی شائق ہے تو سر کے بل دوڑا آئے گا۔‘‘

 ’’پلیز اسے بتا ؤ۔‘‘   اُس نے فرمائش کی۔

’’ویری سوری مادام۔‘‘

 ’’کیوں ؟‘‘

’’اس ٹریک میں کسی خاتون سے ملاقات تو دور کی بات ہے، ڈھنگ کے مرد سے بھی مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔میں یہ اعزاز صرف اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں کہ دئینتر پاس ٹریک کے دوران غیر ملکی خواتین سے نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ کافی دیر گپ شپ بھی رہی۔‘‘

 ’’ویری امیزنگ۔ میں نے کسی مقامی سے اس انداز میں گفتگو کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ میرا خیال ہے تم لوگ بہت ریزرو رہتے ہو۔‘‘

  ’’ریزرو نہیں رہتے،مرعوب ہو جاتے ہیں، لیکن اتنی دل کش اور سمارٹ خاتون سے گپ شپ کرتے وقت مرعوب ہونے کی حماقت کون کرے گا؟‘‘

ایک با جماعت قہقہہ بلند ہوا۔

’’میں اپنی دلکشی سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اس وقت ٹریک کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔‘‘

 ’’تم نے دئینتر پاس کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل کی تھیں ؟‘‘

 ’’کہیں سے نہیں۔ ہم راکا پوشی بیس کیمپ ٹریک کرنے آئے تھے۔ جیک نے کسی پورٹر وغیرہ سے سن لیا کہ یہ ایک سادہ سی واک ہے اور اس کے مناظر صرف راکاپوشی ویو تک محدود ہیں۔ جیک نے اسی بجٹ اور دورانیے کے متبادل ٹریک کے بارے میں دریافت کیا توپورٹر نے دئینتر پاس کی تجویز پیش کر دی اور یہ بھی بتا یا کہ اس ٹریک پر راکا پوشی کا اتنا ہی خوبصورت منظر دیکھا جا سکتا ہے جتنا بیس کیمپ سے نظر آتا ہے۔‘‘

’’اور تم نے کسی پورٹر کے کہنے پر اپنا پروگرام تبدیل کر دیا؟‘‘

’’ابھی تبدیل نہیں کیا۔سوچ رہے ہیں کہ راکا پوشی ویو کے ساتھ ساتھ نل تر، دئینتر اور بار وادیوں کی سیر ہو جائے تو کیا بُرا ہے۔تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘

 یہ ’’پورٹر‘‘  عالم خان کے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا؟ وہ سچ مچ چکری تھا۔ اُس نے چند ہفتے پہلے ایک گروپ پکھورا پاس کیلئے گائیڈ کیا اور فوراً بعد ہمیں پکھورا کے لیے ورغلانے کی کوشش کی۔ اب وہ تازہ تازہ دئینتر پاس سے واپس آیا تھا اور گوروں کو اسی ٹریک کے لیے پھنسانے کی کوشش کر رہا تھا۔غیرملکی گروپ گھر سے آئٹی نریری بنا کر نکلتے ہیں اور اس میں ’’کسی‘‘  کے کہنے پر تبدیلی کرنا پسند نہیں کرتے۔عالم خان کی چکر بازی کا کمال تھا کہ ہنی  گروپ راکا پوشی بیس کیمپ جیسے خوبصورت ٹریک سے متنفر ہو کر اس کا متبادل تلاش کر رہا تھا۔ میں انھیں مشورہ دینا چاہتا تھا کہ:

چکری کے مت فریب میں آ جائیو ہنی

’’عالم‘‘  تمام حلقہ دامِ فراڈ ہے

لیکن عالم خان کی روزی کے پیش نظر میں نے کہا:

’’تم بے فکر ہو کر دئینتر پاس ٹریک کرو۔میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تم اسے انجوائے کرو گے اور پاکستان کو ہمیشہ یاد رکھو گے۔‘‘

راکاپوشی بیس کیمپ ٹریک کے پرستاروں، اور خود راکا پوشی کی تمام تر دل نوازی سے معذرت کے ساتھ،میں نے یہ مشورہ عرفان کے فرمودات کی روشنی میں دیا تھا۔ عرفان کئی مواقع پر ارشاد فرما چکا تھا کہ راکاپوشی بیس کیمپ زنانہ و بچکانا ٹریک ہے جس میں ایک چھوٹی سی گلیشئر واک اور راکا پوشی کے منظر کے سوا کچھ نہیں رکھا۔

 عالم خان کے لیے اس سے زیادہ چکر بازی نہیں کی جا سکتی تھی۔ میں جیک اینڈہنی وغیرہ کو بائی بائی کہہ کر سکائی ویز ہوٹل آ گیا۔پروگرام کے مطابق ہمیں ساڑھے بارہ بجے نیو پٹھان ہوٹل میں افغانی پلاؤ تناول فرمانا تھا،سامان پیک کرنا تھا،اور اڑھائی بجے سکائی ویز سے چیک آؤٹ کر کے بس سٹاپ کے لیے روانہ ہو جانا تھا۔

٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: