Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 9

0
جہاں پریاں اترتی ہیں از ڈاکٹر محمد اقبال ہما – قسط نمبر 9

–**–**–

Mighty oceans of darkness gently flow

Shiny pearls like stars brightly glow

Sensation of your elegant bloom

Appears once in a blue moon

Hemakumar Nanayakkara

جب گھٹا ٹوپ اندھیرے کے سمندر میں ستاروں کے موتی جگمگا رہے ہوں تو محبت بھرے جذبات و احساسات چاند کی کرنوں کا بھیس بدل لیتے ہیں

ہیما کمار نانا یاکر

ہم اپنی نوک جھونک اور گپ شپ میں مگن تھے کہ طاہر نے ایک زوردار چیخ ماری اور چھلانگ لگا کر دور جا کر کھڑا ہو۔ہمارے قریب کھڑی ہوئی ایک دیو قامت زومو اسے خوفناک نظروں سے گھور رہی تھی۔

’’یہ مجھے کچا ہی کھانے لگی تھی۔‘‘  طاہر نے گردن سہلاتے ہوئے فریاد کی۔

  اس کی قمیص کا کالر گیلا ہو رہا تھا۔زو مو نے غالباً کالر چبانے کی کوشش کی تھی۔

ہم نے زومو کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگانے کی کوشش کی،اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ہمیں احساس ہوا کہ ارد گرد کی چٹانوں پر گھومنے پھرنے والے مویشی جوق در جوق ہماری جانب امڈے چلے آرہے ہیں۔ کم و بیش پندرہ بیس ’’زویات‘‘  ہمیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے چکے تھے اور اس انداز میں جائزہ لے رہے تھے جیسے کسی ’’زو‘‘  (zoo)کے تعلیمی و تفریحی دورے پر تشریف لائے ہوں۔

’’عالم خان یہ نامعقول فوج حملے کی تیاری کیوں کر رہی ہے؟ ان کے تیور ٹھیک نہیں لگتے۔‘‘ بھٹہ صاحب نے کہا۔

’’سر یہ حملہ نہیں کرتا نمک مانگتا ہے۔‘‘

’’نمک؟ہم سے نمک کیوں مانگ رہے ہیں ؟‘‘

’’ان کا مالک ہر ہفتے ادھر آتا ہے اور انہیں نمک کھلاتا ہے تاکہ ان کا پیٹ ٹھیک رہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ ہم لوگ ان کے لیے نمک لایا ہے۔‘‘

’’مالک ہفتے میں صرف ایک مرتبہ آتے ہیں ؟‘‘  بھٹہ صاحب حیران ہوئے۔

’’ہاں ناں۔ ‘‘

’’ان کا دودھ کو ن نکالتا ہے؟‘‘

’’دودھ کوئی نہیں نکالتا۔ ان کا بچہ پیتا ہے۔ بچہ لوگ تین چار سال کا ہو جاتا ہے تو مالک اسے بیچ کر پیسا بناتا ہے۔‘‘

’’اور زوکو یہیں چھوڑے رکھتا ہے،رکھوالے کے بغیر؟‘‘

’’رکھوالا ادھر کیا کرے گا؟‘‘

’’یہ تمام زو ایک ہی مالک کے ہیں ؟‘‘ میں نے دریافت کیا۔

’’نہیں سر۔ پورے علاقے کے لوگوں کا ہے ناں۔ سب نے اپنا اپنا نشان لگایا ہوا ہے۔ زو مو بچہ دیتا ہے تو مالک آتا ہے اور اس کے جسم پر اپنا خاص نشانی داغ دیتا ہے، جانور ادھر ادھر گھومتا رہتا ہے اور بچہ دیتا رہتا ہے۔‘‘

’’سردیوں میں ہر طرف برف ہوتی ہو گی۔اُس وقت مویشی کہاں جاتے ہیں ؟‘‘

’’سردیوں میں جانور نیچے چلا جاتا ہے ناں۔ پھر مالک ان کا دودھ نکالتا ہے اور شہر جا کر بیچ دیتا ہے۔مکھن بنا کر بھی بیچتا ہے۔‘‘

’’یہ جم کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ انھیں یہاں سے بھگانے کی کوشش کرو۔‘‘

’’ان کو نمک نہیں ملتا ہے تو اپنی مرضی سے واپس جاتا ہے۔ بھگانے سے نہیں جاتا۔‘‘

’’ان میں کوئی یاک نہیں ہے؟میں نے پڑھا ہے کہ دئینتر پاس بیس کیمپ کے آس پاس یاک اور مارخور نظر آ سکتے ہیں۔ ‘‘ عرفان نے کہا۔

’’بہت پرانا بات ہو گیا سر۔کسی زمانے میں ادھر بہت مارخور ہوتا تھا اب نظر نہیں آتا۔اصل یاک بھی اب نظر نہیں آتا۔گورا لوگ زو کو یاک سمجھ لیتا ہے اور ہم لوگ انھیں یہی بتاتا ہے کہ یہ یاک ہے۔‘‘

’’یاک اب نظر کیوں نہیں آتا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’یاک پالنا بڑا مشکل کام ہے۔ خرچامرچا بہت زیادہ ہوتا ہے۔اب وہ صرف فارم وغیرہ میں نظر آتا ہے۔‘‘

’’وہ گورے جو زو کو یاک سمجھ لیتے ہیں اب یہاں نہیں آتے؟‘‘

’’آج کل نہیں آتا۔چار پانچ سال پہلے بہت گورا لوگ آتا تھا۔ ہم کو یاد ہے ایک گوری نے بہت طوفان مچایا تھا۔‘‘

’’طوفان؟کیسا طوفان؟‘‘ عرفان نے دریافت کیا۔

’’سر وہ ادھر آیا اور اس چوٹی کے گلیشئر پر خیمہ لگا کر پورا ہفتہ گزار دیا۔‘‘ عالم خان نے سنو ڈوم نامی چوٹی کی طرف اشارہ کیا۔

’’ایک ہفتے تک وہ یہاں کیا کرتی رہی؟‘‘

’’وہ پریوں کا دیدار کرنے ادھر آیا تھا۔یہ جو سنو ڈوم اور مہربانی پیک ہے نا سر۔ اس کے اوپر بہت سارا پری لوگ رہتا ہے۔‘‘

’’پریوں کے دیدار کے لیے کوئی مرد پاگل ہو سکتا ہے، ایک خاتون کو پریوں سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟‘‘ عرفان نے اعتراض کیا۔

’’پریوں کے شوہروں پر ڈورے ڈالنا چاہتی ہو گی۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہو سکتا ہے وہ ہم جنس پرستی کی شوقین ہو۔‘‘  بھٹہ صاحب نے بھی خیال آفرینی کی۔

’’شوقین تو تھا ناں سر۔ اس کا سکریو بھی تھوڑا ڈھیلا تھا۔جس دن دھوپ نکلتا اور موسم اچھا ہوتا تو وہ اپنا جیکٹ، شرٹ اور ٹراؤزر اتار دیتا تھا۔‘‘

’’ہائیں ؟ پھر وہ پہنے کیا رہتی تھی؟‘‘ بھٹہ صاحب نے تجسس سے سوال کیا۔

’’بلاؤزر اور کچھی پہنتا تھا ناں، اور کیا پہنتا؟‘‘

’’وہ اکیلی تھی؟‘‘ عرفان نے پوچھا۔

’’بالکل اکیلا تھا۔‘‘

’’کمال ہے۔ پھر وہ کسے دکھانے کے لیے جیکٹ اور ٹراؤزر اتارتی تھی؟‘‘

’’کمال تو آپ کرتا ہے سر۔اسے دیکھنے والوں کا کون سا کمی تھا؟ آپ یقین کرو سات آٹھ دن تک میلا لگا رہا تھا۔ہم خود اسے دیکھنے روزانہ ادھر آتا تھا۔‘‘

’’کہاں سے آتا تھا۔‘‘

’’ہمارا گھر نل تر میں ہے ناں، اُدھر سے آتا تھا۔‘‘

’’اسے کوئی روکتا ٹوکتا نہیں تھا؟‘‘

’’ادھر روک ٹوک والا لوگ نہیں آتا تھا۔نظارا کرنے والا لوگ آتا تھا۔‘‘

’’اُس نے کسی کو لفٹ نہیں دی؟‘‘

’’نو سر جی۔اس معاملے میں وہ بہت حرامی تھا۔ سب کی طرف دیکھ کے مسکراتا تھا۔ ہاتھ واتھ ہلاتا تھا۔ اپنے پاس نہیں بلاتا تھا۔‘‘

’’کسی نے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش نہیں کی؟ اکیلی عورت اگر خود دعوتِ نظارہ دے تو کئی منچلے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ ‘‘

’’ادھر ایسا نہیں ہوتا سر۔ہمارا روزی ٹورسٹ کے سر پر چلتا ہے۔ ہم اگر ٹورسٹ سے زبردستی کرے گا تو ٹورسٹ ادھر نہیں آئے گا۔ ہم روزی کیسے کمائے گا؟‘‘

’’لیکن کئی علاقوں میں ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ نانگا پربت کے آس پاس ایسے ہی ایک واقعے کو زبردست شہرت ملی تھی۔‘‘ میں نے یاد دلایا۔

’’ہوا ہو گا سر۔ ہمارے علاقے میں زبردستی نہیں  ہوتا۔‘‘

’’اور رضامندی سے؟‘‘

’’رضامندی سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔ ہمارے گاؤں کے کئی لڑکوں نے گوریوں سے دوستی بنایا۔ گوریوں کو وہ لوگ اتنا پسند آیا کہ شادی کر کے انھیں اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ اب وہ سب باہر کے ملک میں عیش کرتا ہے۔‘‘

’’تم نے کسی کے ساتھ دوستی نہیں بنائی؟‘‘

’’سر جی جب سے طالبان شالبان کا چکر شروع ہوا ہے سارا معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ہے۔ آپ دس سال پہلے آتا تو بیس کیمپ پر گورا لوگ کا میلہ لگا ہوتا۔کیمپ فائر ہوتا، ڈانس مانس ہوتا، بوتل شوتل کھلتا۔مگر اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔دوستی کا چانس کیسے بنتا ہے؟‘‘

’’تم نے کسی ڈانس مانس میں شرکت کی ہے؟‘‘

’’بہت سارے میں کیا ہے۔‘‘

’’کسی گوری نے لفٹ نہیں دی۔‘‘  بھٹہ صاحب نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

’’دیا تھا سر۔کیوں نہیں دیا تھا؟‘‘

’’اچھا؟تم جیسوں کو بھی لفٹ مل جاتی ہے؟‘‘  عرفان حیران ہوا۔

’’بالکل ملتا تھا سر۔‘‘

’’کس بے وقوف سے ملی تھی؟‘‘  عرفان نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

’’ایک جاپانی گڑیا تھا۔ہم نے اسے حایول پاس کرایا تھا۔‘‘

’’وہ حایول پاس کراس کرنے جاپان سے اکیلی پاکستان چلی آئی تھی؟‘‘

’’اس کا بوائے فرینڈ ساتھ تھا ناں۔ پورا بندر کا بچہ لگتا تھا۔ اللہ نے کرم کیا اور وہ جاپانی بندر بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ ڈاکٹر کہتا تھا کہ اسے گردن توڑ بخار ہو گیا ہے، ہفتہ دس دن ہسپتال میں گزارنا پڑے گا۔‘‘

’’اور اس کی گرل فرینڈ اسے ہسپتال میں چھوڑ کر تمھارے ساتھ حایول پاس کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔‘‘ بھٹہ صاحب نے ملامت آمیز لہجے میں افسوس کا اظہار کیا۔

’’اور کیا کرتا؟‘‘

’’اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی۔ اس کی تیمار داری کرتی۔‘‘

عالم خان ہنسنے لگا۔

’’جاپان میں ایسا نہیں ہوتا ناں۔ اس کا خیال تھا کہ پاکستان کا نرس لوگ بھی بیمار کا اتنا ہی دیکھ بھال کرتا ہے جتنا جاپان کا نرس کرتا ہے۔وہ ہسپتال میں قید ہو کر اپنا ٹائم اور پیسا ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔‘‘

’’اور تم دونوں نے کلم کلے حایوں پاس کراس کیا ؟‘‘  بھٹہ صاحب فکر مند ہو گئے۔

’’ہاں ناں۔ ‘‘

 ’’کوئی پورٹر ساتھ نہیں تھا؟‘‘

’’پورٹر کا ضرورت نہیں تھا۔اس کا سامان بہت تھوڑا تھا۔جین کا دو تین ٹراؤزر تھا، دو تین شرٹ، ایک جیکٹ، سلیپنگ بیگ اور ٹینٹ۔ٹینٹ ہم اٹھاتا تھا،اپنا رک سیک وہ خود اٹھاتا تھا۔‘‘

’’اور تمھارا سامان؟‘‘

’’ہمارا کیا سامان تھا؟صرف سلیپنگ بیگ تھا۔‘‘

’’کھانے کا سامان تو ہو گا نا؟‘‘

’’کھانا ہم آس پاس کی بستی سے لاتا تھا جیسے آپ کے لیے روٹی لاتا ہے۔نل تر ٹاپ کے پاس کوئی بستی نہیں تھا تو ہم نے ڈرائی فروٹ پر گزارا کیا۔‘‘

’’ٹینٹ ایک تھا تو تم کہاں سوتے تھے؟‘‘

’’جہاں آج سوئے گا۔کوئی بہک وغیرہ مل جاتا تھا ناں، مگر نل تر پاس پر رات کا ٹائم بہت برف باری ہوا تو ہم اس کے ٹینٹ ہی میں سویا تھا۔‘‘

’’اوئے تم دونوں ساری رات کیا کرتے رہے تھے؟‘‘ بھٹہ صاحب چونکے۔

’’لڈو کھیلتا تھا ناں۔ ‘‘ عالم خان نے بھٹہ صاحب کی لا علمی کا مذاق اڑایا۔

’’لڈو کھیلتے تھے؟‘‘ بھٹہ صاحب نے حیرانی سے دہرایا۔

’’اور کیا کرتا؟‘‘ عالم خان نے معصومیت کا مظاہرہ کیا۔

’’تمھیں پتا نہیں کہ کوئی گوری اپنے خیمے میں سونے کی اجازت دے تو کیا کرتے ہیں۔ ‘‘ عرفان نے آنکھیں نکالیں۔

   ’’پتا تو ہے سر جی، مگر نل تر ٹاپ کے نالے کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے اور ہم کو  ٹھنڈے پانی میں نہانے سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘  عالم خان نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔

’’اس نے تمھیں اپنے ساتھ جاپان چلنے کی دعوت نہیں دی؟‘‘

’’ہم واپس گلگت پہنچا تو بندر کا بچہ ٹھیک ہو چکا تھا۔‘‘  عالم خان کے لہجے میں حسرتوں کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔

یہ خوش گپیاں سبزہ زار پر دراز ہو کر اس وقت تک جاری رہیں جب تک تھکاوٹ کا احساس باقی رہا۔ زائل ہونے والی توانائی واپس لوٹ آئی تو منظر بینی اور منظر کشی کا خیال آیا۔ عالم خان کو چائے کی تیاری کا حکم دیا گیا اور ہم فوٹو گرافی میں مصروف ہو گئے۔ دئینتر پاس بیس کیمپ ایک خوبصورت کیمپنگ سائٹ ہے۔نل تر پیک کی ہم آغوش ہونے والی جڑواں بلندیوں کا بہترین نظارہ اسی سبزہ زار سے کیا جا سکتا ہے۔ شانی پیک کی رعنائیاں، سنوڈوم کی دل ربائیاں اور مہربانی پیک کی مہربانیاں بیس کیمپ کی دلکشی میں افسانوی رنگ بھرتی ہیں۔

ٹوئین ہیڈ پیک (جڑواں چوٹیاں ) نل تر وادی کے ماتھے کا جھومر کہلانے کی حق دار ہیں۔ نیلولوٹ سے لوئر شانی تک سفر کے دوران یہ آپ کے بائیں (مغرب )جانب رہتی ہیں۔ جنوبی چوٹی کی بلندی ۵۶۳۹میٹر ہے اور شمالی چوٹی ۵۵۹۸میٹر بلند ہے۔ بعض کتابوں میں یہ بلندی ۵۷۹۸اور ۵۷۰۰میٹر بھی لکھی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق جنوبی چوٹی آج تک صرف دو مرتبہ سر کی جا سکی ہے۔ کوہ پیمائی ریکارڈ کے مطابق رابرٹ میکفرلین اور پاؤل وُڈ ہاؤس نے سب سے پہلے ٹوئن پیک سر کی۔ان بلندیوں پر صبح سویرے پیش کیا جانے والا سنہری کرنوں کا رقص دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس منظر کی تصویر نے فلکر ڈاٹ کام(Flickr.com) پر سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔

ٹوئین پیک سے آگے (شمال کی جانب) وادیِ  نل تر کی بیوٹی کوئین شانی پیک اور شانی گلیشئر کا ہوش ربا منظر ہے۔انیس ہزار تین سو بیس فٹ ( پانچ ہزار آٹھ سو پچپن میٹر) بلند شانی اس علاقے میں برطانوی کوہ پیماؤں کی پسندیدہ ترین جولان گاہ بن چکی ہے۔ اسے پہلی مرتبہ راجر ایورٹ اور گائے موہلی مین نے ۱۹۸۶؁  میں سر کیا۔ اس سال (۲۰۰۸؁  ) ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے چار کوہ پیماؤں نے قسمت آزمائی کی۔ وہ مشرقی روٹ سے چوٹی تک پہنچ کر مغربی جانب سے نیچے اترنا چاہتے تھے۔ شانی پیک نے سر نگوں ہونا مناسب نہ سمجھا اور مسلسل گرنے والے برف کے تودوں سے خوف زدہ کوہ پیما ناکام ہو کر واپس چلے گئے۔

ٹوئین پیک اور شانی پیک کے بالمقابل (مشرق میں ) سنو ڈوم اور مہربانی پیک سر اٹھائے کھڑی ہیں۔ بیس کیمپ کی مشرقی جانب ان کا مشترکہ نظارہ ٹریک کا بہترین منظر نامہ تخلیق کرتا ہے۔ مہربانی پیک وادیِ  نل تر اور وادیِ  چپروٹ،جبکہ سنوڈوم وادیِ  نل تر اور وادیِ  دئینتر کی سرحد بناتی ہیں۔ سنوڈوم کے ایک پہلو (شمال) میں دئینتر پاس اور  دوسرے پہلو (جنوب) میں چپروٹ پاس ہے۔ مہربانی پیک ۵۶۳۹میٹر اور سنوڈوم ۵۰۳۰میٹر بلند ہیں۔ ہالسٹن اور مورگن نے اس سال (۲۰۰۸؁) سنوڈوم کو سکائی انگ کر کے عبور کیا۔یہ وہی برفیلا میدان ہے جہاں عالم خان کے بقول ایک گوری بلاؤزر اور کچھی پہن کر نوجوانانِ نل تر کے دلوں پر بجلیاں گراتی تھی،اور کسی کے ہاتھ نہ آتی تھی۔

بیس کیمپ کے سبزہ زار سے حسینانِ نل تر کا  اجتماعی حسن دیکھنے کی چیز ہے، اس پر رواں تبصرہ ممکن نہیں۔ طاہر نے ان کی ملاحت اور بانکپن مووی کیمرے میں محفوظ کرنے کی کوشش کی  …  لیکن  …  جو بات تجھ میں ہے تیری تصویر میں کہاں ؟

عالم خان نے چائے تیار ہونے کا اعلان کیا اور ہم اس کے خود ساختہ کچن کے گرد بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لینے لگے۔چائے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ابھی شام ہونے میں کافی دیر ہے۔آج کی سٹیج ہم نے گائیڈ بک کے معیار سے بہت پہلے مکمل کر لی تھی۔بے شک منظر بہت خوبصورت تھا،لیکن چائے پینے سے پہلے نظروں میں بسایا جا چکا تھا۔عرفان نے تجویز پیش کی کہ مزید آرام کرنے کے بجائے سفر جاری رکھا جائے تاکہ کل کی سٹیج نسبتاً مختصر ہو جائے۔ عالم خان نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی۔اس کا کہنا تھا کہ بیس کیمپ سے ٹاپ تک سارا راستہ ڈھلوانی ہے اور ابھی کوئی جگہ میسر نہیں آئے گی جہاں خیمے نصب کیے جا سکیں۔ بیس کیمپ سے ٹاپ تک کا سفر ایک ہی قسط میں طے کرنا ہو گا۔ ہم میں اگر اتنی سکت ہے کہ اندھیرا ہونے سے پہلے ٹاپ تک پہنچ سکیں تو بسم اللہ،ورنہ خیمے نصب کر لیے جائیں۔

 بیس کیمپ سے دئینتر پاس ٹاپ تک تین سے چار گھنٹے کا ٹریک ’’سخت ترین‘‘  کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ہم اس وقت کوئی سخت ترین پنگا لینے کے قابل نہیں تھے اس لیے پورٹرز کو حکم جاری کیا گیا کہ بیس کیمپ کے سبزہ زار میں خیمے نصب کر دیئے جائیں۔ خیمے نصب ہوتے ہی ’’زویات‘‘  نے ایک مرتبہ پھر ہمارا محاصرہ کر لیا لیکن اس مرتبہ ہم نے ان کی موجودگی پر توجہ نہ دی اور وہ مایوس ہو کر ارد گرد کی سرسبز چٹانوں پر بکھر گئے۔بیس کیمپ کی تنہائی اور فارغ البالی نے احساس دلایا کہ ٹریکنگ کے سامان کی فہرست میں تاش، لڈو یا شطرنج جیسے تفریحی عناصر خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس ان میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی، وقت گزارنے کے لیے مجبوراً ’’بارہ ٹینی‘‘  کی بازیاں لگا کر بچپن کی یاد تازہ کی گئی۔پنجاب کے دیہات کا یہ مقبول ترین کھیل بارہ چھوٹی چھوٹی کنکریوں اور زمین پر کھینچی گئی چند لکیروں کی مدد سے کھیلا جاتا ہے۔بھٹہ صاحب اس کھیل کے سپیشلسٹ تھے۔ انھوں نے باری باری ہم سب کو شکست فاش دی۔ عرفان بازیاں ہار ہار کر تنگ آ چکا تو اس نے تجویز پیش کی:

’’ڈاکٹر صاحب اس بے فائدہ مشغلے سے بہتر ہے کہ روپ اپ ہو نے کا طریقہ اور کریمپونز کا استعمال سیکھ لیں۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘  میرے کان کھڑے ہوئے۔’’آپ کہہ رہے تھے اس کاٹھ کباڑ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔‘‘

’’اب بھی یہی کہہ رہا ہوں، لیکن فارغ وقت فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے کسی مفید سر گرمی میں صرف کر لیا جائے تو کیا حرج ہے؟ آپ دئینتر پاس کراس کرنے میں کامیاب ہو جا تے ہیں تو غونڈو غورو کا نمبر لگ سکتا ہے۔‘‘

’’میں ٹریکر ہوں، پاگل نہیں ہوں۔ ‘‘

’’ہو تو سکتے ہیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب نے خدشہ ظاہر کیا۔

اس طرح ٹریکنگ کی باقاعدہ ٹریننگ کا آغاز ہوا۔

عرفان نے ہمیں روپ اپ (رسے کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہو نا) ہونے کے علاوہ بھی رسے کے کئی استعمال سکھانے کی کوشش کی۔فگر آف ایٹ کے کمالات نے ہمیں بہت حیران کیا۔یہ جادوئی گرہ عمودی ڈھلوان رکھنے والی برفیلی یا پتھریلی بلندیوں کو بہ خیر و عافیت عبور کرنے میں حیران کن کردار ادا کر سکتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ اس دوران رسّا آپ کے جسم کے بہت سے نازک مقامات کے ساتھ نہایت بیہودہ قسم کی چھیڑ چھاڑ کرتا ہوا گزرتا ہے اور آپ کوئی دفاعی ’’حرکت‘‘  نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں ہاتھ رسے کو قابو رکھنے میں بے تحاشہ مصروف ہوتے ہیں۔ عرفان نے ہمیں دوچار ناٹس اور بھی سکھائیں۔ ہم نے یہ ناٹس (Knots) شغل کے طور پر سیکھیں اور اسی وقت بھلا دیں، کیونکہ انھیں یاد رکھنا ہمارے بس کا روگ نہیں تھا۔اس نے کریمپونز (Crampons) کا استعمال سکھانے کی بھی کوشش کی۔یہ نوکدار فولادی ڈھانچہ ٹریکنگ شوز یا جوگرز کے نیچے فٹ ہو جاتا ہے اور پھسلواں گلیشئرزپر چلنے میں تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔ ایک ننھا منا گلیشئر ہماری دسترس میں تھا، لیکن کریمپونز کے استعمال کے لیے مناسب نہیں تھا۔ کریمپونز پہن کر پاؤں غلط سلط انداز میں رکھا جائے تو اسکے نوکیلے دندانے پاؤں زخمی کر سکتے ہیں۔ ہم زخمی ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے، اس لیے کریمپونز ٹریننگ ادھوری رہ گئی۔ آئس ایکس سے برف کاٹ کر قدم جمانے کا طریقہ کسی حد تک سمجھ میں آ گیا،اس کے بقیہ استعمال حسب معمول سروں پر سے گزر گئے۔

 عالم خان اس ٹریننگ میں خصوصی دلچسپی لے رہا تھا۔ اُس نے ’’ناٹس‘‘  میں بہت زیادہ دلچسپی لی اور عرفان کی مہارت کی تعریف کی۔

’’سرہم اپنی گستاخی کا معافی چاہتا ہے۔ہم آپ کو اتنا قابل نہیں سمجھتا تھا۔ آپ کا تعلق کلائمبر نسل سے لگتا ہے۔‘‘

’’خواہ مخواہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں۔ میں نے خواب میں بھی کلائمبنگ نہیں کی۔ ڈاکٹر صاحب اینڈ کو پر رعب شعب ڈال رہا ہوں۔ ‘‘

’’یہ ناچیز حضور والا کے رعب سے تھر تھر کانپ رہے ہیں، اور اِن کی آنتیں خوفزدہ ہو کر قل ھو اللہ پڑھنے پر اتر آئی ہیں۔ ‘‘ میں نے آداب بجا لاتے ہوئے عرضداشت پیش کی۔

’’عالم خان رات کا کھانا فوراً پیش کیا جائے۔‘‘  عرفان نے فرمان جاری کیا۔

’’چولھا تیار نہیں ہوا سر،کھانا کیسے پیش کرے؟‘‘

’’پھر ڈاکٹر صاحب کی آنتوں کو قل ھو اللہ پڑھنے سے روک دیا جائے۔‘‘

’’کیسے روکے سر۔‘‘ عالم خان سچ مچ پریشان ہو گیا۔

’’ان کو ڈرائی فروٹ کا پیکٹ لا دو بے وقوف،اور تم ہانڈی چولھے کی فکر کرو۔‘‘

ہمارے پاس گیس کا چولھا موجود تھا اور بہ ظاہر چولھا تعمیر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ دئینتر پاس بیس کیمپ پر ہوا کی رفتار اتنی تیز تھی کہ گیس کے چولھے نے جلنے سے صاف انکار کر دیا۔ عالم خان نے سلیب نما پتھروں کے چوکور ٹکڑے تلاش کیے اور ان کی مدد سے ایک چھوٹا سا کوٹھڑی نما کچن تیار کر کے گھریلو فنکاری کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔یہ کچن ہوا کا رخ مد نظر رکھتے ہوئے خیموں سے کافی فاصلے پر بنایا گیا تھا۔ہم نے اس کاوش کی دل کھول کر داد دی۔ اس کچن کی سہ دیواری میں (کچن کی ایک سائیڈ اوپن تھی) ہوا کی بڑی حد تک رکاوٹ ہو گئی۔ چوتھی جانب عالم خان،میر عالم اور شیر احمد سر  جوڑ کر بیٹھ گئے اور گیس کا چولھا روشن ہوا۔ سالن کسی حد تک گرم ہو گیا، لیکن روٹیاں ٹھنڈی ٹھار حالت میں حلق سے نیچے اتاری گئیں۔ عالم خان روٹیوں کا  ذخیرہ نیلو لوٹ ہی سے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ ہم نے یاد دلایا کہ معاہدے کے مطابق عالم خان گرما گرم تازہ روٹیاں ہماری خدمت میں پیش کرنے کا پابند ہے اور ہم ان تینوں کے لیے سالن مہیا کرنے کے ذمہ دار ہیں، اس لیے تازہ پکائی گئی روٹیاں پیش کی جائیں ورنہ انھیں کھانے کے ڈبوں سے محروم کر دیا جائے گا۔ عالم خان کھانے کے سارے ڈبے پہلے ہی اپنی تحویل میں لے چکا تھا اس لیے اسے ہماری فرمائش ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دینے میں کو ئی دشواری پیش نہ آئی۔روٹیاں ٹھنڈی ضرور تھیں، بہت زیادہ سخت نہیں تھیں۔ آلو قیمے کے ساتھ ٹھیک ٹھاک گزارا ہو گیا، اور دئینتر پاس بیس کیمپ جیسی بے آباد جگہ پر ٹھیک ٹھاک گزارا ہو جانا قدرت کا انعام تھا۔کھانے کے بعد عالم خان نے اپنی مخصوص چٹ پٹی چائے پیش کی اور ہماری تھکاوٹ دور ہو گئی۔

پہاڑوں پر سانجھ بھئے ہی رات کی تاریکی بسیرا کر لیتی ہے۔خنکی میں اضافہ ہو رہا تھا اور سنو ڈوم کی برف پوش چوٹی سے پلٹ کر آنے والی ہوائیں ہمارے جسم منجمد کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھیں۔ عرفان کے خیال میں موسم کی یہ تبدیلی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی۔ اُس کا خیال درست ثابت ہوا اور چند لمحے بعد ہم اچانک شروع ہونے والی موسلا دھار بارش میں گھر چکے تھے۔ ہم نے اندھا دھند انداز میں خیموں کا رخ کیا لیکن پانی کی چادر اتنی دبیز تھی کہ خیمے نظر ہی نہیں آئے۔کوئی نالے میں اٹکا تو کوئی پتھروں میں بھٹکا۔اس مشکل وقت میں شیر احمد ہمارے کام آیا۔وہ نہ جانے کس طرح ہمارے خیموں تک پہنچا اور ایک خیمے کے اندر گیس کا چولھا روشن کر دیا۔گیس کی روشنی میں سرخ رنگ کے خیمے نے ہمارے لئے لائٹ ہاؤس کا کام کیا اور ہم گرتے پڑتے خیمے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ پریشان کن کیفیت ہی ذوقِ آوارہ گردی کے صلے میں ملنے والا منفرد انعام ہے جو بیکراں ویرانوں کے کھلے آسمان تلے تقسیم کیا جاتا ہے۔

سوال یہ تھا کہ عالم خان، میر عالم اور شیر احمد کہاں پناہ لیں گے؟

 گلگت میں عرفان نے تجویز پیش کی تھی کہ پورٹرز کیلئے ترپال خرید لی جائے جسے تان کر عارضی خیمہ اور کچن تیار کیا جا سکتا ہے۔ عالم خان نے بتایا کہ اس کے پاس ایک وسیع و عریض امپورٹڈ میس ٹینٹ (Mess Tent)ہے۔ نل تر پہنچ کر وہ اپنے گھر سے ٹینٹ لے آئے گا اور مناسب کرایے پر ہماری خدمت میں پیش کر دے گا۔نل تر پہنچنے پر انکشاف ہو ا کہ خیمہ اُس کی والدہ محترمہ نے اپنے بھانجے کو عاریتاً بخش دیا تھا جو کسی غیر ملکی گروپ کو پکھورا پاس لے جا رہا تھا۔ اس بخشش نے ہمیں کچن اور عالم خان وغیرہ کو بیڈ ٹینٹ سے محروم کر دیا۔

عالم خان، شیر احمد اور میر عالم نے دبے لفظوں میں تجویز پیش کی کہ وہ لوگ بھی ٹھنس ٹھنسا کر ہمارے خیموں ہی میں گزارا کر لیں گے۔عرفان نے سختی سے یہ تجویز مسترد کر دی۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک خیمے میں دو افراد سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ٹھنس ٹھنسا کر گزارا کرنے سے ہم لوگ ساری رات بے آرام رہیں گے اور یہ اس لیے مناسب نہیں کہ کل ہمارے ٹریک کا طویل ترین اور سخت ترین دن ہے۔آج کی پر سکون نیند ٹریک کی کامیابی کے لیے اشد ضروری ہے،اسے ڈسٹرب کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔

’’آپ اس حالت میں آرام سے سو جائے گا؟‘‘  عالم خان نے طنز یہ لہجے میں پو چھا۔

’’بارش ساری رات نہیں رہے گی۔‘‘ عرفان نے جواب دیا۔

’’ہمیں یہ بارش رکنے والا معلوم نہیں ہوتا۔‘‘

’’ہمیں ہوتا ہے۔‘‘

عالم خان نے محسوس ضرور کیا ہو گا،پیشہ ورانہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔بارش کا زور ٹوٹا تو اس نے رخصت ہونے کی تیاری کی۔

’’شیر احمد کی گنجایش نکالی جا سکتی ہے،ڈاکٹر صاحب اپنے سلیپنگ بیگ میں بخوشی جگہ فراہم کر دیں گے۔‘‘  بھٹہ صاحب نے فقرہ کسا۔

’’ڈاکٹر صاحب کو ٹھنڈے پانی سے ڈر نہیں لگتا؟‘‘ عرفان نے معصومیت سے بھرپور لہجے میں سوال کیا۔

عالم خان کے ساتھ شیر احمد نے بھی زوردار قہقہہ لگایا۔وہ غالباً اس قسم کی چھیڑ چھاڑ کا عادی تھا۔میرے چہرے پر غیض و غضب کے آثار دیکھ کر وہ تینوں فرار ہو گئے۔

’’یہ اس طوفانی بارش میں کہاں جائیں گے؟‘‘ بھٹہ صاحب نے سوال کیا۔

’’یہ لوگ اپنے گھر میں ہیں اور ان حالات کے عادی ہیں۔ با آسانی کسی غار یا بہک تک پہنچ جائیں گے۔صبح یہ واپس آئیں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انھوں نے ہم سے بہتر انداز میں رات گزاری ہے۔‘‘ عرفان نے جواب دیا۔

’’کیونکہ اُن کے ساتھ شیر احمد ہے؟‘‘  بھٹہ صاحب نے معنی خیز انداز میں سوال کیا۔

’’آئی ایم سوری۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ سچ مچ شیر احمد کے تیرِ  نگاہ سے گھائل ہو چکے ہیں۔ حکم ہو تو باہر نکل کر آواز دوں ؟ہو سکتا ہے واپس آ جائے۔‘‘  عرفان نے پیشکش کی۔

بھٹہ صاحب لا حول پڑھتے ہوئے نیلے خیمے میں تشریف لے گئے۔

 ہم نے ٹارچ کی روشنی میں خیمے کا سامان سیٹ کیا،میٹرس بچھائے اور جیکٹ سمیت سلیپنگ بیگ میں داخل ہو گئے۔ بارش کا زور بہت حد تک ٹوٹ چکا تھا لیکن گرج چمک کا طوفان بدستور جاری تھا۔باہر بجلی چمکتی تھی اور اس کی لہریے دار چمک خیمے کی دیوار پر رقص کرتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔بادل گرجتے تھے اور محسوس ہوتا کہ خیمے کے دروازے پر کھڑے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

’’اوئے سر جی یہ کہاں لے آئے ہیں۔ ‘‘  دوسرے خیمے سے آنے والی بھٹہ صاحب کی منمناتی ہوئی آواز بہ مشکل ہم تک پہنچ پائی۔

’’جی ی ی کیا فرمایا؟ذرا زور سے فرمائیں۔ ‘‘ عرفان نے جوابی ہانک لگائی۔

اس ہانک کا جواب بھٹہ صاحب کے بجائے آسمانی بجلی نے دیا۔ایک زوردار کڑاکے نے خیمے کو جھلمل کر دیا اور اس کے فوراً بعد وہی شورِ قیامت شروع ہو گیا جو شانی گلیشئر  پر ایوالانچے کے لڑھکنے سے پیدا ہوا تھا۔غالباً ایک اور ایوا لانچے اپنا سفر شروع کر چکا تھا۔شور ختم ہوا تو عرفان نے بھٹہ صاحب سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی۔

’’بھٹہ صاحب آپ کچھ فرما رہے تھے۔‘‘

جواب ندارد۔

’’بھٹہ صاحب خیریت تو ہے ناں ؟سو تو نہیں گئے؟‘‘

’’بھٹہ صاحب کوئی لمبا چوڑا وظیفہ شروع کر چکے ہیں،  بولنے چالنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب کے بجائے طاہر نے جواب دیا۔

’’ڈاکٹر صاحب کا بھی یہی حال ہے۔ چند منٹ پہلے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنا شروع کی تھی،اب پتا نہیں کس چیز کی خاموش تسبیح کر رہے ہیں۔ ‘‘

’’چیک کر لیں سر جی،انا للہ کی تسبیح تو نہیں کر رہے؟ہم اس وقت عرشِ بریں کے آس پاس پہنچ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انا للہ کا ورد قبول کر لیا تو فوراً اپنے دربار میں طلب کر لے گا۔‘‘

طاہر اور عرفان غلط بیانی نہیں کر رہے تھے۔ میں بار بار آیت الکرسی پڑھ رہا تھا اور جتنی دعائیں یاد تھیں سب دہرا رہا تھا۔ ہمارے سروں پر ایک پتھریلی بلندی سایہ فگن تھی،جس کی چوٹی پر ایک عدد گلیشئر صاف نظر آ تاتھا۔یہ ننھا منا گلیشئر غالباً کوئی ایوا لانچے جنم دینے سے قاصر تھا۔ اس کی چھوٹی موٹی شرارت لینڈ سلائیڈ کا باعث ضرور بن سکتی تھی۔ میرے خیال میں ہمارے خیمے لینڈ سلائیڈنگ کی زد سے باہر نہیں تھے۔ عرفان ان حالات کا عادی تھا اور پریشان ہونے کے بجائے چسکے لے رہا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب طوفانی بارش بوندا باندی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کیا خیال ہے باہر نہ نکلیں ؟ایسا موسم و ہاڑی یا فیصل آباد میں کہاں ملتا ہے؟‘‘

میں نے کوئی جواب نہ دیا۔

’’ٹریکنگ کا پہلا اصول ہے کہ فطرت کی ایک ایک ادا سے لطف اٹھایا جائے۔ خیمے سے باہر ایک انمول منظر ہمیں دعوتِ نظارہ دے رہا ہے اور ہم کنویں کے مینڈک بنے سلیپنگ بیگ میں سر چھپائے لیٹے ہیں۔ ہمارے لئے دئینتر پاس کراس کرنا واجب ہے تو ان منفرد مناظر سے لطف اندوز ہونا فرض سمجھنا چاہیے۔ ٹریکنگ کے آغاز میں مجھے بھی طوفانِ باد و باراں سے بہت ڈر لگتا تھا، اب یہ جل ترنگ ٹریک کی ترنگ دوبالا کر دیتی ہے۔‘‘

’’باہر زور دار گرج چمک ہو رہی ہے۔‘‘ میں نے عرفان کے لمبے چوڑے ترغیبی لیکچر کا انتہائی مختصر جواب دیا۔

’’پیراشوٹ کے کپڑے کی دیواریں پانی روک سکتی ہیں، آسمانی بجلی کے آگے ڈھال نہیں بن سکتیں، پھر اندر باہر میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟‘‘

عرفان ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔فطرت کے تھنڈر اینڈ لائٹ شو سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت نہ رکھنے والے فطرت کی تمام تر رعنائیاں کیسے سمیٹ سکتے ہیں ؟

میں نے جیکٹ پہنی اور جھجکتے ہوئے باہر آ گیا۔سفید پوش بلندیوں پر ایشوریہ رائے سے زیادہ چمکیلی بجلیاں رقص کر رہی تھیں اور نقرئی برف پر دیومالائی آتش بازی کا یادگار مظاہرہ پیش کیا جا رہا تھا۔ بادلوں کی مسلسل گڑگڑاہٹ کسی حد تک خوفزدہ کرتی تھی لیکن کچھ دیر بعد اس نے شعلوں کے رقص کے لیے ’’آئٹم سانگ‘‘  کی حیثیت اختیار کر لی۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ سازو آواز کی بے کراں دنیا میں رنگ و نور کا سیلاب ٹھاٹھیں مارتا ہے اور روح کی گہرائیوں میں اجالے بھرتا جاتا ہے۔ میں کچھ دیر سہما سہما رہا، اس کے بعد عرفان کے ساتھ ایک بڑے پتھر پر تشریف فرما ہو کر فطرت کے نائٹ کلب میں پیش کئے جانے والے سنسنی خیز رقص و سرود سے لطف اندوز ہونے لگا۔ رقاصانِ  فطرت اپنے نقابِ  رخ الٹ کر دلوں پر بجلیاں گراتے تھے اور کائنات کی دل کشی میں حقیقی رنگ بھرنے والے کرداروں سے روشناس کرا تے تھے:

کڑکتی بجلی، ہواؤں سے ڈولتے خیمے

یہی تو بولتے کردار ہیں کہانی کے

میں بار بار عرفان کا شکریہ ادا کرتا تھا کہ اس نے بیس کیمپ کی سحر طراز رات کے جوبن سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دی۔

’’اوئے تسی کلم کلے باہر کی کر دے پئے او؟‘‘  طاہر نے خیمے کے اندر سے ہانک لگائی۔

’’مزے کر دے پئے آں، تسی وی آ جاؤ۔‘‘  میں نے جوابی ہانک لگائی۔

طاہر کے خیمے کا پردہ ہٹا اور ٹارچ کی روشنی نے باہر کا ماحول کسی حد تک روشن کر دیا۔ ہمیں اطمینان سے بیٹھا دیکھ کر طاہر اور بھٹہ صاحب خیمے سے برآمد ہو گئے۔

’’واہ جی واہ! … کمال ہو گیا سر جی … وہاڑی کی بجلیاں تو اتنی خوبصورت نہیں ہوتیں۔ ‘‘  بھٹہ صاحب نے ارد گرد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ارشاد فرمایا۔

’’ہوتی ہیں، مگر سٹیج پر کڑکتی اور دلوں پر گرتی ہیں۔ ‘‘  میں نے تصحیح کی۔

’’کیا مطلب؟آپ سٹیج پر پھیلائی جانے والی غلاظت کا موازنہ فطرت کی پاکیزگی سے کرنا چاہتے ہیں ؟لاحول ولا قوۃ الا با اللہ،بلکہ ہزار بار لاحول ولا قوۃ الا با اللہ۔‘‘

بھٹہ صاحب کی لاحول سو فیصد درست تھی۔سٹیج یا پردہ سکرین پر کڑکڑانے والی کوئی بجلی بیس کیمپ پر ہونے والی برق پاشی کے سامنے ایک پل بھی نہیں ٹھہر سکتی۔

’’موسم کی حالت یہی رہی تو کل کے ٹریک کا کیا ہو گا؟‘‘  میں نے بات بدلی۔

’’سب اچھا ہو گا۔ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس وقت نہ صرف بارش ہوئی بلکہ ہوا بھی چلنا شروع ہو گئی۔ گھٹائیں اپنے خزانے لٹا کر ہلکی پھلکی ہو چکی ہیں اور تندو تیز ہوائیں انہیں اڑا کر کہیں سے کہیں لے جائیں گی۔امید ہے کہ تھوڑی دیر تک آسمان صاف ہو چکا ہو گا اور کل ٹریک کے لیے آئیڈیل موسم ہو گا۔‘‘

’’اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘  میں نے بے یقینی سے دعا کی۔

’’انشا ء اللہ ایسا ہی ہو گا۔‘‘ عرفان نے نہایت اعتماد سے یقین کا اظہار کیا۔’’اور اب ہمیں آرام کرنا چاہیے۔کل موسم کیسا بھی ہو،ٹریک انتہائی دشوار ہو گا۔‘‘

’’کچھ دیر اور۔‘‘ بھٹہ صاحب نے فرمائش کی۔

کچھ دیر بعد ہم ایک مرتبہ پھر اپنے اپنے سلیپنگ بیگز میں غروب ہو چکے تھے۔ سارے دن کی تھکاوٹ خیمے سے باہر ہونے والے شور شرابے پر غالب آ گئی اور میں نیند کی راحت بخش وادیوں میں گم ہو گیا۔

رات کے نہ جانے کون سے پہر ’’شو شو‘‘  کے زور سے آنکھ کھلی۔میں نے فطرت کے تقاضے نظر انداز کر کے دوبارہ سونے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ برفانی ہواؤں اور بارش کی موجودگی میں سلیپنگ بیگ کے گرما گرم ماحول سے باہر نکلنا آسان کام نہیں تھا،لیکن دوبارہ سونے کے لیے اس دشواری کا سامنا کرنا مجبوری تھی۔میں نے خیمے کے دروازے کی زپ کھول کر باہر جھانکا اور بوکھلا کر آنکھیں ملنے لگا۔ یہ کوئی ناقابل یقین خواب ہے یا کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر بیس کیمپ کا ماحول یک سر تبدیل کر دیا ہے؟

خیمے کے باہر طوفانِ باد و باراں کے بجائے رنگ و نور کا سیلاب ٹھاٹھیں مار رہا تھا، ’’کالے کالے‘‘  امبر پر بے شمار ستارے جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ اپنے حجم سے کئی گنا بڑا چاند سنو ڈوم کی چوٹی پر لشکارے مارنے والی نقرئی برف میں اٹکا ہوا تھا،اور اتنا قریب تھا کہ میرا قد عرفان جتنا لمبا ہوتا تو میں اسے توڑ کر اپنے رک سیک میں چھپا سکتا تھا۔ میں نے دبے دبے انداز میں عرفان کو آواز دی۔ اس کے دھیمے دھیمے خراٹے بتا رہے تھے کہ وہ گہری نیند کے مزے لوٹ رہا ہے۔اُسے ڈسٹرب کرنے کا ارادہ تبدیل کر کے میں خیمے سے باہر رینگ گیا۔ فالتو پانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد میں نے نل تر وادی کی گہرائیوں پر نظر ڈالی اور ایک مرتبہ پھر آنکھیں ملنے لگا۔میں ابھی تک سو رہا ہوں یا بیداری کی حالت میں سہانا سپنا دیکھ رہا ہوں ؟ بقول تنویر سیٹھی:

ستاروں کی روانی اُتر آئی آنکھ میں

یہ کیسی خوش نمائی اُتر آئی آنکھ میں

آسمان کی رفعتوں میں جگمگانے والے سارے ستارے زمین پر اتر آئے تھے۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ستارے قطار اندر قطار نل تر جھیل کے پانیوں میں اتر رہے ہیں اور پانی کی نیلاہٹ سے شرابور ہو کر نل تر نالے کے پانیوں میں تیرتے ہوئے شانی پیک اور ٹوئن پیک جیسے برف پاروں کی جگمگاہٹ میں گم ہو رہے ہیں۔ شمال سے جنوب تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا روشنیوں کا سیلاب ایک ایسے نورانی راستے کا منظر پیش کرتا تھا جو چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو کی صدائیں لگاتا تھا۔ میں نیند کے خمار کی وجہ سے اس منظر کو ایک دلکش سراب سمجھتا رہا اور بہت دیر بعد سمجھ پایا کہ زمین پر اتر آنے والے ستارے نل تر نالے کے ارد گرد پائی جانے والی جھاڑیوں میں جگمگانے والے جگنو ہیں۔ آسمان اور زمین کے ستاروں کا یہ دلکش ملن دئینتر پاس کی انفرادیت تھی۔ دوسرے پاسز کی ٹاپ سے بھی اس قسم کے لازوال مناظر یقیناً نظر آتے ہوں گے، اسی لئے پاس کراسنگ کو ٹریکنگ کی دنیا میں منفرد مقام حاصل ہے۔

 رات کی گڑگڑاہٹ اور کڑکڑاہٹ کے جاہ و جلال سے بھر پور مظاہرے کے بعد نیلگوں صباحت و ملاحت کا یہ روح پرور سکوت ’’ایک ٹکٹ میں دو مزے‘‘  کے مترادف تھا۔ایک ہی پس منظر میں پیش کئے جانے والے دو انتہائی متضاد لیکن ’’ایک سے بڑھ کر ایک‘‘  سٹیج شوز اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی جامع تفسیر تھے جس میں ترغیب دی گئی ہے کہ زمین پر چل پھر کر اُس کی قدرت کا مشاہدہ کیا جائے تاکہ ایمان والوں کے ایمان مزید پختہ ہو جائیں۔ اے ایمان والو تم اگر اپنا یقین محکم کرنا چاہتے ہو تو رک سیک اٹھا کر دئینتر پاس بیس کیمپ پر شب باشی کے لیے روانہ ہو جاؤ،اور ہاں اپنے ساتھ ایک عدد طاقتور ٹیلی سکوپ لانا مت بھولنا کہ مجھے شدت سے اس کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔

ماحول کی ٹھنڈک روح کے ساتھ ساتھ جسم پر اثر انداز ہونے لگی اور دو چار چھینکیں آ گئیں تو میں نے خیمے کا رخ کیا۔

’’کہاں تشریف لے گئے تھے جناب؟‘‘  خیمے میں داخل ہوتے ہی عرفان نے سوال کیا۔

’’پتھر کی اوٹ میں۔ ‘‘

’’خیمے کی زپ بند کیے بغیر؟‘‘

’’کیا مطلب؟اس ویرانے میں بھی چوری چکاری کا خطرہ ہے؟‘‘  میں حیران ہوا۔

’’چوری کی بات نہیں۔ کیمپنگ کا پہلا اصول ہے کہ خیمے کا پردہ ایک منٹ کے لیے بھی کھلا نہ چھوڑا جائے۔ خیمہ خالی ہو تب بھی زپ بند رکھنی چاہیے۔‘‘

’’اس احمقانہ اصول کی وجہ؟‘‘

’’آپ کو باہر جانے سے پہلے خیمے کے اندر کسی مچھر کی موجودگی کا احساس ہو ا تھا؟‘‘

’’ہرگز نہیں۔ ایک بھی مچھر ہو تا تو مجھے نیند نہ آتی۔‘‘

’’اب نہیں آئے گی۔ میری آنکھ مچھروں کی بھنبھناہٹ کی وجہ سے کھلی ہے۔ہو سکتا ہے دوچار کیڑے مکوڑے بھی خیمے میں داخل ہو چکے ہوں۔ پہاڑی علاقوں کے حشرات الارض ٹھیک ٹھاک زہریلے ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’آئی ایم سوری۔مجھے اس خطرے کا اندازہ نہیں تھا۔اب کیا ہو گا؟‘‘

’’اب وہ کیڑے مار سپرے کام آئے گا جو میں احتیاطاً ساتھ لے آیا تھا۔‘‘

’’وہ ابھی تک کام کیوں نہیں آیا؟‘‘

’’میں سلیپنگ بیگ سے باہر نکلنے کے موڈ میں ہوتا تو آپ کی حماقت کا ازالہ کر چکا ہوتا۔ یہ زحمت آپ ہی کو اٹھانا پڑے گی۔‘‘

’’سلیپنگ بیگ سے باہر نکلنے کا موڈ بنا لیں تو دئینتر پاس ٹریک کے خوبصورت ترین منظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ‘‘

’’میں اس منظر سے لطف اندوز ہو کر بیگ میں داخل ہوا تھا۔‘‘

’’منظر نامہ بدل چکا ہے۔‘‘

’’اس وقت کائنات کا بہترین منظرنامہ میرا سلیپنگ بیگ ہے۔ آپ بھی مہربانی کر کے نیند پوری کر لیں۔ کل کے ٹریک میں ڈگمگانے یا لڑکھڑانے کی سہولت میسر نہیں ہو گی۔‘‘

میں نے عرفان کو جگنوؤں کی چمک سے جنم لینے والے منظر نامے کی تفصیلات بتانے کی کوشش کی لیکن اُس نے مصنوعی خراٹے نشر کرنا شروع کر دیے۔ میں نے اس کے رک سیک سے سپرے برآمد کیا اور مچھروں کی بربادی کے اسباب پیدا کر کے نیند کی دوسری قسط پوری کرنے کے لیے سلیپنگ بیگ میں ملبوس ہو گیا۔

٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: