Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Last Episode 14

0
جہاں پریاں اترتی ہیں از ڈاکٹر محمد اقبال ہما – آخری قسط نمبر 14

–**–**–

 A good Itinerary can convert the toughest trek into a leisurely walk

Caroline Costello

ایک مناسب آئٹی نریری سخت ترین ٹریک کو چہل قدمی میں تبدیل کر دیتی ہے

(کیرولین کاسٹیلو)

 یہ باب مستند ٹریکرز کے علم میں اضافہ نہیں کر سکے گا۔ دئینتر پاس ٹریک کی آئٹی نریری ترتیب دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

کوہ نوردی کی دنیا میں پہلا قدم رکھنے والے اپنی جسمانی استطاعت کے مطابق ٹریک کا انتخاب کریں۔ ٹریک کے لیے چار تا بیس افراد ایک آئیڈیل گروپ تشکیل دیتے ہیں۔ ٹریک کی  منصوبہ بندی کرنے سے پہلے کوہ نوردی کی درجہ بندی کے بارے میں معلومات حاصل کر نا کافی سودمند ثابت ہو تا ہے۔ دئینتر پاس ایک آسان ٹریک ہے جس کے چند مراحل درمیانے اور ’’چند قدم‘‘  سخت ترین کے درجے پر فائز ہیں۔ آپ اگر ذیابیطس،بلند فشارِ خون یا دل کے امراض جیسے سرمایہ دارانہ خصائص سے ’’محفوظ‘‘  ہیں تو بلا جھجک دئینتر پاس ٹریک منتخب کر سکتے ہیں۔

انتخاب

ٹریکنگ کی درجہ بندی میں روزانہ چلنے کا دورانیہ، ٹریک کی بلندی، راستے کی نوعیت اور  جسمانی صحت جیسے عوامل مد نظر رکھے جاتے ہیں۔ دشواری کی بنیاد پر بنائے گئے بیش تر نظام تین تا پانچ درجوں (ABCDE)  پر مشتمل ہیں۔ سادہ ترین درجہ بندی درجِ ذیل طریقے سے کی جا سکتی ہے۔

۱۔آسان(Easy)(A): پیدل چلنے کا روزانہ دورانیہ تقریباً تین تا چار گھنٹے ہے۔ عام طور پر باقاعدہ راستہ موجود ہوتا ہے۔ٹریک کی بلندی تین ہزار میٹر کے لگ بھگ اور نشیب و فراز نسبتاً کم ڈھلوانی ہوتے ہیں۔

۲۔ درمیانہ (Moderate) (B): روزانہ چلنے کا دورانیہ تقریباً چار تاچھ گھنٹے ہے۔ ٹریک عموماً تین تا چار ہزار میٹر کی بلندی سے گزرتا ہے۔راستہ کبھی حاضر کبھی غائب رہتا ہے اور نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے چھوٹی موٹی دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔

۳۔ سخت  یا مشکل(Strenuous) (C): روزانہ چلنے کا دورانیہ چھ تا آٹھ گھنٹے ہے۔ ایسے تمام ٹریکس جو ساڑھے چار ہزار میٹر یا اس سے زائد بلندی سے گزرتے ہوں سخت ٹریکس میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ خطرناک مراحل سے گزرتے ہوئے صرف ایک پھسلن ’’قربِ الٰہی‘‘  کا باعث بن سکتی ہے۔

ٹریکنگ کیلئے عام طور پر درجِ ذیل سامان کی سفارش کی جاتی ہے۔

ذاتی سامان:

۱۔رک سیک  سائز پینتالیس لٹر

۲۔سلیپنگ بیگ  زیرو ڈگری سنٹی گریڈ

۳۔ٹریکنگ شوز(VIBRAMکا سول بہتر ہے)

۴۔پولسٹر کی جیکٹ(GORE-TEX  بہتر ہے)

۵۔رین گیئر (برساتی)

۶۔نائلن یا پولسٹر کے ٹراؤزرز( حسبِ ضرورت)

۷۔شرٹس (حسبِ ضرورت) (فلیس کی بہتر ہے)

۸۔موٹی سوتی جرابیں (تین یا چار)

۹۔ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش،صابن

۱۰۔واکنگ سٹک

۱۱۔فوم میٹرس

۱۲۔دھوپ کا چشمہ

۱۳۔ہیٹ

۱۴۔ہیڈ لائٹس یا ٹارچ

۱۵۔کثیر المقاصد چاقو

۱۶۔تام چینی کا مگ

۱۷۔سن بلاک

۱۸۔پانی کی بوتل

ہم نے ذاتی سامان کی فہرست  سے رین گیئر، کثیر المقاصد چاقو اور واکنگ سٹک وغیرہ پر خط تنسیخ پھیر دیا اور کئی آئٹم ذاتی سامان سے نکال کر مشترکہ سامان کی فہرست میں شامل کر دیئے۔ عرفان کی نسبت اونچے (یا شاید نیچے) درجے کے ٹریکرز مشورہ دیتے ہیں کہ جتنے دن کا ٹریک ہو اتنے بنیان اور انڈر ویئرذاتی سامان کی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں۔ عرفان کا قول ہے کہ ٹریک پر بنیان یا انڈرویئر استعمال کرنا غیر فطری ذہنیت کی نشانی ہے۔ میرے خیال میں ان سے بے نیاز ہونے کے لیے گورے ٹیکس یا فلیس کے ملبوسات کا استعمال ناگزیر ہے۔ آپ یہ ’’لنڈوسات‘‘  ڈرائی کلین کرانے کے بعد بھی استعمال نہیں کر سکتے تو اس فہرست میں حسب منشا ترمیم کر لیں۔ گورے ٹیکس (Gore-Tex)  اور فلیس (Fleece) کی مصنوعات کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ ’’چین۔ون‘‘  یا ’’پیس‘‘  لاہور میں دستیاب ہیں۔

یہ ذاتی سامان کی فہرست تھی۔درجِ ذیل سامان مشترکہ بجٹ سے خریدا جا سکتا ہے۔

اجتماعی سامان

عمدہ نسل کے واٹر پروف خیمے حسبِ ضرورت

نیلا ڈرم بمعہ لاک (کیمیکلز کی دکانوں سے دستیاب ہے) حسبِ ضرورت

کیمرہ،مووی کیمرہ،تاش، شطرنج

گیس کا چولھا

لائٹر یا ماچس اور ٹن کٹر (بھول نہ جانا پھر بابا)

 کھانا پکانے کے برتن بشمول توا،پریشر ککر،ساس پین،فرائی پین وغیرہ

کھانا کھانے کے برتن۔ پلیٹیں، چمچ،تام چینی کے مگ، گلاس

 خشک راشن مثلاً آٹا، ریڈی میڈ سوپ کے پیکٹ، خشک دودھ، چائے، کافی، چینی، نمک،کالی مرچ، چاکلیٹ، انرجائل، ٹینگ اور ڈرائی فروٹ وغیرہ وغیرہ

کھانے کے انتظام کے لیے مناسب منصوبہ بندی بہت ضروری ہے۔ آپ ڈبہ بند کھانے استعمال کر سکتے ہیں تو آسانی رہے گی۔مختلف کمپنیوں کے کھانے گلگت کی بیکریوں سے باآسانی دستیاب ہیں۔ آپ اگر تازہ بنے ہوئے چکن کڑاہی، فرائیڈ رائس، پراٹھے اور آملیٹ کے بغیر ٹریک نہیں کر سکتے تو چاول،سبزیاں، انڈے، گھی اور مختلف مسالا جات خریداری کی فہرست میں شامل کر لیں۔ دیسی مرغی اور بکرا آپ کو نل تر، گوپا، ڈھیری اور تالنگ سے مل جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت ایک عدد ماہرِ فن اور تھوڑا بہت ایماندار باورچی درکار ہے، ورنہ بجٹ دو بالا اور کھانا تہ و بالا ہو جائے گا۔

چند سال پہلے تک خیمے، رک سیک اور ٹریکنگ شوز پاکستان میں دستیاب نہیں تھے، آج کل باآسانی دستیاب ہیں۔ ہائر اور ذوفلاح کے خیمے اور رک سیک روز بروز مقبول ہو رہے ہیں۔ دونوں کمپنیاں لاہور کے مختلف سپر سٹورز میں اپنے ا پنے سٹال لگاتی ہیں۔ فورٹریس اسٹیڈیم لاہور کے ’’ہائپر سٹار سپر سٹور‘‘  اور مین بلیوارڈ گلبرگ لاہور کے ’’پیس‘‘  کے سٹال خاصے فعال ہیں۔ ہائر کی مصنوعات اُن کے شو روم واقع راوی چوک لاہور، اور ذوفلاح کی مصنوعات ان کی فیکٹری واقع اعظم پارک نزد منصورہ ملتان روڈ لاہور سے براہِ راست خریدی جا سکتی ہیں۔ ان مصنوعات کا معیار ’’گزارا‘‘  ہے،اعلیٰ نہیں۔ دو افراد کی گنجایش والا خیمہ چھ تا آٹھ ہزار میں مل جاتا ہے، رک سیک کیلئے دو سے تین ہزار روپے درکار ہیں۔ ٹریکنگ شوز صرف پیس میں ملتے ہیں اور اچھے شوز کی قیمت آٹھ ہزار تا بیس ہزار روپے ہے۔

بھٹہ صاحب نے تبلیغی بستر میں اور طاہر نے جو گرز میں ٹریک مکمل کیا۔ برساتی ہم تینوں کے پاس نہیں تھی۔اس لیے سامان کی فکر چھوڑیں، دئینتر پاس ٹریک کرنے کی نیت کریں، اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے اور آپ ’’خواہ مخواہ‘‘  دئینتر پاس سے گزر جائیں گے۔ یاد رہے کہ ٹریکنگ شوز اور برساتی سے استثنا شدید مجبوری کی حالت میں ہے۔

اخراجات

عرفان نے تاکید کی تھی کہ اپنے اخراجات کے بارے میں کسی قسم کا انکشاف نہ کیا جائے، بد نیت لوگ شک کریں گے کہ انھوں نے ٹریک کیا بھی تھا یا بے پر کی اڑا رہے ہیں۔ ہمارے پنڈی تا پنڈی اخراجات سات ہزار(ذاتی سامان اور ایکوئپمنٹ شامل نہیں ) روپے فی کس ہوئے۔ عرفان کے خیال میں ہم نے اچھی خاصی فضول خرچی کی کیونکہ کھانے کے ایک تہائی ڈبے بچ رہے جو عالم خان اور پورٹرز نے مختلف بہانے کر کے ہتھیا لئے۔ ذاتی استطاعت اور صلاحیت بجٹ میں پچاس ہزار روپے فی کس اضافہ کر سکتی ہے،یا ہزار پانچ سو مزید بچا سکتی  ہے۔ میرے خیال میں دئینتر پاس ٹریک کیلئے دس سے بارہ ہزار روپے فی کس ( ۲۰۰۸؁ ئ) ایک اعتدال پسند بجٹ ہے بشرطیکہ ٹریکنگ کا بنیادی سامان پہلے سے موجود ہو۔

وقت

دئینتر پاس ٹریک کے لیے جون تا ستمبر کی سفارش کی جاتی ہے لیکن جولائی کے وسط تک دئینتر پاس ٹاپ کی برف شاذو نادر ہی پگھلتی ہے اور کریمپونز کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

رسائی

 گلگت جانے کے لیے فضائی یا زمینی راستے کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی سے گلگت کیلئے پی۔آئی۔اے روزانہ دو پروازیں مہیا کرتی ہے جو عموماً صبح کے وقت روانہ ہوتی ہیں اور ایک گھنٹے میں گلگت پہنچا دیتی ہیں۔ پشاور سے بھی گلگت کے لیے پرواز دستیاب ہے۔ نشستیں روانگی کے پروگرام سے دو ہفتے پہلے بک کرا لیں۔ جہاز کے اگلے حصے میں دائیں جانب کھڑکی کے ساتھ نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ جہاز کے ونگز نانگا پربت کے دلکش نظارے میں حائل نہ ہو سکیں۔ آپ با اعتماد ڈرائیور ہیں تو زمینی سفر کے لیے اپنی گاڑی کی عیاشی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے راولپنڈی کے پیرودھائی بس سٹینڈ پر تشریف لائیں یا فون پر ناٹکو آفس سے رابطہ کریں۔ ناردرن ایریا ٹرانسپورٹ کمپنی کے ’’پہلے ٹائم‘‘  میں بکنگ مناسب رہے گی لیکن اپنی سہولت مد نظر رکھیں۔ بس میں ڈرائیور کی جانب نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ نانگا پربت ویو پوائنٹ اور تین عظیم ترین پہاڑی سلسلوں کا سنگم دائیں جانب سے ہی نظر آتا ہے۔ناٹکو بکنگ آفس آپ کو سولہ گھنٹے میں گلگت پہنچ جانے کی خوشخبری سنائے گا اور آپ اٹھارہ سے بیس گھنٹے میں گلگت پہنچ جائیں گے۔

قیام

گلگت بس سٹینڈسے آپ سوزوکی وین یا ٹیکسی کے ذریعے دس منٹ میں اپنے مطلوبہ ہوٹل پہنچ سکتے ہیں۔ کم خرچ بالا نشیں ہوٹل سینما بازار  …  اور اعلیٰ خرچ بالا نشین ہوٹل چنار باغ کے گرد و نواح میں پائے جاتے ہیں۔ قیام و طعام آپ کے بجٹ پر منحصر ہے۔ این۔ ایل۔آئی چوک کے آس پاس نچلے اور نچلے نما درمیانے درجے کے بے شمار ہوٹل پائے جاتے ہیں جہاں پانچ سو سے ایک ہزار کرائے تک کے ڈبل روم دستیاب ہیں۔ اس درجے میں سکائی ویز، ٹاپ مون، جے۔ ایس۔آر، آئی بیکس لاج،ڈائمنڈ پیک اور ہنزہ ان شامل ہیں۔ جمال ہوٹل بھی اسی درجے میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن قدرے مہنگا ہے اور اس کا ریستوران ’’گرین ڈریگن‘‘  چائنیز فوڈ کے معیار کی وجہ سے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ روپل ان خاص طور پر بڑے گروپس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ درمیانے درجے میں پارک ہوٹل، رویرا، گلگت کانٹی نینٹل،میر لاج اور ہوریزان گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ڈبل بیڈ کا کرایہ پندرہ سو سے دو ہزار کے درمیان ہے۔ بالا نشینوں میں چنار اِن (PTDCموٹیل) اور کینوپی نک سس شامل ہیں جو سنگل بیڈ کیلئے دوسے اڑھائی ہزار اور ڈبل بیڈ کیلئے ساڑھے تین سے چھ ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔ سٹیٹس کانشس حضرات کے لیے گلگت سیرینا اپنی نوعیت کا واحد ہوٹل ہے۔ یہ ایک بلند پہاڑی پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہاں سنگل بیڈ بانوے، ڈبل بیڈ ایک سو پانچ اور لگژری سوٹ دوسو امریکن ڈالرزمیں دستیاب ہے۔ سیرینا کا ریستوران ’’دومانی‘‘  اپنے کھانوں اور رات کے وقت سرو کئے جانے والے باربی کیو کی وجہ سے اچھی شہرت کا حامل ہے۔

طعام

 چنار اِن اور سیرینا کے ریستوران اچھے ماحول اور بجٹ توڑ طعام کے لحاظ سے سرِفہرست ہیں۔ جمال ہوٹل،پارک ہوٹل۔ٹورسٹ کاٹیج اور ہوریزان گیسٹ ہاؤس کے ریسٹوران درمیانے بجٹ میں مناسب معیار فراہم کرتے ہیں۔ بازار میں واقع ہوٹلوں میں سالار ہوٹل اور بیگ ہوٹل کی صفائی ستھرائی کا معیار قدرے بہتر ہے۔ ذائقے کے لحاظ سے رمضان ہوٹل اور نیو پٹھان ہوٹل بہت پسند کیے جاتے ہیں، مقامی لوگ انھی کی سفارش کرتے ہیں۔

انتظام

قیام و طعام کا بندوبست کرنے کے بعد آپ کے پاس اگر وقت ہے تو ٹریکنگ کا سامان مکمل کر لیں۔ ہنزہ ٹریکنگ اینڈ ماؤنٹینئرنگ ایکوئپمنٹ شاپ، قراقرم ماؤنٹینئرنگ ایکوئپمنٹ شاپ، لانگ لائف ماؤنٹینئرنگ ایکوئپمنٹ شاپ اور مدینہ ہوٹل سے بیش تر سامان مل جائے گا۔ یہ سب سنٹر سینما بازار میں پائے جاتے ہیں۔

آپ اگر فائیو سٹار ٹریک کرنا چاہتے ہیں تو تمام انتظامات کسی ٹور آپریٹر کو سونپ کر بے فکر ہو جائیں۔ گلگت میں ٹورز آپریٹرز کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں اور قدم قدم پر ملتے ہیں۔ اس سلسلے میں مدینہ ہوٹل، پارک ہوٹل، جمال ہوٹل،ہوریزان گیسٹ ہاؤس اور چنار ان خاصے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ اگر سودے بازی کے ماہر ہیں تو گلگت تا گلگت پندرہ سے بیس ہزار فی کس میں (۲۰۰۸؁ کے مطابق) سودا ہو سکتا ہے۔ ٹور آپریٹر عام طور پر چار سو سے ایک ہزار امریکن ڈالر طلب کرنے کے عادی ہیں۔

 آپ اگر عرفان اور اسکی ٹیم کی طرح کنجوس مکھی چوس ہیں (عرفان سے معذرت کے ساتھ،لیکن نام لیڈر کا ہی لکھا جائے گا) تو ہنزہ ٹریکنگ اینڈ ماؤنٹینئرنگ ایکوئپمنٹ شاپ کے پروپرائیٹر محمد علی سے رابطہ کریں۔ محمد علی سے رابطہ نہ ہو سکے تو کوئی ایسی جیپ تلاش کریں جو گلگت بازار میں تنہا کھڑی ہو اور اس کا ڈرائیور بیزاری کے عالم میں ہر اُس شخص کا جائزہ لے رہا ہو جس پر ٹورسٹ یا ٹریکر ہونے کا گمان کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح آپ پانچ سو تا پندرہ سو روپے کمیشن بچاسکتے ہیں۔ جیپ ڈرائیور آپ کے لیے گائیڈ نما پورٹرز کا بندوبست کر دے گا۔ دئینتر پاس ٹریک کے لیے مستند گائیڈ کی ضرورت نہیں، تجربہ کار پورٹر یہ فریضہ بہ حسن و خوبی سرانجام دے سکتا ہے۔ بنگلا، گوپا …  یا نیلو لوٹ سے بکروال ’’پکڑنے‘‘  کی عرفانی تجویز بھی قابل عمل ہے۔

مزید بچت چاہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ سے نل تر جائیں۔ گلگت بس سٹینڈ سے دوپہر کے وقت دو یا تین جیپ ٹائم نل تر کے لیے روانہ ہوتے ہیں  … کرایہ ایک سو روپے فی کس۔نل تر کے کسی بھی ہو ٹل میں لنچ کریں اور انتظامیہ کو آگاہ کر دیں کہ آپ نل تر جھیل پر ایک رات کے لیے پکنک   کا پروگرام بنا کر آئے ہیں، ڈھنگ کے پورٹرز مل گئے تو شاید دئینتر پاس کا پروگرام بن جائے۔پروگرام خود بخود بن جائے گا اور مناسب بجٹ میں بن جائے گا، اس پالیسی کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ کے پاس ٹریکنگ کا بنیادی سامان مکمل ہو۔آپ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو ہوٹل کے کاؤنٹر سے معلومات حاصل کر کے گلگت کے کسی ایسے دکاندار سے رابطہ کریں جس کا گھر نل تر میں ہو، وہ آپ کے لیے سب کچھ کر دے گا۔

پروگرام

 دئینتر پاس ٹریک کے لیے ٹور آپریٹرز کی سفارش کردہ آئٹی نریری درجِ  ذیل ہے:

۱۔پہلا دن

(بہت آسان)

 گلگت سے نل تر جھیل بذریعہ جیپ

رات کو کیمپنگ اور کیمپ فائر

دو سے تین گھنٹے

۲۔دوسرا دن

(آسان)

نل تر جھیل سے لوئر شانی تک ٹریکنگ

لوئر شانی پر کیمپ

پانچ تا چھ گھنٹے

۳۔تیسرا دن

 (درمیانہ)

لوئر شانی تا بیس کیمپ ٹریکنگ

بیس کیمپ پر کیمپ

دو تا تین گھنٹے

۴۔چوتھا دن

(بہت مشکل)

بیس کیمپ تا دئینتر ٹاپ تا تھولائی بر

تھولائی بر میں کیمپ

چھ سے آٹھ گھنٹے

۵۔پانچواں دن

(بہت آسان)

تھولائی بر سے تالنگ تک ٹریکنگ

تالنگ تا گلگت جیپ  یا

تالنگ تا برداس ٹریک اور

برداس سے گلگت جیپ  یا ویگن

ایک گھنٹہ

تین تا چار گھنٹے

دو سے چار گھنٹے

تین گھنٹے

ٹریک کے مختلف مقامات کی بلندی درجِ ذیل ہے۔

۱۔ نل تر بالا           ۲۹۰۰میٹر                       ۹۵۷۰فٹ

۲۔نل تر جھیل      ۳۲۷۰میٹر                      ۱۰۷۹۱فٹ

۳۔لوئر شانی         ۳۶۹۰میٹر                       ۱۲۱۷۷فٹ

۴۔ بیس کیمپ        ۴۱۰۰میٹر                        ۱۳۵۳۰فٹ

۵۔دئینتر پاس ٹاپ ۴۷۰۰میٹر                      ۱۵۵۱۰فٹ

۶۔ تھولائی بر         ۳۴۵۰میٹر                      ۱۱۳۸۵فٹ

۷۔تربتوداس        ۲۱۰۰میٹر                        ۶۹۳۰فٹ

مندرجہ بالا بلندیاں اور آئٹی نریری دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ٹریک کا چوتھا دن انتہائی سخت ہے۔ اس دن آپ چھ سو میٹر (۲۰۰۰فٹ) کی عمودی بلندی اور ایک ہزار دوسو پچاس میٹر (۴۱۲۵فٹ)اترائی طے کرتے ہیں۔ یہ چڑھائی اور اترائی تقریباً ساٹھ درجے کا زاویہ بناتی ہیں۔ دئینتر پاس ٹریک کا یہی مرحلہ اسے سخت ترین (Strenuous) کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ بھٹہ صاحب اور پورٹرز نے یہ سٹیج گیارہ گھنٹے، عرفان اور طاہر نے تیرہ گھنٹے اور میں نے چودہ گھنٹے میں مکمل کی۔ آپ ٹور آپریٹر کی سفارش کردہ آئٹی نریری کے مطابق ٹریک کرنا چاہتے ہیں تب بھی معمولی ترمیم اور تفصیلی معلومات کی مدد سے اس بے جا مشقت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تیسرے دن کے ٹریک کو لوئر شانی تا بیس کیمپ کے بجائے لوئر شانی تا دئینتر پاس ٹاپ تک وسعت دے دی جائے تو یہ سٹیج کافی آسان ہو جائے گی۔ اس تبدیلی سے پہلے مقامی لوگوں سے تصدیق کر لی جائے کہ ٹاپ پر پانی میسر آ جائے گا،جو بیش تر حالات میں میسر آ جاتا ہے کیونکہ عالم خان کے بقول جہاں برف ہو وہاں پانی کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ٹاپ پر کیمپنگ نہ بھی ہو سکے تو تھوڑی سی اترائی کے بعد گلیشئر کنارے کیمپ لگائے جا سکتے ہیں، اس صورت میں تیسرا دن نسبتاً سخت ہو جائے گا لیکن پھر بھی مشقت اور تھکاوٹ کے اس درجے تک نہیں پہنچے گا جو روایتی آئٹی نریری کے چوتھے دن کی خصوصیت ہے۔ٹاپ پر کیمپنگ کے فیصلے سے پہلے یقین کر لیں کہ آپ کا ٹینٹ، سلیپنگ بیگ اور جیکٹ وغیرہ اعلیٰ معیار کے ہیں اور رات کے وقت نقطۂ انجماد سے چار یا پانچ ڈگری کم درجہ حرارت پر آپ کو منجمد ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

 دئینتر پاس ٹریک اپنی فطرت میں انتہائی لچک دار ٹریک ہے۔ اسے چار دن میں نمٹایا جا سکتا ہے اور دو ہفتوں پر محیط کر کے ذوقِ فطرت کی تسکین کی جا سکتی ہے۔

گلگت میں پہلا دن

فرض کیجیے کہ آپ راولپنڈی سے گذشتہ روز صبح چھ بجے روانہ ہو کر رات بارہ بجے گلگت پہنچے تھے۔ آج گلگت میں آپ کا پہلا دن ہے۔امید ہے نو بجے تک ناشتے سے فارغ ہو کر ٹریک کی تیاری شروع کر چکے ہوں گے۔ آئٹی نریری میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بہتر ہے کہ تین بجے تک ٹریک کے انتظامات مکمل کر لیں۔ آپ نے گذشتہ رات سونے سے پہلے کاؤنٹر کلرک کو ٹریک کے بارے میں بتا دیا تھا تو یہ کام بہت آسان ہو جائے گا۔ ساڑھے تین بجے نل تر جھیل کے لیے روانہ ہوں اور جیپ ڈرائیور سے واپسی کے سفر (تالنگ تا گلگت) کے لیے بات چیت کر لیں۔ نل تر جھیل پر موجود عارضی ہوٹل آپ کے قیام و طعام کا بندوبست کر دے گا اور آپ کے پاس نل تر جھیل سے لطف اندوز ہونے کیلئے کافی وقت ہو گا۔

ٹریک کا پہلا دن

 آئٹی نریری میں معمولی ترمیم کی وجہ سے آج کی منزل لوئر شانی کے بجائے دئینتر پاس بیس کیمپ ہے۔ ہوٹل والے سے صبح چھ بجے ناشتا طلب کریں اور سات بجے ٹریک شروع کر دیں۔ یاد رہے کہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وادیِ  نل تر کے حسن سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ چلتے رہیں۔ نیلو لوٹ پر موبائل لنچ اور لوئر شانی پر چائے کا وقفہ کرتے ہوئے آپ عصر کے وقت بیس کیمپ پہنچ جائیں گے۔ اپنے ٹریک کی دوسری کیمپنگ سائٹ پر ’’زویات‘‘  کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور کیمپ فائر کا بندوبست کریں۔

ٹریک کا دوسرا دن

گذشتہ روز کی اضافی مشقت نے آج کی سٹیج نسبتاً آسان کر دی ہے۔آٹھ بجے ٹریک شروع کریں اور دو بجے ٹاپ پر پہنچ کر اذان دیں۔ دو تین گھنٹے گزارنے کے بعد اترائی کا سفر شروع کریں اور گلیشئر کے بعد نظر آنے والے پہلے سبزہ زار (دئینتر میڈوز) پر پڑاؤ ڈال دیں۔

 ٹریک کا تیسرا دن

آٹھ بجے ٹریک شروع کریں اور تین بجے تک تالنگ پہنچ جائیں جہاں پیشگی بک کرائی گئی جیپ گلگت لے جانے کے لیے آپ کا انتظار کر رہی ہو گی۔

دئینتر پاس … گلگت تا گلگت یا ہنزہ …  صرف چار دن اور چھ ہزار روپے میں  …  چلے بھی آؤ کہ روزی کا کاروبار چلے!

سائڈ ٹریکس

آپ کے پاس وقت کی فراوانی ہے اور آپ دئینتر پاس ٹریک کی تمام تر دلکشی اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتے ہیں تو جان لیجیے کہ دئینتر پاس ٹریک کی اصل رعنائیاں قدم قدم پر پائے جانے والے سائڈ ٹریکس میں پوشیدہ ہیں۔ ان کے جلوے دئینتر پاس ٹریک سے کشید کی گئی سر مستی میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔

 نل تر جھیل پر اگر ایک دن قیام کیا جائے تو بھچر پاس(Bhichchar Pass)  ٹریک ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ درہ سطح سمندر سے چار ہزار میٹر بلند ہے اور وادیِ  نل تر کو وادیِ  پونیال سے ملاتا ہے۔ بھچر پاس بنگلا نامی بستی سے صرف ایک سٹیج کی دوری پر ہے اور مقامی بکروال اس درے تک آپ کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ درے کا ٹاپ آپ کی خدمت میں  نل تر اور پونیال کے مشترکہ منظر کا تحفہ پیش کرتا ہے، اور درے کے اُس پار شیر قلعہ جیسا تاریخی سنگِ میل آپ کے قدوم میں منت لزوم کا منتظر ہے۔

لوئر شانی سے نل ترپاس ٹریک کے (۴۷۰۰میٹر بلند،تین یا چار اضافی دن) ذریعے آپ وادیِ  اشکومن کے ہوش ربا حسن کی جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں۔ نل تر پاس ٹاپ سے چار مختلف پہاڑی سلسلوں،  قراقرم، ہمالیہ، ہندو کش اور ہندو راج کی خوبصورت چوٹیوں کا(راکا پوشی، نانگا پربت، کھل تر، سنتری پیک،شسپر وغیرہ) کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

تالنگ میں کیمپنگ کر کے دئینتر نالے کے ساتھ ساتھ اپر دئینتر وادی میں چہل قدمی کی جا سکتی ہے۔مقامی حضرات بجا طور پر فرماتے ہیں کہ دئینتر کی اصل خوبصورتی یہیں نظر آتی ہے کیونکہ اپردئینتر ابھی تک جیپ ٹریک سے آلودہ نہیں ہوئی۔ دئینتر وادی کا یہ حصہ مقامی ثقافت اور تہذیب کے متلاشی ٹریکرز کی دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔

دئینتر گاؤں سے شروع ہونے والا پیدل راستہ چپروٹ کے پہاڑی سلسلے کا گمنام درہ عبور کرتے ہوئے چپروٹ کے مرکزی گاؤں پہنچا دیتا ہے۔ آج کل یہ راستہ متروک ہو چکا ہے۔ مہم جو ٹریکرز چھلت پہنچنے کے لیے اس خوبصورت متبادل پر غور فرما سکتے ہیں۔ اس ایک روزہ گمنام ٹریک کے لیے دئینتر سے کوئی بکروال ’’پکڑا‘‘  جا سکتا ہے۔

 برداس میں کیمپنگ کر کے ( بقول مسٹر باباجی ) چار ہزار روپے کے قیمتی زر مبادلہ کی بچت کے ساتھ ساتھ وادیِ  گرم سائی کے نرم گرم نظاروں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ گائیڈ بکس اس وادی کے شیفرڈ ہٹس اور چراگاہوں کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔

چھلت میں ایک دن کا قیام وادیِ  چپروٹ تک رسائی کا باعث بنتا ہے۔ برطانوی کوہ نورد شوم برگ صاحب فرماتے ہیں کہ چپروٹ گلگت ایجنسی کی خوبصورت ترین وادی ہے۔ چپروٹ کا مرکزی قصبہ چھلت سے تین گھنٹے کی ٹریکنگ کے فاصلے پر ہے۔ چھلت اور چپروٹ خوبصورت ترین قصبے ہونے کے علاوہ تاریخی مقامات بھی ہیں۔ ٹریکنگ کا مقصد اگر مناظر سے لطف اندوز ہونا ہے تو چپروٹ کے ملکوتی حسن سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنا ادنیٰ درجے کی بد ذوقی ہے۔

گلگت

ہم نے ٹریک کے بعد گلگت میں گزارا جانے والا وقت شاپنگ کی نذر کر دیا تھا۔ آپ گلگت کے درجِ  ذیل مقامات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

۱۔گلگت سے تقریباً دس کلومیٹر فاصلے پر کارگہ نالے کے کنارے ایک بلند چٹان پر بنایا گیا مہاتما بدھ کے مجسمے کا خاکہ …  بذریعہ جیپ یا سوزوکی وین۔

۲۔ ریور ویو پوائنٹ(Riverview Point) اور دریائے گلگت پر بنایا گیا جناح برج۔

۳۔ دریائے گلگت کے کنارے چنار باغ اور شہدائے آزادی کی یادگار۔

۴۔آرمی پبلک سکول کے گراؤنڈ میں پائے جانے گوہر امان کے ’’مغل قلعے‘‘  کے کھنڈرات۔ ان کھنڈرات میں صرف ایک برج کسی حد تک قائم و دائم ہے جسے غیر ملکی سیاحوں پر رعب ڈالنے کے لیے گوہر امان ٹاور کا خطاب دے دیا گیا ہے۔

۵۔ این۔ایل۔ آئی مارکیٹ اور اسکی پارکنگ میں تعمیر کیا گیا مینارِ آزادی۔

۶۔گلگت کینٹ میں واقع نام نہاد چڑیا گھر

۷۔دینیور میں حضرت سلطان علی عارف المعروف سلطان الف کی درگاہ

۸۔دینیور کی ایک چٹان پر خطاطی کا نمونہ جسے قومی نوادرات میں شامل کر لیا گیا ہے۔

۹۔دینیور ہی میں چینی جوانوں کا قبرستان جنھوں نے دیارِ غیر میں شاہراہِ  قراقرم کی تعمیر کے لیے اپنی اَن مول جانوں کا نذرانہ پیش کیا انھیں  … مرے وطن کی فضائیں سلام کہتی ہیں۔

ہنزہ

چھلت سے آپ گلگت کے بجائے ہنزہ پہنچ جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ بے شک راولپنڈی کے سفر میں دو گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا لیکن آپ ہنزہ کے مشہورِ عالم حسن کی تجلیوں سے محروم نہیں رہیں گے۔ آپ پہلے کریم آباد میں وقت گزار چکے ہیں، تب بھی ہنزہ آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ ہر سال اس کے جوبن پر ایک نئی آب و تاب آ جاتی ہے، اس کے پانیوں میں جھلملانے والے سنہری تار ایک نیا طلسم تخلیق کرتے ہیں، التت کی رسیلی خوبانیاں نیا ذائقہ پیش کرتی ہیں، بلتت فورٹ کے محافظ کی روایتی ٹوپی میں مرغِ زریں کا نیا پر لگ جاتا ہے، راکاپوشی، دیراں، لیڈی فنگر اور التر پیک نیا سنگھا ر کر کے آپ کی راہ میں برفیں بچھاتی ہیں اور  …  بہت کچھ اور … آتے جائیے،دیکھتے جائیے!

کیا سمجھتے ہو جام خالی ہے

پھر چھلکنے لگے سبو آؤ

{اللہ حافظ}

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: