Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 10

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 10

–**–**–

“تمہارے اس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں اور یہ دعوت میری طرف سے ہے، اب آرڈر کرو”
حیا نے گردن جھکا کر ایک سرسری سی نگاہ اپنے کوٹ پہ ڈالی۔ “مگر دعوت تمہاری طرف سے ہے تو آرڈر تمہیں ہی کرنا چاہئیے۔
اس نے جہاں کی بات نظر انداز کر دی کہ شاید مذاق کر رہا ہے۔
“ٹھیک ہے۔ جہاں نے مینیو کارڈ اٹھایا اور صفحےپلٹنے لگا۔ وہ محو سی اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھے گئی۔کیا وہ جانتا تھا کہ وہ اسکی بیوی ہے؟ اتنی بڑی بات وہ نہ جانتا ہو، کیا یہ ممکن تھا؟
“اس روز تم نے بہت غلط بات کی تھی جہاں! مجھے تم پہ بہت غصہ آیا تھا۔” جب وہ آرڈر کر چکا تھا وہ یونہی بند مٹھی ٹھوڑی تلے ٹکائے اسے تکتے ہوۓ بولی۔
“میں نے کیا کیا تھا؟” وہ حیران ہوا۔
“پتا نہیں کس نے میرے نام پھول بھیجے اور تم نے کہا کہ میرا ویلنٹائن۔۔۔۔۔۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں جہاں! نہ ہی میں جانتی ہوں کہ وہ پھول کس نے بھیجےتھے؟”
“اوکے!” جہاں نے سمجھنے والے انداز میں اثبات میں سر کو جنبش دی، مگر وہ جانتی تھی، اسے یقین نہیں آیا۔
ریسٹورنٹ میں گہما گہمی تھی۔ اردگرد ویٹرز میزوں کے درمیان راستہ بناتے، ٹرے اٹھاۓ تیزی سے پھر رہے تھے۔ پس منظر میں بجتی موسیقی کے سُر بدل گئے۔اب ایک ترک گلوکار دھیمی لے والا گیت گنگنا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ویسے تم صبح صبح کہاں جا رہی تھیں؟”
میں یہیں سیسلی آ رہی تھی، شاپنگ وغیرہ کرنے۔” ویٹر کافی لے آیا تھا اور اب ان دونوں کے درمیان جھکا ٹرے دوسرا کپ اٹھا کر میز پر رکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بہادر لڑکی ہو اکیلی گھوم پھر لیتی ہو۔” جہان نے مسکرا کر کہتے ہوۓ اپنی کافی میں شکر ڈالی۔
“استنبول میں یہ بہادری مہنگی تو نہیں پڑے گی؟”
“مطلب؟” کافی کا بھاپ اڑتا ہوا کپ لبوں سے لگاتے ہوۓ جہان کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔ اس نے ایک گھونٹ پی کر کپ نیچے رکھا۔
“مطلب ڈرگ مافیا، آرگنائزڈ کرائم اور اسٹیٹ سیکرٹ آرگنائزیشن جیسی ترکیبات سے واسطہ تو نہیں پڑے گا؟”
وہ کہنیاں میز پر رکھے آگے ہوئی اور چہرے پہ سادگی سجاۓ آہستہ سے بولی۔” کیوں کہ سنا ہے یہاں ان سب سے پالا پڑ سکتا ہے۔”
“کس سے سن لی تم نے ایسی خوفناک باتیں؟” جہاں نے مسکرا کر سر جھٹکا۔
“تم بتاؤ یہ پاشا کون ہے؟”
“پاشا کو نہیں جانتیں تو ترکی کیوں آئی ہو؟” مصطفی کمال پاشا۔۔۔۔۔۔ یا کمال اتا ترک۔۔۔۔ وہ ترکوں کا باپ تھا۔”
وہ نہیں، میں استنبول کے پاشا کی بات کر رہی ہوں، عبدالرحمن پاشا کی۔
کافی کا کپ لبوں تک لے جات ہوئے جہان نے رک کر ناسمجھی سے دیکھا۔
کون؟ کافی سے اڑتی بھاپ لمحے بھر کے لیے اس کے چہرے کو ڈھانپ گئی۔
ایک بھارتی اسمگلر جو یورپ سے ایشیا اسلحہ اسمگل کرتا ہے۔
کم آن! اس نے کپ رکھ کر سنجیدگی سے حیا کو دیکھا۔ استنبول میں ایسا کوئی مافیا راج نہیں ہے یہ کس نے تمہیں کہانیاں سنا دی ہیں؟ یوں ہی مشہور ہونے کےلیے کسی نے اپنے بارے میں افواہ اڑائی ہو گی۔ تم استنبول کو کیا سمجھ رہی ہو؟
ہالے کی طرح وہ ایک خالص ترک تھا۔ اپنے استنبول کے دفاع کے لیے جی جان سے تیار۔
ویٹر جہان کے اشارے پر بل کے آیا تھا اور جہان اپنے بٹوے سے کارڈ نکال کر اس کی فائل میں رکھ رہا تھا۔رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے نا۔
حیا! یہ پاکستان نہیں ہے۔ جہان نے ذرا تفاخر سے جتا کر کہا تو اس کے لب بھینچ گئے۔ کارڈ رکھ کر جہان نے فائل بند کر کے ایک طرف رکھی۔
پاکستان میں بھی یہ سب نہیں ہوتا اور بل میں دوں گی۔ حیا نے تیزی سے فائل اٹھائی اور کھولی۔
جیسےمیں جانتا ہی نہیں۔ جہان کی اگلی بات لبوں میں ہی ره گئی۔
ان کےدائیں طرف سے ایک ویٹر ٹرےاٹھاۓ چلا آرہا تھا۔ اچانک ایک دوسرا ویٹر تیزی سے اسکے پیچھے سے آیا اور پہلے ویٹر سے آگےنکلنے کی کوشش کی۔پہلے ویٹر کو ٹھوکر لگی، وه توازن برقرار نهہ رکھ پایا اور نتیجتا اسکی دائیں ہتھیلی پہ سیدھی، رکھی لکڑی کا ٹرے شڑ شڑ کرتا بھاپ اڑاتا sizzler platter بیف اسٹیکس سمیت الٹ گیا۔ میز پہ رکھے حیا کے ہاتھ پہ ٹرے اور گرم بیف اکٹھے آکر لگے۔ وه بلبلا کر کھڑی ہوئی۔ فائل اور بل نیچے جاگرے۔
آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری وه دونوں ویٹر بیک وقت چیزیں ٹھیک کرنے لگے۔ ٹرےسےکافی کا کپ بھی الٹ گیا تھا۔اور ساری کافی فرش پر گری پڑی تھی۔
جہان ناگواری سے ترک میں انہیں ڈانٹنے لگا۔ چند منٹ معذرتوں اور میز صاف کرنے میں لگ گۓ۔ وه واپس بیٹھا تو حیا اپنی کلائی سہلا رہی تھی۔
تمہیں چوٹ آئی ہے۔ دکھاؤ، زیاده جل تو نہیں گیا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، مگر حیا نے کلائی پیچھے کر لی۔
ذراسی چوٹ سے میں زخمی تو نہیں ہوگئی۔ بہت ٹف زندگی گزاری ہے میں نے۔ بظاہر مسکرا کر وه درد کو دبا گئی۔ ھہتھیلی سرخ پڑ چکی تھی اور شدید جل رہی تھی۔
میری بات اور ہے ہاتھ دکھاؤ۔
مگر اس نے ہاتھ گود میں رکھ لیا۔
ٹھیک ہے، اٹس اوکے، کافی کا شکریہ، اب ہمیں چلناچاہیئے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ بل والی بات اسے بھول گئی تھی۔
مگر کافی توختم کر لو۔ وه قدرے پریشانی سے کھڑا ہوا۔
رہنےدو، انتہائی بدتہذیب ویٹرز ہیں یہاں کے، چلو۔
واپسی پہ وه اسے میٹرو اسٹیشن تک چھوڑنے آیاتھا۔ زیر زمین جاتی سیڑھیوں کے دہانے پہ وه دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔
تم واپس ٹاقسم نہیں آؤ گے؟
نہیں، وه دفتر یہاں قریب ہی ہے، جس سے کام کے سلسلے میں ملنے آیا تھا، اس طرف۔
جہان نے بازو اٹھا کر دور ایک طرف اشاره کیا۔اس نے سفید شرٹ کی آستین یوں ہی کہنیوں تک موڑ رکھی تھی۔ اور کوٹ بازو پہ ڈال رکھا تھا۔ ٹائی کی ناٹ اب تک ڈھیلی ہو چکی تھی۔ وه یقینا اس کا ایک ورکنگ ڈے خراب کر چکی تھی۔
ویسےتم کیا کرتے ہو؟ وه کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑی گردن اٹھاۓ اسے دیکھ رہی تھی۔
میں ایک غریب سا ریسٹورنٹ اونر ہوں، استقلال اسٹریٹ پہ جو پہلا برگر کنگ ہے، وه میرا ہے۔ استقلال اسٹریٹ ٹاقسم اسکوائر کے بالکل ساتھ ہے۔ دیکھی ہے نا تم نے؟
اوں ہوں۔ اس نے گردن دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلائی۔
تم اس ویک اینڈ پہ گھر کیوں نہیں آجاتیں؟ ممی خوش ہوں گی۔
اور تم؟ بےساختہ لبوں سےپهسلا۔
میں تو ویک اینڈ پر بھی ریسٹورنٹ ہوتا ہوں۔
پهر فائده، اس نے سوچا۔
کوشش کروں گی۔ وه مسکرا دی، اس نےدایاں ہاتھ جیب سے نکال کر بال پیچھے ہٹاۓ۔
تمہارا ہاتھ ابھی تک سرخ ہے، اگر کسی دوست نے پوچھ لیا تو کیا کہوگی؟
کہہ دوں گی کہ گدلی برف کے ساتھ کیچڑ تھی گھاس پ، وہیں پھسل گئی۔ اس نےلاپروائی سےشانےاچکاۓ۔ (اب کزن کے ساتھ کافی پینےکا قصہ تو سنانے سے رہی۔)
پھسل گئی تو ہتھیلی رگڑی گئی؟
ہاں!
اورگھٹنے؟ جہان نے مسکرا کر اس کی جینز کی طرف دیکھا۔
مطلب؟ حیا نےابرو اٹھاۓ۔
لڑکی! کور اسٹوری پوری بنایا کرو۔ اگر تم ہتھیلیوں کے بل کیچڑ میں گرو تو اصولا تمھارے گھٹنوں پہ بھی رگڑ آنی چاہیۓ۔ پھر وه چند قدم چل کر گھاس کے قطعے کی طرف گیا، جھک کر تین انگلیوں سے مٹی اٹھائی اور واپس آکر اس کے سامنے کی۔ اسے اپنی جینز پر لگا دو، ورنہ تمہاری فرینڈز یقین نہیں کریں گی۔
اتنابھی کوئی شکی مزاج نہیں ہوتاجہان سکندر! اس نے ہنس کر اپنے پوروں پہ ذرا سی گیلی مٹی لی اور جھک کر گھٹنوں کے اوپر جینز پہ مل دی، پهر ہاتھ جھاڑتے ہوۓ سیدھی ہوئی۔
میں کوشش کروں گا کہ ہفتے کی صبح سار اکام ختم کر کےگھر آجاؤں، تم ہفتےکی شام ضرور آنا۔
پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ وه کم گو، سنجیده طبیعت کا، لیےدیے رہنے والا شخص ضرور ہے، مغرور بھی ہے اور جلدی گھلتا ملتا بھی نہیں، مگر اندر سے وہ بہت خیال رکھنے والا بھی ہے اور باریک بین بھی۔ جو معمولی باتیں وہ نظرانداز کر دیتی تھی، وہ جہان کی زیرک نگاہوں سے چھپی نہیں رہتی تھیں۔
وہ جب ہاسٹل واپس آئی تو ڈی جے اور ہالے ایک رسالہ کھولے کسی طویل بحث میں مگن تھی، ڈی جے کی نگاہ سب سے پہلے اس کے سرخ ہاتھ پر پڑی۔
ایک جگہ گدلی برف کے ساتھ کیچڑ تھی، وہی پھسل گئی۔
ڈی جے نے بے اختیار اس کے گھٹنوں پہ لگے کیچڑ کو دیکھا، پھر اثبات میں سر ہلایا۔ ہاں لگ رہا ہے۔
حیا بات بدلنے کی غرض سے بولی۔ ہالے!ہالے یہ بالکونی کی بتی کون جلاتا ہے؟ جیسے ہی اس کے نیچے جاؤ تو وہ جل اٹھتی ہے۔
ہالے جو غور سے اس کے کوٹ کو دیکھ رہی تھی، اس کے سوال پر نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
ان میں آٹو میٹک سینسرز لگے ہیں، وہ اپنی رو میں کسی انسان کی موجودگی یا پھر تیز ہوا، آندھی وغیرہ میں خودبخود جل اٹھتی ہیں۔
اور دروازہ بہت دیر سے بند ہوا، خودبخود۔
ان دروازوں کے کیچرز سلو ہیں۔ یہ چوکھٹ پہ دیر سے آ کر لگتے ہیں، تاکہ ہر وقت کی ٹھاہ ٹھاہ سے طلبا کی پڑھائی ڈسٹرب نہ ہو۔
آہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے نے سمجھ کر سر ہلایا۔ ہمارے ہاں بھی ہاسٹلز میں ایسی لائٹس اور دروازے۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوتے۔ حیا نے ڈی جے کی بات تیزی سے کاٹی۔ اور پاک ٹاور ایشیا کا دوسرا بڑا مال نہیں ہے، ہمیں غلط فہمی ہوئی تھی۔ وہ جواہر دیکھ آئی تھی اور اسے اس بڑھک پر خفت ہوئی تھی۔
حیا! ڈی جے نے احتجاجا گھورا۔ ہالے ابھی تک حیا کا کوٹ دیکھ رہی تھی۔ حیا الماری کی طرف چلی گئی تو ہالے گہری سانس لے کر بولی۔
پھر حیا! تمہیں کسی ہینڈسم لڑکے نے کافی پلائی؟ وہ جو ٹوٹی جوتی والا شاپر الماری میں رکھ رہی تھی، بری طرح چونک کر پلٹی۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟ وہ تیزی سے بولی۔
کافی، چائے، لنچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں؟
نہیں، مگر کیوں؟
تم عقل مند، جو سرخ کوٹ پہن کر گئی تھیں، شہر کی سیر پہ استنبول میں، اگر اتنا زیادہ سرخ رنگ پہن کر اور ہیوی میک اپ کر کے باہر نکلا جائے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہالے نے مسکراہٹ دبائی ”کہ یو آر لکنگ فار اے ڈیٹ، یا پھر ون نائٹ اسٹینڈ! یہاں تو لوگ ویلنٹائن ڈے پر بھی اتنا سرخ پہن کر نہیں نکلتے۔“ (چل حیا بی بی تو آزادی سیلیبریٹ کر لے)
اچھا! پتہ نہیں۔ وہ دانستہ ان کی طرف سے رخ موڑ کر الماری میں چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی۔
یہ دعوت کس خوشی میں ہے؟
“تمہارے اس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں۔
مارے تضحیک کے اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ وہ جہان کی مسکراہٹیں، وہ شائستگی، وہ ریسٹورنٹ لے جانا، وہ سب کسی اپنائیت کے جذبے کے تحت نہیں تھا، بلکہ۔۔۔۔۔ بلکہ وہ اسے کوئی بکاؤ مال کی طرح سمجھ رہا تھا، خود کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے والی لڑکی؟ کوئی پیشہ ور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اس کے دل پہ بہت سے آنسو گر رہے تھے۔ جہان سکندر ہمیشہ اسے بے عزت کر دیا کرتا تھا۔ (ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سچی؟؟؟)
••••••••••••••••••••••••
آہستہ آہستہ وہ جہان سکندر کے استنبول میں ایڈجسٹ ہوتی جا رہی تھی۔
ڈی جے کی نیند اور نسیان البتہ اسے عاجز کر دیتے تھے۔ ڈی جے کو ذرا کہیں ٹیک مل جاتی، وہ آنکھیں بند کر کے سونے کے لیے تیار ہو جاتی اور پھر اس کا بھلکڑ پن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا جب بھی کچھ فوٹو کاپی کروانے جاتی، اسے وہاں لاوارث پڑے کسی رجسٹر، کسی نوٹس کے جھتے، کسی کتاب پر ہمیشہ شناسائی کا گمان گزرتا۔ وہ اسےاٹھا کر دیکھتی تو بڑا بڑا ”ڈی جے“ لکھا ہوتا تھا۔ وہ ہر چیز واپس لا کر ڈی جے کے سر پر مارا کرتی تھی۔ اور ڈی جے ”یہ ادھر کیسے پہنچ گیا“ کہہ کر ہنسنے لگ جاتی۔
سبانجی میں ان کا ایک مخصوص آئی ڈی کارڈ بنا تھا۔ اس پہ تصویر کھنچوانے کی شرط اور گردن کھلی رکھنا تھی۔ وہ موبائل کے پری پیڈ کارڈ کی طرح تھی۔ گورسل کا ٹکٹ، فوٹو کاپیئر کی رقم اور دوپہر کے کھانے کا بل اسی کارڈ پہ ادا ہوتا تھا۔ اس میں موبائل کے ایزی لوڈ کی طرح بیلنس ڈلوایا جاتا تھا۔ انہیں ان پانچ ماہ میں ہر مہینے ایک ہزار یورو کا اسکالر شپ ملنا تھا، مگر چند تیکنیکی مسائل کے باعث کسی بھی اسکالر شپ ایکسچینج اسٹوڈنٹس کے فروری کے ایک ہزار یورو نہیں آئے تھے۔ امید تھی کہ مارچ میں اکٹھے دو ہزار مل جائیں گے اور پھر آگے ہر مہینے باقاعدگی سے ملا کریں گے۔ تب تک پاکستان سے آئی رقم سے گزارا کرنا تھا۔ سو آج کل سب ایکسچینج اسٹوڈنٹس کا ہاتھ تنگ تھا
دوپہر کا کھانا وه سبانجی کے ڈائننگ ہال میں کھاتی تھیں۔ رات کا کھانا اپنے کمرے میں خود بنانا ہوتا۔ ہر بلاک میں ایک کچن تھا۔ جہاں پر ہر اسٹوڈنٹ اپنا ناشتہ اور رات کا کھانا تیار کرتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہاں طلبہ کےلئےخصوصی ڈیزائن کرده چولھے تھے۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں کوئی پڑھائی میں مگن چولھے پہ کچھ رکھ کے بھول جائے یا گیس کھلی چھوڑ دے اور نقصان ہو’ وه چولھےآٹومیٹک تھے۔ ہر پندره منٹ بعد جب چولھا خوب گرم ہو جاتا تو خودبخود بند ہو جاتا۔ پهر پانچ منٹ بعد دوباره جل اٹھتا۔ انکو بند ہونے سے روکنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔ اور ایسے بیکار چولھوں پہ دیسی کھانا پکانا ناممکن تھا۔ ہاسٹل کے بلاکس کے قریب ہی ایک بہت بڑا لگژری سپراسٹور”دیاسا”تھا۔
“دیا”اسکا نام تھا اور “سا” ترک میں اسٹور کو کھہتے تھے۔ وه دونوں دیا اسٹور سے راشن لاتیں اور بل آدھا آدھا تقسیم کر لیتیں۔ ایک رات حیا کھانا بناتی اور وه بہت اچھا سا دیسی کھانا ہوتا۔ دوسری رات ڈی جے کی باری ہوتی اور جو وه بناتی، وه کچھ بھی ہوتا تھا مگر کھانا نہ ہوتا۔
ڈی جے میں یہ تمہارے سر پر الٹ دوں گی۔ وہ جب بغیر بھنے ابلی ہوئی سبزی کا سالن دیکھتی یا پهر ابلے چاولوں پہ آملیٹ کے ٹکڑے تو ڈی جے پہ خوب چلایا کرتی تھی۔ اور پهر ترکی کےمصالحے۔۔۔۔۔۔۔۔ وه اتنے پھیکے ہوتےکہ حیا چار چار چمچے بھر کے سرخ مرچ ڈالتے تو بھی ذرا سا ذائقه آتا۔ کھانے اسکے بھی پهیکے ہوتے مگر ڈی جے سے بہتر تھے۔ البتہ اپنے کمرے میں روز جب صبح ہوتی تو ڈی جے بینک کی سیڑھیاں پهلانگ کر اترتی اور اسی طرح نہار منہ کھڑکی میں کھڑی ہو جاتی۔ پھرپٹ کھول کر باہر چہره نکال کر زور سے آواز لگاتی۔
گڈ ما آآ آ رننگ ڈی جے۔ اور جواب میں دور کسی بلاک سے ایک لڑکا زور سے پکارتا۔ ٹی بے.. غالبا وه ڈی جے کے الفاظ ٹھیک سمجھ نہیں پاتا تھا۔ ڈی جے روز صبح صبح یہی عمل دہراتی تھی۔ اسکے ٹی بے کہنے کے بعد وه پکارتی”ذا…….لیل” اور وه لڑکا جوابا چلاتا دا…دی۔ اسکے بعد حیا کمبل سے منہ نکال کر کشن اٹھاتی اور ڈی جے کو زور سے دے مارتی۔ یوں اسکی اور اس ان دیکھے لڑکے کی گفتگو اختتام پذیر ہوتی۔ گھر روز ہی بات ہو جاتی تھی۔ البتہ موبائل کی رجسٹریشن میں مسئلہ ہوا تھا۔ ڈی جے کا تو رجسٹر ہوگیا، مگر حیا کےساتھ ہوا یوں کہ اسکے پاسپورٹ پہ جہاں انٹری کی تاریخ پانچ فروری لکھی تھی۔ وہاں اوپر آفیسر کے دستخط کے باعث پانچ کاہندسہ بظاہر چھ لگ رہاتھا۔ تاریخ کا ذرا سا فرق مشکل پیدا کرنے لگا اور اسکا فون رجسٹر نہ ہو سکا۔ وه ترک سم اس پہ استعمال نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ ہفتے کے بعد غیر رجسٹر فون پہ ترک سم بلاک ہو جاتی تھی تو ہالے نے اسے اپنا ایک پرانا موبائل سیٹ لا دیا۔ اور وه اس بدصورت موٹے بھدے فون کو برداشت کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اپنے موبائل پہ اس نے اپنی پاکستانی سم لگا دی تھی۔ اور وه رومنگ پر ٹھیک چل رہا تھا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••
تمہارا کہاں کا پلان ہے؟ حیا نے چاولوں کی پلیٹ میں سے چمچہ بھرتے ڈی جے سے پوچھا۔ یہ پلاؤ اب اسکا اور ڈی جے کا مرغوب ترین کھانا بن چکا تھا۔ اور ساتھ ترک کوفتے اور پھلوں کا سلاد۔ وه دونوں آمنے سامنے ڈائننگ ہال میں بیٹھی جلدی جلدی کھانا کھا رہی تھی۔
میں سسلی جانا چاہتی ہوں شاپنگ وغیرہ کےلیے اور تم تو اپنی پھپھو کےگھر جاؤ گی نا؟ ڈی جے کوفتے کے سالن میں سے تیل نکال کر دوسرے پیالےمیں ڈال رہی تھی۔ وہ یوں ہی ہر سالن میں سے تیل نکالا کرتی تھی۔ تلی ہوئی چیزوں کو اخبار میں لپیٹ کر دباتی اور پھر کھاتی۔
ہاں اور تم ہڈیوں کا ڈھانچا اسی لیے ہو۔ حیا نے رک کر ناگواری سے اس کے عمل کو دیکھا۔ وہ بنا اثر لیے اوپر آیا تیل دوسرے پیالے میں انڈیلتی رہی۔
ڈائننگ ہال بے حد وسیع و عریض تھا۔ ہر سو زرد روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ وہاں دو لبمی سی قطاروں میں مستطیل میزیں لگی تھیں اور دونوں قطاروں کے چاروں طرف کرسیوں کی سرحد بنی تھی۔ ہر طرف گہما گہمی، رش اور شور سا تھا۔
دفعتا پلیٹ کے ساتھ رکھا حیا کا موبائل بج اٹھا۔ اس نے چمچہ پلیٹ میں رکھا اور نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے چمکتی اسکرین کو دیکھا۔ تایا فرقان ہوم کالنگ۔۔۔۔۔۔۔
حیا ارم بول رہی ہوں۔
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو ارم؟ نوالہ منہ میں تھا، اس لیے اس کی پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔ تم سناؤ۔ ارم کی آواز میں ذرا بے چینی تھی۔
سب خیریت ہے، تم سناؤ، کوئی بات ہوئی ہے کیا؟
نہیں۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔ سنو ایک بات تھی۔ ارم کی آواز دھیمی سرگوشی میں بدل گئی۔
کہو، میں سن رہی ہوں۔ اس کے ذہن کے پردے پر وہ ویڈیو ابھری تھی۔
وہ۔۔۔۔ یار عجیب سی بات ہے۔ مگر تم ابا وغیرہ کو نا بتانا۔ اصل میں کل شام جب میں یونیورسٹی سے واپس آئی تو گیٹ کے قریب ایک۔۔۔۔۔۔ خواجہ سرا تھا۔۔۔۔۔۔ اس نے مجھےروکا۔
حیا بالکل دم سادھےسنے گئی۔ پل بھر کو اسے ڈائننگ ہال کی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔ اس کی سماعت میں صرف ارم کے الفاظ گونج رہے تھے۔
پہلے تو میں ڈر گئی، مگر اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی تو مجھےتسلی ہوئی۔ وہ مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا کہ حیا باجی کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟ امریکہ پہنچ گئیں خریت سے؟ میں نے بتایا کہ وہ امریکہ نہیں ترکی گئی ہے۔ پھر وہ کہنےلگا کہ میں تمہیں اس کا سلام اور۔۔۔۔۔۔ وہ جھجھکی۔ اور دعا دے دوں۔
اور کچھ؟
نہیں، مگر تم ابا وغیرہ کو مت بتانا کہ میں نے ایک خواجہ سرا سے بات کی ہے۔
یہ بات تمہیں اس سے مخاطب ہونے سے قبل سوچنی
چاہیے تھی۔ بہرحال میں نہیں جانتی، وہ کون ہے، کیا نام بتایا اس نے اپنا؟
ڈولی۔
پتا نہیں کون ہے۔ آئندہ ملے تو بات نہ کرنا، بلکہ نظرانداز کر کے گزر جانا۔ مزید چند باتیں کر کے اس نے فون رکھ دیا اور دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
ویسے تمہاری پھپھو کا کوئی ہینڈسم بیٹا ویٹا ہے؟ ڈی جے نپکن سے ہاتھ صاف کر کے مگن سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
اس کا ہاتھ رک گیا۔ وہ چونک کر اسےدیکھنے لگی۔ کیوں؟
تمہاری چمک دمک دیکھ کر یہ خیال آیا۔ ڈی جے نے مسکراہٹ دباتے، اپنی عینک انگلی سے پیچھے کی۔
حیا نے یوں ہی چمچہ پکڑے گردن جھکا کر خود کو دیکھا۔ پاؤں کو چھوتے زرد فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی۔ فراک کی زرد شیفون کی تنگ چوڑی دار آستینیں کلائی تک آتی تھیں۔ شیفون کا ڈوپٹہ اس نے گرن کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ بال حسب عادت سمیٹ کر دائیں کندھے پہ آگے کو ڈال رکھے تھے۔
ہاں، ہے ایک بیٹا مگر شادی شدہ ہے۔ وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر پلیٹ میں پڑا کوفتہ کانٹے سے توڑنے لگی۔
اونھوں۔۔۔۔ سارا مزہ ہی کڑکڑا کر دیا۔
اوہ ڈی جے! یہ کیا؟ وہ ڈی جے کے پیچھے کچھ دیکھ کر رکی تھی۔
کوفتہ ہے اور کیا۔ ڈی جے نے کانٹے میں پھنسے کوفتے کو دیکھ کر کہا۔
افوہ! اپنے پیچھے دیکھو۔ اس نے جھنجھلا کر کہا تو ڈی جے نےگردن موڑی۔ وہاں ایک قدرے فربہی مائل لڑکی چلی آ رہی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ شلوار قمیض اور ڈوپٹے میں ملبوس تھی۔
سبانجی میں ہم وطن؟ ڈی جے نے بے یقینی سے پلکیں جھپکیں۔ اگلے ہی پل وہ دونوں اپنے اپنے کوٹ اٹھا کر کھانا چھوڑ اس کی جانب لپکیں تھیں۔
وہ لڑکی اپنی کتابیں سنبھالتی چلی آ رہی تھی۔ ان دونوں کو دیکھ کو ٹھٹکی۔ وہ ڈی جے کی شلوار قمیص اور حیا کا فراک پاجامہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی اور وہ دونوں اس کی شلوار قمیص۔
آپ پاکستانی ہیں؟ حیا پرجوش سی اس کےپاس گئی۔ ڈی جے اس سے ذرا پیچھے تھی۔
نہیں، میں انڈین ہوں۔
ڈی جے ڈھیلی پڑ گئی۔ رہنے دو حیا! مجھے ابھی ورلڈ کپ کا غم نہیں بھولا۔
اس نے سرگوشی کی۔ تین سل پہلے مصباح الحق کا آخری بال پر آؤٹ ہونا ڈی جے کو کبھی نہیں بھولتا تھا۔
حیانے زور سے اپنا پاؤں ڈی جے کے جوتے پر کھ کر دبایا۔
ہم پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس ہیں۔ حیا سلیمان اور یہ خدیجہ رانا۔ آپ؟
میں انجم ہوں۔ میں اور میرے ہیسبینڈ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہم یہاں پڑھاتے بھی ہیں۔ ادھر فیکلٹی میں ہمارا اپارٹمنٹ ہے، وہیں رہتے ہیں ہم، کبھی آؤ نا ادھر۔ انجم ان دونوں سے زیادہ پرجوش ہو گئی تھی۔
شیور۔۔۔۔۔۔ انجم باجی۔ ڈی جے ان کا مسلمان ہونا سن کر پھر سے خوش ہو گئی تھی۔ وہ تینوں کافی دیر وہاں کھڑی باتیں کرتی رہیں اور جب ڈیجے کو یاد آیا کہ گورسل نکلنے میں پانچ منٹ ہیں تو انجم باجی کو جلدی سے خداحافظ بول کر وہ اپنا کوٹ ہاتھوں میں پکڑے باہر بھاگیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••
وہ ٹاقسم کے پارک میں سنگی بنچ پر بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا سفید لمبا اونی کوٹ اب زرد فراک پر پہن لیا تھا اور سر جھکائے ہاتھ میں پکڑی شکن ذدہ چٹ پہ سے سبین پھپھو کا نمبر موبائل پہ ملا رہی تھی۔ ابھی تک اس نے اس نمبر کو موبائل میں محفوظ نہیں کیا تھا۔
وہاں دور تک سبزہ پھیلا تھا۔ خوش نما پھول اور رنگوں تتلیوں کی بہتات ہوا اس کےلمبے بال اڑا رہی تھی۔ وہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے فون پر جاتی گھنٹی سننے لگی۔
ہیلو۔ بہت دیر بعد جہان نے فون اٹھایا۔
جہان۔۔۔۔۔۔ میں حیا۔۔۔۔۔۔ اس کے انداز میں خفت در آئی۔ اس سے کہہ رکھا تھا اس لیے آج جا رہی تھی۔ ورنہ اس سرخ کوٹ نے تو اسے خوب بے وقعت کیا تھا۔
ہاں حیا بولو؟ وہ مصروف سا لگ رہا تھا۔
وہ میں ٹاقسم پہ ہوں، تم مجھے یہاں سے پک کر کے گھر لے جا سکتے ہو؟ آج ویک اینڈ تھا تو۔۔۔۔۔۔۔
سوری حیا! میں شہر سے باہر ہوں، تم گھر ممی کو فون کر لو نا۔
یہ تمہارے گھر کا نمبر نہیں ہے؟ اس نے حیرت سے چٹ کو دیکھا۔
نہیں، یہ تو میرا موبائل نمبر ہے۔
تو کیا اس نے داور بھائی کی مہندی والے روز جہان کے موبائل پہ فون ملا دیا تھا؟
اوہ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پھپھو کا نمبر لکھوا دو۔
جہان نے فورا نمبر لکھوا ی۔
اچھا میں ڈرائیو کر رہا ہوں، پھر بات ہوتی ہے۔ مزید کچھ سنے بغیر اس نے فون بند کر دیا۔
وہ دل مسوس کر رہ گئی۔ عجیب اجنبی سا اپنا تھا۔
پھپھو اسے کیب پر لینے آئی تھیں۔ وہ جو چند لیراز کی بچت کے چکر میں کیب کر کے نہیں گئی تھی، خوب شرمندہ ہوئی۔
گاڑی نہیں تھی تو بتاتیں، میں تو ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں، گاڑی تو جہان کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اور وہ مزید شرمندہ ہوئی۔ پھر گردن موڑ کر کھڑکی کےباہر دوڑتے درخت دیکھنےلگی۔
اسے پھپھو کچن میں ہی لے آئیں۔ حسب عادت وہ کام میں مصروف ہو گئیں۔
یہ میرے لیے اتنا بکھیڑا پالنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اردگرد پھیلی اشیا دیکھ کر خفا ہوئی۔
کوئی بات نہیں، تم میری بیٹی ہو، میرا ہاتھ بٹا دو گی، اس لیے میں نے یہ سب شروع کر لیا۔ دونوں کے درمیان پچھلی ملاقات کے ناخوشگوار اختتام کا کوئی تزکرہ نہ ہوا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چلیں! آج پلاؤ تو میں ہی بناتی ہوں، مجھے ریسیپی سمجھاتی جائیں، ویسے بھی ترکوں کی میز اس پلاؤ کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ وہ کوٹ اسٹینڈ پر لٹکا کر آستین کلائی سے ذرا پیچھے کرتی واپس آئی۔ ڈوپٹہ اس نے اتار کر کرسی پہ رکھ دیا تھا۔
پہلے تو تم چکن کی بوٹیاں کاٹ دو۔ انھوں نے ٹوکری میں رکھے مرغ مسلم کی طرف اشارہ کیا اور خود چولھے پر چڑھی دیگچی میں چمچہ ہلانے لگیں۔
چھری تو یہ پڑی ہے، کٹنگ بورڈ کدھر ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
کٹنگ بورڈ۔۔۔۔۔۔ اوہو۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو صبح نہیں مل رہا۔ جہان بھی پتا نہیں چیزیں اٹھا کر کدھر رکھ دیتا ہے۔ ٹھہرو! میں ایک پرانا بورڈ لے آؤں۔ اوپر ایٹک attic سے۔
آپ رہنے دیں، میں لے آتی ہوں، ایٹک اوپر کس طرف ہے؟
سیڑھیوں سے اوپر راہداری کے آخری سرے پہ، مگر تمہیں تکلیف ہو گی، میں خود۔۔۔۔۔۔
آپ گوشت بھونیں، جل نہ جائے، میں بس ابھی آئی۔ وہ ننگے پاؤں چلتی باہر لوبگ روم تک آئی۔
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آور آئینے میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا تو ذرا سی مسکرا دی۔ فرش کو چھوتے زرد فراک میں وہ کھلتے پھول کی طرح لگ رہی تھی۔ گلے کا کاٹ کھلا تھا اور اس کے دہانے پہ چھوٹے چھوٹے سورج مکھی کے پھولوں کی لیس نیم دائرے میں لگی تھی۔ یوں لگتا تھا اس کی خوبصورت لمبی گردن میں سورج مکھی کے پھولوں کا ڈھیلا سا ہار لٹک رہا ہو۔ اس نے انگلیوں فراک پہلوؤں سے ذرا سا اٹھایا اور ننگے پاؤں لکڑی کے زینوں پر چڑھنے لگی۔
اور راہداری کے آغاز میں ایک کمرے کا دروازہ بند تھا، شاید وہ جہان کا ایک کمرہ تھا۔ ابھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے پھپھو نے ایسا کچھ بتایا تھا۔
وہ ایک نظر بند دروازے پہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ فراک اب اس نے پہلوؤں سے چھوڑ دیا تھا۔
ایٹک میں آگے پیچھے بہت سے صندوق اور کاٹھ کباڑ رکھا تھا۔ متذبذب سی اندر آئی۔ بتی نہ جانے کدھر تھی۔ اس نے دروازہ کھلا رہنے دیا، باہر سے آتی روشنی کافی تھی۔
وہاں ہر سو سامان رکھا تھا، کٹنگ بورڈ نہ جانے کدھر تھا۔ وہ اندازا آگے بڑھی اور ایک کونے والے صندوق کا کنڈا کھول کر ڈھکن اوپر اٹھایا۔
نیچے لونگ روم سے بیرونی دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آوز آئی۔ ساتھ میں جہان اور پھپھو کی ملی جلی آوازیں۔ یقینا وہ آ گیا تھا۔ وہ مسکرا کر صندوق پر جھکی۔
اس میں الیکٹرک کا کوئی ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا تھا۔ کٹنگ بورڈ کہیں نہیں تھا۔ حیا نے ڈھکن بند کیا اور نسبتا کونے میں رکھے صندوق کی طرف آئی۔
اپنے عقب میں اسے راہداری سے کسی دروازے کے ہولے سے کھلنے کی چرر سنائی دی تھی۔ جہان اتنی جلدی اوپر پہنچ گیا؟ مگر وہ پلٹی نہیں اور صندوق کو کھولنےلگی، جس کےڈھکن کے اوپر گرد اور مکڑی کے جالوں کی تہہ تھی۔
اس نے چند چیزیں الٹ پلٹ کی تو بےاختیار گرد نتھنوں میں گھسنے لگی۔ اسے ذرا سی کھانسی آئی۔ پورا ایٹک بےحد صاف تھا۔ ماسوائے اس کونےمیں رکھے دو تین صندوقوں کے، جیسےانہیں زمانوں سے نہ کھولا گیا ہو۔
اس کی پشت پہ ایٹک کا ادھ کھلا دروازہ ہولے سے کھلا۔ کوئی چوکھٹ میں آن کھڑا ہوا تھا، یوں کہ راہداری کی آتی روشنی کا راستہ رک گیا۔ پل بھر میں ایٹک۔۔۔۔۔۔ نیم تاریک ہو گیا۔
وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ صندوق میں کسی خاکی شے کی جھلک دکھائی دی۔ اس نے دونوں میں پکڑ کر اسے اوپر نکالا۔ وہ لکڑی کا تختہ نہیںتھا، بلکہ اکڑا ہوا کپڑا تھا۔
حیا نےکپڑا کھول کر سیدھاکیا۔ ایک پرانی گرد آلود خاکی شرٹ۔۔۔۔۔ے ستارے، تمغے اور ایک نام کی تختی۔
چوکھٹ میں کھڑا شخص چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا، اس کی طرف بڑھنےلگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: