Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 11

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 11

–**–**–

دوپہر کا کھانا وه سبانجی کے ڈائننگ ہال میں کھاتی تھیں۔ رات کا کھانا اپنے کمرے میں خود بنانا ہوتا۔ ہر بلاک میں ایک کچن تھا۔ جہاں پر ہر اسٹوڈنٹ اپنا ناشتہ اور رات کا کھانا تیار کرتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہاں طلبہ کےلئےخصوصی ڈیزائن کرده چولھے تھے۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں کوئی پڑھائی میں مگن چولھے پہ کچھ رکھ کے بھول جائے یا گیس کھلی چھوڑ دے اور نقصان ہو’ وه چولھےآٹومیٹک تھے۔ ہر پندره منٹ بعد جب چولھا خوب گرم ہو جاتا تو خودبخود بند ہو جاتا۔ پهر پانچ منٹ بعد دوباره جل اٹھتا۔ انکو بند ہونے سے روکنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔ اور ایسے بیکار چولھوں پہ دیسی کھانا پکانا ناممکن تھا۔ ہاسٹل کے بلاکس کے قریب ہی ایک بہت بڑا لگژری سپراسٹور”دیاسا”تھا۔
“دیا”اسکا نام تھا اور “سا” ترک میں اسٹور کو کھہتے تھے۔ وه دونوں دیا اسٹور سے راشن لاتیں اور بل آدھا آدھا تقسیم کر لیتیں۔ ایک رات حیا کھانا بناتی اور وه بہت اچھا سا دیسی کھانا ہوتا۔ دوسری رات ڈی جے کی باری ہوتی اور جو وه بناتی، وه کچھ بھی ہوتا تھا مگر کھانا نہ ہوتا۔
ڈی جے میں یہ تمہارے سر پر الٹ دوں گی۔ وہ جب بغیر بھنے ابلی ہوئی سبزی کا سالن دیکھتی یا پهر ابلے چاولوں پہ آملیٹ کے ٹکڑے تو ڈی جے پہ خوب چلایا کرتی تھی۔ اور پهر ترکی کےمصالحے۔۔۔۔۔۔۔۔ وه اتنے پھیکے ہوتےکہ حیا چار چار چمچے بھر کے سرخ مرچ ڈالتے تو بھی ذرا سا ذائقه آتا۔ کھانے اسکے بھی پهیکے ہوتے مگر ڈی جے سے بہتر تھے۔ البتہ اپنے کمرے میں روز جب صبح ہوتی تو ڈی جے بینک کی سیڑھیاں پهلانگ کر اترتی اور اسی طرح نہار منہ کھڑکی میں کھڑی ہو جاتی۔ پھرپٹ کھول کر باہر چہره نکال کر زور سے آواز لگاتی۔
گڈ ما آآ آ رننگ ڈی جے۔ اور جواب میں دور کسی بلاک سے ایک لڑکا زور سے پکارتا۔ ٹی بے.. غالبا وه ڈی جے کے الفاظ ٹھیک سمجھ نہیں پاتا تھا۔ ڈی جے روز صبح صبح یہی عمل دہراتی تھی۔ اسکے ٹی بے کہنے کے بعد وه پکارتی”ذا…….لیل” اور وه لڑکا جوابا چلاتا دا…دی۔ اسکے بعد حیا کمبل سے منہ نکال کر کشن اٹھاتی اور ڈی جے کو زور سے دے مارتی۔ یوں اسکی اور اس ان دیکھے لڑکے کی گفتگو اختتام پذیر ہوتی۔ گھر روز ہی بات ہو جاتی تھی۔ البتہ موبائل کی رجسٹریشن میں مسئلہ ہوا تھا۔ ڈی جے کا تو رجسٹر ہوگیا، مگر حیا کےساتھ ہوا یوں کہ اسکے پاسپورٹ پہ جہاں انٹری کی تاریخ پانچ فروری لکھی تھی۔ وہاں اوپر آفیسر کے دستخط کے باعث پانچ کاہندسہ بظاہر چھ لگ رہاتھا۔ تاریخ کا ذرا سا فرق مشکل پیدا کرنے لگا اور اسکا فون رجسٹر نہ ہو سکا۔ وه ترک سم اس پہ استعمال نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ ہفتے کے بعد غیر رجسٹر فون پہ ترک سم بلاک ہو جاتی تھی تو ہالے نے اسے اپنا ایک پرانا موبائل سیٹ لا دیا۔ اور وه اس بدصورت موٹے بھدے فون کو برداشت کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اپنے موبائل پہ اس نے اپنی پاکستانی سم لگا دی تھی۔ اور وه رومنگ پر ٹھیک چل رہا تھا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••
تمہارا کہاں کا پلان ہے؟ حیا نے چاولوں کی پلیٹ میں سے چمچہ بھرتے ڈی جے سے پوچھا۔ یہ پلاؤ اب اسکا اور ڈی جے کا مرغوب ترین کھانا بن چکا تھا۔ اور ساتھ ترک کوفتے اور پھلوں کا سلاد۔ وه دونوں آمنے سامنے ڈائننگ ہال میں بیٹھی جلدی جلدی کھانا کھا رہی تھی۔
میں سسلی جانا چاہتی ہوں شاپنگ وغیرہ کےلیے اور تم تو اپنی پھپھو کےگھر جاؤ گی نا؟ ڈی جے کوفتے کے سالن میں سے تیل نکال کر دوسرے پیالےمیں ڈال رہی تھی۔ وہ یوں ہی ہر سالن میں سے تیل نکالا کرتی تھی۔ تلی ہوئی چیزوں کو اخبار میں لپیٹ کر دباتی اور پھر کھاتی۔
ہاں اور تم ہڈیوں کا ڈھانچا اسی لیے ہو۔ حیا نے رک کر ناگواری سے اس کے عمل کو دیکھا۔ وہ بنا اثر لیے اوپر آیا تیل دوسرے پیالے میں انڈیلتی رہی۔
ڈائننگ ہال بے حد وسیع و عریض تھا۔ ہر سو زرد روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ وہاں دو لبمی سی قطاروں میں مستطیل میزیں لگی تھیں اور دونوں قطاروں کے چاروں طرف کرسیوں کی سرحد بنی تھی۔ ہر طرف گہما گہمی، رش اور شور سا تھا۔
دفعتا پلیٹ کے ساتھ رکھا حیا کا موبائل بج اٹھا۔ اس نے چمچہ پلیٹ میں رکھا اور نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے چمکتی اسکرین کو دیکھا۔ تایا فرقان ہوم کالنگ۔۔۔۔۔۔۔
حیا ارم بول رہی ہوں۔
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو ارم؟ نوالہ منہ میں تھا، اس لیے اس کی پھنسی پھنسی آواز نکلی۔
ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔ تم سناؤ۔ ارم کی آواز میں ذرا بے چینی تھی۔
سب خیریت ہے، تم سناؤ، کوئی بات ہوئی ہے کیا؟
نہیں۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔ سنو ایک بات تھی۔ ارم کی آواز دھیمی سرگوشی میں بدل گئی۔
کہو، میں سن رہی ہوں۔ اس کے ذہن کے پردے پر وہ ویڈیو ابھری تھی۔
وہ۔۔۔۔ یار عجیب سی بات ہے۔ مگر تم ابا وغیرہ کو نا بتانا۔ اصل میں کل شام جب میں یونیورسٹی سے واپس آئی تو گیٹ کے قریب ایک۔۔۔۔۔۔ خواجہ سرا تھا۔۔۔۔۔۔ اس نے مجھےروکا۔
حیا بالکل دم سادھےسنے گئی۔ پل بھر کو اسے ڈائننگ ہال کی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔ اس کی سماعت میں صرف ارم کے الفاظ گونج رہے تھے۔
پہلے تو میں ڈر گئی، مگر اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی تو مجھےتسلی ہوئی۔ وہ مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا کہ حیا باجی کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟ امریکہ پہنچ گئیں خریت سے؟ میں نے بتایا کہ وہ امریکہ نہیں ترکی گئی ہے۔ پھر وہ کہنےلگا کہ میں تمہیں اس کا سلام اور۔۔۔۔۔۔ وہ جھجھکی۔ اور دعا دے دوں۔
اور کچھ؟
نہیں، مگر تم ابا وغیرہ کو مت بتانا کہ میں نے ایک خواجہ سرا سے بات کی ہے۔
یہ بات تمہیں اس سے مخاطب ہونے سے قبل سوچنی
چاہیے تھی۔ بہرحال میں نہیں جانتی، وہ کون ہے، کیا نام بتایا اس نے اپنا؟
ڈولی۔
پتا نہیں کون ہے۔ آئندہ ملے تو بات نہ کرنا، بلکہ نظرانداز کر کے گزر جانا۔ مزید چند باتیں کر کے اس نے فون رکھ دیا اور دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
ویسے تمہاری پھپھو کا کوئی ہینڈسم بیٹا ویٹا ہے؟ ڈی جے نپکن سے ہاتھ صاف کر کے مگن سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
اس کا ہاتھ رک گیا۔ وہ چونک کر اسےدیکھنے لگی۔ کیوں؟
تمہاری چمک دمک دیکھ کر یہ خیال آیا۔ ڈی جے نے مسکراہٹ دباتے، اپنی عینک انگلی سے پیچھے کی۔
حیا نے یوں ہی چمچہ پکڑے گردن جھکا کر خود کو دیکھا۔ پاؤں کو چھوتے زرد فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی۔ فراک کی زرد شیفون کی تنگ چوڑی دار آستینیں کلائی تک آتی تھیں۔ شیفون کا ڈوپٹہ اس نے گرن کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ بال حسب عادت سمیٹ کر دائیں کندھے پہ آگے کو ڈال رکھے تھے۔
ہاں، ہے ایک بیٹا مگر شادی شدہ ہے۔ وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر پلیٹ میں پڑا کوفتہ کانٹے سے توڑنے لگی۔
اونھوں۔۔۔۔ سارا مزہ ہی کڑکڑا کر دیا۔
اوہ ڈی جے! یہ کیا؟ وہ ڈی جے کے پیچھے کچھ دیکھ کر رکی تھی۔
کوفتہ ہے اور کیا۔ ڈی جے نے کانٹے میں پھنسے کوفتے کو دیکھ کر کہا۔
افوہ! اپنے پیچھے دیکھو۔ اس نے جھنجھلا کر کہا تو ڈی جے نےگردن موڑی۔ وہاں ایک قدرے فربہی مائل لڑکی چلی آ رہی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ شلوار قمیض اور ڈوپٹے میں ملبوس تھی۔
سبانجی میں ہم وطن؟ ڈی جے نے بے یقینی سے پلکیں جھپکیں۔ اگلے ہی پل وہ دونوں اپنے اپنے کوٹ اٹھا کر کھانا چھوڑ اس کی جانب لپکیں تھیں۔
وہ لڑکی اپنی کتابیں سنبھالتی چلی آ رہی تھی۔ ان دونوں کو دیکھ کو ٹھٹکی۔ وہ ڈی جے کی شلوار قمیص اور حیا کا فراک پاجامہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی اور وہ دونوں اس کی شلوار قمیص۔
آپ پاکستانی ہیں؟ حیا پرجوش سی اس کےپاس گئی۔ ڈی جے اس سے ذرا پیچھے تھی۔
نہیں، میں انڈین ہوں۔
ڈی جے ڈھیلی پڑ گئی۔ رہنے دو حیا! مجھے ابھی ورلڈ کپ کا غم نہیں بھولا۔
اس نے سرگوشی کی۔ تین سل پہلے مصباح الحق کا آخری بال پر آؤٹ ہونا ڈی جے کو کبھی نہیں بھولتا تھا۔
حیانے زور سے اپنا پاؤں ڈی جے کے جوتے پر کھ کر دبایا۔
ہم پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس ہیں۔ حیا سلیمان اور یہ خدیجہ رانا۔ آپ؟
میں انجم ہوں۔ میں اور میرے ہیسبینڈ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہم یہاں پڑھاتے بھی ہیں۔ ادھر فیکلٹی میں ہمارا اپارٹمنٹ ہے، وہیں رہتے ہیں ہم، کبھی آؤ نا ادھر۔ انجم ان دونوں سے زیادہ پرجوش ہو گئی تھی۔
شیور۔۔۔۔۔۔ انجم باجی۔ ڈی جے ان کا مسلمان ہونا سن کر پھر سے خوش ہو گئی تھی۔ وہ تینوں کافی دیر وہاں کھڑی باتیں کرتی رہیں اور جب ڈیجے کو یاد آیا کہ گورسل نکلنے میں پانچ منٹ ہیں تو انجم باجی کو جلدی سے خداحافظ بول کر وہ اپنا کوٹ ہاتھوں میں پکڑے باہر بھاگیں۔
وہ ٹاقسم کے پارک میں سنگی بنچ پر بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا سفید لمبا اونی کوٹ اب زرد فراک پر پہن لیا تھا اور سر جھکائے ہاتھ میں پکڑی شکن ذدہ چٹ پہ سے سبین پھپھو کا نمبر موبائل پہ ملا رہی تھی۔ ابھی تک اس نے اس نمبر کو موبائل میں محفوظ نہیں کیا تھا۔
وہاں دور تک سبزہ پھیلا تھا۔ خوش نما پھول اور رنگوں تتلیوں کی بہتات ہوا اس کےلمبے بال اڑا رہی تھی۔ وہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے فون پر جاتی گھنٹی سننے لگی۔
ہیلو۔ بہت دیر بعد جہان نے فون اٹھایا۔
جہان۔۔۔۔۔۔ میں حیا۔۔۔۔۔۔ اس کے انداز میں خفت در آئی۔ اس سے کہہ رکھا تھا اس لیے آج جا رہی تھی۔ ورنہ اس سرخ کوٹ نے تو اسے خوب بے وقعت کیا تھا۔
ہاں حیا بولو؟ وہ مصروف سا لگ رہا تھا۔
وہ میں ٹاقسم پہ ہوں، تم مجھے یہاں سے پک کر کے گھر لے جا سکتے ہو؟ آج ویک اینڈ تھا تو۔۔۔۔۔۔۔
سوری حیا! میں شہر سے باہر ہوں، تم گھر ممی کو فون کر لو نا۔
یہ تمہارے گھر کا نمبر نہیں ہے؟ اس نے حیرت سے چٹ کو دیکھا۔
نہیں، یہ تو میرا موبائل نمبر ہے۔
تو کیا اس نے داور بھائی کی مہندی والے روز جہان کے موبائل پہ فون ملا دیا تھا؟
اوہ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پھپھو کا نمبر لکھوا دو۔
جہان نے فورا نمبر لکھوا ی۔
اچھا میں ڈرائیو کر رہا ہوں، پھر بات ہوتی ہے۔ مزید کچھ سنے بغیر اس نے فون بند کر دیا۔
وہ دل مسوس کر رہ گئی۔ عجیب اجنبی سا اپنا تھا۔
پھپھو اسے کیب پر لینے آئی تھیں۔ وہ جو چند لیراز کی بچت کے چکر میں کیب کر کے نہیں گئی تھی، خوب شرمندہ ہوئی۔
گاڑی نہیں تھی تو بتاتیں، میں تو ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں، گاڑی تو جہان کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اور وہ مزید شرمندہ ہوئی۔ پھر گردن موڑ کر کھڑکی کےباہر دوڑتے درخت دیکھنےلگی۔
اسے پھپھو کچن میں ہی لے آئیں۔ حسب عادت وہ کام میں مصروف ہو گئیں۔
یہ میرے لیے اتنا بکھیڑا پالنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اردگرد پھیلی اشیا دیکھ کر خفا ہوئی۔
کوئی بات نہیں، تم میری بیٹی ہو، میرا ہاتھ بٹا دو گی، اس لیے میں نے یہ سب شروع کر لیا۔ دونوں کے درمیان پچھلی ملاقات کے ناخوشگوار اختتام کا کوئی تزکرہ نہ ہوا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چلیں! آج پلاؤ تو میں ہی بناتی ہوں، مجھے ریسیپی سمجھاتی جائیں، ویسے بھی ترکوں کی میز اس پلاؤ کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ وہ کوٹ اسٹینڈ پر لٹکا کر آستین کلائی سے ذرا پیچھے کرتی واپس آئی۔ ڈوپٹہ اس نے اتار کر کرسی پہ رکھ دیا تھا۔
پہلے تو تم چکن کی بوٹیاں کاٹ دو۔ انھوں نے ٹوکری میں رکھے مرغ مسلم کی طرف اشارہ کیا اور خود چولھے پر چڑھی دیگچی میں چمچہ ہلانے لگیں۔
چھری تو یہ پڑی ہے، کٹنگ بورڈ کدھر ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
کٹنگ بورڈ۔۔۔۔۔۔ اوہو۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو صبح نہیں مل رہا۔ جہان بھی پتا نہیں چیزیں اٹھا کر کدھر رکھ دیتا ہے۔ ٹھہرو! میں ایک پرانا بورڈ لے آؤں۔ اوپر ایٹک attic سے۔
آپ رہنے دیں، میں لے آتی ہوں، ایٹک اوپر کس طرف ہے؟
سیڑھیوں سے اوپر راہداری کے آخری سرے پہ، مگر تمہیں تکلیف ہو گی، میں خود۔۔۔۔۔۔
آپ گوشت بھونیں، جل نہ جائے، میں بس ابھی آئی۔ وہ ننگے پاؤں چلتی باہر لوبگ روم تک آئی۔
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آور آئینے میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا تو ذرا سی مسکرا دی۔ فرش کو چھوتے زرد فراک میں وہ کھلتے پھول کی طرح لگ رہی تھی۔ گلے کا کاٹ کھلا تھا اور اس کے دہانے پہ چھوٹے چھوٹے سورج مکھی کے پھولوں کی لیس نیم دائرے میں لگی تھی۔ یوں لگتا تھا اس کی خوبصورت لمبی گردن میں سورج مکھی کے پھولوں کا ڈھیلا سا ہار لٹک رہا ہو۔ اس نے انگلیوں فراک پہلوؤں سے ذرا سا اٹھایا اور ننگے پاؤں لکڑی کے زینوں پر چڑھنے لگی۔
اور راہداری کے آغاز میں ایک کمرے کا دروازہ بند تھا، شاید وہ جہان کا ایک کمرہ تھا۔ ابھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے پھپھو نے ایسا کچھ بتایا تھا۔
وہ ایک نظر بند دروازے پہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ فراک اب اس نے پہلوؤں سے چھوڑ دیا تھا۔
ایٹک میں آگے پیچھے بہت سے صندوق اور کاٹھ کباڑ رکھا تھا۔ متذبذب سی اندر آئی۔ بتی نہ جانے کدھر تھی۔ اس نے دروازہ کھلا رہنے دیا، باہر سے آتی روشنی کافی تھی۔
وہاں ہر سو سامان رکھا تھا، کٹنگ بورڈ نہ جانے کدھر تھا۔ وہ اندازا آگے بڑھی اور ایک کونے والے صندوق کا کنڈا کھول کر ڈھکن اوپر اٹھایا۔
نیچے لونگ روم سے بیرونی دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آوز آئی۔ ساتھ میں جہان اور پھپھو کی ملی جلی آوازیں۔ یقینا وہ آ گیا تھا۔ وہ مسکرا کر صندوق پر جھکی۔
اس میں الیکٹرک کا کوئی ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا تھا۔ کٹنگ بورڈ کہیں نہیں تھا۔ حیا نے ڈھکن بند کیا اور نسبتا کونے میں رکھے صندوق کی طرف آئی۔
اپنے عقب میں اسے راہداری سے کسی دروازے کے ہولے سے کھلنے کی چرر سنائی دی تھی۔ جہان اتنی جلدی اوپر پہنچ گیا؟ مگر وہ پلٹی نہیں اور صندوق کو کھولنےلگی، جس کےڈھکن کے اوپر گرد اور مکڑی کے جالوں کی تہہ تھی۔
اس نے چند چیزیں الٹ پلٹ کی تو بےاختیار گرد نتھنوں میں گھسنے لگی۔ اسے ذرا سی کھانسی آئی۔ پورا ایٹک بےحد صاف تھا۔ ماسوائے اس کونےمیں رکھے دو تین صندوقوں کے، جیسےانہیں زمانوں سے نہ کھولا گیا ہو۔
اس کی پشت پہ ایٹک کا ادھ کھلا دروازہ ہولے سے کھلا۔ کوئی چوکھٹ میں آن کھڑا ہوا تھا، یوں کہ راہداری کی آتی روشنی کا راستہ رک گیا۔ پل بھر میں ایٹک۔۔۔۔۔۔ نیم تاریک ہو گیا۔
وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ صندوق میں کسی خاکی شے کی جھلک دکھائی دی۔ اس نے دونوں میں پکڑ کر اسے اوپر نکالا۔ وہ لکڑی کا تختہ نہیںتھا، بلکہ اکڑا ہوا کپڑا تھا۔
حیا نےکپڑا کھول کر سیدھاکیا۔ ایک پرانی گرد آلود خاکی شرٹ۔۔۔۔۔ے ستارے، تمغے اور ایک نام کی تختی۔
چوکھٹ میں کھڑا شخص چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا، اس کی طرف بڑھنےلگا۔
چوکهٹ میں کهڑا شخص چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتا، اس کی طرف بڑهنے لگا۔
حیا نے نیم اندهیرے میں آنکهیں پهاڑ پهاڑ کر وہ تختی پڑهی۔
“سکندر شاه” اس نے بے اختیار رینک دیکها۔ وه کرنل کی نشاندہی کر رہا تها۔
وہ شرٹ ہاتھ میں پکڑے کسی الجهن میں گرفتار پلٹی اور ایک دم جهٹکے سے پیچهے ہٹی۔
اس کے عقب میں جہاں نہیں تها۔ وه کوئی اور تها۔
دراز قد، کنپٹیوں اور پیشانی سے جهلکتے سفید بال، سخت نقوش، نائٹ گاؤن میں ملبوس، وه کڑی نگاہوں سے اسے دیکهتے قریب آ رہے تهے۔
وه سانس روکے انہیں دیکهے گئی۔
وه عین اس کے سر پر آۓ، اور ایک جهٹکے سے اسکی گردن دبوچی۔
“میری جاسوسی کرنے آئی ہو؟”
اسکے گلے کو دبوچتے وه غراۓ تھء۔
بے اختیار اس کے لبوں سے چیخ نکلی۔ شرٹ اس کے ہاتھ سے پهسل گئی۔ اس نے اپنی انگلیوں سے گردن کے گرد جکڑے ان کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔
“پاکستانیوں نے بهیجا ہے تمہیں؟ اپنے مالکوں کو بولو، انہیں بلیو پڑنٹس کبهی نہیں ملیں گے۔
“چهوڑیں مجهے۔” وه زور سے کهانسی۔ اس کا دم گهٹنے لگا تها۔ وه اس کا گلا دبا رہے تهے۔
“کوئی مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا، کبهی نہیں، ہر چیز آگے دے دی گئی ہے، ہر چیز۔” انهوں نے اسے گردن سے دبوچے اس کا سر کهلے صندوق پہ جهکایا۔ وه تڑپنے، چلانے لگی۔
“چهوڑیں مجهے۔” وه اپنے ناخن ان کے ہاتھ میں چبهو کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی کر رہی تهی۔
“تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا۔ وه بلیو پڑنٹس تمہیں کبهی نہیں ملیں گے”
حیا کا سانس رکنےلگا۔ وه اس کا سر صندوق میں دے کر اوپر سے ڈھکنا بند کر رہے تھے، اسے لگا وه مرنے والی ہے۔
“امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔۔!” وه وحشت سے چلانے لگی۔ وه اس کو گردن سے دبوچے، اس کا سر منہ کے بل اندر دے رہے تهے۔ گرد سے اٹے صندوق میں اسکا سانس اکهڑنے لگا۔
*•••••*•••••*••••••*••••
چھوڑیں۔”دھاڑ سے دروازہ کھلا اور کوئی غصے چلاتا اندر آیا۔ اس کی گردن کے گرد جکڑےہاتھ کو کھینچ کر الگ کیا اور ادھ کھلا ڈھکن پورا کھول کر دوہری ہو کر اوندھی جھکی حیا کو بازو سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔
“کیا کر رہے تھے آپ؟ وہ آپ کی بیٹی کی طرح ہے، ایک بات میری دھیان سے سنیں۔ آئندہ اگر آپ نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا۔”
انگشت اٹھا کر سختی سے وہ انہیں تنبیہہ کر رہا تھا۔جہان کو دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر خاموشی سے اسے سنتے گۓ۔
“اور تم!” وہ حیا کی طرف پلٹا۔ ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی، اور کہنی سے پکڑ کر کھینچتا باہر لایا۔ “اوپر کیوں آئی تھیں؟ کس نے کہا تھا ادھر آؤ؟”
سیڑھیوں کے دہانے پہ لا کر اس نے حیا کا چہرہ دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ دہشت سے چہرے کا رنگ لباس کی مانند زرد پڑ چکا تھا۔گردن پہ انگلیوں کے سرخ نشان پڑے تھے۔ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔
“وہ پھپھو نے۔۔۔۔۔۔۔”
“پھپھو کا بیٹا مر گیا تھا جو انہوں نے تمہیں بھیجا؟منع بھی کیا تھا، مگر یہاں کوئی سنے تو۔” وہ غصے میں بولتا، اسے کہنی سے پکڑے نیچے سیڑھیاں تیزی سے اترنے لگا۔ وہ اس کے ساتھ کھنچی چلی آ رہی تھی۔ پھپھو پریشان سی آخری سیڑھی کے پاس کھڑی تھیں۔
“میں بکواس کر کے گیا تھا نا، مگر میری سنتا کون ہے اس گھر میں؟ دو دن کے لیے نہ ہوں تو سارا نظام الٹ جاتا ہے۔ پورے گھر کو پاگل کر دیا ہے انھوں نے۔”
وہ آگے بڑھا اور سنٹر ٹیبل پہ رکھی میز سے پانی کی بوتل اٹھا کر لبوں سے لگائی۔ (پانی کی ضرورت تو حیا کو نہیں تھی؟)
وہ سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ جہان کو اتنے شدید غصے میں اس نے پہلی دفعہ دیکھا اور اتنی شستہ اردو بولتے ہوۓ بھی۔
“میں۔۔۔۔۔میں انھیں دیکھتی ہوں۔” پھپھو پریشانی سے کہتے ہوۓ اوپر سیڑھیاں چڑھ گئیں۔
وہ گھونٹ پہ گھونٹ چڑھاتا گیا۔ بوتل خالی کر کے میز پہ رکھی اور اسکی طرف دیکھا۔
“باہر آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” وہ کہہ کر روازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ ڈری، سہمی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے آئی۔
وہ بیرونی دروازے کے آگے بنے اسٹیپس پہ بیٹھا تھا۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور اس کے ساتھ آ بیٹھی۔ زرد فراک پھسل کر اس کے ننگے پاؤں کو ڈھانپ گیا۔ باہر سردی تھی، مگر اسے نہیں لگ رہی تھی۔
“جو بھی ہوا، میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔” وہ سامنے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
نیلی جینز کے اوپر پہنے بھورے سویئٹر کو عادتاً کہنیوں سے ذرا آگے موڑے، وہ ہمیشہ کی طرح وجیہہ اور اسمارٹ لگ رہا تھا۔ غصہ اب کہیں نہیں تھا۔ وہ پہلے والا دھیما سا اور سنجیدہ جہان بن گیا تھا۔
“ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہوتے۔ کئی دفعہ انہوں نے ممی کو بھی مارنے کی کوشش کی ہے، مگر مجھے کچھ نہیں کہتے۔ ڈرتے نہیں ہیں، شاید نفرت کرتے ہیں۔”
سامنے سبزہ تھا۔ اس سے آگے سفید لکڑی کی باڑ اور باڑ سے ہی بنا گیٹ، باڑ کے تختوں کی درزوں سے باہر گیلی سڑک دکھائی دیتی تھی۔ نم ہوا گھاس پر سے سرسراتی ہوئی گزر رہی تهی۔ وه گهٹنوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بناۓ چہره جہان کی جانب موڑے بیٹھی تهی۔ فراک کا فرش کو چهوتا دامن ہوا کی لہروں سے پهڑپهڑاتا ہوا اوپر اٹھ جاتا تو پاجامے کی تنگ چوڑیوں میں مقید ٹخنے اور پاؤں چهلکتے۔
“میرا بهی دل کرتا ہے کہ میں پاکستان جاؤں۔ اپنے رشتہ داروں کے درمیان رہوں۔ اپنا آبائی گھر دیکهوں۔ مگر ہم پاکستان نہیں جاتے اور تم اس دن ممی کو طعنہ دے رہی تهی ہم پاکستان نہیں آتے۔” (افف۔۔۔۔۔ اتنا جھوٹ)
“نن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔” وه گڑبڑا گئی، مگر وه سن نہیں رہا تها۔
“حیا! ہم کبھی پاکستان واپس نہیں جا سکتے۔”
مگر کیوں؟ وه سناٹے میں ره گئی۔ وه چند لمحے چپ رہا، پهر آہستہ سے کہنے لگا۔
میرے دادا اپنے کاروبار کے سلسلے میں استنبول آیا کرتے تهے۔ اس گھر کی انہوں نے ہی خریدی تھی بعد میں ابا نے ادھر گھر بنوایا۔ تب وه پاکستان آرمی کی طرف سے یہاں پوسٹڈ تهے۔ میں استنبول میں ہی پیدا ہوا تھا اور ابا کی دوباره اسلام آباد پوسٹنگ ہونے کے بعد بھی میں اور ممی ادھر دادا کے ساتھ رہتے تهے۔ میرے دادا بہت اچهے، بہت عظیم انسان تهے۔ انهوں نے مجهے بہت کچھ سکهایا تها۔ دین، دنیا، عزت، بہادری اور وقار سے جینے اور شان سے مرنے کا سبق انهوں نے ہی مجهے دیا تها۔ میں آٹھ سال کا تھا، جب وہ فوت ہوئے تو میں اور ممی کچھ عرصہ کے لیے پاکستان آگئے۔ اور تب ہی وه واقعہ ہوا، جس نے ہماری زندگی بدل دی۔”
حیا کا سانس رک گیا۔ تب ہی تو ان کا نکاح ہوا تھا، تو کیا وہ باخبر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ (حیا کی خوش فہمیاں۔۔۔۔۔)
“جن دنوں میں اور ممی پاکستان میں تهے، بلکہ تمهارے گھر میں تهے، ابا آناً فاناً ترکی فرار ہو گۓ۔ فرار اس لیے کہ انھوں نے ایک حساس مقام کے بلیو پرنٹس ان کو بیچ دیۓ تهے جو ہمیشہ خریدنے کے لیۓ تیار رہتے ہیں۔ ثبوت انہوں نے کوئی نہیں چهوڑا، مگر تفتیش شروع ہوئی تو بہت کچھ کهلنے لگا۔ ابا نے ترکی سے هہی اپنا استعفی بھجوا دیا۔ پیچھے عدالت میں مقدمہ چلا اور وه غدار ٹهہراۓ گۓ۔ ان کے جرائم کی فہرست خاصی طویل تھی۔ ان کو سزاۓ موت سنا دی گئی اور انهوں نے ترکی میں سیاسی پناه حاصل کر لی۔ کچھ تعلقات کام آۓ اور کچھ رشوتیں، ابا کو ترک حکومت کبھی ڈی پورٹ نا کر سکی، نا ہی انٹر پول نے کوئی قدم اٹهایا۔ قصہ مختصر، ابا جس دن پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکهیں گے، وہ گرفتار ہو جائیں گے اور ان کو پهانسی دے دی جاۓ گی۔ یہ بات تمهارے والدین کو پتہ ہے، مگر بدنامی کے ڈر سے کسی کو بتائی نہیں جاتی۔”
وه کسی بهی جزبے سے عاری نگاہوں سے سامنے باڑکو دیکھتا رہا تها۔ حیا یک ٹک اسے دیکهے گئی۔ اس کے گهر میں پهپهو کے شوهر کا ذکر کوئی نہیں کرتا تها۔ شاید دانستہ طور پہ ایسا کیا جاتا تها۔
“میں ایک غدار کا بیٹا ہوں۔ میرا باپ ایک ملک دشمن ہے۔ اس ذلت کے باوجود ہم ابا کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ احساس جرم ہے یا قدرت کی طرف سے سزا، وه وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ذہن کهوتے جا رہے ہیں۔ سزاۓ موت کا خوف ان کے لیۓ ناسور بنتا جا رہا ہے۔ جو انهوں نے تمهارے ساتھ کیا، اس پہ ان کو معاف کر دینا۔ وه میرے باپ ہیں اور باوجود اس کے کہ یہ حقیقت بہت جگہ میرا سر جهکا دیتی ہے میں ان سے محبت کرنے پہ مجبور ہوں۔”
حیا نے گہری سانس لی۔ اس کے کسی قصے میں اس کا قصہ نہیں تها، کسی داستان میں اس کی داستان نہ تهی۔
“میں کام سے باہر جا رہا ہوں، آج کهانا کها کر جانا۔” وه اٹها اور دروازہ کهول کر اندر چلا گیا. شاید وه ابهی صرف تنہائی چاہتا تھا۔ حیا گردن موڑ کر اسے جاتے ہوئے دیکهنے لگی۔ وه ننگے پاؤں لکڑی کے فرش پہ چلتا سیڑهیوں کی طرف بڑھ رہا تها۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔ خدیجہ!
ٹالی نے انہیں اس وقت پکارا، جب وہ دونوں ڈی جے کے بینک پہ بیٹھی، اس کی شاپنگ پہ تبصرہ کر رہی تھیں۔ وہ چودہ فروری کی دوپہر تھی۔ اور ترکی آئے آٹھواں روز تھا اور ڈی جے جو ویلنٹائن ڈے کی رونق دیکھنے آج ٹاقسم گئی تھی مایوس لوٹ آئی تھی۔ پاکستان کے برعکس ترک ہر کام چھوڑ کر سرخ رنگ میں نہیں نہا جاتے، بلکہ سوائے سرخ پھولوں کی فروخت کے استنبول میں ویلنٹائن ڈے کے کوئی آثار نہ تھے۔ جب ڈی جے خوب مایوس ہو چکی تو اس نے یہ کہہ کر اپنے خیالات میں ترمیم کر لی کہ ”بھاڑ میں گیا سینٹ ویلنٹائن، ہمیں اس تہوار سے کیالینا دینا“۔
ان کی اس گفتگو میں مخل ہونے والی اسرائیلی ایکسچینج اسٹوڈنٹ تھی۔
ہاں؟ وہ دونوں جھک کر نیچے دیکھنے لگی، جہاں ٹالی ان کے بنک سے نیچے لٹکتی سیڑھی کے ساتھ کھڑی تھی۔
وہ لڑکے تمہارا پوچھ رہے تھے۔
حیا اور ڈی جے نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ٹالی کو۔
کون سے لڑکے؟
وہ فلسطینی ایکسچینج اسٹوڈنٹس جو ساتھ والے ڈروم میں رہتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ پاکستانی لڑکیاں کیسی ہیں اور یہ کہ ان کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے، اور یہ بھی کہ تم دونوں آج کی شام کی چائے کامن روم میں ان کے ساتھ پیو۔ وہ تمہارا انتظار کریں گے، اوکے بائے۔ ایک اسرائیلی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالتی، وہ ہاتھ ہلا کر باہر نکل گئی۔
یہ فلسطینیوں کو ہمارا خیال کیسے آ گیا؟
اس ٹالیکے درخت سے دل بھر گیاہو گا شاید۔ ڈی جے نے قیاس آرائی کی۔
بکو مت! وہ ہمیں صرف مسلمان بہنیں سمجھ کر بلا رہے ہوں گے۔
اتنے ہینڈسم لڑکوں کی بہن بننے پر کم از کم میں تیار نہیں ہوں۔ یہ بھائی چارہ تمہیں مبارک ہو۔ ڈیجے بدک اٹھی تھی۔چلو پھر تیار ہو جائیں تاکہ وقت پہ پہنچ سکیں۔
حیا لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اترنے لگی۔
صرف ہمیں بلایا ہے
ہمیں ہی بلایا ہے یا یہ عرب اسرائیل دوستی کی زندہ مثال بھی موجود ہو گی؟ ڈی جے کا اشارہ ٹالی کی طرف تھا۔
پتا نہیں۔ حیا نے شانے اچکا دیے۔ وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔ ہر موقع کی مناسبت سے مکمل ڈریسنگ کرنا اس کا جنون تھا۔ کپڑوں پہ ایک سلوٹ تک نہ ہو اور میک اپ کی ایک لکیر اوپر نیچے نہ ہو، وہ ہر بات کا خیال رکھتی تھی۔ البتہ لڑکوں کی دعوت پہ جانےکی اجازت پاکستان میں ابا یا تایا فرقان نہ دیتے، مگر وہ ادھر کون سا دیکھ رہے تھے۔ یہ ترکی تھا اور یہاں یہ سب چلتا تھا۔
وہ تین لڑکے تھے معتصم المرتضی، حسین اور مومن۔ ان کے ساتھ دو فلسطینی دوست محمد قادر اور نجیب اللہ جاتی دعوت کے شروع میں موجود رہے، پھر اٹھ کر چلے گئے، مگر ان تینوں میزبانوں نے احسن طریقے سے میزبانی نبھائی۔
وہ تینوں اسمارٹ اور گڈ لکنگ سے لڑکے ایک جیسے لگتے تھے۔ معتصم ان میں ذرا لمبا لگتا تھا۔ (اس کا نام معتصم المرتضٰی تھا، مگر یہ ڈی جے نے بعد میں نوٹ کیا کہ وہ فیسبک پہ اپنا نام معتصم اینڈ مرتضٰی لکھتا تھا۔ وجہ انہیں کبھی سمجھ نہیں آئی۔) حسین اور معتصم ان دونوں کو بالکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے۔ البتہ اس بھائی چارے سے مومن متفق نہ تھا۔ وہ فلرٹی، نظر باز سا لڑکا کچھ بھی تھا، مومن نہ تھا۔البتہ وہ دونوں اس کو اپنی موجودگی میں سیدھا کئے ہوۓ تھے۔ وہ دونوں اتنے ملنسار اور مہذب لڑکے تھے کہ حیا کو اپنے سارے کزنز ان کے سامنے بےکار لگے۔ البتہ جہان کی بات اور تھی۔ اس نے فوراٗ اپنی راۓ میں ترمیم کی۔
“اگلے ہفتے حسین کا برتھ ڈے ہے۔” حسین موبائل پہ فون سننے باہر گیا تو مومن نے بتایا۔
“پھر تو ہمیں اسے ٹریٹ دینی چاہیئے۔” ڈی جی سوچ کر بولی۔
“اور گفٹ بھی۔”حیا کو خیال آیا۔
“ہم دونوں اس کے لیے گھڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں اور جو ہم نے جواہر میں دیکھی ہے۔ 130لیراز کی ہے” معتصم نے چاۓ کا آخری گھونٹ پی کر کپ میز پہ رکھا۔
“یعنی کہ پاکستان روپوں میں۔۔۔۔۔۔” حیا نے سوچتے ہوۓ پرس میں ہاتھ ڈالا تا کہ موبائل کے کیلکولیٹر سے حساب کرسکے۔
“سات ہزار ایک سو پچاس پاکستانی روپے۔” معتصم جھک کر پیسٹریز کی پلیٹ سے ایک ٹکڑا اٹھاتے ہوۓ بولا۔ حیا کا پرس کو کھنگالتا ہاتھ رک گیا۔
اس نے حیرت و بے یقینی سے معتصم کو دیکھا۔
“تم نے اتنی جلدی حساب کیسے کیا؟”
“میں میتھس کا اسٹوڈنٹ ہوں۔” وہُ جھینپ کر مسکرا دیا۔
“اور معتصم کا ایک ہی خواب ہے کہ وہ میتھس میں نوبل پرائز لے۔” مومن، حیا کے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد معتصم سے آنکھ بچا کر حیا کے سراپے کا جائزہ لے لیتاتھا۔ حیا قدرے رخ موڑ کر معتصم کی طرف متوجہ ہوئی۔
“تو میتھس کے اسٹوڈنٹ! جلدی سے بتاؤ کہ اس مہنگی گھڑی کو خریدنے کے لئے اگر ہم چاروں پیسے تقسیم کریں تو ہر ایک کے حصے میں کتنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بتیس لیرا اور پچاس کرش۔”
“اوکے!” حیا نے گہری سانس لی اور پرس کھولا۔ ان کو پیسے انھوں نے زبردستی تھماۓ۔ مومن کو تو کوئی اعتراض نہ تھا، مگر معتصم ان سے رقم لینے پہ متذبذب تھا، مگر یہ ایک ان کہی بات تھی کہ بغیر اسکالرشپ کے استنبول جیسے مہنگے شہر میں وہ سب سے اتنا ہی افورڈ کر سکتے تھے۔
وہ تینوں جواہر کے لیے نکل رہے تھے۔ معتصم نے بتایا کہ وہ ابھی حسین سے نظر بچا کر گھڑی خرید لائیں گے۔ ان کو بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کی اور ڈی جے ہاں کرنے ہی والی تھی کہ حیا نے اسکا پاؤں اپنے جوتے سے زور سے کچلتے بظاہر مسکراتےہوۓ انکار کر دیا۔
“نہیں! آپ لوگ جائیں ، ہم آج ہی ہو کر آۓ ہیں۔”
وہ تینوں چلے گۓ تو ڈی جے نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا۔ “تم نے انکار کیوں کیا؟”
“پاگل عورت! تم پاکستان سے آئی ہو یا نیو یارک سے؟ انکی دعوت قبول کر لی، یہ ہی بہت ہے۔ اب ہم ان کے ساتھ سیر سپاٹوں پہ بھی نکل جائیں، کبھی نہیں، دماغ ٹھیک ہے؟”
“مگر وہ تو ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں۔”
“پیچھے ہمارے اصلی بھائیوں کو پتا چلا تو کل ہی پاکستان واپس بلوا لیں گے۔ اس لئے اپنی اوقات میں واپس آؤ اور رات کے کھانے کی تیاری کرو۔” وہ موبائل کے ساتھ نتھی ہنڈز فری کانوں میں لگاتے ہوۓ بولی۔
“زہر ملا کے دوں گی تمہیں۔” ڈی جے بھناتی ہوئی پیر پٹخ کر اٹھی۔
“اور اگر تم چاولوں پہ آملیٹ ڈال کر لائی تو میں ساری ڈش تمارے اوپر الٹ دوں گی۔”
وہ وہیں صوفے پہ لمبی بیٹھی، اب موبائل کے بٹن دبا رہی تھی۔ دھیما میوزک اسکے کانوں میں بجنے لگا۔ ڈی جے غصے میں بہت کچھ کہتی گئی تھی، مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ آنکھیں موندے ہولے ہولے پاؤں جھلانے لگی۔
ڈی جے پیر پٹخ کر باہر نکل گئی۔
•••••••••••••••••••••••••••••
وہ رات ویلنٹائن کی رات تھی۔ ڈی جے کامن روم میں منعقدہ آل گرلز پارٹی میں جا چکی تھی، جو لڑکیوں نے مل کر دی تھی، جبکہ حیا آئینے کے سامنے کھڑی اپنا کاجل درست کر رہی تھی۔ اس کی تیاری مکمل تھی، لیکن جب تک وہ اپنی آنکھوں کے کٹورے کاجل سے بھر نہ لیتی، اسے تسلی نہیں ہوتی تھی۔ ابھی وہ کاجل کی سلائی کی نوک آنکھ کے کنارے سے رگڑ ہی رہی تھی کہ دروازہ بجا۔
دھیمی سی دستک اور پھر خاموشی۔
اس نے کاجل کی سلائی نیچے کی اور پلٹ کر دیکھا۔
یہ انداز ڈی جےکا تو نہیں تھا۔ وہ یوں ہی کاجل پکڑے آگے بڑھی اور ناب گھما کر دروازہ کھولا۔
باہر بالکونی میں روشنی تھی۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، بالکونی تاریک ہو گئی۔ غالبا سیڑھیوں کے اوپر لگا بلب بجھ گیا تھا۔ کیا کوئی آ کر واپس پلٹ گیا تھا؟
کون؟ اس نےگردن آگے کر کے راہداری میں دونوں سمت دیکھا۔ ہر سو خاموشی تھی۔ بالکونی ویران تھی۔ وہاں سردی تھی اور اندر کمرا گرم تھا۔
وہ چند ثانیے کھڑی رہی، پھر دھیرے سے شانے اچکا کر پلٹنے ہی لگی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔
اوہ نہیں! اس کے لبوں سے ایک اکتائی ہوئی کراہ نکلی۔
چوکھٹ پہ اس کے قدموں کے ساتھ سفید گلابوں کا بکے اور ایک بند لفافہ رکھا تھا۔ وہ جھکی، دونوں چیزیں اٹھائیں اور جارحانہ انداز میں لفافے کا منہ پھاڑا۔ اندر رکھا چوکور کاغذ نکالا اور چہرے کے سامنے کیا۔
ہیپی ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرام یور ویلنٹائن۔
اس نے لب بهینچ کر تنفر سے وه تحریر پڑھی اود پهر بے حد غصےسے کاغذ مروڑ کر گلدستے سمیت پوری قوت سےراہداری میں دے مارا.
آؤچ! وہ واپس مڑنے ہی لگی تهی، جب کسی کی بوکهلائی ہوئی آواز سنی۔ اس نے چونک کر پیچهے دیکها۔
گلدستہ اور کاغذ سیدهے ہاتھ والے کمرے سے نکلتے معتصم کو جا لگے تهے اور اس سے ٹکرا کر اب اس کے قدموں میں پڑے تهے۔
یہ کیا هے؟ وہ ہکا بکا کھڑا تها۔
“آئی ایم سوری متعصم!” وہ شدید بے زاری سے بمشکل ضبط کر کے بولی۔ متعصم کو وضاحت دینے کا سوچ کر ہی اسے کوفت ہونے لگی تهی۔
“یہ میں نے تمہیں نہیں دئیے بلکہ کسی فضول انسان نے مجهے بھیجے ہیں۔ تم برا مت ماننا اور ان کو ڈسٹ بن میں پهینک دینا۔ وہ ایک ہاتھ دروازے پر رکهے، دوسرے میں کاجل پکڑے ذرا رکهائی سے بولی۔
معتصم نے جهک کر وہ کاغذ اٹھایا اور سیدهے ہوتے ہوئے اس کی شکنے درست کر کےچہرے کے سامنے کیا۔ حیا کو کوفت ہونے لگی۔
“میں کہہ رہی ہوں نا، سوری۔” وہ جو قدرے بهنویں سکیڑے کاغذ کو دیکھ رہا تها، چونک کر اسے دیکهنے لگا۔
“نہیں اٹس اوکے۔ مگر یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں سبانجی میں کوئی تنگ کر رہا ہے؟”
وہ تحریر پہ نگاہیں دوڑاتےتشویش سے پوچھ رہا تها۔
“یہ بات نہیں ہے۔ یہ بہت پہلے سے میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ لمبی کہانی ہے، جانے دو۔ اس کو کوڑے میں پهینک دینا۔ گڈ نائٹ۔”
وہ مزید مروت کا مظاہرہ کئے بغیر دروازہ بند کرنے لگی تهی جب وه ہولے سے بولا۔
“یہ گیلا کیوں ہے؟” تم روئی ہو؟؟”
کچھ تها اس کی آواز میں دروازہ بند کرتی حیا رکی، پهر پٹ نیم وا کیا اور بالکونی میں قدم رکھا۔”
“میں کیوں روؤ گی؟” وہ کاغذ کو دیکهتے ہوتے بولی۔
معتصم کاغذ کے نچلے دائیں طرف کے کنارے پر انگلی پهیر رہا تها۔
“پهر یہ گیلا کیوں ہے؟ شاید پھولوں میں پانی تها؟”
حیا نے میکانکی انداز میں نفی میں گردن ہلائی۔
“نہیں یہ تو موٹے لفافے میں مہر بند تها۔”
معتصم نے وہ نم حصہ ناک کے قریب لے جا کر آنکھیں موندے سانس کو اندر کهینچی۔
“سٹرس؟ لیمن؟ لائم؟”وہ متذبذب سا حیا کو دیکهنے لگا۔
کیا کہہ رہے ہو، مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔
“کسی نے اس کے نچلے کنارے پہ لیمن کا رس لگایا ہے۔” پهر اس نے ذرا چونک کر حیا کو دیکها۔
“تمهارے پاس ماچس ہے؟”
وہ جواب دیے بنا الٹےقدموں پپیچهے آئی اور دروازہ پورا کهول کر ایک طرف ہو گئی۔ معتصم قدرے جھجکا پھر کاغذ پکڑے اندر داخل ہوا۔
حیا نے اپنی اور ڈی جے کی کرسیاں آمنے سامنے رکھیں اور پهر ٹالی کی میز پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی
“کیا تم بھی بچپن میں لیموں کے رس اور آگ والا کهیل کهیلتے تهے؟ وہ اب میز کی دراز کھول کر کچھ ڈھونڈ رہی تهی۔
ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺩﻫﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﺎ۔
ﺑﮩﺖ ﮐﻬﯿﻞ ﮐﮭﯿﻠے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺁﮒ ﻭﺍﻟﮯ ہوﺗﮯ ﺗﻬﮯ۔ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﮒ ﮨﮯ، ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻢ نہ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﻮ۔”
ﭼﻠﻮ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﺗﺮﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻬﯿﻞ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﮐﻬﯿﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔” ﻭﻩ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﻻ‌ﺋﭩﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺁ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻻ‌ﺋﭩﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ۔
ﻣﻌﺘﺼﻢ ﻧﮯ ﻻ‌ﺋﭩﺮ ﮐﺎ ﭘﮩﯿﮧ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﮯ ﺳﮯ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﮔﻬﻤﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﮒ ﮐﺎ ﻧﯿﻼ‌ ﺷﻌﻠﮧ ﺟﻞ ﺍﭨﻬﺎ۔
“ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺳﮯ۔” ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﮧ ﺍﭨﻬﯽ۔
معتصم نے جواب نہیں دیا۔ وہ خط کے نم حصے کو، جو ابھی تک نہیں سوکھا تھا، شعلے کے قریب لایا۔ ذرا سی تپش ملی اور الفاظ ابھرنے لگے۔
بڑے بڑے کر کے لکھے انگریزی کے تین حروف- “اے آر پی”
وہ حروف عین “فرام یور ویلنٹائن” کے نیچے لکھے تھے۔
دونوں چند لمحے کاغذ کے ٹکڑے پہ ابھرے بھورے حروف کو تکتے رہے، پھر ایک ساتھ گردن اٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
“آرپ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایرپ؟ کیسا لفظ ہے یہ؟ حیا نے ممکنہ ادائیگی کے دونوں طریقوں سے حروف کو ملا کر پڑھا۔
“شاید کوئی نام!”
“کیا آرپ کوئی ترک نام ہے؟”
“معلوم نہیں۔” معتصم نے شانے اچکا دئیے۔
حیا سوچتی نگاہوں سے کاغذ کو تکتی رہی۔
“کیا میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں؟”
اس نے ایک نظر معتصم کو دیکھا پھر مسکرائی
“تم کر چکے ہو۔”
وہ ہولے سے مسکرا کر کھڑا ہوا اور کاغذ میز پر رکھا۔
وہ جو بھی ہے، شاید تمہیں اپنا نام بتانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کون ہو سکتا ہے، یہ تم بہتر سمجھ سکتی ہو گی۔ مجھے اب چلنا چاہئیے۔”
“ہوں۔ تھینک یو معتصم!”
معتصم نے ذرا سی سر کو جنبش دی اور باہر نکل گیا۔
دروازے کا کیچر سست روی سے واپس چوکھٹ تک جانے لگا۔
حیا چند لمحے میز پہ رکھے کنارے سے بھورے ہوئے کاغذ کو دیکھے گئی، پھر بے اختیار کسی میکانکی عمل کے تحت اس نے ہاتھ میں پکڑی کاجل کی سلائی کو سیدھا کیا اور بائیں ہتھیلی کی پشت پر وہ تین حروف اتارے۔
“اے آر پی”
دروازہ چوکھٹ کے ساتھ لگنے ہی والا تھا۔ ذرا سی درز سے باہر راہداری میں گرا گلدستہ دکھائی دے رہا تھا۔ ایک دو پل مزید گزرے اور زوردار “ٹھا” کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا۔
وہ اپنی ہتھیلی کی پشت پہ سیاہ رنگ میں لکھے وہ تیں الفاظ دیکھ رہی تھی۔
“اے آر پی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: