Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 12

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 12

–**–**–

اس نے اوپر بنےکیبنٹ کا دروازہ کھولا۔ چند ڈبے الٹ پلٹ کیے۔ نچلے خانے میں سرخ مرچوں کا ڈبہ نہیں تھا۔ وہ ایڑیاں اٹھا کر ذرا سی اونچی ہوئی اور اوپر والے خانےمیں جھانکا۔ وہاں سامنے ایک پلاسٹک کے بے رنگ ڈبے میں سرخ پاؤڈر رکھا نظر آیا۔
اس نے ڈبہ نکالا اور کاؤنٹر کی طرف آئی۔ وہاں ڈی جے کھڑی، سلیب پہ کٹنگ بورڈ کے اوپر پیاز رکھے کھٹا کھٹ کاٹ رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔
بریانی کی مقدار زیادہ ہے، چار چمچ سرخ مرچ ڈال دیتی ہوں، شاید ذرا سا ذائقہ آ جائے۔ ٹھیک؟ وہ خودکلامی کے انداز میں کہتی ٹوکری سے چھوٹا چمچ ڈھونڈنے لگی۔
ہاں ٹھیک! ڈی جے نے بھیگی آنکھیں اوپر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے رندھی آواز میں کہا اور آستین سے آنکھیں رگڑیں۔
حیا اب ڈبے سے چمچ بھر بھر کر دھوئیں اڑاتے پتیلے میں ڈال رہی تھی۔ بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا اس کے پیچھے گردن پر جھول رہا تھا۔ سادہ شلوار قمیص پہ ڈھیلا ڈھالا سا سبز سوئٹر پہنے ہوئے تھی، جس کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں۔ ڈوپٹا ایک طرف دروازے پہ لٹکا تھا اور چند لیٹیں جوڑے سے نکل کر چہرے کے اطراف میں لٹک رہی تھیں۔ گوشت میں چمچہ ہلاتی وہ بہت مصروف لگ رہی تھی۔
وہ دونوں اس وقت انجم باجی کے کچن میں موجود تھیں۔ صبح انجم باجی ڈی جے کو ڈائننگ ہال میں ملیں تو شام کو اپنے گھر میں دعوت دے ڈالی، جو کہ ڈی جے نے یہ کہہ کر قبول کر لی کہ وہ اور حیا مل کر بریانی بنائیں گی۔ اب سرشام ہی وہ دونوں ہالے کو لے کر انجم باجی کے اپارٹمنٹ آگئی تھیں۔
ایک بیڈروم، لاؤنج اور کچن پر مشتمل وہ چھوٹا مگر بےحد نفیس اور سلیقے سے سجا اپارٹمنٹ تھا۔ ہالے کو انہوں نے لاؤنج میں انجم باجی کے ساتھ ہی بیٹھا رہنے دیا اور خود کچن میں آ کر کام میں مصروف ہو گئیں۔
یہ پینٹنگ جوید جی لائے تھے انڈیا سے۔ اندر لاؤنج میں انجم باجی کی ہالے کو مطلع کرتی آواز آرہی تھی۔
ڈی جے! یہ جوید جی کیا ہے؟ اس نے قدرے الجھ کر پوچھا ۔
ان کا مطلب ہے، جاوید جی۔ ان کے ہیزبینڈ! ڈی جے نے سرگوشی کی تو وہ ”اوہ“ کہہ کر مسکراہٹ دباتی پلٹ کر ابلتے چاولوں کو دیکھنے لگی۔
جس وقت انجم باجی اور ہالے کچن میں داخل ہوئیں، حیا پتیلے کا ڈھکن بند کر رہی تھی۔ آہٹ پر پلٹی اور مسکرائی۔
بس دم دے رہی ہوں۔
بہت خراب ہو تم دونوں، مجھے اٹھنے ہی نہیں دیا۔
بس اب آپ کو کھانے کے وقت ہی اٹھانا تھا۔ وہ جوید۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھائی آ گئے؟ وہ ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کرتی ڈی جے کے پاس آئی۔
ڈی جے کا سلاد ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا۔ اب کہیں جا کر وہ ٹماٹروں تک پہنچی تھی۔
بس آنے والے ہیں۔ لاؤ! یہ سلاد تو مجھے بنانے دو۔
نہیں! میں کر لوں گی۔ تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ ڈی جے نے بڑی بےفکری سے کہا تو اس نے جتاتی نظروں سے اسے گھورا۔
آپ نےاس تھوڑے میں بهی صبح کر دینی ہے۔ لاؤ مجھے دو اور پلیٹیں لگاؤ۔ اس نے ٹماٹر اور چهری ڈی جے کے ہاتھ سے لے لی۔
ہالے ازخود نہایت پهرتی سےسارا پهیلاوا سمیٹنے میں لگی ہوئی تهی۔ وہ میلے برتن اب سنک میں جمع کر رہی تهی۔ وه ان کبهی کبهی کام کر نے والی پاکستانی لڑکیوں کی نسبت بہت تیزی سے ہاتھ چلا رہی تهی۔
ڈی جے کیبنٹ سے پلیٹں نکالنے لگی اور انجم باجی رائیتہ بنانے لگیں۔
حیا نے ٹماٹر کو کٹنگ بورڈ پہ بائیں ہاتھ سے پکڑ کر رکها اور چهری رکھ کر دبائی۔ دو سرخ ٹکڑے الگ ہو گئے اور ذرا سا سرخ رس بائیں ہتھیلی کی پشت پہ بہہ گیا، جہاں کاجل سے لکهے تین بڑے بڑے حروف تهے۔
اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی
وہ دو تین روز سے اس اے آر پی کے متعلق سوچے جا رہی تهی، اب بهی کچھ سوچ کر اس نے گردن اٹھائی۔
“انجم باجی!”
دہی کو کانٹے کی مدد سے پھینٹتیں انجم باجی نے ہاتھ روک کر اسے دیکه۔
آپ نے کسی “ایرپ” کے متعلق سنا ہے؟
“ایرپ”؟ انجم باجی نے حیرت بهری الجهن سے دوہرایا۔
جی، ایرپ۔ اے آر پی۔ اس نے وضاحت کے لیے ہجے کر کے بتایا۔
اوہ ناٹ اگین حیا پلیز! ہالے جو سنک کے آگے کهڑی تهی، قدرے اکتا کر پلٹی۔ اس کے ہاتھ میں جهاگ بهرا اسفنج تها جسے وہ پلیٹ پہ مل رہی تهی۔
“تم پهر وہی موضوع لے کر بیٹھ گئی ہو؟ اس کے انداز میں خفگی بهرا احتجاج تها۔
مگر ہالے۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کے وہ الجهی تهی۔ یہ موضوع تو اس نے ابھی تک ہالے کے ساتھ ڈسکس بهی نہیں کیا تها، پهر………؟
میں نے کہا تها نا، یہ سب بے کار کی باتیں ہیں۔
مگر میں نے پوچھا ہی کیا ہے؟
اے آر پی۔ عبدالرحمان پاشا اور کون؟ میں نے بتایا تها نا کہ یہ گھریلو عورتوں کے افسانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ استنبول ہے۔ یہاں قانون کا راج ہے، مافیا کا نہیں۔ اب اس کے بعد میں اس موضوع پہ کچھ نہیں سنوں گی۔
ہالے اب پلٹ کر جهاگ سے بهری پلیٹ کو پانی سے کهنگال رہی تهی اور وہ……. وہ حیرتوں کے سمندر میں گهری کھڑی تهی۔
اے آر پی۔۔۔۔۔ عبدالرحمان پاشا…..اوہ…. یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا؟
“اوکے اوکے! وہ بظاہر سر جهکائے ٹماٹر کاٹنے لگی مگر اس کے ذہن میں بہت سے خیال گڈ مڈ ہو رہے تهے۔ ہالے اور جہان دونوں ایک جیسے تھے اور اپنے استنبول کے دفاع کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کہیں گے، اسے یقین تھا، مگر کسی کے پاس تو کچھ کہنے کے لئے ہوگا اور اسے اس ” کسی” لکو ڈھونڈنا تھا۔
وہ میز لگا رہی تھی جب جاوید بھائی آگۓ۔
وہ پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور سبانجی میں پڑھاتے بھی تھے۔ بےحد ملنسار، سادہ اور خوش اخلاق سے دیسی مرد تھے۔ پرانے پاکستانی پروگراموں کے شوقین اور پرستار۔ ٹی وی کے ساتھ ریک میں ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، آنگن ٹیڑا، الف نون سمیت بہت سے کلاسک ڈراموں کی ڈی وی ڈیز قطار میں سجی تھیں۔ ان دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لئے طرز تخاطب بہت دلچسپ تھا۔ “جوید جی” اور “آنجو جی”۔ اسے بہت ہنسی آئی۔ باقی تینوں کچن میں تھیں، جب حیا پانی رکھنے میز پر آئی تو جاوید بھائی کو تنہا بیٹھے پایا۔ وہ کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہے تھے۔
“جوید۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید بھائی!” وہ گڑ بڑا کر تصیح کرتی ان کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھی اور محتاط نگاہوں سے کچن کے دروازے کو دیکھا۔”
“ایک بات پوچھنی تھی آپ سے۔”
“جی جی۔ پوچھیۓ۔” وہ فورًا کتاب رکھ کر سیدھے ہو بیٹھے۔
“استنبول میں ایک انڈین مسلم رہتا ہے عبدالرحمان پاشا نام کا۔ آپ اسے جانتے ہیں؟” وہ محتاط سی کرسی کے کنارے ٹکی بولتے ہوۓ بار بار کچن کے دروازے کو بھی دیکھ لیتی۔
“کون پاشا؟ وہ بیوک ادا والا؟”
اور حیا کو لگا، اسے اس کے جواب ملنے والے ہیں۔
“جی جی وہی۔ وہ خاصا مشہور ہے۔”
“ہاں سنا تو میں نے بھی ہے۔ بیوک ادا میں اس کا کافی ہولڈ ہے۔ وہ مال امپورٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔”
“کیا وہ مافیا کا بندہ ہے؟ اسلحہ اسمگل کرتا ہے۔؟”
“ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جی؟” وہ کھسیاہٹ سے مسکراۓ۔
“یعنی کے وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے؟ اور آپ کو معلوم بھی ہے، مگر آپ اعتراف نہیں کرنا چاہ رہے۔” اس نے اندھیرے میں تیر چلانا چاہا۔
“میں ٹھیک سے کچھ نہیں جانتا۔” انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔
دفعتًا کچن سے انجم باجی کی چیخ بلند ہوئی۔ وہ جو کرسی کے کنارے پہ ٹکی تھی، گھبرا اٹھی اور کچن کی طرف لپکی۔
“کیاہوا؟”
انجم باجی سرخ بھبجوکا چہرہ اور آنکھوں میں پانی لیے کھڑی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں خالی چمچہ تھا۔
“مرچیں۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی مرچیں حیا!”
“نن نہیں۔ یہ ترکی کی مرچیں پھیکی ہوتی ہیں تو میں نے صرف چار چمچے۔۔۔۔”
“چار چمچے؟” ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “یہ ترکی کی نہیں خالص ممبئ کی مرچیں ہیں، میں سارے مسالے وہیں سے لاتی ہوں۔”
“اوہ نہیں۔” اس نے بے اختیار دل پہ ہاتھ رکھا، جبکہ ڈی جے ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••
سردی کا زور پہلے سے ذرا ٹوٹا تھا۔ اس صبح بھی سنہری سی دھوپ ٹاقسم اسکوائر پہ بکھری تھی۔ مجسمہ آزادی کے گرد ہر سو سونے کے ذرات چمک رہے تھے۔ وہ دونوں سست روی سے سڑک کے کنارے چل رہی تھیں جب ڈی جے نے پوچھا۔
“حیا…….. یہ ٹاقسم نام، کتنے مزے کا ہے اس کا مطلب کیا ہوا بھلا؟”
“میں شہر کی میئر ہوں، جو مجھے پتا ہو گا؟”
“نہیں۔ وہ میری گائیڈ بک میں لکھا تھا کہ ٹاقسم عربی کا لفظ ہے اور اس کے معنی شاید بانٹنے کے ہیں، کیونکہ یہاں سے نہریں نکل کر سارے شہر میں بٹ جاتی تھیں تمہیں۔ عربی آتی ہے۔ اس لیے پوچھ رہی ہوں۔
” عربی میں تو ٹاقسم نام کا کوئی لفظ نہیں ہے، اور عربی میں بانٹنے کو تقسیم کہتے ہیں۔” وہ ایک دم رکی اور بے اختیار سر پہ ہاتھ مارا۔ “اوہ ٹاقسم یعنی تقسیم۔ اگر گوروں کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے پڑھو تقسیم، تاقسم یا ٹاقسم بن جاتا ہے۔”
“ٹاقسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔! واؤ۔” وہ دونوں اس بات پہ خوب ہنستی ہوئی آگے بڑھنے لگیں۔ وہ شاپنگ کے ارادے سے آج استقلال اسٹریٹ کی طرف آئی تھیں۔
استقلال جدیسی istiklal caddies (سٹریٹ) ٹاقسم کے قریب سے نکلنی والی ایک لمبی سی گلی تھی۔ وہ اگلی دونوں اطراف سے قدیم آرکیٹیکچر والی اونچی اونچی عمارتوں سے گھری تھی۔ گلی بے حد لمبی تھی، وہاں انسانوں کا ایک رش ہمیشہ چلتا دکھائی دے رہا ہوتا۔ بہت سے سامنے کی طرف جا رہے ہوتے اور بہت سے آپ کی طرف آ رہے ہوتے۔ ہر شخص اپنی دھن میں تیز تیز قدم اٹھا رہا ہوتا۔
گلی کے درمیان ایک پٹری بنی ہوئی تھی، جس پر ایک تاریخی سرخ رنگ کا چھوٹا سا ٹرام چلتا تھا۔ وہ پیدل انسان کی رفتار سے دگنی رفتار سے چلتا اور گلی کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچا دیتا۔ اس گلی کو ختم کرنے کے لیے بھی گھنٹہ تو چاہئیے تھا۔
وہاں دونوں اطراف میں دکانوں کے چمکتے شیشے اور اوپر قمقمے لگے تھے۔ بازار، نائٹ کلبز، ریسٹورنٹس، کافی شاپس، ڈیزائنروئیر، غرض ہر قسم کی دکانیں وہاں موجود تھیں۔ چند روز پہلے وہ ادھر آئیں تو صرف ونڈو شاپنگ میں ہی ڈھائی گھنٹے گزر گئے، اور تب بھی وہ استقلال جدیسی کے درمیان پہنچی تھیں، سو تھک کر واپس ہولیں۔
“حیا تم نے دیکھا استقلال سٹریٹ جیسے ماڈرن علاقے میں بھی ہر تھوڑی دور بعد پریئر ہال ضرور ہے۔”
“بڑے نیک ہیں بھئی ترک!” وہ دونوں طنزیہ ہنسی اور پھر متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ استقلال اسٹریٹ آنے کا اصل مقصد جہان سے ملنا تھا
اور وہ صرف اس لیے یہاں آئی تھی کہ برگر کنگ جاۓ اور “میں یہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا۔” کہہ کر اس سے ملاقات کا بہانا ہی ڈھونڈ لے۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے چل رہی تھیں۔وہاں ہوا تیز تھی اور حیا کے کھلے بال اڑ اڑ کر اس کے چہرے پہ آ رہے تھے۔ وہ بار بار جیکٹ کی جیب سے ہاتھ نکالتی اور انہیں کانوں کے پیچھے اڑستی۔ تب ہی اس نے برگر کنگ کا بورڈ دیکھا تو ڈی جے کو بتاۓ بنا ریسٹورنٹ کے دروازے تک آئی اور اس سے پہلے کہ وہ دروازے پہ ہاتھ رکھتی، دروازہ اندر سے کھلا اور کوئی باہر نکلا۔ وہ بے اختیار ایک طرف ہوئی۔ وہ جہاں تھا، وہ اسے پہچان گئی تھی مگر وہ اکیلا نہیں تھا۔
وہ اس کے سامنے سے آتا ساتھ سے گزر کر نکل گیا تو وہ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ ڈی جے نے اسے رکتے نہیں دیکھا تھا، وہ اپنی دھن میں دکانوں کو دیکھتی چلتی گئی اور لوگوں کے ریلے میں آگے بہہ گئی۔
حیا یونہی اپنے گھٹنوں تک آتے سیاہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔ اب وہ ہوا کے رخ پہ کھڑی تھی، تو اس کےبال پیچھے کی طرف اڑنے لگے تھے۔
جہاں اس سے دور جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک دراز قد لڑکی بھی تھی۔ کوٹ اسکرٹ میں ملبوس اپنے سرخ بالوں کو اونچے جوڑے میں باندھے، وہ لڑکی ناگواری سے ہاتھ ہلا ہلا کر کچھ کہہ رہی تھی۔
جہاں نے اسے نہیں دیکھا، اسے یقین تھا۔ وہ دوڑ کر ان کے پیچھے گئی۔ وہ دونوں بہت تیز چل رہے تھے۔ ان کی رفتار سے ملنے کی سعی میں وہ ایشیائی لڑکی ہانپنے لگی تھی، بمشکل وہ ان کے عین عقب میں پہنچ پائی۔
لڑکی بلند آواز میں سر ہلاتی کچھ کہہ رہی تھی۔ جہاں بھی خاصا جھنجلایا ہوا جوابًا بحٽ کر رہا تھا۔ وہ ترک بول رہے تھے، یا کوئی دوسری زبان، وہ فیصلہ نہ کر پائی۔ شاید ترک نہیں تھی۔ وہ بہت لمبے لمبے فقرے بول رہے تھے اور جتنی ترک حیا نے اب تک سنی تھی، وہ ایسی نہیں تھی۔ ترک میں فقرے چھوٹے ہوتے تھے۔ بس فعل استعمال کیا اور اس کے آگے پیچھے سابقے لاحقے لگا لگا کر ایک بڑا لفظ بول دیا جو معنی میں کئی فقروں کے برابر ہوتا تھا
“جہاں۔۔۔۔۔۔۔ جہان۔۔۔۔۔” وہ شور و رش میں بمشکل اتنی آواز سے اسے پکار پائی کہ وہ سن سکے۔ اس کی تیسری پکار پہ وہ رکا۔ لڑکی بھی ساتھ رکی۔ وہ دونوں ایک ساتھ پلٹے۔
“جہان۔۔۔۔” اس کے ہونٹ جہان کو دیکھ کر ایک معصوم مسکراہٹ میں ڈھلنے لگے تھے۔
“کیا مسیلہ ہے؟” اس نے سنجیدہ، اکھڑے اکھڑے انداز میں ابرو اٹھاۓ۔ اسکے چہرے پہ اتنی سختی اور ناگواری تھی کہ حیا کے مسکراہٹ میں کھلتے لب بند ہوگئے۔ اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔
“میں۔۔۔۔حیا۔۔۔۔۔۔” وہ بے یقینی سے بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے شک گزرا کہ جہاں نے اسے نہیں پہچانا۔
“ہاں تو پھر؟” وہ بھنویں سیکڑے بولا۔
وہ لڑکی کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑی ناپسندیدگی سے حیا کو دیکھ رہی تھی۔
پھر؟ حیا نے بے یقینی سے زیرلب دہرایا۔ وہ ششدر سی جہان کو دیکھ رہی تھی۔
کوئی کام ہے؟
کوئی کام ہے؟ وہ بمشکل ضبط کر کے بولا۔
حیا نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔ اس میں بولنے کی سکت نہیں رہی تھی۔
“تو میری شکلُ کیا دیکھ رہی ہو؟ جاؤ!” وہ شانے جھٹک کر پلٹا۔ لڑکی بھی ایک اچٹتی نگاہ اس پہ ڈال کر مڑ گئی۔
استقلال اسٹریٹ پر لوگوں کا ریلہ آگے بڑھتا گیا۔ جہان سکندر اور اس لڑکی کے پیچھے بہت سے لوگ اس سمت جا رہے تھے۔ کتنی ہی دیر وہ ساکت کھڑی بہت سے سروں کی پشت کے درمیان اور ان دونوں کو دور جاتے دیکھتی رہی۔ اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں۔
ان دونوں کے سراپے ہجوم میں گم ہو رہے تھے۔ وہ دو نقطے بنتے جا رہے تھے۔ مدھم ۔۔۔۔۔۔۔۔ دور۔۔۔۔۔۔ بہت دور۔۔۔۔۔۔
“حیا ۔۔۔۔۔۔حیا۔۔۔۔۔” ڈی جے کہیں دور اتھلُ پتھل سی سانسوں کے درمیان چلا رہی تھی، مگر وہ سن نہیں رہی تھی۔ وہ اسی طرح بھیڑ کے درمیان پتھر ہوئی کھڑی اسی سمت دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت دور جا چکے تھے۔ ساکت پتلیوں میں اب درد ہونے لگا تھا۔ بلآخر بوجھ سے اس کی پلکیں گریں اور جھک کر اٹھیں تو منظر بھیگ چکا تھا۔ اس نے پھر سے پلکیں جھپکائیں تو بھیگی آنکھوں سے قطرے رخساروں پہ گرنے لگے۔ سامنے کا منظر قدرے واضح ہوا مگر۔۔۔۔۔
لمحے بھر کی تاخیر سے اس کا تعاقب ہار گیا تھا۔ وہ دونوں بھیڑ میں گم ہو گئے تھے۔ وہ اپنا منظر کھو چکی تھی۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کی ٹھوڑی سے نیچے گردن پہ لڑھکتے گئے۔
“حیا۔۔۔۔ کدھر رہ گئیں تھیں تم؟” ڈی جے نے نڈھال سی آ کر اس کا شانہ جھنجھوڑا ۔ اس کا سانس پھول چکا تھا اور وہ ہانپ رہی تھی۔
“میں کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہوں ڈی جے!” وہ اسی سمت دیکھتے ہوۓ بڑبڑائی تھی۔
*************************
اس نے ایک ہاتھ سے اوون کا ڈھکن کھولا دوسرے ہاتھ سے گرم ٹرے باہر نکالی۔
ٹرے پہ بھوری، خستہ گرما گرم جنجر بریڈ تیار پڑی تھی۔ ادرک کی ہلکی سی خوشبو سارے کچن میں پھیلی تھی۔
وہ دوسرے ہاتھ سے جنجر بریڈ کو چیک کرتی سیدھی ہوئی اور ٹرے لا کر کاؤنٹر پہ رکھی۔ وہ سفید ڈھیلی سی آدھے بازوؤں والی ٹی شرٹ اور کھلے سیاہ ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔ بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا گردن پہ پڑا تھا اور الجھی الجھی سی لٹیں گالوں کو چھو رہی تھیں۔ ٹی شرٹ کے اوپر پہنے ایپرن پہ جگہ جگہ چاکلیٹ اور کریم کے دھبے لگے تھے۔
معتصم کاؤنٹر کے ایک طرف کھڑا پیالے میں انڈے کی سفیدی پھینٹ رہا تھا۔ ڈی جے دوسری طرف کھڑی سجاوٹ کے لیے بنٹی (bunties) اور رنگ برنگےبینز (beans) کے پیکٹ کھول کھول کر پلیٹ میں انڈیل رہی تھی۔ ہر رنگ کے بینز، کینڈیز اور سرخ بینز کا ڈھیر لگ چکا تھا۔
آج حسین کی سالگره تهی۔ روایتی طریقے سے کیک بنانے کی بجاۓ حیا اس کے لیے جنجر بریڈ هاؤس تیار کر رهی تهی۔ ایک فٹ اونچا جنجر بریڈ سے بنا گهر جو چاکلیٹ، کریم اور رنگ برنگی جیلیز سے سجانا تها۔ وه پچھلے چار گهنٹے سے لگی ہوئی تهی اور اب بالآخر اس کے جنجر بریڈ کے چھ کے چھ بیک هو چکے تهے۔ چار دیواروں کے لیے اور دو مخروطی چهت کے لیے۔
“آؤ اس کو جوڑتے ہیں۔” اس نے کہا تو معتصم جو آئسنگ بنا چکا تها۔ پیالہ رکھ کر اس کی طرف آ گیا۔ ڈی جے اب ایک دیوار اٹها کر اس میں سے مستطیل دروازه کاٹ رهی تهی۔
حیا اور معتصم نے احتیاط سے دیواریں متصل کهڑی کیں اور ان کے جوائٹ پہ، بطور گم، مخصوص سیرپ لیپ دیا۔ اور بہت آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹاۓ۔
دیواریں سیدهی کهڑی رہیں۔ سیرپ نے ان کو چپکا دیا تها۔
“زبردست! وه پر جوش ہو گئی۔ اس کا گهر بن رہا تها۔ یہ خیال ہی اس کی تهکاوٹ بھگا کر لے گیا۔
وه دونوں اب اگلی دیوار جوڑنے لگے۔ حیا کے ماتهے سے جھولتی لٹ بار بار آنکهوں کے سامنے آتی وه بار بار اسے پیچهے ہٹاتی۔ انگلیوں پر لگے چاکلیٹ سیرپ کے دهبے اس کے رخسار پر لگ گۓ مگر پرواه کسے تهی۔
چار دیواری بن گئی تهی۔ اب انهوں نے دو مستطیل ٹکڑوں کو اوپر الٹے “وی” کی طرح رکها اور جوڑ پر سیرپ لگایا۔ کافی دیر بعد انهوں نے اپنے ہاتھ اٹهاۓ۔
چھت برقرار رهی۔ سیرپ سوکهنے لگا تها۔ چهت مزید مضبوط ہو گئی۔
“حیا! تم گریٹ ہو۔” وه بهورا سا گھر بنا رنگ یا آرائش کے بهی اتنا حسین لگ رہا تها کہ معتصم بے اختیار ستائش سے بولا۔
“مجهے پتا ہے” وه دهیرے سے ہنسی۔
وه تینوں اب الابلا کینڈیز اور جیلیز سے دیواروں کی سجاوٹ کرنے لگے۔ وه ہر ڈیکوریشن کے ٹکڑے کے پیچهے ذرا سا سیرپ لگا کر اسے دیوار سے چپکا دیتے۔ بهورے گهر پہ جگہ جگہ سرخ، سبز اور نیلے بٹن کی مانند آنکهیں ابهرنے لگی تهی۔ ذرا سی دیر میں گھر سج گیا تها. ڈی جے نے سفید کریم سے کهڑکیوں کی چوکور چوکهٹیں بنائیں اور اندر نیلی کریم کا رنگ بھر دیا۔
“اب استنبول کی برف باری کا مزه اپنے گهر کو بهی چکهائیں۔”
حیا آئسنگ شوگر اور چهلنی لے آئی۔” اس نے سفید سوکهے آٹے کی شکل کی آئسنگ شوگر چهلنی میں ڈالی اور گھر کے اوپر کر کے چهلنی آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ چهلنی کے سوراخوں سے سفید ذرے نیچے گرنے لگے۔ بهورے گھر پر برف باری ہونے لگی اور اب ہلکی سی سفید تهہ چاکلیٹ سے ڈهکے گھر پر بیٹهنے لگی۔
حیا کا “جنجر بریڈ هاؤس” “Ginger Bread House” تیار تها۔
اس نے احتیاط سے ٹرے اٹھائی۔ گھر برقرار رہا۔ یہ اس کی ساڑهے چار گھنٹے کی محنت کا ثمر تها۔ کسی سالگره کی تقریب سے پہلے حیا سلیمان نک سک سے تیار نہ ہو، حیرت انگیز بات تهی، مگر آج اس کی تیاری وه گھر ہی تها۔ اسے اپنے رف حلیے، ایپرن اور چہرے پر لگے دهبوں کی پروا نہیں تهی۔ اس کی ساری توجہ ٹرے میں سجے جنجر بریڈ هاؤس پر تهی۔
وه ڈی جے اور معتصم کے پیچهے چلتی کامن روم میں داخل ہوئی۔
وہاں فاصلے فاصلے پہ گول میزوں کے گرد کرسیوں کے پهول بنے تهے۔ درمیانی میز پہ گفٹس اور حسین کا لایا ہوا کیک رکها تها۔ باره ممالک کے ایکسچینج اسٹوڈنٹس آچکے تهے۔ وه کوئی سرپرائز پارٹی نہ تهی۔ سو حسین بڑی میز کے پیچهے کهڑا ہنستا ہوا ٹالی کا گفٹ لینے کی کوشش کر رہا تها، جسے ٹالی بار بار پیچهے کر رہی تهی۔
“سرپرائز!” حیا نے پکارا تو سب نے ادهر دیکها۔ معتصم اور ڈی جے کے پیچهے وہ چوکهٹ پر کهڑی تهی۔ دونوں ہاتھوں میں اٹهائی ٹرے میں وه فیری ٹیل ہاؤس رکها تها، اور حیا کو پتا تها، وه ہنسل اور گریٹل کے جنجر بریڈ ہاؤس سے زیاده خوبصورت تها۔
“واؤ!” بے اختیار بہت سے لبوں سے ستائش نکلی۔
“حیا…۔۔۔ تم نے میرے لیۓ اتنا کیا؟” حسین بے حد متاثر ہوا تها۔
اس نے مسکراتے ہوۓ شانے اچکاۓ۔
وه دروازے میں کهڑی تهی۔ دروازه آدها کهلا تها اور سردی اندر آ رہی تهی۔
“آؤ حیا! اسے میز پہ لے آؤ۔” معتصم بڑی میز سے گفٹس، کیک اور دوسری ڈشز کے درمیان چیزیں ہٹا کر جگہ بنانے لگا۔
سردی کی لہر دروازے سے اندر گھس رہی تهی۔ اس نے بائیں ہاتھ میں ٹرے پکڑے، دائیں ہاتھ سے دروازه دهکیلنا چاہا۔ وه بدقسمتی کا لمحه تها۔
دروازے کی ناب کو اس نے چھوا ہی تها کہ دروازه زور سے پورا کهلا اور کوئی تیزی سے اندر داخل ہوا۔ کهلتے دروازے نے اس کا بڑھا ہاتھ پیچھے دھکیلا اور وه توازن برقرار نا رکھ سکی۔ بے اختیار ایک قدم پیچهے ہٹی اور تب ہی اس کے بائیں ہاتھ میں پکڑی ٹرے ٹیڑهی ہوئی۔
“اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نو!” بہت سی دلدوز چیخیں بلند ہوئیں اور ان میں سب سے دلخراش چیخ اس کی اپنی تهی۔
الٹی ہوئی ٹرے اس کے ہاتھ میں ره گئی۔ ہلکی سی ٹهڈ کی آواز کے ساتھ جنجر بریڈ هاؤس زمین پر جا گرا۔ ہر دیوار ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ بنٹیز او جیلیز ادهر ادهر بکهر گئیں۔
فرش پہ بریڈ، چاکلیٹ، کریم اور رنگ برنگی بنٹیوں کا ملبہ پڑا تها اور وه سب سناٹے کے عالم میں پهٹی پهٹی آنکهوں سے اسے دیکھ رہے تهے۔
کتنے ہی پل وه شاک کے عالم میں وه اس ملبے کو دیکهے گئی، پهر اس کے پار نظر آتے جوگرز کو دیکھا۔ اور اپنی ششدر نگاہیں اوپر اٹهائیں۔
وه جہان سکندر تها، اور اتنی ہی بے یقینی و شاک سے ملبے کو دیکھ رہا تها۔ حیا کے دیکهنے پہ بے اختیار اس نے نفی میں سر ہلایا۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں۔ مجھے نہیں پتا تها کہ تم سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ گاڈ۔۔۔۔۔ تاسف، ملال کے مارے وہ کچھ کہہ نہیں پا رہا تها۔
وہ جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تهی، ایک دم لب بهینچ گئی۔ اس کی آنکھوں میں تحیر کی جگہ غصے نے لے لی۔ خون کی سرخ لکیریں اس کی آنکھوں میں اترنے لگیں۔ وہ ایک دم جهکی، بریڈ کا ٹوٹا، کریم میں لتهڑا ٹکرا اٹھایا اور سیدهے ہوتے ہوئے پوری قوت سے جہان کے منہ پہ دے مارا۔
وہ اس غیر متوقع حملے کے لیئے تیار نہ تها۔ کریم میں لتهڑا ٹکرا اس کے گردن پہ لگا تو وہ بے اختیار دو قدم پیچهے ہٹا۔ ٹکڑا اس کی شرٹ پر سے پھسلتا هوا نیچے قدموں میں جا گرا۔
اس نے گردن پہ لگی کریم کو ہاتھ سے چهوا اور پهر انگلیوں کے پوروں کو بے یقینی سے دیکها۔
حیا! میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔
وہ سرخ آنکھوں سے لب بهینچے جہان کو دیکھ رہی تهی۔ اس نے لب اتنی سختی سے بهینچ رکهے تهے کہ گردن کی رگیں ابهرنے لگی تهیں اور کنپٹی پہ نیلی لکیر نظر آ رہی تهی۔ وہ بالکل چپ کھڑی گہرےگہرے سانس لے رہی تهی۔
حیا۔۔۔۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔ حسین پریشانی سے آگے بڑھا۔ ڈی جے اور معتصم بهی اس کے ساتھ تهے۔
حیا! میں نے واقعی نہیں دیکها تها کہ تم۔۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔ جسٹ شٹ اپ! وہ اتنی زور سے چلائی کہ آگے بڑھتا حسین وہیں رک گیا۔
چلے جاؤ تم یہاں سے۔ کہیں بهی چلے جاؤ مگر میری زندگی سے نکل جاؤ۔ تم میرے لئے عذاب اور دکھ کے علاوہ کبھی کچھ نہیں لائے۔ نکل جاؤ اس کمرے سے۔ اس نے اردو میں چلا کر کہا تھا۔ بارہ ممالک کے ایکسچینج اسٹوڈنٹس میں سے اردو کوئی نہیں سمجهتا تها سوائے ڈی جے کے، مگر وہ تمام متاسف کھڑے طلباء سمجھ گئے تهے کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔
حیا۔۔! جہان کی آنکھوں میں دکھ ابهرا۔
میرا نام بهی مت لو۔ اس نے گردن کے گرد بندهے ایپرن کی ڈوری ہاتھ سے نوچی، ایپرن ایک طرف اتار کر پهینکا اور بهاگتی ہوئی باہر نکل گئی۔
سڑهیو ں کے اوپر لگا بلب اس کے آتے ہی جل اٹها۔ وہ تیزی سے چکردار سیڑهیاں اترنے لگی۔ آنسو اس کے چہرے پہ بہہ رہے تهے۔ آخری سیڑهی پھلانگ کر وہ اتری اور برف سے ڈھکی گهانس پہ تیز تیز چلنے لگی۔
باہر تیز سرد ہوا تهی۔ ہلکا ہلکا سا کہر ہر سو چهایا ہوا تها۔ وہ سینے پہ بازو لپیٹے، سر جهکائے روتی ہوئی چلتی جا رہی تهی اور اسے پتا تها کہ وہ ایک جنجر بریڈ ہاؤس کے لیے نہیں رو رہی تهی۔
پہاڑی کی ڈهلان اتر کر سامنے سبانجی کی مصنوعی جهیل تهی۔ جهیل اب خاصی پگهل چکی تهی، پهر بهی فاصلے فاصلے پر بڑے بڑے برف کے ٹکڑے تیرتے نظر آ رہے تهے۔
وہ جھیل کے کنارے رک گئی۔ تیز دوڑنے سے اس کا سانس پھول گیا تھا۔ پتلی ٹی شرٹ میں سردی لگنے لگی تھی۔ ڈھیلا جوڑا آدھا کھل کر کمر پر گر گیا تھا۔
وہ تھکی ماندی سی گھاس پہ بیٹھ گئی اور سلیپرز سے پاؤں نکال کر ٹھنڈے پانی میں ڈال دیے۔ وہ خود اذیتی کی انتہا تھی۔ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر سر نیچے جھکا کر وہ ایک دم سے بہت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
مصنوعی جھیل کا پانی رات کے اندھیرے میں چاند کی روشنی سے چمک رہا تھا، گویا چاندی کا ایک بڑا سا ورق سیاہ پانی پہ تیر رہا ہو۔ دور جنگل سے پرندوں کی آواز وقفے وقفے سے سنائی دیتی تھی۔ کئی لمحے ریت کی طرح پھسل کر جھیل کی چاندی میں گم ہو گئے تو اس نے قدموں کی چاپ سنی۔ کوئی اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا تھا۔
اس نے بھیگا چہرا اٹھا کر دیکھا۔
وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لب کاٹتا سنجیدہ سا اس کے ساتھ کھڑا تھا۔
“سوری حیا! میں تو معذرت کرنے آیا تھا کہ اس روز کام کی پریشانی میں تم سے مس بی ہیو کر گیا مگر…………” وہ چپ چاپ بے آواز روتی اسے دیکھے گئی۔
“آئی ایم رئیلی سوری……. میں نے تمہارا اتنا نقصان کر دیا۔ میں نے تمہیں دیکھا نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم دروازے کے پار کھڑی ہو۔ میں نے تمہارا بڑھا ہوا ہاتھ نہیں دیکھا تھا
اپنی دانست میں بہت تیز چل رہا تھا اور انجانے میں تمہارا ہاتھ دھکیل دیا۔ تمہاری ساری ریاضت ضائع کر دی۔”
شاید وہ صرف جنجر بریڈ ہاؤس کی بات کر رہا تھا، یا شاید ان کے تعلق کی۔ وہ ابھی کچھ بھی سہی یا غلط سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔
“مگر میں مداوا کر دوں گا۔”
“مداوا؟” اس کے بہتے آنسو پل بھر کو تھمے۔
“ہاں میں تمہیں بالکل ایسا جنجر بریڈ ہاؤس بنا کر لا دوں گا۔”
اور اس کا دل چاہا، وہ پھوٹ پھوٹ کر پھر سے رو دے
“مائی فٹ جہان سکندر!” وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور گیلے پیر پانی سے نکال کر سلیپرز میں ڈالے۔ “میری زندگی میں جنجر بریڈ ہاؤس سے بڑے مسائل ہیں۔”
وہ تیزی سے پلٹی تو ڈھیلے جوڑے کا آخری بل بھی کھل گیا اور سارے بل آبشار کی طرح کمر پہ سیدھے گرتے گئے۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اوپر ڈھلان پر چڑھنے لگی۔
جہان لب لب کاٹتا اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: