Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 13

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 13

–**–**–

وہ تکیے سے ٹیک لگاۓ، پاؤں لمبے کیے، کمبل میں لیٹی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے موبائل تھامے وہ گیم کھیل رہی تھی۔
ساتھ والے بینک پہ ٹالی منہ پہ تکیہ رکھے سو رہی تھی۔ چیری اسٹڈی روم میں تھی۔ خدیجہ نیچے اپنے بینک کی کرسی پر بیٹھی میز پہ رکھے لیپ ٹاپ کی کنجیوں پہ انگلیاں چلا رہی تھی۔
“حسین کا برتھ ڈے جنجر بیڈ ہاؤس ٹوٹنے سے خراب نہیں ہوا، اس کا برتھ ڈے تمہارے اوور ری ایکشن سے خراب ہوا ہے۔ تم نے اپنے کزن کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اس کا قصور نہیں تھا۔ اس نے تمہیں واقعی نہیں دیکھا تھا۔ اگر تم تھوڑا سا ضبط کر لیتیں اور کھلے دل سے اپنے کزن کو ویلکم کرتیں تو ہم اسی ٹوٹے جنجر بریڈ ہاؤس کو یادگار بنا لیتے۔ اسے ایک دوسرے کے چہروں پہ ملتے، اس کے ساتھ تصویریں کھنچواتے اور کیا کچھ نہ کرتے۔ چیزیں وقتی ہوتی ہیں، ٹوٹ جاتی ہیں، بکھر جاتی ہیں۔ رویے دائمی ہوتے ہیں۔صدیوں کے لیے اپنا اٽر چھوڑ جاتے ہیں۔ انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے اور تم نے آج ایک ٹوٹے ہوۓ جنجر بریڈ ہاؤس سے ہار مان لی۔”
لیپ ٹاپ کی سکریں پہ نگاہیں جماۓ ڈی جے تیزی سے کچھ ٹائپ کرتی کہہ رہی تھی۔
حیا اسی طرح ببل چباتی موبائل کے بٹن دباتی رہی۔
“تمہارے جانے کے بعد سب اتنے شرمندہ تھے کہ مت پوچھو کس طرح میں نے بمشکل سب کو منا کر حسین سے کیک کٹوایا۔”
دفعتًا حیا کا موبائل بجا تو ڈی جے خاموش ہو گئی۔ حیا نے لب بھینچے اسکرین کو دیکھا۔ وہاں جہان کا موبائل نمبر لکھا آ رہا تھا۔ چاہنے کے باوجود بھی وہ کال مسترد نہ کر سکی۔
“کیا ہے؟” اس نے فون کان سے لگا کر بہت آہستہ سے کہا۔
“ابھی تک خفا ہو؟” وہ ایک دم اتنی اپنائیت سے پوچھنے لگا کہ وہ لب کاٹ کر رہ گئی۔ حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکنے لگا۔
“خفا ہونے کا اختیار اپنوں کو ہوتا ہے، مجھے یہ اختیار کبھی کسی نے دیا ہی نہیں۔”
اتنے لمبے مکالمے مت بولو۔ مجھ سے اب سردی میں نہیں کھڑا ہوا جا رہا۔فورًا باہر آؤ۔”
وہ ایک دم اٹھ بیٹھی۔
“تم کہاں ہو؟” آنسو غائب ہو گۓ۔
“تمارے ڈورم کے باہر بالکونی میں کھڑا ہوں۔”
“میرے الله! تم اب تک یہیں ہو۔” وہ فون پھینکُ کر اٹھی، تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے اتری اور دوڑ کر دروازہ کھولا۔
وہ بالکونی کی ریلنگ سے ٹیک لگاۓ، سینے پہ بازو لپیٹے کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرایا۔
“اُف جہاں!” حیا دروازہ بند کر کے اس تک آئی۔ اس نے ٹی شرٹ کے اوپر ایک کھلا سا سیاہ سوئیٹر پہن لیا تھا اور بالوں کا پھر سے ڈھیلا جوڑا باندھ لیا تھا۔ آنکھیں ہنوز متورم تھیں۔
“کب سے کھڑے ہو ادھر ؟” وہ خفگی سے کہتی اسکے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔
“جب سے تم نے بتایا تھا کہ تمہاری زندگی میں جنجر بریڈ ہاؤس سے بڑے مسائل ہیں۔ میں نے سوچا ان کو حل کیے بغیر نہ جاؤں۔ چاۓ تو نہیں پلاؤ گی؟”
وہ کچھ ایسے ڈرتے ڈرتے بولا کہ وہ ساری تلخی بھلا کر ہنس دی۔
“آؤ تمہیں ایپل ٹی پلاتی ہوں۔ تمہارے ترکی کی سوغات ہے ورنہ پاکستان میں تو ہم نے کبھی سیب والی چاۓ نہیں پی تھی۔” وہ دونوں ساتھ ساتھ اندرونی سیڑھیاں اترنے لگے۔
“اور ہم یہی پی کر بڑے ہوۓ ہیں۔ کتنا فرق ہے نہ ہم میں۔” وہ شاید یونہی بولا تھا۔ مگر کچن کا دروازہ کھولتی حیا نے مڑ کر اسے دیکھا ضرور تھا۔
“ہاں بہت فرق ہے ہم میں۔” اس نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس نے ہار مان لی تھی، اور انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود۔۔۔۔۔ اف یہ ڈی جے کے سنہری اقوال بھی نا۔۔۔۔!
وہ سر جھٹک کر کچن میں داخل ہوئی۔
“ایپل ٹی تو ختم ہے، اب سادہ چاۓ پیو۔” اس نے کیبنٹ کھول کر چند ڈبے آگے پیچھے کئے اور پھر مایوسی سے بتایا۔
“دودھ نکالو ،میں چاۓ کا پانی چڑھاتا ہوں۔” وہ آگے بڑھا، دیگچی ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالی، اس میں پانی اور پتی ڈال کر چولہے پہ چڑھائی اور چولہا جلا دیا۔ وہ ایسا ہی تھا۔ فورًا سے کام کر دینے والا۔ اس کے ہاتھ بہت سخت اور مضبوط سے لگتے تھے۔ کام کے، محنت اور مشقت کے عادی۔وہ استنبول کی ورکنگ کلاس کا نمائندہ تھا۔
اب وہ سلیب پہ رکھے برتن جمع کر کے سنک میں ڈال رہا تھا۔
“رہنے دو جہان! میں کر لوں گی۔”
تم نے کرنے ہوتے تو اب تک کر چکی ہوتیں۔ اب اس سے پہلے کہ پانی سوکھ جاۓ، دودھ ڈال دو ، بلکہ مجھے دو ۔”
اس نے پلیٹ دھوتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے دودھ کا ڈبا اٹھایا اور خود ہی دیگچی میں انڈیل دیا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وہ کھلے نل تلے پلیٹ کھنگال رہا تھا۔ جنز اور جوگرز پہنے، سویٹر کی آستینیں کہنیوں تک موڑے، وہ ٹاقسم اسکوائر کی میٹرو میں موجود اس ایگزیکٹو سے قطعًا مختلف لگ رہا تھا، جس سے چند ہفتے قبل حیا ملی تھی۔
“حیا ۔۔۔۔۔۔حیا۔۔۔۔۔” ڈی جے حواس باختہ سی چلاتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی۔
“تمہارا فون مر جائے گا بج بج کر۔ اوہ، السلام علیکم۔” جہاں کو دیکھ کر وہ گڑبڑا گئی۔
وعلیکم السلام!” جہان نے پلٹ کر اسے جواب دیا۔
“تمہارا فون!” وہ حیا کو فون تھما کر واپس مڑ گئی۔
حیا نے موبائل په دیکها۔ پانچ مسڈ کالز۔ ترکی کا کوئی غیر شناسا نمبر۔
اسی وقت اس کا موبائل پهر بجنے لگا۔ اس نے اسکرین کو دیکها۔ وہی ترکی کا نمبر۔ اس بار اس نے کال وصول کر لی۔
“هیلو” جب وه بولی تو اسکی آواز میں تذبذب تها۔
“حیا سلیمان! بندے کو عبدالرحمان پاشا کہتے ہیں۔ اب تک تو آپ مجهے جان گئی هوں گی۔” وه شسته اردو میں کہہ رہا تها۔ اس کی آواز میں ممبئ کے باسیوں کا تیکها پن تها اور لہجہ بہت ٹهنڈا۔
حیا کا رنگ پهیکا پڑ گیا۔ اس نے پلکیں اٹها کر جہان کو دیکھا۔ وه بہت غور سے اس کے چهلہرے کے اتار چڑهاؤ کو دیکھ رهہا تها۔
” رانگ نمبر!” اس نے کہہ کر فون رکهنا چاہا مگر وه آگے بڑھا اور موبائل اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
“کون؟” وہ فون کان سے لگا کر بولا تو اس کے چہرے پہ بےپناہ سختی تھی۔
کون؟ اس نے دهرایا۔ شاید دوسری جانب سے کوئی کچھ بول نہیں رہا تها۔ جہان لب بهینچے چند لمہے انتظار کرتا رها۔ پهر اس نے فون کان سے ہٹایا۔
“بند کر دیا ہے۔” اس نے موبائل حیا کی طرف بڑهاتے ہوئے جانچتی, مشکوک نگاهوں سے اسے دیکها۔ ” کون تها؟”
“تمهیں نهیں بتایا تو مجهے کیوں بتاتا۔ شاید رانگ نمبر تها۔” وه اب سنبهل چکی تهی۔
“ہوں! تمهیں کوئی تنگ تو نهیں کر رها؟” پهر جیسے وه چونکا۔ “وه پهول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پتا نهیں کون هے۔” اس نے شانے اچکا یۓ۔ “جانے دو۔”
“ہراس منٹ ایک جرم هے۔ هم اس کے لیے پولیس کے پاس جا سکتے هیں۔” وه کچھ سوچ کر بولا۔
کسی مسئلے کا حل جہان سکندر کے پاس نہ ہو، ایسا ممکن تھا بھلا۔
“جانے دو۔ میں اسے ذیاده اہمیت نهیں دیتی۔ خود ہی تهک کر رک جاۓ گا۔”
گو کہ وه مطمئن نہیں ہوا تها۔ مگر سر ہلا کر پلٹ گیا۔ اور نل پهر سے کهول دیا۔
حیا نے موبائل کو سائلنٹ پہ لگا کر جیب میں ڈال دیا۔ وه اس نازک رشتے میں مزید بدگمانی کی متحمل نہ تهی۔
“چولها کیوں بند کر دیا؟ ابهی پکنے دیتیں، میں زیاده کڑهی ہوئی چاۓ پینے کا عادی ہوں۔” اسی پل چولها بند ہوا تو وه چونکا۔
“میں نے نہیں بند کیا، یہ آٹو میٹک ہیں۔ ہر پندره منٹ بعد دس منٹ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔ اب دس منٹ بعد خود ہی جل اٹهے گا۔”
“یہ اچها کام ہے۔ اسے جیسے کوفت ہوئی۔ پهر آخری برتن کهنگالتے ہوۓ وه بار بار چولهے کو سوچتی نظروں سے دیکهتا رہا۔ جب برتن دهل گۓ تو ہاتھ دهو کر چولهے کی طرف آیا۔
“برتن دهل گۓ تمهارے، اب تمهاری زندگی کے اگلے مسئلے کو حل کرتے ہیں اسکے بعد کون سا مسئلہ ہے وه بهی بتاؤ۔” وه چولهے کو پھر سے جلانے کی کوشش کرنے لگا۔
میری زندگی کے مسئلے ٹوٹے کیبنٹ یا ٹھنڈے چولہے کی طرح نہیں ہیں، جو تم حل کر لو۔
اچھی بھلی زندگینہے تمہاری، کیا مسئلہ ہے تمہیں، سوائے اس بےکار چولہے کے، کوئی تو حل ہو گا اس کا بھی۔ وہ نچلا لب دبائے جھک کر سوئچ سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔
اس کا کوئی حل نہیں ہے۔
یہ ناممکن ہے کہ کسی مسئلے کا کوئی حل نہ ہو۔ ٹھہرو! میں کچھ کرتا ہوں۔ وہ پنجوں کے بل زمین پہ بیٹھا اور جھک کر نیچے سے چولہے کا جائزہ لینےلگا۔
جہان! رہنے دو!
میری کار سے میرا ٹول بکس لے آؤ۔ ڈیش بورڈ میں پڑا ہو گا۔ تب تک میں اسے دیکھتا ہوں۔ وہ جینز کی جیب سے چابیوں کا گچھا نکال کر اس کی طرف بڑھائے، گردن نیچے جھکائے چولہے کے اردگرد جیسے کچھ تلاش کر رہا تھا۔
وہ جہان ہی کیا جو کچھ کرنے کی ٹھان لے تو پھر کسی کی سنے۔ اسے میٹرو میں اپنے جوتے کے تسمے کھولتا جہان یاد آیا تھا۔ اس نے مسکراہٹ دبا کر ہاتھ بڑھا کر چابی پکڑی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
جہان کی چھوٹی سفید سی کار ہاسٹل کی سیڑھیوں کے آخری زینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اس میں سے ٹول بکس نکالتے ہوئے بےاختیار حیا نے سوچا تھا کہ وہ اتنا امیر نہیں جتنا وہ سمجھتی تھی، یا پھر شاید یورپ میں رہنے والے رشتہ داروں کے بارے میں عمومی تصور یہی ہوتا ہے کہ وہ خاصے دولتمند ہوں گے، جبکہ جہان اور پھپھو اس کے برعکس محنت کش، ورکنگ کلاس کے افراد تھے۔
وہ واپس آئی تو وہ چھڑی سے ہی شروع ہو چکا تھا اور پائپ، ساکٹ اور پتا نہیں کیا کیا کھولے بیٹھا تھا۔
چند منٹ وہ خاموشی سے سلیب کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی اسے کام کرتے دیکھتی رہی۔ وہ دائیں گھٹنے اور بائیں پنجے کے بل زمین پر بیٹھا پائپ کے دہانے پہ پیچ کس سے کچھ کھول رہا تھا۔ ٹول بکس اس کے پاؤں کے پاس کھلا پڑا تھا۔
چند صبر آزما پل بیتے اور پھر وہ فاتحانہ انداز میں ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھا۔
یہ چوتھا چولہا جو کونے میں ہے، یہ فکس کر دیا ہے، اب یہ خود سے نہیں بجھے گا۔ اس نے کہنے کے ساتھ ہی عملی مظاہرے کے طور پر چولہے کو جلا دیا اور پھر چائے کی کیتلی اسی پہ رکھ دی۔
یہ جو تم نے حرکت کی ہے نا جہان سکندر! یہ غیر قانونی ہے۔ اگر کسی کو پتا چل گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سبانجی میں اسموکنگ بھی غیر قانونی ہے، مگر سٹوڈنٹس کرتے ہیں نا؟ ڈرنکنگ بھی غیر قانونی ہے، اسٹوڈنٹس وہ بھی کرتے ہیں اور کمروں میں چھوٹے چولہے اور مائیکروویو رکھنا بھی غیر قانونی ہے، وہ بھی رکھتے ہیں نا، سو تم بھی اپنی مرضی کرو! وہ کاؤنٹر سے ٹیک لگائے کھڑا بڑی لاپرواہی سے بولا تو وہ ہنس دی۔ اسے اپنا سروے فارم یاد آ گیا تھا۔
” تم سبانجی سے پڑھے ہو جو اتنی معلومات ہیں؟”
“سبانجی سے پڑھا ہوتا تو ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ نہ چلا رہا ہوتا۔ ہم تو عام سی سرکاری یونیورسٹیز میں پڑھنے والے مڈل کلاس لوگ ہیں مادام!” وہ جب بھی اپنی کم آمدن یا کام کا ذکر کرتا، اس کے بظاہر مسکراتے لہجے کے پیچھے ایک تلخ اداسی سی ہوتی۔ ایک احساس کمتری، یا پھر شاید یہ اس کا وہم تھا۔
“خیر!” حیا گہری سانس لے کر چولہے کی طرف آئی اور چائے کی کیتلی اٹھا لی۔ ٹرے میں پیالیاں اس نے پہلے سیٹ کر رکھی تھیں، اب وہ چھلنی رکھ کر چائے انڈیلنے لگی۔
“اس ویک اینڈ پر ڈنر کریں ساتھ؟”
اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا، ذرا سی چائے چھلنی کے دہانے سے پھسل کر پیالی پکڑے اس کے ہاتھ پہ گری، مگر وہ بےحد حیرت بےیقینی سے جہان کو دیکھے گئی۔
“اچھا……… اچھا…… نہیں کرتے۔ غلطی سے کہہ دیا۔ ” وہ جیسے شرمندہ ہوگیا۔
“نہیں! نہیں، میرا مطلب ہے، ٹھیک ہے شیور، مگر کہاں؟” وہ جلدی سے بولی مبادا وہ کچھ غلط نہ سمجھ لے، پھر اپنی جلد بازی پہ بھی خفت ہوئی۔ “استقلال جدیسی میں کہیں بھی۔ تمہیں بس ٹاقسم پہ اتارتی ہے نا؟” حیا نے اس کی پیالی اٹھا کر اسے دی تو اس نے سر کے ذرا سے اثبات کے ساتھ تھام لی۔
“ہاں۔” وہ اپنی پیالی لے کر اس کے بالمقابل سلیب سے ٹیک لگائے کھڑی ہو گئی اور چائے میں چمچ ہلانے لگی۔
“پھر میں تمہیں ٹاقسم سے پک کر لوں گا۔ ہفتے کی رات، آٹھ بجے ٹھیک؟”
“ٹھیک۔” وہ گھونٹ بھرتے ہوئے مسکرا دی۔
جب وہ اسے واپس باہر تک چھوڑنے آئی تو دونوں کو اپنے نیچے پا کر بالکونی کی بتی خود سے جل اٹھی۔ وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ وہ ہولے سے کہہ اٹھی۔
“آئی ایم سوری، میں آج اوور ری ایکٹ کر گئی تھی۔”
جہان نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“کچن کے سارے برتن دھلوا کر، چولہا ٹھیک کروا کر اور چائے کے دو کپ بنوا کر تم نے بالآخر مان ہی لیا۔ بہت شکریہ۔ اب میں سکون سے سو سکوں گا۔” وہ گویا بہت تشکر اور احسان مندی سے بولا تھا۔
وہ خفت سے ہنس دی۔ “کہا نا سوری۔”
“سوری مجھے بھی کرنی چاہئیے، مگر وہ میں ڈنر پہ کروں گا، ادھار رہا۔ ہفتے کی شام آٹھ بجے، شارپ!”
مجھے یاد رہے گا۔ وہ سیڑهیاں اترنے لگا۔ اور حیا سینے پہ بازو لپیٹے کهڑی اسے جاتے دیکهتے رہی۔ جب اس کی کار نظروں سے اوجهل ہوگئی تو وہ کمرے کی طرف مڑ گئی۔ بالکونی کی بتی بجھ گئی۔ سارے میں تاریکی چها گئی۔ ڈی جے وہیں کرسی پہ بیٹھی لیپ ٹاپ پہ کچھ ٹائپ کر رہی تهی۔
وہ زیر لب کوئی دهن گنگناتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور اپنے بینک کے زینے چڑهنے لگی۔
تمہارا کزن بڑا ہینڈسم ہے۔ ڈی جے نے مصروف سے انداز میں تبصرہ کیا۔
سو تو ہے۔ اس نے بستر میں لیٹ کر ڈی جے کو دیکهتے ہوئے جواب دیا۔
یہ وہی پهپو کا بیٹا ہے نہ؟ ڈی جے اسکرین کو دیکهتی لیپ ٹیپ کی کنجیوں پہ انگلیاں چلا رہی تهی۔
ہوں!.”
وہی شادی شدہ؟”
ہاں!”اس کے لبوں پہ دبی دبی سے مسکراہٹ درآئی۔
اچها!” ڈی جے مایوسی سے خاموش هو گئی۔
حیا زیر لب وہی دهن گنگنانے لگی۔
بکو مت۔ مجهے اسائنمنٹ بنانے دو۔
کچھ دیر بعد ڈی جے جهنجلا کر بو لی۔ مگر وہ مسکراتے ہوئے گنگنائے جا رہ تھا۔
دروازہ کهلا تها۔ اس نے دهکیلا تو وہ ایک ناگوار مگر آہستہ آواز کے ساتھ کهلتا چلا گیا۔
سامنے لاؤنج میں ابتری پهیلی ہوئی تهی۔ چھوٹا سا کچن بهی ساتھ ہی تها۔ جس میں اس کی بیوی کام کرتی ہوئی دیکهائی دے رہی تهی۔
ہاشم قدم قدم چلتا کچن کے دروازے پہ آ کھڑا ہوا۔ اس کی بیوی اس کے سامنے جانب پشت کیے چولہا جلا رہی تهی۔ وہ بهی اس کی طرح تهی۔ دراز قد، گهنگریالے سیاہ بال اور اہل حبشہ کی سی مخصوص موٹی سیاه آنکھیں۔
ڈاکٹر کیا کہتا ہے؟”
وہ چونک کر پلٹی۔ پهر اسے دیکھ کر گہری سانس لی اور واپس چولہے کی طرف مڑ گئی۔
سرجری ہو گی، اور اس کے لیے بہت سے پیسے چاہئیں۔
وہ خاموشی سے کھڑا سنتا رہا۔
پیسوں کا انتطام ہوا؟ وہ کپڑے سے ہاتھ پونچهتی ہاشم تک آئی اور پریشانی سے اس کا چہرا دیکها۔
نہیں! ہاشم نے گردن دائیں سے بائیں ہلائی۔
تو اب کیا ہو گا؟ ہمیں انہی چند ہفتوں میں ہزاروں لیراز جمع کرنے ہیں۔ تم نے پاشا سے بات کی؟”
کی تھی۔
تو کیا کہتا ہے وہ؟ وہ بےقرار ہوئی۔
نہیں دے گا۔ جو کم میں کر رہا ہوں، بس اس کی قیمت دے گا۔ اوپر ایک کرش kurush بھی نہیں۔
کیوں؟ اتنا تو پیسہ ہے اس کے پاس۔ پورا محل تو کھڑا کر رکھا ہے بیوک ادا میں، پھر ہمیں کیوں نہیں دےگا؟
وہ کہتا ہے اس نے کوئی خیراتی ادارہ نہیں کھول رکھا اور پھر مزید کس کھاتے میں دے؟ میں نے ابھی تک اس کی پچھلی رقم نہیں لوٹائی۔
ہاں تو وہ حارث کے علاج پہ لگ گئےتھے، کوئی جوا تو نہیں کھیلتے ہم۔ اس نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا کپڑا میز پر دےمارا۔
وہ نہیں دے گا، میں کیا کروں؟ وہ بےحد مایوس تھا۔
مجھے نہیں پتا ہاشم! کہیں سے بهی ہو، تم پیسوں کا بندوبست کرو، ورنہ حارث مر جائے گا۔
ہاشم نے بےچارگی اور کرب سے سر جھٹکا۔
ہاشم! کچھ کرو۔ ہمارے پاس دن بہت کم ره گئے ہیں۔ ہمیں پیسے چاہئیں ہر حال میں۔
کرتا هوں کچھ۔ وہ جس شکستگی کے عالم میں آیا تها، اسی طرح واپس لوٹ گیا۔ اس کی سیاه پیشانی پہ تفکر کی لکیروں کا جال بچھا ہوا تها اور چال میں مایوسی واضح تهی۔
وہ مضطرب سی انگلیاں مروڑتی کھڑی اسے جاتے دیکھتی رہی، پهر ایک نظر بند کمرے کے دروازے پہ ڈالی جہاں ان کا بیٹا سو رہا تها اور جهٹک کر واپس سنک کی طرف پلٹ گئی، جہاں بہت سے کام اس کے منتظر تهے۔
•••••••••••••••••••••••••
ڈی جے نے دروازہ کهولا تو وہ اسے آئینے کے سامنے کهڑی دکهائی دی۔ وہ دروازہ بند کر کے آگے آئی اور حیا کے سامنے کھڑے ہو کر پوری فرصت سے اور بہت مشکوک نگاہوں سے اسے دیکها۔
اس کے ہاتھ میں مسکارا برش تها اور وہ آئینے میں دیکهتی، آنکھیں کهولے احتیاط سے پلکوں سے برش مس کر رہی تهی۔ گہرا کاجل، سیاہ سنہری سا آئی شیڈ اور لبوں پہ جمکتی گلابی لپ اسٹک وہ بہت محنت سے تیار هو رہی تهی۔ بال یوں سیٹ کر رکهے تهے کہ اوپر سے سیدهے آتے بال کانوں کے نیچے سے مڑ کر گهنگریالے هو جاتے تهے۔ بالوں پہ اس نے کچھ لگا رکها تها کہ وہ گیلے گیلے سے لگتے تهےاور جو فراک اس نے پہن رکها تها، اس کی پیٹی قدیم طرز کے سنہری سکوں سی بهری تهی۔ آستین بہت چھوٹی تھیں اور ان پر بهی سنہری سکے لٹک رہے تهے۔ نیچے لمبے فراک کی کلیاں سیاہ تھیں۔ ٹخنوں سے ذرا سا جهلکتا پاجاما بهی سیاه تها۔
کدهر کی تیاریاں ہیں؟ ڈی جے نے اسے سر سے پیر تک دیکها۔
ڈنر کی! اس نے لپ گلوس کے چند قطرے لبوں پہ لگائے اور آئینے میں دیکهتے ہوئے ہونٹ آپس میں مس کرکے کهولے۔
کس کے ساتھ؟
جہان کے ساتھ! بے ساختہ لبوں سے پھسلا، لمحے بھر کو وہ چپ ہو گئی، پھر لاپرواہی سے شانے اچکائے۔ ویسے وہ شادی شدہ ہے۔
اچھا! وہ دو گھنٹے سردی میں بالکونی میں کھڑا رہتا ہے، چولہے کے تاروں میں ہاتھ ڈال کر اسے ٹھیک کرتا ہے، سارا کچن صاف کر کے جاتا ہے، پھر تمہیں ڈنر پہ بلاتا ہے اور تم اس ساری تیاری کے ساتھ جا رہی ہو۔ پھر سوچ لو، وہ اب بھی شادی شدہ ہے؟
بکو مت! وہ ہنستے ہوئے کرسی پہ بیٹھی اور جھک کر اپنی سیاہ ہائی ہیلز پہننے لگی۔
نہ بتاؤ، میں بھی پتا لگا کر رہوں گی۔ ڈی جے منہ پہ ہاتھ پھیرتی اپنی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
حیا نے گنگناتے ہوئے میز پہ رکھا اپنا چھوٹا سنہری کلچ اٹھایا۔ وہی داور بھائی کی مہندی والا کلچ، جو اس نے جہاز میں بھی اٹھا رکھا تھا۔ اسے وہ زیادہ استعمال نہیں کرتی تھی، اب بھی کھولا تو اندر ایک تہہ کیا ہوا وزیٹنگ کارڈ اور اتصلات کا کالنگ کارڈ بھی رکھا تھا جو انہوں نے ابوظہبی میں خریدا تھا۔ اس نے موبائل، پیسے اور سبانجی کا آئی ڈی کارڈ اندر رکھا۔ کلچ چھوٹا تھا، ہالے کا دیا گیا موٹا، بھدا موبائل اس میں پورا نہیں آ رہا تھا، تو اس نے موبائل ہاتھ میں پکڑ لیا اور ”اچھا میں چلی“ کہہ کر ہینگر پہ لٹکا اپنا سفید نرم کوٹ ایک ہاتھ سے کھینچ کر اتارا اور باہر لپکی۔
باریک لمبی ہیل سے پتھریلی سڑک پر چلتے ہوئے اس نے کوٹ سیدھا کیا اور پہنا، پھر چلتے چلتے سامنے سے بٹن بند کیے۔ گورسل کا سٹاپ ذرا دور تھا۔ اسے وہاں تک پیدل جانا تھا۔ وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، سر جھکائے تیز تیز سڑک پر چلتی جا رہی تھی۔ شام کی ٹھنڈی ہوا سے اس کے گیلے گھنگھریالے بال کمر پہ اڑ رہے تھے۔
جس لمحے وہ گورسل اسٹاپ کے قریب پہنچی، اسے گورسل دور سبانجی کے گیٹ سے باہر نکلتی دکھائی دی۔
ہالے نے کہا تھا، جس دن تمہاری گورسل چھوٹے گی اس دن ہالے نور تمہیں بہت یاد آئے گی۔ اور اس پل بے بسی اور دکھ سے اس دور جاتی گورسل کو دیکھ کر اسے واقعی ہالے نور بہت یاد آئی تھی۔
اس نے جیب سے موبائل نکالا اور جہان سکندر کو پیغام لکھا۔
میری گورسل چھوٹ گئی ہے، مجھے پک کر لو، میں اسٹاپ پہ کھڑی ہوں۔
وہ کتنی ہی دیر وہاں سڑک پہ ٹہلتی رہی، مگر اس کا جواب نہیں آیا، شاید اس غریب کے پاس جواب دینے کا بھی کریڈٹ نہیں تھا۔
ہارن کی آواز پر وہ اپنے حال میں لوٹ آئی جہاں ایک سیاہ چمکتی اس کے عین سامنے کھڑی تھی۔
ڈرائیور نے بٹن دبا کر اپنی طرف کا شیشہ نیچے کیا اور ذرا سا چہرہ موڑ کر اسے مخاطب کیا۔
مادام سلیمان؟ ٹاقسم اسکوائر، جہان سکندر۔ ترک لب و لہجے میں ڈرائیور نے چند الفاظ ادا کیے تو اس نے سر ہلا دیا اور دروازہ کھول کر پچھلی نشست پر بیٹھ گئی۔ وہ یقینا جہان کا ڈرائیور تھا، گو کہ اس نے مفلر چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا اور سر پر ٹوپی بھی لے رکھی تھی۔ حیا بس اس کی ایک جھلک ہی دیکھ پائی تھی، پھر بھی اسے گمان گزرا کہ اس نے اس سیاہ فام حبشی کو کہیں دیکھ رکھا ہے۔ کہاں، یہ سوچنے کا عقت نہیں تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے جہان کو
”بہت شکریہ۔ میں پہنچ رہی ہوں۔“ لکهنے لگی۔
ذرا کی ذرا اس نےنگاه اٹها کر بیک ویومرر میں ایک دو بار دیکها بهی۔ مگر ڈرائیور نے اسے کچھ یوں سیٹ کر رکها تها کہ وہ صرف اپنا چہرا دیکھ سکتی تهی۔
ٹاقسم سکوائر پہ تاریکی کے پنچهی نے اپنے پر پهیلا رکهے تهےاور اسی مناسبت سے ہر سو بتیاں جگمگا رہی تھیں۔ پورا اسکوائر ان مصنوعی روشنیوں سے چمک رہا تها۔ مجسمہ آزادی کے اطراف سے مخالف سمتوں میں سڑکیں نکل رہی تھیں۔ وہاں ہر سو ٹریفک کا رش تها۔
مجسمہ آزادی کو چاروں اطراف سے گهاس کے ایک گول قطعہ اراضی نے گهیر رکها تها، جیسے کسی پهول کی چار پتیاں ہوں اور ہر پتی کے کناروں کی لکیر پہ پتهریلی روش بنی ہوئی تهی۔ وہاں لوگوں کی خوب چہل پہل تهی۔
ڈرائیور نے اسکوائر کے مقابل ایک عمارت کی بیرونی دیوار کے ساتھ گاڑی کهڑی کر دی۔
جہان سکندر!” اس نے انگلی سے اسی دیوار کے ساتھ ساتھ دور اشارہ کیا، جہاں جہان سکندر کی سفید کار کهڑی تهی یوں کہ وہ دیوار کے اس کنارے پہ تهی تو یہ سیاه کار اس کنارے پر۔
اس نے دروازہ کهولا اور باریک ہیل احتیاط سے باہر سڑک پہ رکهی۔ ٹاقسم سکوائر کو اس کی ہیلز پسند نہیں تھیں، اسے اندازہ تها۔
وہ اپنی گاڑی کے ساتھ ہی کھڑا تها۔ یبونٹ کهول کر وہ جهکے ہوئے، کچھ تاریں جوڑ رہا تها۔ سیاه جیکٹ اور جینز میں ملبوس، ہمیشہ کی طرح عام سے حلیے میں۔
وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سہج سہج کر چلتی اس تک آئی۔ وہ کچھ گنگناتے ہوئےایک تار کو دوسری کے ساتھ جوڑ رہا تها۔ہیل کی ٹک ٹک پہ رکا اور گردن گهما کر دیکها۔
سلام علیکم! اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئےسیدها ہوا۔
وعلیکم السلام ! اس تاریک کونے میں کیا کر رہے ہو؟
میری کار ہر خاص موقع پر دغا دے جاتی ہے، اب بهی مسئلہ کر رہی ہے، خیر میں فکس کر لوں گا۔ وہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے لاپروائی سے بولا۔
وہ تو تم کر لو گے، مجهے پتا ہے۔ جہان سکندر کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔ وہ دهیرے سے ہنسی۔
تم بتاؤ! پورے اسکوائر پہ مجهے تلاشتے تمہیں کتنی دیر لگی؟ اور بس پہ آئی ہو؟
نہیں، تمہاری بهیجی گئی شوفر ڈرون کار میں آئی ہوں ۔
وہ دهیرے سے ہنس دیا۔
یہ طنز کہاں سے سیکھ لیے ہیں تم نے؟ میں اتنا غریب بهی نہیں ہوں کہ تم یوں مزاق اڑاؤ۔ وہ ہنس کر سر جھٹکتا اب یونٹ بند کر رہا تها۔
حیا نے گردن پهیر کر پیچھے دیکها۔ طویل دیوار کے اس سرے پہ وہ سیاه کار اسی طرح کهڑی تهی۔
“تمہیں میرا میسج نہیں ملا تھا؟” وه قدرے بے چینی سے بولی۔
“میسج؟” جہان نے جیب تهپتهپائی۔ “میرا موبائل کہاں گیا؟ “اس نے دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا اسمارٹ فون نکالا۔ پهر اس کی اسکرین کو انگلی سے چهوا۔
“نهیں!” اس نے اسکرین حیا کے چہرے کے سامنے کی۔ وہاں انباکس کهلا تها اور حیا کا کوئی پیغام نہ تها۔ حیا نے بے اختیار اپنے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکها۔ اس پر پیغام رکنے کا نشان نظر آرہا تها۔ اس نے جلدی سے بٹن دباتے ہوۓ آؤٹ باکس کھولا۔ اس کے دونوں پیغام وہیں رکے تهے۔ “اوه! بیلنس ختم تها، تو ظاهر ہے پھر میسج کیسے جاتا؟
“کوئی خاص بات تهی کیا؟” وه کار کو لاک لگا رها تها۔
“تم نے مجهے اس پارکنگ ایریا میں ڈنر کرانا ہے یا کسی مہذب جگه پر؟” وه بات بدل گئی اور کنکھیوں سے اس نے اس لش پش چمکتی سیاہ کار کو دیکها، جو دور کهڑی تهی۔ اسے کس نے بهیجا، وه کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تهی۔
“اگر یه کار میرا اتنا وقت ضائع نه کراتی تو میں اب تک کسی ریسٹورنٹ میں جگه ڈهونڈ چکا ہوتا۔ لیکن اب بهی دیر نہیں ہوئی۔” دونوں ساتھ ساتھ سڑک کے کنارے چلتے رہے۔
استقلال اسٹریٹ نامی وه طویل گلی ٹاقسم اسکوائر کے ساتھ سے ہیی نکلتی تهی۔ وه ہفتے کی رات تهی، سو استقلال اسٹریٹ روشنیوں میں نہائی, رنگوں اور قمقموں سے سجی، رونق کیے عروج پر تهی۔ وہاں لوگ ہمیشه کی طرح دونوں اطراف میں تیز تیز چلتے جا رہے تهے۔ گلی کی دونوں جانب چمکتے شیشوں والی شاپس اور ریسٹورنٹس میں خاصا رش تها۔
وه آغاز میں ہی دائیں ہاتھ کی قطار میں بنے ریسٹورنٹ میں چلے آۓ۔
زرد روشنیوں سے مزین چهت اور جگمگاتے فانوس نے ریسٹورنٹ کے ماحول کو ایک خواب ناک سا تاثر دے رکها تها۔ اس کونے والی خالی میز کے ساتھ رکھے اسٹینڈ پہ حیا نے اپنا کوٹ لٹکایا اور کرسی کهینچ کر جهہان کے مقابل بیٹھی۔ زرد روشنیوں میں اس کے فراک کے سنہری سکے چمکنے لگے تهے۔ اس نے دائیں بازو میں سنہری کڑا پہن رکها تها اور اب وه کہنی میز پر رکھ کر بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے کڑے کو گهما رہی تهی۔ سنہری کلچ اور موبائل اس نے میز پر رکھ دیا تها۔
“آرڈر میں کروں یا تم؟”
“دعوت تمہاری طرف سے ہے، سو تم کرو۔” اس نے ذرا سے شانے اچکاۓ۔ جہان نے مسکرا کر سر کو خم دیا اور مینیو کارڈ اٹها کر انہماک سے پڑهنے لگا۔ اپنی عادت کے مطابق وه پڑھتے ہوۓ نچلے لب کو دانت سے دباۓ ہوۓ تها۔
حیا نے قدرے بےچینی سے پہلو بدلا۔ استقلال جدیسی میں کتنے ہی لوگوں نے مڑ مڑ کر اس یونانی دیویوں کے سے سنگار والی لڑکی کو ستائش سے دیکها تها، مگر یه عجیب شخص تها۔ کوئی تعریف نہیں, کوئی اظہار نہیں, اتنی لاتعلقی و بے خبری، وه بهی اس شخص کی جو ایک نظر میں سارے منظر کا باریک بینی سے جائزہ لے لیا کرتا تھا؟
اسے اپنی ساری تیاری رائیگاں جاتی محسوس ہوئی تھی۔
آرڈر کر چکنے کے بعد وہ میز پہ کہنیاں رکھے، دونوں ہاتھ آپس میں پھنسائے حیا کی طرف متوجہ ہوا اور ذرا سا مسکرایا۔
تم نے مجھ سے اس روز پوچھا ہی نہیں کہ میں تمہارے ڈروم بلاک کیوں آیا تھا؟
وہ مسکراتے ہوئے کتنا اچھا لگتا تھا۔ اس کے ہلکے سے بھورے شیڈ لیے سیاہ بال نو عمر لڑکوں کی طرح ماتھے پہ سیدھے کٹے ہوئے تھے اور عموما وہ ہلکے ہلکے گیلے ہوتے تھے۔ پرکشش آنکھوں میں ایک نرم دھیما سا تاثر لیے، وہ اب اتنا کم گو اور محتاط نہیں لگتا تھا جتنا پہلے دن لگا تھا۔
ظاہر ہے، کسی کام سے ہی آئے ہو گے۔ مجھ سے ملنے باخصوص آؤ، یہ تو ذرا مشکل ہی ہے۔
تم سے ملنے بالخصوص ہی آیا تھا اور اس کے لیے ممی کو پاکستان فون کر کے فاطمہ آنٹی سے تمہارے ڈروم کا نمبر پوچھنا پڑا تھا، ورنہ تم نے ہمیں ایڈریس تک نہیں دے رکھا۔
اور یہ بات تو اماں نے اسے کل ہی فون پہ بتا دی تھی مگر لمحے بھر کو اس نے سوچا کہ ڈھونڈنے والے تو بنا پتے کے بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، جیسے وہ سفید گلاب ہر جگہ اسے تلاش کر لیتے تھے۔
تو پھر آپ کیوں آئے تھے مجھ سے ملنے؟
بس یونہی۔ مجھے لگا تھا کہ تم اس روز استقلال اسٹریٹ میں مجھ سے خفا ہو گئی تھیں۔
اچھا تو آپ نے مجھے اس دن پہچان لیا تھا، ہو سکتا ہے وہ میری شکل کی کوئی لڑکی ہو؟ وہ بہت جلدی بھلا دینے والوں میں سے نہیں تھی۔، سو بڑی حیرت سے کڑے کو انگلیوں میں گھماتی بولی تھی۔
ایک بات ابھی کلیئر کر لیتے ہیں حیا! وہ قدرے آگے کو ہوتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔ میں بہت ایکسپریسو نہیں ہوں، میں لمبی لمبی باتیں نہیں کر سکتا۔ میں پریکٹکل سا آدمی ہوں، ایسا آدمی جس کو فکر معاش ہمیشہ گھیرے رکھتی ہے۔ میرے پاس بڑی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے، میں ایک ریسٹورنٹ چلاتا ہوں، جس کی مکلیت میری اپنی نہیں ہے، میں کئی سالوں سے اس ریسٹورنٹ کی قسطیں ادا کر رہا ہوں جو کہ پوری ہی نہیں ہو رہیں۔ یہ چیز مجھے بہت پریشان رکھتی ہے۔ وہ کرد لڑکی جو اس دن میرے ساتھ تھی، وہ میرے ریسٹورنٹ کی عمارت کی اونر ہے اور ہمارے درمیان اس وقت یہی مسئلہ زیربحث تھا، جب تم وہاں آئیں۔ حیا! اس دن میں اتنا پریشان تھا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔ وہ میری پراپرٹی ضبط کرنے کی بات کر رہی تھی اور اگر میں اس کی رقم ادا نہ کر پایا تو وہ ایسا کر بھی گزرے گی۔ اسی پریشانی میں میں تمہارے ساتھ مس بی ہیو کر گیا۔ آئی ایم سوری فار ڈیٹ۔ مگر اپنی تمام پریشانیوں میں بھی مجھے اپنے سے جڑے رشتوں کا احساس ہے، اور میں ان کی پرواہ کرتا ہوں۔
حیا نے مجھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب بھی خفا ہو اس بات پہ؟ وہ قدرے توقف سے بولا۔
“نہیں، میں نے تمہیں تب ہی معاف کر دیا تها جب تم نے کچن کے سارے برتن دهوۓ تهے اور چولها فکس کر کے دیا تها۔”
وه بےاختیار ہنس پڑا۔
“مگر وه جنجر بڑیڈ ہاؤس مجھ پر ادهار ہے۔
اس سے پہلے کہ وه کچھ کہتی ویٹر اس کی طرف آیا تها۔
“میڈم سلیمان؟”
حیا نے چہرا اٹها کر دیکها اور لمحے بهر کو پتهر کی ہو گئی۔
ویٹر ایک سفید گلابوں کا بکے میز پر رکھ رہا تها۔
“یہ آپ کے لیے۔” ساتھ ہی اس نے دو رویہ تہہ کیا ہوا کاغذ حیا کی طرف بڑهایا۔
“لیجیۓ مادام۔” حیا جو ساکت نگاہوں سے گلدستے کو دیکھ رہی تهی, چونکی اور مضطرب سے انداز میں وه کاغذ تهاما۔ اس کے قدموں سے جان نکل چکی تھی۔ مؤدب سا ویٹر واپس پلٹ گیا۔ اس نے کپکپاتی انگلیوں سے کاغذ کی تہیں کهولیں۔
بے سطر کاغذ کے عین وسط میں انگریزی میں تین سطور لکهی تهیں۔
“میری کار میں سفر کر کے آنے کا شکریہ، لیکن اصولا مجھ سے لفٹ لینے کے بعد آپ کو ڈنر بهی میرے ساتھ کرنا چاہیۓ تها، نا کہ اپنے کزن کے ساتھ۔”
“فرام یور ویلنٹائین۔”
جہان گلاس ہونٹوں کے ساتھ لگاۓ گهونٹ گھونٹ پانی پیتا پلکیں سکیڑے اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تها۔
“کون بهیجتا ہے تمهیں یہ سفید پهول؟” وه خاصے سرد لہجے میں بولا تو حیا نے چونک کر سر اٹهایا۔
چند لمحے بیشتر کی گرم جوشی جہان کی آنکهوں میں مفقود تهی۔ اس کے چہرے پر زمانوں کے اجنبیت اور رکهائی چهائی تهی۔
“پپ…۔۔۔۔ پتا نہیں۔”
“اور اسے کیسے علم ہوا کہ ہم ریسٹورنٹ میں ہیں؟”
اسکا لہجہ چبهتا ہوا تها۔
وه خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکهے گئی۔ کوئی جواب بن ہی نہیں پا رہا تها۔
“دکهاؤ!” اس نے ہاتھ بڑهایا اور اب حیا کے پاس کوئی راستہ نہیں تها۔ اس نے کمزور ہاتهوں سے وه کاغذ جہان کے ہاتھ پر رکها۔
جیسے جیسے وه تحریر پڑهتا گیا،اسکی پیشانی پہ شکنیں ابهرتی گئیں۔ رگیں تن گئیں اور لب بهینچ گئے۔
“تم کس کی گاڑی میں ٹاقسم آئی ہو؟” اس نے نگاه اٹها کر حیا کو دیکها اور وه ایک نگاه میں سمجھ گئی تهی کہ وه ایک مشرقی مرد تها۔ تایا فرقان، ابا اور روحیل کی طرح کا مشرقی مرد۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: