Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 14

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 14

–**–**–

وہ…….. میں سمجهی وہ تمہاری کار اور ڈرائیور ہے۔ میں سمجهی تم نے ڈرائیور بهیجا ہے۔
“میرا ڈرائیور؟ کب دیکھا تم نے میرے پاس ڈرائیور؟اس نے تنفر سے کاغذ کو مٹھی میں مروڑ دیا۔
“میں سمجهی، اور اس نے کہا، تمہارا نام لیا تو۔۔۔۔۔۔۔
اس نے یہ کہا کہ اس کو میں نے اسے بهیجا ہے؟ اس نے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔”
یعنی کہ نہیں۔ اس نے نہیں بتایا کہ اسے کس نے بهیجا ہے اور تم اس کے ساتھ بیٹھ گئیں؟ حیا! تم یوں کسی کی گاڑی میں بهی بیٹھ سکتی ہو؟
میں نے کہا نا، میں سمجهی تمہاری کار تهی۔ بے بسی کے مارے اب اسے غصہ آنے لگا تها۔ بے قصور ہوتے ہوئے بهی اسے اپنا آپ مجرم لگ رہا تها۔
میرے پاس تم نے دوسری کار کب دیکهی؟ تم۔۔۔۔۔۔۔
اگر تمہیں مجھ پر اتنی بے اعتباری ہے تو میں لعنت بهیجتی ہوں تم پر۔ اس نے نیپکن نوچ پهینکا اور کرسی دهکیل کر اٹهی۔ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے، وہ مجھ سے پوچھ کر نہیں کرتا، نہ اس میں میرا کوئی قصور ہے۔ اگر تم مجهے اتنا ہی برا سمجهتے ہو تو ٹهیک ہے، یہاں اکیلے بیٹهو، اکیلے کهاؤ اور اکیلے رہو۔
اس نے کلچ یوں ہاتھ مار کر اٹھایا کہ کرسٹل کا گلدان میز سے لڑهک کے نیچے جا گرا۔ چهناکے کی آواز آئی اور وه کرچیوں میں بٹ گیا۔
جہان شاید اس کے لیے تیار نہیں تها، مگر وہ اس کے تاثرات دیکهنے کہ لیے رکی نہیں۔ وہ تیزی سے میز کی ایک طرف سے نکلی، اسٹینڈ پہ لٹکا کوٹ کالر سے پکڑ کر کهینچا اور تیز تیز چلتی ہوئی باہر نکل گئی۔
اگر وہ اس کے پیچهے آنا بهی چاہتا، تو ابھی جو نقصان وہ کر کے گئی تهی، اسے پورا کر کے ہی آتا اور اس کاروائی میں اسے جتنے منٹ لگتے، اتنی دیر میں وہ اس سے دور جا چکی ہو گی۔
استقلال اسٹریٹ میں لوگ اسی طرح چل رہے تهے۔ وہ اس رش کے درمیان ہی میں کہیں تهی۔ اس نے کوٹ نہیں پہنا، بازو پہ ڈال دیا اور دونوں بازو سینے پہ لپٹے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی چلی جا رہی تهی۔ آنسو متواتر اس کی آنکھوں سے گر رہے تهے۔
وه اس کے پیچهے نہیں آیا، اور اگر آیا بهی تو اس شور اور رش میں نہ اسے دیکھ پائی، نہ ہی اس کی آواز سن پائی۔ بس اسی طرح چلتی رہی۔ استقلال اسٹریٹ کا آخری کنارہ مڑ کر وہ ٹاقسم اسکوائر میں داخل ہوئی اور بالکل سیدھ میں چلتی ہوئی ٹاقسم پارک کی طرف بڑھ گئی۔
تاریک پارک کے ایک گوشے میں وہ سنگی بینچ ویران پڑا تها۔ وہ گرنے کے سے انداز میں اس پہ بیٹھی اور چہرا دونوں ہاتھوں میں چهپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
انا، خوداری، عزت نفس اور اپنی ذات کے وقار کے وہ سارے اسباق جو وہ ہمیشہ خود کو پڑهاتی اور یاد دلاتی رہی تهی، آج بہت ذلت کے ساتھ چکنا چور ہوئے تهے۔ وہ شخص کب اس کو یوں ذلیل نہیں کرتا تها، یوں بے مول، بے وقعت نہیں کرتا تها، اسے ایک موقع بهی یاد نہ آیا۔ ہمیشہ، ہر دفعہ وہ یہی کرتا تها، یا پهر ایسا ہو جاتا تها۔ آخرکب تک یوں چلے گا؟ بہت گرا لیا اس نے خود کو، بہت جهکا لیا، بہت بے مول کر لیا، اب وہ مزید نہیں جهکے گی۔ اب اسے جهکنا پڑے گا، بس آج یہ طے ہو گیا۔
اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے سوچا، پهر ارگرد پهیلی رات کو دیکها تو واپسی کا خیال آیا اس نے گود میں رکها سنہری کلچ کھولا تاکہ موبائل نکال سکے، مگر……… اوہ، موبائل تو اس میں پورا ہی نہیں آتا تها، وہ تو اس میز پہ رکها تها اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوٹ اٹھائے باہر بهاگی۔ اپنا ترکی والا بهدا موبائل وہ ریسٹورنٹ میں چھوڑ آئی تهی۔ اسے ہر حالت میں موبائل واپس اٹھانا تها، چاہے جہان سے سامنا ہو یا نہ ہو۔ چند منٹ بعد وہ ہانپتی ہوئی واپس استقلال اسٹریٹ میں اس ریسٹورنٹ کا دروازہ دهکیل کر اندر داخل ہوئی تو کونے والی میز خالی تهی۔ وہ دوڑ کر اس میز تک گئی اور ادھر ادهر چیزیں اٹها اٹها کر موبائل تلاشا، مگر وہ کہیں نہیں تها۔ کرسٹل کے ٹوٹے گلدان کی کرچیاں بهی اب فرش سے اٹها لی گئی تهی۔
“پرابلم میڈم؟”
وہ آواز پہ پلٹی تو وہی باوردی ویٹر جس کی ناک پہ موٹا سا تل تها، متفکر سا کھڑا تها۔ وہ بوکے اسی نے لا کر دیا تھا۔
میرا موبائل تها اس میز پہ۔ وہ پریشانی سے گهنگریالی لٹیں کانوں کے پیچهے اڑستے ہوئے بولی اور میز پہ چیزیں پھر سے ادهر ادهر کرنے لگی۔
جی ہاں پڑا تھا مگر جب آپ گلدان گرا کر گئیں تو آپ کے ساتھ جو صاحب تھے، انہوں نے وہ موبائل رکھ لیا اور مجھے کہا تھا کہ اگر آپ آئیں تو میں بتا دوں کہ وہفون انہی کے پاس ہے۔ ویٹر نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا۔
اوہ اچھا۔ اس کےتنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ ملنےکا ایک اور بہانہ۔ وہ چلا گیا؟
جی! وہ بل پے کر کے فورا آپ کےپیچھے باہر دوڑے تھے۔ آپ کو نہیں ملے؟
نہیں۔ شکریہ! وہ پھولوں کے متعلق کچھ پوچھنے کا ارادہ ترک کر کے باہر نکل آئی۔ استقلال اسٹریٹ پہ قدم رکھتے ہوئے اس نے کوٹ پہن لیا۔ اب اسے کافی دیر تک ٹاقسم اسکوائر پہ گورسل کے انتظار میں بیٹھنا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••
ڈی جے خاموشی سے موبائل کے بٹن دباتی نمبر ملا رہی تھی۔ بٹنوں کی ٹوں ٹوں نے ڈروم کی خاموشی میں ذرا سا ارتعاش پیدا کیا تھا۔ کال کا سبز بٹن دبانے سے پہلے اس نے نظر اٹھا کر اپنے مقابل بیٹھی حیا کو دیکھا جو پوری سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ تھی۔
مگر حیا میں اسےکہوں گی کیا؟
یہی کہ حیا کو اپنا موبائل چاہیے اور وہ اسے واپس کر دے۔
مگر وہ واپس کیسے کرے گا؟
“یہ اس کا مسئلہ ہے، تم کال ملاؤ۔” وہ جهنجهلا کر بولی۔
ڈی جے نے سر ہلا کر سبز بٹن دبایا، اسپیکر آن کر دیا اور فون اپنے لبوں کے قریب لے آئی۔
دوسری جانب طویل گهنٹیاں جا رہی تهیں۔ وه دونوں دم سادهے گهنٹیاں سنتی گئیں۔
“پتا نہیں، تمہارا موبائل کدهر پڑا ہو، اسی کے موبائل پر کر لیتے ہیں، شاید اس پہ وه اٹهاۓ ہی… ” تب ہی کال اٹها لی گئی۔
“ہیلو؟” وه جہان ہی تها ازلی مصروف انداز۔
“السلام علیکم! میں ڈی جے۔۔۔۔۔ خدیجه بول رہی ہوں۔”
“دس از جہان۔ خدیجه! ایسا ہے کہ یہ فون میرے پاس ہے، حیا ریسٹورنٹ میں بهول گئی تهی۔ وه مصروف سا لگ رہا تها۔ پیچهے بہت سے لوگوں کی بولنے کی آوازیں آرہی تهیں۔ شاید وه ریسٹورنٹ میں تها۔
“مجهے پتا ہے، اسی لیے تو کال کی ہے۔”
“اوکے!” وه گہری سانس لے کر بولا۔ “حیا کدهر ہے؟”
“وه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وه مصروف تهی تو میں نے سوچا، میں آپ سے بات کر لوں۔” بات کرتے ہوۓ ڈی جے نے ایک نظر حیا پہ ڈالی جو دم سادھے، کرسی کے کنارے پہ آگے ہو کر بیٹهی اسے دیکھ رہی تهی۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیۓ۔”
“بات یہ تھی کہ میں اور حیا کل پرنسز آئ لینڈز (شهزادوں کے جزیروں) جانے کا سوچ رہے تهے، ان فیکٹ ہم پرنسز آئی لینڈ کے سب سے بڑے جزیرے بیوک ادا Buyuk Ada جائیں گے۔”
حیا نے ناسمجهی سے الجھ کر اسے دیکها، پهر نفی میں سر ہلا کر روکا، مگر وه مزے سے کہے جا رہی تهی۔
“اوکے تو آپ کو فون چاہیۓ؟”
نہیں! فون آپ اپنے پاس رکهیں، عیش کریں، ہمیں بس کمپنی چاہیۓ”
“ڈی جے، ذلیل! وه بنا آواز کے لب ہلا کر چلائی اور ڈی جے کی کہنی مروڑی، مگر ڈی جے ہاتھ چهڑا کر اٹهی اور دروازے کے قریب جا کر کهڑی ہوئی۔
” کل؟کل تو میں ذرامصروف ہوں۔ آپ کے ساتھ نہیں چل سکوں گا”
“تو پرسوں صبح چلتے ہیں۔”
“شش۔۔۔۔۔ نہیں” وه ہاتھ سے اشارے کرتی اسے باز رکهنے کی کوشش کر رہی تهی۔
“پرسوں تو مجهے شہر سے باہر جانا ہے۔” وه کہہ رہا تها۔
“پهر جمعے کو؟”
“جمعے کو میری ایک اہم میٹنگ ہے اور بیوک ادا میں تو پورا دن لگ جاتا ہے۔”
“پهر تو آپ ہفتے کو بهی مصروف ہوں گے؟” ڈی جے نے مایوسی سے کہا تو دوسری جانب چند لمحے کی خاموشی چها گئی۔
“ان فیکٹ ہفتے کو میں واقعی فارغ ہوں۔ ٹهیک ہے، ہفتے کو میں آپ لوگوں کے ساتھ چل سکتا ہوں۔” وه جیسے بادل نخواستہ تیار ہوا تها۔
“بس پھر ٹهیک ہے، ہم صبح والی گورسل سے کدی کوئے کی بندرگاه پہ پہنچ جائیں گے۔ آپ بهی سات بجے سے پہلے پہلے ہمارا وہاں انتظار کیجیے گا۔ وہاں سے ہم پھر اکهٹے فیری میں سوار ہوں گے، ٹهیک؟”
ٹهیک میڈم!
“اور ہاں، تب تک آپ ہمارا فون استعمال کر سکتے ہیں۔”
“میں آپ کا احسان تا عمر یاد رکهوں گا۔” وه ذرا سا ہنس کر بولا۔
وه فون بند کر کے واپس آئی تو حیا خاموشی سے اسے گهور رہی تهی۔ ڈی جے واپس کرسی پہ بیٹهی اور بڑے لاپرواه انداز میں میز سے میگزین اٹها کر صفحے پلٹنے لگی۔
“کیا ضرورت تهی اسے ساتھ چلنے کا کہنے کی؟ ہم اکیلے بهی تو جا سکتے تهے۔”
“کیوں کے مجهے اس کے شادی شده ہونے میں بھی ابهی تک شک ہے۔” وه اب ایک صفحے پہ رک کر بغور کوئی تصویر دیکھ رہی تهی۔ “ویسے اس کی بیوی کہاں ہوتی ہے؟”
یہیں استنبول میں۔ وه بددلی سے پیچهے ہو کر بیٹھ گئی۔
“اس کی کیا اپنی بیوی سے کوئی لڑائی ہے؟ کبهی زکر نہیں کرتا اس کا۔”
“شاید۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی۔ ویسے بهی جہان کا نکاح بچپن میں ہی ہو گیا تها۔ اب پتا نہیں اسے خود اپنے نکاح کا علم ہے بھی یا نہیں کیونکہ وه کبهی زکر نہیں کرتا، شاید پهوپهو نے اس سے چهپا رکها ہو۔”
“بچوں والی باتیں کرتی ہو تم بهی۔” ڈی جے نے خفگی سے چہرا اٹها کر اسے دیکها۔ “آج کے دور میں کہاں ممکن ہے کہ کسی کا نکاح ہوا ہو اور اسے علم نہ ہو۔ یقینا اسے پتا ہو گا۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ نکاح اس کا جس سے بهی ہو، مگر تم اس کی اتنی کیئر کیوں کرتی ہو؟ ڈی جے پھر مسکراہٹ دبائے رسالے کی طرف متوجہ ہو گئی تهی۔
“کیوں کہ اس کا نکاح مجھ سے ہوا تها۔”وه آہستہ سے بولی تو ڈی جے نے ایک جھٹکے سے سر اٹهایا۔
“یعنی۔۔۔۔۔۔ یعنی اوہ گاڈ! تمهارا اس سے نکاح ہوا تها تو۔۔۔۔۔۔ تو وہ تمہارا کیا لگا؟”
“سوتیلا ماموں لگا۔” وه بگڑ کر بولی اور اپنے بینک کی طرف بڑھ گئی۔
اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے مجھے اتنی بڑی بات نہیں بتائی! ڈی جے ابھی تک بے یقین تھی۔
اب بتا تو دی ہے نا۔ اب جاؤ کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے اور میں آج کیمپس نہیں جاؤں گی۔ وہ اوپر اپنے بستر میں پھر سے لیٹ گئی اور کمبل منہ پر ڈال لیا۔
بہت ذلیل ہو تم حیا! اوہ گاڈ، وہ تمہارا ہیزبینڈ ہے۔۔۔۔۔۔ ڈی جے ابھی ٹھیک سے حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ گھڑی پر نگاہ پڑی۔
ارے آٹھ بج گئے۔ وہ میگزین پھینک کر اٹھی اور کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی۔ پھر سلائیڈ کھول کر، چہرہ باہر نکالے لبوں کے گرد دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنائے با آوز بلند چلائی۔
گڈ ما آ آ آ آرننگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے۔
نی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔ نے ے ے ےے۔۔۔۔۔۔۔ دور نیچے سے کسی لڑکے نے جوابی ہانک لگائی تھی۔
ذا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیل۔ وہ جل کر اور زور سے چلائی۔
چپ کرو، مجھے سونے دو۔ حیا نے تکیہ کھینچ کر اسے دے مارا، مگر وہ اسی کھڑکی کے پاس کھڑی صدائیں لگاتی رہی۔
•••••••••••••••••••••••••
وہ یونیورسٹی کی عمارت کی بیرونی سیڑھیاں اتر رہی تھی، جب اس کا موبائل بجا۔ وہ وہیں تیسری سیڑھی پہ رکی ، فائل اور کتابیں دوسرے ہاتھ میں منتقل کیں اور باری باری کوٹ کی دونوں جیبیں کھنگالیں، پھر اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چنگھاڑتا ہوا موبائل باہر نکالا۔
یہ اس کا پاکستانی سم والا فون تھا۔ دوسرا موبائل جہاں کے پاس ہونے کے باعث وہ آج کل اسے ہی استعمال کر رہی تھی۔
چمکتی اسکرین پہ ترکی کا کوئی غیر شناسا نمبر لکھا آ رہا تھا۔ نمبر کس کا تھا، اسے قطعا یاد نہ آیا۔ نمبر یاد رکھنے کے میں وہ بہت چور تھی۔ اسے اپنے پاکستانی نمبر تک کے آخری دو ہندسے بھولتے تھے اور ترکی والا تو خیر سرے سے یاد نہ تھا۔
ہیلو! وہ فون کان سے لگائے ہوئے وہیں سیڑھی پہ بیٹھ گئی۔ کندھے سے بیگ اتارکر ایک طرف رکھا
جہاں تیرا نقش قدم دیکهتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکهتے ہیں
آواز اجنبی تهی بهی اور نہیں بهی، مگر اس کا لوچ، اتار چڑهاؤ اور انداز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب شناسا تها۔ وہ لب بهینچ گئی۔
“عبدالرحمن بات کر رہا ہوں اور بات کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔” گو کہ وہ پڑها لکها لگتا تها مگر انداز سے کہیں نہ کہیں ممبئ کے کسی نچلے طبقے کے شہری کی جهلک آتی تهی۔
“کیا بات کرنی ہے آپ کو؟ آخر آپ مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟”
“ملنا چاہتا ہوں۔ بتائیے کیا یہ ممکن ہے؟”
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑگئی۔ ہتهیلیاں بے اختیار پسینے میں بهیگ گئیں۔
“میں نہیں مل سکتی۔”
“کیوں؟ جس فون کال میں آپ کی دوست نے آپ کے کزن کو اپنے ساتھ چلنے کی آفر کی تهی، اس میں غالبا” انہوں نے بیوک ادا کا ذکر کیا تها۔ پرنسز آئی لینڈز۔۔۔۔۔۔ شہزادوں کے جزیرے۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ ادهر نہیں آ رہیں؟”
تو وہ اس کی کالز ٹیپ کر رہا تها اور تب ہی اس نے پاکستان والے موبائل پہ کال کی تهی کیونکہ وہ ترکی والے فون کے جہان کی تحویل میں ہونے کے بارے میں جانتا تها۔
“میں بیوک ادا نہیں جا رہی۔ آئندہ آپ نہ تو میرا پیچها کریں گے، نہ ہی میری کالز ٹیپ کریں گے۔ ورنہ میں آپ کی جان لے لوں گی، سمجهے! ” اس نے جهلا کر فون کان سے ہٹایا اور سرخ بٹن زور سے دبایا۔ موبائل آف ہوگیا۔
وہ گہری سانس لے کر اٹھ کهڑی ہوئی۔ جانے کب یہ شخص اس کا پیچها چهوڑے گا۔
•••••••••••••••••••••••••••••
سمندر کی جهاگ بهری نیلی لہروں پر سے ہوا سرسراتے ہوئے گزر رہی تهی۔ وہ دونوں فیری کی بالکونی میں کهڑے سامنے سمندر دیکھ رہے تهے۔ جہان قدرے جهک کر ریلنگ پکڑے کهڑا تها اور حیا گردن سیدهی اٹهائے لب بهینچے سامنے افق پہ دیکھ رہی تهی۔
ڈی جے ابهی ابهی کمیرا لیے بالکونی کے دوسرے سرے تک گئی تهی، سو ان دونوں کے درمیان خاموشی چها گئی تهی۔
وہ جب سے کدی کوئے کی بندرگاہ پہ فیری میں سوار ہوئے تهے، تب سے آپس میں بات نہیں کر رہے تهے۔ فیری ویسے بهی کهچا کهچ بهرا تها۔ جگہ ڈهونڈنے میں ہی اتنا وقت صرف ہوگیا۔ فیری کی نچلی منزل جو چاروں طرف سے شیشوں سے بند تهی، پر جڑے تمام صوفے اور کرسیاں بهرے تهے، سو وہ بالائی منزل پہ آگئے جو اوپن ائیر تهی۔ کهلا سا وسیع احاطہ جہاں ہر طرف صوفے اور کرسیاں تهیں، مگر ایک نشست بهی خالی نہ تهی۔ ان کو بالآخر فیری کے کنارے پہ بنی تنگ سی بالکونی میں کهڑے ہونے کی جگہ ملی۔ وہ اتنی تنگ تهی کہ سمندر کی جانب رخ کر کے ایک وقت میں ایک بندہ ہی ریلنگ کے ساته کهڑا ہو سکتا تها۔ بالکونی کی گیلری لمبی تهی اور لوگوں کی ایک طویل قطار وہاں کهڑی تهی۔
وہ دونوں بالکل دائیں طرف کے کونے میں تهے۔ ہوا بے حد سرد تهی، پهر بهی جہان سیاہ سوئیٹر کی آستین کہنیوں تک موڑے ہوئے تها۔ مگر اسے بے حد سردی لگ رہی تهی کہ اس نے سیاہ لمبے اسکرٹ کے اوپر صرف سرمئی سوئیٹر ہی پہن رکها تها، سو اب سیاہ اسٹول کو سختی سے کندهوں کے گرد لپیٹ کر بازو سینے پہ بانده رکهے تهے۔
“گیومی سم سن شائن…. گیومی سم رین ….”
حیا کے بائیں جانب ریلنگ پکڑے انڈین لڑکیوں کا ایک گروپ کهڑا تها۔ وہ لڑکیاں بہت سی تهیں وہ کندهے سے کندها ملا کر کهڑی تهیں، اور ان کی قطار بالکونی کے دوسرے سرے تک جاتی تهی۔ وہ کسی اسٹڈی ٹور پہ استنبول آئی ہوئی تهیں اور اب چہرے کے گرد ہاتهوں کا پیالہ بنائے باآواز بلند لہک لہک کر گیت گا رہی تهی۔
“تم اس روز بغیر بتائے اٹھ کر چلی گئیں۔ تمہیں پتا ہے میں کتنی دیر استقلال اسٹریٹ میں تمہیں ڈهونڈتا رہا؟” وہ ریلنگ پہ جهکا سمندر کی لہروں کو دیکهتے ہوئے کہنے لگا۔
“تو نہ ڈهونڈتے۔” حیا نے بے نیازی سے شانے اچکائے۔ ہوا سے اس کے بال اڑ اڑ کر جہان کے کندهے کو چهو رہے تهے مگر وہ انہیں سمیٹنے کا تکلف بهی نہیں کر رہی تهی۔
“اتنا غصہ؟” جہان نے گردن موڑ کر حیرت سے اسے دیکها۔
وہ تنے ہوئے نقوش کے ساتھ سامنے دیکهتی رہی۔
“ایسا بهی کچھ نہیں کہا تها میں نے۔”
“اگر تمہیں خود شرمندگی نہیں ہے تو میں کیوں دلاؤں؟”
“میری جگہ کوئی بهی ہوتا تو وہ یہی پوچهتا۔”
“مجهے کسی اور سے کوئی سروکار نہیں ہے۔sea gulls کا ایک غول پر پهڑپهڑاتا ان کے سامنے سے گزرا تها۔ جہان سیدها ہوا اور ہاتھ میں پکڑی روٹی کا ٹکڑا توڑ کر فضا میں اچهالا۔ ایک بڑے سے sea gull (سمندری بگلے) نے فضا میں ہی غوطہ لگا کر اسے اپنی چونچ میں دبا لیا۔
وہ خاموشی سے پانی کی نیلی سطح کو دیکھتی رہی۔ پانی میں گلابی جیلی فش تیر رہی تھی ان کے سر پانی کے اندر ہی تھے مگر وہ اتنا شفاف تھا کہ وہ واضح دکھائی دیتی تھیں۔
کیا میرا اتنا بھی حق نہیں ہے حیا!حیا کہ میں پوچھ سکوں کہ وہ شحخص کیوں تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے؟
پوچھو، ضرور پوچھو، مگر اسی سے جا کر پوچھو۔
مگر میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟
میں بھی نہیں جانتی کہ وہ کون ہے۔
آج وہ جہان کے لیے وہی حیا سلیمان بن گئی تھی، جو وہ ہر ایک کے لیے تھی۔ خود کو جس شخص کے سامنے جھکا لیا تھا، اب اسی کے سامنے اٹھانا بھی تھا۔
جینے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ پل تو۔۔۔۔۔۔ جینے دو۔
وہ لڑکیاں لہک لہک کر گا رہی تھیں۔ ڈی جے بھی کہیں ان کے ساتھ تھی۔
اچھا آئی ایم سوری۔ وہ رخ موڑ کر اس کے بالکل مقابل آ کھڑا ہوا اورروٹی کا بچا ہوا ٹکڑا اس کی طرف بڑھایا۔
حیا نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ ذرا سا مسکرایا۔
ایک لمحہ لگا تھا اسے پگھلنے میں اور وہ پگھلی ہوئی موم کا ڈھیربن گئی۔ بہت دھیرے سے وہ مسکرا دی۔ خود سے کئے سارے وعدے بھول گئے۔
اوکے! اس نے روٹی کا ٹکڑا کھینچ کر توڑا اور اڑتے ہوئے بگلے کی سمت پھینکا۔ اس نے اسے فضا میں ہی پکڑ لیا۔
تمہارا ترکی بہت خوبصورت ہے جہان! مگر یہاں کے لوگ اچھے نہیں ہیں۔ اب وہ روٹی کے ٹکڑے کر کے فضا میں اچھال رہی تھی۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔ کیسے ہیں وہ؟
اکھڑ’ بد لحاظ’ بد تمیز’ بدتہذیب’ بے مروت’ الٹے دماغ کے لوگ ہیں یہاں کے۔
وہ کہتی گئی اور وہ بے اختیار ہنستا چلا گیا۔
اور پاکستان کے لوگ کیسے ہوتے ہیں حیا سلیمان! خوب ہنس کر وہ بولا تھا۔
کم از کم ترکوں سے تو بہتر ہوتے ہیں۔ اس نے روٹی کا آخری ٹکڑا بھی دور اچھال دیا۔
جہان ابھی تک ہنس رہا تھا۔
Give me some sunshine
Give me some rain………
Give me another chance
To grow up again………
لڑکیاں اسی طرح مگن سی گا رہی تھیں۔
••••••••••••••••••••••••••
وہ تینوں ساتھ ساتھ بیوک ادا کی اس بل کھاتی سڑک پر نیچے اتر رہے تھے۔ حیا ایک ہاتھ سے اسٹول اور دوسرے سے اڑتے بالوں کو سمیٹ کے پکڑے ہوئے چل رہی تھی۔
اسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ پرانے زمانوں میں واپس چلی گئی ہے۔ ایک قدیم جزیرے پےہ جو ساری دنیا سے الگ تھلگ سمندر کے درمیان واقع تھا۔ وہ صدیوں پرانے شہزادوں کے جزیرے تھے اور وہ خود کوئی امر ہوئی شہزادی تھی۔
شہزادوں کے جزیرے یا پرنسز آئی لینڈز Princes Islan (ترک میں ادالار۔۔۔۔۔۔۔ ادا یعنی جزیرے، اور لار یعنی شہزادوں کے) مرمرا کے سمندر میں قریب قریب واقع نو جزیروں کے گروہ کو کہا جاتا تھا۔ گئے وقتوں میں سلاطین اپنے تخت و تاج کے لیے خطرناک لگتے شہزادوں کو جلا وطن کر کے ان نو جزیروں پہ بھیجا کرتے تھے، جس سے اس کا نام پرنسز آئی لینڈز پڑ گیا۔ ”بیوک ادا” ان میں سب سے بڑا جزیرہ تھا۔ “بیوک یعنی بڑا اور “ادا یعنی جزیرہ۔ بیوک ادا دنیا کے ٹریفک، رش اور ہنگامے سے دور ایک پرسکون، چھوٹا سا جزیرہ تھا۔ وہاں گاڑیاں، بسیں اور دوسری آٹوز نہیں ہوتی تھیں۔ سفر کرنے کے لیے قدیم وقتوں کی طرح گھوڑا گاڑیاں اوربھگیاں تھیں یا پھر بائی سائیکل۔
ڈی جے اور جہان اس سے چند قدم آگے نکل گئے تھے اور وہ قدیم زمانوں کے رومانس میں کھوئی ذرا پیچھے رہ گئی تھی۔ وہ دونوں باتیں بھی کر رہے تھے۔ ان میں اب خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی۔ جہان اسے ریسٹورنٹس کے متعلق کچھ بتا رہا تھا۔
یہاں بہت زیادہ اقسام کے کباب ملتے ہیں، غالبا ڈیڑھ سو اقسام کے، اور یہ ریسٹوران یا تو سوپ فری دیتا ہے، یا اپیل ٹی۔
وہ بے توجہی سے ان کی باتیں سنتی قدم اٹھا رہی تھی۔
اس جگہ سڑک دونوں طرف سے ریسٹورینٹس میں گھری تھی۔ ان کے دروازے کھلے تھے اور سامنے برآمدے میں شیڈ تلے کرسیاں اور میزیں بھچی تھیں۔
سیاہوں کا ایک ہجوم ہر سو پھیلا تھا۔
سڑک کے وسط میں ایک جگہ مجمع سا لگا تھا۔ وہ تینوں بھی بے اختیار دیکھنے کے لیے رک گئے۔
سیاحوں کے درمیان گھری وہ ایک خوب صورت سی ترک بچی تھی۔ وہ گہرے جامنی بغیر آستین فراک میں ملبوس تھی، گھنگریالے بال کندھے پہ آگے کو ڈالے ہوئے تھے۔ وہ ریڈ کاریٹ پہ کھڑی کسی اداکارہ کی طرح کمر پہ ہاتھ رکھے ایک معصوم سا پوز بنائے کھڑی تھی اور ارد گرد دائرے میں کھڑے سیاح کھٹا کھٹ اپنے کیمروں میں اس کی تصویریں مقید کر رہے تھے۔
وہ ہر تصویر کہ بعد ذرا مختلف انداز میں کھڑی ہو جاتی ہو اور چہرے پہ معصومیت طاری کیے کبھی آنکھوں پٹپٹاتی، کبھی ٹھوری تلے ہاتھ رکھتی، کبھی مسکراتی، کبھی ناک سکوڑتی، شاید ایک دو سیاح اس کی تصویر بنانے رکے ہوں گے تو دیکھا دیکھی۔۔۔۔۔مجمع لگ گیا ہو گا۔
وہ اور ڈی جے بھی فوراً اپنے کیمرے نکال کر تصویریں بنانے کھڑی ہو گئیں۔ اس بچی کہ پوز اتنے پیارے تھے کہ تصویریں بنا بنا کر بھی ان کا دل نہیں بھر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حیا نے لمحے بھر کا توقف کرتے اپنا چہرہ اٹھایا تو دیکھا، جہان ساتھ ہی کھڑا لب بھینچے قدرے ناگواری سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
وہ شانے اچکا کر پھر سے سیاحوں کے جمگھٹے میں گھری بچی کی طرف متوجہ ہو گئی۔
یار! عمر دیکھو اس کی اور ایکشن کیسے مار رہی ہے۔ ڈی جے ہنستے ہوئے تصویریں کھینچ رہی تھی۔ دفعتاً مجمع کو چیر کر ایک لڑکی آگے بڑھتی دیکھائی دی۔اس نے لمبے اسکرٹ اور کھلے سویٹر کے اوپر بھورا سادہ اسکارف چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا۔ اس کی رنگت سنہری تھی اور آنکھیں بھوری سبز۔ وہ سولہ سترہ برس کی لگتی تھی۔ بائیں کہنی پر اس نے ایک ٹوکری ڈال رکھی تھی جس میں جنگلی پھول تھے۔
وہ ماتھے پہ تیوریاں لیے آگے بڑھی اور سختی سے اس بچی کا بازو پکڑا۔ بچی گھبرا کر پلٹی اور جیسے ہی اس لڑکی کو دیکھا، اس کے لبوں سے ہولے سے نکلا ”عائشے گل!“
جوابا وہ بھوری سبز آنکھوں والی لڑکی ترک میں غصے سے کچھ کہتی ہوئی اس کا بازو پکڑ کر مجمع میں سے راستہ بنا کر اس کو لے جانے لگی۔ وہ ترک میں جو کہہ رہی تھی، وہ ایسا تھا کہ سیاح فورا پیچھے ہٹنے لگے۔ ریڈ کارپٹ شو ختم ہو گیا تھا۔
بچی اب مزاحمت کرتی، چڑچڑے پن سے کچھ کہہ رہی تھی۔ وہ لڑکی جس کا نام شاید عائشے گل تھا۔مسلسل بولتی ہوئی اسے لے کر جا رہی تھی۔ اس کی بھوری آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور دکھ بھی اور شاید نمی بھی۔
حیا گردن موڑ کر ان کو جاتے دیکھتی رہی۔
آؤ! تمہیں اپنا بیوک ادا دیکھاتا ہوں۔ جہان کی آواز پہ وہ چونکی پھر خفیف سا سر جھٹک کہ اس کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
جہان نے ایک بگھی روک دی تھی۔ ڈی جے نے البتہ چار لیراز فی گھنٹہ کے حساب سے سائیکل کرائے پر لے لی تھی اور اب وہ اسی پہ سوار ہو رہی تھی۔ حیا بگھی کہ قریب آئی تو جہان نے ایک طرف ہو کر راستہ دیا۔
وہ شاہانہ سی بگھی اوپر سے کھلی تھی۔ آگے ایک گھوڑا جتا تھا، اس کے ساتھ بگھی بان لگام تھامے بیٹھا تھا۔ پیچھے خوب صورت سی دو افراد کے بیٹھنے کی نشست بنی تھی جس پہ سنہری نقش و نگار بنے تھے۔
وہ احتیاط سے اوپر چڑھی۔ مخملیں شاہی نشست نہایت گداز تھی۔ وہ دونوں ایک ساتھ ہی اس پہ بیٹھے۔
بگھی بان نےگھوڑے کو ذرا سی چابک لگائی تو وہ چل دیا۔ پتھریلی سڑ ک پہ اس کہ ٹاپوں کی آواز گونجنے لگی۔
تو پھر پاکستان کے اچھے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟
حیا نے گردن اس کی طرف پھیری۔ وہ ہاتھ میں پکڑے اسمارٹ فون پر نگاہیں جمائے پوچھ رہا تھا۔ وہ اسے کبھی بھی مکمل توجہ نہیں دے گا یہ تو طے تھا۔پاکستان اور پاکستان کے اچھے لوگ! حیا گہری سانس لے کر سامنے کو دیکھنےلگی۔
سڑک دو رویہ سبز درختوں کی قطار سے گھری تھی۔چند پیلے زرد پتے سڑک کے کناروں پہ بکھرے پڑے تھے۔ درختوں کی دونوں قطاروں کے درمیان بگھی سست روی سے آگے بھر رہی تھی۔
ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں، بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی، مگر اس سب کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادہ، بہت معصوم، بہت پیارے ہوتے ہیں۔
پھر وہ قدرے توقف سے بولی۔
کیا تم نے واقعی ابا سے پوچھا تھا کہ پاکستان میں ہر روز بم بلاسٹ ہوتے ہیں؟
میں نے؟ موبائل کی اسکرین کو انگلیوں میں پکڑے وہ ذرا سا چونکا، پھر زیرلب مسکرا دیا۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔ کیا نہیں ہوتے؟
ہوتے تو ہیں۔ ہماری انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے کیفے میں بھی بلاسٹ ہوا تھا۔ اس دن ہماری ایک فیئرویل پارٹی تھی اور ہم فرینڈز بلاسٹ سے دس منٹ پہلے کیفے سے نکلی تھیں۔ جب ہم دوبارہ آئے تو بہت برا منظر تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ خوں، ٹوٹا کانچ، جلی ہوئی دیواریں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے یاد کر کے جیسے جھرجھری لی۔
تو سیکیورٹی ادارے کیا کرتے ہیں؟
لگتا تو نہیں کہ کچھ کرتے ہیں؟ خیر! ترکی کے لوگ کیسے ہوتے ہیں؟
میں تو ایک غریب سا ریسٹورنٹ اونر ہوں۔ ورکنگ کلاس کا ایک مزدورصفت شخص، جس کو مصروفیت کے باعث کھومنے پھرنے کا وقت بھی نہیں ملتا اور باوجود اس کے کہ میرے گھر سے بیوک ادا قریبا دو گھنٹے کی مسافت پر ہو گا، میں تین سال بعد ادھر آیا ہوں۔
واقعی؟ اس نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔ جہان نے شانے اچکا دیے۔
وقت ہی نہیں ملتا۔ میں نے بچت کے لیے ریسٹورنٹ میں ورکرز کم سے کم رکھے ہوئے ہیں، سو اس لیے کام کا بوجھ بہت بڑھ جاتا ہے۔ وہ اسی طرح اسکرین کو دباتا مسلسل کام کر رہا تھا۔
بگھی سڑک کی ڈھلوان سے نیچے اتر رہی تھی۔ بل کھاتی سڑک لے دونوں اطراف بہت خوبصورت بنگلوں قطار یں تھیں۔ سڑک کے کنارے کتے ٹہلتے پھر رہے تھے۔
یہ تختہ کمزور ہے۔ دفعتا جہان نے اپنے جوگر سے نیچے موجود تختہ تھپتھپایا اور پھر جھکا۔
پلیز جہان! ساری دنیا کی ٹوٹی چیزیں تمہارا ہیڈ ک نہیں ہیں۔
اچھا! وہ جو جھک رہا تھا، قدرے خفگی سے سیدھا ہوا۔ وہ پھرسے موبائل پہ کچھ لکھنے لگا۔
فون رکھ بھی دو۔
مادام! آپ یہ مت بھولا کریں کہ آپ ایک غریب ورکر کے ساتھ ہیں جو اگر ایک دن کا آف لے گا تو سارے آرڈرز میں ہیر پھیر ہو جائے گی، سو اس بے چارے کو بہت سے کام یونہی آن دی موو بھگتانے پڑتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ان تمام محنتوں کے باوجود وہ اگلے دس سال تک بھی بیوک ادا کے ان بنگلوں جیسا آدھا بنگلہ بھی نہیں بنا سکتا۔
اس کے کہنے پہ حیا نے لاشعوری طور پر سڑک کے دونوں اطراف بنے بنگلوں پہ نگاہ ڈورائی اور ایک لمحے کو ٹھٹک کر رہ گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: