Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 15

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 15

–**–**–

دائیں طراف جہان کے اس جانب جس بنگلے کے سامنے سے بگھی گزر رہی تھی، وہ اتنا عالیشان اور خوب صورت تھا کہ نگاہ نہیں ٹکتی تھی۔
چار منزلہ، سفید اونچے ستونوں پہ وہ محل یوں شاہانہ انداز میں کھڑا تھا جیسے کوئی ببر شیر اپنے پنجوں پہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کے چھوٹے سے باغیچے کے آگے ایک لکڑی کا سفید گیٹ تھا۔
بگھی آ گے بڑھ گئی تو وہ گردن موڑ کر دیکھنے لگی۔سفید محل کے لکڑی کے گیٹ پہ نام کی ایک تختی لگی تھی۔ جس پہ قدیم لاطینی ہجوں کے انداز میں لکھا تھا۔
اے آر پاشا۔
اس کے دل کی دھڑکن لمے بھر کو رکی تھی۔ اس کے انداز پر جہان نے پلٹ کر اس گھر کو دیکھا تھا۔
اب کیا تم ابھی سے میری جیب کا مقابلہ ان بنگلو ں کے ساتھ کرنے لگی ہو؟
وہ چونکی، پھر اس گیٹ کو دیکھا جو اب دور ہوتا جا رہا تھا۔
نہیں تو۔ وہ سر جھٹک کر آگے دیکھنے لگی۔
پھر کتنی ہی گلیوں سے وہ خاموشی سے گزرے، یہاں تک کہ ایک جگہ جہان نے ترک میں کچھ کہہ کر کوچوان سے بگھی رکوا دی۔
ہم نے پورے جزیرے کا چکر لگانا تھا، پھر ابھی سے کیوں رک گئے؟ وہ اترنے لگا تو حیا بول اٹھی۔
نماز! جہان نے سامنے مسجد کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔
اچھا! وہ سر ہلا کر اٹھی، ایک ہاتھ راڈ پہ رکھا اور احتیاط سے پاؤں نیچے پیدرل پہ رکھ کر اتری۔ جہان پہلے ہی اتر کر مسجد کے دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
مسجد چھوٹی مگر صاف ستھری تھی۔ جہان مردوں والے حصے میں چلا گیا تو وہ وضو کر کے عورتوں کے پرئیر ہال میں آ گئی۔
ہال کے ایک کونے میں ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے ایک بچی اسی کے انداز میں بیٹھی دھیمی آواز میں کچھ کہہ رہی تھی۔
حیا نے گیلے بازؤوں کی آستین نیچے کرتے ہوئے بغور ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ یہ وہی دونوں لڑکیاں تھیں جو ابھی دو گلیاں چھوڑ کر سڑک پر اسے نظر آئی تھیں۔ جامنی فراک والی چھوٹی بچی اور دوسری بھورے اسکاف والی سنجیدہ لڑکی۔
بچی منت بھرے شکایتی انداز میں اس لڑکی کے گھٹنے کو جھنجھوڑتی کچھ کہے جا رہی تھی، مگر وہ لڑکی جس کا نام شاید عائشے گل تھا، نفی میں سر ہلاتی گویا مسلسل اس کی تردید کیے جا رہی تھی۔ وہ دونوں دھیمی آواز میں باتیں کر رہی تھیں، حیا اسٹول کو چہرے کے گرد لپیٹتے ہوئے ان دونوں کو دیکھے گئی۔ انہوں نے اسے نہیں دیکھا تھا شاید، وہ آپس میں مشغول تھیں۔
وہ جب نماز پڑھ کر اٹھی تو دیکھا، وہ بچی ابھی تک اس لڑکی کو منا رہی تھی اور شاید اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ اس کی آواز دھیمی اور زبان انجان تھی، مگر کبھی کبھی وہ بے بسی بھرے انداز میں چیخ کر ذرا زور سے عائشےگل۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز! کہہ اٹھتی تو حیا کو سنائی دے دیتا۔
ایک آخری نگاہ ان دونوں پہ ڈال کر وہ باہر آ گی۔
مسجد کے برآمدےمیں وہ تنہا نماز پرھ رہا تھا۔ حیا ننگے پاؤں چلتی ہوئی برآمدے تک آئی اور ستون کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑی ہوگئی۔ ہوا سے اس کا سر پہ لیا اسٹول سر کی پشت تک پھسل گیا تھا۔
سامنے چند قدم کے فاصلے پر وہ سجدے میں جھکا تھا۔
نیلی جینز اور اوپر سیاہ سوئیٹر جہان سکندر کا مخصوص لاپرواہ سا حلیہ۔ وہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ سر ستون سے ٹکاے اسے دیکھے گئی۔
وہ اب سجدے سے اٹھ کر تشہد میں بیٹھ رہا تھا۔ ہر کام پھرتی سے کرنے والا جہان سکندر کی نماز بہت ٹھہری ہوئی اور پرسکون تھی۔
وہ چونکہ اس سے ذرا پیچھے کھڑی تھی۔ تو یہاں سے اس کا صرف ہلکا رخ ہی نظر آتا تھا۔ گردن کی پشت اور چہرے کا ذرا سا دایاں حصہ۔ وہ گردن جھکائے تشہد پڑھ رہا تھا۔ پھر اس نے دائیں رخ سلام کے لیے گردن موڑی تو حیا کو بالآخر اس کا چہرہ نظر آگیا۔ وہ زیر لب مسکراتے اسے دیکھے گئی۔
دوسری جانب سلام پھیر کر اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے۔ چند لمحے یونہی بیٹھا دعا مانگتا رہا، پھر ایک گہری سانس لے کر ہاتھ چہرے پہ پھیرتا وہ کھڑا ہوا اور واپس مڑا تو اسے ستون کے ساتھ کھڑے دیکھ کر مسکرایا۔
تم انتظار کر رہی تھیں؟ وہ ذرا مسکرا کر کہتا اس کی طرف آیا تو حیا نے ا ثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ دونوں ساتھ ہی باہر آئے تھے۔
جہان! چوکھٹ پر جب وہ جھک کر جوگر پہن رہا تھا تو حیا نے اسے پکارا۔
ہوں؟
تم مذہبی ہو؟
تھورا بہت۔ وہ تسمہ باندھ رہا تھا۔
لگتے نہیں ہو۔
تسمے کی گرہ لگاتی ادس کی انگلیاں تھمیں، اس نے سر اٹھا کر قدرے ناسمجھی سے حیا کو دیکھا۔
میں کیا کرتا تو مذہبی لگتا؟
وہ تو مجھے نہیں پتا۔ ویسے تم نے دعا میں کیا مانگا؟
میں نے زندگی مانگی! وہ تسمہ بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
زندگی؟ حیا نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے دہرایا۔ وہ اب عادتاً سوئیٹر کی آستینیں موڑ رہا تھا۔
انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کی اس کو کمی لگتی ہے، سو میں ہمیشہ زندگی مانگتا ہوں۔ اگر زندگی ہے تو سب خوب صورت ہے، نہیں ہے تو سب اندھیرا ہے۔وہ دونوں سڑک کے کنارے ساتھ ساتھ چلنے لگے تھے۔
خوب صورتی کیا ہوتی ہے جہان؟
بیوک ادا کی ایک سرد ہوا اس کے بال پھر سے اڑانے لگی تھی۔ شال سر سے پھسل کر اب گردن کے پیچھے اٹک گئی تھی۔ اور جب اپنے بکھرتے بال دونوں ہاتھوں میں سمیٹتے ہوئے اس نے یہ سوال پوچھا تھا تو شدید خواہش کے باوجود وہ جانتی تھی کہ وہ خوب صورتی حیا سلیمان کی آنکھیں ہیں“ جیسی کوئی بات نہیں کہے گا، مگر جو اس نے کہا، وہ حیا سلیمان کے لئے قطعا ً غیر متوقع تھا۔
علی کرامت کی ماں!
کیا؟ اس نے نا سمجھی سے جہان کو دیکھا۔ وہ سامنے دیکھتے ہوئے قدم اٹھا رہا تھا۔
میرے لیے خوب صورتی علی کرامت کی ماں پہ ختم ہو جاتی ہے۔ علی کرامت میرا ایک سکول فیلو تھا۔
ایک دفعہ میں اس کے گھر گیا تھا، تب میں نے اس کی ماں کو دیکھا تھا۔ وہ بہت خوب صورت خاتون تھیں۔ وہ ڈاکٹر تھیں اور اس وقت ہسپتال سے آئی تھیں۔ وہ تھکی ہوئی تھیں اور تب کچن میں کھڑی ٹشو سے اپنا چہرہ تھپتھپا رہی تھی۔ حیا! وہ چہرہ اتنا مقدس، اتنا خوب صورت تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کی بات پہ وہ چند لمحے کھے لیےخاموش سی ہو گئی۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترک تھیں یا پاکستانی؟ بہت دیر بعد وہ بولی۔
وہ سیاہ فام تھیں۔ خالص سیاہ فام۔
اور حیا کے حلق تک میں کرواہٹ گھل گئی، تا ہم وہ خاموشی سے اس کے ساتھ قدم اٹھاتی رہی۔
یہ وہ واحد شحخص تھا جس کے سامنے وہ جھک جاتی تھی، خاموش ہو جاتی تھی، کڑوے گھونٹ پی لیتی تھی اور پھر بھی موم بن جاتی تھی۔ اگر یہی بات کسی اور نے کہی ہوتی تو وہ اپنے ازلی طنطنے سےاس کو اتنی سناتی کہ ایسی بات کرنے کی وہ شخص دوبارہ ہمت نہ کرتا۔ حد ہو گئی، بھلا سیاہ فام کہاں اتنے حسین ہو سکتے ہیں۔ یا پھر شاید جہان کا مطلب یہ تھا کہ اسے حیا سلیمان کے مقابلے میں ایک بدصورت عورت بھی خوبصورت لگتی ہے۔
وه زندگی میں پہلی دفعہ کسی بدصورت عورت کو سوچ کر حسد کا شکار ھہوئی تھی مگر چپ رہی۔
سہ پہر ڈھلنے لگی تو وه واپسی کی تیاری کرنے لگے۔ بیوک ادا جزیرے کی گلیوں میں چل چل کر اب اس کے پاؤں دکھنے لگے تھے۔ ڈی جے واپسی پہ پهر سے بالکونی میں کھڑے ہونے کے لۓ قطعی راضی نه تھی اور اس کا پورا اراده فیری میں گھس کر چاہے پیار سے، چاہے لڑ جھگڑ کر، مگر بیٹھنے کے لئے نشست ڈھونڈنے کا تھا۔ جہان کو ٹکٹ لینے میں خاصی دیر لگ گئی۔ پانچ بجے والی فیری شام کی آخری فیری تھی، سو سیاحوں کا سارا ہجوم ٹکٹ کی کھڑکی کے آگے موجود تھا۔ اب اس کے بعد اگلا جہاز رات کے آٹھ بجے چلنا تھا اور پهر اگلی صبح تک کوئی جہاز نہیں چلتا تھا۔ جو رہ گیا وه جزیرے پہ رات بسر کرے یا پهر تیر کر واپس جاۓ۔
اگر تم دونوں اسی رفتار سے چلتی رہیں تو فیری نکل جاۓ گی اور تمھیں واقعی تیر کر واپس جانا پڑے گا۔ وه ان دونوں کی سست روی پہ خاصا جھنجھلا کر بولا تھا۔ جوابا وه قدرے خفت سے ذرا تیز چلنے لگیں۔
بندرگاه کھچا کھچ سیاحوں سے بھری ہوئی تھی۔ وه تینوں اس رش میں بمشکل راسته بناتے آگے بڑھ رہےتھے۔ جہان آگے تھا اور وه دونوں پیچھے۔ اسے اب اپنے ریسٹورنٹ کی فکر ہونے لگی تھیں۔ پراپرٹی کی مالکہ نے آ کر پهر سے کوئی ہنگامہ کیا تھا۔ جہان اسے اس سارے معاملے پہ قدرے پریشان اور متاسف لگا تھا۔ گو کہ وه تاثرات چھپانےکی مکمل کوشش کر رہا تھا۔ مگر وه اس کا ہر رنگ اب پہچاننے لگی تھی۔
وه تینوں فیری کی طرف جاتے بورڈ کی جانب بڑھ رہے تھے جب کسی نےحیا کی کہنی کو ذرا سا چھوا۔ ماڈم…….ماڈم…!
وه ٹھٹک کر رکی اور گردن موڑی۔
اس کے عقب میں ایک باره تیره برس کا ایک ترک لڑکا کھڑا تھا۔ وه کوئی ٹھیلےوالا تھا، اس نے گردن کے گرد اور دونوں ہاتھوں میں بہت سے ہار اور موتیوں کی لڑیاں ڈوریوں میں باندھ کر اٹھائی ہوئی تھیں اور اب وه لڑیوں کا ایک گچھا حیا کے چہرے کے سامنے کر کے دکھاتا، ترغیب دلانے کی کوشش کر رھا تھا۔
وه کبھی نه رکتی مگر وه موتی اور ان کی چمک اتنی خوبصورت تھی که اسےٹھہرنا ہی پڑا وه بےاختیار وه لڑیاں انگلیوں میں اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ وه بالوں میں پرونے والی لڑیاں تھیں اور اتنی حسین تھیں که چند لمحوں کیلئےوه لمبےبالوں کی دیوانی لڑکی اردگرد کو فراموش کر بیٹھی۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا۔۔۔۔۔!
جہان دور سے اسے آوازیں دے رہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ جہان اور ڈی جے فیری کے تختے پہ چڑھ چکے تھےاور اب جھنجھلاھٹ بھری کوفت سے اسے بلا رھے تھے۔
ایک منٹ! وه انگشت شہادت اٹھا کر ان کو رکنے کا اشاره کرتی پلٹ کر جلدی جلدی لڑیاں دیکھنے لگی۔
ہاؤ مچ؟ اس نے دولڑیاں الگ کر کے پوچھا۔
ٹین لیرا……… ٹین لیرا۔
یه تو بہت زیاده ہیں۔ اس نے خفگی سے بچے کو دیکھا۔ پیچھے جہان اسے ناگواری بھرے انداز میں پھر سے آواز دے رھا تھا۔
تم جاؤ جگه تلاش کرو میں دومنٹ میں آرہی ہوں۔ اس نےان کو مطمئن کرنے کیلۓ جانے کا اشاره کیا۔ ان تک آواز شاید پہنچ گئی تھی، تب ہی وه دونوں سر ہلا کر مڑے اور فیری کےاندرونی راستے کی جانب بڑھ گۓ۔
فیری نکلنے میں ابھی تین منٹ تھے اور وه ان تین منٹوں کو ضائع نھیں کرنا چاہتی تھی۔
سیون لیرا۔ اس نے حتمی انداز میں لڑکے کو کہا اور پیسے نکالنے کیلۓ سنہری کلچ کھولا۔ اس سے قبل کہ وه نوٹ نکالتی، لڑکے نے ایک دم پرس جھپٹا اور بھاگ کھڑا ھوا۔
لمحے بھر کو اسے سمجھ نہیں آئی کے ھوا کیا ہے اور جب سمجھ آیا تو وه۔
رکو………. رکو…….. میرا پرس! وہ چلاتی ہوئی اس کے پیچھے لپکی۔ جہان، ڈی جے، فیری اس افتاد میں اسے سب بھول گیا۔
لڑکا پهرتی سے بھاگتا جا رہاتھا۔ سیاح افراتفری میں فیری کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کسی کےپاس توجہ کرنے کو وقت نه تھا۔ وه تیز قدموں سےدوڑتی اس لڑکے کے پیچھے آئی۔ وه بازار کی طرف مڑ گیا اور اب ایک گلی کے عین وسط میں کھڑا تھا،حیا جیسے ہی بھاگتی ہوئی اس گلی میں داخل ہوئی، لڑکے نے چونک کر اسے دیکھا اور پهر سے بھاگ کھڑا ہوا۔
رکو۔۔۔۔۔۔ رکو! وه غصے سے چلاتی اس کے پیچھے دوڑ رہی تھی۔ لڑکا خاصا پهرتیلا لگ رہا تھا، مگر وه اتنا تیز نہیں بھاگتا تھا۔ تین گلیاں عبور کر کے وه اس رہائشی علاقے میں داخل ہوا اور سرپٹ دوڑتا ہوا دائیں طرف کی قطار کے بنگلوں میں سےایک کا گیٹ عبور کرگیا۔
وه ہانپتی ہوئی اس گیٹ تک آئی۔ گیٹ نیم وا تھا۔ لڑکا اندر ہی کہیں گیا تھا۔
دور کہیں فیری نکل چکی ہے۔ ڈی جے اور جہان جزیرے سے چلےگئے تھے اور وه ادھر تنہا ہی ره گئی تھی۔ لیکن یه وقت وه سب سوچنے کا نہیں تھا۔ اسے اپنا پرس اور پاسپورٹ واپس لینا تھا۔ ہر صورت۔
اس نے ایک لمحے کو اس نیم وا گیٹ کو دیکھا اور پهر اس کے پیچھے کھڑے اس عالیشان سفید محل کو اور پهر تیزی سے اندر آئی۔ یه وہی سفید محل تھا جو اس نے دوپهر میں دیکھا تھا.۔
چھوٹے سے باغیچے میں خاموشی چھائی تھی۔ شام کے پردے اب نیلے پڑ رھے تھے۔ وه پهولتے سانس کو ہموار کرتی متذبذب سی چلتی بنگلے کے داخلی دروازے تک آئی اور بیل کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔
لکڑی کا اونچا منقش دروازه قدیم طرز کا بنا تھا۔ اس کے آس پاس بیل نامی کوئی شے نا تھی۔ وه کیا کرے؟ یوں منه اٹھا کر کسی کے گھر میں کیسے گھس جاۓ؟ مگر وه بھی تو اسی گھر میں چھپنے کی نیت سے داخل ھوا تھا، اسے بہرحال اندر جانا تھا۔
ایک مصمم اراده کر کے اس نے کندھے په پهسلتی شال درست کی اور دروازے کا سنہری ناب گهمایا۔ وه قدیم وقتوں کی کوئی امر ہوئی شھزادی
تهی جو راستہ بھٹک کر اس جزیرے پہ آنکلی تھی اور اب سلطان کے محل کے سامنے کھڑی تھی۔
دروازه چرر کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ اندر ہر سو اندھیرا تھا۔ اس نےچوکھٹ پہ قدم دھرا۔
ہیلو؟ وه دو قدم مزید آگے آئی اور پکارا اس کی آواز کی گونج درودیوار سے ٹکرا کر پلٹ آئی۔
وه کسی لابی میں کھڑی تھی۔ وہاں نیم تاریکی سی چھائی تھی۔ صرف کھلے دروازے سے آتی شام کی نیلگوں روشنی میں آگے جاتی راہداری سی نظر آرہی تھی۔ اس کا دل عجیب سی بے چینی و خوف میں گھرنے لگا۔
کوئی ہے؟ اب کے اس نے پکارا تو آواز میں ذرا ارتعاش تھا۔ ایک دم اس کے عقب میں ٹھاہ کے ساتھ دروازہ بند ہوا اور کلک کے ساتھ لاک لگنے کی آواز آئی۔
وہ گھبرا کر پلٹی اور دروازے کی طرف لپکی۔ ڈور ناب بمشکل اس کے ہاتھ لگا۔ اس نے زور سے ناب کھنچا، پھر گھمایا، مگر بے سود۔ دروازہ باہر سے بند کیا جا چکا تھا۔
اوپن! اوپن دی ڈور! وہ دونوں ہتھیلیوں سے لکڑی کا دروازہ پیٹنے لگی۔ ساتھ ہی وہ خوفزدہ سی دبی دبی آواز میں چلا رہی تھی۔
شہزادوں کے جزیروں پہ خوش آمدید!
کسی نے بہت دھیرے سے اس کے عقب میں کہا تھا۔
شہزادوں کے جزیرے پہ خوش آمدید۔
کسی نے بہت آہستہ سے اس کے عب میں کہا تھا۔ وہ کرنٹ کھا کر پلٹی۔
لابی تاریک تھی۔ البتہ اندر کی سمت مڑتی راہداری کے آخری سرے پر کوئی ٹمٹماتی سی زرد روشنی دکھائی دی تھی۔ وہ آواز بھی وہیں سے آئی تھی۔
اس نے پلٹ کر آخری بار دروازے کی ناب کو گھمایا۔ اب اسے اس محل سے نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا تھا۔ جو بےوقوفی وہ کر چکی تھی، اسے انجام تک پہنچانا ہی تھا۔
وہ آنکھیں سکیڑ کر اندھیرے میں دیکھتی آگے بڑھی۔ تاریک راہداری کے اس پار کوئی بڑا سا کمرہ تھا۔ شاید لونگ روم۔ گھپ اندھیرے میں وہ زرد سی موم بتیوں کی روشنیاں وہیں سے آ رہی تھیں۔
کون؟ اس نے چوکنے انداز میں پکارا۔
وہ لونگ روم کی چوکھٹ پہ آن کھڑی ہوئی تھی اور اس کو خوش آمدید کہنے والی عورت وہیں سامنے ہی تھی۔ لمبے اسکرٹ اور سوئیٹر میں ملبوس، اسکارف چہرے کے گرد لپیٹے، وہ جھریوں زدہ چہرے والی ایک معمر خاتون تھیں۔ وہ لونگ روم کے دوسرے سرے پہ کھڑی، ہاتھ میں پکڑی موم بتی سے اسٹینڈ پہ رکھی موم بتیوں ک جلا رہی تھیں۔ ایک ایک کر کے سرد پڑی موم بتیاں جلنے لگی تھیں۔
آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لمبی موم بتی سے اوپر نیچے اٹکی موم بتیاں جلاتے ہوئے انہوں نے اسی نرمی سے کہا تھا۔
وہ آپنی جگہ سے نہیں ہلی، بس بنا پلک جھپکے اس پر تعیش لونگ روم کے وسط میں رکھی میز کو دیکھے گئی، جس پہ رکھا سہنری ستاروں والا کلچ موم بتیاں کی ہلکی زرد روشنی میں چمک رہا تھا۔
یہ تمہارا پرس ہے، تم اسے لے سکتی ہو۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم میرے پاس صرف میرے بلاوے پہ آ جاؤ گی، تو میں اس بچے کو نہ بھیجتی۔ اسے معاف کر دینا، اس کی مجبوری تھی۔ آؤ بیٹھ جاؤ۔ کھڑی کیوں ہو؟
وہ ہاتھ میں پکڑی موم بتی لئے اب سامنے رکھی ڈائنگ ٹیبل کی طرف برھ گئیں۔ وہاں بھی ایک بڑا سا کینڈل اسٹینڈ نظر آ رہا تھا، اس کے اوپر جگہ جگہ موم بتیاں سیدھی کھڑی تھیں۔ وہ ایک ایک کر کے ان موم بتیاں کو بھی روشن کرنے لگیں۔
حیا کسی معمول کی طرح چلتی ہوئی آ گے بڑھی اور بڑے صوفے کے کنارے کی نشست پہ جا ٹکی۔ اس کی نگاہیں ابھی تک قریب رکھی میز پہ دھرے اپنے سہنری کلچ پہ تھیں۔
کچھ کھاؤگی؟
اس نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔ بہت ساری ہمت مجتمع کر کے وہ بمشکل کہہ پائی۔
آپ نے مجھے یہاں کس لیے بلایا ہے؟
مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے اور تمہیں کچھ بتانا ہے۔ عبدالرحمن آج صبح کی فلائٹ سے انڈیا چلا گیا ہے۔ مگر جاتے جاتے اس نے یہ کام میرے ذمے لگایا تھا۔
وہ اب اس کی جانب پشت کیے آخری موم بتی جلا رہی تھیں۔
وہ عبدالرحمن کے نام پہ حیران نہیں ہوئی۔ اس نے دوپہر میں ہی اس گھر کے باہر گیٹ پہ لگی تختی دیکھ لی تھی۔ اس کے باوجود جب وہ بچہ اس گھر میں داخل ہوا تب وہ بھی پچھلے چلی گئی۔ وہ صرف اپنے پرس کے لیے آئی تھی یا کسی معمے کے حل کے لیے وہ کسی نتیجے پہ پہنچنے سے قاصر تھی۔
آپ کا عبدالرحمن پاشا سے کیا رشتہ ہے؟ وہ بولی تو اس کی آواز زرد روشنی کی مانند مدھم تھی۔ آہستہ آہستہ اس کا خوف زائل ہو رہا تھا۔
میں عبدالرحمن کی ماں ہوں۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑی موم بتی میز پر رکھی اور انگلی کی پوروں پہ لگی موم کھرچی، پھر پلٹ کر اس کی طرف آئیں۔
عبدالرحمن نے تمہیں ملنے کا کہا تھا، لیکن جب تم نے انکار کیا تو بھلے وہ ہاتھوں اور دامن کا صاف نہ ہو، دل کا اتنا صاف ہے کہ وہ رکا نہیں۔ البتہ جاتے جاتے اس نے میرے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ میں تم سے مل لوں اور تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دوں جو تمہارے ذہن میں کلبلاتے رہتے ہیں۔
وہ دم سادھے خاموشی سے اس معمر عورت کو دیکھے گئی، جو ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔ ان دونوں کے درمیان رکھی کارنر ٹیبل پہ ایک فوٹو فریم رکھا تھا۔ اس میں دو چہرے مسکرا رہے تھیں۔ ایک وہی معمر خاتون اور دوسرا ان کے ساتھ ایک پینتیس، چھتیس برس کا مرد، جس کے بال گھنگریالے اور لمبے تھے۔ آنکھوں پہ موٹے فریم کا چشمہ تھا۔ چہرے پہ چھوٹی سی داڑھی جس میں جگہ جگہ سفید بال جھلکتے تھے۔ نہایت گہری سانولی رنگت کا وہ شخص بہت ہی عام سا قبول صورت مرد تھا۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ بتاؤں، تم اگر کچھ پوچھنا چاہتی ہو تو پوچھ لو۔ حیا نے فوٹو فریم سے نگاہ ہٹا کر ان کو دیکھا، جو مسکراتی پرشفقت نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ دروازہ بند ہونے پر ڈر گئی تھی مگر اب اس ڈر کا شائبہ تک نہیں تھا۔
عبدالرحمن پاشا مجھے پھول کیوں بھیجتا ہے؟ سفید پھول، جو شاید دشمنی کی علامت ہوتے ہیں۔ اس کے سوال پہ وہ ہولے سے مسکرائیں۔
ہر شخص کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے، شاید وہ اس طرح پھول اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں چونکائے، تمہاری توجہ حاصل کرے۔
مگر وہ مجھے کیسے جانتا ہے؟ اس نے اپنی الجھن سامنے رکھی، جو اس کو مسلسل پریشان کیے ہوئے تھی۔
میں تمہیں یہی بتانا چاہتی تھی۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی۔
دسمبر میں تم نے کسی چیریٹی ایونٹ میں شرکت کی تھی۔ وہ اسلام آباد میں اس وقت اسی ہوٹل میں تھا۔ وہاں اس نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا اور اسی رات پہلی بار تمہیں پھول بھیجے تھے۔
ایک دم سے اس کی دو ڈھائی ماہ کی بے چینی کا اختتام ہو گیا۔ اسے فورا سے یاد آگیا۔ جس رات اسے سبانجی کی طرف سے سلیکشن کی میل آئی تھی، اسی دوپہر اس نے یہ چیریٹی لنچ اٹینڈ کیا تھا، جو زارا کی کزن کی کسی اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں شہر کے کئی بزنس مین اور دیگر با اثر شخصیات نے شرکت کی تھی۔ وہ اور زارا بھی یونہی چلی گئی تھیں، یقینا اسے عبدالرحمن پاشا نے وہیں دیکھا ہو گا۔ یہ ممکن تھا۔ تمہیں وہ ڈولی نامی خواجہ سرا تو یاد ہو گا۔ اسے عبدالرحمن نے ہی تمہارے تعاقب پہ لگایا تھا۔ ڈولی اس کے آبائی گھر کا پرانا خادم ہے۔ برسوں سے ہمارے ساتھ ہے اور وہ صرف تمہاری مدد کے لیے تمہارے پیچھے آتا تھا۔ جہاں تک تعلق ہے اس میجر کا، جس کو تم نے اس کی ماں اور بہن کے سامنے بے عزت کیا تھا، اس کی مدد بھی عبدالرحمن نے تمہاری ویڈیو ہٹوانے کے لیے ہی لی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت عبدالرحمن اس بات سے لا علم تھا کہ وہ میجر کرنل گیلانی کا بیٹا ہے۔ کرنل گیلانی جانتی ہو، کون ہیں؟
اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔
کرنل گیلانی وہ تھے جس کو تمہارے پھوپھا نے ملک چھوڑتے ہوئے اپنے کیس میں پھنسا دیا تھا۔ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کرنل گیلانی نے کئی سال سزا کاٹی اور گو کہ وہ بعد میں رہا ہو گئے تھے۔ انہوں نے قید کی صعوبتوں میں لگنے والی بیماریوں کے ہاتھوں زندگی ہار دی۔ اس میجر کی شادی ہونے والی ہے۔ اس نے تمہیں صرف اپنے کسی ذاتی منصوبے کے لیے پھنسانا چاہا تھا۔ مگر تم بے فکر رہو، وہ اب تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔
تو یہ تھا سارا کھیل۔ ایک بااثر شخص کے اپنی محبت کو پالینے کے لیے استعمال کردہ کچھ مہروں کی کہانی۔ ساری گھتیاں سلجھ گئی تھیں۔
اب آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں؟ وہ ذرا سرد لہجے میں بولی۔
تم یہ گھر دیکھ رہی ہو؟ بیوک ادا میں اس وقت بجلی کا کوئی پول مرمت کے باعث کام نہیں کر رہا، سو اس علاقے میں بجلی بند ہے، ورنہ جس گھر میں تم بیٹھی ہو، وہ بیوک اداکا سب سے خوبصورت، سب سے عالیشان محل ہے۔ یہ دولت، یہ شان و شوکت، یہ طاقت، یہ سب کچھ اور ایک ایسا شخص جو تم سے واقعتا محبت کرتا ہے، یہ سب تمہارا ہو سکتا ہے، اگر تم اسے قبول کر لو۔ اگر تم عبدالرحمن سے شادی کر لو۔ میں نے یہی کہنے کے لیے تمہیں ادھر بلایا ہے۔
حیا نے ایک گہری سانس اندر کھینچی۔
آپ کو پتا ہے جب کوئی شخص کسی عورت کو اذیت دیتا ہے اور اس کی بےعزتی کا باعث بنتا ہے تو کیا ہوتا ہےوہ عورت اس کی عزت کرنا چھوڑ دیتی ہے۔میں نے بھی عبدالرحمن پاشا کی عزت کرنا چھوڑ دی ہے۔ میں شادی شدہ ہوں، اس لیے میرا جواب صاف انکار ہے۔
کیا ہے، اس ایک معمولی سے ریسٹورنٹ اونر کے پاس جو عبدالرحمن کے پاس نہیں ہے؟ وہ ذرا حیران ہوئی تھیں۔
اس کے پاس حیا سلیمان ہے اور عبدالرحمن پاشا کے پاس حیا سلیمان نہیں ہے۔ وہ بہت استہزاء سے چبا چبا کر بولی تھی۔
وہ خاتون لاجواب سی خاموش ہو گئیں۔
اور اگر وہ نہ رہے، تب بھی تمہارا جواب انکار ہی ہو گا؟ وہ ایک دم اندر تک کانپ گئی۔
یہ دھمکی ہے؟
نہیں، محض ایک سوال ہے۔
میرا جواب پھر بھی انکار ہو گا۔
ٹھیک ہے، پھر تم بے فکر ہو جاؤ۔ عبدالرحمن زبردستی کا قائل نہیں ہے۔ نہ وہ عشق میں جوگ لینے والا شخص ہے۔ وہ آج کے بعد نہ تمہیں فون کرے گا، نہ تمہارا پیچھا کروائے گا، نہ ہی تمہارے راستے میں آئے گا۔ ویسے بھی وہ دو ڈھائی ماہ سے قبل انڈیا سے واپس نہیں آ پائے گا اور اس کے آنے تک تم جا چکی ہو گی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر تمہارا جواب انکار میں ہو تو میں تمہیں اس چیز کی گارنٹی دے دوں کہ وہ تمہیں اب کبھی پریشان نہیں کرے گا۔ تم جا سکتی ہو۔ آخری فیری آٹھ بجے نکلے گی، اگر تم چاہو تو ٹکٹ کے پیسے۔۔۔۔
بہت شکریہ۔ میرے پاس پیسے ہیں۔ اس نے اپنا کلچ اٹھایا اور تیزی سے اٹھی۔
سنو! تم اچھی لڑکی ہو۔ کبھی دوبارا بیوک ادا آنا ہو تو ادھر ضرور آنا، مجھے تم سے مل کر خوشی ہو گی۔
مگر مجھے نہیں ہو گی۔ وہ واپس پلٹ گئی۔
نیم تاریک راہداری کے دوسرے سرے پہ بنے دروازے کا ناب اس نے گھمایا تو وہ کھل گیا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر آ گئی۔ پتھر بن جانے کے خوف سے اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
باہر شام کی نیلگوں روشنی ڈوب رہی تھی۔ ہر سو اندھیرا چھانے لگا تھا۔ وہ دروازہ بند کر کے آگے روش پہ آئی۔ اسی پل باہر سے کسی نے سفید گیٹ کھولا۔ نیم اندھیرے میں بھی اسے وہ دونوں صاف نظر آ رہی تھیں۔ وہ ترک میں باتیں کرتیں، ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلی آ رہی تھیں۔ وہی گہرے جامنی فراک والی بچی اور بھورے اسکارف والی بڑی لڑکی جس کے بازو میں جنگلی پھولوں سے بھری ٹوکری تھی۔
وہ مگن سی بچی کا ہاتھ تھامے چلی آرہی تھی۔ اسے سامنے سے آتا دیکھ کر ٹھٹھک کر رکی۔ حیا تیز قدموں سے آ گے بھر گئی۔ بھورے اسکارف والی لڑکی رک کر گردن موڑے اسے جاتےدیکھے گئی۔
بچی نے اسے جھنجھوڑا، تو وہ چونکی، پھر سر جھٹک کر اندر کی طرف جاتے آبنوسی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
حیا تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے سڑک کے کنارے چل رہی تھی۔ سمندر کی طرف سے آتی ہوا مزید سرد ہو چلی تھی۔ نیلگوں سیاہ پڑتی شام دم توڑ رہی تھی۔ جب تک وہ واپس بندرگاہ پر پہنچی، شام اندھیرے میں بدل چکی تھی۔
تاریک رات، ویران سمندر، پراسرار جزیرہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی محفوظ جگہ ملے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ ابھی تو وہ رونے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی تھی۔
رات کی فیری کتنے بجے آئے گی؟ اس نے ٹکٹ کی کھڑکی سے جھانکتے آفیسر سے پوچھا۔ اس کا موبائل جہان ساتھ لایا تھا، مگر وہ واپس نہیں لے سکی تھی اور جہان اور ڈی جے کے موبائل نمبرز اسے زبانی یاد نہیں تھے۔ ورنہ کہیں سے کال کر لیتی۔ وہ چلے گئے ہوں گے اور پریشان ہوں گے۔ وہ اندزا کر سکتی تھی۔ آٹھ بجے۔ ٹکٹ چیکر نے جواب دیتے ہوئے بغور اسے دیکھا، پھر ساتھ رکھا کاغذ اٹھا کر دیکھا۔
آر یو حیا سلیمان؟ پاکستان تورست؟ (ٹورست؟ ) اس نے کہنے کے ساتھ وہ پرنٹ آؤٹ اس کے سامنے کیا، جس میں اس کی اور ڈی جے کی آج دوپہر کی کھنچی تصویر پرنٹ کی گئی۔
یس۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی ایم۔۔۔۔۔۔ میری فیری نکل گئی تھی، کیا میرے فرینڈز ادھر ہی ہیں؟ فرط جزبات سے اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔ اس نے سوچ بھی کیسے لیا کہ وہ اسے چھوڑ کر چلے گئے ہوں گے؟
پولیس اسٹیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم ٹو پولیس اسٹیشن۔
اور جب وہ پولیس آفیسرز کے ہمراہ پولیس اسٹیشن پہنچی تو اندرونی کمرے میں اسے وہ دونوں نظر آ گئے۔
ڈی جے کرسی پہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی جبکہ جہان انگلی اٹھائے درشتی سے سامنے بیٹھے آفیسر سے کچھ کہہ رہا تھا۔ آفیسر جوابا نفی میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی سعی کر رہا تھا۔ مگر وہ نہیں سن رہا تھا۔
چوکھٹ پہ آہٹ ہوئی تو وہ بولتے بولتے رکا اور گردن موڑی۔ وہ بھیگی آنکھوں سے دروازے میں کھڑی تھی۔
اس کی اٹھی انگلی نیچے گر گئی، لب بھینچ گئے۔ ایک دم ہی وہ کرسی کے پیچھے سے نکل کر اس کی جانب آیا۔
کدھر تھیں تم؟
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ میں کھو گئی تھی۔ وہ بچہ میرا پرس لے کر بھاگا تو۔۔۔۔
تو آدھے بیوک ادا نے تمہیں اس کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ عقل نام کی چیز ہے بھی تم یا نہیں؟ ایک پرس کے لیے تم اس کے پچھے بھاگیں؟ فیری چھوٹ جائے گی یا وہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے، تمہیں اس بات کا کوئی خیال تھا؟ وہ غصے سے چلایا۔
کیوں نہ بھاگتی میں اس کے پیچھے؟ پرس میں میرا پاسپورٹ تھا، سبانجی کا کارڈ تھا، بعد میں پریشانی ہوتی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جو پریشانی ہمیں ہوئی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اس ڈیڑھ گھنٹے میں پاگلوں کی طرح پورے جزیرے پہ ڈھونڈ رہے تھے۔ جانتی ہو ہماری کیا حالت تھی؟
ڈی جے جو اس کے چلانے کے باعث رک گئی تھیں۔ اب آگے بڑھی اور اس کے گلے لگ گئی۔
حیا! تم بالکل پاگل ہو۔ اس کی آنکھیں رونے سے متورم تھیں وہ دونوں پھر رونے لگی تھیں۔
حد ہوتی ہے غیر ذمہ داری کی۔ آئندہ میں تم دونوں کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گا۔ وہ بھنا کر کہتا واپس پولیس آفیسر کی طرف پلٹ گیا۔ وہ ابھی تک روئے جا رہی تھی۔ اسے پتا تھا کہ واپسی پہ جہان کی بہت سی باتیں سننی پڑے گیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ دونوں لکڑی کا دروازہ دھکیل کر اندر آئیں تو ہر سو اندھیرا چھایا تھا۔ لونگ روم سے ٹمٹماتی ذرد روشنی جھانک رہی تھی۔
آنے! اس نے جنگلی پھولوں کی ٹوکری لابی میں رکھے اسٹینڈ پہ دھری اور بچی کا ہاتھ تھامے لونگ روم کی طرف آئی۔
صوفے پہ وہ معمرخاتون اسی طرح بٹیھی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں چند نوٹ تھے۔ جو وہ گن کر علیحدہ کر رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ لڑکا کھڑا ان نوٹوں کو دیکھ رہا تھا۔
سلام علیکم آنے! کیسے ہو عبداللہ؟ اس نےبچی کی انگلی چھوڑ دی اور کندھے سے پرس کی اسٹریپ اتارتے ہوئے بڑی میز کی طرف آئی۔
میں ٹھیک ہوں عائشے! لڑکے نے معمر خاتون کے بڑھائے گئے نوٹ پکڑے، گنے اور باہر بھاگ گیا۔ وہ بقیہ نوٹ واپس بٹوے میں رکھنے لگیں۔
بجلی والا پول ٹھیک ہوا؟ بٹوہ بند کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
وہاں بندے کام کر تو رہے ہیں۔ ابھی گلی میں داخل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا تھا۔ عبداللہ کیوں آیا تھا؟ وہ میز کے ساتھ کھڑی اپنا پرس کھولتی کہ رہی تھی۔ میرا کام تھا۔ انہوں نے بچی کا ہاتھ تھامتے ہوئے سرسری سا جواب دیا۔ جو اب ان کے ساتھ صوفے پہ آ بیٹھی تھی۔
کام بھی تھا اور آنے نے اسے پیسے بھی دیے عائشے گل! تم نے دیکھا، وہ صبح قرآن پڑھنے کب سے نہیں آیا، روز بہانے بنا دیتا ہیں۔ بچی ناک سکوڑتی کہہ رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: