Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 16

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 16

–**–**–

اپنے پرس کو کھنگالتی عائشے نے پلٹ کر خفگی سے اسے دیکھا۔
بری بات ہے بہارے! کسی کے پیچھے اس کا یوں ذکر نہیں کرتے۔ وہ ایک نظر اس پہ ڈال کر واپس اپنے پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی تھی۔
اور یہ وہ لڑکی تھی نا؟ چند لمحے موم کی طرح پگھل کر گر گئے تو اس نے پرس کی چیزیں ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے ہوئے پوچھا۔ ادھر کیوں آئی تھی؟
یہ عبدالرحمن کے مسئلے ہیں، وہ خود ہی نپٹالے گا۔انہوں نے ٹالنا چاہا۔
اچھا۔ وہ اداسی سے ہنسی۔ یعنی مسئلہ ابھی تک نبٹا نہیں ہے، کیا کہہ رہی تھی؟
صاف انکار۔ انہوں نے گہری سانس لی۔
عبدالرحمن چلا گیا؟ اس نے بات پلٹ دی۔
ہاں، آج صبح کی فلائٹ تھی نا۔
واپسی کا نہیں بتایا؟
کہہ رہا تھا، دو سے تین ماہ لگ جائیں گے اور شاید اس دفعہ وہ واپس نہ آئے۔
جانے دو آنے! وہ ہر دفعہ یہی کہتا ہے۔ وہ اداسی سے مسکرا کر بولی۔ ایک ہاتھ سے ابھی تک وہ پرس میں کچھ تلاس کر رہی تھی۔
آنے! تمہیں پتا ہے، عائشے مجھ سے ناراض ہے۔ بہارے اپنے نٍنھے ننھے سے جوتوں کے تسمے کھولتے ہوئے بتانے لگی۔ آنے نے حیرت سے میز کے ساتھ کھڑی عائشے کو دیکھا، جس کی ان کی طرف پشت تھی۔کیوں؟
کیونکہ سات دن کی تربیت کے بعد آپ کی چہیتی پہ یہ اثر ہوا کہ آج یہ بازار میں عین سڑک کے وسط میں کھڑی اپنا پونچو کہیں گرا کر، سیاحوں کے کیمروں میں تصویریں بنوارہی تھی۔
ارے! تم اسے سمجا دو نا، ناراض نا ہو۔
کس کس کو سمجھاؤں؟ سفیر کہتا ہے اس کے ماں، باپ کو سمجھاؤں۔ اس کے ماں باپ کہتے ہیں سفیر کو سمجھاؤں۔ آپ کہتی ہیں بہارے کو سمجھاؤں، بہارے کہتی ہے میں خود کو سمجھاؤں اور عبدالرحمن کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر سر جھٹک کر پرس کی چیزیں ایک ایک کرکے باہر نکالنے لگی۔
عبدالرحمن کیا کہتا ہے؟
کچھ نہیں۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ پھر ذارا سی گردن موڑ کر بہارے کو دیکھا، جو چہرہ ہتھیلیوں پہ گرائے آنے کے ساتھ بیٹھی تھی۔
آج تم نے مجھے بہت خفا کیا ہے بہارے! میں نے کہا تھا نا کہ اچھی لڑکیاں ایسے نہیں کرتیں۔
تو اچھی لڑکیاں کیسے کرتی ہیں عائشے گل؟ بہارے نے منہ بگاڑ کر اس کی نکل اتاری۔
اچھی لڑکیاں اللہ تعالی کی بات مانتی ہیں۔ وہ ہر جگہ نہیں چلی جاتیں، وہ ہر کسی سے نہیں مل لیتیں، وہ ہر بات نہیں کر لیتیں۔ اس نے پرس میز پہ الٹ کر جھاڑا۔
تو پھر میں بری لڑکی ہوں؟ بہارے پل بھر میں رونکھی ہو گئی۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی لڑکی بری نہیں ہوتی۔ بس اس سے کبھی کبھی کچھ ایسا ہو جاتا ہںے، جو برا ہوتا ہے، جس پہ اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ اور جانتی ہو جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو وہ کیا کرتا ہے؟
کیا؟
جب وہ ناراض ہوتا ہے تو وہ انسان کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے اور جانتی ہو کہ اکیلا چھوڑنا کیا ہوتا ہے؟ جب بندہ دعا مانگتا ہے تو وہ قبول نہیں ہوتی۔ وہ مدد مانگتا ہے تو مدد نہیں آتی۔ وہ راستہ تلاشتا ہے تو راستہ نہیں ملتا۔ وہ اب میز پہ نکلی اشیا الٹ پلٹ کر رہی تھی۔ خالی پرس ساتھ ہی اوندھا رکھا تھا۔
کیا ڈھونڈ رہی ہو؟
سفیر نے اپنی ممی کو چابیاں دینے کے لیے کہا تھا۔یہیں پرس میں رکھی تھیں۔ پتا نہیں کہا چلی گئیں۔عبدالرحمن ٹھیک کہتا ہے، عائشے گل کبھی کچھ نہیں کرسکتی۔
وہ یہ اس لئے کہتا ہے تاکہ عائشے گل سب ہی کچھ کرنا سیکھ جائے۔
ان کی بات پہ اس نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا اور چیزوں کو واپس پرس میں ڈالنے لگی۔ وہ چابی یقینا کہیں اور رکھ کر بھول گئی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••
آنے والے چند دنوں میں پرھائی کا بوجھ ذرا بڑھ گیا اور کلاسز کا شیڈول پہلے سے سخت ہوگیا تو وہ دونوں ٹیسٹ تیار کرنے اور دینے میں ایسی مصروف ہوئی کہ کہیں آ، جا نہیں سکیں۔
وہ وسط مارچ کے دن تھے۔ استنبول پہ چھایا کہر ٹوٹ رہا تھا اور بہار کی رسیلی ہوا ہر سو گلاب اور ٹیولپس کھلا رہی تھی۔ اب صبح سویرے گھاس پہ برف کی جمی سفید تہہ نظر نہیں آتی تھی اور سبانجی کا سبزہ اپنے اصل رنگ میں لوٹ رہا تھا۔۔ ایسے ہی ایک دن ان دونوں نے ٹاپ کپی پیلس (میوزیم) جانے کا پروگرام بنایا، مگر اسی وقت ہالے آ گئی۔ اس کے پاس دوسرا پروگرام تھا۔
میلو کینٹ میں میلاد ہو رہا ہے، چلو گی؟
کیوں نہیں، اس بہانے تھوڑا سا ثواب ہی کما لیں گے، ورنہ میں نے اور حیا نے ایسے ت کوئی نیکی کرنی نہیں ہے۔ ڈی جے اپنا پرس بند کرتے ہوئے بولی تھی۔
ویسے ربیع الاول ختم ہو چوکا ہے یہ ہونے والا ہے؟
ہو چکا ہے، یہ تع اسٹوڈنٹس کا میلاد ہے اور پڑھائی کے باعث ملتوی ہوتا جا رہا تھا۔ اس لیے اتنا لیٹ کیا ہے، اب چلو۔
میلاد میں درس دینے والی لڑکی اونچی چوکی پہ بیٹھی تھی۔ سامنے رکھی چھوٹی میز پر کھلی کتاب سے پڑھ کر ترک میں درس دے رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ ایک شرمندہ نگاہ سامنے دیگر لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی حیا اور خدیجہ پہ بھی ڈال لیتی جو سروں پہ ڈوپٹے لپیٹے بہت توجہ سے درس سن رہی تھی۔ مدرس لڑکی سخت شرمندہ تھی۔ حاضرین کی انگریزی اچھی نہیں تھی۔ اس لیے اس کی مجبوری تھی کہ اسے ترک میں درس دینا پڑ رہا تھا اور اسے یقین تھا کہ بظاہر بہت توجہ اور غور سے سنتی پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس کو سمجھ کچھ نہیں آ رہا۔
درس ختم ہوا تو وہ لڑکی ان کی طرف آئی اور بہت معزرت خواہانہ انداز میں ان کو دیکھا۔
آپ کی سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا ہو گا؟
لیں! سمجھ کیوں نہیں آیا۔ ڈی جے نے ناک سے مکھی اڑائی۔ پہلے آپ نے حجر اسود کو چادر پہ رکھنے والا واقعہ بتایا، پھر غار حرا، وحی، مسلمانوں کی ابتدائی تکالیف، حضرت ابوبکرصدیق کی قربانیاں، ابو جہل بن ہشام کی گستاخیاں، حضرت عمر کا قبول اسلام، ہجرت مدینہ پھر غزوہ بدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی نے بے یقینی سے پلکیں جھپکائیں۔
آپ کو ترک آتی ہے؟
ترک نہیں آتی، مگر اپنی ہسٹری ساری سمجھ میں آتی ہے۔ وہ جوابا ہنس کر بولی۔ ترک اردو جیسی ہی لگتی تھی اور وہ واقعتا صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے اسماء کے باعث سب سمجھ پا رہی تھی۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ! وہ اتنی خوش ہوئی کہ اس کا چہرہ گلابی پڑ گیا۔
میلاد ختم ہوا تو ہالے کی امی کا فون آگیا۔ انہیں کوئی ضروری کام تھا۔ سو ہالے نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت کر لی۔ اب انہیں ٹاپ قپی پیلس جانا تھا۔
دو لوگ اکیلے تو نہیں ہوتے۔ وہ ٹاقسم اسکوائر پہ بس سے اتریں تو حیا نے اسے تسلی دی۔ ڈی جے ہنس دی۔
پھر بھی تیسرے کو ساتھ لینے میں کیا حرج ہے؟
وہ استقلال اسٹریٹ کی جانب مڑیں تو قدم خودبخود برگر کنگ کی جانب اٹھنے لگے۔
وہ چلے گا ہمارے ساتھ؟ اس روز کتنا غصہ کیا تھا اس نے، یاد ہے؟
وہ اس لیے کہ تمہیں ڈھونڈتے ہوئے وہ بہت فکرمند اور پریشان ہو گیا تھا۔ مگر اب تھوڑا سا اصرار کریں گے تو ضرور چلے گا۔
استقلال اسٹریٹ ویسے ہی رش سے بھری تھی۔ وہ دونوں بازو میں بازو ڈالے تیز تیز چل رہی تھیں۔ یہ ان کی دوستی کی علامت ہرگز نہیں تھی۔ بلکہ اسٹریٹ کے جیب کتروں سے بچاؤ کے لئے وہ اپنے ملے کندھوں سے پرس لٹکاتی تھیں تاکہ چھینے نا جا سکیں۔ حیا تو اس واقعہ کے بعد بہت محتاط ہوگئی تھی۔ اب بھی اس نے اپنے سفید کوٹ کے اوپر پرس یوں ڈال رکھا تھا کہ بائیں کندھے سے اسٹریپ گزار کر دائیں پہلو سے پرس لٹک رہا تھا۔ بال کھلے تھے اور ڈوپٹہ گردن کے گرد لپٹا تھا۔ ڈی جے نے بھی اسی طرح شلوار قمیض پہ سیاہ لبما کوٹ پہن رکھا تھا۔
برگر کنگ میں خوب گہما گہمی تھی۔ اشتہا انگیز سی مہک سارے میں پھیلی تھی۔ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے کچن کی طرف کھلتے دروازے کی طرف آئیں۔ سامنے طویل سا کچن تھا۔ ادھر ادھر ایپرن اور ٹوپیاں پہنے، دو، چار افرد آ، جا رہے تھے۔ ایک سلیب کے ساتھ وہ بھی کھڑا تھا۔ جینز اور شرٹ پہ سفید ایپرن پہنے، ہاتھ میں بڑا ٹوکا لیے وہ کٹنگ بورڈ پہ رکھے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو کٹھا کھٹ کاٹ رہا تھا۔
گڈ ما آ آآآر ننگ منیجر!
دونوں نے چوکھٹ میں کھڑے ہو کر با آواز بلند پکارا تو اس کا تیزی سے چلتا ہاتھ روکا۔ اس نے گردن اٹھا کہ ان کو دیکھا، پھر سر سے پاؤں تک ان کا جائزہ لیا۔
دونوں جوگرز پہنے پھولے ہوئے ہینڈبیگز اٹھائے ہوئے تھیں۔ حیا کے ہاتھ میں رول کیا ہوا استنبول کا نقشہ تھا اور ڈی جے کے ہاتھ میں ایک گائیڈ بک۔ گویا کہ وہ پوری پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں۔
گڈ مارننگ! وہ واپس گوشت کی طرف متوجہ ہوا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹی سی اسٹینڈ پہ لگی تختی اٹھا کر سامنے کاؤنٹر پر پٹخ کر رکھی۔اس پہ لکھا تھا۔
آئی ایم بزی، ڈو ناٹ ڈسٹرب۔
حیا اور خدیجہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر حیا وہیں چوکھٹ کے ساتھ ٹیک لگائے بازو سینے پہ لپیٹ زیر لب مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی، جبکہ خدیجہ مسکراہٹ دبائے آ گے بڑھی۔
ہم ٹاپ قپی پیلس جا رہے ہیں! خدیجہ نے کاونٹر کے سامنے آ کر اطلاع دی۔
استقلال اسٹریٹ سے باہر نکلو، ٹاقسم سے میونسپٹی بس پکڑو، وہ پہنچا دے گئی۔ وہ سر جھکائے ایک ہاتھ سے گوشت کا ٹکڑا پکڑے دوسرے سے کھٹ کھٹ چھڑا چلا رہا تھا۔
مگر ہمیں ایک ہینڈسم گائیڈ بھی چاہیئے۔
ہینڈسم گائیڈ ابھی مصروف ہے۔ کسی غیر ہینڈسم گائیڈ سے رابط کرو۔
ڈی جے نے پلٹ کر حیا کو دیکھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے شانے اچکائے وہ واپس جہان کی طرف گھومی۔
تو آپ ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے؟
بالکل بھی نہیں۔ تم میں سے پھر کوئی ٹاپ قپی کے قلعے میں گم ہو جائے گی اور میرا پورا دن برباد ہو گا۔
ایک دفعہ پھر سوچ لیں۔
لکھ کر دے دوں؟ وہ کہتے ہوئے ٹکڑوں کو ایک طرف ٹوکری میں رکھنے لگا۔ اس کے ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات بتائیں، استقلال اسٹریٹ میں جیب کترے ہوتے ہیں نا؟ ڈی جے نے اس کے سلور اسمارٹ فون کو دیکھتے ہوئے کہا جو قریب ہی چارجنگ پہ لگا تھا۔
ہاں!
تو سمجھیں آپ کی جیب کٹ گئی۔ ڈی جے نے ہاتھ بڑھا کر فون اچکا، تار نکالی اور حیا کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔ فون والا ہاتھ اس نے کمر کے پیچھے کر لیا۔
کیا مطلب؟ اسے شدید قسم کا جٹھکا لگا تھا۔ وہ ہاتھا روک کر انہیں دیکھنے لگا تھا۔
مطلب یہ کہ اگر آپ ہمارے ساتھ ٹاپ قپی پیلس نہیں چلیں تو ہم اس موبائل کو بیچ کر آدھا جواہر تو خرید ہی لیں گے۔ ویسے فون اچھا رکھا ہوا ہے آپ نے۔ وہ الٹ پلٹ کر کے موبائل دیکھنے لگی۔ پاکستانی روپوں میں دو، ڈھائی لاکھ سے کم کا تو نہیں ہو گا۔
وہ چھرا رکھ کر ان کے سر پہ آ پہنچا۔
میرا فون واپس کرو۔ کڑی نگاہوں سے انہیں دیکھتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھایا۔ ٹاپ قپی سے واپسی پہ دے دوں گی۔ وعدہ!
مطلب تم لوگ مجھے یرغمال بنا کر لے جاؤ گی؟
کوئی شک! وہ پہلی دفعہ بولی۔
ٹھیک ہے؟، مگر یہ آخری بار ہے، پھر میں کبھی تم دونوں نکمی لڑکیوں کے ساتھ اپنا دن برباد نہیں کرو گا۔ وہ ایپرن گردن سے اتارتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔ اور اگر آج تم دونوں میں سے کوئی کھوئی تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔ ہاتھ دھو کر جیکٹ پہنتا وہ ان کے ساتھ باہر نکلا۔
ٹاپ قپی سرائے کے سامنے وہ سبزہ زار پہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ حیا درمیان میں تھی اور وہ دونوں اس کے اطراف میں۔
جہان! یہ ٹاپ قپی سرائے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
میں ایک یرغمال شدہ گائیڈ ہوں اور یرغمالی عموما خاموش رہتے ہیں۔ وہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے چیونگم چباتا شا نے اچکا کر بولا۔
میں بتاتی ہوں؛ ٹاپ قپی کا ٹاپ دراصل اردو والا توپ ہی ہے، جیسے تقسیم ٹاقسم بنا، ویسے ہی توپ ٹاپ بن گیا۔ قپی کہتے ہیں گیٹ کو سرائے ہو گیا محل، سو توپ قپی سرائے بنا Canon Gate palace آئی ایم اے جینیئس۔ ہے نا جہان؟
میں نہیں بول رہا۔ وہ سخت خفا تھا۔
ٹاپ قپی پیلس چار سو سال تک سلاطین کا محل رہا تھا۔ سرمئی عظیم الشان قلعہ نما محل جہاں خاص کمروں کے پہرے دار گونگے، بہرے ہوا کرتے تھے، تاکہ راز محل سے باہر نہ نکلیں۔ اور جس کے کون نما مینار شاہانہ انداز میں اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ سلطان کا عظیم ورثہ اور اثاثے۔ چینی پورسلین کے نیلے اور سفید رنگ کے ایسے برتن جن میں اگر زہر ملا کھانا ڈالا جاتا تو برتن کا رنگ بدل جاتا۔ چھیاسی قیراط کے جواہرات سے مزین سلطان کے شاہی لباس نگاہوں کو خیرہ کرتے تھے۔
یہ منحوس گارڈ ہمارے سر پہ نہ کھڑا ہوتا تو میں کسی طرح دو، چار ہیرے تو توڑ ہی لیتی۔ ڈی جے ان آنکھیں چندھیا دینے والے قیمتی پتھروں کو دیکھ کر سخت ملال میں گھر چکی تھی۔
پویلین آف ہولی مینٹل کے حصے میں دینی متبرکات تھے۔
وہ ایک اونچا ہال تھا۔ منقش درودیوار، رنگ برنگی ٹائلز سے سجے چمکتے فرش، بلند وبالا ستون۔ حیا اردگرد نگاہیں ڈوراتی شیشے کی دیواروں میں مقید تاریخی اشیاء کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔
حیا ارد گرد نگاہیں دوڑاتی شیشے کی دیواروں میں مقید تاریخی اشیاء کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ دفعتا ایک جگہ رکی اور شوکیس میں سجے ایک تبرک کو دیکھا۔ وہ ایک ٹیڑھی رکھی ہوئی چھڑی تھی۔ بھوری سی چھڑی جو شیشے میں مقید تھی۔ وہ گردن ترچھی کر کے اس کو دیکھنے لگی، پھر ادھر ادھر نگاہیں ڈورائی۔ کیشپن سامنے ہی لگا تھا۔
اسٹاف آف موسئ
(حضرت موسئ علیہ السلام کا عصا)
اس کی سیکڑ کر پڑھتی آنکھیں پوری کھل گیئں۔ لب بھی نیم وا ہو گئے۔ لمحے بھر بعد وہ دور کھڑی ڈی جے کا بازو قریبا ڈبوچ کر اسے ادھر لائی۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت موسئ علیہ السلام کا عصا ہے۔
ریئلی، اس نے بے یقینی سے پلکیں جھکیں۔ مگر یہ ان کے پاس کیسے پہنچا؟
وہ دونوں گھوم پھر کر ہر زاویے سے اس کو دیکھنے لگیں۔ جہان بھی جیبوں میں ہاتھ ڈالے خاموشی سے چلتا ان کے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کے لیے تو سب پرانا تھا۔ مگر وہ دونوں تو مارے جوش کے راہداری میں آ گے پیچھے ایک ایک تبرک کی طرف لپک رہی تھی۔ ان کے دوپٹے سروں پہ آ گئے تھے۔
کعبہ کا تالا، حضرت داود علیہ السلام کی تلوار، حضرت یوسف علیہ السلام کا صافہ، ابراہیم علیہ السلام کا برتن، آپ صلی عنہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان، آپ کا لباس، دانت مبارک، آپ کی تلوار اور بہت سے صحابہ کی تلوار۔
ڈی جے! کیا یہ شیشے کی دیوار غائب نہیں ہو سکتی؟ اور ہم اس تلوار کو چھو نہیں سکتے؟ وہ دونوں نبی پاک ﷺ کی تلوار کے سامنے کھڑی تھی۔ کوئی ایسا مقناطیسی اثر تھا اس تلوار میں کہ مقابل کو باندھ دیتا تھا۔
مگر ہم اس قابل کہاں ہیں حیا؟ خدیجہ نے تاسف سے سر ہلایا۔
وہ ابھی تک یوں ہی اس تلوار کو دیکھ رہی تھیں۔
اگر ہم اس کو چھو سکتے تو جانتی ہو کیا ہوتا؟ چودہ صدیوں کا فاصلہ ایک لمس میں طے ہو جاتا مگر ہمارے ایسے نصیب کہاں؟
جہان! یہ سب تبرکات اصلی ہیں نا؟
جہان نے دھرے سے شانے اچکائے۔
میں نے کبھی نہ ان پہ ریسرچ کیا، نہ کوئی ریسرچ پڑھا۔ قومی امکان ہے کہ یہ سب اصلی ہیں۔ کہنے والے کہتے تو ہیں کہ مسلمانوں کے ریلکس (تبرکات) بھی اتنے ہی نقلی ہیں جتنے عیسائیوں کے، مگر اللہ بہتر جانتا ہے۔
یہ اصلی ہیں، میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ یہ سب ہمارے انبیاء سے وابستہ رہنے والا اشیاء ہیں۔
تحریک خلافت انہی متبرکات اور مقامات مقدمہ کے تحفظ کے لئے چلائی گئی تھی۔ ڈی جے کو معاشرتی علوم کا بھولا بسرا سبق یاد آگیا۔
ٹاپ قی پیلس میں خوب گھوم پھر کر جب وہ باہر نکلے تو جہان نے اپنا موبائل واپس مانگا۔
یہ لیں! کیا یاد کریں گےاور فکر نہ کریں، ہم نہ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔ سکیورٹی لاک کوئی پاس ورڈ ہوتا تو میں کھولنے کی ضرور کوشش کرتی مگر آپ نے تو فنگر پرنٹ انٹری لگا رکھی ہے۔ ڈی جے کے ہاتھ سے فون لیتے ہوئے وہ مسکرایا تھا۔
ٹاپ قپی کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ سے جہان نے ان کو بہت اچھا سا کھانا کھلایا۔ ترکی کا اب تک کا بہترین کھانا اور کھانے کے دوران ہی خدیجہ سر درد شکایت کرنے لگی۔ جب تک کھانا ختم ہوا، وہ بہت پژمردہ سی لگنے لگی تھی۔ اس کا سر ایک دم ہی درد سے پھٹنے لگا۔
میرا خیال ہے میں واپس ڈورم جا کر ریسٹ کروں، تم لوگ اکیلے گھومو پھرو۔ اس کی طبیعت واقعی خراب لگ رہی تھی۔ سو انہوں نے اسے جانے دیا۔ وہ چلی گئی تو وہ دونوں ٹاپ قپی پیلس کی پچھلی طرف آگئے۔
وہاں ایک وسیع و عریض سفید سنگ مرمر کے چمکتے فرش والا برامدہ تھا۔ جسے اونچے سفید ستونوں نے تھام رکھا تھا۔ برآمدے کے آگے فاصلے فاصلے پر چوکور چپوترے سے بنے تھے جن کے سامنے ٹیرس کی طرح چند گز چورا کھلا احاطہ تھا۔ اس کے آگے اونچی سفید منڈیر بنی تھی۔ وہاں کھڑے ہو کر منڈیر پہ کہنیاں رکھ کر دیکھو تو نیچے بہتا مرمرا کا جھاگ اڑاتا سمندر دکھائی دیتا تھا۔ وہ جگہ اتنی خوب صورت تھی کہ دل چاہتا انسان صدیوں تک وہاں بیٹھا سمندر دیکھتا رہے۔
تھک گئے ہو؟ دونوں ستون کے ساتھ ٹیک لگائے چبوترے کے کنارے بیٹھے تھے۔ جب حیا نے پوچھا۔اسے جہان ذرا تھکا تھکا لگا تھا۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔ ذرا سا بخار ہے شاید۔
اس نے خود ہی اپنا ماتھا چھوا پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جیکٹ کی جیب سے گولیوں کی ڈبی نکالی۔ ڈھکن کھول کر ڈبی ہتھیلی پہ الٹی دو گولیاں الگ کی اور ڈبی بند کرتے ہوئے دونوں گولیاں منہ میں ڈالیں پھر نگل گیا۔
میرے پاس پانی تھا۔ وہ اپنا پرس کھولنے لگی لیکن تب وہ نگل چکا تھا۔
تم ٹھیک ہو؟ وہ تشویش سے اس کا چہرا دیکھ رہی تھی۔ صبح ریسٹورنٹ سے نکلتے ہوئے اسے یوں ہی جہان کی آواز دھیمی لگی تھی۔ مگر اس نے پوچھا نہیں اب شاید اس کا بخار شدید ہو گیا تھا۔ کیونکہ چہرے پہ اثرات آنے لگے تھے۔ سرخ ہوتی آنکھیں اور نڈھال سا چہرہ۔
بس میں نے دیکھ لیا سمندر، اب واپس چلتے ہیں۔تمہیں گھر جا کر ریسٹ کرنی چاہیے۔
گھر جاتے جاتے گھنٹہ لگ جائے گا۔ میں نے ابھی دوائی لی ہے۔ اس کا اثر ہونے میں ذرا وقت لگے گا۔ابھی یہیں بیٹھتے ہیں۔ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے تکان سے کہ رہا تھا۔
چند لمحے خاموشی سے بیت گئے۔ ان چبوتروں پہ دور دور تک ٹولیوں کی صورت میں سیاح بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ بہت سے لوگ آ گے منڈیر کے ساتھ کھڑے ہوئے سمندر کو دیکھ رہے تھے۔
میں تھوری دیر یہاں لیٹ جاؤں تم اکیلی بور تو نہیں ہوگی؟ ابھی میں واپس نہیں جانا چاہتا۔ میری لینڈ لیڈی شاید آج آئے جھگرا کرنے۔ میں فی الحال اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔
نہیں نہیں تم لیٹ جاؤ۔ یہ شال لے لو۔ اس نے بیگ سے شال نکال کر اسے تھمائی۔ وہاں ٹھنڈی ہوا بہت تیز تھی۔ یہ شال وہ اور ڈی جے بطور پکنگ میٹ کے استمال کرتی تھیں۔
تھینکس وہ ستون کے ساتھ فرش پہ لیٹ گیا۔ آنکھوں پہ بازو رکھے وہ گردن تک شال کمبل کی طرح ڈالے کب سو گیا اسے پتا نہیں چلا۔ اسے یقینا بہت سردی لگ رہی تھی۔
وہ اس سے ایک زینہ نیچے آ بیٹھی تھی۔ ہر چند لمحے بعد گردن موڑ کر اوپر جہان کو دیکھ لیتی تھی۔وہ سو چکا تھا۔
سمندر کی لہروں کا شور وہاں تک سنائی دے رہا تھا۔وہ اپنا ترکی والا موبائل نکال کر یوں ہی ان باکس نیچے کرنے لگی۔ وہاں چند دن پہلے کا ایک ایس ایم ایس ابھی تک پڑا تھا۔ اس نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔ اور کئی دفعہ پڑھ لینے کے باوجود مٹایا نہیں تھا۔وہ بیوک ادا سے واپسی کے اگلے روز انڈیا کے ایک غیر شناسا موبائل نمبر سے آیا تھا۔
مجھے آپ کے جواب سے خوشی نہیں ہوئی، مگر میں آپ کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ آج کے بعد آپ سے کبھی رابط نہیں کروں گا۔ جو تکلیف میں نے آپ کو پہنچائی اس کے بدلے میں اگر آپ مجھے معاف کر دیں تو یہ آپ کی بڑائی ہوگی اور اگر کبھی آپ کو استنبول میں کوئی مسئلہ ہو سرکاری کام ہو یا غیر سرکاری کام قانونی غیر قانونی مجھے صرف ایک ایس ایم ایس کر دیجئے گا آپ کا کام ہو جائے گا۔ اے آر پی۔
اس پیغام کے بعد اس شحخص نے واقعتا کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ وہ اب استنبول میں بہت آزادی سے بہت مطمئن دل و دماغ کے ساتھ گھومتی تھی۔ اسے پہلے کی نسبت اب اے آر پی سے ڈر نہیں لگتا تھا مگر اس وقت وہ پیغام دوبارہ پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک خیال کوندے کی طرح لپکا۔
اس نے پلٹ کر احیتاط سے جہان کو دیکھا۔
وہ آنکھوں پہ بازو رکھے سو رہا تھا۔ وہ واپس سیدھی ہوئی اور رپلائی کا بٹن دبایا۔ اس پیغام کا جواب اسے کبھی نہ کبھی تو دینا ہی تھا۔
اس نے سوچا تھا کہ خوب غوروفکر کر کے کچھ ایسا لکھ کر بھیجے گی وہ بھڑکے بھی نہیں اور دوبارا اس کا پیچھا بھی نہ کرے سو اچانک اسے ایک عجیب سا خیال آیا تھا۔
جہان کو صرف بخار نہیں تھا۔ وہ پریشان بھی تھا۔اسے وہ بیوک ادا والے ٹرپ کے مقابلے میں ذرا کمزور لگا تھا۔ گردش معاش کے جمیلوں میں پھنسے اس انسان کی وہ ایک مدد کر سکتی تھی تو اس میں آخر حرج ہی کیا تھا۔
وہ کافی دیر سوچتی رہی پھر اس نے جواب ٹائپ کرنا شروع کیا۔
آپ کی وسیع النظری کا شکریہ۔ مجھے واقعتا استنبول میں ایک کام درپیش ہے۔ اگر آپ میری مدد کریں تو میں اسے آپ کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیت کا مداوا سمجوں گی۔
اس نے پیغام بھیج دیا۔ اب وہ خاموشی سے بیٹھی سمندر کی لہریں دیکھنے لگی۔ وہ بیوک ادا اس کے گھر بھی تو چلی گئی تھی اور جب دروازہ بند ہوا تھا تو اسے لگا تھا وہ ایک سنگین غلطی کر چکی ہے۔ مگر اس غلطی کا نتیجہ بہت اچھا اور اطمینان بخش نکلا تھا۔ اسے احساس تھا کہ اب بھی اس نے غلطی کی ہے اور اس کا نتیجہ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ایک دم فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ وہ چونکی اور موبائل سامنے کیا۔ وہی انڈیا کا غیر شناسا نمبر تھا۔ وہ تو سمجھی تھی کہ ٹیکسٹ پہ بات ہو جائے بہت ہے مگر اسے اندزا نہیں تھا کہ وہ فون کر لے گا۔
وہ موبائل سنبھالتی اٹھ کر سامنے منڈیر کے پاس چلی آئی۔ اگر وہ یہاں کھڑے ہو کر بات کرے گی تو جہان تک آواز نہیں پہنچے گی۔
ہیلو اس نے فون اٹھایا۔
زہے نصیب زہے نصیب۔ آج آپ نے ہمیں کیسے یاد کر لیا۔ وہی عامیانہ سا مسکراتا لب و لہجہ اسے اپنی حرکت پہ شدید پشیمانی ہوئی تھی۔ ایک کام تھا۔ وہ احیتاط سے نپے تلے لہجے میں کہنے لگی۔ اور بہتر ہو گا کہ ہم کوئی بے کار کی بات کرنے کے بجائے کام کی بات کریں۔
آپ کی مرضی ہے حیا جی رابطہ بھی تو آپ نے ہی کیا ہے۔ ورنہ عبدالرحمن پاشا اپنے قول کا بہت پکا ہے۔شاید وہ طنز کر گیا تھا مگر وہ پی گئی۔
میرے کزن کا ریسٹورنٹ ہے استقلال اسٹریٹ پر برگر کنگ اس کی قسطیں ادا نہیں ہوئی۔ ریسٹورنٹ کی مالکہ آج کل میرے کزن کو تنگ کر رہی ہے۔ کیا وہ اسے سال دو سال کی مہلت نہیں دے سکتی۔
کون سا کزن؟ وہ جیسے چونکا تھا۔
حجج۔۔۔۔۔جہان سکندر وہ ہلکائی۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ ٹھیک کر رہی ہے یا غلط مگر وہ یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھی اسے اس پریشانی سے تھکتے بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اچھا تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے کزن کا یہ مسئلہ حل کردوں اور یہ کہ اس کی مالکہ اس کو پھر سے تنگ نہ کرے؟
جی!
وہ ہولے سے ہنس دیا۔
میں کچھ کرتا ہوں آپ فکر نہ کریں ۔
اس نے فون رکھ دیا اور سوچنے لگی کہ وہ ہنسا کیوں تھا۔
وہ واپس آکر جہان کے ساتھ بیٹھ گی چند لمحے لگے تھے اسے نارمل ہونے میں۔ اس نے وہی کیا جو اس کو ٹھیک لگا تھا۔اور اب وہ ذرا مطمئن ہوئی تھی۔
کافی دیر وہیں ستون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی رہی۔اس کے عقب میں ٹاپ قپی کا عظیم محل تھا اور سامنے مرمرا کا سمندر بہت لمحے محل کی دیواروں سے رینگتے مرمرا کے پانیوں میں گھل گئے تو ایک دم جہان کا موبائل بجا۔
وہ جیسے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ شال ہٹائی اور جیب سے موبائل نکالا۔ تب تک کال کرنے والا شاید کال کاٹ چکا تھا۔
ریسٹونٹ سے آرہی کال۔ میرا خیال ہے واپس چلتے ہیں۔ وہ چالاک لومڑی نہ آئی ہو کہیں۔ وہ پریشانی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا تم کیوں فکر کرتے ہو۔ وہ بڑے اطمینان سے کہتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔جہان نے اس کی بات پہ تھکے تھکے سے انداز میں نفی میں سر ہلا دیا تھا۔ کافی دیر بعد جب وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے استقلال اسٹریٹ میں داخل ہوئے تو حیا نے کہا۔
آج میں تمہارا برگر کھا کر جاؤں گی کیونکہ ڈی جے اور تم نے اپنی اپنی بیماری میں مجھے بالکل اگنور کر دیا ہے۔
کھا لینا۔ وہ دھیرے سے مسکرایا مگر اگلے ہی پل ٹھٹھک کر روکا۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب ہو گئی۔حیا نے اس کی نگاہوں کی تعاقب میں دیکھا۔
سامنے برگر کنگ تھا۔ اس کی شیشے کی دیوار میں بڑا سا سوراخ تھا اور اس سوراخ کے گرد مکڑی کے جالے کی مانند دراڑیں پڑی تھیں۔
وہ ایک دم تیزی سے دوڑتا ریسٹورنٹ کی طرف لپکا جبکہ وہ وہیں ششدر سی کھڑی رہ گئی۔ اس کی سماعتوں میں ایک قہقہہ گونجا تھا۔
دوسرے ہی پل وہ بھاگ کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی۔ اندر کا منظر دیکھ کر اس کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔
کھڑکیوں کے ٹوٹے شیشے الٹا بکھرا ٹوٹا فرنیچر اوندھی میزیں ٹکڑے ٹکڑے ہوئے برتن ہر جگہ توڑ پھوڑ کے آثار تھے۔ عملے کے ایک شخص کے ساتھ دو پولیس والے کھڑے تھے۔ ایک آفیسر ہاتھ میں پکڑے کلب بورڈ پہ لگے کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا۔
جہان وہ سب کچھ دیکھتا ان پولیس آفیسر کی طرف آیا۔ وہ اس سے کچھ پوچھ رہے تھے اور وہ صدمے اور شاک سے گنگ نفی میں سر ہلاتا کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔
یہ سب کیا ہے۔ اس نے قریب سے گزرتے شیف کو روک کر پوچھا۔ جوابا اس نے تاسف سے سر ہلا دیا۔
وہ گینگسٹرز تھے۔ ان کے پاس اسلحہ تھا۔ وہ اندر آئے اور پورا ریسٹورنٹ الٹ دیا۔ پولیس بھی بہت دیر سے پہنچی۔ وہ کہ کر آگے بڑھ گیا اور اس کا دل چاہ رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دے۔ یہ اس نے کیا کر دیا۔ کس شخص پہ بھروسہ کر لیا۔ اوہ خدایا۔
پولیس آفیسر کی کسی بات کے جواب میں کچھ کہتے جہان کی نگاہ اس پہ پڑی۔ جو بمشکل آنسو روکے کھڑی تھی۔ اس نے اسے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا۔ وہ وہیں کھڑی رہی وہ اس کی طرف آگیا۔
تم جاؤ۔ ٹاقسم سے بس پکڑلینا۔ میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔ وہ تھکا سا کہہ رہا تھا۔ اس کا چہرہ پہلے سے زیادہ پژمردہ اور تھکن زدہ لگ رہا تھا۔ وہ سر ہلا کر آنسو پیتی پلٹ گئی۔
یہ تم نے کیا کر دیا حیا! جو اس کے پاس تھا، اسے بھی ضائع کرا دیا؟ آئی ہیٹ یو حیا۔۔۔۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو۔۔۔۔
خود کو ملامت کرتی وہ خاموش آنسوؤں سے روتی واپس ٹاقسم جارہی تھی۔ ایک لمحے کو اس کا دل چاہا تھا کہ وہ فون کر کے اس شخص کو بے نقط سنائے مگر شاید وہ یہی چاہیتا تھا۔ رابطہ رکھنے کا کوئی بہانا۔ نہیں اب وہ اسے کبھی فون نہیں کرے گی۔
•••••••••••••••••••••
وہ گہری نیند میں تھی۔ سیاہ گھپ اندھیرے میں جب دور ایک چیختی ہوئی آواز نے سماعت کو چیرا۔
اندھیرے میں دراڑ پڑی۔ دور سے آتی آواز قریب ہوتی گئی۔ اس نے پلکیں جدا کرنی چاہیں تو جیسے ان پہ بہت بوجھ تھا۔
بمشکل آنکھیں کھلیں تو چند لمحے اسے حواس بحال کرنے میں لگے۔ اس نے ارد گرد دیکھا۔
ڈروم میں پر سکون سی نیم تاریکی چھائی تھی۔ کونے میں مدھم سا نائٹ بلب جل رہا تھا۔ ڈی جے ٹالی اور چیری اپنے اپنے بستروں میں کمبل ڈالے سو رہی تھی۔ دیوار پہ آویزاں بڑے کلاک کی چمکتی سویاں رات کے ایک بجنے کا بتا رہی تھیں۔
وہ چنگھاڑتی آواز ابھی تک آرہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: