Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 17

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 17

–**–**–

اس نے نیند سے بوجھل ہوتا سر دائیں طرف گھمایا، کہنی کے بل ذرا اوپر ہوئی اور تکیے تلے ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا۔ اس کا ترکی والا موبائل بج بج کر اسی پل خاموش ہوا تھا۔ دو مسڈ کالز، اس نے تفصیل کھولی تو چمکتی اسکرین سے آنکھیں پل بھر کو چندھیائیں۔ اس نے پلکیں سیکڑے ہاتھ سے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے اسکرین کو دیکھا۔ ”تایا فرقان موبائل“ ساتھ بریکٹ میں دو کا ہندسہ تھا۔ حیا نے اسکرین کے کونے پہ لکھے ٹائم کو دیکھا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ یہاں ایک بجا تھا۔ت پاکستان میں تین بجے ہوں گے۔
آدھی رات کو آنے والا فون اور مہمان کبھی اچھی خبر نہیں لاتے، اور نہ ریسیو کر سکنے والی کال اس برچھی کی مانند ہوتی ہے جو کوئی گھونپ کر نکالنا بھول گیا ہو۔
اس کی ساری نیند اور سستی پل بھر میں بھاگ گئی۔تایا اس وقت کیوں کال کر رہے تھے؟ وہ ٹھیک تو تھے؟ اماں، ابا راحیل سب ٹھیک تو تھے؟ پتا نہیں کیا مسئلہ تھا۔ وہ تڑپ کر واپس کال ملانے لگی، پھر یاد آیا کہ اس میں بیلنس نہیں تھا۔ اس نے بے بسی سے اپنے پاکستانی موبائل کو دیکھا جو تکیے کے اس طرف رکھا تھا۔ اس میں بھی بیلنس ختم تھا بلکہ اس فون میں تو ترکی آنے کے بعد بیلنس ہی نہیں ڈلوایا تھا۔
اس نے کمبل پھینکا اور سیڑھیاں پھلانگ کر نیچے اتری۔ وہ اپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ گلابی چیک والا ٹراؤزر اور کھلا لمبا کرتا۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل دو اپنا۔ اس نے ڈی جے کے بینک پہ چڑھ کر اس کو جھنجھوڑا ۔وہ بمشکل ہلی۔
نیند مت خراب کرو میری۔ سیدھی جہنم میں جاؤ گی تم۔ ڈی جے نے بند آنکھوں سے بڑبڑاتے ہوئے کروٹ بدلی۔ اس کا موبائل وہیں تکیے کے ساتھ رکھا تھا۔ حیا نے موبائل جھٹا اور نیچے اتری۔ ٹالی کے بینک کی کرسی کھینچ کر بیٹھی اور اپنے موبائل سے تایا کا نمبر دیکھ کر ڈی جے کے فون پہ ملانے لگی۔ فون نمبر حیا سیلمان کو کبھی زبانی یاد نہیں رہے تھے۔
نمبر ملا کر اس نے فون کان سے لگایا۔ لمحے پھر کی خاموشی کے بعد وہ مشینی نسوانی آواز ترکی میں کچھ بکنے لگی جس کا مطلب یہ تھا کہ ڈی جے ذلیل کا بیلنس بھی ختم تھا۔ اس نے جھنجھلا کر فون کان سے ہٹایا۔ یورپی یونین کا سارا اسکالر شپ استقلال اسٹریٹ اور جواہر میں شاپنگ پہ اڑا دینے والیوں کے ساتھ یہ ہی ہونا چاہیے تھا۔
اسی پل فون پھر سے بجا۔ تایا فرقان کالنگ۔ اس نے جھٹ سے کال اٹھائی۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔؟
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاس اس نمبر کے علاوہ کون سا دوسرا نمبر ہے؟ وہ تایا فرقان ہی تھے اور اتنے غصے سے بولے تھے کہ وہ کانپ گئی۔
جی۔۔۔۔۔۔۔ کیا؟
حیا! میرے ساتھ بکواس مت کرو، مجھے بتاؤ تمہارے پاس دوسرا کوئی نمبر ہے؟ وہ نیند سے جاگی تھی اور کبھی بھی اتنی حاضر دماغ نہیں رہی تھی۔ مگر ساری بات سمجھنے میں اسے لمحہ نہ لگا۔
ارم پکڑی گئی تھی۔ ارم آدھی رات کو کسی سے فون پر بات کرتی پکڑی گئی تھی۔
نہیں تایا ابا! میرے پاس یہی ایک نمبر ہے اور دوسرا یوفون کا جو آپ کے پاس آل ریڈی ہے۔
تمہارے پاس موبی لنک کا کوئی نمبر نہیں ہے؟
نہیں تایا ابا! آپ بے شک ابا سے پوچھ لیں۔ یہ نمبر ان کے نام ہے۔ اور میں نے دوسرا نمبر رکھ کر کیا کرنا ہے؟
اچھا ٹھیک ہے۔ انہوں نے کھٹ سے فون بند کر دیا۔ اس نے گہری سانس لے کر موبائل کان سے ہٹایا اور دوسرے ہاتھ سے چہرے پہ آئے بال سمیٹ کر پیچھے کیے۔
تو ارم فرقان اصغر پکڑی گئی تھی۔
میری ارم بھی تو ہے، مجال ہے جو بنا سر ڈھکے کبھی گھر سے نکلی ہو۔”
وہ ارم کے لئے متاسف بھی تھی اور فکرمند بھی، مگر دور اندر دل کے اس پوشیدہ خانے میں جو کوئی شخص دنیا کو نہیں دکھاتا، اسے تھوڑی سی کمینی سی خوشی بھی ہوئی تھی۔
“بہت اچھا ہوا تایا ابا!” اس دور کے خانے میں کسی نے کہا تھا۔ “اب تو آپ کو بھی معلوم ہو گیا ہو گا کہ دوسروں کی بیٹیوں پہ انگلیاں اٹھانے والے لوگوں کے اپنے گھروں پہ وہ انگلیاں لوٹ کر آتی ہیں۔ بہت اچھا ہوا تایا ابا!”
صبح سویرے اٹھتے ہی وہ اسی کرتے، ٹراوزر پہ ایک ڈھیلا ڈھالا سا سویٹر اور شال لپیٹ کر”دیا”سٹور آ گئی۔ بال اب اس نے کیچر میں باندھ لئے تھے اور اپنے گلابی قینچی چپل پہن لئے تھے۔
سٹور سے اس نے کارڈ خریدا، ری چارج کیا اور موبائل پہ اماں کا نمبر ملاتی باہر کیفے کے برآمدے میں بچھی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔ وہاں فاصلے فاصلے پہ گول میزوں کے گرد کرسیوں کے پھول بنے تھے۔ اسٹوڈنٹس صبح صبح یہاں ناشتہ کرنے آتے تھے۔ سامنے سبانجی کا خوبصورت فوارہ نصب تھا۔ گول چکر میں مقید فوارہ جس کی پانی کی دھار بہت اوپر جا کر نیچے گرتی تھی۔
“اتنی صبح صبح فون کیسے کیا، خیریت؟ فاطمہ ذرا فکر مند ہو گئیں۔
“تو کیا میں آپ کو ایسے یاد نہیں کر سکتی؟”وہ آرام دہ انداز میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھتی ذرا خفگی سے بولی۔
“ہماری ہاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹ ہمیں عموماً مسڈ بیل دیتی ہیں یا پھر کسی ایس ایم ایس ویب سائٹ سے مفت کا ایس ایم ایس کرکے کال کرنے کا کہتی ہیں تو ہم کال بیک کرتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ علی الصبح خود فون کریں تو حیرت تو ہو گی نا!”
“بس اماں! غربت ہی اتنی ہے، کیا کریں۔” وہ قینچی چپلوں میں مقید پیر جھلاتے ہنس کر بولی۔
“ہاں یورپی یونین نے وہ ہزاروں یوروز کا اسکالرشپ تو کسی اور کو دیا تھا نا۔” فاطمہ کی تشویش ختم ہو چکی تھی اور وہ اسی کے انداز میں بات کر رہی تھی۔
“وہ تو رینی ڈیز کے لئے سنبھال کر رکھا ہے”۔
“کون سے رینی ڈیز؟”
“اسپرنگ بریک اماں، اور یہاں اسپرنگ بریک کے دنوں میں خوب بارش ہوتی ہے۔ اس لئے میں اور ڈی جے اسپرنگ بریک میں پورا ترکی گھومنے کا سوچ رہے ہیں اور لگتا ہے آج کل آپ صائمہ تائی کی کمپنی میں رہ رہی ہیں، صبح ہی صبح طنز کیے جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا سب کچھ چھوڑیں، یہ بتائیں گھر پہ سب خیریت ہے؟”
“ہاں سب ٹھیک ہے۔”
“تایا فرقان کی طرف بھی؟” اس نے ہاتھ سے ویٹر کو اشارہ کیا۔ وہ قریب آیا تو اس نے مینیو کارڈ پہ بنے ڈونٹ پہ انگلی رکھی، پھر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنایا تو وہ سمجھ مر واپس مڑ گیا۔
“ہاں کیوں؟کسی نے کچھ کہا ہے؟”
“نہیں، مگر رات تایا کا فون آیا تھا۔ اچھا آپ جا کر ان کو کہہ مت آئیے گا۔”
“لو، میں کیوں کہوں گی؟” فاطمہ الٹا خفا ہوئیں، مگر وہ جانتی تھی کہ ماؤں کا بھروسہ نہیں ہوتا۔ لاکھ کہو کہ نہ بتائیےگا پھر بھی اپنے اگلے پچھلے حساب چُکاتے وقت کسی نہ کسی موقع پر اس بات کو استعمال کر ہی لیتی تھیں، مگر ایک اچھی بیٹی کی طرح سے پوری بات ماں کے گوش گزار کئے بغیر ڈونٹس کہاں ہضم ہونے تھے۔ سو ساری بات دہرا دی، بس ارم کا میسج پڑھنے والا قصہ گول کر گئی۔
“اچھا، پتہ نہیں، ہمیں تو کچھ نہیں پتہ چلا”۔ وہ کچھ دیر اسی بات پہ تبصرہ کرتی رہیں، پھر ایک دم یاد آنے پہ بولیں۔ لو، میں بتانا ہی بھول گئی، مہوش کی شادی طے ہو گئی ہے”۔ انہوں نے زاہد چچا کی بیٹی کا نام لیا، جس کی نسبت کافی عرصے سے اپنے ماموں زاد سے طے تھی۔
“اچھا، کب؟” اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ ترکی آتے وقت سنا تو تھا کہ اپریل کی کوئی تاریخ رکھیں گے، مگر اسےبھول گیا تھا۔
“ہفتہ ہو گیا ہے رکھے ہوئے، جب بھی بات ہوتی ہے، بتانا ہی بھول جاتی ہوں۔” پھر انہوں نے جو تاریخ بتائی وہ اپریل ان کی اسپرنگ بریک کے درمیان آتی تھی۔
“تب تو ڈی جے اور میں عظیم ترکی کی سیر کر رہے ہوں گے۔”
“سبین کو بلایا تو ہے، مگر کہہ رہی تھی کہ سکندر بھائی کی طبیعت آج کل خراب رہتی ہے، وہ نہیں آ سکے گی، میں نے کہا جہان کو بھیج دو’، اچھا ہے ساتھ حیا بھی آ جائےگی، دونوں شادی اٹینڈ کر لیں گے، مگر وہ کہہ رہی تھی کہ مشکل ہے۔”
اس نے فون کو کان سے ہٹا کر گھورا، اور پھر ہنس دی۔اماں بھی کبھی کبھی لطیفے سناتی تھیں۔ وہ انتہائی غیر رومانٹک سےماں، بیٹا کہاں مانتے ایسے رومانٹک ٹرپ کےلئے؟
اس نے سر جھٹک کر موبائل کان سےلگایا۔ فاطمہ کہہ رہی تھیں۔”ایک تو تمہاری پھپھو بھی کوئی بات غیر مبہم نہیں کرتیں”۔
“بالکل!”اس نےتائیدکی۔
ویٹر نے چاکلیٹ اور رنگ برنگے دانوں سے سجے دو ڈونٹس ٹیبل پر رکھے تو وہ الوداعی کلمات کہنے لگی۔ارم کے متعلق مزید جاننے کی فی الحال اسے طلب نہیں رہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••
“بیوک ادا؟ پھر بیوک ادا؟”
اس روز وہ شام میں جلدی سو گئی تھی، سو عشاء کے بعد آنکھ کھلی۔ کچھ دیر پڑھتی رہی، پھر روحیل سےاسکائپ پہ گھنٹہ بھر باتیں کیں اور اسے ترکی کا سفرنامہ سنا کر خوب بور کیا اور اب بھوک لگی تو کچن میں آئی تھی۔ ڈی جے نےآلو، مٹر بنایا تھا جو سالن کم اور کوئی گدلا پانی زیادہ لگ رہا تھا، جس میں مٹر، آلو، اور پیاز تیر رہے تھے وہ ناک چڑھاتے ہوئے اس مغلوبے کو گرم کرنے کے لئے پلیٹ میں ڈال ہی رہی تھی کہ ڈی جے نے پیچھے سے آ کر بتایا کہ اس نے ہالے اور انجم باجی کے ساتھ بیوک ادا جانے کا پروگرام بنا لیا ہے اور کل چھ بجے کی گورسل شٹل پکڑنی ہے۔
“بیوک ادا؟ پھر بیک ادا؟” وہ اوون کا دروازہ بند کرتی چونک کر پلٹی۔ پل بھر میں اس کی آنکھوں میں ناگواری سمٹ آئی تھی۔
“ہالے اور انجم باجی نے پروگرام بنا کر مجھ سے پوچھا تو میں نے ہامی بھرلی۔” پانی کی بوتل کو کھڑے کھڑے منہ سے لگاتے ہوئے ڈی جے نے شانے اچکائے۔
“اور یقیناً میری طرف سے بھی ہامی بھرلی ہو گی۔”
“بالکل!”
“میں کوئی نہیں جا رہی بیوک ادا، میری طرف سے انجم باجی کو انکار کر دو۔” وہ پلٹ کر چیزیں اٹھاپٹخ کرنے لگی۔ انداز میں واضح جھنجھلاہٹ تھی۔
“کیوں؟ اتنا خوبصورت جزیرہ ہے”۔
“مجھے نہیں جانا ادھر، بس کہہ دیا نا۔” وہ ریفریجریٹر کا اوپری فریزر کھولے پیکٹ ادھر ادھر کرنے لگی۔ بالوں کا ڈھیلا جوڑا اس کی گردن کی پشت پر جھول رہا تھا۔
“مگر کیوں؟”
“وہ عبدالرحمٰن پاشا کا جزیرہ ہے اور میں اس آدمی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی”۔ اس نے روٹیوں کا پیکٹ نکال کر فریزر کا دروازہ زور سے بند کیا۔ پیکٹ میز پہ رکھا۔ جمی ہوئی دو روٹیاں نکالیں اور پلیٹ میں رکھیں۔ ان میدے کی بنی ترک روٹیوں کا نام انہیں معلوم نہیں تھا۔ بس”دیا”اسٹور پہ وہ فریزر میں نظر آئی تھیں اور اتنی سمجھ تو انہیں تھی کہ انہیں مائیکروویو میں گرم کر کے کھاتے ہیں؟ تب سے وہ یہی روٹیاں کھا رہی تھیں۔
ڈی جے اس کے رعٹی اوون میں رکھنے تک سکتے سے باہر آ چکی تھی۔
“عبدالرحمٰن پاشا؟ وہ جس کا ذکر ہماری ہوسٹ آنٹی نے کیا تھا؟”
“ہاں وہی، کرمنل، اسمگلر!”
“مگر اس کا کیا ذکر؟ ہالےنےکہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہالے کو چھوڑو، میں سب بتاتی ہوں، پہلے کیچپ لاؤ پھرانجم باجی کو کال کر کے کل کا پروگرام کینسل کرو۔”
کھانا کھا کر وہ دونوں باہر آ گئیں۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ دونوں نے اونی سوئیٹر پہن رکھے تھے۔ وہ ڑورم بلاک سے نکل کر باتیں کرتے سبزہ زار پہ چلتی گئیں۔پہلے ڈی جے نے انجم باجی کو فون کر کے معذرت کی اور جب اسے لگا کہ وہ ذرا ناراض ہو گئی ہیں، کیونکہ ان دونوں نے خاصی پاکستانی حرکت کی تھی اور ترکی میں کمٹمنٹ توڑنا بہت بُرا سمجھا جاتا تھا۔ سو اس پاکستانی حرکت کو سنبھالنے کے لئےحیا نےفون لے لیا اور انہیں بتایا کہ اس کی پھپھو نے کل اسے اور اس کی فرینڈ کو اپنےگھر انوائیٹ کیا ہے۔ سو انجم باجی اس کی دعوت قبول کر کے اب کےساتھ چلیں، بیوک ادا پھر کسی روز چلے جائیں گے۔ یوں انجم باجی مان گئیں اور اب وہ دونوں چلتے چلتے “دیا” اسٹور کے سامنے والے فوارے کی منڈیر پہ آ بیٹھی تھیں۔ فوارے کا پانی چھینٹے اڑاتا ہوا نیچے گر رہا تھا اور اس پانی میں بنتے مٹتے بلبلوں کو دیکھتے ہوئےحیا نے ساری کہانی الف تا یے اس کو سنا ڈالی۔
ڈی جے کتنی دیر تو چُپ بیٹھی رہی، پھرآہستہ آہستہ سوچ کر کہنے لگی۔
“تو وہ پنکی میجر احمد تھا، جو ہمیں مارکیٹ میں ملا تھا؟”
“بالکل!”
“اور ڈولی اصلی خواجہ سرا تھا؟”
“شاید، وہ ان کا پُرانا ملازم ہے۔”
“اور تم منہ اٹھا کر اس کے گھر چلی گئیں؟”
“منہ اٹھا کر کیا! میرا پاسپورٹ تھا اس پرس میں اور اچھا ہی ہوا، ساری بات تو کلئیر ہو گئی۔” وہ اپنی غلطی مانتی، یہ نا ممکن تھا۔
“مگر تم نے اسےفون کر کے بہت غلطی کی۔”
“تو بگھت رہی ہوں نا وہ غلطی۔ اس ظالم شخص نے یہ نہیں سوچا کہ جہان کے پاس اس ریسٹورنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اس نےاسی کو تباہ برباد کر دیا۔ اب یقیناً وہ اس کی لینڈ لیڈی کو شہہ دے گا کہ وہ ریسٹورنٹ واپس حاصل کر لے۔” وہ سخت نادم تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے، وہ تم سے واقعی محبت کرتا ہے؟”
“کسی کو اذیت پہنچانا محبت نہیں ہوتی۔”
کچھ دیر وہ یوں ہی اسی بات کو ہر پہلو سے ڈسکس کرتی رہیں، پھر ڈی جے نے ہاتھ اٹھا کر حتمی انداز میں کہا۔
“ایک بات تو طے ہے، اب یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ وہ اب تمہارے پیچھے نہیں آئےگا۔ “
وہ سر ہلا کر اٹھ گئی۔
“ہوں!” رات بہت بیت چکی تھی، اب ان کو واپس جانا تھا۔
سبزہ زار پہ چلتے ڈورم بلاک کی طرف بڑھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ اپنے مسئلےکسی کو بتانے سے وہ حل نہیں ہوتے۔ دل کا بوجھ کسی کے سامنے ہلکا کرتے کرتے بعض دفعہ ہم اپنی ذات کو ہی دوسرے کے سامنے ہلکا کر دیتےہیں۔ پریشانیاں بتانے سے کم ہو سکتی ہیں، ختم نہیں، جیسے اس کی پریشانی ابھی تک اس کے ساتھ تھی۔
•••••••••••••••••••••••
کلاس روم کی کھڑکیوں سے سورج کی روشنی چھن کر اندر آ رہی تھی۔ صبح کی نم ہوا بار بار شیشیوں سے ٹکرا کر واپس پلٹ جاتی، جیو انفارمیشن کے سسٹم کے پروفیسر اپنے مخصوص انداز میں لیکچر لے رہے تھے۔ اس کےساتھ بیٹھی ڈی جے بظاہر بہت توجہ سے لیکچر سنتی رجسٹر پر لکھ رہی تھی۔ وہ ہر چند لفظ لکھ کر سر اٹھا کر پروفیسر کو دیکھتی، ذرا غور سے ان کے اگلے الفاظ سنتی اور پھر سمجھ کر سر ہلاتی دوبارہ لکھنے لگ جاتی۔
حیا نے ایک نگاہ اس کے رجسٹر پر ڈالی۔ وہاں اس کا چلتا قلم لکھ رہا تھا۔
“تم لوگوں کا سپرنگ بریک کا کیا پروگرام ہے؟ کدھر جاؤ گے اور کون کون تمہارے ساتھ جا رہا ہے؟” آخری لفظ لکھ کر اس نے گردن سیدھی کر کے پورے اعتماد سے پروفیسر کو دیکھتے ہوئے رجسٹر دائیں جانب بیٹھے معتصم کو پاس کر دیا۔ یہ ان کی اور فلسطینیوں کی واحد مشترکہ کلاس تھی۔
معتصم نے ایک نگاہ کھلے رجسٹر پہ ڈالی، اور پھر سر جھکا کر کچھ لکھنے لگا۔ جب رجسٹر واپس ملا تو اس پہ انگریزی میں لکھا تھا۔
“ہم ٹرکی کے ٹور پہ جا رہے ہیں۔ سات دن میں سات شہر۔ ہم پانچوں اور ٹالی۔ اور تم لوگوں کا کیا پروگرام ہے؟”
“اُف پھر یہ ٹالی!” ڈی جےکوفت سےجواب لکھنے لگی۔
“ہم بھی سات دنوں میں سات شہر گھومنے کا سوچ رہے ہیں۔”
اس نے رجسٹر آگے پاس کر دیا اور پھر ذرا ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
معتصم اب صفحہ پہ چند الفاظ گھسیٹ رہا تھا۔
“تو ہمارے ساتھ چلو نا۔”
“تم لوگوں کو کب نکلنا ہے؟”
“پہلی چھٹی والے دن۔”
“ہم نے دوسری چھٹی پہ نکلنا ہے، سو تمہارے ساتھ مشکل ہو گا۔ چلو پھر چھٹیوں کے بعد ملیں گے۔”
“نو پرابلم!” معتصم نےساتھ ایک مسکراتا ہوا چہرہ بنایا۔
حیا دانت پہ دانت جمائے بمشکل جمائیاں روکنے کی سعی کر رہی تھی۔ اسے اس کلاس سے زیادہ بورنگ کوئی کلاس نہیں لگتی تھی۔
دفعتاً معتصم نے رجسٹر ڈی جے کی طرف بڑھایا تو اس پہ لکھے الفاظ کو پڑھ کر ڈی جے نے رجسٹر حیا کے سامنے رکھ دیا۔ حیا نے ذرا سی گردن جھکا کر دیکھا۔ اوپر اس نےانگریزی میں لکھا تھا۔ “ٹرانسلیٹ ان اردو پلیز۔” اس کے نیچےعربی عبارت لکھی تھی۔”کیف حالک؟”
حیا نے قلم انگلیوں کےدرمیان پکڑا اور اردو ہجوں میں لکھا۔
“آپ کا کیا حال ہے؟” اور رجسٹر واپس کر دیا۔ معتصم اور حسین کو آج کل ڈی جے سے اردو الفاظ سیکھنے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔ اس کلاس میں وہ یوں سارا وقت عربی الفاظ لکھ لکھ کر ان کو دیتےتھے۔
چند لمحوں بعد اس نےصفحہ پھر حیا کے سامنے کیا۔اب کہ اس پہ لکھا تھا”حالی بخیر۔”
حیا نے چِڑ کر نیچے لکھا۔
“میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور آپ کی خیریت ٹھیک چاہتی ہوں۔”
“اتنا لمبا کیوں لکھا؟” ڈی جے نےحیرت سے سرگوشی کی۔
“اگر چھوٹا لکھتی تیہ فورا ًہی اسے سیکھ کر مجھ سے آج ہی کی تاریخ میں پوری فیروزاللغات لکھواتا۔اب اچھا ہے نا، پورا دن ” ٹھیک ” پڑھنے میں گزار دےگا۔”
اور معتصم سے کلاس کے اختتام تک “ٹھیک ہے”ٹھیک سے نہیں پڑھا گیا۔
کلاس ختم ہوئی تو وہ واپس ڈروم میں آئیں۔ منہ ہاتھ دھو کر تیار ہونے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس نے ایک مور پنکھ کےسبز رنگ کا پاؤں کا چھوتا فراک پہنا۔ فراک کی آستین تنگ چوڑی دار تھیں اور نیچے پاجامہ تھا۔ پورا لباس بالکل سادہ تھا۔ بال اس نے کھلے چھوڈ دیےاور کاجل اور نیچرل پنک لپ اسٹک لگا کر ڈی جے کی طرف پلٹی۔
“کیسی لگ رہی ہوں؟”
ڈی جے، جو بالوں میں برش کر رہی تھی، رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“بالکل پاکستان کا جھنڈا۔“
“دفع ہو جاؤ۔”
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ دونوں ہالے اور انجم باجی کے ساتھ جہانگیر میں واقع پھپھو کےگھر کے سامنےکھڑی تھیں۔
“پھپھو کو بتا تو دیا تھا نا؟ یہ نہ ہو کہ وہ کہیں، میں نے تو انواائیٹ ہی نہیں کیا تھا۔” ڈی جے نے آہستہ سے پوچھا۔
“ہاں ہاں، بتا دیا تھا۔” اس نے سرگوشی میں ڈی جے کو جواب دیتے ہوئے ڈور بیل بجائی۔ پھپھو ان سے بہت تپاک سے ملیں۔ لونگ روم میں بیٹھنے تک ہی تعارف کا مرحلہ تمام ہو گیا۔
“حیا! آج تو تم نے گھر میں رونق کر دی ہے۔” وہ واقعتا بہت خوش تھیں۔ حیا ان کے گھر کو اپنا سمجھ کر دوستوں کو ساتھ لائی ہے، یہ خیال ہی ان کو مسرت بخش رہا تھا۔
وہ ان دو ماہ میں چنڈ ایک بار ہی پھپھو کے گھر آئی تھی اور پہلی دو دفعہ کے بعد جہان کبھی گھر نہیں ملا تھا، نہ ہی وہ اسے بتا کر آتی تھی۔ اس دفعہ تو اس نے بالکل بھی نہیں بتایا۔ وہ اندر ہی اندر خود کو اس کا مجرم سمجھ رہی تھی، اس کے ٹوٹے بکھرے ریسٹورنٹ کو یاد کر کے وہ اکثر خود کو ملامت کرتی تھی۔
“آپ کا گھر بہت پیارا ہےآنٹی!” انجم باجی نے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ستائشی انداز میں کہا تھا۔
“اور یہ رگز تو بہت ہی پیارے ہیں۔” ہالے نے فرش پہ بچھے رگز کی جانب اشارہ کیا۔
“اور میری پھپھو بھی بہت پیاری ہیں۔” وہ پھپھو کے شانوں کے گرد بازو حمائل کئے مزے سے بولی تو پھپھو ہنس دیں۔ ڈی جے نے آہستہ سے سرگوشی کی۔” اور پھپھو کا بیٹا بھی بہت پیارا ہے۔”
حیا نے زور سے اس کا پاوں دبایا۔ وہ بس “سی” کر کےرہ گئی۔
“چلو تم لوگ ادھر بیٹھ، ‘میں ابھی آتی ہوں۔” اچھے میزبانوں کی طرح پھپھو مسکرا کر کہتے ہوئے راہداری کی طرف مُڑ گئیں۔ جس کے دوسرے سرے پہ کچن تھا۔ کچن کا دروازہ کھلا تھا اور صوفوں پہ بیٹھے ہوئےانہیں کچن کا آدھا حصہ نظر آتا تھا۔
“پھپھو!” وہ ان کے پیچھے ہی چلی آئی۔
“ارے! تم کیوں آ گئیں؟ ان کو کمپنی دو نا۔” وہ فریزر سے کچھ جمے ہو ئے پیکٹ نکال رہی تھیں۔
“وہ ایک دوسرے کو کافی ہیں۔ آپ سنائیں! انکل اوپر ہیں؟ میں نے سوچا ان سےمل لوں۔ جب بھی آتی ہوں، عموماًان کے سونے کا وقت ہوتا ہے۔ ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔” وہ یہ تو نہیں کہہ پائی کہ جب بھی وہ آتی تھی، پھپھو ان کو دوا دےکر سلا دیتی تھیں تا کہ کوئی بدمزگی نہ ہو۔
“ہاں! شاید جاگے ہوئے ہوں۔ تم اوپر دیکھ لو۔”
“اچھا۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہان کے ریسٹورنٹ کا کیا بنا؟ کچھ لوگوں نےنقصان کر دیا تھا شاید۔” ذرا سرسری انداز میں پوچھا۔
“ہاں! اچھا خاصا نقصان ہو گیا ہے اس کا۔ کافی چڑچڑا رہنے لگا ہے اس دن سے۔۔۔۔۔۔۔ بس دعا کرنا، وہ پُرملال لہجے میں کہتے ہوئے کیبنٹ سے کچھ نکال رہی تھیں۔
وہ واپس آئی تو ڈی جے اور ہالے پھپھو کے گھر کی آرائش پہ تبصرہ کر رہی تھیں، جبکہ انجم باجی بہت غور سے ٹی وی پہ کارٹون نیٹ ورک دیکھ رہی تھیں۔جس کے کارٹون ترک میں ڈب کئے گئے تھے۔ سبانجی میں جو واحد شے دیکھنےکا موقع نہیں ملتا، وہ ٹی وی تھا۔
ان کو مصروف پا کروہ زینہ چڑھنے لگی۔ کندھے سے لٹکتے شیفون کے سبز ڈوپٹےکا کنارہ زینوں پہ پھسلتا اس کے پیچھے اوپر آرہا تھا۔
سکندر انکل کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اس نے ہولے سے انگلی کی پشت سے دستک دی، پھر ڈور ناب گھما کر دروازہ دھکیلا۔
کمرےمیں نیم تاریکی سی چھائی ہوئی تھی۔ باہر دھوپ تھی، مگر بھاری پردوں نے اس کا راستہ روک رکھا تھا۔ سکندر انکل بستر پہ لیٹےتھے، گردن تک کمبل ڈالا تھا، اور آنکھیں بند تھیں۔
“انکل؟” اس نے ہولے سے پکارا۔ وہ ہنوز بےحس و حرکت پڑے رہے۔ وہ چند لمحے تاسف سے ان کا پژمردہ، بیمار چہرہ دیکھتی رہی، پھر ہولے سے دروازہ بند کر کے باہر آگئی۔
“وہ سیڑھیوں کے وسط میں تھی، جب بیرونی درواز
کھلنے کی آواز آئی۔ وہیں ریلنگ پہ ہاتھ رکھے، رک کر دیکھنے لگی۔ صوفوں پہ آرام سے بیٹھی لڑکیاں بھی تیر کی طرح سیدھی ہوئی تھیں۔
دروازہ کھول کر جہان اندر داخل ہو رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بریف کیس، دوسرے بازو پہ کوٹ ڈالے، ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کیے، ہلکی گرے شرٹ کی آستین کہنیوں تک موڑے وہ بہت تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔
پہلے سے کمزور، اور مرجھائی ہوئی رنگت۔ دروازہ بند کر کے وہ پلٹا تو ایک دم ٹھٹک کر رکا۔
“السلام علیکم” وہ جو سیڑھیوں کے وسط میں کھڑی تھی، سلام کر کے زینے اترنے لگی۔ جہان نے چونک کر سر اٹھایا، پھر اسے دیکھ کر سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔
“پھپھو سے ملوانا تھا اپنی فرینڈ کو۔”
“نائس ٹو میٹ یو۔” بغیر کسی مسکراہٹ کے اس نے کھڑے کھڑے مروتا” کہا، اور جواب کا انتظار کیے بغیر ان ہی سنجیدہ تاثرات کے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گیا۔
“یہ؟” انجم باجی نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“پھپھو کا بیٹا جہان۔” وہ قدرے خفت سے تعارف کرواتے ہوۓ آخری زینہ اتر کر صوفے پہ آ بیٹھی۔
وہاں سے کچن کا آدھا منظر دکھائی دیتا تھا۔ جہان کا کوٹ راہداری میں لگے اسٹینڈ پہ لٹکا تھا، اور بریف کیس کاؤنٹر پہ۔ وہ خود بھی کاؤنٹر سے ٹیک لگا کر کھڑا پانی کی بوتل منہ سے لگاۓ گھونٹ بھر رہا تھا۔ ساتھ ہی پھپھو کیبنٹ سے کچھ نکالتی دکھائی دے رہی تھیں۔ گھر چھوٹا تھا اور راہداری مختصر، سو کچن میں گفتگو کرتے افراد کی آوازیں صاف سنائی دیتی تھیں۔
“نے ضمن جلدی؟” وہ بوتل رکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوا۔
“حمن سمدی”
جوابا وہ ذرا کھڑے انداز میں درشتی سے ترک میں کچھ بولا تو ڈی جے سے کچھ کہتی ہالے نے چونک کر کچن کی طرف دیکھا۔
“جہان!” پھپھو نے تنبیہی نگاہوں سے اسے گھورا۔ اس نے جواب میں خاصی تلخی سے کچھ کہتے ہوۓ بوتل میز پہ رکھی۔
ہالے نے قدرے بے چینی سے پہلو بدلہ۔ حیا اس کے چہرے کے الجھے تاثرات بغور دیکھ رہی تھی، وہ کچھ دیر بعد ذرا سوچ کر بولی۔
“حیا! استقلال اسٹریٹ میں آج Levi’s پہ سیل لگی ہے، وہ چیک نہ کر لیں؟”
اٹھنے کا ایک بہانہ۔ حیا گہری سانس لے کر کھڑی ہوگئی۔ ڈی جے اور انجم باجی بھی کچھ کچھ سمجھ پا رہی تھیں۔
“ہاں! چلو میں ذرا پھپھو کو بتا دوں۔” وہ کچن کی طرف آگئی۔ باقی لڑکیاں صوفوں سے اپنے اپنے بیگ اٹھانے لگیں۔
“اچھا پھپھو! ہم لوگ چلتے ہیں۔ ہمیں آگے شاپنگ پہ جانا ہے۔” کچن کی چوکھٹ میں کھڑے ہو کر اس نے جہان سکندر کو قطعا” نظر انداز کرتے ہوۓ بتایا۔ وہ فریج کا دروازہ کھولے کچھ نکال رہا تھا۔
“ارے! ابھی تو آئی تھیں۔ ابھی سے جا رہی ہو؟” پھپھو ایک ملامت زدہ نگاہ جہان پہ ڈال کر تیزی سے اس کی طرف آئیں۔ پھر وہ اصرار کرتی رہیں، مگر وہ نہیں رکی۔ دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے وہ بہت خوش دلی سے ان کو خدا حافظ کر کے باہر نکلی۔ ڈور میٹ پہ رکھے اپنے جوتوں میں پاؤں ڈالنے تک اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی اور اس کی جگہ سپاٹ سی سختی نے لے لی تھی۔ وہ ان چاروں کے آگے خاموشی سے سڑک کے کنارے چلنے لگی۔ جب وہ کالونی کا موڑ مڑ کر دوسری گلی میں داخل ہوئیں تو وہ تیزی سے ہالے کی جانب گھومی۔
“ہالے…! جہان نے پھپھو سے کیا کہا تھا؟”
جانے دو حیا! ہالے نے نگاہیں چرائیں۔ اسکارف میں لپٹا اس کا چہرہ قدرے پھیکا سا تھا۔
“ہالے! مجھے بتاؤ، اس نے کیا کہا تھا”
“حیا! وہ کسی اور بات پر اپ سیٹ ہوگا۔ تم چھوڑو اس قصے کو.۔”
“ہالے نور چولغ لو! میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔” اس نے کندھوں سے پکڑ کر ہالے کو جھنجھوڑتے ہوۓ اس کا پورا نام لیا (چولو یعنی کہ اس گاؤں کی ہالے نور)
“اچھا! ٹھیک ہے پھر سنو۔ اس نے پہلے پوچھا کہ یہ کب آئی ہیں، پھر کہا کہ ان کے لیے اتنا پھیلاوا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس نے کہا کہ میں سارا دن کتوں کی طرح اس لیے نہیں کماتا کہ آپ یوں ضائع کر دیں۔”
اس کے کندھوں پہ رکھے حیا کے ہاتھ نیچے جاگرے۔ بہت آہستہ سے وہ پلٹ گئی۔
“حیا…چھوڑ دو!” انجم باجی نے پیچھے سے کندھا تھپتھپا کر اسے تسلی دی.
“چھوڑ ہی تو دیا ہے۔ آج کے بعد میں کبھی پھپھو کے گھر قدم نہیں رکھوں گی۔ میں اتنی ارزاں تو نہیں ہوں کہ میرے مغرور رشتہ دار میری یوں توہین کریں.”
وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، سیدھ میں دیکھتے ہوۓ ان کے آگے چلتی جا رہی تھی۔ آج اس کا دل بہت بری طرح دکھا تھا۔
•••••••••••••••••••
رات سبانجی کے گردونواح پہ اپنے پر پھیلاۓ ہوۓ تھی۔ سبزہ زاروں پر جمی برف اب پانی بن کر جھیل میں بہتی تھی۔ بہار کی تازہ ہوا ہر سو پھول کھلا رہی تھی۔ ڈورم بلاکس کی چوکور کھڑیاں باہر سے روشن دکھائی دیتی تھیں۔ رات بیت چکی تھی، مگر ہاسٹل جاگ رہا تھا۔ اسپرنگ بریک شروع ہونے میں چند دن ہی تھے، اور چھٹیوں سے پہلے یہ ان کی ڈروم میں آخری راتیں تھیں پھر باری باری سب کو اپنے اپنے ٹور پہ نکل جانا تھا۔
خدیجہ، حیا، ٹالی اور چیری کے ڈورم میں رونق اپنے عروج پہ تھی۔ حیا کی کرسی پہ سوئڑزلینڈز کی سارہ ایکسٹینشن کا ریسیور کان سے لگاۓ بیٹھی تھی۔ مسکراہٹ دباۓ، انگلی پہ سنہری بالوں کی لٹ لپیٹتے ہوۓ وہ کہہ رہی تھی.
“میرا فیورٹ کلر تو بلیو ہے۔ اوہ! تمہارا بھی یہی ہے مومن؟” وہ کہنے کے ساتھ بمشکل ہنسی روکے ہوۓ تھی۔ مومن کافی دنوں سے اس کی توجہ لینے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ اس کو دکھانے کے لیے ہالینڈ کے لطیف کے ساتھ نظر آتی تھی۔ لطیف خالص ڈچ اور کیتھولک تھا، مگر افغانستان میں پیدا ہونے کے سبب اس کے ماں باپ نے اس کا نام اپنے کسی افغان دوست لطیف کے نام پہ رکھا تھا۔ یوں وہ تمام فلسطینیوں کا بہت اچھا دوست بن چکا تھا، سواۓ مومن کے۔
سامنے ڈی جے کی کرسی پہ ہالے بیٹھی تھی اور اس کے مقابل کاؤچ پہ اسپین کی سینڈرا تھی وہ دونوں اپنے درمیان ایک میگزین کھولے تبصرہ کر رہی تھیں۔
“اس تھیم کے ساتھ یہ کنٹراسٹ کچھ اوور لگے گا…. نہیں؟” ہالے متذبذب سی سینڈرا سے پوچھ رہی تھی۔
چیری اپنے بینک کی سیڑھی کے ساتھ کھڑی اپنی kipoa آئل کی آدھی شیشی ان کو دکھاتے ہوۓ بار بار نفی میں سر ہلاتے ہوۓ “آئ ڈونٹ بلیو دس!” کہے جا رہی تھی کسی لڑکی نے باتھ روم میں رکھا اس کا تیل استعمال کر کے اوپر چٹ لگا کر معذرت کر لی تھی کہ “چونکہ میں جلدی میں ہوں، سو پوچھ نہیں سکی۔” اور چیری کو جب سے ان چند بوندوں کا غم کھاۓ جا رہا تھا۔
“ان چینیوں کے دل بھی اپنے قد کی طرح ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور پست”
ٹالی جو اوپر اپنے بینک پہ بیٹھی حیا کو اسرائیلی نامہ سنا رہی تھی، لمحہ بھر کو بات روک کر چیری کو دیکھتے ہوۓ بولی پھر سر جھٹک کر بات کا وہیں سے آغاز کیا جہاں چھوڑی تھی۔
You know, in Israel, we have such sitrus that………
ٹالی کےنزدیک دنیا کا سب سے رسیلا پھل اسرائیل کا تھا، سب سے میٹھا پانی، سب سے خالص شہد، سب سے خوشبودار پھل، اور سب سے سہانا موسم اسرائیل کا تھا۔ وہ کہتی تھی “اسرائیل جنت ہے” مقدس اور بابرکت سر زمین ہے۔ “اور اس کے جاتے ہی حیا اور ڈی جے اس کے فقرے میں یوں ترمیم کر لیتیں کہ “فلسطین جنت ہے مقدس اور بابرکت سر زمین ہے۔”
اب بھی حیا بہت انہماک سے دونوں ہتھیلیوں پہ چہرہ گراۓ اس کی باتیں سن رہی تھیں۔ جو بھی تھا، اسرائیل نامہ سننے میں مزا بہت آتا تھا۔
دھیمی آواز میں بات کرنے کے باوجود، ان سب کی آوازوں نے مل کر شور کر رکھا تھا اور اس سارے شور میں ڈی جے اپنے بینک کے اوپر بستر میں لیٹی تکیہ منہ پہ رکھے ہوۓ تھی۔
ان کی آواز بلند ہوتی گئیں تو اس نے منہ سے تکیہ ہٹایا اور چہرہ اوپر کر کے بے زاری سے ان کو مخاطب کیا۔
“پلیز! شور مت کرو۔ میرے سر میں درد ہے مجھے سونے دو۔”
“اوکے اوکے!” ہالے نے فورا اثبات میں سر ہلایا۔ سب نے “شش شش” کر کے ایک دوسرے کو چپ کروایا اور دھیمی دھیمی بڑبڑاہٹوں میں بولنے لگیں۔
ڈی جے واپس لیٹ گئی اور تکیہ منہ پہ رکھ لیا۔
“ہاں چاند۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چاند کو ہی کہہ رہی تھی۔” سارہ جو اپنی لٹ کو انگلی پہ مروڑتے، مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی، دوسری طرف کچھ سن کر ذرا گڑبڑائی۔ “اچھا! آج چاند نہیں نکلا؟ اوہ…!میں نے شاید پھر اپنے تصور میں دیکھا تھا۔”
“مجھے یہی کلر اسکیم چاہیے اور اگر اس کے ساتھ ہم یہ پھول کر لیں تو وہ میچ کر جائیں گے، پھر یہ رنگ۔”
سینڈرا میگزین کے صفحے کو پلٹ کر پیچھے سے کوئی دوسرا صفحہ نکال کر ہالے کو دکھانے لگی۔ آہستہ آہستہ ان کی آوازیں پھر سے بلند ہونے لگیں۔
چند ثانیے بعد ڈورم میں پھر سے شور مچا تھا۔
“کین سم ون پلیز شٹ اپ؟” ڈی جے ضبط کھو کر اٹھی اور زور سے چلائی۔ وہ پچھلے دو گھنٹوں میں کئی دفعہ ان کو خاموش ہونے کو کہہ چکی تھی، مگر بار بار لڑکیوں کی آوازیں بلند ہو جاتی تھیں۔ لیکن اس کے یوں چلانے پر ایک دم سے ڈورم میں آوازیں فورا بند ہو گئیں۔
“بس! تم آرام کرو۔ ہم چپ ہیں۔ اب سب آہستہ بولو، اچھا!” حیا نے جلدی سے مسکرا کر اسے تسلی دی۔ وہ کچھ بڑبڑاتے ہوۓ واپس لیٹ گئی اور کمرے میں سب مدھم سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگے۔
چند پل مزید سرکے، پھر…..
“اسرائیل میں ہمارا مقدس درخت…..” سب سے پہلے ٹالی کی آواز بلند ہوئی تھی، پھر سارہ، پھر ہالے، اور پھر چیری جو ابھی تک سب کو متوجہ کرنے کی سعی کرتے ہوۓ انہیں بوتل دکھا رہی تھی۔
“مطلب، یہ کہاں کی اخلاقیات ہیں کہ کسی کا تیل اس سے پوچھے بغیر استعمال کر لیا جاۓ۔” شور واپس لوٹ رہا تھا۔
ڈی جے ایک دم اٹھی، کمبل اتار کر پھینکا، بینک کی سیڑھیاں پھلانگ کر اتری۔ اپنی میز پہ رکھا سوئٹر گردن میں ڈالا، ساتھ رکھی تین کتابیں اٹھائیں، تہہ کردہ عینک کھول کر آنکھوں پہ لگائی اور خاموشی سے کسی کی طرف بھی دیکھے بغیر باہر نکل گئی۔
اس نے اپنے پیچھے دھڑام سے دروازہ بند کیا تھا۔
ڈورم میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ سب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
سارہ نے بنا کچھ کہے ریسیور کریڑل پہ رکھ دیا۔ چیری نے خفت سے اپنی بوتل واپس بیگ میں رکھی۔ ہالے اور سینڈرا نے میگزین بند کر دیا۔ بہت سی نادم نگاہوں کے تبادلے هوۓ۔
“وہ ناراض ہوگئی ہے، اب کیا کریں؟” ہالے بہت آہستہ سے بولی۔
ٹھہرو! میں اسے مناتی ہوں۔”حیا نے کمبل پرے ہٹایا اور بینک کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔ میز پہ رکھا اپنا دوپٹا اٹھایا اور چپل پہنتے ہوۓ باہر نکل گئی۔ پیچھے کمرے میں ابھی تک سناٹا چھایا تھا۔
اسٹڈی ساتھ ہی تھی۔ اسے پتا تھا، ڈی جے وہیں ہو گی۔ اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ وہ سامنے رائٹنگ ٹیبل پہ کتابیں پھیلاۓ بیٹھی تھی۔ چوکھٹ سے اس کا نیم رخ ہی نظر آتا تھا، پھر بھی وہ دیکھ سکتی تھی کہ وہ رو رہی ہے۔
اس کا دل ایک دم بہت زیادہ دکھا۔ وہ دبے قدموں چلتے ہوۓ اس کے قریب آئی۔
“ڈی جے!”
خدیجہ بائیں کنپٹی کو انگلی سے مسلتے، چہرہ کتاب پہ جھکاۓ، آنسو پینے کی کوشش کر رہی تھی۔
“ڈی جے! وی آر رئیلی سوری۔” وہ کرسی کھینچ کر اس کے ساتھ بیٹھی اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔ ڈی جے نے سختی سے ہاتھ چھڑا لیا۔ اسے بے حد ملال ہوا۔
“سوری یار! ہم نے تمہارا خیال نہیں کیا۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
وہ جواب دیے بنا یوں ہی کنپٹی کو انگلی سے مسلتی، کتاب پہ سر جھکاۓ بیٹھی رہی۔
“سر میں درد ہے؟” اس نے ہولے سے پوچھا۔ ڈی جے نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹیبلیٹ لی ہے کوئی؟”
“ہاں!” وہ ہتھیلی کی پشت سے گیلے رخسار رگڑتے ہوۓ بولی تو آواز بھاری تھی۔
“صرف یہ ہی بات ہے؟” اس نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
“مجھے گھر یاد آرہا ہے۔”
“تو رو کیوں رہی ہو؟ سمسٹر ختم ہونے کے بعد ہم نے گھر تو چلے جانا ہے نا۔”
“سمسٹر ختم ہونے میں بہت دیر ہے۔” اس نے چہرہ اٹھا کر بے چارگی سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔ عینک کے پیچھے اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔
“دیر کہاں؟ فروری میں ہم ادھر آۓ تھے، مارچ گزر گیا، اپریل گزر رہا ہے، مئی آنے والا ہے، جون میں ایگزامز ہوں گے اور جولائی میں ہم پاکستان ہوں گے۔ پانچ ماہ تو ختم بھی ہو گۓ۔” ڈی جے بھیگی آنکھوں سے مسکرادی۔
“کیا زندگی اتنی جلدی گزر جاتی ہے؟”
“اس سے بھی جلدی گزر جاتی ہے۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور ہمارا وقت ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اختتام۔۔۔۔۔۔ دی اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلاص!” اس نے ہاتھ جھاڑ کر جیسے بات ختم کی۔
ڈی جے چند لمحے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔
“حیا! میں نے کل اپنی امی کو خواب میں دیکھا تھا۔ وہ بہت بری طرح رو رہی تھیں۔ اتنی بری طرح کہ میرا دل ڈر رہا ہے۔ پتا نہیں، گھر میں سب ٹھیک بھی ہیں یا نہیں۔ میں گھر کا آخری بچہ ہوں اور آخری بچوں کے حصے میں ہمیشہ بوڑھے ماں باپ آتے ہیں۔
میرا دل ان کے لیے دکھتا ہے حیا!”
“میں سمجھ سکتی ہوں، مگر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ تین ماہ تو ہم نے یہاں گزارنے ہیں نا۔”
“ہم پاکستان چلے جائیں؟”
“تم جانتی ہو یہ نا ممکن ہے۔ ہم نے کانٹریکٹ سائن کیا ہے۔ ہم پانچ ماہ ختم ہونے تک ترکی نہیں چھوڑ سکتے۔”
“میں مستقل جانے کی بات نہیں کر رہی بس چند دن کے لیے۔ اسپرنگ بریک میں ہم اسلام آباد چلے جائیں؟”
حیا نے گہری سانس لی۔
“میری بھی کزن کی شادی ہے، مگر میں اسے قربان کر رہی ہوں۔ صرف اس لیے کہ اگر ہم ابھی پاکستان گۓ تو واپس آتے ہوۓ ہمارا دل بہت خراب ہو گا اور پھر یوں ترکی میں اکیلے گھومنے پھرنے کا موقع ہمیں کبھی نھیں ملے گا۔
اکیلے!” ڈی جے نے استہزائیہ سر جھٹکا۔ “تمہیں پتا ہے، ہم دونوں نے یہ اسکالرشپ پروگرام کے لیے کیوں اپلائی کیا تھا؟ کیونکہ ہم دونوں کو اکیلے آزادی سے وقت گزارنے کا شوق تھا۔ ایسی آزادی جس میں ابو اور بھائیوں کی روک ٹوک نہ ہو۔ مگر انسان آزاد تب ہی ہوتا ہے، جب وہ تنہا ہوتا ہے اور یہ ہی تنہائی قید کر لیتی ہے۔ ہر آزادی میں قید چھپی ہوتی ہے، جیسے اب ہم ترکی میں قید ہیں اور مجھے لگتا ہے، ہم کبھی پاکستان واپس نہیں جاسکیں گے۔”
حیا نے جیسے تاسف سے نفی میں گردن ہلائی، پھر نگاہ میز پہ رکھی ڈی جے کی موٹی سی فلسفے کی کتاب پہ پڑی جس کے سرورق پہ سقراط کی تصویر بنی تھیں۔ اس کی پیشانی پہ بل پڑ گۓ۔
“پرے ہٹاؤ اس بوڑھے انکل کو۔ اس کو پڑھ پڑھ کر تمہارا دماغ خراب ہوا ہے۔”
“سقراط کو کچھ مت کہو۔” ڈی جے نے تڑپ کر کتاب پیچھے کی۔ “افلاطون گواہ ہے کہ سقراط نے کس عظمت و بہادری سے زہر کا پیالا پیا تھا۔”
“میری تو سات نسلوں پہ احسان کیا تھا۔” وہ تنک کر کہتے ہوۓ کھڑی ہوگئی۔ “اور ہم کوئی پاکستان نہیں جا رہے۔ سات دن اور ترکی کے سات شہر۔ یہ پروگرام ہے ہمارا، ڈن؟”
“ڈن!” ڈی جے مسکرا دی۔
“اور سنو! آج ٹائم چینج ہو گیا ہے۔ گھڑی ایک گھنٹہ آگے کر لو۔”
وہ ڈی جے کو نارمل ہوتا دیکھ کر ٹالی کا اسرائیل نامہ سننے واپس چلی گئی۔
“اوہ! نہیں، یہاں بھی وہی مشرف والا نیا ٹائم، پرانا ٹائم! ڈی جے نے جھنجلاتے ہوۓ کتاب کھول لی۔ اسے نئے ٹائم، پرانے ٹائم سے زیادہ کوفت کسی شے سے نہیں ہوتی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••
ٹاقسم اسکوائر کا مجسمہ آزادی بہار کے پھولوں کی خوشبو میں بسا ہوا تھا۔ صبح کا وقت تھا اور مجسمے کے گرد دائرے میں اگی گھاس پہ سرخ ٹیولپس کھلے تھے۔ فضا میں تازہ پکے پھلوں کی رسیلی مہک تھی۔
وہ دونوں اس ٹھنڈی، میٹھی ہوا میں ساتھ ساتھ چلتی، استقلال اسٹریٹ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
دونوں نے سیاہ کوٹ پہن رکھے تھے اور بازو میں بازو ڈال رکھا تھا۔ وہ اتنی دفعہ استقلال اسٹریٹ آچکی تھیں کہ بہت سی دکانیں تو انہیں حفظ ہو چکی تھیں۔ اس کے باوجود وہ آج تک اس طویل ترین گلی کے اختتام تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔
ان کے تمام دوست اور ڈروم فیلوز کل ہی اپنے ٹورز پہ نکل چکے تھے۔ انہوں نے آج سارا دن استقلال اسٹریٹ میں شاپنگ کر کے کل صبح کی بس سے Coppadocia جانا تھا۔ آج وہ خوب بھاؤ تاؤ کر کے شاپنگ کرنے کا پروگرام بنا کر آئی تھیں، کیونکہ ویسے بھی پاکستانی سیاحوں کے لیے ترک فورا نرخ کم کر دیتے تھے۔
“سات دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سات شہر! کتنا مزا آۓ گا نا!” ڈی جے نے چشم تصور سے خوب صورت ترکی کو دیکھتے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: