Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 18

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 18

–**–**–

“مزا تو چھوٹا لفظ ہے ڈی جے! مجھے تو خود پہ رشک آنے لگا ہے۔ کیا زندگی اتنی حسین بھی ہو سکتی ہے؟”
وہ دونوں استقلال اسٹریٹ میں داخل ہوگئی تھیں۔
وہاں ہمیشہ کی طرح رش تھا۔ دونوں اطراف میں بنے ریسٹورنٹس اور دکانوں کی رونق عروج پہ تھی۔
“ترکی کا نقشہ ہمارے پاس ہے۔ ہم روز ایک شہر جائیں گے۔ ایک رات ادھر قیام کریں گے اور پھر وہاں سے قریبی شہر کی بس پکڑ کر آگے چلے جائیں گے۔ یوں سات دنوں میں ہمارے سات شہر ہو جائیں گے۔”
“اور کپادوکیہ میں ہاٹ ایر بیلون کی فلائٹ بھی لیں گے۔ کتنا مزا آۓ گا حیا! جب ہم بیلون کی ٹوکری میں بیٹھے اوپر فضا میں تیر رہے ہوں گے اور پورا ترکی ہمارے قدموں تلے ہو گا۔”
وہ دونوں بہت جوش و جذبے سے منصوبے بناتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں۔ ایک طرف برگر کنگ کا بورڈ جگمگا رہا تھا۔ ڈی جے نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
سنو حیا…! جہان کو بھی ساتھ چلنے کو کہیں؟
اس کا تو نام بھی مت لو۔ وہ سامنے دیکھتے ہوئے آگے چلتی گئی۔ ابھی وہ اس کے ریسٹورنٹ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
یار …! معاف کر دو نا، وہ کسی اور بات پر اپ سیٹ ہوگا۔”
مگر میں اسی بات پر اپ سیٹ ہوں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے ملنے کی۔ وہ اسے بازو سے کھینچ کر آگے لے گئی۔
میرا میگرین سارا ٹرپ خراب کرائے گا۔ ٹیبلٹ لی تھی، مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ڈی جے کو پھر سے سر میں درد ہونے لگا۔
اور میرا ٹرپ میرا غیر رجسٹرڈ فون خراب کرائے گا۔ اس نے کوٹ کی جیب سے ہالے کا بھدا ترک فون نکال کر مایوسی سے اسے دیکھا۔ اس کی بیٹری جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ وہاں دوسرے شہروں میں پتا نہیں کیا حالات ہوں۔ میں اپنے پاکستانی فون کو رجسٹر کروا ہی لیتی ہوں۔ ٹھیک ہے! مگر پہلے جوتے دیکھ لیں۔ وہ دونوں شو اسٹور کا دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔ دروازہ ذرا بھاری تھا، مشکل سے کھلا۔ حیا اچنبھے سے دروازے کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ عجیب بات تھی کہ جس اگلی دوکان پر وہ گیں اس کا دروازہ بھی زور لگا کر دھکیلنے پر پیچھے ہوا۔
آج استقلال جدیسی کے دروازوں کو کیا ہوا ہے؟ ڈی جے بھی محسوس کر کے حیرت سے بولی۔
Avea
کی دکان استقلال اسٹریٹ میں ذرا آگے جا کر ملی۔ وہ دونوں اکٹھی چوکھٹ تک آئیں اور لاشعوری طور پر ایک دم بہت زور سے دروازے کو دھکا دیا۔ وہ گلاس ڈور بے حد باریک اور نازک شیشے کا بنا تھا۔ وہ گویا اڑتا ہوا جا کر مخالف سمت میں کھڑے اسٹینڈ سے ٹکرایا اور زوردار چھناکے کی آواز آئی۔ لوہے کے اسٹینڈ کی کوئی ہک نکلی ہوئی تھی، اس کی ضرب زور سے لگی اور دروازے کے اوپری حصے سے شیشے کے ٹکڑے چھن چھن کرتے فرش پر آگرے۔
وہ دونوں ایک دم ساکت سی، آدھے ٹوٹے دروازے کو دیکھ رہی تھیں۔
کاؤنٹر کے نچلے دراز سے کچھ نکالتے سیلزمین نے چونک کر سر اونچا کیا۔ ٹوٹے دروازے کو دیکھ کر اس کا منہ پورا کھل گیا۔ وہ ہکا بکا سا اٹھ کھڑا ہوا۔
کاپئُے کر دی؟ اس نے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
ڈی جے کا سکتہ پہلے ٹوٹا۔ وہ حیا کے قریب کھسکی اور ہولے سے سرگوشی کی۔
حیا! اس نے ہمیں دروازہ توڑتے نہیں دیکھا۔
بس! ٹھیک ہے، ہم مکر جاتے ہ۔
وہ گلا کھنکھارتے، خود کو نارمل کرتے ہوئے آگے بڑھی اور اپنا پاکستانی فون اس کی طرف بڑھایا۔ فون رجسٹر کروانا ہے۔
کاپئے کر دی مادم؟ وہ فون کو دیکھے بنا ابھی تک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
مجھے فون رجسٹر کروانا ہے۔
کاپئے کر دی؟
ڈی جے! یہ کیا بک رہا ہے؟ وہ کوفت سے ڈی جے کی طرف پلٹی۔
اسے غالبا انگلش نہیں آتی اور یہ درواذے کا پوچھ رہا ہے۔
دیکھو بھائی! وہ آگے آئی اور کاؤنٹر پر کہنی رکھے بڑے اعتماد سے بولی۔ ہم نے کوئی دروازہ نہیں توڑا اور ہم نے تو تمہارا دروازہ دیکھا ہی نہیں تھا۔
بالکل! ہم نے تو کبھی زندگی میں دروازے نہیں دیکھے۔ ہمارے گھروں میں دروازے ہوتے ہی نہیں ہیں۔ لوگ کھڑکیوں سے اندر پھلانگتے ہیں۔
مگر ان کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ وہ اب صدمے اور دکھ سے سینے پر ہاتھ مارتے، دروازے کو دیکھتے ہوئے ”اللہ اللہ“ کہنے لگا۔ ترک شدید غم میں یہی کرتے تھے۔
اچھا! میرا فون تو رجسٹر کر دو۔”
لڑکا چند لمحے غمگین و کینہ پرور نگاہوں سے انہیں دیکھتا رہا، پھر ہاتھ آگے بڑھایا۔
پسپورت؟ (پاسپورٹ؟)
ان دونوں نے ایک دوسرے کو ذرا تشویش سے دیکھا۔
یہ پاسپورٹ صرف فون کے لیے مانگ رہا ہے؟
نہیں! یہ ہمیں اندر کروائے گا- ڈی جے! اسے پاسپورٹ نہیں دینا ورنہ اس نے اتنا لمبا جرمانہ کروانا ہے کہ ہمارا ٹرپ کینسل ہو جائے گا۔
پاسپورٹ نہیں ہے ہمارے پاس! ڈی جے نے زور سے ہاتھ ہلا کر کہا۔ وہ حیا سے چند قدم پیچھے تھی۔
پسپورت؟ اس نے بازو بڑھائے پھر سے پاسپورٹ مانگا۔
کہا نا، نہیں ہے ہمارے پاس پاسپورٹ! حیا جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی۔ “پاسپورٹ کے بغیر رجسٹر نہیں کر سکتے؟ دیکھو! ہم تمہیں کچھ پیسے اوپر دے دیں گے۔
“ایمبولینس… ایمبولینس…”وہ اپنی دھن میں کہے جا رہی تھی جب لڑکا ایک دم گبھرا کر چلا اٹھا۔ اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا، پھر اس کی نگاہوں کے تعاقب میں گردن موڑی۔
“حیا۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا! پیچھے کھڑی ڈی جے دونوں ہاتھوں میں سر تھامے اوندھی گرتی جا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور وہ تکلیف کی شدت سے دبے دبے انداز میں چلا رہی تھی۔
لڑکا بھاگ کر کاؤنٹر کے پیچھے سے نکلا۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے۔ وہ ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے اس کی طرف لپکی۔
اس کی عینک پھسل کر فرش پر جا گری۔ تیزی سے اس کی طرف بڑھتے لڑکے کا جوگر اس پہ آیا۔ کڑچ کی آواز آئی اور ایک شیشہ دو حصوں میں بٹ گیا۔
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے۔۔۔۔۔! وہ اس پر جھکی دیوانہ وار اسے پکار رہی تھی۔
ڈی جے کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ ساری دنیا اندیھرے میں ڈوب رہی تھی
•••••••••••••••••••••••••
ہسپتال کا وہ کاریڈور سرد اور ویران تھا۔ سنگ مرمر کا فرش کسی مردے کی طرح سفید تھا۔ سفید، بے جان، ٹھنڈا۔ وہ بالکل سیدھی بیٹھی تھی۔ ساکت، جامد، سیدھ میں کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہیں مرکز کیے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ جب سے ڈی جے آپریشن تھیٹر میں تھی۔ وہ یوں ہی ادھر بیٹھی تھی۔ آن ڈیوٹی ڈاکٹر نے کچھ بتایا تھا کہ خدیجہ کے برین میں berry aneurysm تھی۔ ایک پھولی ہوئی اینورزم جو پھٹ گئی تھی۔ سب ارکنائڈ ہیمرج۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ بیری اینورزم پھٹنے والے مریضوں میں سے 80 سے 90% کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کم سے کم % 10 امید تھی اور وہ اسی 10% امید کو تھامے بینچ پر بیٹھی تھی۔
اس کا ذہن بالکل مفلوج ہو چکا تھا، جیسے بھاری سل سے سر کو کچل دیا گیا ہو۔پھر بھی اس نے کہیں سے ہمت مجتمع کر کے ڈی جے کے گھر والوں کو فون کر دیا تھا۔ اس کے بھاپ بھائوں کی پریشانی، ماں کے آنسو، وہ کچھ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔
اس کے ابو ترکی آنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کا بھائی جو فرانس میں مقیم تھا، وہ بھی رات تک پہنچ جائے گا۔ بس اس کی سمجھ میں یہی بات آئی تھی۔ بار بار کوئی نہ کوئی اسے فون کرتا اور وہ ہر بات کے جواب میں بھیگی آواز سے اتنا ہی کہہ پاتی۔
مجھے نہیں پتا۔ ڈاکٹر باہر نہیں آئے۔
اب وہ یوں ہی نڈھال سی بنچ پر بیٹھی تھی۔ آنسو لڑیوں کی صورت آنکھوں سے گر رہے تھے۔
دس فیصد کی امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گود میں رکھے موبائل کو دیکھا اور کپکپاتے ہاتھوں سے اٹھا کر پیغام لکھنے لگی۔
”میں ٹاقسم فرسٹ ایڈ ہاسپٹل میں ہوں۔ ڈی جے کو برین ہیمرج ہوا ہے، تم فورا آجاؤ۔” اور جہان کو بھیج دیا۔
“ان کے درمیان اگر کوئی تلخی تھی بھی تو اسے یاد نہیں تھی۔ اگر یاد تھی تو صرف اور صرف خدیجہ۔
اذان کا وقت ہوا تو وہ اٹھی اور وضو کر کے واپس ادھر آئی۔ کوٹ اس نے وہیں بنچ پر چھوڑ دیا اور اب نیلی قمیض کی آستینیں گیلے بازوؤں سے نیچے کر رہی تھی۔ چہرہ، ہاتھ، اور ماتھے سے بال گیلے تھے۔
“کیا زندگی اتنی جلدی گزر جاتی ہے؟”
اس سے بھی جلدی گزر جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ چند روز قبل کی دو لڑکیوں کی گفتگو اسے یاد آئی تھی۔
وہ سلام پھیر کر تشہد کی حالت میں بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ مکمل طور پر بھیگا ہوا تھا اور یہ وضو کا پانی نہیں تھا۔ وہ دونوں ہتھیلیاں ملائے انہیں ڈبڈبائ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
“میرے اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔ آپ کو پتا ہے، ڈی جے میری بیسٹ فرینڈ ہے۔ سب سے اچھی دوست۔ زارا، ارم، ان سب سے اچھی دوست۔ اسے ہم سے مت چھینیں۔ اس کے ماں باپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بوڑھے ہیں، وہ مر جائیں گے۔ آپ ہمیں ایسے مت آزمائیں۔ آپ ہمیں ڈی جے واپس کر دیں۔ میری دس فیصد کی امید کو ہارنے مت دیں۔ وہ ہتھیلیوں پہ چہرہ جھکائے ہولے ہولے لرز رہی تھی۔ شیفون کا نیلا دوپٹہ سر سے پھسل کر گردن کی پشت تک جا گرا تھا۔
میں بہت اکیلی ہوں۔ میرے پاس ابھی کوئی نہیں ہے سوائے آپ کے۔ میرے پاس بجانے کے لیے کوئی گھنٹی نہیں ہے، کھٹکھٹانے کے لیے کوئی دروازہ نہیں ہے، ہلانے کیلئے کوئی زنجیر نہیں ہے۔ میری پہلی امید بھی آپ ہیں، آخری بھی آپ ہیں۔ اگر آپ نے میری مدد نہ کی تو کوئی بھی میری مدد نہیں کر سکے گا۔
اگر آپ نے چھین لیا تو کوئی دے نہیں سکے گا اور اگر آپ دے دیں تو کوئی روک نہیں سکے گا۔ آپ ہمیں ڈی جے کی زندگی واپس لوٹا دیں۔ آپ ڈی جے کو ٹھیک کر دیں۔
اس کے دل پر گرتا ہر آنسو اندر ہی اندر ہی داغ لگا رہا تھا۔ جلتا، سلگتا ہوا داغ۔ اس کا دل ہر پل زخمی ہوتا جا رہا تھا۔
اللہ تعالی! میرے پاس کوئی نہیں ہے جس سے مانگ سکوں اور آپ کے علاو کوئی نہیں ہے جو مجھے کچھ دے سکے۔ میری ایک دعا مان لیں، میں زندگی بھر کچھ نہیں مانگوں گی۔ کوئی خواہش نہیں کروں گی۔ آپ ہمیں ڈی جے کی زندگی واپس لوٹا دیں۔ میں ہر وہ کام کروں گی جو آپ کو راضی کرے اور راضی رکھے۔
میں آپ کو کبھی ناراض نہیں کروں گی۔ آپ ڈی جے کو ٹھیک کر دیں پلیز۔
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ وہ زندگی میں کبھی اتنی اکیلی نہیں ہوئی تھی، جتنی آج تھی۔ وہ کبھی اتنی بےبس، اتنی لاچار بھی نہیں رہی تھی، جتنی اس وقت تھی۔
کتنے گھنٹے گزرے، کتنی گھڑیاں بیتیں، اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ بس اندیھرا چھا رہا تھا، جب اس نے جہان کو تیز تیز قدموں سے چلتے اپنی طرف آتے دیکھا۔
وہ کھڑی بھی نہیں ہوئی، بس بینچ پہ بیٹھی گردن اٹھائے اسے دیکھے گئی۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اب کیسی ہے وہ؟ ہوا کیا تھا؟ وہ پھولی سانسوں کے درمیان کہتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھا۔ وہ اتنا ہی پریشان تھا جتنی وہ۔
بیری اینورزم پھٹ گیا تھا، جس کے نتیجے میں سب ارکنائڈ ہیمبرج۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے خود جو سمجھ میں آیا تھا، وہ بتانے لگی۔ بتا کر وہ پھر سے دونوں ہاتھوں میں سر دیے رونے لگی۔
“وہ ٹھیک ہو جا ئے گی، تم ایسے مت روؤ۔ تم نے کچھ کھایا ہے؟ تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ میں کچھ لاتا ہوں۔” پھر وہ رکا نہیں۔ تیزی سے اٹھ کر چلا گیا۔ جب واپس آیا تو ہاتھ میں سینڈوچز کا پیکٹ اور جوس کی بوتل تھی۔
“کچھ کھا لو۔” اس نے سینڈوچ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
“مجھ سے نہیں کھایا جائے گا۔” وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔ اسی پل آپریشن تھیٹر کے دروازے کھلے۔ وہ تڑپ کر اٹھی۔
“میں دیکھتا ہوں۔” اسے وہیں رکنے کا کہہ کر وہ آگے گیا اور باہر آنے والے سرجن سے ترک میں بات کرنے لگا۔ وہ بے قراری سے کھڑی ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھے گئی۔
“اوکےاوکے!” وہ سر ہلا کر بات ختم کر کے واپس آیا۔
“کیا کہہ رہا تھا ڈاکٹر؟ کیسی ہے ڈی جے؟“
“وہ آرام سے ہے۔ ابھی اسے شفٹ کر دیں گے مگر تم ٹھیک نہیں ہو، ادھر بیٹھو۔” اسے واپس بینچ پرہ بٹھا کر اس نے سینڈوچ اس کی طرف بڑھایا۔ یہ کھاؤ۔”
اوہ جہان! وہ ٹھیک ہے۔ میری دعا قبول ہوگئی۔ اس نے نڈھال سے انداز میں سر دیوار سے ٹکا دیا۔
کچھ کھا لو حیا…! اس کے اصرار پر اس نے بمشکل آدھا سینڈوچ کھایا اور تھوڑا سا جوس پی کر بوتل پرے ہٹا دی۔”
جہان! میری دعا رد نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اتنی دعا کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اتنی دعا کرے اور وہ پوری نہ ہو؟ وہ کھوئے کھوئے انداز میں دور خلاؤں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
“حیا! تھوڑا سا اور کھا لو، ورنہ تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی۔”
نہیں۔۔۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے، میں نے کبھی اتنے دل سے دعا نہیں مانگی جتنی آج مانگی تھی، پھر یہ کیسے ہوتا کہ پوری نہ ہوتی؟ اس کی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ اب وہ مزید کچھ نہیں کھائے گی، اسے اندازہ ہو چکا تھا۔
وہ اب سامنے دیوار کو دیکھتے ہوئے بہتے آنسوؤں کے درمیان کہہ رہی تھی۔
تمہیں پتا ہے، انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے اور میں نے آج امید نہیں ہاری تھی جہان۔”
“مگر بعض دفعہ قسمت ہرا دیا کرتی ہے”
وہ بہت دھیرے سے بولا تو وہ چونکی۔ جہان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ایک دم اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔
“جہان؟”
حیا۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جے کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔” کاریڈور کا سناٹا یکدم سے ٹوٹا۔ پیچھے کہیں کسی اسٹریچر کے پہیوں کے چلنے کی آوازیں آئی تھیں۔
وہ بنا پلک جھپکے جہان کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی عینک پر اس کی گرفت سخت ہو گئی تھی۔ پسینے میں بھیگی ہتھیلی سے عینک کے شیشے پر دھند چھاتی جا رہی تھی۔
ٹھنڈی، گیلی دھند۔
•••••••••••••••••••••••
“میری فرینڈز مجھے ڈی جے کہتی ہیں، لیکن چونکہ آپ میری فرینڈ نہیں ہیں، اس لیے مجھے خدیجہ ہی کہیں۔”
شام کی دھندلی سی چادر نے پودے استنبول کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دوپہر میں خوب بارش ہوئی تھی اور آسمان کھل کر برسا تھا کہ لگتا تھا ساری دنیا بہہ جائے گی۔ سب ڈوب جائے گا۔وہ تب سے اسی طرح پھپھو کے لاؤنج میں صوفے پر پاؤں اوپر کر کے بیٹھی، گھٹنوں پہ سر رکھے روئے جا رہی تھی
“ایویں ہی سامان گم جائے.؟” ہم نے ہینڈ کیری میں اتنا بوجھ نہیں اٹھانا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے ڈی جے کا آخری چہرہ جیسے ثبت ہوگیا تھا۔ وہ منظر یوں ہر جگہ چھایا تھا کہ کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ بے جان چہرہ جیسے سارا خون نچڑ گیا ہو، بند آنکھیں، اسٹریچر پر ڈالا بے حس و حرکت وجود۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس منظر میں مقید ہوگئی تھی۔
“ایویں برف نہ پڑے، خود تو برف باری دیکھ دیکھ کر اکتا چکے ہیں، ہمیں تو دیکھنے دیں۔
اسی رات ڈی جے کا بھائی پہنچ گیا تھا اور دو دن تک کلیئرنس مل گئی تھی۔ آج دوپہر وہ اس کی میت لے کر پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔ تب اسے جہان اور پھپھو اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ وہ اس وقت سے یونہی بیٹھی تھی۔ نہ کھاتی تھی، نہ کوئی بات کرتی تھی، بس روئے چلی جا رہی تھی۔ اس کا غم بہت بڑا تھا۔
“سامنے والے کمرے میں بڑے ہینڈسم سے لڑکے رہتے ہیں۔ میں نے انہیں کمرے میں جاتے دیکھا ہے۔”
سارے دن میں اگر اس نے کوئی بات کی بھی تھی تو یہ کہ مجھے پاکستان جانا ہے۔ میری سیٹ بک کروا دیں۔ میں نے ادھر نہیں رہنا۔”
کچن میں پھپھو اور جہان کھڑ ے یہ ہی بات کر رہے تھے۔ ان کی دبی دبی آوازیں اس تک پہنچ رہی تھیں مگر وہ نہیں سن رہی تھی۔ اس کی دلچسپی ہر شے سے ختم ہو گئی تھی۔
مگر میں کیسے جا سکتا ہوں اس کے ساتھ؟”
“اور وہ اکیلی کیسے جا سکتی ہے؟ اسے کل سے بخار ہے۔ حالت دیکھی ہے تم نے اس کی؟ میں اسے اکیلا بھیجھوں تو اپنے بھائی کو کیا منہ دیکھاؤں گی؟
مگر ممی! آپ کو ابا کا پتا نا؟ انہیں علم ہوا تو؟
انہیں یہ بتائیں گے کہ تم انقرہ تک گئے ہو۔”
“مگر ممی! میرا جانا ضروری تو….”
جہان سکندر! جو میں نے کہا وہ تم نے سن لیا؟ تم کل صبح کی فلائیٹ سے حیا کے ساتھ جا رہے ہو۔
وہ اسی طرح گھٹنوں میں سر دیئے رو رہی تھی۔ اردگرد کیا ہو رہا تھا، اسے نہیں پتا تھا۔ اس کا دل ایسے بری طرح ٹوٹا تھا کہ ہر شے سے دلچسپی ختم ہو چکی تھی۔
“پاک ٹاورز، ایشیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کون سا جا کر چیک کر لینا ہے، تهوڑا سا شو مارنے میں حرج ہی کیا ہے؟”
جب پهپهو نے آ کر یہ بتایا کہ جہان اس کے ساتھ جائے گا، چاہے جتنے دن بهی لگیں، تو بهی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تها۔ اسے فی الحال جہان سکندر سے کوئی سروکار نہ تها۔
“ویسے تمہاری پهپهو کا کوئی ہینڈسم بیٹا ویٹا ہے؟ تمہاری چمک دمک دیکھ کر یہ خیال آیا۔”
ہر چیز جیسے سلوموشن میں ہو رہی تهی۔ آوازیں بند ہو گئی تهیں۔ صرف حرکات دکهائی دے رہی تهیں۔ وہ اتاترک ایرپورٹ پہ چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی چل رہی تهی۔ اس کے ساتھ کوئی اور بهی چل رہا تها مگر وہ اسے نہیں دیکھ رہی تهی۔
“رہنے دو حیا! مجهے ابهی ورلڈ کپ کا غم نہیں بهولا۔”
جہاز دهیرے دهیرے محو پرواز تها۔ کهڑکی کے پار مرمرا کے سمندر پہ بادل تیرتے دکهائی دے رہے تهے۔ نرم روئی کے گالوں کی طرح سرمئی بادل۔ ان میں اتنا پانی لدا تها جتنا اس کی آنکهوں میں تها۔یا شاید اس کے آنسو زیادہ تهے.۔
“اتنے ہینڈ سم لڑکوں کی بہن بننے پہ کم ازکم میں تیار نہیں ہوں، یہ بهائی چارہ تمہیں ہی مبارک ہو۔”
اس نے خود کو ایرپورٹ پہ ابا کے سینے سے لگتے، بے تحاشا روتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ اس کا سر تهپکتے ہوئے کچھ کہہ رہے تهے۔ کچھ ایسا کہ بس اب وہ ان کے پاس رہے گی، اب وہ اس کو واپس نہیں بهیجیں گے۔
“چیزیں وقتی ہوتی ہیں، ٹوٹ جاتی ہیں، بکهر جاتی ہیں، رویے دائمی ہوتے ہیں، صدیوں کے لیے اپنا اثر چهوڑ جاتے ہیں۔ انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے۔ اور تم نے آج ایک ٹوٹے ہوئے جنجر بریڈ ہاؤس سے ہار مان لی؟”
وہ اماں کے ساتھ ڈی جے کے گهر میں تهی۔ وہاں ہر طرف کہرام مچا تها۔ اس کی امی اور بہنوں کا بلک بلک کر رونا، ماتم، بین، سسکیوں کی آوازیں، چیخیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان موت تهی اور گویا پوری دنیا ادهر اکٹهی ہوگئی تهی، وہ کسی کو دلاسا نہ دے سکی، بس ایک کونے میں بیٹهی بے آواز روتی گئی۔
“اچها پهر سوچ لو۔۔۔۔۔۔ وہ اب بهی شادی شدہ ہے؟”
نماز جنازہ پچهلے روز ہی ادا کی جاچکی تهی مگر غم ابهی بهی پرانا نہیں ہوا تها۔ خدیجہ کی بہنیں اس سے اس کے بارے میں پوچهتی تهیں، مگر وہ کسی کو کچھ بتا نہیں پا رہی تهی۔ ساری باتیں ختم ہو گئی تهیں۔ دنیا برف کا ڈهیر بن گئی تهی۔ مرمرا کے سمندر پہ تیرتی برف کا ڈهیر۔
“کیا زندگی اتنی جلدی گزر جاتی ہے؟”
“اس سے بهی جلدی گزر جاتی ہے۔ ہمیں پتا بهی نہیں چلتا اور ہمارا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اختتام….دی اینڈ….!”
•••••••••••••••••••••
سرخ صنوبر کے اونچے درختوں کے درمیان ہوا سرسراتی ہوئی گزر رہی تهی۔ وہاں ہر سو گهنا جنگل تها۔ اونچے درختوں کے پتے سنہری دهوپ کو مٹی تک پہنچنے نہیں دیتے تهے۔ دوپہر کے وقت بهی ادهر ٹهنڈی، میٹهی سی چهایا تهی۔
بہارے اسی چهایا میں ادهر ادهر بهاگتی ببول کے سفید پهول توڑ توڑ کر ٹوکری میں بهر رہی تهی۔ عائشے گل ایک درخت تلے زمین پہ بیٹهی سامنے پهیلے کپڑے پہ رکهے بہت سے سرخ جنگلی پهولوں کو دهاگے میں پرو رہی تهی۔ قریب ہی ایک درخت کا کٹا ہوا تنا گرا پڑا تها۔
جب بہت سے پهول جمع ہوگئے تو وہ عائشے کے پاس آئی۔
” عائشے…..” سفید پهولوں سے بهری ٹوکری اس کپڑے پہ ایک طرف انڈیلتے ہوئے اس نے پکارا۔
“ہوں” اس نے جوابا کہتے ہوئے ہاتھ سے سفید پهولوں کا ڈهیر نئے پهولوں سے ایک طرف سمیٹ دیا۔
“سفیر تم سے لڑ کیوں رہا تها؟” وہ خالی ٹوکری رکھ کر اس کے سامنے آلتی پالتی مار کے یوں بیٹھ گئی کہ اب ان دونوں کے درمیان پهولوں والا کپڑا بچها تها۔
لڑ نہیں رہا تها، اپنی بات سمجهانے کی کوشش کر رہا تها۔”
“مگر وہ اونچا اونچا کیوں بول رہا تها؟” بہارے دونوں ہاتهوں پہ چہرہ گرائے الجهی الجهی سی پوچھ رہی تهی۔ گردن جهکا کر سوئی پهول میں ڈالتی عائشے نے مسکرا کر سر جهٹکا۔
“جب انسان دوسرے کی بات نہیں سمجهنا چاہتا تو وہ یونہی اونچا اونچا بولتا ہے۔ تمہیں پتا ہے نا، اس کے پیرنٹس نے اس کی شادی اس کی پاکستانی کزن سے طے کر دی ہے اور وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
“کیوں نہیں کرنا چاہتا؟”
“اس کی مرضی نہیں ہوگی!” اس نے سوئی کو پهول کی دوسری طرف سے نکال کر کهینچا۔ دهاگا کهنچتا چلا آیا۔ پهولوں کی لڑی لمبی ہوتی جا رہی تهی۔
“شادی مرضی سے ہوتی ہے نا؟”
“ہاں!” وہ اب بہارے کے سفید پهولوں کو ہاتھ سے ادهر ادهر ٹٹول رہی تهی۔
“پهر جب میں بڑی ہوں گی تو میں عبدالرحمن سے شادی کروں گی۔”
پهولوں کو سمیٹتا اس کا ہاتھ رکا۔ اس نے ایک خفگی بهری نگاہ بہارے پہ ڈالی۔
“بری بات بہارے گل! اچهی لڑکیاں یوں ہر بات نہیں کر لیتیں۔”
“مگر میں نے عبدالرحمن کو کہہ دیا تها۔”
وہ ایک دم ٹهٹک کر رک گئی اور بے یقینی سے اسے دیکها۔
“کیا کہا تم نے اسے؟”
“یہی کہ جب میں بڑی ہوں گی تو کیا وہ مجھ سے شادی کرے گا؟”
“تو اس نے کیا کہا؟”
“اس نے کہا، تمہیں ایسی بات کس نے سکهائی؟”
“پهر؟” وہ سانس روکے سن رہی تهی۔
“میں نے کہا …..عا…..ئشے گل نے!” روانی سے بولتی بہارے یک لخت اٹکی۔
“کیا؟” وہ ششدر رہ گئی۔” تم نے اس سے جهوٹ بولا؟ تم نے وعدہ کیا تها کہ اب تم جهوٹ نہیں بولو گی۔ خدایا! وہ کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں۔” اس نے تاسف سے ماتهے کو چهوا۔ بہارے نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔
“مگر اسے پتا چل گیا تها۔ اس نے کہا، عائشے گل اچهی لڑکی ہے اور مجهے پتا ہے، اس نے ایسا کچھ نہیں کہا ہوگا۔”
اس کی بات پر عائشے کے تنے ہوئے اعصاب ڈهیلے پڑ گئے۔ ایک بے اختیار سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ بکهر گئی۔ وہ ہولے سے سر جهٹک کر پهول اٹهانے لگی۔
“مگر تم نے جهوٹ نہیں چهوڑا ناں۔”
“وعدہ، اب نہیں بولوں گی۔”
“ہر دفعہ الله سے وعدہ کرتی ہو۔ وہ ہر دفعہ تمہیں ایک اور موقع دے دیتا ہے، مگر تم پهر وعدہ توڑ دیتی ہو۔ اتنی دفعہ وعدہ توڑو گی تو وہ تمہارے وعدوں کا اعتبار کرنا چهوڑ دے گا۔”
“آئندہ میں سچ بولوں گی، اب کی بار مضبوط والا وعدہ۔”
“چلو ٹهیک ہے۔” وہ مسکرا دی۔ “اب تم نے ہمیشہ سچ بولنا ہے، کیونکہ جب انسان بہت زیادہ جهوٹ بولتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے خود اپنے سچ کا بهی اعتبار نہیں رہتا۔”
سمندریseagulls کا غول پهڑپهڑاتا ہوا ان کے اوپر سے گزرا۔ عائشے نے گردن اٹها کر اوپر دیکها۔ وہ پرندے یقینا پورے ببوک ادا کا چکر کاٹ کر اب سمندر کی طرف محو پرواز تهے۔
“عائشے گل!” چند لمحے ان پرندوں کے پنکھ کی مانند اڑ کر بادلوں میں گم ہو گئے تو بہارے نے پکارا۔
“بولو۔” وہ گردن جهکائے اپنی لڑی میں اب سرخ پهولوں کے آگے سفید پهول پرو رہی تهی۔
“تم ہمیشہ سچ بولتی ہو نا، ایک بات بتاؤ گی۔” بہارے ذرا ڈرتے ڈرتے کہہ رہی تهی۔
“پوچهو۔”
“عبدالله کی بہن کسی کو کہہ رہی تهی کہ ببوک ادا کی پولیس بہت بری ہے۔ وہ عبدالرحمن پاشا کو کچھ نہیں کہتی اور یہ کہ وہ جزیرے کا سب سے برا آدمی ہے؟” وہ رک رک کر، تذبذب سے پوچھ رہی تهی۔
عائشے سانس روکے اسے دیکھ رہی تهی۔ بہارے خاموش ہوئی تو اس نے ذرا خفگی سے سر جهٹکا۔
“نہیں، وہ بہت اچها آدمی ہے۔ عبدالله کی بہن کو کیا پتا؟ اور تم نے کسی سے جا کر عبدالرحمن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔ تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نا؟” بہارے نے گردن اثبات میں ہلا دی۔
“مجهے یاد ہے۔”
عائشے دهاگا دانت سے توڑ کر لڑی کے دونوں سروں کی آپس میں گرہ لگانے لگی۔ اس کے چہرے پہ واضح اداسی بکهری تهی۔
•••••••••••••••••••••••
وہ سہ پہر میں خدیجہ کے گهر سے واپس آئی تهی۔ کچھ دیر کمرے میں لیٹی رہی۔ سر درد سے پهٹا جا رہا تها، بخار بهی ہو رہا تها اور نیند تهی کہ آ ہی نہیں رہی تهی۔ بند کمرے میں گهٹن ہونے لگی تو وہ گهبرا کر اٹهی اور کهڑکیوں کے پردے دونوں ہاتهوں سے ہٹائے۔ سامنے لان میں کرسیوں پہ ابا اور اماں کے ساتھ تایا فرقان اور صائمہ تائی چائے پیتے نظر آ رہے تهے۔ میز پہ اسنیکس اور دیگر لوازمات رکهے تهے اور وہ لوگ باتوں میں مگن تهے۔ صائمہ تائی بہت سلیقے سے سر پہ ڈوپٹا جمائے فاطمہ کی طرف چہرہ کیے کچھ کہہ رہی تهیں۔ فاطمہ، تایا فرقان کے سامنے سر پہ ڈوپٹا لے لیتی تهیں جو پیچهے کیچر تک ڈهلک جاتا تها۔ ان کی آنکهیں حیا جیسی تهیں اور لوگ کہتے تهے کہ بیس سال بعد حیا ایسی ہی ہوگی اور اب وہ سوچتی تهی کہ پتا نہیں بیس سال بعد وہ ہوگی بهی یا نہیں۔
وہ شاور لے کر، سادہ ٹراؤزر پہ ٹخنوں کو چهوتی سفید لمبی قمیض پہنے، ہم رنگ ڈوپٹا سر پہ لپیٹے باہر آئی۔ پہلے عصر کی نماز پڑهی کہ نمازیں ان تین دنوں میں وہ قریبا ساری پڑھ رہی تهی۔ خدیجہ کے لیے بہت ڈهیر ساری دعائیں کر کے وہ اٹهی اور پهر ڈوپٹا شانوں پہ پهیلائے بالوں کو کهلا چهوڑے کچن کی طرف آگئی۔
فاطمہ فریج سے کچھ نکال رہی تهیں۔ اسے آتے دیکها تو فریج کا دروازہ بند کر کے مسکراتی ہوئی اس کی طرف آئیں۔ شانے تک آتے بالوں کو کیچر میں باندهے، وہ عام حلیے میں بهی بہت جاذب نظر لگتی تهیں۔
“میرا بیٹا اٹھ گیا؟ انہوں نے اسے گلے سے لگایا، پهر ماتها چوما۔
“جی!” وہ مسکرانا چاہتی تهی مگر آنکهیں بهیگ گئیں۔
“بس صبر کرو۔ الله کی چیز تهی، الله نے لے لی۔”
“صبر اتنا آسان ہوتا تو کوئی دوسرے کو کرنے کو نہ کہتا اماں! ہر شخص خود ہی کر لیتا۔ مگر میں کوشش کروں گی۔”
“گڈ! اچها باہر آجاؤ، تایا تائی ملنے آئے ہیں۔”
“مجھ سے؟”
“ہاں اور جہان سے بهی۔”
“اوہ ہاں، کدهر ہے وہ؟” اسے یاد آیا کہ وہ بهی ساتھ آیا تها۔
“بس کهانا کها کر سو گیا تها، ظاہر ہے تهکا ہوا تها، ابهی میں نے دیکها تو اٹھ چکا تها، کہہ رہا تها بس آ رہا ہوں۔ ویسے سبین کا بیٹا ذرا…..” وہ کہتے ہوئے جهجکیں۔ ذرا پراؤڈ سا ہے، نہیں؟”
“نہیں، وہ شروع میں یونہی ریزرو سا رہتا ہے۔”
“اور بعد میں؟”
حیا نے گہری سانس لی۔
“بعد میں بهی ایسا ہی رہتا ہے۔ اس شروع اور بعد کے درمیان کبهی کبهی نارمل ہو جاتا ہے۔”
وہ باہر آئی تو اسے دیکھ کر تایا فرقان مسکرائے۔ وہ جهک کر ان دونوں سے ملی۔
“اتنے عرصے بعد ملا ہوں اپنی بیٹی سے اور وہ بهی ایسے موقع پر۔ تمہاری دوست کا سن کر بہت افسوس ہوا، الله اس کی مغفرت کرے۔”
“آمین!” وہ سر کے اثبات کے ساتھ تعزیت وصول کرتی کرسی کهینچ کر بیٹهی۔
“ہوا کیا تها اسے؟ صائمہ تائ نے تاسف سے پوچها۔
“برین ہیمبرج۔”
چند لمحے کے لیے ملال ذدہ خاموشی چهاگئی، جسے برآمدے کا دروازہ کهلنے کی آواز نے چیرا۔ وہاں سے فاطمہ باہر آئی تهیں اور ان کے عقب میں جہان بهی تها۔
اس نے سیاہ ٹراؤزر جس کے دونوں پہلوؤں پہ لمبی سفید دهاری تهی، کے اوپر آدهے بازوؤں والی سرمئی ٹی شرٹ پہن رکهی تهی۔ آنکهیں خمار آلود تهیں، جیسے ابهی سو کر اٹها ہو۔ چہرہ اور سامنے کے بال گیلے تهے۔ وہ شاید پانی کے چهینٹے مار کر تولیے سے منہ خشک کیے بغیر ہی باہر آگیا تها۔ اسے آتے دیکھ کر سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ وہ لان کے دہانے پہ پہنچا تو لمحے بهر کے لیے ذرا تذبذب سے گهاس کو دیکها، پهر ایک نگاہ سامنے بیٹهے افراد کے قدموں پہ ڈالی جو جوتوں میں مقید تهے، پهر ذرا جهجک کر گهاس پہ چلتا ہوا ان تک آیا۔
حیا جانتی تهی کہ وہ کیوں جهجکا ہے۔ ترکی میں گهاس پہ چلنا سخت معیوب سمجها جاتا تها اور موقع ملنے پہ وہ اور ڈی جے اپنی تسکین کے لیے گهاس پہ ضرور جوتوں سے چل کر دیکهتی تهیں۔
“شکر ہے، تمہاری شکل تو دیکهی ہم نے۔” اس سے مل کر، رسمی انداز میں حال احوال پوچھ کر تایا فرقان نے گهنی مونچهوں تلے مسکراتے ہوئے کہا تها۔
“تهینکس!” وہ رسما کبهی نہیں مسکرایا، اور اسی سرد انداز میں کہتا حیا کے مقابل کرسی کهینچ کر بیٹها۔ وہ یہاں آنے پہ قطعا راضی نہیں تها، وہ جانتی تهی.۔
“سبین نے گویا قسم کها رکهی تهی کہ ہمیں اپنے بیٹے کی شکل نہیں دیکهنے دے گی۔ اسے کیسے خیال آیا تمہیں بهیجنے کا؟” اس کے لیے دیے انداز کا اثر تها کہ تایا فرقان کے مسکراتے لہجے کے پیچهے ذرا سی چبهن در آئی۔
“ممی کو اپنی بهتیجی کو اکیلے بهیجنا آکورڈ لگ رہا تها، سو مجهے آنا پڑا۔” بغیر کسی لگی لپٹی کے اس نے کہہ ڈالا۔ منگیتر، منکوحہ کے الفاظ تو دور کی بات، اس نے تو میری کزن تک نہیں کہا تها، گویا رشتوں کی حدود واضح کیں۔
سلیمان صاحب کے ماتهے پہ ذرا سی شکن ابهر آئی، اور صائمہ تائی کے لبوں کو ایک معنی خیز مسکراہٹ نے چهو لیا۔ حیا بالکل لا تعلق سے لان کی کیاریوں میں اگے پهولوں کو دیکهنے لگی۔ وہ اور ڈی جے ہمیشہ ٹاقسم پارک سے پهول چرانے کی کوشش کرتے تهے مگر وہ کئیر ٹیکر ان پہ بڑی سخت نگاہ رکهتا تها۔
“اور تمہاری ممی کب آئیں گی؟” سلیمان صاحب نے چائے کا گهونٹ بهرتے ہوئے پوچها۔
“ممی کی بهتیجی اور تمہاری ممی۔” اس کے گهر کے مرد آج بہت تول تول کر الفاظ ادا کر رہے تهے۔
“کچه کہہ نہیں سکتا۔” اس نے شانے اچکا دیے۔
“جہان! جوس لو گے یا چائے، یا پهر کافی؟” فاطمہ نے چائے کے خالی کپ ٹرے میں رکهتے ہوئے اس کو مخاطب کیا۔ وہ مردوں کی بہ نسبت اس کو داماد والا پروٹوکول دے رہی تهیں۔
“بس ایپل ٹی بہت ہے۔” اس نے روانی میں کہہ دیا مگر فاطمہ کی آنکهوں میں ابهرتی ناسمجهی دیکهھ کر لمحے بهر کو متذبذب ہوا، پهر فورا تصحیح کی۔
“بس چائے۔”
فاطمہ نے مسکرا کر سر ہلایا اور ٹرے اٹهائے اندر کی طرف بڑھ گئیں۔
“تو بیٹا! آپ کی اسٹڈیز کمپلیٹ ہوگئیں؟” صائمہ تائی اب بہت میٹهے لہجے میں پوچھ رہی تهیں۔ وہ ہر کسی کے لیے اتنی میٹهی نہیں ہوتی تهیں، کچھ تها جو اسے چونکا گیا۔
“جی، اب تو کافی عرصہ ہوگیا۔”
“پهر کیا کر رہے ہو آپ؟”
“میرا استقلال اسٹریٹ پہ ایک ریسٹورنٹ ہے وہی دیکهتا ہوں۔”
جوابا صائمہ تائی ذرا حیران ہوئیں، البتہ تایا فرقان نے متانت سے سر ہلاتے ہوئے اپنے تاثرات چهپا لیے۔ وہ جانتی تهی کہ وہ لوگ استقلال اسٹریٹ کی قیمتی زمین کی اہمیت کو نہیں سمجهتے، اس لیے متاثر نہیں ہوئے اور گو کہ وہ اپنی لاتعلقی توڑنا نہیں چاہتی تهی، پهر بهی دهیرے سے بولی تهی۔
“استقلال اسٹریٹ پہ ایک ریسٹورنٹ کا مطلب ہے، لاہور کی ایم ایم عالم روڈ پہ دو ریسٹورنٹس۔” وہ کہہ کر کیاریوں کو دیکهنے لگی۔”
“اوہ اچها…..گڈ!” ان کے تاثرات فورا ہی بدلے تهے۔
“والد صاحب کی طبیعت کیسی ہے اب؟”
“جی ٹهیک ہیں۔” وہ مختصر جواب دے رہا تها۔ تب ہی فاطمہ اس کی چائے کا مگ ٹرے میں لیے چلی آئیں۔
“کچھ لو نا بیٹا! تم نے کچھ نہیں لیا۔”
“جی، میں لیتا ہوں۔” اس نے مگ اٹها لیا مگر دوسری کسی شے کو چهوا تک نہیں۔
تایا فرقان اور صائمہ تائی ادهر ادهر کی چهوٹی موٹی باتیں کر کے جلد ہی اٹھ کر چلے گئے۔ البتہ جاتے وقت وہ جہان کے لیے دیے جانے والے آج رات کے ڈنر پہ سب کو مدعو کر کے گئے تهے۔
“تمہاری چهٹی کب تک ہے پهر؟” ان کے جانے کے بعد سلیمان صاحب جہان سے پوچهنے لگے۔
“بس یہی چار دن.”
“پهر تم اپنی فلائٹ بک کروانا تو حیا کی مت کروانا۔وہ واپس نہیں جائے گی۔” حیا نے چونک کر ابا کو دیکها۔
“اوکے! ” جہان نے ایک سرسری نظر اس پہ ڈالتے ہوئے شانے اچکا دیے۔
“مگر ابا….. ہمارا کانٹریکٹ۔” وہ ایک دم بہت پریشان ہوگئی تهی۔
“میں تمہارا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا دوں گا۔ کانٹریکٹ کی فکر چهوڑو۔ اب میرا مزید حوصلہ نہیں ہے تمہیں باہر بهیجنے کا۔ اس بچی کا جنازہ بهگتایا ہے میں نے۔ اتنی دور اکیلی بچیاں بهیجنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ کل کو کچھ ہوا تو۔”
“ابا! اس کے برین میں اندر بہت پہلے سے …..”
“حیا! جو میں نے کہا، وہ تم نے سن لیا؟” ان کا انداز اتنا دوٹوک اور سخت تها کہ اس نے سر جهکا دیا۔
“جی ابا۔”
جہان لاتعلق سا بیٹها چائے کے گهونٹ بهر رہا تها۔
••••••••••••••••••••••••
تایا فرقان کے پورچ کی بتیاں رات کی تاریکی میں جگمگا رہی تهیں۔ وہ اور جہان، فاطمہ کے ہمراہ چلتے ہوئے برآمدے کے دروازے تک آئے تهے۔ سلیمان صاحب کا کوئی آفیشل ڈنر تها، سو انہوں نے معذرت کر لی تهی۔
دروازے کے قریب جہان رکا اور جهک کر بوٹ کا تسمہ کهولنے لگا۔ فاطمہ نے رک کر اچنبهے سے اسے دیکها۔
پاکستان میں جوتے پہن کر گهر میں داخل ہوتے ہیں۔” وہ اتنی کبیدہ خاطر اور بے زار تهی کہ جہان سے مخاطب ہونے کا دل نہیں چاہ رہا تها، پهر بهی کہہ اٹهی۔
“اوہ سوری!” وہ ذرا چونکا، پهر جلدی سے تسمے کی گرہ لگا کر سیدها ہوا۔ یہ وہ پہلی باضابطہ گفتگو تهی، جو پاکستان آ کر ان دونوں کے درمیان ہوئی تهی۔
“ترکی میں جوتے گهر سے باہر اتارتے ہیں، اس لیے وہ رکا تها۔” اس نے الجهی سی کهڑی فاطمہ کے قریب سرگوشی کر کے وجہ بتائی اور آگے بڑھ گئیں۔
ڈائننگ ہال میں بہت پرتکلف کهانا سجا تها۔ صائمہ تائی نے خوب اہتمام کر رکها تها۔ جہان بہت مختصر گفتگو کر رہا تها۔ کوئی کچھ پوچهتا تو جواب دیتا اور پهر خاموشی سے کهانے لگ جاتا۔
ارم، سونیا بهابهی اور داور بهائی کے اس طرف بیٹهی تهی۔ فرخ کی کال تھی سو وہ ہسپتال میں تھا۔ ارم حیا سے ذرا رکهائی سے ملی۔ اس کا کهچا کهچا اور خاموش سا انداز حیا کو ساری وجہ سمجها گیا۔ اس رات وہ یقینا پکڑی گئی تھی، مگر حیا نے اسے نہیں بچایا تھا سو تایا کے سامنے اس کا پول کھل گیا، اسی لیے وہ حیا کو اس سب کا ذمہ دار سمجھتی تھی، مگر اس نے اثر نہیں لیا۔ وہ ڈی جے کا صدمہ اتنا گہرا لیے ہوئی تهی کہ اسے اب ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تها۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: