Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 19

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 19

–**–**–

داور بهائی اور تایا فرقان، جہان سے ترکی کے متعلق چهوٹی چهوٹی باتیں یونہی برسبیل تذکرہ پوچھ رہے تهے اور وہ نپے تلے جواب دے رہا تها۔
کبھی ترکی آئے تو تمہاری طرف ضرور آئیں گے! داور بھائی نے سونیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا۔ سونیا مسکرائی۔ تائی نے فورا داور بھائی کو دیکھا۔
میرا مطلب ہے، ہم سب! داور بھائی نے جلدی سے تصحیح کی۔ سونیا نے سر جھکا دیا۔
شیور! جہان نے شانے اچکا دیے، جیسے آپ آئیں یا نہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا۔
“آگے کا کیا ارادہ ہے تمہارا؟” کهانا درمیان میں تها، جب تایا فرقان نے بہت سرسری سے انداز میں کہتے ہوئے گویا پہلا پتا پهینکا۔
حیا نے ذرا چونک کر انہیں دیکها اور پهر فاطمہ کو، جو حیا کی طرح ہی چونکی تهیں۔ جو بات ان دو ماہ میں وہ خود، اور اتنے عرصے سے اس کے ماں باپ، سبین پهپهو یا جہان سے نہیں پوچھ سکے تهے، وہ تایا فرقان نے بڑے آرام سے پوچھ لی تهی۔
“کچھ سرمایہ جمع ہوا تو جواہر مال میں ایک ریسٹورنٹ کهول لوں گا۔” چمچے اور کانٹے سے چاول پلیٹ سے اٹهاتے ہوئے اس نے جواب دیا تها۔
“تم داور سے سال بهر ہی چهوٹے ہونا؟”
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“بهئی داور میاں تو اب مزید اسٹیبلش ہونے کے حق میں بالکل نہیں تهے اور صاحبزادے کا خیال یہ تها کہ اس عمر میں فیملی شروع کر دینی چاہیے، سو ہم نے ان کی شادی کر دی۔ تمہارا کیا خیال ہے؟”
تایافرقان چاولوں کی پلیٹ میں رائتہ ڈالتے ہوئے پوچھ رہے تهے۔ حیا کے حلق میں نوالہ پهنسنے لگا، اس نے جهکا سر مزید جهکا دیا۔ جہان نے ذرا سے کندھے اچکائے۔
“داور کے پاس اس کے والد کا اسٹیبلشڈ بزنس تها، سو وہ اس پوائنٹ پہ شادی افورڈ کر سکتا تها۔” اس نے سلاد کی پلیٹ سے کهیرے کا ایک ٹکڑا اپنی پلیٹ میں رکهتے ہوئے بے پروائی سے جواب دیا۔
“کام تو خیر تمہارا بهی اسٹیبلشڈ ہوگیا ہے۔”
“میرے اوپر ابهی کافی قرض ہے، وہ ذرا ہلکا ہو جائے تو ہی کچھ سوچوں گا۔”
حیا نے گردن مزید جهکا لی۔ کیا تها اگر وہ اپنی لینڈ لیڈی کے قرضے کا ذکر نہ کرتا، کچھ بهرم تو رہنے دیتا۔
“یہ بهی ٹهیک ہے، انسان اس وقت ہی شادی کرے، جب وہ اس ذمہ داری کو نبها سکے۔ ذمہ داری نبهانا بهی مشکل کام ہوتا ہے۔ ہاں اگر والدین ساتھ دیں تو یہ مشکل آسان ہوسکتی ہے، مگر یہاں پاکستان میں تو اب اکثر شادیوں پہ والدین ناخوش ہوتے ہیں، کیونکہ آج کل کے بچے ان کی پسند کو اہمیت نہیں دیتے اور اپنی مرضی کرتے ہوئے ان کے طے کردہ رشتوں کو ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔ یہ تو میرے بچے ہیں کہ جو ماں باپ نے کہا، اس پہ راضی ہوگئے، ورنہ تو…..” انہوں نے معاشرے پہ ایک تبصرہ کرتے ہوئے تاسف سے سر جهٹکا
سونیا بهابهی نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ فاطمہ کی پیشانی پہ ناگوار سی شکنیں ابهر آئی تهیں، مگر وہ کچھ کہہ نہیں سکتی تهیں۔ تایا بڑے تھے۔ ان کے سامنے کوئی نہیں بول سکتا تھا۔
“ویل….. یہ ڈیپینڈ کرتا ہے۔” جہان نے کولڈ ڈرنک کے گلاس سے چهوٹا سا گهونٹ لیتے ہوئے کہا۔ “میرا خیال ہے، ماں باپ اگر اپنی مرضی مسلط نہ کریں تو چیزیں ٹهیک رہتی ہیں۔”
صائمہ تائی کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔ فاطمہ کے چہرے پہ ایک تاریک سایہ لہرایا اور حیا کی گردن مزید جهک گئی۔ بهرے پنڈال میں گویا اس کی بے عزتی کر دی گئی تهی۔
“یہ بهی ٹهیک ہے۔” تایا فرقان نے سر ہلا کر تائید کی۔” تمہاری واپسی کب ہے؟ ” جواب مل گیا تها، سو بات بدل دی
“سوموار کی صبح کی فلائیٹ ہے۔”
“حیا تو نہیں جا رہی نا۔ ویسے میرا بهائی میری طرح بزدل نہیں ہے بلکہ کافی بہادر ہے۔ میری بیٹی نے بهی آ کر اسی اسکالر شپ کا کہا تها، مگر میں نے اس کی ماں سے کہا کہ اسے سمجهاؤ اکیلی لڑکی جب دوسرے ملک یوں تن تنہا جاتی ہے تو پورا خاندان انگلیاں اٹهاتا ہے۔ بهئی بچی جتنی احتیاط کرے، لوگ تو باتیں بناتے ہیں کہ کو ایجوکیشن میں پتا نہیں کیسے رہتی ہے، وہاں اکیلے باہر آنا جانا ہوگا، کس سے ملتی ہے، کس سے نہیں، پهر کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو ماں باپ تو ہو گئے بدنام۔ خیر ! ویسے ترکی تو اچها مسلمان ملک ہے اور تمہاری فیملی ساتھ تهی تو ہمیں اپنی بیٹی کی طرف سے بے فکری رہتی تهی۔”
انہوں نے کہتے ہوئے مسکرا کر حیا کو دیکها جو خاموشی سے پلیٹ میں دهرے چاول کانٹے سے ادهر ادهر کر رہی تهی۔ وہ کها نہیں رہی تهی، کسی نے محسوس نہیں کیا۔
“حیا! تم نے شادی کے کپڑے بنوا لیے؟” صائمہ تائی نے گفتگو کا رخ اس کی طرف موڑا۔ اس نے ذرا سی نفی میں گردن ہلائی۔
“ابهی دیکهوں گی۔” اسے علم نہیں تها کہ اماں نے کپڑے بنوائے ہیں یا نہیں۔r
“چلو تم ریڈی میڈ بهی لے سکتی ہو، آسانی ہو جائے گی۔ سارا مسئلہ میری ارم کا ہوتا ہے۔ ڈوپٹا شیفون کا نہ ہو، پتلا ڈوپٹا سر پہ ہی نہیں ٹکتا، آستین باریک نہ ہو اور پهر جو جوڑا اچها لگتا ہے اس کی آستینیں ہی غائب ہوتی ہیں۔ تمہاری تو خیر ہے، تم سب ہی کچھ پہن لیتی ہو، ساری مصیبت تو میری آئی رہتی ہے۔ بار بار درزی کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔” بات ختم کر کے انہوں نے ایک نظر جہان پہ ڈالی۔ وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کر رہا تها۔
“بس کیوں کردی بیٹا؟ اور لو نا، کهانا ٹهیک لگا تمہیں؟”
“جی! مامی! کهانا تو بہت اچها تها، بس ذرا مرچ زیادہ تهی۔” وہ پہلی دفعہ قدرے مسکرا کر بولا۔
جہاں تائی کی مسکان پهیکی ہوئی، وہاں سونیا بهابهی نے اپنی مسکراہٹ چهپانے کے لیے چہرہ جهکا دیا۔
••••••••••••••••••••••••
رات دیر تک جاگنے کے باعث وہ صبح دن چڑهے تک سوتی رہی اور آنکھ کهلی بهی تو موبائل کی آواز سے۔
اس نے مندی مندی سی آنکهیں کهولیں اور سائیڈ ٹیبل پہ رکها اپنا پاکستانی موبائل اٹها کر دیکها۔ وہاں “پرائیوٹ نمبر کالنگ ” جلتا بجهتا دکهائی دے رہا تها۔
“اف….. یہ پهر پیچهے پڑ گیا۔” اور اسے پتا تها کہ جب تک اٹهائے گی نہیں، وہ کال کرتا رہے گا۔
“ہیلو ؟” اس نے کہنیوں کے بل اٹهتے ہوئے فون کان سے لگایا۔
“ویلکم بیک۔ کیسی ہیں آپ؟” وہی دهیما، خوب صورت، گمبهیر لہجہ۔ اس کی پیشانی پہ بل پڑ گئے۔
“کیوں فون کیا ہے آپ نے؟”
“آپ کی دوست کا سنا تها، بہت افسوس ہوا۔”
“آئندہ آپ کو کبهی افسوس ہو یا خوشی ہو، مجهے فون مت کیجئے گا۔”
“آپ اتنی بد گمان کیوں رہتی ہیں؟ آپ اگلے بندے کی پوری بات کیوں نہیں سنتیں؟ مجھے کہنے تو دیں جو مجھے کہنا ہے!” اسے جیسے غصہ آیا تها۔
“دیکهیں! میں جانتی ہوں کہ آپ کون ہیں؟ میں یہ بهی جانتی ہوں کہ آپ کس کے بیٹے ہیں اور یہ بهی کہ آپ کا میرے خاندان سے کیا ایشو ہے، مگر بات جو بهی ہے، اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ آپ آئندہ فون کریں گے بهی تو میں نہیں اٹهاؤں گی۔ خدا حافظ۔”
اس نے زور سے بٹن دبا کر فون بند کیا اور تکیے پہ اچهال دیا۔ پتا نہیں کون سا گناہ تها اس کا، جو وہ شخص اس کے پیچهے پڑ گیا اور اپنے ساتھ بہت سے مسئلے اس کے پیچهے لگا دیے۔
شام میں فاطمہ کے بے حد اصرار اور پهر ناراض ہونے کی دهمکی کے بعد حیا وہ کامدار انارکلی فراک پہننے پہ راضی ہوئی جو رنگ کے فرق کے ساته تمام لڑکیوں نے مہندی کے لیے بنوائے تهے۔ اس کا قطعا تیار ہونے کو دل نہیں چاہ رہا تها، مگر فاطمہ نے اس کی ایک نہیں سنی۔
“جو ہوچکا ہے، ہم اسے بدل تو نہیں سکتے۔ پهر لوگوں کو خود پہ تمسخر کرنے کا موقع کیوں؟ فریش ہو کر جاؤ ورنہ تمہاری تائی کوئی نہ کوئی قصہ بنا دیں گی۔”
لمبا انار کلی فراک گہرے سبز رنگ کا تها اور اس پہ دبکے کا سلور کام تها۔ ساتھ میں سونیا بهابهی نے اس کو اپنا سبز اور سلور پراندہ باندھ دیا کہ سب لڑکیاں پراندے پہن رہی تهیں۔ سلور ٹیکا بهی سونیا نے ہی اس کی پیشانی پہ سجایا، مگر کسی بهی قسم کے سنگهار کے لیے وہ قطعا راضی نہ تهی۔
“اچھا کاجل تو ڈال لو۔” سونیا اس کے ساتھ سیڑهیوں کے اوپر کهڑی، اسے کاجل تھمانا چاہ رہی تهی مگر اس نے چہرہ پیچھے کر لیا۔ وہ اس وقت تایا فرقان کے گهر میں تهیں۔ سیڑهیوں سے نیچے لاؤنج میں ہر طرف رشتے داروں کی چہل پہل تهی۔ مہوش اور سحرش کی چهوٹی بہن ثنا کیمرا لیے ادهر ادهر بهاگ رہی تهی۔ اس کا فراک سرخ کلر کا تها۔ سونیا کا اپنی بری کا تها، ہلکا گلابی۔
“نہیں رہنے دیں بهابهی!” اس نے بددلی سے چہرہ پیچهے ہٹایا۔ چاندی کے گول ٹیکے نے دهلے دهلائے چہرے کو سجا دیا تها۔
سونیا تاسف سے سر جهٹک کر گویا اس پہ ماتم کرتی، سیڑهیاں اتر گئی۔ اس نے ایک آخری نگاہ دیوار پہ آویزاں آئینے پہ ڈالی، کامدار سبز ڈوپٹا کندهے پہ ڈالا اور دوسرا پلو بائیں بازو سے آگے کو نکال لیا اور پلٹ کر سیڑهیاں اترنے لگی۔ تب ہی اس نے جہان کو دیکها۔ وہ سب سے لاتعلق سا اپنے موبائل پہ کچھ پڑهتا سامنے سے چلا آ رہا تها۔ فاطمہ اس کے لیے دو تین کرتے لے آئی تهیں اور اس وقت اس نے ان میں سے ایک سیاہ والا کرتا زیب تن کر رکها تها، جس کے گلے پہ سنہرے دهاگے کا کام تها۔ آستین کہنیوں تک موڑے وہ کوئی میسج لکھ رہا تها۔
وہ سہج سہج کر باریک ہیل سے زینے اترنے لگی۔ ٹاقسم والا واقعہ اسے نہیں بهولتا تها۔ وہ آخری سیڑهی پہ تهی، جب جہان نے سر اٹهایا، ایک لمحے کے لیے رک کر اسے دیکها، پهر اس کی طرف آیا۔
“حیا…..!” وہ آخری زینے پہ ایک ہاتھ ریلنگ پہ رکهے ٹهہر سی گئ۔
“میں نے اپنی سوموار کی فلائیٹ بک کروائی ہے۔ تمہاری بک تو نہیں کروانی نا؟ تم واپس نہیں جا رہیں رائٹ؟” لاتعلق سے انداز میں وہ محض کام کی بات پوچھ رہا تها۔ اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکنے لگا۔
“نہیں، میں واپس نہیں جا رہی۔ ابا ایک دفعہ فیصلہ کر لیں تو پهر وہ اسے نہیں بدلتے۔” وہ آخری زینہ اتر کر اس سے چند قدم کے فاصلے پہ کهڑی ہوئی۔
“اوکے!” وہ شانے اچکاتے ہوئے پلٹنے ہی لگا تها کہ ثنا اس پل کیمرا لیے ان کے سامنے آئی۔
“ایک منٹ جہان بهائی! یہیں کهڑے رہیں، میں آپ دونوں کی پکچر لے لوں۔ خوش دلی سے کہتے ہوئے اس نے کیمرا اپنے چہرے کے سامنے کیا۔
جہان نے ذرا چونک کر ساتھ کهڑی حیا کو دیکها اور پهر قدرے ناگواری سے وہ چند قدم آگے کو آیا۔ ثنا جو فوکس کر رہی تهی، اس نے ذرا حیران ہو کر کیمرا چہرے سے نیچے کیا۔
“کسی کی پکچر بنانے سے پہلے اس سے پوچھ لینا چاہیے۔” لب بهینچے، ذرا درشتی سے کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔
ثنا کا رنگ مانند پڑ گیا۔ اس کا کیمرے والا ہاتھ ڈهیلا ہو کر پہلو میں آگرا۔ اس نے پلٹ کر راہداری کی سمت دیکها، جہاں وہ جاتا دکهائی دے رہا تها، پهر دبے دبے غصے سے سر جهٹکا۔
“میری توبہ جو کبهی ان کی تصویر بناؤں یا ان سے بات بهی کروں۔ وہ خفگی سے بڑبڑاتے ہوئے آگے چلی گئی۔
حیا نے انگلی کی نوک سے آنکھ کا بهیگا گوشہ صاف کیا اور سر کو خفیف سی جنبش دے کر آگے بڑھ گئی۔ اس کے پاس رونے کے لیے بہت سے غم تهے۔
مہندی کا فنکشن زاہد چچا کے لان میں ہی منعقد کیا گیا تها۔ لان کافی کهلا اور وسیع تها، سو قناتوں سے صرف اوپر کی چهت بنائی گئی، باقی اطراف کهلی رکهی گئیں۔ جہاں ہر سو دیواروں پر لڑیوں کی صورت بتیاں جگمگا رہی تهیں۔
اسٹیج پر رکهے لکڑی کے جهولے کو گیندے کے پهولوں سے آراستہ کیا گیا تها اور مہوش اس پہ کسی ملکہ کی شان سے بیٹهی تهی۔ اس کا انارکلی فراک باقی لڑکیوں کے برعکس دو رنگا تها۔ سرخ اور زرد۔ ان ہی دو رنگوں کا پراندہ آگے کندهے پر ڈالے ڈوپٹا سر پر ٹکائے وہ مسکرا کر بہت پر اعتماد طریقے سے سب سے باتیں کر رہی تهی۔ اس اعتماد میں غرور کی جهلک بهی تهی۔ وہ خوب صورت نہیں تهی، مگر خوب سارا پیسہ اپنی تراش خراش پر لٹانے کے بعد اب بے حد پر کشش لگ رہی تهی۔
پہلو میں بیٹها اس کا ماموں زاد عفان عام سی شکل کا کنیڈین نیشنل تها مگر سننے میں آیا تها کہ تازہ تازہ بےحد امیر ہوا ہے۔ ابهی یہ کہانی حیا نے پوری سنی نہیں تهی۔
وہ بالکل کونے میں رکهی ایک میز کے گرد کرسی پر بیٹهی تهی۔ وہاں جگہ جگہ ایسے ہی میزوں کے گرد کرسیوں کے پهول بنے تهے۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ بهی اپنے سبز فراک میں ادهر ادهر خوش باش پهر رہی ہوتی مگر آج وہ اندر سے اتنی بےزار اور اداس تهی کہ وہیں بیٹهی سب کو خالی خالی نگاہوں سے دیکهے گئی۔
ہر طرف لڑکیاں، لڑکے آ جا رہے تهے۔ ثنا اپنا کیمرا اٹهائے، ماتهے پہ جهولتا ٹیکا سنبهالتی، ادهر ادهر اٹهلاتی تصویریں کهینچتی پهر رہی تهی۔ اسٹیج پہ صائمہ تائی جهک کر مہوش کو مہندی لگا کر اب مٹهائی کهلا رہی تهیں۔ ارم بهی وہیں تهی۔ اس کا انارکلی فراک ہلکا فیروزی تها اور کبهی وہ ڈوپٹا گردن میں ڈال لیتی، تو کبهی سر پہ کر لیتی کہ خواتین اور مردوں کا ایک ہی جگہ انتظام تها اور تایا فرقان بهی آس پاس ہی تهے
زاہد چچا روشن خیال تهے تو مہوش کے ماموں کا خاندان بهی آزاد خیال تها، سو مہندی کا فنکشن مشترکہ رکها گیا تها۔ البتہ ان کے خاندان کے لڑکے اور مرد ذرا الگ تهلگ چند میزوں پر برا جمان تهے تاکہ برائے نام ہی سہی، مگر پارٹیشن ہو جائے۔ تایا فرقان اور سلیمان صاحب سب وہیں تهے۔
وہ اسی طرح بیٹهی، پراندہ آگے کو ڈالے، غیر دلچسپی سے سب کچھ دیکھ رہی تهی۔ اس نے ایک سرسری سی نگاہ میں گردوپیش کا جائزہ لے کر جہان کو ڈهونڈنا چاہا تها اور وہ اسے نظر آ بهی گیا تها۔ دور، مردوں کی طرف، تایا فرقان اور سلیمان صاحب کے ساتھکرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ جمائے ہوئے آستین عادتا کہنیوں تک موڑے وہ خاصا لاتعلق سا بیٹها تها۔ یقینا وہ جی بهر کر بور ہو رہا تها۔
وہ تلخی سے سر جهٹک کر واپس اسٹیج کو دیکهنے لگی، جہاں اب فاطمہ، مہوش کو مٹهائی کهلا رہی تهیں۔ ساته ہی اس کی جڑواں بہن سحرش بیٹهی مسکرا کر کیمرے کو دیکهتی تصویر بنوا رہی تهی۔ اس کا انار کلی فراک پستئ رنگ کا تها۔ دونوں بہنوں کی شکل و صورت سمیت سب مختلف تها مگر بدلے بدلے یہ مغرور انداز یکساں تهے۔ ثنا چونکہ چهوٹی تهی یا فطرتا مختلف تهی، سو اس نے یہ اثر قبول نہیں کیا تها۔
“حیا…..ادهر بیٹهی ہو؟” ارم اپنا فیروزی کامدار ڈوپٹا سر پہ ٹهیک سے جماتے ہوئے اس کے ساتھ کرسی پہ آ بیٹهی۔ کل کی نسبت اس کا رویہ قدرے دوستانہ تها۔
“ہاں، تم سناؤ! تهک گئی ہو؟” وہ بهی جوابا نرمی سے بولی۔
“ہاں بس، تهوڑی بہت۔ اچها وہ….” لہجہ ذرا سرسری بنا کر وہ بولی ” فون فارغ ہوگا تمہارا ؟” مجهے ذرا فضہ کو کال کرنی تهی، کچھ نوٹس کا کہنا تها۔ میرا فون خراب ہے آج کل۔”
حیا نے گہری سانس اندر کو کهینچ کر خارج کی۔ (تو ارم سے اس کا فون بهی لے لیا گیا تها۔)
“ہاں! فون فارغ ہے، جب چاہے لے لو، مگر کریڈٹ ختم ہے، جب سے آئی ہوں، ڈلوایا ہی نہیں ہے۔ دوپہر سے ظفر کو ڈهونڈ رہی تهی کہ وہ ملے تو اس کو بهیج کر کارڈ منگواؤں۔”
اس نے تایا فرقان کے کل وقتی کک کا نام لیا۔ گو کہ یہ سچ نہیں تها اور کریڈٹ اس نے صبح ہی ڈلوایا تها مگر وہ ارم کو فون نہیں دینا چاہتی تهی۔
“اچها….. ارم کے چہرے پہ واضح مایوسی پهیلی تهی۔
“اماں کا فون فارغ ہوگا، لے آؤں؟” وہ اٹهنے لگی تو اس کی توقع کے عین مطابق ارم نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔
“رہنے دو، میں بعد میں ابا سے لے لوں گی۔ میرا فون ذرا ریپئرنگ کے لیے نہ گیا ہوتا تو۔ خیر تم سناؤ ترکی میں سب ٹهیک تها؟” وہ بات کا رخ پلٹ گئی۔
“بس…. وہاں کی تو اب دنیا ہی بدل گئی ہے، مگر اسے چھوڑو، یہ بتاؤ، مہوش، سحرش کے انداز اتنے بدلے بدلے کیوں لگ رہے ہیں؟” اس نے پراندے کو ہاتھ سے پیچهے کمر پہ ڈالتے ہوئے حیرت کا اظہار کر ہی دیا۔ آخر دونوں کزنز تهیں اور کبهی بہت اچهی دوستیں بهی ہوا کرتی تهیں۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے ان دونوں کا۔” ارم سرگوشی میں کہتے ہوئے ذرا قریب کهسک آئی۔” یہ جو عفان صاحب ہیں نا، جن کو میں اپنا ڈرائیور بهی نہ رکهوں۔ انہوں نے کنیڈا میں کسی رئیلیٹی ٹی وی شو میں حصہ لے کر ڈیڑه ملین ڈالر جیتے ہیں اور ان سب کی جون ہی بدل گئی ہے۔ سنا ہے دونوں ہنی مون پہ یورپ کے ٹور پہ جا رہے ہیں۔” ارم کے لہجے میں نہ حسد تها، نہ رشک۔ بس وہ اکتائی ہوئی لگ رہی تهی۔
“تب ہی میں کہوں!” اس نے استہزائیہ سر جهٹکا۔ ارم کچھ دیر مزید بیٹهی، پهر اٹھ کر چلی گئی۔ حیا کو اگر کسی نے اسٹیج کی طرف بلایا بهی تو وہ نہیں گئی اور اصرار بهی کسی نے نہیں کیا۔ اس کے صدمے سے سب واقف تهے، مگر اس کی دوست کے غم میں کسی نے اپنا کام نہیں چهوڑا تها اور وہ کسی سے ایسی توقع کر بهی نہیں رہی تهی۔ پهر بهی دل پہ ایک بوجھ سا تها۔ کتنی بے حس تهی یہ دنیا۔ کیسے لمحوں میں لوگ ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ سب کام جاری و ساری تهے اور……
ایک دم سے بجلی غائب ہوگئی۔
ساری بتیاں گل ہوگئیں۔
ہر طرف اندهیرا اور سناٹا چها گیا۔
صرف کیمرا مین کے کیمروں کی فلیش لائٹس کی روشنی رہ گئی۔
پهر مایوسی، غصہ بهری مضمحل سی آوازیں بلند ہوئیں۔ موبائل کی ٹارچز آن ہوئی، کسی نے بهاگ کر برآمدے کی یو پی ایس کی ٹیوب لائٹ جلائی تو مدهم سفید روشنی برآمدے میں پهیل گئی۔
رضا، فرخ، داور وغیرہ کو ان کی ماؤں نے آوازیں دیں۔ جنریٹر آٹومیٹک تها، پهر کیوں نہیں چلا؟”
کوئی تو جنریٹر چلاۓ۔ ہر طرف اکتاہٹ بھری آوازیں سنائی دینے لگیں۔
لڑکے بھاگ کر برآمدے میں آۓ اور فرخ نے جلدی سے آگے بڑھ کر جنریٹر چلانے کی کوشش کی۔ مگر اس کا انجن مردہ پڑا رہا۔
اچھے بھلے فنکشن میں بدمزگی سی ہو گئی۔ ہر طرف بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر میز پر ایک ٹمٹماتی موبائل کی ٹارچ جگمگا رہی تھی۔
“پتا نہیں ابا! نہیں چل رہا۔” داور بھائی نے بھی دوچار دفعہ کوشش کی، مگر بے سود۔ وہ ہاتھ جوڑ کر مایوسی سے کہتے ہوۓ کھڑے ہوۓ۔
ابا اور تایا فرقان بھی برآمدے کے ستونوں کے پاس آن کھڑے ہوۓ تھے۔ حیا کی ٹیبل چونکہ برآمدے سے بہت قریب تھی اس لیے وہ گردن موڑ کر بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
“جاؤ، مکینک کو بلا کر لاؤ یا دوسرے جنریٹر کا بندوبست کرو۔ جلدی۔” تایا فرقان برہمی سے ڈانٹتے اپنے بیٹوں کو دوڑا رہے تھے۔ کوئی ادھر بھاگا، تو کوئی ادھر۔ ہر طرف ایک شرمندگی اور بے زاری پھیل گئی تھی۔
وہ ایک کہنی میز پہ ٹکاۓ، ٹھوڑی ہتھیلی پہ رکھے، گردن ترچھی کر کے برآمدے کو دیکھے گئی، جہاں مدھم سی روشنی میں رکھا جنریٹر دکھائی دے رہا تھا۔ قریب ہی تایا فرقان اور سلیمان صاحب کھڑے قدرے متاسف سے آپس میں کچھ کہہ رہے تھے۔
دفعتا وہ ذراچونکی۔ اس نے جہان کو برآمدے کے زینے چڑھتے دیکھا۔ تایا فرقان اور ابا نے اسے نہیں دیکھا تھا، وہ آپس میں مصروف تھے۔
وہ خاموشی سے آستینیں مزید پیچھے موڑتے ہوۓ آگے بڑھا اور جنریٹر کے سامنے ایک پنجے اور ایک گھٹنے کے بل بیٹھا۔ نچلا لب دانتوں سے دباۓ، وہ اب گردن جھکاۓ جائزہ لینے لگا تھا۔
پھر سر اٹھایا اور متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ قریب سے افراتفری کے عالم میں ثنا اندر جاتی دکھائی دی۔ اس نے ثناء کو آواز دی۔ وہ ٹھٹھک کر رکی۔ اس نے کچھ کہا تو ثناء نے ذرا اچنبھے سے سر اثبات میں ہلایا اور اندر چلی گئی۔
چند لمحوں بعد اس کی واپسی ہوئی تو چھری، پیچ کس اور ایسی چند چیزیں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ جہان کے ساتھ وہ سب رکھ کر پھر خود بھی وہیں کھڑی ہوگئی۔
وہ جنریٹر کا کور اتار رہا تھا۔ تب ہی تایا فرقان کی نگاہ اس پہ پڑی تو وہ چونکے۔ وہ بغیر اپنے کرتے کی پروا کیے، زمین پہ بیٹھا جنریٹر میں ہاتھ ڈال کر کچھ دیکھ رہا تھا۔ تایافرقان کی تعاقب میں سلیمان صاحب نے بھی اس طرف دیکھا۔
“فیول والو میں کچھ پھنس گیا ہے۔ ابھی صاف ہو جاۓ گا۔” اس کی آواز مدھم مدھم سی حیا تک پہنچی تھی۔ ثنا بہت حیرت، بہت متاثر سی اس کے ساتھ کھڑی اس کو کام کرتے دیکھ رہی تھی، جو بالکل کسی ماہر مکینک کے انداز میں بہت مہارت سے تاریں ادھر ادھر کر رہا تھا۔
چونکہ ہر سو اندھیرا تھا اور روشنی صرف برآمدے میں تھی، سو برآمدے کا منظر سارے منظر پہ چھانے لگا۔ لڑکیاں اور رشتہ دار خواتین مڑ مڑ کر اسی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ماحول پہ چھائی بے چینی ذرا کم ہوئی۔
اس نے کور واپس ڈالا۔ اس کے ہاتھوں پہ کالک لگ گئی تھی۔ پھر اس نے جنریٹر کا لیور کھینچا اور پیچھے کو ہٹا تو ساتھ ہی ایک جھمکا سے ساری بتیاں روشن ہو گئیں۔ اتنی تیز روشنی سے حیا کی آنکھیں لمحے بھر کو چندھیائیں، اس نے بے اختیار انہیں میچ کر دھیرے دھیرے کھولا۔
ثنا خوشی اور تشکر سے کچھ کہتے ہوۓ چیزیں اٹھا رہی تھی۔ وہ ہاتھ جھاڑتے ہوۓ اٹھ رہا تھا۔ ثنا نے اس کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہا تو وہ اسی سنجیدگی سے سر ہلا کر اندر چلا گیا۔ ثنا بھاگ کر اس کے پیچھے گئی۔
سلیمان صاحب جو قدرے دم بخود سے دیکھ رہے تھے، ذرا سنبھل کر واپس مڑ گۓ۔ وہ متاثر ہوۓ تھے
اور وہ اس تاثر کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ حیا مسکراہٹ دباۓ واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
جس شخص نے اندھیروں میں روشنیاں بکھیری تھیں، اس سے سب ہی متاثر تھے۔ البتہ وہ جانتی تھی کہ ابا نے کبھی یہ توقع نہیں کی ہوگی کہ جہان یوں زمین پہ بیٹھ کر جنریٹر کھولنے لگ جاۓ گا۔ اس کے دل میں ایک بے پایاں سا فخر جاگا۔ اس کی اور یقینا ثنا کی بھی خودساختہ سی خفگی اب کہیں نہیں تھی۔
مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ تھی اور ان کے جانے کے بعد گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ جب مہمان چلے گۓ اور صرف وہی اپنے لوگ رہ گۓ تو لان میں خواتین کا کھانا لگا دیا گیا جبکہ مردوں کا انتظام اندر تھا۔ مرد حضرات اور لڑکے وغیرہ اٹھ کر اندر چلے گۓ تھے۔ لان خالی خالی سا ہو گیا تھا۔
وہ پانچوں کزنز اب اسٹیج پہ جھولے اور ساتھ رکھی کرسیوں پہ آبیٹھی تھیں۔ مہوش تھوڑی دیر بیٹھی، پھر “میں اب آرام کروں گی” کہہ کر نزاکت سے اپنا فراک سنبھالے اٹھ کر اندر چلی گئی۔
“جہان بھائی تو بڑے کمال کے ہیں۔” ثنا اپنی ہیلز اتار کر دکھتے پیروں کو ہاتھ سے سہلا رہی تھی۔ “میں نے تو ان سے کہہ بھی دیا کہ جہان بھائی! میں نے آپ کو پاس کر دیا۔” پہلے تو حیران ہوۓ، پھر ہنس پڑے۔
سچ حیا آپی، آپ کے فیانسی ہیں بڑے اسمارٹ۔”
“اچھا۔” وہ پھیکا سا مسکرا دی۔
“ان فیانسی صاحب کو تو شاید خود بھی اپنی منگنی کا علم نہیں ہے۔ سلوک دیکھا ہے ان کا حیا کے ساتھ؟”
ارم جو قدرے بے زار سی بیٹھی تھی، تنک کر بولی “اور جب فرخ بھائی مکینک کو لا ہی رہے تھے تو کیا ضرورت تھی بھرے مجمع میں الیکٹریشن بننے کی؟لوگ بھی کیا سوچتے ہوں گے، ترکی سے یہی سیکھ کر آۓ ہیں۔”
ثنا کے تو تلووں پہ لگی، سر پہ بجھی۔
“ارم آپی! بات سنیں، سمیع بھائی کو الیکٹریشن لانے میں پون گھنٹہ تو لگ ہی جانا تھا، جبکہ جہان بھائی نے چھ، سات منٹ میں سارا مسئلہ حل کر دیا اور امیج کی کیا بات ہے، لوگ تو امپریس ہی ہوۓ ہوں گے۔”
“ہاں، بہت امپریس ہوۓ ہونگے کہ ہمارا ترکش کزن باورچی ہونے کے ساتھ ساتھ مکینک بھی ہے۔
ارم بڑے تمسخر سے ہنس کر اٹھ گئی۔ ثنا نے غصے بھری نگاہوں سے اسے جاتا دیکھا۔
“ارم آپی بھی نا، ہر وقت مرچیں ہی چباتی رہتی ہیں۔”
“اچھا جانے دو۔ اس کی تو عادت ہے۔ تم مجھے آج کی پکچرز دکھاؤ، اس کے بعد کھانا کھائیں گے۔”اس نے کہا تو ثنا سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتی اندر آئی تھیں۔
لاؤنج میں سارے مرد حضرات بیٹھے تھے۔ جہان بھی ادھر ہی تھا۔ ایک سنگل صوفے پہ بیٹھا وہ غور سے داور بھائی کی باتیں سن رہا تھا جو وہ اپنے مخصوص انداذ میں با آواز بلند کر رہے تھے۔ وہ دونوں تیز تیز چلتی لاؤنج کے سرے پہ بنے دروازے تک آئیں۔ وہ باہر کھڑی رہ گئی جبکہ ثنا نے دھیرے سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔ وہ مہوش کا کمرہ تھا، جس کے اندر ثنا کا کیمرہ رکھا تھا نائٹ بلب کی مدہم روشنی میں بیڈ پہ لیٹی، آنکھوں پہ بازو رکھے مہوش نظر آرہی تھی۔ ثنا دبے قدموں اندر گئی اور ڈریسنگ ٹیبل سے کیمرہ اٹھایا آہٹ پہ مہوش نے بازو ہٹایا۔
“کیا ہے ثنا! سونے دو نا مجھے۔” وہ تنک کر بولی۔
“سوری آپی! بس جا رہی ہوں۔” ثنا کیمرا اٹھا کر جلدی سے باہر آئی اور دروازہ بند کیا۔
“ایک تو مہوش آپی بھی نا۔” وہ ذرا خفگی سے کہتی اس کے ساتھ کچن کی جانب بڑھ گئی۔ ایک دفعہ پھر لاؤنج سے گزر کر وہ دونوں کچن میں آئی تھیں اور حیا جانتی تھی کہ وہ بنا میک اپ کے بھی اتنی خوب صورت لگ رہی تھی کہ اس کے بہت سے کزنز نے نگاہوں کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھا ضرور تھا، البتہ وہ جس کے دیکھنے سے فرق پڑتا تھا، ویسے ہی داور
بھائی کی جانب متوجہ تھا۔ وہ دونوں اب کچن میں کاؤنٹر سے ٹیک لگاۓ کھڑی ثنا کے ہاتھ میں پکڑے کیمرے کی چمکتی اسکرین پہ گزرتی تصاویر دیکھ رہی تھیں۔ جنہیں ثنا انگوٹھے سے بٹن دباتی آگے کرتی جا رہی تھی۔ تب ہی دھاڑ سے دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز آئی۔ ان دونوں نے چونک کر سر اٹھایا۔
“داور بھائی! یہ کیا تماشا ہے؟” وہ ضبط کھو کر چلانے والی مہوش تھی۔
لمحے بھر کو وہ دونوں ساکت رہ گئیں، پھر ایک دم سے دوڑ کر چوکھٹ تک آئیں۔
لاؤنج میں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ سب ششدر سے مہوش کو دیکھ رہے تھے جو اپنے کمرے کے دروازے کے آگے کھڑی کمر پہ ہاتھ رکھے، چلا رہی تھی۔
“یہ کونسی جگہ ہے تقریریں کرنے کی؟ کسی کو میرا احساس ہی نہیں ہے کہ میں نے آرام بھی کرنا ہے، کل سارا دن میرا پارلر میں گزرے گا، مگر آپ تو میرے سر پہ چیخ رہے ہیں۔ آپ کو آہستہ بولنا نہیں آتا؟ حد ہوگئی۔” وہ پیر پٹخ کر واپس مڑی اور اپنے پیچھے اسی دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔
لاؤنج میں ایک دم موت کا سناٹا چھایا تھا۔ سب کو جھٹکا لگا تھا کہ بیان سے باہر تھا پھر ایک دم سے جہان اٹھا۔
“داور! فرخ! مجھے گھر ڈراپ کر دوگے یا میں تم میں سے کسی کی کار لے جاؤں؟”
وہ تنے ہوۓ نقوش کے ساتھ بہت قطعیت سے پوچھ رہا تھا۔ اس کے سوال پہ سلیمان صاحب، تایا فرقان اور ان کے تینوں بیٹے جھٹکے سے اٹھے۔ وہ جواب سننے کے لیے نہیں رکا۔ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ سب اس کی معیت میں باہر نکل گۓ۔ذرا پریشان سے زاہد چچا اور رضا بھی ان کے پیچھے لپکے
“مہوش آپی….. آئی کانٹ بلیو دس!” ثنا نے بے حد تحیر سے نفی میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔حیا نے افسوس سے اسے دیکھا اور پھر خالی پڑے لاؤنج کو۔
“ابا لوگ بہت غصہ میں گۓ ہیں، مجھے لگتا ہے وہ ہمیں چلنے کا کہیں گے۔” اسی پل اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے موبائل سامنے کیا۔ “ابا کالنگ” باہر پہنچنے کا بلاوا آگیا تھا۔
“سوری ثنا!” اس نے بے بسی سے شانے اچکاۓ، پھر اس کا کندھا تھپتھپایا۔
“کل شادی کے فنکشن تک سب کا غصہ اتر چکا ہوگا۔فکر نہ کرنا، اچھا! کہہ کر وہ تیزی سے باہر لپکی۔
••••••••••••••••••••
سب سونے جا چکے تھے اور وہ اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی پراندے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ سونیا نے کافی سخت باندھا تھا، گرہ کھل کے نہیں دے رہی تھی۔ بالاآخر پراندہ چھوڑ کر اس نے پیشانی پہ جھولتے ٹیکے کو کھینچنے کے لیے چھوا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔
اس نے ٹکا چھوڑا اور پھر حیرت سے دروازے کو دیکھتی اس تک آئی۔ اماں،ابا تو سونے چلے گۓ تھے پھر…….
اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے جہان کھڑا تھا۔
“سوری! تم سو تو نہیں گئی تھیں؟ وہ قدرے جھجک کر بولا۔سیاہ ٹراؤزر کے اوپر آدھی آستین والی سفید ٹی شرٹ پہنے وہ وہی ترکی والا جہان لگ رہا تھا
“نہیں، تم بتاؤ خیریت؟”
“ہاں، ابھی میں لاؤنج میں بیٹھا تھا تو وہ فرقان ماموں کی بیٹی آئی تھی”
“ارم؟” اس نے ذرا حیرت سے سوالیہ ابرو اٹھائی۔
“ہاں وہی۔ تمہارا فون اور پرس میز پر رکھا تھا، اس نے فون اٹھا کر مجھ سے کہا کہ اسے ایک کال کرنی ہے، ابھی پانچ منٹ میں فون لا دے گی، مگر اب۔۔۔۔۔۔
اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی۔ “اب بیس منٹ ہونے کو آۓ ہیں مگر وہ واپس نہیں آئی۔ میں نے سوچا تمہیں بتادوں۔”
“اف! تم نے اسے میرا فون کیوں لے جانے دیا؟”
جوابا جہان نے بے چارگی سے شانے اچکاۓ۔”
اس نے مجھ سے اجازت نہیں مانگی تھی اورمیں اسے کیسے روک سکتا تھا؟ مجھے تو فرقان ماموں کی فیملی سے ویسے ہی بہت ڈر لگتا ہے۔”
“کیوں؟” وہ چونکی۔
“کیونکہ وہ سرخ مرچ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔”
وہ گہری سانس لے کر بولا تو وہ بے اختیار ہنس دی اور یہ ترکی سے آنے کے بعد پہلی دفعہ تھا، جب وہ یوں پورے دل سے ہنسی تھی۔
“سرخ مرچ کا استعمال ہمہیں بھی آتا ہے۔ تم ادھر ہی ٹھہرو، میں ذرا ارم سے فون لے آؤں۔” اور آج تو ویسے ہی ارم کی طرف اس کے بہت سے حساب اکھٹے ہوگۓ تھے۔
“اچھا۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتا صوفے پہ بیٹھ گیا اور وہ باہر چلی آئی۔
تایا فرقان کے لاؤنج میں سب ہی موجود تھے۔ سواۓ ارم اور سونیا کے۔ تایا ابا بہت پر ملال انداز سے نفی میں سر ہلاتے کچھ کہہ رہے تھے، شاید آج والے واقعے کا تذکرہ، جب حیا کو آتے دیکھا۔
“آؤ آؤ بیٹا۔” انہوں نے مسکرا کر اپنے ساتھ صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر سونیا کو آواز دی۔
“سونیا! حیا کی چاۓ بھی لے آنا۔”
“جی! اچھا ابا!” سونیا نے جوابا کچن سے آواز لگائی۔
“نہیں تایا ابا! میں چاۓ نہیں پیوں گی، بس اب سونے ہی جا رہی تھی۔” وہ بے تکلفی سے کہتی تایا ابا کے ساتھ صوفے پہ آبیٹھی۔
ان کی گھریلو سیاستیں اور وقتی تندو تیکھی باتیں ایک طرف، تایا فرقان اس سے پیار بھی بہت کرتے تھے اور آج مہوش کی بد تمیزی پہ جہاں وہ دکھی تھے، وہاں انہیں حیا کی قدر بھی آئی تھی
“ابا سو گۓ تمہارے؟”
“جی، کب کے۔ میں بس ذرا ارم سے فون لینے آئی تھی۔”
“فون کیوں؟” تایا ابا بری طرح چونکے۔ صائمہ تائی بھی ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں۔
“ارم کو کوئی کال کرنی تھی تو وہ میرا فون لے کر گئی تھی، مگر ابھی مجھے اپنی فرینڈ کو میسج کرنا ہے، سو سوچا فون لے لوں۔”وہ بہت سادگی سے کہہ رہی تھی۔
تایا کے چہرے کا رنگ فورا ہی بدل گیا تھا۔ نرمی کی جگہ سختی نے لے لی تھی۔
“ارم……. ارم” انہوں نے بلند آواز میں پکارا۔
“جی ابا!” وہ دوپٹا سنبھالتی، بھاگتی ہوئی آئی، مگر حیا کو بیٹھے دیکھ کے اس کا رنگ ایک دم سے فق ہوا۔
“حیا کا فون اسے واپس دو۔” تایا نے اسے کڑی نگاہوں سے گھورتے ہوۓ، بڑے ضبط سے کہا۔
“جج…. جی وہ فضہ کو میسج کرنا تھا تو۔۔۔۔۔۔۔” وہ ہکلا گئی۔ تایا اتنی شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ وہ رکی نہیں۔ الٹے قدموں واپس مڑی، اور چند ہی لمحوں بعد فون لا کر حیا کو تھمایا اور ساتھ ہی ایک کینہ توز نگاہ اس پہ ڈالی تھی، گویا کچا چبا جانا چاہتی ہو۔ وہ جوابا سادگی سے مسکرا دی۔
“تھینک یو، میں چلتی ہوں، آپ لوگ چاۓ انجواۓ کریں۔” وہ فون لے کر وہاں سے اٹھ آئی اور وہ جانتی تھی کہ اب چاۓ انہوں نے خاک انجواۓ کرنی تھی۔
واپس لاؤنج میں آتے ہوۓ اس نے موبائل کا log چیک کیا۔ میسج اور کال لاگ بالکل کلیئر تھا۔ سارا کال ریکارڈ غائب۔
“ارم کی بچی!” اسے ارم پہ بےطرح سے غصہ آیا۔ کال ریکارڈز میں موجود تمام نمبرز اس کے پاس محفوظ ہی تھے، البتہ جب وہ ترک فون ریسٹورنٹ چھوڑ آئی تھی، بیوک ادا جانے سے قبل، تو اس کے اسی پاکستانی موبائل پہ عبدالرحمن پاشا کا فون آیا تھا۔ اس کا نمبر اس نے محفوظ نہیں کیا تھا۔ وہ بس کال لاگ میں پڑا رہ گیا تھا۔ اب وہ مٹ گیا تھا۔ چلو خیر، اس نے کون سا کبھی اے آر پی کو کال کرنی تھی۔
جہان صوفے پہ اسی طرح بیٹھا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیسے ملا؟ مرچوں کے استعمال سے؟” اس کی نگاہیں حیا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل پہ تھیں۔
“نہیں، جہاں شکر کے استعمال سے بات بن جاۓ ہم وہاں مرچیں ضائع نہیں کرتے۔”
“ویسے پاکستان کے لوگ دل کے بہت اچھے ہیں۔ ایک کزن بغیر پوچھے فون اٹھا لیٹی ہے، ایک بہت عزت سے بغیر کھانا کھلاۓ گھر سے نکالتی ہے، اور ایک کھانا بھی نہیں پوچھتی۔”
“اوہ خدایا!” اس نے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔ “تم نے کھانا نہیں کھایا؟”
“کہاں کھاتا، وہاں تو ابھی لگا ہی نہیں تھا اور یہاں گھر کی دونوں خواتین نے پوچھا ہی نہیں۔” وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کچن کی طرف آئی اور فریج کھولا۔
“آج وہاں کھانا تھا تو کچھ بنایا ہی نہیں۔ ہمارے ہاں رات کا سالن اگلے دن کوئی نہیں کھاتا۔ ٹھہرو! میں انڈے بنا لیتی ہوں۔” اسے یاد آیا۔ کھانا تو اس نے بھی نہیں کھایا تھا مگر اسے اتنی بھوک نہیں تھی۔ انڈوں کا خانہ کھولا تو اندر دو ہی انڈیں رکھے تھے۔ اسے بے پناہ شرمندگی ہوئی۔” ان دو انڈوں سے تو کچھ بھی نہیں بنے گا۔” اس نے خفت سے کہتے ہوۓ فریج کا دروازہ بند کیا۔
جہان نے جیسےاس پر افسوس کرتے ہوۓ سر نفی میں ہلایا۔
“تمہیں شاید بھول گیا ہے کہ تم استنبول کے بہترین شیفس میں سے ایک سے بات کر رہی ہو۔ آرام سے بیٹھ جاؤ ادھر کرسی پہ…. میں خود بنا لوں گا سب کچھ۔”
اس نے اپنا سلور سمارٹ فون میز پہ رکھا اور پھر آگے بڑھ کہ فریج، فریزر، کیبنیٹس، ہر چیز کھول کھول کر الابلا باہر نکالنے لگا۔ فروزن قیمہ، پاستا کا پیکٹ، جمے مٹروں کا لفافہ، ساسز، سبزیوں کے خانے سے چند سبزیاں چن لیں۔ وہ تمام چیزیں کاؤنٹر پہ جمع کرتا جا رہا تھا۔
“تم اس وقت پاستا بناؤ گے؟” وہ متعجب سی کرسی پہ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ ابھی تک اپنے سبز فراک، پراندے اور ٹیکے سمیت بیٹھی تھی اور اسے کپڑے تبدیل کرنا بالکل بھول گیا تھا۔
“ہاں اور مجھے کوکنگ کے درمیان ٹوکنا مت۔ میں بہت برا مانتا ہوں۔” مسکراتے ہوۓ وہ سبزیاں دھو رہا تھا۔” اور تمہارا بخار کیسا ہے؟”
“اب ٹھیک ہے۔” اس نے خود ہی اپنا ماتھا چھوا۔ وہ کل کی نسبت قدرے ٹھنڈا تھا۔
“ویسے مجھے حیرت زاہد ماموں اور ان کے بیٹے پہ ہے۔ اس لڑکی نے اتنی بدتمیزی کی اور انہوں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔” وہ واقعتا حیرت سے کہتا سبزیاں کٹنگ بورڈ پہ رکھ کر کھٹا کھٹ کاٹ رہا تھا۔اس کے ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے۔
“اس کی ایک دن کے بعد رخصتی ہے، شاید وہ اس کا دل برا نہیں کرنا چاہتے ہوں گے۔” اس نے شانے اچکاۓ۔
“مگر اس نے بہت مس بی ہیو کیا۔” وہ افسوس سے کہتا پانی ابلنے کے لیے رکھ رہا تھا۔دوسری جانب اس نے فرائنگ پین میں ذرا سا تیل گرم ہونے رکھ دیا تھا۔
“اصل میں اس کے فیانسی نے کسی کینیڈین رئیلیٹی شو میں ایک ڈیڑھ ملین ڈالر جیتے ہیں، اسی پہ اس کا دماغ ساتویں آسمان پہ ہے اور وہ زمین پہ بغیر آسمان کے گھوم رہی ہے۔”وہ ٹیک لگاۓ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی بتا رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: