Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 2

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

”یہ کیا کہہ رہے ہو؟“ فرقان تایا ششدر رہ گئے۔
“بھائی! اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ ولید اچھا لڑکا ہے۔ کل مہندی پر آئے گا تو ملواؤں گا۔ سوچ رہا ہوں حیا سے پوچھ کر ہاں کر دوں۔”
“مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر سلمان یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“
“کیوں نہیں ہو سکتا بھئی؟”
“تم یہ شادی کیسے کر سکتے ہو؟”
“باپ ہوں اس کا، کر سکتا ہوں، فاطمہ بھی راضی ہے اور مجھے یقین ہے، حیا کو کوئی اعترض نہیں ہوگا۔”
“اور جہاں! جہاں کا کیا ہوگا؟“
“کون جہاں؟” سلمان صاحب یکسر انجان بن گئے۔ “تمہارا بھانجا! سبین کا بیٹا، جس سے تم نے حیاکا نکاح کیا تھا۔ تم کیسے بھول گئے ہو۔”
”وہ اکیس سال پرانی بات ہے اور حیا اب بائیس سال کی ہوگئی ہے۔ بیوقوفی کی تھی میں نے، سبین پر اعتبار کر کے اپنی بچی کا نکاح کر دیا۔ اکیس برسوں میں کبھی سبین نے مڑ کر پوچھا کہ نکاح کا کیا ہوگا؟ چھ ماہ میں ایک بار فون کر لیتی ہے اور تین منٹ بات کر کے رکھ دیتی ہے۔ اور آپ کو واقع لگتا ہے کہ وہ لوگ رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہیں؟“
“مگر سبین تو سکندر کی وجہ سے، تم تو جانتے ہو الٹے دماغ کا انسان ہے۔”
”میں کیسے مان لوں کہ اپنے مغرور اور بددماغ شوہر کی وجہ سے نکاح کو بھول گئی۔ اتنے برس بیت گئے، اس نے ایک بار بھی اس شادی کی بات منہ سے نہیں نکالی۔ میں اس سے کیا امید رکھوں؟“
“مگر جہاں تو اچھا لڑکا ہے۔ تم اس سے ملے تو تھے جب پچھلے سال تم استنبول گئے تھے۔“
“جی! جہاں سکندر! اچھا لڑکا ہے۔ مائی فٹ۔” انھوں نے بہت تلخ ہوکر کہا۔ “اس کے تو مزاج ہی نہیں ملتے، ترکی میں پیدا ہوا ہے، نہ اس کو اردو آتی ہے، نہ پنجابی اور کبھی اس نے ماموں کا حال پوچھا ہے؟ کبھی فون کیا ہے بھائی؟ میں یہ سب بھول جاتا مگر پچلے سال میں ترکی گیا، تو یقین کریں بھائی میں اٹھارہ دن وہاں رہا۔ روز سبین کے گھر جاتا تھا، سکندر تو خیر الگ بات ہے، مگر جہاں آخری روز مجھے ملا وہ بھی پندرہ منٹ کے لئے بس۔ وہ بھی جب اس کی ماں نے میرا نام بتایا تو کافی دیر سوچنے کے بعد اس کو یاد آیا کہ میں اس کا دور پرے کا ماموں لگتا ہوں وہ مجھ سے ملا اور وہ بھی پندرہ منٹ کے لیےبس۔ اور پوچھنے لگا کیا پاکستان میں روز بم دھماکےہوتے ہیں؟ اور کیا وہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے؟
پھر اس کا فون آیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا اور چلا گیا۔ میں کبھی حیا کے لیےکورٹ سے خلع لینے کا نہ سوچتا اگر میں اس روز ایک ترک لڑکی کو جہان کے ساتھ اس کے گھر ڈراپ کرتے نہ دیکھتا۔ جب میں فلائٹ پکڑنے سے قبل سبین کو خدا خافظ کہنے گیا تھا۔ اس لڑکی کے ساتھ اس کی بے تکلفی ۔۔۔۔ الامان ۔۔۔ وہ سکندر شاہ کا بیٹا ہے اور وہ اپنے باپ کا ہی پرتو ہے۔ میں سمجھتا تھاکہ اگر احمدشاہ جیسے عظیم انسان کا بیٹا ہو کر سکندر ان کے برعکس نکلا تو ویسے ہی جہان بھی اپنے باپ کے برعکس نکلے گا۔اور ایک اچھا انسان ہو گا اور وہ اسی مغرور آدمی کا بیٹا ہے۔ حیا کون ہے؟ اس کا ان سے کیا تعلق ہے؟ یہ بات نہ جہان کو یاد ہے نہ سبین کو۔
سبین تو اب یہ زکر ہی نہیں کرتی۔ اب میں اپنی بیٹی کو زبردستی ان کے گھر بھیج دوں کیا؟ خیر! کل ولید سے ملواؤں گا آپ کو۔ اب جو رشتہ بھی اچھا لگا میں حیا کی ادھر شادی کردوں گا۔
حیا میں اب مزید سننے کی تاب نہ تھی۔ وہ سفید چہرہ لیے بوجھل قدموں سے چلتی ان سے دورہٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہان سکندرکو اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا بس بچپن سے اس نے اپنے اور اس کے رشتے سے متعلق سنا تھا۔ وہ سال بھر کی تھی، جب سبین پھوپھو پاکستان آئیں اور فرط جزبات میں اپنے آٹھ سالہ بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگ لیا۔ جزباتی سی کاروائیُ ہوئی اور دونوں بہن بھائیُ نے بچوں کا نکاح کر دیا۔تب آٹھ سالہ جہان ان کے ساتھ تھا۔ پھر وہ ترکی چلا گیا۔ اکیس سال گزر گیُے۔ وہ ترکی میں ہی رہا۔ کبھی پاکستان نہیں آیا اور اس وزٹ کے بعد سبین پھوپھو بھی نہیں آئیُں۔ نہ کبھی انھوں نے کوئی تصویر بھیجی، نہ خط لکھا۔ اگر کبھی کوئی ترکی چلا جاتا تو ان سے رابطہ کر لیتا۔ رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔انٹرنیٹ وہ استعمال نہیں کرتی تھیں۔ اگر کرتا تھا جہان سکندر بھی تواس کا کوئی ای میل فیس بک ٹویٹرکسی کے پاس کچھ نہیں تھا۔ارم وغیرہ اسے فیس بک پر سرچ کرتے کرتے تھک گیے تھے۔مگر ترکی کا کوئی جہان سکندر ان کو نہیں ملتا تھا۔شروع کے چند دن پھوپھو بہت فون کرتی تھیں۔پھر آہستہ آہستہ یہ رابطے زندگی کی مصروفیات میں کھوگیے ۔تین ماہ میں ایک فون ان کا آجاتا تین ماہ میں ایک فون ادھر سے چلا جاتا۔یوں چھ ماہ میں دو دفعہ سہی بات ہو جاتی رسمی علیک سلیک موسم کا حال احوال سیاست پر بات اور الّٰلہ خافظ۔
ان تمام باتوں کے باوجود وہ خود کو ذہنی طور پر جہان سے وابستہ کر چکی تھی۔ نکاح کے وقت کی تصاویر آج بھی اس کے پاس محفوظ تھیں۔ آٹھ سالہ بھورے بالوں اورسنہری رنگت والاخوبصورت لڑکا۔۔ جس کو اس نے کبھی اپنے روبرو نہیں دیکھا تھا۔ اور شاید ترکی جانے کی ساری خوشی کی وجہ بھی یہی تھی۔ جس پر ابا نے پانی پھیر دیا تھا۔ اس روز اسے رہ رہ کر جہان پر غصہ آرہا تھا۔ جس کی بے رخی کے باعث اب یہ رشتہ ایک سوالیہ نشان بن گیا۔
مگر خیر داور بھائی کی شادی ہوجاےُ اور سمسٹر ختم ہوجائیں، تو وہ ترکی جاےُ گی اور ان کو ضرور ڈھونڈھے گی۔
••••••••••••••••••••••••••••
”حیا! حیا! کدھر ہو؟“
وہ لابی میں آویزاں آئینے کے سامنے کھڑی ماتھے پر ٹیکا درست کر رہی تھی۔ جب فاطمہ بیگم اسے پکارتی آئیں۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ ایک ناقابل فہم شور سا مچا تھا۔ مہندی کافنگشن شروع ہو چکا تھا۔ سب باہر جانے کی جلدی مچاےُ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔
”کیا ہوا اماں؟“
وہ ٹیکے کے ساتھ الجھی ہوئی تھی، جو ماتھے پر سیٹ ہو کر نہیں دے رہا تھا۔ سونے کا گول سکے کی شکل کا ٹیکاجس کے نیچے ایک سرخ روبی لٹک رہا تھا۔ بار بار ادھر ادھر جھول جاتا۔ ٹیکے کو ٹھیک کرتے ہوے ُمسلسل اس کی چوڑیاں کھنک رہی تھیں۔
”جلدی آو!ُ تمھارے ابا بلا رہے ہیں، کسی سے ملوانا ہےتمھیں۔“
ان کی آواز میں خوشی کی رمق تھی ،وہ چونک کر ان کو دیکھنے لگی۔ نفیس سی سلک کی ساڑھی اور ڈائمنڈز پہنے وہ خاصی باوقار اور خوش لگ رہی تھیں۔ اس کی انگلیوں نے ٹیکا چھوڑ دیا۔ دل زور سے دھڑکا۔ کیا پھوپھو آگئیں تھیں اور ان کا مغرور بیٹا بھی؟؟؟؟؟؟
”کدھر ہیں ابا؟“
وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ ان کے پیچھے باہر نکلی۔ گیٹ کے قریب سلیمان کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک خوبرو سا لڑکا کھڑا تھا۔ جس کے شانے پر ہاتھ رکھے وہ بات کر رہے تھے۔ سامنے خاصے باوقارسے سوٹ میں ملبوس ایک صاحب اور ایک ڈیسنٹ سی خاتون تھیں۔ وہ دونوں پہلوؤں سے لہنگا سنبھالتی ان کے قریب آئی۔
”یہ حیا ہے، میری بیٹی!“ سلیمان صاحب نے مسکرا کر اسے شانوں سے تھاما۔
”السلام علیکم!“ اس نے سر کو جنبش دیتے ہوے ُمدہم آواز میں سلام کیا۔
”وعلیکم السلام بیٹا!“ وہ تینوں دلچسپی سے اسے دیکھنے لگے۔
اس نے ڈل گولڈن کلر کا لہنگا پہنا تھا۔ کامدار بلاؤز کی آدھی سے بھی چھوٹی آستین اور ان سے نکلتے اس کے دودھیا بازو، سنہرے موتیوں کی شعاعوں میں سنہرے دکھ رہے تھے۔ بھاری کامدار دوپٹہ اس نے گردن میں ڈال رکھا تھا۔ بال ہمیشہ کی طرح کھلے کمر پر گرے تھے۔ ٹیکے کے ساتھ کے سنہرے جھمکے کانوں سے لٹک رہے تھے اور ملائی سے بنا چہرہ ہلکے میک سے دلکش لگ ریا تھا۔ اس نے کاجل سے لبریز پلکیں اٹھائیں۔ وہ تینوں اسے ستائش سے دیکھ رہے تھے۔
”اور حیا! یہ میرے دوست ہیں عمیر لغاری، یہ مہناز بھابھی ہیں اور یہ ان کے صاحبزادے ہیں ولید۔“
اس کے دل پر بوجھ سا آگرا۔ آنکھوں میں بے اختییار نمکین پانی بھر آیا۔ جسے اس نےاندر اتار لیا۔
”نائس ٹو میٹ یو، وہ۔۔۔ وہ مہمان آنے لگے ہیں، میں پھول کی پتییاں ادھر رکھ آئی تھی۔ سب مجھے ڈھونڈھ رہے ہوں گے، تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
”ہاں، ہاں تم جاوُ! انجوائے کرو۔“
سلیمان صاحب نے آہستگی سے اس کے شانوں سے ہاتھ ہٹالیئے۔
وہ معذرت خواہانہ مسکراتی ہوئی گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔ باہر آ کر اس نے بے اختیار آنکھوں کے بھیگے ٗگوشے صاف کیے اور ایک نظر ان کو پلٹ کر دیکھا، پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔
ان کے گھر کے ساتھ خالی پلاٹ میں شامیانے لگا کر مہندی کا فنکشن ارینج کیا گیا تھا۔ مہندیاں دونوں گھروں کی الگ الگ تھیں۔
گیندے کے پھولوں اور موتیے کی لڑیوں سے ہر کونا سجا تھا۔ تقریب سیگریگیٹڈ تھی۔ مرد الگ، عورتیں الگ۔ ہاں عورتوں کی طرف خاندان کے مردوں کا آنا جانا لگا تھا۔ مریم بھی سلور کامدار لہنگے میں ادھر ادھر گھوم رہی تھی۔ وہاں ڈی جے، مووی والے اور ریفریشمنٹ سرو کرتے باہر کے مرد تھے۔ مگر آج تو شادی کا ایک فنکشن تھا، پھر سر ڈھکنے کی پابندی کیسے ہوتی؟ شادیوں پہ تو خیر ہوتی ہے نا۔
”حیا! ڈانس شروع کریں؟” ارم اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
”ہاں! ٹھیک ہے، تم گانا لگواؤ اور٠٠٠٠٠٠٠٠ یہ کون ہے؟“ سامنے والی کرسیوں کی قطار کے ساتھ کھڑی ایک لڑکی کرسی پہ بیٹھی خاتوں سے جھک کر مل رہی تھی۔ اس نے سیاہ عبایا اور اوپر اسٹول لے رکھی تھی۔ عجیب بات تھی کہ اس لڑکی نے انگلیوں سے نقاب تھام رکھا تھا۔
”کون”؟ ارم نے پلٹ کردیکھا، پھر گہری سانس لے کر مڑی ۔ ”یہ ایلین ہیں”۔
”کون؟” حیا نے حیرت سے کہا۔
”ایلین، ارے شہلا بھابھی ہیں یہ۔ پوری دنیا سے الگ ان کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہوتی ہے۔ بس توجہ کھینچنے کے لیے فنکشنز پر بھی عبایا، نقاب میں ملتی ہیں۔ اب پوچھو، بھلا عورتوں کے فنکشن میں کس سے پردہ کر رہی ہیں؟”
”ہاں، واقعی، عجیب ہیں یہ بھی!” اس نے شانے اچکائے۔ وہ ان کے ایک سیکنڈ کزن کی وائف تھیں اور سال بھر پہلے ہی شادی ہوئی تھی۔
ڈی جے نےگانا سیٹ کر دیا۔
انہوں نے مووی والے کو ڈانس کی مووی بنانے سے منع کر دیا اور پھر اپنا مہارت سے تیار کردہ رقص شروع کیا۔ ایک سنہری پری لگ رہی تھی تو دوسری چاندی کی۔ جب پاؤں دکھ گئے اور خوب تالیاں بجیں تو وہ ہنستے ہوئے کرسیوں کی طرف آئیں۔
“السلام علیکم شہلابھابھی!” وہ لڑکی بھی اسی میز پر موجود تھی۔ ارم نے فوراً سلام کیا، حیا نے بھی پیروی کی۔
”وعلیکم السلام! کیسی ہو تم دونوں؟“ وہ مسکرا کر خوش دلی سے ملی۔ ایک ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس نے ابھی تک سیاہ نقاب تھام رکھا تھا۔
بالکل ٹھیک، شہلا بھابھی! نقاب اتار دیں، ادھر کون ہے؟“
شہلا نے جواباً مسکرا کر سر ہلایا، مگر نقاب اسی طرح پکڑے رکھا۔
”ماشاءاللہ تم دونوں بہت پیاری لگ رہی ہو“۔
وہ بات کرتے کرتے ذرا سی ترچھی ہوگئ۔ حیا نے حیرت سےدیکھا۔ شاید اس طرف مووی والا فلم بنا رہا تھا، اسی لیے۔
عجیب عورت ہے، اتنی بھی کیا بے اعتباری، ہماری فیملی مووی ہے، ہم کون سا باہر کسی کو دکھائیں گے۔حیا بڑبڑائی۔
پھر وہ جلد ہی وہاں سے اٹھ گئ۔ اماں جانے کدھر تھیں۔ کس سے پوچھے سبین پھوپھو آئی ہیں یا نہیں۔ وہ کافی دیر اسی شش و پنچ میں مبتلا رہی، پھر گھر چلی آئی اور ٹی وی لاؤنج میں فون کے ساتھ رکھی ڈائری اٹھائی۔ تھکن کی وجہ سے دھم سے صوفے پر گری۔ اور سبین پھوپھو کا نمبر تلاش کرنے لگی۔ اس نے کبھی ان کو یوں فون نہیں کیا تھا، مگر آج دل کے ہاتھوں ہار گئی تھی۔ ترکی کا وہ نمبر مل ہی گیا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور نمبر ڈائل کیا۔ گھنٹی جانے لگی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ پانچویں گھنٹی پر فون اٹھا لیا گیا۔
”ہیلو“۔
بھاری مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ ”اسلام علیکم“۔ اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
جواباً وہ کسی انجان زبان میں کچھ بولا۔
”میں پاکستان سے بات کر رہی ہوں۔“ گڑبڑا کر انگریزی میں بتانے لگی۔
”پاکستان سے کون؟“ اب کے وہ انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔
”میں سبین سکندر کی بھتیجی ہوں۔ پلیز ان کو فون دے دیں۔“
”وہ تو جواہر گئی ہیں، کوئی میسج ہے تو بتا دیں۔“ وہ مصروف سے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اب یہ جواہر کیا تھا، اسے کچھ اندازہ نہ تھا۔
”وہ۔۔۔۔۔ وہ سبین پھوپھو نے پاکستان نہیں آنا کیا، داور بھائی کی شادی پر؟“
”نہیں وہ بزی ہیں۔“ شاید وہ فون رکھنے ہی لگا تھا کہ وہ کہہ اٹھی۔
”آپ۔۔۔۔۔۔ آپ کون؟“
”ان کا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ جہان!“ کھٹ سے فون رکھ دیا گیا۔
اس نے بھیگی آنکھوں سے ریسیور کو دیکھا اور پھر زور سے کریڈل پہ پٹخا۔ آنسو صاف کیے اور اٹھ کر باہر آئی تو گیٹ کی طرف سے ظفر چلا آ رہاتھا۔ اس کے ہاتھ میں سفید ادھ کھلے گلابوں کا بکے تھا۔
وہ بے اختیار ٹھٹک کر رکی، پھر لہنگا سنبھالتی، زینے اتر آئی۔
”یہ کیا ہے ظفر؟“
”اوہ تسی اتھے ہو؟ یہ کوریئر والے نے دیا ہے تہاڈے لیے۔“ ظفر نے گلدستہ اور ایک بند لفافہ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ پچھلے سات سال سے تایا فرقان کا ملازم تھا۔
”ٹھیک ہیے تم جاؤ۔ اس نے بوکے کو بازو اور سینے کے درمیان پکڑا اور دونوں ہاتھوں سے بند لفافہ کھولنے لگی۔
حسب معمول اس میں سفید سادہ کاغذ تھا، جس کے بالکل درمیان میں اردو میں ایک سطر لکھی تھی۔
”اس لڑکی کے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کبھی کسی ان چاہے رشتے کے بننے کے خوف سے روتی ہے، تو کبھی کسی بن چکے ان چاہے رشتے کے ٹوٹنے کے خوف سے“۔
وہ سن رہ گئی۔ پھر گبھرا کر ادھر ادھر دیکھا۔
گیٹ کھلا تھا۔ مہندی والی جگہ سے بہت سے لوگ آ جا رہے تھے۔ ایسے میں کیا کوئی ادھر تھا جو بغور مشاہدہ کر رہا تھا؟
اس نے لفافے کو پلٹا۔ کوریئر کی مہر ایک روز قبل کی تھی۔
ابھی دس منٹ قبل وہ جہان کے ساتھ پہلی دفعہ بات کرکے روئی تھی۔
بن چکا ان چاہا رشتہ۔
اور گھنٹہ بھر پہلے ولید اور اس کے والدین سے ملی تھی۔
ان چاہے رشتے کے بننے کے خوف۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کون تھا جو اتنا باخبر تھا؟ ایک دن قبل ہی اسے کیسے علم ہوا کہ وہ آج دو دفعہ روئے گی؟
وہ خوف زدہ سی کھڑی بار بار وہ تحریر پڑھے جارہی تھی۔
••••••••••••••••••••
”ابا نکل تو نہیں گئے؟“
وہ پرفیوم کی بوتل بند کرتی، مخصوص ہارن اور گیٹ کھولنے کی آواز پر موبائل اور پرس اٹھا کر باہر کو بھاگی۔ مقررہ وقت ہونے کو تھا، آج داور بھائی کی بارات تھی۔
پورچ خالی تھا۔ تایا فرقان کے پورشن سے البتہ آواز آ رہی تھی۔ اب کیا کرے؟ ابا کو فون کرے یا تایا فرقان کے گھر جا کر کسی سے لفٹ مانگے؟
وہ سوچ ہی رہی تھی کہ گیٹ پر ہارن ہوا۔ اس نے رک کر دیکھا۔
سیاہ چمکتی اکارڈ باہر کھڑی تھی۔ اس کی ہیڈلائٹس خاصی تیز تھی۔ اس نے بےاختیار ماتھے پہ ہاتھ کا سایہ بنا کر دیکھنا چاہا۔
وہ ولید لغاری تھا۔ ساتھ فرنٹ سیٹ پر اس کے والد تھے اور پیچھے والدہ۔
”السلام علیکم حیا!“ وہ درواز کھول کر باہر نکلا۔
وہ دھیمی ہوتی ہیڈلائٹس میں ان کے سامنے کھڑی تھی۔ گہرے سرخ کامدار بغیر آستینوں والا فراک جو پاؤں تک آتا تھا اور نیچے ہم رنگ تنگ پاجامہ۔ گولڈن ڈوپٹہ گردن میں تھا۔
”ہمیں میرج ہال کا علم نہیں ہے، انکل ہیں؟“
وہ اسے نظرانداز کرتی لغاری صاحب کے دروازے کے پاس رکی۔
”انکل! پیراڈائز ہال جانا ہے اور ابا شاید نکل گئے۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا۔“
”اوہ۔۔۔۔۔ تو آپ کے چچا وغیرہ؟“
”وہ تو ابا سے بھی پہلے چلے گئے تھے۔ ٹھہریں! ابا زیادہ دور نہیں گئے ہو گے، میں انہیں واپس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
”ارے وہ کیوں واپس آئیں؟ آپ ہمارے ساتھ آ جاؤ بیٹا! “
”ہاں بیٹا، آؤ!“ مسز مہناز لغاری نے فوراً دروازہ کھولا۔
اب اگر ابا کا انتظار کرتی تو آدھا فنکشن نکل جاتا۔
”چلیں ٹھیک ہے۔“ وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
”تو ہماری بیٹی کیا کرتی ہے؟“ راستے میں لغاری صاحب نے پوچھا۔
(میں ان کی بیٹی کب سے ہو گئی?)
”جی میں شریعہ اینڈ لاء میں ایل ایل بی آنرز کر رہی ہوں۔“
”یعنی کہ آپ اسلامی وکیل ہو؟“
”جی!“ وہ پھیکا سا مسکرائی۔ یہ لوگ اتنی اپنائیت کیوں دے رہے تھے اسے؟
”حیا بیٹا! آپ کا شادی کے بعد پریکٹس کا ارادہ ہے؟“ کیونکہ میں اور آپ کے انکل تو کبھی اس معاملے میں زبردتی کے قائل نہیں ہیں۔ خود ولید کو بھی شادی کے بعد بیوی کے جاب کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔“
مہناز کہہ رہی تھیں اور وہ ہکا بکا ان کو دیکھ رہی تھی۔ کیا معاملات اتنے آگے بڑھ چکے ہیں یا وہ اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ ابا ان کو کبھی انکار نہیں کرے گے۔
وہ اس وقت پر سکون ہوئی جب میرج ہال کی بتیاں نظر آنے لگیں۔
”لفٹ کا شکریہ انکل۔“ وہ انکل اور آنٹی کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی۔ اسی پل انکل کا موبائل بجا تو معذرت کر کے ایک طرف چلے گئے، منہاز بی ان کے پیچھے گئیں۔
”حیا سنئیے!“ وہ جانے لگی تھی کہ ولید نے پکارا۔ ”مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔“
”مگر یہ مناسب نہیں ہے“۔
”مگر مجھے اسی رشتے کے متعلق بات کرنی ہے۔ اگر آپ دو منٹ اندر بیٹھ کر بات سن لے تو۔“ ساتھ ہی اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔
روشنی کا ایک کوندا اس کے ذہن میں لپکا۔ موقع اچھا تھا۔ وہ اس کو اپنے نکاح کے بارےمیں بتا کر سارا معاملہ یہی دبا سکتی تھی۔
”ٹھیک ہے، لیکن یہاں ہمارے رشتہ دار ہیں اگر۔۔۔۔۔۔۔۔“
”ڈونٹ وری، میں کار کو بیک سائڈ پر لے جاؤں گا، آپ بیٹھئے۔“
وہ بیٹھی تو ولید زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
”آپ کو جو بھی کہنا ہے، جلدی کہیے، پھر مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔“
پہلے آپ کہیے۔ولید میرج ہال کی پچھلی طرف سنسان گلی میں گاڑی لے آیا تھا۔
اوکے۔۔۔۔۔۔ مجھے کچھ بتانا تھا۔ میرے ابا نے معلوم نہیں آپ کو بتایا ہے یا نہیں مگر میں بتانا ضروری سمجھتی ہوں۔ میرا نکاح میری پھوپھی کے بیٹے سے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ وہ لوگ ترکی میں ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانی مسائل کی وجہ سے میرے ابا ان سے تھوڑا بدظن ہے۔ اور مجھے ڈائیورس دلا کر میری شادی کہیں اور کرانا چاہتے ہیں۔ مگر میں ایسا نہیں چاہتی۔
پلیز آپ انکار کر دے میں کسی اور کی بیوی ہوں۔ نکاح پر نکاح نہیں ہو سکتا۔ پلیز میں آپ سے درخواست کرتی ہوں۔
اس نے چہرہ اوپر اٹھایا۔ وہ یک ٹک گہری خاموش گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یہ اس کا چہرہ تو نہ تھا، جو وہ سارا راستہ ڈرائیونگ کے دوران دیکھتی آئی تھی۔ یہ تو کوئی اور ہی شخص تھا۔
پھر۔۔۔۔۔۔ پھر آپ نے کیا سوچا؟ اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔ خطرے کا الارم زور زور سے اس کے اندر بجنے لگا۔
کس بارے میں؟ وہ بوجھل آواز میں بولا تو وہ دروازے کی طرف سمٹی۔ اس کا ہاتھ ہینڈل پر رینگ گیا۔
آپ کے اس رشتے سے انکار کے بارے میں۔
ساری عمر پڑی ہے یہ باتیں کرنے کے لیے حیا! ابھی تو ان لمحوں کا فائدہ اٹھاؤ جو میسر ہے۔ وہ ایک دم اس پر جھکا۔ حیا کے لبوں سے چیخ نکلی۔ ولید نے دونوں ہاتھ اس کی گردن پر رکھنے چاہیے۔ مگر اس نے زور سے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا اور دوسرے ہاتھ سے ولید کو دھکادے کر باہر نکلی۔ اس کا ڈوپٹہ ولید کے ہاتھ میں آ گیا تھا۔ وہ بنا پیچھے مڑ کردیکھے بھاگی جا رہی تھی۔
گلیاں سنسان تھی۔ جانے وہ کہاں لے آیا تھا۔ آج اتوار تھا اور دکانوں کے شٹر گرے ہوئے تھے۔
وہ بھاگتے ہوئے گلی کے دوسرے سرے پر پہنچی، مگر یہ کیا؟ گلی آگے سے بند تھی۔ ڈیڈ اینڈ۔۔۔۔۔
کیوں بھاگتی ہو ؟ مسرور سے انداز میں پیچھے سے کسی نے کہا تو وہ گبھرا کر پلٹی۔ ولید سامنے سے قدم قدم چلتا آ رہا تھا۔ اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ وہ نڈھال سی دیوار سے لگ گئی۔ اس کا ڈوپٹہ تو وہی رہ گیا تھا۔ اب بغیر آستینوں کے جھلکتے بازو اور گلے کا گہرا کاٹ۔ اس نے بے اختیار سینے پر بازو لپیٹے۔
”مجھے جانے دو!“ اس کی آواز گھبرا گئی۔
کیسے جانے دوں، پھر تم نے ہاتھ تھوڑے ہی آنا ہے؟ وہ چلتے چلتے اس سے چند قدم کے فاصلے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔
”پلیز میں ایسی لڑکی نہیں ہوں“
”تو کیسی لڑکی ہو؟“ مجھ سے لفٹ لے لی مگر شادی سے انکار ہے؟ تب ہی گاڑی میں اتنی بے رخی دکھا رہی تھیں؟ وہ اس کے بالکل سامنے آ رکا۔
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اب ولید کو دھکا دیتی۔
شش!
وہ مسکراتے ہوئےآگےبڑھا۔ حیا نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
تب ہی اس نے زور سے کسی ضرب لگنے کی آواز سنی اور پھر ولید کی کراہ۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
ولید چکرا کر نیچے گر رہا تھا اور اس کے پیچھے کوئی کھڑا نظر آ رہا تھا۔
شوخ نارنجی شلوار قمیض میں ملبوس، میک اپ سے اٹا چہرہ لیے، وہی اس روز والا خواجہ سرا ڈولی۔ اس کے ہاتھ میں ایک فرائنگ پین تھا جو اس نے شاید ولید کے سر پر مارا تھا۔ وہ ساکت کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی۔
وہ دو قدم آگے بڑھا اور عین حیا کے سامنے رکا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی کاٹ تھی کہ وہ سانس روکے اسے دیکھے گئی۔
تب ہی اس نے ہاتھ بڑھایا اور حیا کو گردن کے پیچھے سے دبوچا لیکن اس کے منہ سے کراہ تک نہ نکلی۔
اس کی گردن کو یونہی پیچھے سے دبوچے ڈولی نےایک جھٹکے سے اسے آگے دھکیلا۔
گلی کے آغاز تک جہاں سے وہ آئی تھی، وہ اسے لے گیا، پھر مخالف سمت مڑ گیا۔ سامنے ہی میرج ہال کا پچھلا حصہ تھا۔
وہ اسے گیٹ تک لے آیا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا۔ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے ڈولی کو دیکھا۔
وہ ابھی تک لب بھینچے، تلخ کاٹ دار آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
دفعتاً ڈولی نے اپنی گردن سے لپٹا نارنجی دوپٹہ کھینچا اور اس پر اچھالا۔۔۔۔۔ ڈوپٹہ اس کے سر پر آن ٹھہرا۔ ڈولی چبھتی ہوئی نطروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا ۔
”بے حیا“
پھر وہ پلٹ گیا۔ نارنجی ڈوپٹہ اس کے کندھوں سے پھسل کر قدموں میں آ گرا تو وہ چونکی، پھر جھک کر ڈوپٹہ اٹھایا۔
اس نےاچھے طریقے سے خود کو اس میں لپیٹا، تا کہ پہچانی نہ جائے اور پچھلےگیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
ہال میں جانے کی بجائے وہ باتھ رومز کی طرف آئی اور اپنا حلیہ درست کیا۔
اندر فنکشن عروج پر تھا۔
وہ ایسی حالت میں نہ تھی کہ دو قدم بھی چل پاتی سو بے دم سی آخری نشست پر گری ہوئی تھی۔
”بے حیا“
”بے حیا“
”بے حیا“
ڈولی کے لفظ ہتھوڑے کی طرح اس کے دماغ پر برس رہے تھے۔ وہ بے حیا تو نہیں تھی۔ وہ تو کبھی کسی لڑکے کی گاڑی میں نہیں بیٹھی تھی۔ اس سے تو یہ غلطی پہلی بار ہوئی تھی، پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جا رہا تھا۔
وہ آدھے فنکشن کے بعد ہی طبعیت خرابی کا بہانہ کر کے چلی آئی تھی۔
یہ داور اور سونیا کی شادی کے چند دن بعد کا ذکر ہے۔
صبح سے سردی بہت بڑھ گئی تھی۔ دسمبر ختم ہونے کو تھا اور ہوا ٹھٹھرا دینے والی بن چکی تھی۔ ایسے میں وہ کیمپس میں اسکالر شپ کوآرڈینیٹر کے آفس کے باہر دروازے پر لگی لسٹ کو دیکھ رہی تھی۔ ”اریسمس منڈس ایکسچینج پروگرام“ کے تحت اسٹوڈنٹس میں سے صرف دو لڑکیاں سبانجی یونیورسٹی جا رہی تھیں۔
حیا سلیمان اور خدیجہ رانا۔
”یہ خدیجہ رانا کون ہے بھلا؟“ وہ سوچتے ہوئے اپنے یخ ہوتے ہاتھ آپس میں رگڑ رہی تھی۔ سردی سے اس کی ناک سرخ پڑ رہی تھی۔ لانگ شرٹ اور ٹراؤزر پر اسٹائلش سا لانگ سوئیٹر پہنے وہ دروازے کے سامنے کھڑی تھی۔ دفعتاً عقب سے کسی نے پکارا۔
”ایکسکیوزمی!“
وہ چونک کر پلٹی۔ پیچھے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ کندھے پر بیگ، ہاتھ میں ڈائری اور پین اور آنکھوں پر بڑا سا چشمہ۔ وہ اس کو نام سے نہیں پہچانتی تھی لیکن یونی میں کئی بار دیکھا ضرور تھا۔ وہ لڑکی اسے خوامخواہ ہی بری لگی تھی۔
”یہ حیا سلیمان کون ہی بھلا؟“ وہ چشمے کے پیچھے سے آنکھیں سکیڑے سوچتی ہوئی کہہ رہی تھی۔
حیا نے ایک طنزیہ نگاہ میں اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا، پھر ذرا روکھے انداز میں بولی۔ ”میں ہوں!“
”اوہ!“ اس نے جیسے بمشکل اپنی ناگواری چھپائی۔
”میں آپ کے ساتھ ترکی جا رہی ہوں حیا! میں خدیجہ ہوں، میری فرینڈز مجھے ”ڈی جے“ کہتی ہیں، لیکن آپ میری فرینڈ نہیں ہیں، سو خدیجہ ہی کہیے گا۔“
”مجھے بھی حیا صرف میرے فرینڈز کہتےہیں۔ آپ مجھے مس سلیمان کہہ سکتی ہیں۔“ وہ کہہ کر پلٹ گئی۔
عجیب بددماغ لڑکی تھی وہ خدیجہ رانا۔ اسے پہلے بھی خوامخواہ بری لگتی تھی اور ب اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے بھی حیا کے بارے میں کچھ ایسے ہی خیالات تھے۔
•••••••••••••••••••••••
وہ جیسے ہی گھر آئی، ظفر سامنے سے آ گیا۔ بھاگتا ہوا، ہانپتا ہوا۔
”حیا بی بی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا بی بی!“
”بول بھی چکو اب! وہ گاڑی لاک کرتی کوفت زدہ ہوئی۔
”آپ کو ارم بی بی بلا رہی ہیں۔“
”خیریت؟“
”خیریت نہیں لگتی جی۔ وہ بہت رو رہی ہیں۔“ ظفر نے رازداری سے بتایا تو وہ چونکی۔
”اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آتی ہوں، تم یہ میرا بیگ اندر رکھ دو۔“ وہ سیدھا ارم کے گھر کھلنے والے درمیانی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
لاؤنج میں صائمہ تائی اور سونیا بیٹھی تھیں۔ سمنے کوئی کامدار ڈوپٹہ پھیلا رکھا تھا اور دونوں اس کے ساتھ الجھی تھیں۔آہٹ پہ سر اٹھایا۔ اسے دیکھ کر دونوں ہی مسکرا دیں۔
”حیا! کیسی ہو؟“
”بالکل ٹھیک۔ ارم کہاں ہے تائی اماں! مجھے بلا رہی تھی۔“
”اندر کمرے میں ہو گی۔“
”اوکے!میں دیکھ لیتی ہوں۔“ وہ مسکرا کر راہ داری کی سمت بڑھ گئی۔
ارم کے کمرےکا دروازہ بند تھا۔ اس نے ڈور ناب گھما کر دھکیلا۔ دروازہ کھلتا چلاگیا، ارم بیڈ پر اکڑوں بیٹھی تھی۔ سامنے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔ چمکتی سکرین کی روشنی ارم کے چہرے کو چمکا رہی تھی، جس پر آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہےتھے۔
”ارم کیا ہوا؟“ وہ قدرے فکرمندی سے ارم کے سامنے آ بیٹھی۔
ارم نے سرخ متورم آنکھیں اٹھا کر حیا کودیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ تھا جو اسے ٹھٹکا گیا۔
”حیا! ایک بات بتاؤ؟“ اس کا رندھاہوا لہجہ عجیب سا تھا۔
”بولو!“
”ہم شریف لڑکیاں ہے کیا؟“
”اپنے بارےمیں تو یقین ہے مگر تمہارا معاملہ ذرا مشکوک ہے۔“ اس نے ماحول کا بوجھل پن دور کرنے کو کہا مگر ارم مسکرائی تک نہیں۔
”نہیں حیا، ہم دونوں کا ایک ہی معاملہ ہے۔“
”کیوں پہیلیاں بجھوا رہی ہو؟ ہوا کیا ہے؟“
”حیا مجھے بتاؤ! کیا ہم مجرا کرنے والیاں ہیں؟“ وہ ایک دم رونے لگی تھی۔
”ارم!“ وہ ششدر رہ گئی۔
”بتاؤ, کیا ہم طوائفیں ہیں؟“ وہ اور زور سے رونے لگی۔
”ارم! بات کیا ہوئی ہے؟“
”حیا! بولو، بتاؤ ہم ایسی ہیں کیا؟“
”نہیں، بالکل نہیں!“
”پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہ کیا ہے؟“ ارم نے لیپ ٹاپ کی سکرین کا رخ اس کی طرف کیا۔
”کیا ہے یہ؟“ اس نےالجھن سے سکرین کو دیکھا۔ اس پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ ویڈیو کا کیپشن اوپر رومن اردو میں لکھا ہوا تھا۔
”شریفوں کا مجرا۔“
ویڈیو کسی شادی کے فنکشن کی تھی۔ ہر سو سجی سنوری خواتین اور درمین میں ڈانس فلور پر محو رقص دو لڑکیاں۔
ایک کا لہنگا گولڈن تھا اور دوسری کا سلور۔
پوری چھت جیسے اس کے سر پر آن گری۔
”نہیں!“ وہ کرنٹ کھا کر اٹھی۔ ”یہ کیا ہے؟“
”یہ شریفوں کا مجرا ہے حیا! اور یہ ہم نے کیا ہے، یہ داور بھائی کی شادی کی ویڈیو ہے، جو کسی نے انٹر نیٹ پر ڈال دی ہے۔ یہ پڑھو، ویڈیو ڈالنےوالے نےاپنا ای میل ایڈریس بھی دیا ہے۔ جس پر میل کر کے پورے ڈانس کی ویڈیو بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ اس ویڈیو کو تین دن سے سینکڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ حیا! ہم برباد ہو چکے ہیں۔ ہم کہیں کے نہیں رہے۔“
ارم پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور وہ ساکت سی اسکرین کو تکے جا رہی تھی۔ یہ کوئی بھیانک خواب تھا۔ ہاں، یہ خواب ہی تھا۔ اور اب وہ جاگ جانا چاہتی تھی۔
اسکرین پر رقصاں پریوں کے سراپے میں مختلف حصوں پر کسی نے سرخ دائرے کھینچ رکھے تھے، جیسے ہی کوئی لڑکی جیسے ہی کوئی لڑکی کسی سٹیپ پہ جھکتی، تو فوراً سرخ دائرہ ابھرتا۔
اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔
”نہیں! ۔۔۔۔۔۔ یہ میں نے نہیں کیا۔“ وہ ایک ایک قدم پیچھے ہو رہی تھی۔ اس کے لب کپکپا رہے تھے۔ ارم اسی طرح بلک رہی تھی۔
”میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مجرا کرنے والی نہیں ہوں، میں شریف لڑکی ہوں۔“
”یہ ہم ہی ہیں حیا! ہم برباد ہو گئے۔“
اس کا سر چکرانے لگا۔ یہ سب کیا ہو گیا تھا؟ ویڈیو کے سینکڑوں ویوز لکھے آ رہے رتھے۔ کیا وہ پورے شہر میں پھیل گئی تھی؟ اور اگر اس کے خاندان والوں تک پہنچ گئی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ابا تو مجھے گولی مار دے گے ارم!“
”مجھے تو زندہ گاڑ دیں گے.“
”مگر یہ ویڈیو کس نے بنائی ہے؟ ہم نےتو مووی والے کو منع کر دیا تھا۔“
”کسی نے چھپ کر بنائی ہو گی۔“
”کچھ کرو ارم۔“ اس کا سکتہ ٹوٹا، وہ تیزی سے ارم کے قریب آئی۔
”میں نے اس ویب سائٹ پر رپورٹ تو کی ہے لیکن ویب سائٹ نے ایکشن لے کر ویڈیو ہٹا دی تو بھی یہ سی ڈی پر ہر جگہ مل رہی ہے۔ ایسی چیزیں تو منٹوں میں پھیلتی ہیں۔ ہم کہاں کہاں سے ہٹوائے ہٹوائیں گے؟“
”خدایا یہ کیا ہو گیا؟ وہ بے بس سی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اگر بابا یا پھر کسی بھائی وغیرہ کو معلوم ہوگیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ خدایا۔ ہم کیا کریں؟“
ارم نے بھی خودکو کمرے میں بند کر لیا تھا اور وہ بھی بس کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی۔ سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ مگر کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔
شام میں وہ سو رہی تھی کہ راحیل کا فون آ گیا۔ اس کے دماغ میں خطرے کا الارم بجنے لگا تھا۔
”۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔۔۔!“
”ہیلو حیا کیسی ہو؟“ روحیل کی آواز میں گرم جوشی تھی۔ وہ کچھ اندازہ نہ کر پائی۔
”ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک ہو؟“
”ایک دم فٹ۔ میں نے تمہیں مبارک با دینی تھی۔“
”کک۔۔۔۔۔۔۔۔ کس بات کی؟“
”بھئی تم ایکسچینج پروگرام کے تحت ترکی جا رہی ہو اور کس بات کی بھلا؟“
”اوہ اچھا۔ تھینک یو سو مچ۔“ اس کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔
”کب تک جانا ہے۔“ وہ خوشی سے پوچھ رہا تھا۔
”جنوری کے اینڈ تک یا فروری کے شروع تک۔“
”تو کیا تم ادھر سبین پھو پھو کی فیملی سے ملو گی؟“
”پتا نہیں، ابھی سوچا نہیں ہے۔۔“
”کیا بات ہے تم اپ سیٹ لگ رہی ہو؟“
وہ ذرا پریشان ہوا۔
”ارے نہیں۔۔۔۔۔۔“ وہ فوراً سنبھلی اور پھر ادھر ادھر کی باتیں کر کے خود کو نارمل ظاہر کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
فون بند ہوا تو وہ ارم کی طرف چلی
آئی۔
”یوں منہ سر لپیٹ کر بیٹھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔“
”تو کیا کریں؟“ ارم نے تکیہ پھینکا اور اٹھ بیٹھی۔
”سب سے پہلے تو سارے گھر کے کمپیوٹرز سے اس ویب سائٹ کو بلاک کرتے ہیں۔تا کہ کم از کم گھر والوں کو تو نہ پتہ چلے، پھر اس کا کوئی مستقل حل سوچتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے چلو!“ امید کا سرا نظر آتے ہی ارم اٹھ کھڑی ہوئی۔ بنا کسی دقت کے جب وہ تمام کمپیوٹرز پر اس ویب سائٹ کو بلاک کر چکی تو صائمہ تائی نے آ کر بتایا کہ رات میں ارم کو دیکھنے کے لیے تایا فرقان کے کوئی فیملی فرینڈ بمع خاندان آ رہے ہیں۔ رسمی کاروائی تھی کیونکہ رشتہ تو وہ ڈھکے چھپےلفظوں میں مانگ ہی چکے تھے۔ حیا سب کچھ بھول کرپرجوش ہو گئی۔
**********************
”ہمارے دولہا بھائی بھی ساتھ ہی آئے ہیں۔“ حیا ڈرائنگ روم میں جھانک کر اندر کمرے میں آئی تو وہ منہ لٹکائے نیٹھی تھی۔
”تم ایسےکیوں بیٹھی ہو؟“
ارم نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ سر پر سلیقے سے ڈوپٹہ اوڑھے وہ بردکھوے کے لیے تیا بیٹھی تھی۔
”وہ ویڈیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!“
”دفع کرو اسے۔ آؤ سب بھلا رہے ہیں۔ لڑکے کو اس کی والدہ ماجدہ نے اندر بلایا ہے، تمہیں دکھانے کے لئے۔ آؤ!“ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔
وہ ارم کو پکڑے ڈرایئنگ روم میں آ گئی۔
سامنے دو سنگل صوفوں پر ایک نفیس سی خاتون اور ایک خوبرو سا نوجوان بیٹھا تھا۔ سامنے رکھی میز لوازمات سے سجی تھی اور سونیا بصداصرار مہمانوں کو بہت کچھ پیش کر رہی تھی۔
”بس بھابھی! ہمیں تو اپنے جیسی ہی بچی چاہیے۔ با حیا، با پردہ، صوم و صلاة کی پابند۔“ وہ خاتون مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔
”ارے مسز کریم! ہماری ارم تو کبھی سر ڈھکے بغیر گیٹ سے باہر نہیں نکلی۔“
”السلام علیکم!“ وہ ارم کو ساتھ لیے اندر داخل ہوئی۔ اس کے سلام پر سب نے سر اٹھا کر دیکھا۔
گلابی پوری آستینوں والی شلوار قمیض میں ہم رنگ ڈوپٹہ اچھی طرح پھیلا کر سر پر لیے ارم جھکی جھکی نگاہوں کے سے سامنے ایک صوفے پر آبیٹھ گئی۔
حیا بھی ساتھ ہی تھی۔ کمر پر گرتے سلکی بال، گرے اے لائن شرٹ اور ٹراؤزر زیب تن کیے، ڈوپٹہ کندھے پر ڈالے ارم کے ساتھ ہی ٹانگ پر ٹانگ رکھے پراعتماد طریقے سے بیٹھ گئی۔
بیگم کریم کی مشفق سی آنکھوں میں ارم کے لئے پسندیدگی کی جھلک اٹھی تھی۔ انہوں نے تائیدی انداز میں اپنے اسمارٹ سے بیٹے کو دیکھا, مگر وہ ارم کو نہیں، بلکہ بہت غور سے حیا کو دیکھ رہاتھا۔
”اور بیٹا! آپ کیا کرتی ہو؟“ بیٹے کو متوجہ نہ پا کر وہ ارم سے مخاطب ہوئیں۔
”جی! ماسٹرز کر رہی ہوں انگلش لٹریچر میں۔“ ارم نے جھکی جھکی نظروں سے جواب دیا۔
تب ہی حیا کو محسوس ہوا کہ وہ لڑکا مسلسل اسے دیکھ رہا ہے۔ بڑی جانچتی پرکھتی نظروں سے۔
دفعتاً اس نے پاکٹ سے اپنا بلیک بیری فون نکالا اور خاموشی سے سر جھکائے بٹن پریس کرنے لگا۔
خواتین آپس میں مصروف تھیں، مگر حیا کچھ عجیب سا محسوس کرتی کنکھیوں سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔ جو اپنے فون ر جھکا ہوا تھا۔ تب ہی ہولے سے اس کے موبائل سے ” مائی نیم از شیلا“ کی آواز گونجی۔ جسے اس نے فوراً بند کر دیا۔ مگر وہ سن چکی تھی۔ شیلا کے ساتھ شادیوں کا مخصوص شور بھی سنائی دیا تھا اور ارم نے بھی شاید کچھ سنا تھا، تب ہی چونک کر گردن اٹھائی اور پھر قدرے سبکی سے واپس جھکا دی۔
حیا کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ کیا دنیا اتنی چھوٹی تھی؟
وہ اب موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا، کبھی سکرین پر دیکھتا اور کبھی حیا اور ارم کے چہروں پر نظر ڈالتا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ کچھ ملانے کی سعی کر رہا تھا۔
پھر ایک دم وہ اٹھا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔ ایک شرمندہ سی خاموشی نے سارےماحول کو گھیرلیا۔
حیا نے سر جھکا دیا، اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا سا محسوس ہوا تھا۔..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: