Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 20

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 20

–**–**–

چند لمحوں بعد اس کی واپسی ہوئی تو چھری، پیچ کس اور ایسی چند چیزیں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ جہان کے ساتھ وہ سب رکھ کر پھر خود بھی وہیں کھڑی ہوگئی۔
وہ جنریٹر کا کور اتار رہا تھا۔ تب ہی تایا فرقان کی نگاہ اس پہ پڑی تو وہ چونکے۔ وہ بغیر اپنے کرتے کی پروا کیے، زمین پہ بیٹھا جنریٹر میں ہاتھ ڈال کر کچھ دیکھ رہا تھا۔ تایافرقان کی تعاقب میں سلیمان صاحب نے بھی اس طرف دیکھا۔
“فیول والو میں کچھ پھنس گیا ہے۔ ابھی صاف ہو جاۓ گا۔” اس کی آواز مدھم مدھم سی حیا تک پہنچی تھی۔ ثنا بہت حیرت، بہت متاثر سی اس کے ساتھ کھڑی اس کو کام کرتے دیکھ رہی تھی، جو بالکل کسی ماہر مکینک کے انداز میں بہت مہارت سے تاریں ادھر ادھر کر رہا تھا۔
چونکہ ہر سو اندھیرا تھا اور روشنی صرف برآمدے میں تھی، سو برآمدے کا منظر سارے منظر پہ چھانے لگا۔ لڑکیاں اور رشتہ دار خواتین مڑ مڑ کر اسی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ماحول پہ چھائی بے چینی ذرا کم ہوئی۔
اس نے کور واپس ڈالا۔ اس کے ہاتھوں پہ کالک لگ گئی تھی۔ پھر اس نے جنریٹر کا لیور کھینچا اور پیچھے کو ہٹا تو ساتھ ہی ایک جھمکا سے ساری بتیاں روشن ہو گئیں۔ اتنی تیز روشنی سے حیا کی آنکھیں لمحے بھر کو چندھیائیں، اس نے بے اختیار انہیں میچ کر دھیرے دھیرے کھولا۔
ثنا خوشی اور تشکر سے کچھ کہتے ہوۓ چیزیں اٹھا رہی تھی۔ وہ ہاتھ جھاڑتے ہوۓ اٹھ رہا تھا۔ ثنا نے اس کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہا تو وہ اسی سنجیدگی سے سر ہلا کر اندر چلا گیا۔ ثنا بھاگ کر اس کے پیچھے گئی۔
سلیمان صاحب جو قدرے دم بخود سے دیکھ رہے تھے، ذرا سنبھل کر واپس مڑ گۓ۔ وہ متاثر ہوۓ تھے
اور وہ اس تاثر کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ حیا مسکراہٹ دباۓ واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
جس شخص نے اندھیروں میں روشنیاں بکھیری تھیں، اس سے سب ہی متاثر تھے۔ البتہ وہ جانتی تھی کہ ابا نے کبھی یہ توقع نہیں کی ہوگی کہ جہان یوں زمین پہ بیٹھ کر جنریٹر کھولنے لگ جاۓ گا۔ اس کے دل میں ایک بے پایاں سا فخر جاگا۔ اس کی اور یقینا ثنا کی بھی خودساختہ سی خفگی اب کہیں نہیں تھی۔
مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ تھی اور ان کے جانے کے بعد گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ جب مہمان چلے گۓ اور صرف وہی اپنے لوگ رہ گۓ تو لان میں خواتین کا کھانا لگا دیا گیا جبکہ مردوں کا انتظام اندر تھا۔ مرد حضرات اور لڑکے وغیرہ اٹھ کر اندر چلے گۓ تھے۔ لان خالی خالی سا ہو گیا تھا۔
وہ پانچوں کزنز اب اسٹیج پہ جھولے اور ساتھ رکھی کرسیوں پہ آبیٹھی تھیں۔ مہوش تھوڑی دیر بیٹھی، پھر “میں اب آرام کروں گی” کہہ کر نزاکت سے اپنا فراک سنبھالے اٹھ کر اندر چلی گئی۔
“جہان بھائی تو بڑے کمال کے ہیں۔” ثنا اپنی ہیلز اتار کر دکھتے پیروں کو ہاتھ سے سہلا رہی تھی۔ “میں نے تو ان سے کہہ بھی دیا کہ جہان بھائی! میں نے آپ کو پاس کر دیا۔” پہلے تو حیران ہوۓ، پھر ہنس پڑے۔
سچ حیا آپی، آپ کے فیانسی ہیں بڑے اسمارٹ۔”
“اچھا۔” وہ پھیکا سا مسکرا دی۔
“ان فیانسی صاحب کو تو شاید خود بھی اپنی منگنی کا علم نہیں ہے۔ سلوک دیکھا ہے ان کا حیا کے ساتھ؟”
ارم جو قدرے بے زار سی بیٹھی تھی، تنک کر بولی “اور جب فرخ بھائی مکینک کو لا ہی رہے تھے تو کیا ضرورت تھی بھرے مجمع میں الیکٹریشن بننے کی؟لوگ بھی کیا سوچتے ہوں گے، ترکی سے یہی سیکھ کر آۓ ہیں۔”
ثنا کے تو تلووں پہ لگی، سر پہ بجھی۔
“ارم آپی! بات سنیں، سمیع بھائی کو الیکٹریشن لانے میں پون گھنٹہ تو لگ ہی جانا تھا، جبکہ جہان بھائی نے چھ، سات منٹ میں سارا مسئلہ حل کر دیا اور امیج کی کیا بات ہے، لوگ تو امپریس ہی ہوۓ ہوں گے۔”
“ہاں، بہت امپریس ہوۓ ہونگے کہ ہمارا ترکش کزن باورچی ہونے کے ساتھ ساتھ مکینک بھی ہے۔
ارم بڑے تمسخر سے ہنس کر اٹھ گئی۔ ثنا نے غصے بھری نگاہوں سے اسے جاتا دیکھا۔
“ارم آپی بھی نا، ہر وقت مرچیں ہی چباتی رہتی ہیں۔”
“اچھا جانے دو۔ اس کی تو عادت ہے۔ تم مجھے آج کی پکچرز دکھاؤ، اس کے بعد کھانا کھائیں گے۔”اس نے کہا تو ثنا سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتی اندر آئی تھیں۔
لاؤنج میں سارے مرد حضرات بیٹھے تھے۔ جہان بھی ادھر ہی تھا۔ ایک سنگل صوفے پہ بیٹھا وہ غور سے داور بھائی کی باتیں سن رہا تھا جو وہ اپنے مخصوص انداذ میں با آواز بلند کر رہے تھے۔ وہ دونوں تیز تیز چلتی لاؤنج کے سرے پہ بنے دروازے تک آئیں۔ وہ باہر کھڑی رہ گئی جبکہ ثنا نے دھیرے سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔ وہ مہوش کا کمرہ تھا، جس کے اندر ثنا کا کیمرہ رکھا تھا نائٹ بلب کی مدہم روشنی میں بیڈ پہ لیٹی، آنکھوں پہ بازو رکھے مہوش نظر آرہی تھی۔ ثنا دبے قدموں اندر گئی اور ڈریسنگ ٹیبل سے کیمرہ اٹھایا آہٹ پہ مہوش نے بازو ہٹایا۔
“کیا ہے ثنا! سونے دو نا مجھے۔” وہ تنک کر بولی۔
“سوری آپی! بس جا رہی ہوں۔” ثنا کیمرا اٹھا کر جلدی سے باہر آئی اور دروازہ بند کیا۔
“ایک تو مہوش آپی بھی نا۔” وہ ذرا خفگی سے کہتی اس کے ساتھ کچن کی جانب بڑھ گئی۔ ایک دفعہ پھر لاؤنج سے گزر کر وہ دونوں کچن میں آئی تھیں اور حیا جانتی تھی کہ وہ بنا میک اپ کے بھی اتنی خوب صورت لگ رہی تھی کہ اس کے بہت سے کزنز نے نگاہوں کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھا ضرور تھا، البتہ وہ جس کے دیکھنے سے فرق پڑتا تھا، ویسے ہی داور
بھائی کی جانب متوجہ تھا۔ وہ دونوں اب کچن میں کاؤنٹر سے ٹیک لگاۓ کھڑی ثنا کے ہاتھ میں پکڑے کیمرے کی چمکتی اسکرین پہ گزرتی تصاویر دیکھ رہی تھیں۔ جنہیں ثنا انگوٹھے سے بٹن دباتی آگے کرتی جا رہی تھی۔ تب ہی دھاڑ سے دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز آئی۔ ان دونوں نے چونک کر سر اٹھایا۔
“داور بھائی! یہ کیا تماشا ہے؟” وہ ضبط کھو کر چلانے والی مہوش تھی۔
لمحے بھر کو وہ دونوں ساکت رہ گئیں، پھر ایک دم سے دوڑ کر چوکھٹ تک آئیں۔
لاؤنج میں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ سب ششدر سے مہوش کو دیکھ رہے تھے جو اپنے کمرے کے دروازے کے آگے کھڑی کمر پہ ہاتھ رکھے، چلا رہی تھی۔
“یہ کونسی جگہ ہے تقریریں کرنے کی؟ کسی کو میرا احساس ہی نہیں ہے کہ میں نے آرام بھی کرنا ہے، کل سارا دن میرا پارلر میں گزرے گا، مگر آپ تو میرے سر پہ چیخ رہے ہیں۔ آپ کو آہستہ بولنا نہیں آتا؟ حد ہوگئی۔” وہ پیر پٹخ کر واپس مڑی اور اپنے پیچھے اسی دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔
لاؤنج میں ایک دم موت کا سناٹا چھایا تھا۔ سب کو جھٹکا لگا تھا کہ بیان سے باہر تھا پھر ایک دم سے جہان اٹھا۔
“داور! فرخ! مجھے گھر ڈراپ کر دوگے یا میں تم میں سے کسی کی کار لے جاؤں؟”
وہ تنے ہوۓ نقوش کے ساتھ بہت قطعیت سے پوچھ رہا تھا۔ اس کے سوال پہ سلیمان صاحب، تایا فرقان اور ان کے تینوں بیٹے جھٹکے سے اٹھے۔ وہ جواب سننے کے لیے نہیں رکا۔ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ سب اس کی معیت میں باہر نکل گۓ۔ذرا پریشان سے زاہد چچا اور رضا بھی ان کے پیچھے لپکے
“مہوش آپی….. آئی کانٹ بلیو دس!” ثنا نے بے حد تحیر سے نفی میں سر ہلایا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔حیا نے افسوس سے اسے دیکھا اور پھر خالی پڑے لاؤنج کو۔
“ابا لوگ بہت غصہ میں گۓ ہیں، مجھے لگتا ہے وہ ہمیں چلنے کا کہیں گے۔” اسی پل اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے موبائل سامنے کیا۔ “ابا کالنگ” باہر پہنچنے کا بلاوا آگیا تھا۔
“سوری ثنا!” اس نے بے بسی سے شانے اچکاۓ، پھر اس کا کندھا تھپتھپایا۔
“کل شادی کے فنکشن تک سب کا غصہ اتر چکا ہوگا۔فکر نہ کرنا، اچھا! کہہ کر وہ تیزی سے باہر لپکی۔
••••••••••••••••••••
سب سونے جا چکے تھے اور وہ اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی پراندے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ سونیا نے کافی سخت باندھا تھا، گرہ کھل کے نہیں دے رہی تھی۔ بالاآخر پراندہ چھوڑ کر اس نے پیشانی پہ جھولتے ٹیکے کو کھینچنے کے لیے چھوا ہی تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔
اس نے ٹکا چھوڑا اور پھر حیرت سے دروازے کو دیکھتی اس تک آئی۔ اماں،ابا تو سونے چلے گۓ تھے پھر…….
اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے جہان کھڑا تھا۔
“سوری! تم سو تو نہیں گئی تھیں؟ وہ قدرے جھجک کر بولا۔سیاہ ٹراؤزر کے اوپر آدھی آستین والی سفید ٹی شرٹ پہنے وہ وہی ترکی والا جہان لگ رہا تھا
“نہیں، تم بتاؤ خیریت؟”
“ہاں، ابھی میں لاؤنج میں بیٹھا تھا تو وہ فرقان ماموں کی بیٹی آئی تھی”
“ارم؟” اس نے ذرا حیرت سے سوالیہ ابرو اٹھائی۔
“ہاں وہی۔ تمہارا فون اور پرس میز پر رکھا تھا، اس نے فون اٹھا کر مجھ سے کہا کہ اسے ایک کال کرنی ہے، ابھی پانچ منٹ میں فون لا دے گی، مگر اب۔۔۔۔۔۔
اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی۔ “اب بیس منٹ ہونے کو آۓ ہیں مگر وہ واپس نہیں آئی۔ میں نے سوچا تمہیں بتادوں۔”
“اف! تم نے اسے میرا فون کیوں لے جانے دیا؟”
جوابا جہان نے بے چارگی سے شانے اچکاۓ۔”
اس نے مجھ سے اجازت نہیں مانگی تھی اورمیں اسے کیسے روک سکتا تھا؟ مجھے تو فرقان ماموں کی فیملی سے ویسے ہی بہت ڈر لگتا ہے۔”
“کیوں؟” وہ چونکی۔
“کیونکہ وہ سرخ مرچ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔”
وہ گہری سانس لے کر بولا تو وہ بے اختیار ہنس دی اور یہ ترکی سے آنے کے بعد پہلی دفعہ تھا، جب وہ یوں پورے دل سے ہنسی تھی۔
“سرخ مرچ کا استعمال ہمہیں بھی آتا ہے۔ تم ادھر ہی ٹھہرو، میں ذرا ارم سے فون لے آؤں۔” اور آج تو ویسے ہی ارم کی طرف اس کے بہت سے حساب اکھٹے ہوگۓ تھے۔
“اچھا۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتا صوفے پہ بیٹھ گیا اور وہ باہر چلی آئی۔
تایا فرقان کے لاؤنج میں سب ہی موجود تھے۔ سواۓ ارم اور سونیا کے۔ تایا ابا بہت پر ملال انداز سے نفی میں سر ہلاتے کچھ کہہ رہے تھے، شاید آج والے واقعے کا تذکرہ، جب حیا کو آتے دیکھا۔
“آؤ آؤ بیٹا۔” انہوں نے مسکرا کر اپنے ساتھ صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر سونیا کو آواز دی۔
“سونیا! حیا کی چاۓ بھی لے آنا۔”
“جی! اچھا ابا!” سونیا نے جوابا کچن سے آواز لگائی۔
“نہیں تایا ابا! میں چاۓ نہیں پیوں گی، بس اب سونے ہی جا رہی تھی۔” وہ بے تکلفی سے کہتی تایا ابا کے ساتھ صوفے پہ آبیٹھی۔
ان کی گھریلو سیاستیں اور وقتی تندو تیکھی باتیں ایک طرف، تایا فرقان اس سے پیار بھی بہت کرتے تھے اور آج مہوش کی بد تمیزی پہ جہاں وہ دکھی تھے، وہاں انہیں حیا کی قدر بھی آئی تھی
“ابا سو گۓ تمہارے؟”
“جی، کب کے۔ میں بس ذرا ارم سے فون لینے آئی تھی۔”
“فون کیوں؟” تایا ابا بری طرح چونکے۔ صائمہ تائی بھی ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں۔
“ارم کو کوئی کال کرنی تھی تو وہ میرا فون لے کر گئی تھی، مگر ابھی مجھے اپنی فرینڈ کو میسج کرنا ہے، سو سوچا فون لے لوں۔”وہ بہت سادگی سے کہہ رہی تھی۔
تایا کے چہرے کا رنگ فورا ہی بدل گیا تھا۔ نرمی کی جگہ سختی نے لے لی تھی۔
“ارم……. ارم” انہوں نے بلند آواز میں پکارا۔
“جی ابا!” وہ دوپٹا سنبھالتی، بھاگتی ہوئی آئی، مگر حیا کو بیٹھے دیکھ کے اس کا رنگ ایک دم سے فق ہوا۔
“حیا کا فون اسے واپس دو۔” تایا نے اسے کڑی نگاہوں سے گھورتے ہوۓ، بڑے ضبط سے کہا۔
“جج…. جی وہ فضہ کو میسج کرنا تھا تو۔۔۔۔۔۔۔” وہ ہکلا گئی۔ تایا اتنی شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ وہ رکی نہیں۔ الٹے قدموں واپس مڑی، اور چند ہی لمحوں بعد فون لا کر حیا کو تھمایا اور ساتھ ہی ایک کینہ توز نگاہ اس پہ ڈالی تھی، گویا کچا چبا جانا چاہتی ہو۔ وہ جوابا سادگی سے مسکرا دی۔
“تھینک یو، میں چلتی ہوں، آپ لوگ چاۓ انجواۓ کریں۔” وہ فون لے کر وہاں سے اٹھ آئی اور وہ جانتی تھی کہ اب چاۓ انہوں نے خاک انجواۓ کرنی تھی۔
واپس لاؤنج میں آتے ہوۓ اس نے موبائل کا log چیک کیا۔ میسج اور کال لاگ بالکل کلیئر تھا۔ سارا کال ریکارڈ غائب۔
“ارم کی بچی!” اسے ارم پہ بےطرح سے غصہ آیا۔ کال ریکارڈز میں موجود تمام نمبرز اس کے پاس محفوظ ہی تھے، البتہ جب وہ ترک فون ریسٹورنٹ چھوڑ آئی تھی، بیوک ادا جانے سے قبل، تو اس کے اسی پاکستانی موبائل پہ عبدالرحمن پاشا کا فون آیا تھا۔ اس کا نمبر اس نے محفوظ نہیں کیا تھا۔ وہ بس کال لاگ میں پڑا رہ گیا تھا۔ اب وہ مٹ گیا تھا۔ چلو خیر، اس نے کون سا کبھی اے آر پی کو کال کرنی تھی۔
جہان صوفے پہ اسی طرح بیٹھا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیسے ملا؟ مرچوں کے استعمال سے؟” اس کی نگاہیں حیا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل پہ تھیں۔
“نہیں، جہاں شکر کے استعمال سے بات بن جاۓ ہم وہاں مرچیں ضائع نہیں کرتے۔”
“ویسے پاکستان کے لوگ دل کے بہت اچھے ہیں۔ ایک کزن بغیر پوچھے فون اٹھا لیٹی ہے، ایک بہت عزت سے بغیر کھانا کھلاۓ گھر سے نکالتی ہے، اور ایک کھانا بھی نہیں پوچھتی۔”
“اوہ خدایا!” اس نے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔ “تم نے کھانا نہیں کھایا؟”
“کہاں کھاتا، وہاں تو ابھی لگا ہی نہیں تھا اور یہاں گھر کی دونوں خواتین نے پوچھا ہی نہیں۔” وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کچن کی طرف آئی اور فریج کھولا۔
“آج وہاں کھانا تھا تو کچھ بنایا ہی نہیں۔ ہمارے ہاں رات کا سالن اگلے دن کوئی نہیں کھاتا۔ ٹھہرو! میں انڈے بنا لیتی ہوں۔” اسے یاد آیا۔ کھانا تو اس نے بھی نہیں کھایا تھا مگر اسے اتنی بھوک نہیں تھی۔ انڈوں کا خانہ کھولا تو اندر دو ہی انڈیں رکھے تھے۔ اسے بے پناہ شرمندگی ہوئی۔” ان دو انڈوں سے تو کچھ بھی نہیں بنے گا۔” اس نے خفت سے کہتے ہوۓ فریج کا دروازہ بند کیا۔
جہان نے جیسےاس پر افسوس کرتے ہوۓ سر نفی میں ہلایا۔
“تمہیں شاید بھول گیا ہے کہ تم استنبول کے بہترین شیفس میں سے ایک سے بات کر رہی ہو۔ آرام سے بیٹھ جاؤ ادھر کرسی پہ…. میں خود بنا لوں گا سب کچھ۔”
اس نے اپنا سلور سمارٹ فون میز پہ رکھا اور پھر آگے بڑھ کہ فریج، فریزر، کیبنیٹس، ہر چیز کھول کھول کر الابلا باہر نکالنے لگا۔ فروزن قیمہ، پاستا کا پیکٹ، جمے مٹروں کا لفافہ، ساسز، سبزیوں کے خانے سے چند سبزیاں چن لیں۔ وہ تمام چیزیں کاؤنٹر پہ جمع کرتا جا رہا تھا۔
“تم اس وقت پاستا بناؤ گے؟” وہ متعجب سی کرسی پہ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ ابھی تک اپنے سبز فراک، پراندے اور ٹیکے سمیت بیٹھی تھی اور اسے کپڑے تبدیل کرنا بالکل بھول گیا تھا۔
“ہاں اور مجھے کوکنگ کے درمیان ٹوکنا مت۔ میں بہت برا مانتا ہوں۔” مسکراتے ہوۓ وہ سبزیاں دھو رہا تھا۔” اور تمہارا بخار کیسا ہے؟”
“اب ٹھیک ہے۔” اس نے خود ہی اپنا ماتھا چھوا۔ وہ کل کی نسبت قدرے ٹھنڈا تھا۔
“ویسے مجھے حیرت زاہد ماموں اور ان کے بیٹے پہ ہے۔ اس لڑکی نے اتنی بدتمیزی کی اور انہوں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔” وہ واقعتا حیرت سے کہتا سبزیاں کٹنگ بورڈ پہ رکھ کر کھٹا کھٹ کاٹ رہا تھا۔اس کے ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے۔
“اس کی ایک دن کے بعد رخصتی ہے، شاید وہ اس کا دل برا نہیں کرنا چاہتے ہوں گے۔” اس نے شانے اچکاۓ۔
“مگر اس نے بہت مس بی ہیو کیا۔” وہ افسوس سے کہتا پانی ابلنے کے لیے رکھ رہا تھا۔دوسری جانب اس نے فرائنگ پین میں ذرا سا تیل گرم ہونے رکھ دیا تھا۔
“اصل میں اس کے فیانسی نے کسی کینیڈین رئیلیٹی شو میں ایک ڈیڑھ ملین ڈالر جیتے ہیں، اسی پہ اس کا دماغ ساتویں آسمان پہ ہے اور وہ زمین پہ بغیر دماغ کے گھوم رہی ہے۔”وہ ٹیک لگاۓ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی بتا رہی تھی۔
“کینیڈین شو میں ڈیڑھ ملین ڈالر؟ بہت اچھی کور سٹوری ہے۔” اس نے ذرا سا ہنس کر سر جھٹکا۔ ساتھ ہی وہ فرائنگ پین میں فرائی ہوتی سبزیوں کو بجاۓ کفگیر سے ہلانے کے، فرائنگ پین کا ہینڈل پکڑے دائیں بائیں تو کبھی اوپر نیچے ہلا رہا تھا۔ سبزیاں چند انچ اوپر کو اڑتیں اور پھر واپس پین میں آ گرتیں۔
“کیا مطلب؟” اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“اگر کسی پاکستانی نے کینیڈین شو میں اتنی خطیر رقم جیتی ہوتی تو میڈیا پہ ہر جگہ آ چکا ہوتا۔ مجھے تو وہ لڑکا شکل سے ہی کرمنل لگ رہا تھا۔ تازہ تازہ آئی بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لیے کور بنایا ہے، اور کیا۔”
“اچھا!” اسے تعجب ہوا۔ اس نہج پہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا، البتہ کرمنل سے اسے کچھ یاد آیا تھا۔
“جہان تمہارے ریسٹورنٹ پہ جو حملہ ہوا تھا، اس کا کچھ پتا چلا؟”
“نہیں۔” وہ گردن ترچھی کیے، ساس کی بوتل پین میں انڈیل رہا تھا۔ “حالانکہ میری استنبول میں کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ قوی امکان ہے کہ کسی اور کے دھوکے میں ان لوگوں نے میرا ریسٹورنٹ الٹ دیا۔
ایک دشمنی تو خیر اب اس کی بن چکی تھی، مگر وہ تو خود بھی اس سے واقف نہیں تھا۔
“تم تو کہتے تھے کہ استنبول میں ایسا کوئی کرائم سین نہیں ہے؟”
“خیر، اب اتنے بھی برے حالات نہیں ہیں اور ڈارک سائیڈ تو ہر بڑے شہر کی ہوتی ہے۔”
وہ چولہے کے سامنے کھڑا، اس کی طرف پشت کیے، پین میں قیمہ بھون رہا تھا۔ قیمے اور شملہ مرچ کی بھینی بھینی، اشتہا انگیز سی مہک سارے میں پھیلنے لگی تھی۔ اس کی گم گشتہ بھوک ایک دم سے جاگ اٹھی۔
“تمہیں پاکستان آ کر کیسا لگا جہان!” وہ ٹھوڑی تلے مٹھی رکھے اسے دیکھتی سادگی سے پوچھنے لگی۔ یہ یہاں آنے کے بعد ان کی پہلی باضابطہ گفتگو تھی۔
“اچھا لگا بلکہ بہت اچھا لگا، مگر فرقان ماموں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے رشتہ دار اتنی تیکھی باتیں بھی کر لیتے ہوں گے۔” اس نے جیسے جھر جھری لے کر سر جھٹکا۔ آج وہ سارا دن تایا فرقان کی کمپنی میں رہا تھا تو یہ ردعمل فطری تھا۔
“وہ اتنے تیکھے نہیں ہیں، اور بہت پیار کرتے ہیں ہم لوگوں سے، بس ان کے اپنے نظریات ہیں جو اتنے سخت ہیں کہ اگر کوئی ان پر پورا نہ اترے تو وہ اس کی گریڈنگ بہت نیچے کر دیتے ہیں۔”
“واٹ ایور!” وہ اب ابلی پاستا کے پتیلے میں قیمہ اور ساس انڈیل رہا تھا۔ پھر ان کو اچھی طرح مکس کر کے اس نے اسے دم پہ رکھ دیا اور سنک کی ٹونٹی کھول کر ہاتھ دھونے لگا۔ وہ سمجھی، اب وہ اس کے پاس آکر بیٹھے گا، مگر وہ ہاتھ دھو کر اب سارا پھیلاوا سمیٹنے لگا تھا۔ جھوٹے برتن، سبزیوں کے چھلکے، خالی شاپر۔ وہ جلدی سے اٹھی۔
“میں کر دیتی ہوں۔”
“پلیز تم بیٹھی رہو، جتنی پھوہڑ تم ہو، میں جانتا ہوں۔ اگر تم نے میری مدد کروائی تو دو گھنٹے لگ جائیں گے، جبکہ میں اکیلا کروں تو دو منٹ میں ہو جاۓ گا۔”
“ٹھیک ہے، خود ہی کرو.” وہ قدرے خفگی سے کہتی ہوئی دوبارہ بیٹھ گئی۔
اور واقعی، اس نے دو تین منٹ میں ہر چیز اپنی جگہ پہ رکھ دی۔ چند ایک برتن جو پکانے کے دوران میلے ہوۓ تھے، وہ دھل کر اسٹینڈ میں لگ گۓ اور سلیب چمکا دیے گۓ، وہ بندہ کمال کا تھا۔
“تم کب سے ریسٹورنٹ چلا رہے ہو؟”
“اب تو بہت عرصہ ہو گیا۔ اچھا میں برتن لگاتا ہوں، تم سلیمان ماموں کو بلا لاؤ، انہوں نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔”
“ارے ہاں!” وہ ماتھے پہ ہاتھ مارتی اٹھی، پھر نگاہ اس کے سلور اسمارٹ فون پہ پڑی جو میز پہ رکھا تھا۔
“تمہیں پتا ہے۔ ڈی جے کو تمہارا فون بہت پسند تھا۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ جہان سے کہنا، جب اپنا یہ
ایک دو لاکھ کا فون پھینکنا ہو تو سبانجی کے باہر ہی پھینکے۔” وہ اداسی سے مسکرا کر بولی تو وہ ہنس دیا۔
“ویسے یہ اس کے لگاۓ گۓ تخمینے سے کہیں زیادہ مہنگا ہے۔”
“اچھا۔” اسے ذرا حیرت ہوئی۔” اتنا قیمتی فون کیوں خریدا تم نے؟”
“خریدا نہیں تھا، گفٹ ملا تھا۔ اسپیشل گفٹ!” وہ مسکرا کر جیسے کچھ یاد کر کہ بولا۔
“کس نے دیا تھا؟”
“سم ون اسپیشل! اچھا جاؤ۔ ابھی ماموں کو بلا لاؤ!”
وہ ٹال گیا تو وہ شانے اچکاتی وہاں سے چلی آئی۔ ابا کا دروازہ بجا کر، وہیں سے بلا کر وہ واپس لاؤنج میں آئی تو وہ وہاں میز پر پلیٹیں اور گلاس رکھ رہا تھا۔ وہ بڑے صوفے پہ بیٹھی اور ریموٹ اٹھا کر ٹی وی چلا دیا۔
جس وقت ابا ذرا حیران سے باہر آۓ، جہان پاستا کی ڈش اٹھاۓ کچن سے نکل رہا تھا، اور وہ مزے سے اپنے کام دار جوڑے میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی چینل بدل رہی تھی۔
“ابا!” ان کو دیکھ کر جلدی سے اٹھی اور جہان کے ہاتھ سے ٹرے لی۔
“سوری ماموں! ہم نے آپ کو اٹھا دیا۔ آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا سو۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ان کی طرف پلیٹ بڑھائی۔
“تھینک یو۔” ابا نے قدرے ناسمجھی سے کھانے کو دیکھا اور پھر حیا کو۔ “یہ تم نے بنایا ہے؟”
“نہیں، جہان نے!” وہ مسکراہٹ دبا گئی۔
“ویسے ماموں! یہ اٹالین ریسپی نہیں ہے، ذرا دیسی اسٹائل میں بنایا ہے جیسے ممی بناتی ہیں، آپ کو پاستا میں قیمہ پسند ہے نا، ممی نے بتایا تھا مجھے۔”
سلیمان صاحب چونک کر اسے دیکھنے لگے۔ اس کو دل توڑنے کا فن آتا تھا تو ٹوٹے ہوۓ دلوں کو دوبارہ جوڑ کر انہیں جیتنے کا فن بھی آتا تھا۔
وہ اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی۔ اسے اب احساس ہوا تھا کہ وہ رف اور ٹف سا بندہ تو بھوکا بھی سو جاتا مگر رات کے ایک بجے اگر اس نے یہ اہتمام کیا تھا تو صرف اور صرف ابا کے لیے، کیونکہ اسے یاد تھا کہ ابا نے کھانا نہیں کھایا اور اسے شاید احساس ہوگیا تھا کہ وہ اس سے ذرا کھینچے کھینچے سے رہتے ہیں۔ اور حیا کو خود اب یاد آیا تھا کہ قیمہ والا پاستا ابا کا پسندیدہ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس عمل سے جہان نے اپنے اور ابا کے درمیان حائل برف کو پگھلانے کی کوشش کی تھی۔
پاستا بہت مزے کا تھا۔ منہ میں جاتے ہی گھل جانے والا۔ سلیمان صاحب نے تعریف نہیں کی، مگر ان کے چہرے سے ظاہر تھا کہ انہیں اپنا یوں خیال کیا جانا اچھا لگا تھا۔ وہ خود بھی بہت شوق سے کھا رہی تھی۔ ڈی جے کے بعد یہ پہلا کھانا تھا، جو اس نے دل سے کھایا تھا۔
“کونیا میں دو لڑکیوں کا اغوا۔”
ٹی وی اسکرین پہ بی بی سی چل رہا تھا، اور جو خبر نیوز کاسٹر نے پڑھی، اس پہ ان تینوں نے چونک کر سر اٹھایا۔ کونیا ترکی کا شہر تھا۔ جلال الدین رومی کا شہر۔
جہان نے بجلی کی تیزی سے ریموٹ اٹھایا اور چینل بدل دیا۔
“کیا کہا اس نے۔۔۔۔۔۔۔ کونیا؟”ابا جو باتھ روک کر اسکرین کو دیکھنے لگے تھے،چینل تبدیل ہونے پہ الجھ کر جہان کو دیکھا۔ وہ سادگی سے مسکرا دیا۔
“نہیں، کونیا نہیں، اس نے کہا تھا کینیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور لیں نا!”
وہ ریموٹ ایک طرف رکھ کر انہیں پھر سے سرو کرنے لگ گیا۔ ابا نے ذرا تذبذب سے سر ہلایا، گویا وہ اپنی سماعت کے دھوکا دینے پہ الجھے ہوۓ تھے۔ حیا نے جہان کو دیکھا اور جہان نے اسے، پھر دونوں زیر لب مسکرا دیے۔
ابھی وہ ابا کے سامنے ترکی کا امیج سبوتاژ ہوتا دیکھنے کے متحمل نہیں تھے۔
بارات کے لیے وہ میرج ہال کی جانب رواں دواں تھے، ابا ڈرائیو کر رہے تھے اور وہ آج چپ نہیں تھے بلکہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے جہان کو سڑک کے اطراف میں گزرتی جگہوں کے بارے میں مختصر فقروں میں آگاہی دے رہے تھے۔ وہ بھی جوابا کوئی مختصر سا جواب دے دیتا تھا وہ آج بھی اتنا ہی کم گو تھا، جتنا دو روز قبل، مگر وہ برف کی دیوار پگھل گئی تھی
وہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھی لاتعلق سی باہر دیکھ رہی تھی۔ اسے ڈی جے کے بغیر یوں ان خوشی کی تقاریب میں شرکت کرنا سخت برا لگ رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر احساس جرم کا شکار تھی۔ ابھی اسے بچھڑے دن ہی کتنے ہوۓ تھے، مگر مجبوری تھی۔ جانا تو تھا۔ وہ آج بھی خاص تیار نہیں ہوئی تھی۔
کاجل اور نیچرل لپ اسٹک کے علاوہ کوئی میک اپ نہیں کیا، بال یوں ہی کھلے چھوڑ دیے۔ جیولری بھی نہیں پہنی۔ ضرورت بھی نہیں تھی کہ اس کی لمبی، ٹخنوں سے بالشت بھر اونچی قمیص کے گلے پہ کافی کام تھا۔ وہ شیفون کی قمیص تھی، اور اس کا رنگ آلو بخارے کے چھلکے کا سا تھا۔ قمیص کا گلا گردن تک بند تھا اور گردن سے لے کر دو بالشت نیچے تک سیاہ اور آلو بخارے کے رنگ کے چھوٹے بڑے ہر سائز کے Diamonties (نگ) لگے تھے ان کی جھلملاہٹ بہت خوبصورت تھی۔ نیچے ہم رنگ سلک کا پاجاما تھا اور آستینیں کلائی تک آتی چوڑی دار تھیں۔ لیکن آج بھی اسے کل کی طرح اپنے لباس کی خوبصورتی سے قطعا دلچسپی نہ تھی۔
میرج ہال کے باہر بارات ابھی ابھی اتری تھی۔ داخلی دروازے پہ خاصا رش تھا۔ سجی سنوری، زیورات، قیمتی ملبوسات اور خوشبوؤں میں رچی بسی لڑکیاں اور خواتین گاڑیوں سے نکل کر، اپنے بال اور میک اپ ٹھیک کرتی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ رضا اور زاہد چچا وہاں کھڑے خوش اخلاقی سے مسکراتے مہمانوں کو ویلکم کر رہے تھے۔ اسے پتا تھا کہ مہوش کی کل والی بات کو آج بھلا کر سب شادی میں شرکت کریں گے اور واقعی یہ ہو رہا تھا۔
کار رکنے پر اس نے دروازہ کھولا اور باریک ہیل باہر پتھریلی زمین پر رکھی۔ بے اختیار اسے ٹوٹی ہوئی سرخ ہیل یاد آئی۔ سر جھٹک کر وہ باہر نکلی اور پرس سنبھالتے ہوۓ دروازہ بند کیا۔ ابا، جہان اور اماں ایک ساتھ میرج ہال کے داخلی دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے اور وہ بھی وہی چلی جاتی اگر جو اس کے پاؤں پہ وہ پتھر آکر نہ لگتا۔
“آؤچ!” اس نے کراہ کر پیر ہٹایا۔ وہ بجری کا چھوٹا سا ٹکڑا تھا۔۔ اس نے گردن اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا۔وہ مخالف سمت سے آیا تھا، جہاں پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی تھیں اور کسی نے بہت تاک کر اسے مارا تھا۔ ان گزرے تین چار ماہ میں اسے اتنا انداذہ تو ہو گیا تھا کہ اس کے ساتھ اتفاقات نہیں ہوتے تھے۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے اس سمت دیکھا اور پھر ٹھہر سی گئی۔ پارکنگ کے پیچھے سے ایک ہیولا سا نکلا اور اس کی جانب بڑھنے لگا۔چند لمحے تو وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکی۔
رات کی تاریکی میں پارکنگ ایریا کو اونچے پولز کی زرد بتیوں نے مدھم سی روشنی بخش رکھی تھی۔ اس روشنی میں وہ صاف دکھائی دے رہا تھا یا دے رہی تھی۔
بھڑکتا ہوا نیلا زرتار ڈوپٹا ہم رنگ جوڑے کے اوپر پہنے، وہ دوپٹے کا پلو چہرے پہ ذرا سا ڈالے،اسے دانتوں سے یوں پکڑے ہوۓ تھا کہ دور سے اس پہ کسی عورت کا گمان ہوتا تھا۔چہرے کو سفید پینٹ کیے، گہرے آئی میک اپ، سرخ چونچ سی لپ اسٹک اور سنہرے بالوں کی وگ لگاۓ، وہ اس کی طرف چلتا آرہا تھا۔وہ اسے ایک نظر میں ہی پہچان گئی تھی۔
“پنکی!”
اس نے ہراساں نگاہوں سے گردن موڑ کر دور ہال کی طرف دیکھا۔ ابا کی اس کی جانب پشت تھی۔ وہ واپس مڑی، تب تک وہ قریب آچکا تھا۔
“کیسی ہو باجی جی؟” وہ مسکرایا تھا۔
“تم….. تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اس نے سراسیمگی سے اسے دیکھتے اپنے پرس پر گرفت مضبوط کر لی، گویا ذرا بھی وہ آگے بڑھا تو وہ بھاگ اٹھے گی۔
“آپ سے ملنے آئی تھی جی! پنکی کہتے ہیں مجھے۔ یاد ہے جی؟” وہ مسکرا کر بولا۔
“اچھی طرح یاد ہے اور بھولی تو تمہاری ماں اور بہن بھی نہیں ہوں گی! اب ہٹو میرے راستے سے۔
“غصہ کیوں کر رہی ہو جی! میں تو آپ کو کچھ بتانے آئی تھی۔”
“مائی فٹ! مسئلہ کیا ہے آپ کو میجر احمد؟” وہ پیر پٹخ کر بولی۔ “اتنے باوقار عہدے پہ فائز ہو کر کیسی حرکتیں کر رہے ہیں آپ؟”
“لو جی…. میں تو ڈولی کا پیغام دینے آئی تھی مگر…..”
“کیسا پیغام؟” وہ اسی رکھائی سے بولی۔
“ڈولی کی حالت امید بخش نہیں ہے، پتا نہیں کتنے دن جی پاۓ۔”
“کیا ہوا ہے؟” وہ ذرا چونکی۔
خود چل کر دیکھ لیجئے۔ آئیے! میں آپ کو لے جاتی ہوں۔”
“نہیں نہیں، مجھے کہیں نہیں جانا۔” وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
“ایک دفعہ تو اس سے مل لیں، اس نے کچھ بتانا ہے آپ کو۔”
“مجھے کچھ نہیں جاننا۔ تم لوگوں کی ساری معلومات مجھے اے آر پی کی ماں سے مل گئی تھیں۔” تلخی سے کہتے ہوۓ اس نے پھر سے پلٹ کر دیکھا۔ بارات کے مہمان اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کوئی اس کی طرف متوجہ نہ تھا۔
“ہو سکتا ہے کچھ ایسا ہو، جو اس کی ماں کو بھی نہ پتا ہو۔”
“کیا؟” وہ چونکی، پھر بغور پنکی کو دیکھا۔ اس کے اونچے قد کے سوا کوئی چیز اس روز جناح سپر کی شاپ میں ملنے والے اس اسمارٹ، گلاسز والے نوجوان کا پتا نہیں دیتی تھی۔ پنکی کا تو چہرہ بھی جلا ہوا نہیں لگتا تھا مگر نہیں…..ا س کا تو چہرہ سلیٹ کی طرح چپٹا تھا۔ ایسی جھلی جس نے سب نقش چھپا دیے ہوں۔ خدایا! کیسے یہ لوگ اپنے چہرے بدل لیتے تھے۔ مگر آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ چونکی یہ آنکھیں وہی تھیں۔ وہی گلاسز کے پیچھے سے جھلکتی آنکھیں اب آئی شیڈو کی چمکیلی تہہ کے باوجود وہ انہیں پہچان گئی تھی۔
“اس بات کا جواب تو بس ڈولی کے پاس ہے جی اور اس نے مجھے یہی آپ کو بتانے کا کہا تھا۔ سہیلی کی دوستی نبھا رہی ہوں میں تو جی! ورنہ میری جوتی کو بھی شوق نہیں ہے۔ آپ جیسی بد زبان خاتون کے منہ لگنے کا۔”
چڑ کر کہتے ہوۓ اس نے دوپٹے کے اندر چھپے ہاتھ باہر نکالے۔ اس میں ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبا تھا۔
“یہ ڈولی نے بھیجا ہے۔ اسے اسی طریقے سے کھولیے گا جو اس پہ لکھا ہے، مگر جب تک آپ اسے کھول پائیں گی، وہ شاید اس دنیا میں نہ رہے۔”
حیا نے اس کے بڑھے ہوۓ ہاتھوں میں پکڑے اس ڈبے کو دیکھا۔ اس کی کلائی پہ وہی کانٹے کا سرخ بھورا سا نشان تھا۔
“یہ کیا ہے؟” اس نے اچنبھے سے سر اٹھا کر پنکی کو دیکھا۔ وہ کہاں کھڑی ہے، اسے لمحے بھر کو بھول گیا تھا۔
“یہ ایک پہیلی سے کھلے گا، مگر یہ پہیلی صرف آپ ہی بوجھ سکتی ہیں اور آپ بوجھ ہی لیں گی۔ یہ بہت آسان ہے، لیکن اس کے اندر موجود چیز نکالنے کے لیے اسے توڑنے کی کوشش مت کیجیے گا۔ اسے توڑ دیا تو وہ چیز آپ کے کام کی نہیں رہے گی۔” پنکی نے مسکرا کر کہتے ہوۓ ڈبا اس کے مزید سامنے کیا۔
اس نے نہ چاہتے ہوۓ بھی اسے تھام لیا۔
“اچھا باجی جی! رب راکھا۔” وہ وہی خواجہ سراؤں والا لہجہ بنا کر سلام جھاڑ کر دوپٹا منہ پہ ڈالے پلٹ گیا۔
اس نے جلدی سے ڈبا پرس میں رکھا اور پیشانی پہ نمودار ہوۓ پسینے کے قطرے ٹشو سے تھپتھپاتی، خود کو کمپوز کرتی ہال کی جانب بڑھ گئی۔
بارات کا فنکشن ویسا ہی تھا، جیسا کسی بھی شاندار شادی کا ہونا چاہئیے۔ بقعہ نور بنا ہال، بہترین سجاوٹ، دلہن کا قیمتی ڈیزائنر سوٹ اور جیولری، مہوش کی ننھیالی کزنز کے گروپ ڈانسز، اور پر تکلف طعام کی اشتہا انگیز خوشبو جو ابھی کھلا نہیں تھا۔ آج بھی مرد وخواتین اکھٹے تھے مگر یوں کہ آدھے ہال میں مرد اور باقی آدھے کی میزوں پہ خواتین براجمان تھیں تاکہ ایک حد تک علیحدگی رہے۔ ان کی فیملی کی کسی بھی لڑکی نے رقص میں حصہ نہیں لیا۔ مگر مہوش کی کزنز ہر طرف چھائی رہیں۔
وہ آج بھی ایک الگ تھلگ کونے والی میز پہ بیٹھی رہی۔ اس کا دل اسٹیج پہ جا کر مووی بنوانے کو قطعا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس شریفوں کے مجرے نے اسے ایسا احساس عدم تحفظ بخشا تھا کہ وہ کسی بھی دوسرے کے کیمرے یا موبائل میں تصویر کھنچوانے سے احتیاط برت رہی تھی۔ یہ موویز اور تصاویر کہاں کہاں نہیں گھومتی ہوں گی۔
اس نے جھرجھری لے کر سر جھٹکا۔ اتنے بڑے ہال میں کوئی بھی اس کے جانب متوجہ نہ تھا۔ وہ ویسے بھی اس میز پہ اکیلی بیٹھی تھی۔ اس نے چند لمحے کے لیے سوچا، پھر میز پہ رکھے پرس سے وہ ڈبا نکالا اور فانوس کی چکا چوند روشنی میں الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔
وہ ایک ہاتھ جتنا لمبا اور پانچ انچ موٹا مستطیل ڈبا تھا۔ ڈبا نہ بہت بھاری تھا، نہ بہت ہلکا۔ وہ گہری بھوری لکڑی کا بنا تھا اور اس کے ڈھکن کے علیحدہ ہونے کی جگہ پر چھ خانے بنے تھے۔ جس کے اندر A لکھا نظر آرہا تھا۔ اس نے ایک A پہ انگلی رکھ کر نیچے کو رگڑا تو A نیچے چلا گیا اور B سامنے آ گیا۔وہ اسے نیچے کرتی گئی۔ ان چھ خانوں میں پوری انگریزی کے حروف تہجی لکھے تھے۔ جیسے عموما بریف کیسز پہ تین ایسی اسٹرپس لگی ہوتی ہیں جو تین زیرو پہ کھل جاتی ہیں، ویسے ہی اس باکس کو کھو لنے کے لیے کوئی چھ حرفی لفظ سامنے لانا تھا۔
پنکی نے کہا تھا کہ اسے کھولنے کا طریقہ اس ڈبے پہ لکھا ہوا ہے۔ اس نے ڈبے کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور لحظہ بھر کو ٹھٹھکی۔ اسے ڈھکن کی اوپری سطح پہ کچھ کھدا ہوا نظر آیا تھا۔ وہ چہرہ ڈبے پہ جھکائے آنکھیں سیکڑ کر پڑھنے لگی۔ وہ بہت باریک انگریزی میں لکھا ایک فقرہ تھا۔
“into the same river no man can ente twice”
(ایک ہی دریا میں کوئی شخص دو دفعہ نہیں اتر سکتا۔)
into the same river no man can ente twice”
اس نے الجھن بھرے انداز میں وہ فقرہ دہرایا۔
کیا یہی وہ پہیلی تھی، جس کا ذکر پنکی نے کیا تھا؟مگر یہ پہیلی تو نہیں لگتی تھی۔ اس میں کوئی سوال نہیں تھا۔ بس ایک سادہ سا فقرہ تھا۔
السلام علیکم حیا!
آواز پہ اس نے کرنٹ کھا کر گردن اٹھائی اور ساتھ ہی گود میں رکھے ڈبے پہ دوپٹا ڈالا۔
سامنے شہلا کھڑی تھی۔ سیاہ عبایا کے اوپر گہرے سبز اسکارف کا نقاب انگلیوں سے تھامے اپنے ازلی نرم انداز میں مسکرا تے ہوئے۔
وعلیکم السلام شہلا بھابھی! کیسی ہیں آپ؟ آئیں بیٹھیں۔ وہ ذرا سنبھل کر اٹھی اور جلدی سے ڈبا پرس میں ڈال کر ان سے گلے ملی۔
میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ، مجھے علم نہیں تھا کہ تم آئی ہوئی ہو۔ وہ رسان سے کہتی ہوئی کرسی پہ بیٹھ گئی۔ پھر ابھی فاطمہ پھپھو نے تمہاری فرینڈ کا بتایا۔۔۔۔۔۔۔ رئیلی سوری فار ہر۔
ڈی جے کے ذکر پر اس کے سینے میں ایک ہوک سی اٹھی۔ وہ پھر سے افسرده ہو گئی۔
پتہ نہیں شہلا بھابھی! اللہ تعالیٰ کی کیا مرضی تھی۔میری ایک ہی دوست تھی ترکی میں اور وہ میری تمام دوستوں سے بڑھ کر ہو گئی تھی۔ بہت دعا کی میں نے اس کے لیے، مگر کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔
نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ لبوں پہ آ گیا۔
اللہ تمہیں صبر دے گا۔ ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ۔شہلا نے اس کا ہاتھ نرمی سے دبایا۔ سبین آنٹی کا بیٹا بھی آیا ہے؟
جی، وہ ادھر ہے۔ اس نے نگاہوں کا زاویہ موڑا تو شہلا نے تعاقب میں دیکھا۔
اسٹیج کے قریب وہ سلیمان صاحب کے ساتھ کھڑا تھا۔ سیاہ ڈنر سوٹ میں ملبوس اس کی مقناطیسی شخصیت بہت شاندار لگ رہی تھی۔ سلیمان صاحب اس کے شانے پر ہاتھ رکھے کسی سے تعارف کروا رہے تھے اور وہ دھیمے انداز میں مسکرا رہا تھا۔ آج وہ اس کے ساتھ اتنے مطمئن اور مسرور لگ رہے تھے گویا روحیل واپس آ گیا ہو۔
بہت اچھا ہے ماشاء اللہ۔
تھینکس۔ وہ لمحےبھر کو جھجھکی۔ شہلا بھابھی! ایک بات کہوں۔ آپ کی ساس نے آپ کی اتنی خوبصورت بری بنائی تھی اور آج بھی آپ نے ان ہی میں سے کوئی سوٹ پہنا ہوگا، اس طرف تو عورتیں ہی ہیں۔ آپ کا عبایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے، آپ کے کپڑے تو نظر ہی نہیں آ رہے۔ وہ رک رک کر ہچکچا تے ہوئے بولی تھی۔ دوار بھائی کی مہندی پہ اس نے بہت کھنک دار لہجے میں شہلا کو نقاب اتاانے کے لیے کہا تھا مگر آج اس کی آواز سے کھنک مفقود تھی۔
جوابا شہلا بھابھی بہت تھکن سے مسکرائی تھی۔
کیا فرق پڑتا ہے حیا! اتنے مردوں کو اپنے کپڑے دکھا کر مجھے کیا مل جائے گا؟
تو نقاب ہی اتار دیں۔ اس کا لہجہ بہت کمزور تھا۔ اس نے نقاب ڈھیلا بھی نہیں کیا۔ حیا نے پھر نہیں کہا۔اس سے کہا ہی نہیں گیا۔
وہ تو خود دل سے نہیں چاہتی تھی کہ شہلا نقاب اتار دے۔ وہ تو بس اس کا جواب سننا چاہتی تھی۔ اسے شریفوں کے مجرے کا وہ منظر اچھی طرح سے یاد تھا، جب سنہری اور چاندی کی محو رقص پریوں کے پیچھے کرسی پہ ترچھی ہو کر بیٹھی کسی آنٹی سے بات کرتی شہلا نظر آ رہی تھی مگر آج وہ اتنی پژمردگی اور تھکان سے کیوں مسکرائی تھی۔۔۔۔۔۔۔ یوں جیسے اس کا دل اندر تک زخمی ہو۔ وہ دکھ، وہ تھکن، وہ زخمی نگاہیں۔ اسے کسی نے پکار لیا اور وہ اٹھ کر چلی گئی مگر حیا کی نگاہیں کافی دور تک اس کا تعاقب کرتی رہیں۔
پچھلی دفعہ اسے شہلا کو عبایا میں دیکھ کر عجیب کوفت بھرا احساس ہوا تھا مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا۔
وہ اس کی ان دکھ بھری آنکھوں میں اٹک کر رہ گئی تھی۔ شہلا کو کیا غم تھا۔ اتنی اچھی فیملی میں شادی ہوئی ہے۔ اتنا ہینڈسم شوہر، امیر کبیر، ماں باپ کا اکلوتا بیٹاپھر۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اسے کیا دکھ تھا؟ وہ پھر سارا فنکشن یہی سوچے گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••
آدھی رات گئے اپنے کمرے میں بیٹھے وہ پھر سے اس ڈبے کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ جہاں، ڈولی، پنکی،
پاشا، احمد مگر انگریزی میں یہ سارے نام پانچ حرفی تھے۔ چھٹا حرف نہیں ملا تھا۔ وہ بار بار اس سطر کو پڑھے گئی مگر کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ مگر وہ کون سا شخص تھا، جس کے پاس ایسے ہر محنت طلب مسئلے کا حل ہوتا تھا؟
وہ ڈبہ لیے بھاگ کر باہر آئی۔ جہان کچن میں کھڑا کاوئنٹر پر گلاس رکھے پانی کی بوتل اس میں انڈیل رہا تھا۔
وہ اس کے سامنے آئی اور باکس اس کے ساتھ رکھا۔
یہ مجھے کسی نے دیا ہے اور مجھے اس کا پاس ورڈ نہیں معلوم اسے کھول دو۔
وہ آواز پر چونکا، پھر بوتل رکھ کر ڈبہ اٹھا لیا۔
یہ ہے کیا؟ وہ ذرا اچنبھے سے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
جو بھی ہے، تم اسے کسی طرح کھول دو۔
ہوں! کھل جائے گا نو پرا بلم۔ وہ ڈھکن اور ڈبے کی بند دراز پہ انگلی پھیر کر کچھ محسوس کر رہا تھا۔ تم مجھے ایک بڑا چھڑا اور ایک ہتھوڑا لا دو۔
افوہ! توڑنا نہیں ہے اسے بلکہ تم تو رہنے ہی دو۔ اس نے خفگی سے ڈبا اس کے ہاتھ سے واپس لے لیا۔
کیا ہوا؟ میں کھول تو رہا تھا، ایک منٹ مجھے دیکھنے تو دو۔
میں خود کر لوں گی، تم رہنے دو۔ تم میرے لیے کچھ نہیں کرتے۔ پتہ نہیں وہ کس بات پر اس سے خفا تھی۔ جو جھنجھلا کر بولی۔
پھر سوچ لو۔ میں تو ابھی ماموں کے پاس جارہا تھا
انہیں تمہیں دوبارہ استنبول بھیجنے کے لئے راضی کرنے مگر ٹھیک ہے، میں تمہارے لیے کچھ نہیں کرتا۔وہ شانے اچکا کر پانی پینے لگا۔
سچ؟ اس نے بےیقینی سے پلکیں جھپکائیں۔ تم انہیں منا سکتے ہو؟
میں ایک اچھا شیف اور اچھا مکینک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا وکیل بھی ہوں۔ ٹرائی می! وہ گلاس رکھ کر ذرا سا مسکرایا۔
ابا ایک دفعہ اڑ جائیں تو کبھی فیصلہ نہیں بدلتے۔
تم انہیں کیسے مناؤ گے؟
ویسے تو تمہارا دوبارہ استنبول جانا میرے مفاد میں قطعاً نہیں ہے۔ کیونکہ اب تم ہر ٹورسٹ اٹریکشن دیکھنے کے لیےمجھے ہی خوار کرواؤ گی، مگر مجھے لگا تم جانا چاہتی ہو۔ سو میں ماموں سے بات کرنے ہی جا رہا تھا اور وہ مان جائیں گے۔ بروقت کونیا کو کینیا نہ بناتا تو شاید وہ کبھی نہ مانتے۔
ہاں استنبول تو بہت محفوظ شہر ہے اور پاکستان میں تو روز بم دھماکے ہوتے ہیں اور پاکستان میں تو پتا نہیں لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے بھی یا نہیں! وہ ذرا جل کر بولی۔ وہ بنا کچھ کہے مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
اگلا ایک گھنٹہ وہ کچن میں کرسی پہ بیٹھی جان کا انتظار کرتی رہی۔ بالآخر جب وہ ابا کے کمرے سے نکلا تو وہ تیزی سے اٹھی۔
کیا ہوا؟
پیکنگ کر لو۔ کل ہم صبح کی فلائٹ سے واپس جا رہے ہیں۔ وہ دھیما سا مسکرا کر بولا۔ مگر اس شرط پہ کہ فی الحال تو تم ہمارے ساتھ رہی گی، بعد میں جب اسپرنگ بریک ختم ہو جائے تو بیشک چلی جانا۔
سچ! وہ بے یقینی و خوشگوار حیرت میں گھری اسے دیکھ رہی تھی۔ ایک طمانیت بھرا احساس اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔
البتہ ایک بات وہ جانتی تھی۔ استنبول ڈی جے کے بغیر کبھی بھی ویسا نہیں ہو گا جیسا پہلے تھا۔
•••••••••••••••••••••••
تمہارا دماغ درست ہے؟
ہاشم نے بے یقینی سے اپنی بیوی کو دیکھا۔ جو بستر کے دوسرے کنارے پر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ان دونوں کے درمیان حارث آنکھیں موندے سو رہا تھا۔ اس کا دایاں ہاتھ ہاشم کے ہاتھ میں تھا۔
ایسا کیا غلط کہہ دیا ہے میں نے؟ وہ جی بھر کر کوفت کا شکار ہوئی۔
تم پاگل ہو گئی ہو۔ تمہارے حواس جواب دے گئے ہیں۔ حیرت کی جگہ اب جھنجھلاہٹ نے لے لی تھی۔
حواس تو تمہارے جواب دے گئے ہیں۔ میں تمہیں ایک سیدھا سادہ سا حل بتا رہی ہوں اس سارے مسئلے کا۔ تم روز کے چوبیس گھنٹے بھی کام کرو تو اس رقم کے آدھے لیراز بھی اکھٹے نہیں ہوں گے۔ جو ہمیں حارث کی سرجری کے لیے چاہئیں۔ اور ایسے مت دیکھو مجھے۔ آخر میں وہ خفا ہو کر بولی۔
عبدالرحمن مجھے جان سے مار دے گا۔ وہ اس کی لڑکی ہے۔
اور عبدالرحمن کو کون بتائے گا؟ وہ تو مہینہ بھر پہلے انڈیا چلا گیا تھا۔ تم نے خود ہی مجھے بتایا تھا۔ وہ چمک کر بولی۔ نیم روشن کمرے میں سبز بلب کی مدھم روشنی اس کے چہرے کو عجیب سا تاثر دے رہی تھی۔
وہ انڈیا گیا ہے، مر نہیں گیا۔ جو اسے کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ وہ مجھے جان سے مار دے گا سلمیٰ۔
تو پھر تم اپنی جان سنبھال کر بیٹھے رھو اور حارث کو مرنے کے لیے چھوڑ دو۔ غصے سے کہتی اٹھ کر چادریں تہہ کرنے لگی۔
سلمٰی۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ اب کے وہ تذبذب سے بولا تھا۔
تو تم کر کیاسکتے ہو؟ تم نے کیا کیا ہے حارث کے لیے؟
میرا بیٹا مجھے بہت پیارا ہے۔ اس نے سوتے ہوئے حارث پہ اک نظر ڈالی۔ مگر وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے۔
میں بھی تو کسی کی بیٹی تھی، مجھے اس ڈربے میں لا کر پل پل مارنے سے پہلے تم نے سوچا؟ وہ چادر کا گولا بنا کر ایک طرف پھینکتی جارحانا انداز میں اس کی طرف آئی۔ تم مرد ہو کر ڈرتے کیوں ہو؟
تم عبدالرحمن کو نہیں جانتی۔
میں بس اتنا جانتی ہوں کہ اگر میرا بیٹا مر رہا ہے تو اس کا زمہ دار عبدالرحمن پاشا ہے۔ اگر وہ تمہیں تمہاری مطلوبہ رقم دے دیتا تو ہم کبھی یہ کرنے کا نا سوچتے۔ کوئی کمی تو نہیں اس کو پیس کی۔ پھر بھی اس نے ہاتھ روک کر رکھا ہوا ہے۔ اب یا تم اس کا خیال کر لو، یا اپنے بیٹے کا۔ فیصلہ تمہارا ہے۔ سلمیٰ کے نقوش مدھم روشنی میں بگڑے بگڑے دیکھائی دے رہے تھے۔ اس وقت یوں تیز تیز بولتی وہ میک بتھ کی چوتھی جادوگرنی لگ رہی تھی۔
ہاشم متذبذب سا اسے دیکھے گیا۔ وہ جو کہہ رہی تھی وہ اتنا مشکل تو نہ تھا۔ مگر۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: