Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 21

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 21

–**–**–

وہ جہان کے ساتھ سیدھی اس کے گھر آئی تھی، پھر
کھانا کھا کر اس نے اجازت چاہی۔ اس کا سارا سامان سبانجی کے ڈورم میں رکھا تھا اور جس افراتفری میں وہ گئی تھی، سوائے چند چیزوں کے کچھ بھی نہیں اٹھایا تھا۔ پھوپھو نے اصرار کیا کہ وہ اسپرنگ بریک ختم ہونے تک ان کے پاس رک جائے مگر وہ کل آنے کا وعدہ کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں تو پھر کہوں گی کہ رک جاؤ۔ پھوپھو ذرا خفا تھیں۔
“پھپھو! میں کل آؤں گی ناں پرامس۔ اب چلتی ہوں۔”
“ٹھیک ہے مگر کل ضرور آنا۔” جہان ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل سے اٹھا۔ اس کی آنکھیں اور ناک گلابی پڑ چکے تھے۔ سردو گرم علاقوں کے مابین سفر کا موسمی اثر تھا کہ استنبول پہنچتے پہنچتے اس کا فلو بخار میں بدل گیا تھا۔
“آؤ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں۔”
“صرف ٹاقسم تک چھوڑنا۔ آگے سے میں گورسل پکڑ لوں گی۔”
“میں سبانجی تک چھوڑ دوں گا٬ نو پرابلم۔” وہ چابی پکڑے، جیکٹ پہنتے ہوئے بولا۔
“نہیں اس بخار میں تم سے پینتالیس منٹ کی ڈرائیونگ کروائی تو پینتالیس دن تک تم جتاتے رہو گے۔ ویسے بھی مجھ پر تمہارے احسان بہت جمع ہو گئے ہیں، اتنے سارے، کیسے اتاروں گی ؟” وہ اس کے سامنے سینے پہ بازو لپیٹے کھڑی مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
“اتارنے کے لئے کس نے کہا ہے۔”
وہ ذرا سا مسکرا کر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ اس کی پشت کو دیکھے گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہان کا رویہ اس کے ساتھ نرم پڑتا جا رہا تھا۔ پاکستان میں پہلے دو دن تو وہ لاتعلق رہا، شاید اس لئے کہ دونوں کو ٹھیک سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا مگر پھر اس نے خود ہیں کچھ محسوس کیا تھا، تب ہی وہ خود آگے بڑھا اور ان کے درمیان کھڑی سرد دیوار ڈھا دی لیکن کیا وہ اس کے لئے وہ محسوس کرتا تھا، جو وہ اس کے لئے کرتی تھی؟ کیا اسے ان کا وہ بھولا بسرا رشتہ یاد تھا جس کے متعلق اس گھر میں کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ ابھی کچھ دن وہ اس کے گھر رہے گی تو ان سارے سوالوں کے جواب جاننے کی ضرور کوشش کرے گی۔ اس نے تہیہ کر لیا تھا۔
ٹاقسم اسکوائر کا مجسمہ آزادی اسی طرح تھا، جسے وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ مجسمے کے گرد گول چکر میں اگی گھاس پہ سرخ، سفید اور زرد ٹیولپس کھلے تھے۔ ہر جگہ سالانہ ٹیولپ فیسٹول کے پوسٹرز بھی لگے تھے، جو ہر سال کی طرح اس موسم بہار میں بھی استنبول میں منعقد ہونا تھا۔ ٹیولپ کا پھول استنبول کا “سمبل” تھا، مگر ان کی دلفریب مہک میں ڈوبا ٹاقسم اسکوائر حیا کو خزاں آلود لگا تھا۔ وہ بہار اب وہاں نہیں تھی، جیسے ڈی جے نہیں تھی۔
“تم جا رہی ہو، حالانکہ میں چاہتا تھا تم کچھ دن ہمارے گھر رہو۔” گاڑی روکتے ہوئے جہان نے چہرہ اس کی طرف موڑے سنجیدگی سے کہا۔
“میں کل آجاؤں گی مگر کل تک میں سبانجی، اپنا ڈورم بلاک، جھیل اور ہر جگہ جہاں میں اور ڈی جے اکٹھے گئے تھے، ایک دفعہ پھر دیکھنا چاہتی ہوں۔” اکیلے، بالکل اکیلے۔۔۔۔۔۔ میں ان بیتے لمحوں میں پھر سے جینا چاہتی ہوں۔”
“مت کرو۔ تمہیں تکلیف ہو گی۔”
“بہت تکلیف سہہ لی، اب اس سے زیادہ تکلیف مجھے نہیں مل سکتی۔” اس نے بھیگی آنکھ کا کونا انگلی کی نوک سے صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔
“اوکے!” اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔ اس کے چہرے پہ ابھی تک نقاہت تھی۔ وہ واقعی بیمار لگ رہا تھا۔
جہان چلا گیا اور وہ مجسمہ آزادی کے گرد اگی گھاس کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ وہ گھاس کا گول قطعہ اراضی دراصل یوں تھا، جیسے کوئی چپٹا رکھا گول سا سبز پھول ہو جس کی سبز پتیاں بنی ہوں، اور پتی کے درمیان ایک سیدھی روش تھی جو مجسمے تک لے جاتی تھی۔
ٹاقسم کے ہر پھول، ہر پتھر اور ہر بادل پہ جیسے یادیں رقم تھیں۔ وہ اس کا اور ڈی جے کا زیرو پوائنٹ تھا۔ مین سٹاپ۔ تقریبا ہر دوسرے دن وہ ادھر آتی تھیں، گورسل انہیں یہیں جو اتارا کرتی تھی۔ یہاں سے آگے وہ عموما میٹرو ٹرین پکڑ لیا کرتی تھیں۔ اس اسکوائر کا چپہ چپہ انہیں یاد تھا اور ڈی جے کے بغیر سب کچھ ادھورا تھا۔
اور اس طرف استقلال اسٹریٹ تھی۔ وہاں سے کی گئی ان کی ڈھیروں شاپنگ جو رائیگاں چلی گئی۔ استقلال اسٹریٹ آج بھی وہی تھی، بہت طویل، نہ ختم ہونے والی۔۔۔۔۔۔۔ مگر زندگی ختم ہو گئی تھی-
گورسل کی کھڑکی کے شیشے کے پار وہ باسفورس کا عظیم الشان سمندر دیکھ رہی تھی۔ وہاں سے ایک فیری گزر رہا تھا۔ اسے یاد تھا جب پہلی دفعہ ان دونوں نے اسی جگہ پل پار کرتے ہوئے نیچے فیری تیرتا دیکھا تھا تو وہ تو خوشی اور جوش سے پاگل ہی ہو گئی تھیں۔ وہ کبھی بحری جہاز میں نہیں بیٹھی تھیں اور صرف اسے دیکھ کر ہی وہ پرجوش ہو گئی تھیں، پھر فیری وہیں رہ گیا اور زندگی ختم ہو گئی۔
دوپہر کی ٹھنڈی ٹھنڈی دھوپ سبانجی کے درودیوار پر پھیلی تھی۔ ڈروم بلاکس تقریباً ویران پڑے تھے۔اسپرنگ بریک ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں اور اسٹوڈنٹس اپنے اپنے ٹورز پہ تھے۔ اسے کسی کو اطلاع دینے کا ہوش نہیں تھا، مگر پاکستان روانگی والے دن جانے ہالے کو کسی نے بتایا اور پھر سب کے فون آنے لگے تھے۔ متعصم، حسین، ٹالی، س­ارہ، لطیف، انجم باجی سب اسے برابر فون کر رہے تھے، مگر وہ سب یقیناً ابھی واپس نہیں آۓ تھے۔
وہ اپنے ڈورم بلاک کا گول چکر کھاتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ جب وہ سبانجی آئی تھیں تو ان سیڑھیوں پہ برف جمی ہوئی تھی۔ اب وہ برف بہار لے گئی تھی۔ اس نے گردن اوپر اٹھا کر بالکونی کے بلب کو دیکھا اور پھر اداسی سے مسکرا دی۔ کتنا ڈر گۓ وہ اپنے پہلے دن جب یہ بب خودبخود جل گیا تھا کہ پتا نہیں یہاں کون سے جن بھوت ہیں۔
“نکلے ہم وہی٬ پاکستان کے پینڈو” ہالے کے یہ بتانے پر کہ یہ ٹیکنالوجی کا کرشمہ ہے٬ ڈی جے اس کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر افسوس کرتی رہی تھی۔
اس نے ڈورم کا لاک کھولا۔
کمرہ سنسان پڑا تھا۔ صاف ستھرے بنے ہوۓ بستر٬ میز پہ ترتیب سے رکھی چیزیں، ڈی جے کے بینک کی میز البتہ خالی تھی۔ اس کی ساری چیزیں حیا نے اس کے بھائی کو پیک کر کے دی تھیں۔
وہ کھڑکی میں آکھڑی ہوئی اور سلائیڈ کھولی۔
“گڈ۔۔۔۔۔گڈما۔۔۔۔۔۔۔” اس نے کہنا چاہا مگر آواز گلے میں اٹک گئی۔ آنسوؤں نے اس کا گلا بند کر دیا تھا۔ دور کہیں کسی بلاک سے ڈی جے کو جواب دینے والے لڑکے نے اتنے دن غیر حاضری پہ کچھ تو سوچا ہوگا٬ مگر شاید وہ خود بھی اسپرنگ بریک پہ ہو۔ اب وہ آۓ گا تو اسے کوئی آواز نہیں آۓ گی۔ اسے کیا معلوم کہ اب ساری آوازیں ختم ہو گئیں۔
“گڈ مارننگ ڈی جے!” اس نے کھڑکی میں کھڑے بھیگی، بےحد مدہم آواز سے ڈی جے کو پکارا۔ آنسو اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر چہرے پر لڑھک رہے تھے۔
جواب نہیں آیا تھا۔ اب جواب کبھی نہیں آنا تھا۔
وہ پلٹ کر اپنے بینک کی طرف آئی اور شانے سے پرس اتار کر اپنی میز پر رکھا٬ پھر زپ کھول کر اندر سے لکڑی کا وہ چھوٹا سا ڈبا نکالا۔ اس کا جواب بھی اسے ڈھونڈنا تھا۔
“اوہ حیا۔۔۔۔۔۔۔ تم کب آئیں؟” آواز پہ وہ چونک کر پلٹی۔ کھلے دروازے میں معتصم کھڑا تھا اور راہداری سے گزرتے ہوئے اسے دیکھ کر حیرت سے رکا تھا۔
“آج ہی آئی ہوں۔ تم سب واپس آگۓ؟” اسے یک گونا گو طمانیت کا احساس ہوا۔ وہ ڈبا ہاتھ میں لیے اس کی طرف آگئی۔
“نہیں وہ سب تو ابھی کونیا میں ہیں۔ مجھے ذرا کام تھا، اس کے لیے آیا تھا” وہ دانستہ لمحہ بھر کو رکا۔ “مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ خدیجہ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا اچانک کیسے ہوا؟”
اللہ کی مرضی تھی معتصم! ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ بیری انیورزم پھٹے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اچانک سے انسان کولیپس کرتا ہے اور اچانک مر جاتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو چند روز قبل درد شروع ہوتا ہے، ڈی جے کو بھی ہوا تھا مگر اس نے میگرین سمجھ کر نظر انداز کیے رکھا اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سب ختم ہو گیا۔”
“دوستوں کو کھونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔” وہ دونوں اسی طرح چوکھٹ پہ کھڑے تھے۔
میں تو تب سے یہی سوچ رہی ہوں معتصم! کہ زندگی اتنی غیر یقینی چیز ہے؟ ایک لمحے پہلے وہ میرے ساتھ تھی اور اگلے لمحے وہ نہیں تھی۔ موم بتی کے شعلے کی طرح بے ثبات زندگی جو ذرا سی پھونک سے بجھ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لمحے بھر کا کھیل؟
یہی اللہ تعالیٰ کا ڈیزائن ہے حیا اور ہمیں اسے قبول کرنا پڑے گا۔ یہ کیا کوئی پزل باکس ہے؟ وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے ڈبے کو دیکھ کر ذرا سا چونکا۔
اس نے ناسمجھی سے ڈبہ اس کی طرف بڑھایا۔
چائنز پزل باکس؟ تم نے یہ کہاں سے لیا؟ وہ ڈبہ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
کسی نے دیا ہے مگر میں اسے کھول نہیں پا رہی۔ کیا تم اسے کھول سکتے ہو؟ اس نے پر امید نگاہوں سے معتصم کو دیکھا۔
میں اسے دیکھتا ہوں، ٹھہرو۔ وہ اس کا اوپر نیچے سے جائزہ لے رہا تھا۔ یہ قدیم چائینز پزل باکس کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ اس کے اوپر عموما کوئی پزل بنا ہوتا ہے، جس کو سالو کرنے سے یہ کھلتا ہے یا پھر کوئی پانچ حرفی الفاظ لگانے سے۔ ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے جیسے اچنبھا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانچ نہیں، اس پر تو چھ حروف درج ہیں۔ اس طرح کی چیزوں پہ ہمیشہ پانچ حروف ہوتے ہیں، مگر شاید اس کا جواب کوئی خاص لفظ ہو جس پہ چھ حروف ہی پورے آتے ہوں۔
مگر اب یہ کھلے گا کیسے؟ وہ بے چینی سے بولی۔
یہ تو جس نے دیا ہے، اسی کو۔۔۔۔۔۔ وہ رکا اور اوپر لکھی سطر کو پڑھنے لگا۔
ایک ہی دریا میں کوئی شخص دو دفعہ نہیں اتر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا! تمہارا واسطہ کسی سائیکو سے پڑ گیا ہے۔ یہ ایک پہیلی ہے اور اسے حل کرنا ہے۔
اور اس نے کہا تھا کہ یہ صرف میں ہی حل کر سکتی ہوں اور اگر اسے توڑا تو یہ میرے کسی کام کا نہیں رہے گا۔
یعنی وہ چاہتا ہے کہ تم دماغ استعمال کرو۔ ویسے یہ فقرہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس سطر پر انگلی پھیرتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ یہ فقرہ مجھے کچھ سنا سنا لگ رہا ہے۔ شاید۔۔۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔ وہ جیسے یاد کرنے لگا۔ اس دن، جب ہم جیو انفارمیشن کی کلاس میں لکھ لکھ کر باتیں کر رہے تھے، تب شاید پروفیسر نے یہ بولا تھا۔
نہیں، مجھے تو ایسا کچھ یاد نہیں ہے۔
پتا نہیں۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ انسان کی یاداشت چیزوں کو بہت ریلیٹ کرتی ہے۔ ہمیں ایک چیز کو دیکھ اس سے متعلقہ چیز یاد آ جاتی ہے۔
خیر! جو بھی ہے، تم فکر نا کر، ہم اس کا کوئی حل نکال ہی لیں گے۔ ابھی تو میں کام سے جا رہا ہوں، دیر سے آؤں گا۔ تم دروازہ اچھی طرح لاک کر لینا، آج کل ڈورم بلا ک تقریبا خالی ہے۔ ٹھیک ہے؟
اس کے یوں خیال کرنے پر وہ زیر لب مسکرا دی۔
وہ چلا گیا تو اس نے واقعی میں کمرہ اچھی طرح لاک کر لیا۔
سبانجی اتنی ویران تھی کہ اسے انجانا سا خوف محسوس ہوتا رہا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر اسے سب کچھ معمول کے مطابق ہی نظر آتا تھا، مگر کچھ تھا جو اسے بے چین کیے ہوئے تھا۔
رات بہت دیر تک لیٹے لیٹے وہ پزل باکس کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے، انگوٹھے سے حروف تہجی کی سلائیڈ اوپر نیچے کرتی رہی۔ اس نے حروف کے کئی جوڑے بنائے مگر وہ مقفل رہا۔اسے نیند نے کب گھیرا، اسے علم ہی نہیں ہوا۔ پزل باکس اس کے گرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف لڑھک گیا۔ وہ اب بھی ویسا ہی تھا۔ سرد، جامد اور مقفل۔
••••••••••••••••••••
صبح وہ دیر سے اٹھی۔ ناشتا کر کے رات والے شکن آلود لباس پر ڈھیلا سا سوئیٹر پہنے، بالوں کو جوڑے میں باندھتی وہ نیچے آ گئی۔اس کا رخ یونی ورسٹی میں فوٹو کاپئیر کی طرف تھا۔ وہاں سے اس نے کچھ نوٹس کئی روز پہلے فوٹو اسٹیٹ کروائے تھے۔اور انہیں اٹھانے کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا۔
صبح کی چمکیلی مگر ٹھنڈی ہوا سبانجی کے سبزہ زار پہ بہہ رہی تھی۔ وہ فوٹو کائپیر کے پاس آئی، اپنے نوٹس اٹھائے، سبانجی کے کارڈ سے ادائیگی کی اور پھر واپس جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ اسے ایک میز پہ رکھا لاوارث سا رجسٹر نظر آیا۔ رجسٹر جانا پہچانا تھا۔ اس نے پہلا صفحہ پلٹا اور اس پر بڑا بڑا DJ لکھا تھا۔
اوہ ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اداس مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی۔ ڈی جے کا نسیان۔ وہ ہمیشہ اپنا رجسٹر فوٹو کائپیر پر چھوڑ جایا کرتی تھی۔ اس نے رجسٹر اٹھا لیا۔ وہ اب اس کا تھا۔ باقی چیزیں تو وہ ڈی جے کی فیملی کع دے چکی تھی، مگر اس کی ایک یادگار سنبھالنے کا حق تو اسے بھی تھا۔
وہ باہر آ گئی اور گھاس پہ بیٹھ کر ڈی جے کے رجسٹر کے صفحے پلٹنے لگی۔ وہ اس کا رف رجسٹر تھا، جسے وہ زیادہ تر لکھ لکھ کر باتیں کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی اور ایسی باتیں عموما وہ آخری صفحے پہ ہی کیا کرتی تھیں۔ اس نے آخری صفحہ پلٹا تو دھیرے سے مسکرا دی۔
اس روز جیو انفارمیشن کی کلاس میں ان کی اور فلسطینیوں کی اسپرنگ بریک کی پلاننگ اس پہ لکھی تھی۔ وہ بہت محبت سے ڈی جے کے لکھے الفاظ پر انگلی پھیرتی انہیں پڑھ رہی تھی، جب ایک دم رک گئی۔
رجسٹر کے اس آخری صفحے کے اوپر بڑا بڑا کر کے ڈی جے کی لکھائی میں لکھا تھا
Into the same river
no man can enter twice.
Heraclitus (535-475 BC)
(ایک ہی دریا میں کوئی شخص دو دفعہ نہیں اتر سکتا)(ہراقلیطس ٥٣٥-٤٧٥ قبل از مسیح)
وہ بالکل شل سی، سانس روکے، تحیر سے اس سطر کو دیکھ رہی تھی۔ کیا یہ پزل باکس اسے DJ نے بھیجا تھا؟
جب تک آپ اسے کھول پائیں گی، شاید وہ اس دنیا میں نہ رہے۔
وہ ایک دم رجسٹر لیے اٹھ کر ڈورم کی طرف بھاگی۔
اسے متعصم کو ڈھونڈنا تھا۔
•••••••••••••••••••••••
ہراقلیطس۔۔۔۔۔۔۔ یونانی فلسفی۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد آ گیا۔ معتصم نے وہ سطر پڑھتے ہوئے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔ یہ ہراقلیطس کا ایک قول ہے، جیسے تم نے اس کے دوسرے اقوال سنے ہوں گے، مثلاََ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ یاد کر کے بتانے لگا۔ کتے اسی پہ بھو نکتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے ہوتے یا انسان کا کردار اس کی تقدیر ہوتا ہے۔ وہ انگریزی کے مشہور اقوال بتا رہا تھا۔
ہاں بالکل! حیا نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ اس نے ان میں سے کوئی بھی قول نہیں سن رکھا تھا۔
تو ثابت ہوا کہ ہم اس پزل کے ٹھیک راستے پر چل نکلے ہیں۔ اور اس راستے پر اس شخص نے یقیناََ بریڈ کرمبز گرائے ہوں گے۔ اب ہمیں ایک ایک کر کے ہنسل اور گریٹل کے ان بریڈ کورمبز کو چننا ہے۔
شش! دور بیٹھی لائبریرین نے کتاب سے سر اٹھا کر عینک کے پیچھے سے ان کو ناگواری سے ٹوکا، وہ دونوں اس وقت لائبریری میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
سوری میم! حیا نے گردن موڑ کر ایک معذرت خواہانہ مسکراہٹ ان کی طرف اچھالی اور واپس پلٹی۔
اچھا اب کیا کرنا ہے؟ وہ دھیمی سرگوشی میں پوچھ رہی تھی۔ اگر اس نے ہراقلیطس کا ایک قول ڈبے کے اوپر لکھا ہے تو یقینا اس کے کوڈورڈ کا تعلق اسی قول سے ہو گا۔
یا پھر شاید ہراقلیدس کی ذات سے۔ ٹہھرو! میں ایک منٹ میں آیا۔ وہ اٹھا اور چند لمحے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے دونوں ہاتھوں میں موٹی موٹی کتابیں اوپر نیچے پکڑ رکھی تھیں۔
یہ رہا ہراقلیطس کا اعمال نامہ۔ اس نے دھپ کی آواز کے ساتھ کتابیں میز پر رکھیں۔
لائیبریرین نے چہرہ اٹھا کر اسے تلملا کر دیکھا۔
سو۔۔۔۔۔۔۔۔ری! وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہتا واپس کرسی پر بیٹھا۔
میں لاء کی اسٹوڈنٹ ہو کر فلاسفی کی اتنا موٹی موٹی کتابیں پڑھوں؟ یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ میں ہراقلیطس کو گوگل کر لیتی ہوں۔ لیپ ٹاپ ادھر دیکھاؤ۔ اس نے ساتھ رکھے معتصم کے لیپ ٹاپ کا رخ اپنی طرف گھمایا اور کی پیڈ پر انگلیاں رکھیں۔
اف! جب اتنے ڈھیر سارے نتیجے کھلے تو وہ بے زار سی ہو گئی۔ اسے جلدی سے کوئی جواب چاہیے تھا اور بس جلدی سے وہ باکس کھولنا تھا۔ اتنے لمبے لمبے ڈاکومنٹس کو پڑھنے کا حوصلہ اس میں نہیں تھا۔
ادھر لاؤ، میں پڑھ کر تمہیں مین پوائنٹس بتاتا ہوں۔
اس کی کوفت دیکھ کر معتصم نے لیپ ٹاپ اپنی طرف گھمایا اور پھر اسکرین پہ نگاہیں دوڑاتے پڑھنے لگا۔
ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہراقلیطس کا تعلق Asia Minor سے تھا۔ خاصا بد مزاج فلاسفر تھا۔ اپنے علاقے میں چیف پریسٹ بھی رہا تھا اور کافی خاندانی بھی تھا۔
بڑے بڑے فلسفیوں کو خاصی حقارت سے دیکھتا تھا۔ اس کے خیال میں ہیومر کو بھرے چوک میں لے جا کر درے مارنے چاہئیں اور Hesoid اتنا جاہل ہے کہ اسے دن رات کا فرق نہیں پتا۔ ہراقلیطس کے مشہور اقوال یہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گدھے سونے پر گھاس کر ترجیح دیتے ہی، کتے ہر اس شخص پہ بھونکتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے، اور۔۔۔۔۔
بس کر دو معتصم! ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ اس نے جھنجھلا کر لیپ ٹاپ کی اسکرین ہاتھ سے دبا کر فولڈ کر دی۔ معتصم ہنس دیا پھر اپنا موبائل نکالا۔
لطیف رات کو آ گیا تھا۔ اس کا ایک سائیڈ کورس فلاسفی ہے، اس کو بلاتا ہوں۔
لطیف کو ادھر آنے اور اس کو ساری بات سمجھنے میں پندرہ منٹ لگ گئے۔ اب وہ معتصم کی ساتھ والی نشست پر بیٹھا سوچتے ہوئے اس پزل باکس دیکھ رہا تھا۔ وہ کیتھولک اور خالصتا ڈچ تھا مگر افغانستان میں پیدائش کے وقت لطیف کے نام پر اس کا نام رکھا تھا اور چونکہ اس کو پہلی خوراک ایک مسلمان نرس نے دی تھی سو لطیف ذہنی اور اخلاقی طور پر ان فلسطینی لڑکوں جیسا ہی لگتا تھا۔
میں تو ہراقلیطس نامہ سن کر تنگ آ گئی ہوں، اور اس کے یہ کتوں، گدھوں اور۔۔۔۔۔۔۔ حیا نے باکس کی طرف اشارہ کیا۔ دریاؤں والے اقوال میری سمجھ سے تو باہر ہیں۔
ایک منٹ! لطیف چونکا۔ وہ کتوں اور گدھوں والے اس کے قول ہوں گے مگر یہ دریا والا صرف اس کا قول نہیں بلکہ اس کی مشہور زمانہ فلاسفی ہے۔ Flux فلاسفی۔ تم نے سن تو رکھی ہو گی؟
میں ہراقلیطس کا نام آج پہلی دفعہ سن رہی ہوں، کجا کہ اس کی فلاسفی۔
اونہہ۔ تم نے، بلکہ ہر کسی نے یہ فلاسفی سن رکھی ہے۔ یہ محاورہ تو تم جانتی ہو نا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے؟
ہاں! اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ لطیف آگے ہو کر بتانے لگا۔
یہ محاورہ دراصل ہراقلیطس کی اسی فلاسفی کا نچوڑ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص ایک ہی دریا میں دو دفعہ نہیں اتر سکتا، یعنی کہ جب انسان ایک دفعہ پانی میں قدم رکھ کر نکالتا ہے، تو وہ پانی آگے بہہ جاتا ہے، پانی اور انسان دونوں ہر لمحہ تبدیل ہوتے ہیں، وہ دوبارہ جغرافیائی لحاظ سے تو اسی دریا میں قدم رکھتا ہے مگر نہ وہ خود وہی پہلے والا انسان ہوتا ہے اور نہ وہ دریا پہلے والا ہوتا ہے۔ سمجھ آئی؟
ہاں! اس نے اثبات میں سر ہلایا اسے قطعا سمجھ نہیں آئی تھی۔
نہیں، تمہیں سمجھ نہیں آئی۔ دیکھو! جب استنبول میں پہلے دن تم نے باسفورس کا سمندر دیکھا تھا، تب وہ، وہ سمندر نہیں تھا، جو تم نے کل دیکھا۔ اب نہ تم وہ ہو اور نہ ہی سمندر وہی ہے۔ ہر چیز لمحہ بہ لمحہ بدل جاتی ہے۔ یہ ہے ہراقلیطس کی فلاسفی آف چینج؟
فلاسفی آف چینج! حیا نے اثبات میں سر ہلاتے باکس اٹھایا۔ اور تمہیں پتہ ہے، چینج میں پورے چھ حروف ہوتے ہیں۔
اوہ ہاں! متعصم نے ذرا جوش سے ڈیسک پہ ہاتھ مارا۔ ادھر ادھر ٹیبلز پر بیٹھے طلبا نے سر اٹھا کر دیکھا۔
لاسٹ ٹائم، ایکسچینج اسٹوڈنٹس! لائبریرین نے کڑی نگاہوں سے اسے دیکھتے انگلی اٹھ کر وارننگ دی۔ متعصم نے فعرا سر جھکا دیا۔
وہ دبے دبے جوش سے حروف کی سائیڈز اوپر نیچے کر رہی تھی، یہاں تک کہ اس نے پورا لفظ چینج لکھ لیا۔
اب یہ کھل جائے گا۔
مگر پزل باکس جامد رہا۔
اس کا مطلب ہےکہ پاس ورڈ کچھ اور ہے۔ اور وہ کچھ ایسا ہے جسے صرف تم کھول سکتی ہو۔ کچھ ایسا جو صرف تمہیں ہی معلوم ہو گا۔
حیا! تم ہراقلیطس کی میٹافزکس میں تو انٹرسٹڈ نہیں ہو؟ لطیف کچھ سوچ کر کہنے لگا۔
فی الحال تو میں ٹاقسم جانے میں انٹرسٹڈ ہوں۔ میرا خیال ہے میں تیار ہو جاؤں۔ وہ ہار مانتے ہوئے باکس لیے اٹھ گئی۔
ہم نے بھی ٹاقسم جانا ہے اور گورسل نکلنے میں ڈیڑھ گھنٹہ تو ہے۔ تم تیار ہو جاؤ تو اکٹھے چلتے ہیں۔
لکڑی کا وہ پزل باکس اس نے اپنے ڈورم کے لاکر میں رکھا، پھر اپنے کپڑے کھنگالنے لگی۔ جس افراتفری میں گئی تھی، یہ یاد کہاں تھا کہ لانڈری کو کپڑے نہیں دیے۔ اس وقت جو ایک واحد استری شدہ جوڑا ہینگر پہ لٹکا تھا وہ اس کا سیاہ فراک تھا جس کی اوپری پٹی سنہری سکوں سے بھری تھی۔ وہی جو وہ جہان کے استقلال اسٹریٹ میں دے گئے ڈنر پر پہن کر گئی تھی۔ فی الحال وہ پھوپھو سے پہلے اپنی ان میزبان انٹی کے گھر جا رہی تھی جنہوں نے پہلے روز ان کا کھانا کیا تھا۔ چونکہ وہ ایک طرح سے ڈی جے کے لئے ہی جا رہی تھی۔ سو یہ کام والا فراک مناسب نہیں تھا۔ لیکن وہ اوپر سیاہ کوٹ پہن لے گی تو کام چھپ جائے گا،اور نیچے س تو فراک سادہ ہی تھا۔ اس نے لباس بدل کر اپنے بال کیچر میں باندھے، پھر اپنے سنہری کلچ میں پاکستانی سلم سا موبائل ڈالا۔ کلچ چھوٹا سا تھا، اس میں ترک بھدا فون پورا نہیں آتا تھا، سو اس نے ترک فون کوٹ کی جیب میں رکھ دیا اور کلچ کی زنجیر کو ایک کندھے سے گزار کر دوسرے پہلو میں ڈال کر پڑی پن کے ساتھ فراک کی بیلٹ سےنتھی کر لیا۔ سنہری سکوں کے کام میں سنہری ستاروں والا پرس چھپ سا گیا تھا۔ کم از کم اب کوئی اس کا پرس چھین تو نہیں سکتا تھا نا۔
مسز عبداللہ کا پتہ اس کے پاس تھا۔ ہالے سے ان کا نمبر لیکر ان کو فون بھی کر دیا تھا۔ جب سے وہ ترکی آئی تھی، ان کے گھر پلٹ کر نہیں گئی تھی۔
اب اسے لازمی جانا چاہئے تھا۔
گورسل میں وہ درمیانی راستے والی نشست پر بیٹھی تھی۔ راستے کے اس طرف متعصم اور اس کے ساتھ لطیف بیٹھا تھا.۔ حیا کے بائیں جانب کھڑکی کے کے ساتھ والی نشت پہ ایک ترک لڑکی بیٹھی تھی۔
تمہارا فلوٹیلا فلسطین کب پہنچے گامعتصم؟ وہ سیاہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کی طرف گردن موڑ کر اس سے مخاطب تھی۔
جون میں پہنچ جائے گا۔
اسرائیلی اسے داخل تو ہونے دیں گے نا؟
امید تو ہے کیونکہ یہ فلوٹیلا ترکی کا ہے، اور اس میں بہت سے ممالک کے وفد بھی ہیں۔ جواب لطیف نے دیا تھا۔
اور اگر اسرائیلیوں نے ایسا نا ہونے دیا تو؟ آخر بنی اسرائیل سے کسی بھی چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔
“تو پھر یہ یاد رکھنا کہ جتنے بنی اسرائیل وہ ہیں، اتنے ہم بھی ہیں۔ وہ سامنے دیکھو! وہ اسرئیلی ایمبیسی ہے! معتصم کے اشارے پر ان دونوں نے گردنیں اونچی کر کے ونڈ اسکرین کے پار دیکھا، جہاں ایک جھنڈے والی عمارت دکھائی دے رہی تھی۔
“اگر فلوٹیلا غزہ نہ پہنچا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہ ایمبیسی دوبارہ استنبول میں نظر نہیں آئے گی- “
“میں تمہارے ساتھ ہوں -” لطیف نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
“می ٹو!” حیا نے فورا کہا۔
“می تھی!” پاس بیٹھی ترک لڑکی نے فورا انگلی اوپر کی۔ وہ بے اختیار ہنس دی۔
“ویسے معتصم! ٹالی کو اغوا کرنا زیادہ مناسب رہے گا نہیں؟” لطیف کی بات پر سب ہنس پڑے تھے۔ اسے یاد تھا، ڈی جے کو ان کی ٹالی سے دوستی کتنی بری لگتی تھی۔
ٹاقسم اسکوائر پر مغرب اتر رہی تھی اور ہر طرف اندھیرا سا چھا رہا تھا۔ اسکوائر کی بتیاں ایک ایک کر کے جلنے لگی تھی۔
“تم نے جدھر جانا ہے، ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اکیلی مت جاؤ۔” وہ دونوں بس سے اتر کر اس کے لیے رکے کھڑے تھے۔
“ترکوں کے ساتھ رہ کر تم بھی ترک بن گئے ہو۔ ان پرخلوص ترکوں سے راستہ پوچھو تو منزل تک پہنچا کر آتے ہیں۔”
“مادم! آپ کو پتہ ہونا چاہیے کے ان پرخلوص ترکوں کے اس ملک میں ہر سال تقریبا پانچ سو لڑکیاں اغوا کر کے آگے بیچ دی جاتی ہیں اور یہ ترکی کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔”
“اچھا اب ڈراؤ تو مت۔ مجھے تھوڑی دور ہی جانا ہے۔” وہ تینوں سڑک کے کنارے ساتھ ساتھ ہی چلنے لگے تھے۔
“تم اپنی آنٹی کے گھر جا رہی ہو؟”
“ہاں مجھے ابھی اپنی ہوسٹ آنٹی کے گھر بھی جانا ہے۔ کچھ دن بعد میں جب واپس آؤں گی تو اس پزل باکس کا حل ڈھونڈیں گے۔
وہ تینوں باتیں کرتے ہوئے ٹھنڈی ہوا میں ساتھ چل رہے تھے۔ مجسمہ آزادی ان کے پیچھے رہ گیا تھا۔
••••••••••••••••
لاؤنج میں سوگواریت سی چھائی تھی۔ مسز عبداللہ اور ان کی سرخ بالوں والی بیٹی مہر مغموم سی سامنے صوفوں پر بیٹھی تھیں۔ حیا کے صوفے سے ذرا دور کارپٹ پر مہر کی بیٹی عروہ کشن کا سہارہ لیے نیم دراز ریموٹ پکڑے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو پتا ہے، ہم دونوں ہر ہفتے آپ کی طرف چکر لگانے کا پلان بناتے تھے مگر ہر دفعہ کچھ نہ کچھ روک لیتا، اور اب۔۔۔۔۔۔۔” اس نے تاسف سے سر جھٹکا۔
“تم مجھے اسی روز بتا دیتیں تو۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم میں اسے دیکھ ہی لیتی۔ پھر کلیئرنس میں تمہاری مدد کروا دیتی۔ تم کتنی پریشان رہی ہو گی!”
“مجھے تو اپنی آنٹی کو بتانے کا بھی ہوش نہیں تھا، ایسا اچانک دھچکا لگا کہ۔۔۔۔۔۔” اس نے فقرہ ادھورہ چھوڑا اور سر جھکا کر انگلی کی پور سے آنکھ کا کنارہ پونچھا۔ مہر نے بہت فکر مندی سے اس کی طرف دیکھا۔
“تم بہت کمزور ہو گئی ہو پہلے سے حیا! اور تمہاری رنگت بھی کملا گئی ہے۔”
“بس۔۔۔۔۔۔۔ بخار ہو گیا تھا اور پھر سفر کی تھکان!” وہ اداسی سے مسکرائی۔ وہ واقعی بہت پژمردہ اور تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔
“میں ذرا کھانے کا کچھ کر لوں-” مسز عبداللہ اٹھیں تو وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔
“کھانا پھوپھو کی طرف ہے۔ میں بس چائے پیوں گی-“
“پھر مجھے صرف دس منٹ دو۔” وہ عجلت سے کہتی کچن کی طرف بڑھ گئیں۔ مہر بھی ان کے پیچھے جانے کے لیے اٹھی، پھر عروہ کو دیکھا۔
“عروہ! تم حیا کو کمپنی دو اور فار گاڈ سیک عروہ! جب کوئی مہمان آتا ہے تو ٹی وی نہیں دیکھتے-” اس نے جاتے جاتے بچی کو خفگی سے گھورا- عروہ گڑ بڑا کر سیدھی ہوئی اور مڑ کر حیا کو دیکھا، پھر سادگی سے مسکرا دی-
“سوری!”
“کوئی بات نہیں۔ تم بے شک کارٹون دیکھ لو- میں بور نہیں ہوں گی- ویسے کون سا کارٹون ہے یہ؟ اسے کارٹون ذرا شناسا لگے تو آنکھیں سکیڑ کر اسکرین کو دیکھنے لگی۔
“کیپٹن پلینٹ۔ Captain Planet آپ نے دیکھے ہیں کبھی؟” عروہ دبے دبے جوش سے بتاتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی-
“ارے! یہ کیپٹین پلینٹ ہیں؟ میرے فیورٹ” وہ ایک دم خوشی سے کہتی صوفے کی نشست پر آگے کو ہوئی-
“مجھے یہ بہت پسند ہیں، اور لنڈا تو بہت زیادہ۔۔۔۔
عروہ! میری تو جان تھی کیپٹن پلینٹ میں- میں بچپن سے ہی ان کی بہت جنونی فین رہی ہوں- جب یہ سارے پلینٹرز اپنی اپنی انگھوٹھیاں فضا میں بلند کر کے فائر، ارتھ، ونڈ، واٹر چلاتے تھے تو میرے اندر اتنی انرجی بھر جاتی کہ مجھے لگتا میں بھی اڑنے لگوں گی-“
وہ چھوٹے بچوں سے کبھی بھی اتنی بے تکلف نہیں ہو پاتی تھی، مگر یہاں معاملہ کیپٹن پلینٹ کا تھا-
“پھر میرے ابا نے مجھے سمجھایا کہ آگ، مٹی، ہوا اور پانی ہمارے اس سیارے کو بنانے والے چار ایلیمنٹس ہیں- تب پہلی دفعہ مجھے ان چار یونانی عناصر کا پتہ چلا تھا – “
“ہاں مجھے پتا ہے۔ ماما نے مجھے بتایا تھا کہ یہ یونانی عناصر ہیں-“
“مجھے بھی تب ہی ابا نے بتایا تھا کہ کس طرح یونانی فلسفیوں نے یہ چار عناصر باری باری پیش۔۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے ایک دم رکی- لمحے بھر کو اس کے اندر باہر بالکل سناٹا چھا گیا-
“یونانی عناصر!” اس نے بے یقینی سے زیر لب دہرایا- اسے یاد تھا، یہ عناصر یونانی فلسفیوں نے پیش کیے تھے- کسی نے کہا دنیا پانی سے بنی ہے، کسی نے کہا ہوا سے۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ عنصر اس فلسفی کی پہچان بن گیا-
“ہراقلیطس کا عنصر کون سا تھا؟” وہ خود سے پوچھتی جیسے چونک اٹھی- عروہ منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی-
“عروہ! مجھے نیٹ چاہیے، ابھی، اسی وقت!” وہ بے چینی سے بولی تو عروہ سر ہلا کر اٹھی اور صوفے پر سے ایک آئی پوڈ اٹھا کر اسے دیا۔
“یہ ممی کا آئی پوڈ لے لیں-“
“تھینکس!” اس نے آئی پوڈ پکڑ کر اس کا گال تھپتھپایا اور جلدی جلدی گوگل کھولنے لگی-
تقریبا آدھ گھنٹے بعد جب وہ ان سب کو خدا خافظ کر کے باہر آئی تو سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اس نے کوٹ سے اپنا ترک فون نکالا اور تیزی سے معتصم کا نمبر ڈائل کرنے لگی-
“حیا! خریت؟” وہ فون اٹھاتے ہی ذرا فکر مندی سے بولا تھا-
“معتصم! تمہیں پتہ ہے یونانی فلسفیوں نے زمین کی تحقیق کی وضاحت کرنے کے لیے کچھ عناصر پیش کیے تھے کہ زمین ان سے مل کر بنی ہے؟” چند لمحے کی خاموشی کے بعد وہ آہستہ سے بولا-
“حیا میرے خیال سے کہ تم ذرا تھک گئی ہو، تھوڑا سا ریسٹ کر لو، اس کے بعد تم نارمل ہو جاؤ گی-“
“معتصم!” اس نے جھنجھلا کر زور سے کہا- “میں سنجیدہ ہوں- میری بات سنو! ہم خوامخواہ اس نیم پاگل آدمی کی سوانح عمری پڑھ رہے تھے- ہمیں اس کی فلاسفی چاہیے تھی- اس دور کے ہر فلسفی نے اپنا ایک عنصر پیش کیا تھا اور اس کے خیال میں زمین کی ہر چیز اس عنصر سے بنی تھی- کسی نے کہا وہ پانی ہے، کسی نے کہا ہوا اور یوں ان چاروں، بلکہ پانچوں عناصر کی فہرست مرتب ہوئی تھی۔ہراقلیطس کا عنصر “آگ” تھا اور یہی اس کی پہچان تھا-“
“فائر؟”
“ہاں، فائر ہراقلیطس کی دائمی آگ- اس نے آگ کی بنیاد پر اپنی فلاسفی آف چینج پیش کی تھی۔ معتصم۔۔۔۔۔۔ معتصم انسان ایک دریا میں دو دفعہ کیوں نہیں اتر سکتا؟ کیونکہ انسان اور دریا، دونوں ہراقلیطس کے خیال میں آگ سے بنے تھے اور دنیا میں سب سے زیادہ تبدیل ہونے والی چیز آگ ہے جو ہر لمحہ بدلتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور جو ہر ہر چیز کو بدل دیتی ہے۔ اس پزل باکس پہ لکھی بات ایک ہی لفظ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو ہے “فائر”۔ وہ کالونی کے سرے پر کھڑے ہو کر فون پر کہہ رہی تھی۔ رات بڑھ رہی تھی اور اسٹریٹ پولز جل اٹھے تھے۔
مگر حیا! فائر میں تو چار حروف ہوتے ہیں۔ یہ کوڈ کیسے ہو سکتا ہے؟”
“یہ کوڈ ہے بھی نہیں، اس کا مطلب ہے آگ، اصلی والی آگ، ” ٹالی کا لائٹر ” اسرائیلی آگ، یاد ہے تمہیں؟”
“او مائی!” اسے ایک لمحہ لگا تھا سمجھنے میں- ” تمہارا مطلب ہے کہ اس نے آگ کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ۔۔۔۔۔ کیونکہ اس خط کی طرح اس باکس پر بھی کچھ لکھا ہو گا جو۔۔۔۔۔۔۔۔
“جو صرف آنچ دکھانے سے ظاہر ہو گا۔ ” اس نے مسکرا کر کہتے ہوئے اس کی بات مکمل کی۔
“حیرت ہے، یہ خیال مجھے کیوں نہیں آیا؟”
“کیونکہ تم کافی تھک گئے ہو، ذرا آرام کرلو، پھر تم نارمل ہو جاؤ گے۔ “
وہ جوابا ہنس دیا دیا۔
“چلو پھر تم رات کو واپس آؤ گی تو اس باکس کو کھولیں گے۔ “
“نہیں، میں آج رات واپس نہیں آؤں گی، میں آنٹی کی طرف رکوں گی۔”
“تمہاری اپنی آنٹی یا پھر وہ ہوسٹ آنٹی؟”
“میں۔۔۔۔ فقرہ اس کے منہ میں رہ گیا۔ کسی نے اس کے کان پہ لگا فون زور سے کھینچا تھا۔ اسے مڑنے یا چیخنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور کوئی سوئی کی نوک تھی جو اس کی گردن کے آر پار کہیں کھبی تھی۔لمحے بھر کا عمل تھا۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرے بادل چھانے لگے۔ دل و دماغ کے سن ہونے سے قبل جو آخری بات اس نے سوچی تھی، وہ یہ تھی کہ کوئی اسے پیچھےک طرف گھسیٹ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔
•••••••••••••••
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ بدقت پلکیں اوپر کو اٹھی تھیں، ان پر جیسے بہت بوجھ سا تھا۔
ہر سو اندھیرا تھا۔ گھپ اندھیرا۔ وہ ایسے پڑی تھی کہ کمر دیوار سے لگی تھی اور گھٹنے سینے سے۔ وہ جیسے ایک بہت تنگ و تاریک جگہ پر بہت سے سامان کے اندر کہیں پھنسی بیٹھی تھی۔
اس نے آنکھیں چند ایک بار جھپکائیں۔ منظر ویسا ہی رہا۔ اندھیرا، تاریکی، بس اتنا احساس ہوا کہ وہ کسی تنگ سے کمرے میں ہے، جہاں اس کے دونوں اطراف وزنی چیزیں رکھی ہیں۔
اس نے کہنیوں کے بل اٹھنا چاہا تو دائیں ہاتھ میں کھینچاؤ تھا۔ اس نے ہاتھ کھینچنا چاہا۔ ذرا سا لوہا کھنکا۔ اس کی دائیں کلائی میں ہتھکڑی ڈلی تھی اور وہ دیوار سے بندھی تھی۔ اس نے زور سے کلائی کو جھٹکا، مگر بے سود۔
اس کے سر اور کمر میں بے تحاشا درد ہو رہا تھا، جیسے کوئی چوٹ لگی ہو۔ بمشکل وہ اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے، دوسرے ہاتھ کے سہارے ذرا سی سیدھی ہو کر بیٹھی۔ بائیں جانب کوئی بوجھ سا اس کے اوپر گرنے لگا۔ اس نے آزاد ہاتھ سے اسے پرے دھکیلا تو وہ نرم سا بوجھ دوسری جانب ذرا سا لڑھک گیا۔
حیا نے گردن موڑی۔ درد کی ایک ٹیس بے اختیار اٹھی۔ اس کے لبوں سے کراہ نکلی۔ پیچھے دیوار لکڑی کے پھٹوں سے بنی تھی اور پھٹوں میں باریک سی درزیں تھیں۔ اب ذرا آنکھیں اندھیرے کی عادی ہوئیں تو اسے نظر آیا۔ ان درزوں سے رات کی تاریکی میں زرد سی روشنی جھانک رہی تھی۔ وہ بدوقت چہرہ اس درز کے قریب لائی اور آنکھیں سیکڑ کر جھانکا۔
باہر ہر سو سمندر تھا۔ سیاہ پانی جو رات کے اس پہر زرد روشنیوں میں چمک رہا تھا۔ پل کی روشنیاں۔ ہاں، وہ پل ہی تھا۔ وہ باسفورس کے سمندر پر بنے اس پل کے آس پاس ہی کہیں تھی۔ مگر وہ باسفورس برج نہیں تھا، وہ ذرا مختلف لگ رہا تھا، شاید وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
بائیں طرف موجود بوجھ پھر سے اس پر لڑھکنے لگا۔ اس نے کوفت سے اسے پرے دھکیلا تو اس کا ہاتھ نم ہو گیا۔ وہ نم ہاتھ چہرے کے قریب لائی اور دور سے آتی روشنی میں دیکھنا چاہا۔ اسے نمی کا رنگ تو نظر نہیں آیا مگر بو۔۔۔۔ وہ خون تھا۔
وہ متوخش سی ہو کر ہاتھ اپنے کپڑوں سے رگڑنے لگی۔ اس کا کوٹ اس کے جسم پہ نہیں تھا۔ جو واحد خیال اسے اس وقت آیا تھا۔ وہ بہت تکلیف دہ تھا۔
عبدالرحمن پاشا نے اغوا کروا لیا تھا۔
زور زور سے وہ اپنا ہاتھ سنہری سکوں سے رگڑ رہی تھی، جب اس کی انگلیاں ذرا بھاری سی چیز سے ٹکرائیں۔ وہ ٹھہر گئی اور اسے ٹٹولا۔
اس کا چھوٹا سنہری کلچ جو فراک کی بیلٹ کے ساتھ نتھی تھا۔ اس کے سر میں درد سے ٹیس اٹھ رہی تھیں۔ ذہن میں اپنی پھوپھو کی آخری گفتگو گونج رہی تھی۔ اس نے شام میں انہیں یقین دلایا تھا کہ رات کھانے پر وہ ان کے ساتھ ہو گی۔ اب جانے کون سا وقت تھا، پھوپھو نے اس کا انتظار کیا ہو گا اور اسے نہ پا کر۔۔۔۔۔۔ کیا ان کے ذہن میں آیا ہو گا کہ وہ اغوا ہو گئی ہے؟
اس نے اپنے آزاد ہاتھ سے کلچ کھولا۔ اندر اس کا پتلا سا پاکستانی فون رکھا تھا۔ انھوں نے اس کا فون کیوں نہیں لیا، وہ سمجھ گئی تھی۔ اس کا ترک فون کھینچ کر انھوں نے سمجھا ہو گا کہ وہ اسے رابطے کے ہر ذریعے سے محروم کر چکے ہیں اور فراک کے ساتھ نتھی کلچ پر ہم رنگ ہونے کے باعث کسی نے غور نہیں کیا ہو گا۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ اس کے پاس دو فون تھے۔ مگر عبدالرحمن پاشا کو تو معلوم تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اسکرین کو چھوا تو وہ روشن ہو گئی۔ بند کمرے میں مدھم سی سفید روشنی جل اٹھی۔ اس موبائل میں مہوش کی مہندی والے روز ہی اس نے بیلنس ڈلوایا تھا اور یہ پاکستانی نمبر تھا۔ جس کی رومنگ آن تھی۔ معلوم نہیں کتنے پیسے بچے تھے، ایک کال کے تو ہوں گے۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ بیلنس چیک کیا۔ اس میں اتنے ہی پیسے تھے کہ وہ ترکی کے کسی نمبر پر تیس سیکنڈ کی کال کر سکتی بس۔ اتنی سی دیر میں بھی وہ جہان کو اپنی صورتحال سمجھا سکتی تھی۔
وہ جلدی جلدی فون بک نیچے کرنے لگی۔ “جے” میں جہاں کا نمبر نہیں تھا اس نے “سی” میں دیکھا۔ وہاں بھی نہیں تھا۔ وہ ذرا حیرت سے سبین پھوپھو کا نام تلاشنے لگی۔ ان کا نمبر بھی غائب۔ بس پاکستانی نمبر تھے۔
“کیوں؟” اس نے دکھتے سر کے ساتھ سوچنا چاہا اور تب ایک جھماکے سے اسے یاد آ گیا۔ یہ پاکستانی فون تھا اور ترکی کے سارے نمبرز اس نے اپنے ترک فون میں محفوظ کر رکھے تھے۔ اب وہ گھر فون کر کے اپنے اغوا کا نہیں بتا سکتی تھی اور نہ اتنا بیلنس تھا کہ وہ انہیں کال کر کے جہان کا نمبر لیتی۔ تیس سیکنڈ کی کال اسے ضائع نہیں کرنی تھی۔
اس نے آنکھیں بند کر کے سر دیوار سے لگا دیا۔ وہ سوچنا چاہتی تھی، فرار کا کوئی راستہ، مدد کی کوئی صورت، اور تب ہی اس نے لکڑی کی اس دیوار کے پار وہ آوازیں سنی۔ عربی میں تیز تیز بولتا ایک آدمی جیسے دور سے چلتا ہوا اسی طرف آ رہا تھا۔
پاشا تمہیں جان سے مار دے گا اگر اسے علم ہوا کہ تم اس کی لڑکی کو اٹھا لائے ہو۔
یہ بحری جہاز روانہ ہو جائے، پھر میں یہاں سے بہت دور چلا جاؤں گا جہاں پاشا کے فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے۔ دوسری آواز ذرا جھنجھلائی ہوئی تھی۔ وہ دونوں اسی دیوار کے پیچھے باتیں کر رہے تھے۔
“تم امید کرو، اور تم اچھی امید کرو، کیونکہ اگر پاشا کو۔۔۔۔۔۔” آوازیں دور جا رہی تھی۔ اب وہ مبہم ہو گئی تھیں۔
اس نے ان کی باتوں پہ غور کرنا چاہا۔ وہ پاشا کا ذکر کر رہے تھے کچھ ایسا جو اس کے علم میں نہیں تھا۔ بحری جہاز کی روانگی اور پاشا کی لاعلمی۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا پاشا کے کہنے پہ اغوا نہیں کی گئی تھی؟
وہ کتنی ہی دیر اپنے درد کرتے سر کے ساتھ سوچنے کی کوشش کرتی رہی مگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھا۔
اس فون میں ترکی کا ایک ہی نمبر تھا۔ جب وہ ریسٹورنٹ میں اپنا ترک موبائل چھوڑ کر گئی تھی، تو اسے اسی پاکستانی فون پر پاشا نے کال کیا تھا۔ اس نے وہ نمبر محفوظ نہیں کیا تھا مگر وہ کال لاگ میں پڑا تھا۔ اس نے کپکپاتی انگلیوں سے لاگ کھولا۔ وہ خالی تھا۔ صرف ایک کال تھی، جو ترکی آتے ہی ابا نے اس نمبر پر کی تھی۔ باقی لاگ ارم نے مٹا دیا تھا۔
اس کا سر گھومنے لگا۔ ہر طرف اندھیرا تھا، ہر راستہ مسدود، ہر دروازہ بند، وہ تیس سیکنڈ کی کال کس کو کرے؟ سارے ایمرجنسی نمبرز ترک فون میں تھے اور ترکی کے دوسرے نمبر اسے زبانی یاد نہیں تھے۔ فون نمبر حیا سلیمان کو کبھی زبانی یاد نہیں رہتے تھے۔
بوجھ پھر سے اس پر لڑھکنے لگا۔ اس نے موبائل کی روشنی اس پہ ڈالی اور ایک دم بالکل شل رہ گئی۔ وہ لمبے سنہری بالوں والی ایک لڑکی تھی۔ جو اس پر گری تھی۔ اس کے منہ اور کندھے سے خون نکل رہا تھا۔ بغیر آستین کی قمیص سے جھلکتے اس کے سنہری بازو پہ کچھ لکھا تھا۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے بازو پہ موبائل کی روشنی کی۔ وہاں سیاہ رنگ سے انگریزی میں لکھا تھا ۔”Natasha” “نتاشا۔۔۔۔۔۔۔ شاید اس کا نام تھا اور وہ اس کے نام کا ایک بدصورت سا ٹیٹو تھا۔ یا جلا ہوا کوئی داغ۔
اس نے موبائل کی روشنی ادھر ادھر دوڑائی۔ اس چھوٹے سے ڈربے میں ہر طرف لڑکیاں تھیں۔ ایک دوسرے کے اوپر گری ہوئی۔ بے ہوش، بے سدھ پڑی کسی کے چہرے پر نیل تھے، تو کسی کے بازوؤں پر خراشیں یا جما ہوا خون تھا۔
خون کی بو اور سر میں اٹھتا شدید درد۔ اس کا جی ایک دم متلانے لگا تھا۔ اسے محسوس ہوا، وہ پھر سے ہوش کھو دے گی۔ اپنے ناکارہ فون کو کھلے کلچ میں ڈالتے ہوئے اس کی نگاہ اندر پڑے کارڈ پہ پڑی اس نے جلدی سے وہ کارڈ نکالا۔ اتصلات کا کالنگ کارڈ جو انھوں نے ابوظہبی میں خریدا تھا، مگر اب وہ بے کار تھا۔ اس نے اندر انگلیاں ڈال کر ٹٹولا اور پھر یہ تہہ شدہ کارڈ نکالا۔
کارڈ کو سیدھا کر کے اس نے گھٹنے پہ رکھا اور موبائل کی روشنی اس پر ڈالی۔ آف وائٹ کارڈ پہ لکھے سیاہ الفاظ روشن ہوئے۔
“شیخ عثمان شبیر۔”
نیچے ترکی کے تین نمبرز لکھے تھے۔ آفس، گھر اور موبائل کا۔ اس کا دل نئی امید سے دھڑکنے لگا۔
اسے ایکسٹینشن یاد نہیں آ رہی تھی۔ کوئی تاریخ تھی۔ کوئی نشان، کوئی مشہور واقع۔ اس نے آنکھیں بند کر کے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اسے یہ تیس سیکنڈ کی کال ضائع نہیں کرنی تھی۔ مگر اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔ سر میں اٹھتا درد اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔
اس نے آنکھیں کھول کر دوبارہ کارڈ کو دیکھا اور کچھ سوچ کر موبائل نمبر ملایا اور فون کان سے لگایا۔ ترک میں ریکارڈنگ چلنے لگی تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ فون بند ہے۔ اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ گھر کا نمبر ملایا۔
گھنٹی جا رہی تھی۔ وہ بے چینی سے لب کاٹتی سنے گئی۔ اس کی امید کا دیا بار بار جلتا بجھتا جا رہا تھا۔
بند کمرے میں خون کی عجیب سی بو پھیلی تھی۔ اس سے سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ دوسری جانب گھنٹی ابھی تک جا رہی تھی۔
“پلیز اللہ تعالی، پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے آنسو
گرنے لگے۔
“السلام علیکم۔” اسی لمحے فون اٹھا لیا گیا۔
“کون، عثمان انکل؟” وہ تیزی سے بولی۔
“آ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، میں ان کا بیٹا سفیر!” وہ جو بھی تھا۔ ذرا چونکا۔
میں حیا بول رہی ہوں۔ حیا سلیمان۔ میں عثمان انکل کے ساتھ آئی تھی۔ اتحاد ائیر لائنز۔ سبانجی یونیورسٹی۔ ایکسچینج اسٹوڈنٹ۔ وقت کم تھا اور وہ اسے تعارف میں ضائع نہیں کر سکتی تھی۔
“کیا ہوا؟ آپ ٹھیک تو ہیں نا؟”
“نہیں، مجھے ان لوگوں نے اغوا کر لیا ہے، یہاں پر کوئی کمرا ہے میں اس میں بند ہوں یہاں چھ، سات اور لڑکیاں بھی ہیں۔ پلیز کسی سے کہیں میری مدد کرے-” وہ تیز تیز بولتی گئی۔
“ایک منٹ۔ مجھے بتائیں کہ آپ کس جگہ پر ہیں- کوئی آئیڈیا ہے آپ کو؟ کسی کھڑکی وغیرہ سے باہر دیکھ سکتی ہیں؟”
“ہاں، یہاں باہر سمندر ہے، مجھے ایک فیری نظر آ رہا ہے اور ادھر ایک پل ہے، باسفورس برج، نہیں، یہ ۔۔۔۔” رابطہ کٹ گیا۔
اس نے بوکھلا کر اسکرین کو دیکھا اور پھر اس باریک درز سے جھلکتے منظر کو۔ اس نے باسفورس برج کہہ دیا تھا جبکہ وہ باسفورس برج نہیں تھا۔ وہ اب پہچانی تھی۔ یہ سلطان احمت برج تھا۔ شہر کے دونوں حصوں کو ملانے والا دوسرا پل۔ اس نے اپنی لوکیشن ہی غلط بتائی تھی۔ اب؟
وہ بے بسی سے موبائل کو دیکھے گئی۔ بیلنس ختم ہو گیا تھا اور اب وہ کال ریسیو کرنے سے بھی قاصر تھی۔
دروازے پر آہٹ ہوئی۔ تالا کھلنے کی آواز۔ اس نے جلدی سے فون کلچ میں ڈال کر اسے بند کیا اور گردن ایک طرف ڈھلکا کر آنکھیں موند لیں۔
دروازہ بھاری چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ کوئی اندر آیا، اس پہ جھک کر اس کی ہتھکڑی چابی سے کھولی اور پھر اسے بازو سے کسی جانور کی طرح گھسیٹتے باہر لے جانے لگا۔
اس کے لبوں سے بے اختیار کراہ نکلی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: