Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 23

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 23

–**–**–

ہم مرنے والے کے لیے تھوڑی روتے ہیں، بچے! مرنے والے کے لیے کوئی بھی نہیں روتا۔ ہم سب تو اپنے نقصان پہ روتے ہیں ہمارا غم تو بس یہ ہوتا ہے کہ وہ ”ہمیں“ اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔
وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے انھیں دیکھے گئی۔ اسے اپنے ہاتھ پر کپ کا دباؤ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چند لمحے کے لیے ہر شے سے دور چلی گئی تھی۔
میری زندگی میں اتنے مسئلے کیوں ہیں حلیمہ آنٹی؟
تمہیں لگتا ہے حیا کہ صرف تمہاری زندگی میں مسئلے ہیں؟ باقی سب خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں؟ نہیں بچے! یہاں تو ہر شخص دکھی ہے۔ ہر ایک کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ سب کو کسی ”ایک“ چیز کی طلب ہے۔ کسی کو مال چاہیے، کسی کو اولاد، کسی کو صحت تو کسی کو رتبہ۔ کوئی ایک محبوب شخص یا کوئی ایک محبوب چیز، بس یہی ایک مسئلہ ہے ہماری زندگی میں، ہم سب کو ایک شے کی تمنا ہے۔ وہی ہماری دعاؤں کا موضوع ہوتی ہے، اور وہ ہمیں نہیں مل رہی ہوتی۔ وہی چیز ہمارے آس پاس کے لوگوں کو بےحد آسانی سے مل جاتی ہے۔ اور ہم ان پر رشک کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ ان لوگوں کی خاص تمنا وہ چیز ہے ہی نہیں۔ وہ تو کسی اور چیز کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یوں ہم اس ایک شے کے لیے اتنا روتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی پہ حاوی ہو جاتی ہے۔ اور یہ شے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ تم مجھے ایک بات بتاؤ، تمہاری زندگی میں بہت سے مسئلے آئے ہوں گے۔ لمحے بھر کو اپنے سارے مسئلے یاد کرو۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اب کپ ہٹا کر اس گول نشان کے اندر موجود جلد میں نشتر کی سوئی سے کٹ لگا رہی تھیں۔ اسے تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ کچھ اور یاد کر رہی تھی۔
سفید پھول۔۔۔۔۔۔۔۔ شریفوں کا مجرا کی ویڈیو۔۔۔۔۔۔۔ ارم کے رشتے کے لیے آئے لڑکے کا انہیں پہچان جانا۔۔۔۔۔ ولید کی بدتمیزی۔۔۔۔۔۔۔ ترکی کا ویزا نہ ملنا۔۔۔۔۔ پھر یہاں آ کر پھولوں کا سلسلہ۔۔۔۔۔۔ اس کا بیوک ادا میں قید ہو جانا۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا اغوا۔۔۔۔۔۔۔ اور آگ کا وہ بھڑکتا آلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔
اس کی ہتھیلی کی پشت پہ خون کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ حلیمہ آنٹی نے کپ واپس ہتھیلی پہ رکھ کے دباتے ہوئے اس کو دیکھا۔
اب بتاؤ، ان مسئلوں کا کیا بنا؟
کیا بنا؟ وہ غائب دماغی سے کپ کو دیکھ رہی تھی۔
اوپر لگا Sucker اندر سے خون کھینچ رہا تھا۔ شیشے کا کپ سرخ ہونے لگا تھا۔
میں تمہیں بتاؤں ان مسئلوں کا کیا بنا؟ وہ مسئلے حل ہو گئے۔ سارے مسئلے ایک ایک کر کے حل ہوتے گئے۔ مگر نئے مسئلوں نے تمہیں اتنا الجھا دیا کہ تمہارے پاس ان بھولے بسرے مسئلوں سے نکلنے پہ اللہ کا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں رہا۔
وہ بے یقینی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ واقعی، اس کے سارے مسئلے حل ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں۔۔۔
ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں۔ اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللہ تعالی کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لیے اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔ جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے۔ وہ آگے بھی کر دے گا، تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتی ہو۔ پھر جن کے لیے تم روتی ہو وہ تمہارے لیے روئیں گے، مگر تب تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
کپ کا شیشہ سرخ ہو چکا تھا۔ اس میں اوپر تک خون بھرتا جا رہا تھا ۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا لائف اسٹائل بہت مختلف ہے۔ میں ان چیزوں سے خود کو ریلیٹ نہیں کر پاتی۔ لمبی لمبی نمازیں، تسبیحات، یہ سب نہیں ہوتا مجھ سے۔ میں زبان پر آئے طنز کو نہیں روک سکتی، میں عائشے گل کی طرح کبھی نہیں بن سکتی۔ میں ان چیزوں سے بہت دور آ گئی ہوں۔
دور ہمیشہ ہم آتے ہیں۔ اللہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا۔ فاصلہ ہم پیدا کرتے ہیں اور اس کو مٹانا بھی ہمیں ہوتا ہے۔ انھوں نے خون سے بھرا کپ سیدھا کر کے ایک طرف رکھا اور ٹشو سے اس کا ہاتھ صاف کیا۔ ہاتھ کی پشت پر گول دائرے میں جگہ خاصی اونچی ابھر گئی تھ ۔ کسی بیک شدہ کیک کی طرح جس کا درمیان کناروں سے زیادہ اونچا ابھر آتا ہے۔
حلیمہ آنٹی! کیا میرے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے؟
پہلے جس نے حل کیے تھے، وہ اب بھی حل کر دے گا۔ حیا! لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے۔ میں تمہیں بتاؤں زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت۔۔۔۔۔۔۔ بس آپ ہونے چاہئیں، اور آپ کا اللہ سے ہر پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے۔ باقی یہ مسئلے تو بادل کی طرح ہوتے ہیں۔ جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بےضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا، اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہو گئی، اور دنیا تاریک ہو گئی۔ غم بھی ایسے ہوتے ہیں۔ جب زندگی پہ چھاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے، لیکن اگر تم اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو تم جانو گی کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا۔ اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نہ حیا! تو ہماری زندگی میں رحمت کی کوئی بارش نہ ہو۔
انھوں نے تیل لگا کر اس کا ہاتھ صاف کر دیا تھا۔ اس نے ہاتھ چہرے کے قریب لے جا کر دیکھا۔
میں اتنا جلی ہوں آنٹی! کہ مجھے لگتا ہے میرا دل ہی مر گیا ہے۔
جلنا تو پڑتا ہے بچے۔ جلے بغیر کبھی سونا کندن نہیں بنتا۔ ان کی بات پر وہ آزردگی سے مسکرائی۔
یہ ابھی ٹھیک ہو جائے گا، اور تم بھی ٹھیک ہو جاؤ گی۔
تھینک یو آنٹی! مجھے آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔ ایک آخری بات، کیا یہ اتفاق تھا کہ عثمان انکل اور ہم ایک ہی فلائٹ میں آئے تھے؟
اس دنیا میں اتفاق کم ہی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے عثمان کو عبدالرحمٰن نے ایسا کہا تھا۔
وہ سمجھ کر سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کبھی اسے لگتا اسے زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف پاشا نے دی ہے اور کبھی لگتا اس کے احسان اس کی دی گئی اذیت سے زیادہ ہیں۔
بگھی سڑک پر رواں دواں تھی۔ رات کی بارش اب سوکھ چکی تھی اور ہر جگہ نکھری نکھری، دھلی دھلائی لگ رہی تھی۔ سبزا، ہوا، سرمئی سڑک وہ چھوٹا سا جزیرہ جنت کا ٹکڑا لگتا تھا۔ وہ بگھی کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ان باتوں کو سوچ رہی تھی جو حلیمہ آنٹی نے اس سے کہی تھیں۔
عائشے۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے گردن ان دونوں کی طرف پھیری تو ایک دم ٹھہر گئی۔ درمیان میں بیٹھی بہارے اپنے گلابی پرس سے کچھ نکال رہی تھی۔ حیا بالکل ساکت، سانس روکے اسے دیکھے گئی۔
وہ حیا کا بھورے رنگ کا لکڑی کا پزل باکس تھا۔
بہارے۔۔۔۔۔ یہ تم نے کہاں سے لیا؟ وہ بنا پلک جھپکے اس باکس کو دیکھ رہی تھی۔
یہ مجھے عبدالرحمٰن نے میری برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا، اس میں میرا گفٹ ہے، مگر ابھی یہ مجھ سے کھلا نہیں ہے۔ وہ مایوسی سے بتاتی اس کی سلائیڈ پر انگلی پھیر رہی تھی۔ جس میں پانچ حروف بنے تھے۔ باکس کے اوپر ڈھکن کی سطح پہ انگریزی میں ایک لمبی سی نظم کھدی تھی۔ یہ حیا کا باکس نہیں تھا، مگر یہ بالکل اس جیسا تھا۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس نے کہاں سے لیا؟
ہم سے ہی لیا تھا۔ عائشے نے بتایا نہیں، ہم جنگل سے لکڑیاں کاٹ کہ یہی پزل باکسز تو بناتے ہیں۔ بہت مہنگے بکتے ہیں یہ۔ ان میں فائیو لیٹر کوڈ لگتا ہے، جس کے بغیر یہ نہیں کھلتے ۔
عائشے مسکراتی ہوئی بہارے کی بات سن رہی تھی۔
سنو۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت دیر بعد بولی۔ اس کی نگاہیں ابھی تک اس باکس پر تھیں۔ تم نے کبھی کوئی ایسا باکس بنایا ہے جس میں چھ حروف کا کوڈ ہو؟
وہ دونوں ایک دم چونکیں۔
ہاں، میں نے بنایا تھا۔
کس کے لیے؟ وہ بے چینی سے بولی۔
عبدالرحمٰن کا کوئی ملازم تھا، اس نے چھ حرفی کوڈ بار کا آرڈر دیا تھا تو میں نے بنا دیا۔ مہینہ پہلے کی بات ہے۔ وہ سوچ کر بتانے لگی۔
تو اس کا کوڈ تم نے ہی رکھا ہو گا۔ تمہیں وہ یاد ہے؟
یاد؟ عائشے ذرا جھینپ کر ہنسی۔ چھ حروف کا کوئی لفظ ذہن میں نہیں آرہا تھا تو میں نے اس کا کوڈ Ayeshe رکھ دیا۔ عائشے میں چھ حروف ہوتے ہیں نا!
ترک چی میں عائشے کو بھی ایسے لکھتے ہیں کیا؟ اس نے اچنبھے سے پوچھا۔
نہیں۔ نہیں۔ ترک چی میں Aysegul لکھتے ہیں مگر یہ باکس انگریزی حروف تہجی میں تھا اس لیے انگریزی میں لکھا۔
جو شخص تم سے یہ خریدنے آیا تھا اس کو جانتی ہو تم؟ چند لمحے کے توقف کے بعد وہ ذرا سوچ کر پوچھنے لگی۔
میں اس کا نام تو نہیں جانتی مگر وہ اونچے قد کا حبشی تھا اور اس کے بال گھنگھریالے تھے۔
اچھا! حیا نے بہارے کو اس کا پزل باکس واپس کر دیا۔ اب وہ اپنے پزل باکس کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اس کے کمرے میں رکھا تھا۔ اگر وہی باکس تھا جو عائشے نے بنایا تھا اور اسے عبدالرحمٰن کے ہی کسی آدمی نے عائشے سے خریدا تھا اور قوی امکان تھا کہ اس نے وہ ڈولی کے پاس بھجوا دیا تھا۔ تو کیا عبدالرحمٰن اس بات سے واقف تھا؟ یا پھر عائشے سے خریدنے والا شخص ہی ڈولی تھا۔ کیونکہ ڈولی بھی تو پاشا کا خاندانی ملازم تھا۔ کچھ ایسا ہی بتایا تھا اے آر پی کی ماں نے اسے۔
سنو! کیا عبدالرحمٰن پاشا کو معلوم ہے کہ تم نے اس کے کسی ملازم کے لیے باکس بنایا ہے؟
حیا! مجھ سے بہت سے لوگ پزل باکسز خریدتے ہیں، میں ہر ایک کی خبر عبدالرحمٰن کو نہیں کرتی اور اس نے تو مجھے عبدالرحمٰن کو بتانے سے منع کیا تھا۔ تمہیں اس لیے بتا ہی ہوں کیونکہ اس نے صرف عبدالرحمن کو بتانے سے منع کیا تھا۔ عائشے ذرا سا مسکرا کر بولی۔
حیا نے اثبات میں گردن ہلا دی اور باہر دیکھنے لگی۔
بگھی اس بل کھاتی سڑک پر اوپر چڑھ رہی تھی۔ وہاں دونوں اطراف میں سرسبز اونچے درخت تھے مری میں عموماً سڑک کے ایک طرف ایسے اونچے درخت ہوتے تھے۔ اور دوسری جانب کھائی، مگر یہاں دونوں جانب ہی گھنا جنگل تھا۔
بلآخر ایک جگہ بگھی بان نے بگھی روک دی۔ عائشے نیچے اتری اور بگھی کے پیچھے مرصع صندوق سے اوزاروں کا بھاری تھیلا نکالا۔ حیا اور بہارے بھی اس کے پیچھے اتر آئیں۔ اب آگے انھوں نے پیدل چلنا تھا۔
تم چل لو گی؟ عائشے نے تھیلا اٹھاتے ہوئے ذرا فکرمندی سے اسے دیکھا۔
ہاں، میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔ اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ عائشہ کو تسلی د ۔
بہارے سب سے آگے اچھلتی کودتی، ذرا لہک لہک کر کچھ گاتی چل رہی تھی۔
کائنات وہ ہے جسے تو نے بنایا
اور سیدھا رستہ وہ ہے جسے تو نے دکھایا
پس تو قدموں کو پھیر دے
اپنی رضا کی طرف
اے بلندیوں کے رب!
وہ ایک عربی گیت گنگناتی ادھر اُدھر پودوں پہ ہاتھ مارتی چل رہی تھی۔ عائشے اس کے عقب میں تھی اور سب سے پیچھے حیا تھی جو اپنی سفید میکسی کو دونوں پہلوؤں سے اٹھائے سہج سہج پتھروں پہ پاؤں رکھ رہی تھی۔
وہاں ہر سو سرخ صنوبر اور ببول کے درخت تھے۔
کچھ ایسے درخت بھی تھے جن کو وہ نہیں پہچانتی تھی۔ سرخ اور جامنی پھولوں کی جھاڑیاں بھی جابجا تھیں۔
جنگل میں کافی آگے جا کر عائشے ایک جگہ رکی۔ وہاں ایک درخت کا کٹا ہوا تنا پڑا تھا۔ اس نے تھیلا زمین پر رکھا اور اندر سے کلہاڑے نکالنے لگی۔
ٹھںڈی ہوا صنوبر کے پتوں کو ہولے ہولے جھلا رہی تھی۔ حیا ایک بڑے درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور عائشے کو کٹے ہوئے تنے پہ کلہاڑے سے ضربیں مارتے دیکھتی رہی۔ اس کی اتنے دنوں کی تھکن، نقاہت اور بیماری حلیمہ آنٹی کے شیشے کے پیالے میں رہ گئی تھی۔ وہ اب خود کو بہت ہلکا پھلکا اور تازہ دم محسوس کر رہی تھی۔ نیا چہرہ، نئی روح، نئی زندگی۔۔۔۔۔ بہارے بھی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔ حیا کے بال ہوا سے اڑ کر اس کے چہرے کو چھونے لگے۔ اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے نرمی سے ان کو سمیٹا۔
تمہارے بال کتنے خوبصورت ہیں حیا۔
اس نے گردن ذرا سی موڑ کر مسکراتے ہوئے بہارے کو دیکھا۔ وہ بہت محویت سے اس کے بالوں پہ ہاتھ اوپر سے نیچے پھیرتے کہہ رہی تھی۔
میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میرے بال اتنے ہی لمبے اور ملائم ہوں اور میں انہیں ایسے ہی کھولوں مگر۔۔۔۔۔۔۔
جوش سے کہتے کہتے اس کا چہرہ بجھ سا گیا۔ مگر عائشے کہتی ہے، اچھی لڑکیاں بال کھول کر باہر نہیں نکلتیں۔
بہارے کی بات پر اس نے ایک نظر عائشے کو دیکھا، جو کوٹ کی آستینیں موڑے رکوع میں جھکی لکڑی پہ کلہاڑا مار رہی تھی۔ ہر ضرب کے بعد وہ سیدھی ہوتی اور پیشانی پر آیا پسینہ آستین سے پونچھ کر اور پھر سے جھک جاتی۔
وہ تمہیں منع کرتی ہے؟
نہیں، وہ کہتی ہے بہارے تمہاری مرضی، جب تم میں حیا نہ رہے تو جو جی چاہے کرو۔ اس نے عائشے کے خفگی بھرے انداز کی نقل کر کے دکھائی۔
تم ساری دنیا میں سب سے زیادہ عائشے کی بات مانتی ہو؟
نہیں، پہلے عبدالرحمان کی، پھر عائشے کی!
تم عبدالرحمان کو بہت پسند کرتی ہو بہارے؟ وہ اپنی حیرت چھپاتے ہوئے استفسار کرنے لگی۔ کیا یہ بہنیں عبدالرحمان کی شہرت نہیں جانتیں؟ یا یہ اسے لوگوں سے زیادہ جانتی ہیں۔
بہت زیادہ۔ وہ ہے ہی اتنا اچھا۔ وہ اس کے بالوں کو ہاتھوں میں لیے ہوئے بہت محبت سے کہہ رہی تھی۔ حیا نے اپنے کھلے بالوں کو دیکھا اور پھر بہارے کی نفاست سے بندھی گھنگھریالی پونی۔
میں بال باندھ لوں بہارے؟ مجھے ہوا تنگ کر رہی ہے۔اس نے جیسے خود کو وضاحت دی کہ وہ عائشے کی اچھی لڑکیوں والی نشانیوں کا اثر نہیں لے رہی۔ ھہوا کی وجہ سے بال باندھنا چاہ رہی ہے۔
میں باندھ دوں؟ میرے پاس فالتو پونی ہے۔
اس نے اپنے گلابی پرس میں ہاتھ ڈال کر جھٹ سے ایک سرخ رنگ کا بینڈ نکالا۔ حیا نے ذرا سا رخ موڑ لیا۔ بہارے اس کی پشت پر گھٹنوں کے بل اونچی ہو کر بیٹھ گئی اور اپنے نرم ہاتھوں سے اس کے بال سمیٹنے لگی۔ حیا نے آنکھیں بند کر لیں۔
عثمانی سلطنت کی شہزادیاں تمہاری طرح خوبصورت ہوتی ہوں گی حیا! ہے ناں؟ وہ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی اس کی ایک ڈھیلی سی چوٹی بنا رہی تھی۔ بینڈ باندھ کر اس نے چوٹی حیا کے کندھے پر آگے کو ڈال دی۔ حیا نے اپنی موٹی، سیاہ چوٹی پر ہاتھ پھیرا۔ اور گردن موڑ کر ممنونیت سے بہارے کو دیکھا۔
میری اماں کہتی ہیں کہ میں اتنی خوبصورت نہ لگتی اگر میں اپنی گرومنگ پہ اتنی محنت نہ کرتی۔ تمہارا اور عائشے کا شکریہ، ورنہ میرے بال نہ بچتے۔
دوست کس لیے ہوتے ہیں؟ بہارے نے مسکرا کر شانے اچکائے۔ اس نے اور عائشے نے کن جوکھوں سے اس کے بالوں سے ویکس اتاری تھی۔ یہ روداد بہارے اسے سنا چکی تھی۔ ویکس بال تب ضائع کرتی اگر کھینچ کر اتاری جاتی ۔ جبکہ انھوں نے اس کو پگھلا کر نرم کر کے اتارا تھا۔
اچھا اپنا پزل باکس دکھاؤ میں اس کی پہیلی دیکھوں۔ بہارے گل نے سر ہلا کر بیگ سے باکس نکال کر اسے تھمایا۔ اس کا گلابی بیگ ایک زنبیل تھی جس میں ہر ایک چیز ہوتی تھی۔
بہارے تم نے حیا کا گفٹ نہیں بنایا؟ عائشے نے ہاتھ روک کر رکوع میں جھکے جھکے سر اٹھا کر خفگی سے اپنی بہن کو دیکھا۔
اوہ ہاں۔ میں ابھی آئی۔ بہارے ماتھے پر ہاتھ مارتی اٹھی بڑے تھیلے میں سے ایک خالی ٹوکری نکالی اور درختوں کے درمیان اچھلتی پھدکتی آگے بھاگ گئی۔
عائشہ واپس کام میں مصروف ہو گئی۔
حیا سر تنے سے ٹکائے باکس کو چہرے کے سامنے لا کر دیکھنے لگی۔ اس کے ڈھکن پر انگریزی میں چند فقرے کھدے تھے جو شاید ایک نظم تھی۔
A creamy eye in silver chest
Sleeps in a Salty depth
Rises from a prison grain
Shines as its veil in slain.
پزل باکس کے کوڈبار میں پانچ چوکھٹے بنے تھے۔ حیا نے تین چار دفعہ اس نظم کو پڑھا تو اسے وہ پانچ حرفی لفظ سمجھ آگیا۔ جو اس باکس کی کنجی تھا۔پہیلی آسان تھی، مگر ظاہر ہے، وہ بہارے کو جواب نہیں بتا سکتی تھی وہ بہارے کا تفحہ تھا اور وہ اسے خود ہی کھولنا تھا۔
مگر کون لکھتا تھا یہ نظمیں؟ یہ پہیلیاں؟
باکس گود میں رکھے، اس نے آنکھیں موند لیں۔ اس کے جسم کا سارا درد دھیرے دھیرے غائب ہو رہا تھا۔ ہر سو میٹھی نیند تھی، بہت دن بعد اس پہ سکون سا چھا رہا تھا۔ وہ حلیمہ آنٹی کی باتوں کو سوچتی، اپنے حل ہوئے مسئلوں کو یاد کرتی، کب سو گئی، اسے پتہ نہیں چلا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ جنگل میں اکیلی تھی۔عائشے اور بہارے وہاں نہیں تھیں۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔
”عائشے۔۔۔۔۔۔۔ بہارے۔“ وہ متوحش انداز میں ان کو پکارتی درختوں کےدرمیان آگے کو بھاگی۔
”حیا! ہم ادھر ہیں۔“ عائشے نے کہیں قریب سے پکارا۔وہ آواز کا تعاقب کرتی اس گھنے جٗھنڈ تک آئی تو دیکھا، عائشےان درختوں کے پاس کلہاڑا پکڑے کھڑی تھی۔ ساتھ ہی بہارے زمین پر بیٹھی تھی۔ کٹا تنا ساتھ ہی رکھا تھا۔
”تم سو گئی تھیں تو مجھے لگا، ہماری آوازیں تمہیں ڈسٹرب نہ کریں، سو ہم سب کچھ ادھر لے آئے۔“
”خیر تھی عائشے۔“ اس نے خفت سے ان دونوں کو دیکھا۔ تنا، لکڑیاں، اوزار وہ ہر چیز بنا آواز پیدا کیے وہاں سے لے گئی تھیں، وہ بھی صرف اس کے خیال سے۔ اسےان دو پریوں کی طرح معصوم لڑکیوں پہ بے حد پیار آیا۔
”تم بتاؤ، تمہاری طبعیت کیسی ہے؟“
”بہت بہتر“۔ وہ بہارے کے ساتھ خشک گھاس پہ پیٹھ گئی۔
بہارے کی گود میں سفید پھولوں کی لڑی رکھی تھی۔
وہ دونوں ہاتھوں میں ایک موٹی سبز ٹہنی پکڑے،اس کے دونوں سرے ملا کر ان کو باندھ رہی تھی، یوں کہ وہ ایک گول، سبز سا رنگ بن گیا تھا۔
”تم کیا کر رہی ہو؟“
”تمھارا گفٹ بنا رہی ہوں۔ تمہیں پہیلی سمجھ میں آئی؟“
”فوراً ہی آ گئی۔ بہت آسان تھی۔“ اور کم از کم اس کے لئے اسے کسی فلاسفر کے گدھوں اور کتوں والے اقوالِ زریں نہیں پڑھنے پڑے تھے۔
”عائشےکی بھی سمجھ میں آ گئی تھی، مگر یہ مجھے نہیں بتاتی۔
”ٹھیک کرتی ہوں۔ یہ تمھارا تحفہ ہے اور تمہیں خود نکالنا ہے۔ تحفہ خوشی کے لئے ہوتا ہے، اگر تم اسے خود بوجھ کر نکالو گی تو تمھیں اصلی خوشی ہو گی ورنہ توڑ کر بھی نکال سکتی ہو۔“ عائشے نے کہا۔
”عائشے ٹھیک کہہ رہی ہے، ویسے یہ پہیلیاں کون لکھتا ہے؟“
”عبدالرحمٰن کے پاس ہر کام کے لئے بہت سے بندے ہوتے ہیں۔ اس نےکسی سے لکھوا لی ہو گی۔“ بہارے نے شانے اچکا کر کہا۔ گویا عبدالرحمٰن سے بہت محبت و عقیدت کے باوجود اس کا خیال تھا کہ وہ اس نے خود نہیں لکھی تھی۔ تو پھرشاید ڈولی نے۔۔۔۔۔؟
بہارے بہت مہارت سے سفید پھولوں کی لڑی کو سبز ٹہنی پر لپیٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ سبز رنگ، ایک سفید پھولدار حلقے میں تبدیل ہو گیا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے وہ تاج حیا کے سر پر رکھا۔
”بہارے گل اور عائشےگل کی طرف سے!“
اس نے مسکراتے ہوئے سر پہ پہنے تاج کو چھوا۔ مری میں ایسے تاج بکثرت ملتے تھے مگر ان میں سے کوئی بھی تاج اتنا خوبصورت نہ تھا۔ کوئی تاج اتنا خوبصورت ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
بہارے اب پزل باکس اور سوئی دھاگہ احتیاط سے اپنی گلابی زنبیل میں رکھ کر عائشے کے ساتھ کام کروانے لگی۔ اس نے بھی اٹھنا چاہا، مگر عائشے نے روک دیا۔
”تم مہمان ہو اور تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔جب ٹھیک ہو جائے گی تو کروا لینا۔“
پھر کام ختم کر کے بہارے نے چٹائی بچھائی اور بڑی باسکٹ سے پانی کی بوتل نکال کر حیا اور عائشے کے ہاتھ دھلائے۔ پھر لنچ باکسز کھول کھول کر چٹائی پہ رکھنے لگی۔
”یہ تلی ہوئی مچھلی ہے، یہ سلاد ہے اور یہ مرغابی کا سالن ہے۔“ کھانا ابھی تک گرم تھا اور اس کی خوشبو بہت اشتہا انگیز تھی۔
اسے یاد تھا شروع شروع میں وہ اور ڈی جے ترک
کھانے سے کتنی متنفر ہو گئی تھیں مگر چند ہی روز بعد ان کو ترک کھانے سے اچھا کوئی کھانا نہیں لگتا تھا۔
یوں سنسان جنگل میں درختوں کے بیچ میں زمین پہ بیٹھے ٹھنڈی سی دوپہر میں وہ اس کا پہلا کھانا تھا۔استنبول کی چہل پہل اور ہنگامہ خیز زندگی سے دور ایک تنہا جزیرے پہ، جہاں وہ خود کو فطرت کے زیادہ قریب محسوس کر رہی تھی۔
کھانا کھا کر، چیزیں سمیٹ کر وہ لکڑیوں کے چھوٹے چھوٹے گٹھے سروں پہ اٹھائے ڈھلان سے اتر کر واپس بگھی تک آگئیں۔ عائشے نے کلہاڑی، لکڑیاں اور اوزار صندوق میں رکھے اور بگھی کو وہیں چھوڑ کر دوسری سمت چل پڑیں۔ اس نے نہیں پوچھا تھا کہ اب وہ کدھر جا رہے ہیں۔ وہ خود کو ان دو بہنوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ چکی تھی۔ پھر بھی عائشے خود سے ہی بتانے لگی۔
”اب ہم ساحل کی طرف جا رہے ہیں۔“
”مگر فائدہ کوئی نہیں ہے“۔ اس کے ساتھ چلتی بہارے نے ذرا خفگی سے سرگوشی کی۔ وہ جو دونوں پہلوٶں سے میکسی ذرا اٹھا کر چل رہی تھی، ذرا چونکی۔
”وہ کیوں؟“
”ہم سمندر پہ سیپ چننے جا رہے ہیں، مگر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میرےکسی سیپ سے موتی نہیں نکلتا اور عائشےکے ہر سیپ سے موتی نکلتا ہے۔“
”عبدالرحمٰن کہتا ہے عائشے کے سیپ سےموتی اس لیے نکلتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتی ہے“۔
”نہیں، یہ کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ بہارے کے سیپ سے موتی اس لیے نہیں نکلتے کیونکہ بہارے ہمیشہ الٰلہ سے برا گمان رکھتی ہے۔ جس دن بہارے اچھا گمان رکھے گی، اس دن موتی نکل آئیں گے اور ایک دفعہ تو موتی نکلا بھی تھا۔ ”آگے چلتی عائشے نے گردن موڑے بغیر کہا۔ اس کی آخری بات پہ حیا نےسوالیہ نگاہوں سے بہارے کو دیکھاتو بہارے نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
”ہاں۔۔۔۔۔۔ بس ایک ہی دفعہ موتی نکلا تھا، سفید موتی اور وہ بہت خوبصورت تھا۔ میں نے وہ عبدالرحمٰن کو گفٹ کر دیا۔“
”وہ اس کا کیا کرے گا؟ تم اپنے پاس رکھتیں نا!“
جواباً بہارے نے ملال بھری ”تم نہیں سمجھ سکتیں۔“ والی نظروں سے اسے دیکھا اور سر جھٹکا۔
ساحل کا یہ حصہ قدرے سنسان پڑا تھا۔ نیلے سمندر کی لہریں امڈ امڈ کر پتھروں سے سر پٹختیں اور واپس لوٹ جاتیں۔ ساحل کی ریت گیلی تھی اور اس پہ قطار میں بہت سے پتھر پڑے تھے۔ کراچی کا ساحل ریت والا ہوتا تھا مگر یہ ساحل پتھروں والا تھا۔
وہ چیزیں محفوظ جگہ پہ رکھ کر، جوتے اتار کر ننگے پاؤں چلتی پانی میں آ کھڑی ہوئیں۔
”ادھر سمندر اکثر سیپ ڈال دیتا ہے، مگر روز نہیں۔“ عائشے پاؤں پاؤں بھر پانی میں چلتی کہہ رہی تھی۔
لہریں امڈ امڈ کر آتیں، اس سے ٹکراتی اور اسے گھٹنوں تک بھگو کر واپس چلی جاتیں۔ وہ تینوں
ایک دوسرے سے فاصلے پہ کھڑی اپنی اپنی ٹوکریاں اٹھائے سیپ ڈھونڈ رہی تھیں۔
پانی یخ بستہ تھا اور ہوا سرد تھی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو عائشے اور بہارے ریت سے سیپ اٹھا اٹھا کر اپنی ٹوکریوں میں بھر رہی تھیں مگر اسے اپنے پاس کوئی سیپ نظر نہیں آیا۔ وہ متلاشی نگاہوں سے پانی کی تہہ تلے جھلکتی ریت کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ تب ہی ایک تیز لہر آئی تو وہ لڑکھڑا کر پھسلی اور کمر کے بل ریت پہ جا گری۔ صد شکر کہ پتھروں کا ساحل چند قدم دور تھا۔ لہر واپس پلٹ گئی۔ وہ ریت پہ گری پڑی تھی۔ مکمل طور پہ بھیگی ہوئی۔ اس کی چوٹی بھیگ گئی تھی۔ ریت کے ذرے سفید لباس پہ جا بجا لگے تھے۔ وہ درد سے دکھی کمر کو سہلاتی بمشکل اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ عائشے اور بہارے نے اسے گرتے دیکھا نہ اٹھتے۔ اس نے بھی واویلا نہ کیا۔ پانی کا درد، آگ کے درد سے کم ہی ہوتا ہے۔ وہ برداشت کر گئی۔
اس کو گرانے والی لہر اس کے قدموں میں ایک سیپ ڈال گئی تھی۔ اس نے جھک کر سیپ اٹھا لی۔ وہ ایک شامی کباب کے سائز جتنا تھا اور اس کا خول سفید، سرمئی اور گلابی رنگوں سے بنا تھا۔
”اوہ تم تو بھیگ گئیں، ٹھہرو، یہ شال لے لو۔“
پتھروں کے پار چٹائی پہ بیٹھتے ہوئے عائشے نے فکر مندی سے اسے دیکھا اور ایک شال ٹوکری سے نکال کر دی جو اس نے شانوں کے گرد لپیٹ لی۔
”چلو اب سیپ کھولتے ہیں۔“ وہ تینوں تکون کی صورت بیٹھی تھیں۔ اپنی اپنی ٹوکریاں اپنے سامنے رکھے۔ عائشے نے بڑے سے چٹپے بلیڈ والا چھرا اٹھایا اور اپنی ایک سیپ نکال کر پھر اس کے خول کے دونوں حصوں کی درمیانی درز میں رکھ کر ”بسم اللٰہ“ پڑھتے ہوئے سیدھا سیدھا چھرا چلا دیا۔ چٹخنے کی ذرا سی آواز آئی۔ عائشے نے چھرا ایک طرف رکھا اور دونوں ہاتھوں سے سیپ کے خول کو یوں کھولا جیسے کوئی کتاب کھولتے ہینج۔
اندر موجود سمندری جانور کا گودا خون آلود تھا۔ وہ مر چکا تھا مگر اس کے اوپر ایک مٹر کے دانے جتنا سفید موتی جگمگا رہا تھا۔
عائشے نرمی سے مسکرائی اور پلکر (plucker) سے موتی اٹھا کر ایک مخملیں تھیلی میں ڈالا۔ وہ مسحور سی یہ سارا عمل دیکھ رہی تھی۔ بہارے البتہ آلتی پالتی مارے بیٹھی، ہتھیلیوں پہ چہرہ گرائے منہ بسورے عائشے کو دیکھ رہی تھی۔ عائشے نے ایک کے بعد ایک اپنے ساتوں سیپ کھولے۔ سب میں سے موتی نکلے۔ سات موتی اس کی مخملیں تھیلی میں جمع ہو چکے تھے۔
پھر اس نے چھرا بہارے کی طرف بڑھایا۔
”اب تم کھولو۔“
بہارے نے بے دلی سے چھرا پکڑا اور ایک ایک کر کے اپنے پانچوں سیپ کھولے۔ ان کے اندر سوائےخون آلود Mollusk کے، کچھ بھی نہ تھا۔
”کوئی بات نہیں۔ سات تو نکل آئے ہیں، یہ بھی تمہارے ہیں۔“ عائشے نے نرمی سے اس کا گال تھپتھپایا۔ وہ خفا خفا سی بیٹھی رہی۔
حیا نے چھرا پکڑا اور سیپ کے دونوں حصوں کی درز میں رکھا پھر دل مضبوط کر کے چھرا چلایا۔ لمحے بھر کو اسے یوں لگا جیسے اس نے کسی نرم سے گوشت کو کاٹ دیا ہو۔ بہارے اور عائشے منتظر سی اسے دیکھ رہی تھیں۔ اس نے سیپ کے دونوں حصوں کو پکڑے رکھے، کسی کتاب کی طرح اسے کھولا۔
سمندری جانور کے خون آلود لوتھڑے کے سوا سیپ میں کچھ نہ تھا۔ وہ موتی سے خالی تھا۔
اس نے بہارے کی سی بے بسی سے سیپ ایک طرف ڈال دی۔
”تم دونوں نے پہلے سے سوچ لیا تھا کہ تمہارا موتی نہیں نکلے گا۔ کل سے تم اچھے گمان کے ساتھ سیپ چنو گی۔“
عائشے نے بے بسی سے انہیں دیکھ کر کہا۔ وہ دونوں یونہی خفا خفا سی بیٹھی رہیں۔
* * *
رات بیوک ادا پہ سیاہ چادر تان چکی تھی جس میں جھلملاتے سے تارے ٹکے تھے۔ اس کے کمرے کی کھڑکی کے جالی دار پردے ہٹے ہوئے تھے اور ان سے مقیش کے وہ سیاہ چادر صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ گردن تک کمبل ڈالے، پہلو کے بل لیٹی تھی۔ لمبے بال تکیے پہ بکھرے تھے۔ نگاہیں کھڑکی سے نظر آتے آسمان پہ ٹکی تھیں۔
صبح اس نے عائشے سے کہا تھا کہ اب وہ واپس جانا چاہتی ہے مگر ان دونوں بہنوں کے چہرے پہ اتنی اداسی آ گئی اور انہوں نے صرف چند دن کے لئے، جب تک اس کی خراشیں اور سارے زخم مندمل نہیں ہو جاتے اور نیل غائب نہیں ہو جاتے، اس سے رکنے کو کہا تو وہ رک گئی۔ اسے بیوک ادا اچھا لگا تھا یا پھر شاید اسے یہ خوف تھا کہ ابھی سبانجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں لوگ اس کے چہرے کے زخموں کے متعلق استفسار کریں گے۔ وہ اس پر فضا مقام پہ مکمل صحت مند ہو کر پہلے جیسا چہرہ لے کر واپس پلٹنا چاہتی تھی اور بیوک ادا اسے کھینچتا بھی تھا۔ اس سفید محل میں کوئی مقناطیسی کشش تھی اور ان بہنوں کا خلوص تھا جو اسے باندھ رکھ رہا تھا۔
وہ گھر عائشے گل کا تھا، یہی وہ دل سے سارے بوجھ اتار دینے والا احساس تھا جس کے باعث وہ ادھر رک گئی تھی۔ سبانجی سے آج کل اسپرنگ بریک کی چھٹیاں تھیں، اور بریک ختم ہونے تک وہ ادھر رہ سکتی تھی۔ ابھی واپس جانا، دوسروں کو اپنے بارے میں مشکوک کرنا ہو گا۔ چہرے کے زخم بھرنے میں ابھی وقت تھا اور دل کے پتا نہیں کب بھر پائیں گے!
ایک لمحے کے لیے اس نے اپنے دل کو ٹٹولا۔ کہیں وہ اس گھر میں اس لیے تو نہیں رک گئی کہ اس کا تعلق عبدالرحمن پاشا سے ہے؟ مگر نہیں اس کے دل میں تو جہان سکندر کے علاوہ کسی کی گنجائش نہ تھی۔ ٹھیک ہے پاشا نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا اور وہ اس کی ممنون تھی مگر اس کے دل میں پاشا کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں پیدا ہوا تھا۔ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
اس نے ابھی تک موبائل نہیں لیا تھا۔ عائشے نے کہا تھا کہ کل تک ان کے ہوٹل کا ملازم موبائل اور سم پہنچا دے گا، بل سمیت۔ اس نے ابا سے کچھ پیسے عائشے کے اکاؤنٹ میں منگوا لئے تھےتا کہ وہ اپنے اخراجات خود اٹھاسکے۔ البتہ نہ اس نے اماں، ابا اور نہ ہی جہان کو بتایا تھا کہ وہ کدھر رہ رہی ہے۔ وہ پہلے ہی ان سے دور تھی، جہاں بھی رہے، کیا فرق پڑتا تھا اور پھر استنبول میں عبدالرحمٰن پاشا کی رہائش سے بڑھ کر محفوظ جگہ کوئی نہ تھی، اس کا اندازہ اسے ہو چکا تھا۔
مگر جہان۔۔۔۔۔۔۔ جانے وہ کیسا ہو گا۔ اتنے دنوں سے اس سے بات بھی نہیں ہوئی۔ آخری دفعہ اسے تب دیکھا تھا جب وہ اسے ٹاقسم پہ چھوڑنے آیا تھا۔ تب بخار کے باعث اس کی آنکھیں اور ناک سرخ تھی۔
”پتا نہیں اس کا بخار ٹھیک ہی ہوا یا نہیں۔“ وہ اسے فون کرنے کا سوچ کر اٹھی اور باہر آ کر گول چکر زینہ اترنے لگی۔
آخری سیڑھی پہ اس کے قدم سست پڑ گئے۔ لونگ روم میں انگیٹھی دہک رہی تھی اور اس کے سامنے عائشے گل صوفے پہ پاؤں اوپر کیے بیٹھی تھی۔ حیا کی جانب پشت کیے، وہ ہاتھوں میں قرآن پکڑے پڑھ رہی تھی، مدھر، دھیمی، خوب صورت آواز، جو آیات کے ساتھ اوپر نیچے ہوتی تھی۔
”اور آگ والے جنت والوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ ڈالو ہم پر پانی میں سے یا اس میں سے جو اللٰہ نے تمہیں بخشا ہے۔ وہ کہیں گے، بے شک اللٰہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے انکار کرنے والوں پر۔“
وہ وہیں ریلنگ پہ ہاتھ رکھے، ساکت سی کھڑی رہ گئی۔ ایک دم سے وقت پانچ روز پیچھے چلا گیا۔ وہ کرسی سے بندھی ہوئی اسی کمرے میں گری پڑی تھی جس میں بہت سی آگ تھی۔ الاؤ، انگیٹھی، ابلتا ویکس، دہکتی سلاخیں۔ اسے اپنی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ ”پانی ڈالو مجھ پر۔۔۔۔۔ پانی ڈالو مجھ پر۔۔۔۔۔۔“ وہ اگلے تین روز سوتی جاگتی کیفیت میں یہی چلاتی رہی تھی۔
عائشے اسی طرح پڑھ رہی تھی۔
”بے شک اللٰہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے انکار کرنے والوں پر، وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو شغل اور کھیل بنا لیا تھا۔۔۔۔۔“
وہ بے دم سی ہو کر وہیں آخری سیڑھی پہ بیٹھتی چلی گئی۔
”وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے دین کو شغل اور کھیل بنا لیا تھا اور ان کی دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔۔۔۔۔“
انگیٹھی میں جلتی مصنوعی لکڑیوں سے چنگاریاں اٹھ اٹھ کر فضا میں گم ہو رہی تھی۔ وہ یک ٹک گم صم سی دہکتی لکڑیوں کو دیکھے گئی۔
”تو آج کے دن، ہم بھلا دیں گے ان کو جیسا کہ وہ اپنی اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے اور وہ ہماری نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے۔“ (الاعراف٥١-٥٠)
دفعتاً عائشے نے کسی احساس کے تحت گردن موڑی۔اسے یوں آخری زینے پہ بیٹھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں فکر مندی ابھری۔ اس نے قرآن بند کیا اور اٹھ کر احتیاط سے شیلف کے اوپری خانے میں رکھا، پھر اس کے ساتھ زینے پہ آ بیٹھی۔
”ایسے کیوں بیٹھی ہو حیا؟“وہ نرمی سےپوچھ رہی تھی۔
حیا گم صم سی اس کا چہرہ دیکھے گئی۔اسکارف میں لپٹا عائشے کا چہرہ نیم اندھیرے میں بھی دمک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں اب سیاہ لگ رہی تھیں۔ یہ لڑکی اتنی پر سکون، اتنی نرم کیسے رہتی تھی ہر وقت؟ اس کے چہرے پہ کوئی دھول، کوئی دھند، کوئی مبہم پن کیوں نہیں ہوتا تھا؟ صاف، شفاف، اجلا چہرہ۔ معصومیت، کم عمری۔
”حیا!“ اس نے دھیرے سے حیا کی بند مٹھی پہ اپنا ہاتھ رکھا۔ حیا نے چہرہ ذرا سا پھیرا تھا، اس سے روشنی نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اندھیرے کی بہت عادی ہو چکی تھیں۔
”یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟“ وہ اب بالکل بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ الاٶ کو دیکھ رہی تھی جس سے سرخ دانے اڑاڑ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔
”جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللٰہ بھول جاتا ہے۔“
”کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟“
”پہلی دفعہ دھوکا انسان بھول پن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ گناہ بن جاتا ہے اور اگر کسی احساس ہونے کے بعد نہ کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کر بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیۓ۔“
”نئے سرے سے؟“ ایسے یو ٹرن لیا آسان ہوتا ہے کیا؟انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوب صورت لگے، خوب صورت لباس پہنے، کیا یہ بری بات ہے؟“ اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی، جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کیا غلط تھا کی صحیح، سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔
نہیں! اللٰہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہئیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہئیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے بنانے، مچھلی پکڑنے اور سچے موتی چننے تک محدود ہوتی ہے اور کچھ لوگ بڑے مقاصد لے کر جیتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان نہیں ہوتے۔“
حیا نے غیر ارادی طور پہ ایک نگاہ اپنے کندھے پہ ڈالی جہاں آستین کے نیچے Who لکھا تھا۔
”اور جن کی زندگی میں بڑا مقصد نہ ہو، وہ کیا کریں؟
”وہی جو میں کرتی ہوں۔ عبادت! ہم عبادت کے لئے پیدا کیے گئے ہیں، سو ہمیں ہر کام کو عبادت بنا لینا چاہئیے۔ عبادت صرف روزہ، نوافل اور تسبیح کا نام نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر انسان کا ٹیلنٹ بھی اس کی عبادت بن سکتا ہے۔ میں بہارے کے لیے پھولوں کے ہار اور آنے کے لیے کھانا بناتی ہوں۔ میری یہ صلہ رحمی میری عبادت ہے۔ میں پزل باکسز اور موتیوں کے ہار بیچتی ہوں، میرا یہ رزق تلاشنا میری عبادت ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے انسان بڑے بڑے مقاصد پا لیتا ہے۔
اور انسان ان چیزوں کے لیے مضبوطی کہاں سے لائے؟ حیا! مجھے لگتا ہے ہم لڑکیوں نے اپنے اوپر Fraglile stichers (نازک) اسٹکرز لگا رکھے ہیں۔ فریجائل اسٹکرز سمجتی ہونا ؟ وہ جو نازک اشیاء کی پیکنگ کے اوپر چسپاں ہوتے ہیں، اور ان پہ لکھا ہوتا ہے ”ہینڈل ود کیئر“ وہی اسٹکرز ہم لڑکیاں اپنی پشانی پہ لگاے رکھتی ہیں۔ پھر کسی کا ذرا سا طنز ہو یا بےجا پڑی ڈانٹ، ذرا سا کانٹا چبھ جائے یا دل ٹوٹ جائے، ہم گھنٹوں روتی ہیں۔ اللہ نے ہمیں اتنا نازک نہیں بنایا تھا، ہم نے خود کو بہت نازک بنا لیا ہے اور جب ہم لڑکیاں ان چیزوں سے اوپر اٹھ جائیں گی تو ہمیں زندگی میں بڑے مقصد نظر آجائیں گے۔ عاشئے خاموش ہوگئی۔ اب لونگ روم میں صرف لڑکیوں کے چٹخنے کی آواز آرہی تھی۔
عاشئے گل، تم بہت پیاری باتیں کرتی ہو۔ وہ تھکان سے ذرا سا مسکرا کر بولی تو عائشے دھیرے سے ہنس دی۔
تم بھی بہت پیاری ہو۔!
یہ تو تم نے مروت میں کہا! اچھا عائشے! کل سے میں تم دونوں کے کمرے میں سو جایا کروں؟ مجھے اوپر والے کمرے میں تنہائی محسوس ہوتی ہے۔
ٹھیک ہے پھر ہم کل اپنے کمرے کی سیٹنگ بدل دیں گے۔ بڑا والا ڈبل بیڈ گیسٹ روم سے ادھر لے آئیں گے۔ عائشے اٹھتے ہوئے بولی۔ اس نے مسکرا کر دھیرے سے سر ہلا دیا۔ جو بھی تھا، عائشے کی باتیں اس کے دل کو بہت الجھا دیا کرتی تھیں۔ وہ کبھی بھی زندگی میں ایسے تذبذب اور شش وپنج میں مبتلا نہیں رہی تھی جس سے اب گزر رہی تھی۔
* * *
اگلے روز اسے موبائل تو ہوٹل گرینڈ (وہ ہوٹل جو بیوک ادا میں آے ار پاشا کا گڑھ سمھجا جاتا تھا) کے ایک ملازم نے سم سمیت لا دیا۔ مگر وہ بیڈ شفٹ نہ کر سکیں کہ وہ کھل نہیں رہا تھا۔ انہوں نے یہ کام ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا۔ سو رات کو جب وہ سونے لیٹی تو اوپر اپنے کمرے میں اکیلی ہی تھی ۔ آنکھیں بند کرتے ہی اس کے ذہن کے پردوں پہ وہی رات، دہکتی سلاخیں اور بھڑکتا الاؤ چھانے لگا تو وہ مضطرب سی اٹھ بیٹھی۔ وہ رات اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: