Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 24

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 24

–**–**–

ہیلو؟ اس نے فون کان سے لگایا۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔ میجر احمد ہیر! وہی بھاری، خوب صورت، شائستہ آواز۔ اس نے گہری سانس لی۔ یہ لوگ اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے، وہ جتنا ان کو پرے دھتکارے، وہ اس کا سائے کی طرح تعاقب کرتے رہیں گے۔
کہیئے! کس لیے فون کیا ہے آپ نے؟ اس کی آواز میں خود بخود رکھائی در آئی۔ یہ پوچھنا بے سود تھا کہ مجیر احمد کو اس کا نمبر کیسے ملا اور فون بند کرنا بھی بے سود تھا۔ وہ پھر فون کر لے گا اور کرتا ہی رہے گا۔ اسے کس اور طرح سے اب ڈیل کرنا ہو گا۔
کیا ہم کچھ دیر کے لیے بات کرسکتے ہیں؟ اس کی آواز بوجھل تھی۔ تکان سے بھری۔ غم سے لبریز۔ اداس، متفکر۔
حیا نے لمحے بھر سوچا، اس کا ذہن چند خیالات کو ترتیب دینے لگا تھا۔
دیکھیں میجر احمد۔اس نے سوچ سوچ کر کہنا شروع کیا۔ اگر تو آپ کوئی اسی بات کرنا چاہتے ہیں جو کسی شادی شدہ عورت سے کرنا غیر مناسب ہے تو مت کیجئے، لیکن اگر آپ کوئی باہمی مفاد کی بات کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو سن رہی ہوں۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آواز فون میں ابھری۔
مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے جو آپ کہ ساتھ ہوا۔ وہ ایک دم بالکل ساکت ہو گئی۔ اس کے اغوا کی خبر پھیل چکی تھی۔
تو کیا وہ سب راز نہیں رہا؟ ایک بوجھ سا اس کے دل پہ آن گرا تھا۔
فکر نہ کریں، پاکستان میں کسی کو علم نہیں ہوا۔
وہ اس کے لہجے پہ غور کرنے لگی۔ یہ کیا کوئی دھمکی تھی کہ وہ چاہے تو پاکستان میں سب کو علم ہوسکتا ہے؟ اس کے پاس یقینا ً اس کی ویڈیو تھی اور پاشا کے اس اس کی بہت سی تصاویر ۔ بلیک میلرز!
میں نے آپ سے کہا تھا نا، اگر زندگی میں کوئی آپ کو جنت کے پتے لا کر دے تو انہیں تھام لیجئے گا۔ وہ آپ کو رسوا نہیں ہونے دیں گے۔ اس کی آواز میں دل کو چیرتا ہوا درد تھا۔
اور میں نے بھی آپ سے کہا تھا کہ ہم دنیا والوں نے جنتیں کہاں دیکھی ہیں۔
آپ نے میری بات نہیں مانی۔ مجھے اس واقعے نے جتنی تکلیف دی، شاید زندگی میں کسی اور شے نے اتنی تکلیف نہیں دی۔
میں اغوا ہوئی، ظلم میرے ساتھ ہوا، تو آپ مجھے کیوں قصور وار ٹھہرا رہے ہیں؟
وہ ہر کسی کو اغوا نہیں کرتے۔ خوب صورت لڑکیوں کو کرتے ہیں۔
میں خوب صورت ہو تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ وہ حیران نہیں ہو رہی تھی، وہ پوچھ رہی تھی۔
انہیں یہ پتہ چلا کہ آپ خوب صورت ہیں اس میں آپ کا قصور ہے۔ وہ بھی طنز نہیں کر رہا تھا، بس مغموم انداز میں کہہ رہا تھا۔
تو اب میں کیا کروں؟ اب ان سارے مسائل سے کیسے جان چھراؤں؟
کون سا مسئلہ ہے؟ آپ مجھے بتائیں؟ آپ مجھے ہمیشہ اپنا خیرخواہ پائیں گی۔
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر ایک فیصلے پر پہنچ کر کہنے لگی۔
اگر کوئی آپ کو بلیک میل کرنے لگے تو کیا کرنا چاہیے؟
بلیک میلر ایک بے نتھے بیل کی طرح ہوتا ہے حیا! اس سے بھاگیں گی تو وہ آ پ کا تعاقب کرے گا اور تھکا تھکا کر مار دے گا۔ سو اس سے کمر کر کے بھاگنے کی کے بجائے اس کا سامنا کریں اور آگے بڑھ کر اس کو سینگوں سے پکڑ لیں۔ دنیا کا کوئی ایسا بلیک میلر نہیں ہے جس کی اپنی کوئی ایسی کمزوری نہ ہو، جس پہ اسے بلیک میل نہ کیا جاسکے۔
آپ کی کمزوری کیا ہے؟
بہت سی ہیں۔ کمزوریاں پوچھی نہیں۔ تلاشی جاتی
ہیں۔ لیکن میں بلیک میلر نہیں ہوں۔
اگر مجھے آپ کی کمزوری تلاشنی ہوتی تو پوچھتی نہیں۔ اس نے ذرا محفوظ سے انداز میں جتایا ۔
ویسے وہ پزل باکس مجھے کس نے بھیجا تھا؟ وہ جوابا خاموش رہا۔
میجر احمد! میرا خیال ہے اب ہم یہ ڈمب گیم بند کر دیں اور یہ بات تسلیم کر لیں کہ آپ مجھ سے ایک خواجہ سرا بن کر ملتے رہے ہیں۔ اس نے پنکی کے بجائے خواجہ سرا کہنا مناسب سمجھا۔
میں تسلیم کرتا ہوں۔
آپ پنکی تھے مگر ڈولی کون تھا؟
اے آر پی کی ماں نے بتایا تو تھا آپ کو۔
کیا میں نے کبھی ڈولی کا اصلی چہرہ دیکھا ہے؟
نہیں، آپ اسے نہیں جانتیں۔
وہ باکس مجھے ڈولی نے بھیجا ہے مگر اس کی پہیلی، وہ کس نے لکھی تھی؟ کون لکھتا ہے یہ پہیلیاں؟ کیا آپ لکھتے ہے؟ وہ خاموش رہا۔
مجیر صاحب! مجھے سچ سچ بتا دیں۔ ویسے میں جانتی ہوں کہ وہ آپ ہی لکھتے ہیں۔ آپ جیسے لوگ منظر عام پہ آنے کی بجائے پس منظر میں بیٹھ کر عقل کی ڈوریں ہلاتے رہتے ہیں۔
جی، وہ میں ہی لکھتا ہوں۔
وہ کریمی آئی، والی پہیلی بھی آپ نے لکھی تھی، بلکہ آپ سے لکھوائی گئی تھی؟
جی وہ میں نے ہی لکھی تھی۔ ویسے پزل باکس کھول لیا آپ نے؟ اس نے پہلی دفعہ مجیر احمد کی آواز میں سرسری سا تجسس محسوس کیا۔ کیا اس کی کمزوری اس کے ہاتھ میں آنے لگی تھی؟
جی کھول لیا اور مجھے وہ مل گیا جو ڈولی مجھ تک پہنچانا چاہتا تھا۔
وہ بالوں کی لٹ انگلی پہ لپیٹتی بڑے اطمینان سے کہہ رہی تھی۔ اپنی بات کے اختتام پہ اس نے واضع طور پہ کرسی کے پہیوں کی آواز سنی، جیسے ریوالونگ چیئر پہ ٹیک لگا کر بیٹھا مجیر احمد کرنٹ کھا کر آگے کو ہوا تھا۔
واقعی؟ اس کی آواز میں محتاط سی حیرت تھی۔
جی! پہیلی آسان تھی۔ میں نے بوجھ لی۔ ویسے جو اس میں تھا، وہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اور اس نے مجھ پر ایک بہت حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔
جو باکس میں تھا، وہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور اس نے آپ پر ایک انکشاف کیا ہے؟ وہ رک رک کر اس کے الفاظ دہرا کر جیسے تصدیق چاہ رہا تھا۔
جی بلکل!
جوابا وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
نہیں! آپ سے ابھی تک وہ باکس نہیں کھلا، لیکن مجھے آپ کا یوں ذہن استعمال کر کے مجھے گھیر کر کچھ اگلوانے کی کوشش اچھی لگی۔
حیا نے تلملا کر موبائل کو دیکھا۔ اسے کیسے پتا چلا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے؟
اچھا مجھے نیند آ رہی ہے۔ وہ ذرا بےزاری سے بولی۔
آپ بے شک سو جائیں مگر پلیز فون بند مت کیجئے گا۔ وہ جیسے التجا کر رہا تھا۔
جب میں کچھ بولوں گی ہی نہیں تو آپ کیا سنیں گے؟
میں آپ کی خاموشی سنوں گا۔
میں سو رہی ہوں۔ بائے!ئے اس نے تکیے پہ سر رکھتے ہوئے “جان چھوڑو” والے انداز میں کہا، مگر پھر اس نے واقعی موبائل بند نہیں کیا۔ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے دوسرا بازو آنکھوں پہ رکھے وہ کب سو گئی اسے علم نہیں ہوا۔
صبح اٹھتے ہی اس نے موبائل چیک کیا تو میجر احمد کی کال کا دورانیہ تین گھنٹے اور بیس منٹ لکھا آ رہا تھا۔ وہ دم بخود رہ گئی۔ اس نے تو بامشکل دس منٹ میجر محمد سے بات کی تھی، تو کیا تین گھنٹے وہ اس کی خاموشی سنتا رہا تھا؟ عجیب آدمی تھا یہ بھی!
* * *
پھر جس روز اس نے عائشے کے ساتھ ان دونوں بہنوں کے کمرے کی سیٹنگ تبدیل کرنے پروگرام بنایا، اس صبح اس نے جہان کو اپنا نمبر میسج کر دیا بغیر کسی بات کے۔
جب وہ عائشے کے ہمراہ بڑا بیڈ اندر رکھ کر اور چھوٹا بیڈ باہر نکال کر، شاور لینے کے بعد تولیے کے ساتھ بال تھپتھپا کر سکھاتی باہر آئی تو بیڈ پر رکھا اس کا موبائل بج رہا تھا۔
“جہان کالنگ”۔
اماں سے جب اس نے جہان کا نمبر لیا تھا تو صرف موبائل میں محفوظ ہی نہیں کیا بلکہ زبانی یاد بھی کر لیا۔ اگر کبھی دوبارہ۔۔۔۔۔
السلام وعلیکم! اس نے ایک دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ فون کان سے لگایا۔ دوسرے ہاتھ سے وہ تولیہ نرمی سے گیلے بالوں میں رگڑ رہی تھی۔
وعلیکم السلام! کیسی ہو؟ وہ بھی دوسری طرف سے جیسے بہت اچھے موڈ میں تھا۔
“بہت اچھی اور تم”؟
جیسا پہلے تھا۔ اور تم فون ٹھیک کرالیا؟ ممی کہہ رہی تھیں، تمہارا فون خراب ہو گیا تھا۔
ہاں، بہت کچھ خراب ہو گیا تھا۔ ویسے ابھی ایک دو روز پہلے نیا فون لیا ہے۔ وہ تولیہ کرسی کی پشت پر ڈالتے ہوئے بولی۔
پھر تو بہت جلدی نمبر دے دیا تم نے۔
مجھے توقع نہیں تھی کہ کسی کو مجھ سے بات کرنے کی جلدی ہو گی، اس لیے۔
اچھا! اپنے یہ طنز چھوڑو، مجھے بتاو، تم ڈورم میں ہو؟ میں ذرا مضافات میں آیا ہوا تھا، تمہارے کیمپس سے دس منٹ کی ڈرائیو پر ہوں۔ چلو پھر ساتھ لنچ کرتے ہیں۔
اسی پل عائشے کچھ لینے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کہ چہرے کے تاثرات دیکھ کر رک گئی۔ وہ متذبذب سی فون پر کہہ رہی تھی۔
نہیں، میں۔۔۔۔۔۔ ابھی کیمپس تو۔۔۔۔۔۔
عائشے نے لمحے بھر کو غور سے اسے دیکھا پھر جیسے سمجھ کر سر ہلاتی آگے آئی اور رائیٹنگ ٹیبل پر رکھے مگ میں سے پین نکالا۔ نوٹ پیڈ کے اوپری صفحے پر کچھ لکھ کر اس نے پیڈ اسے تھمایا۔ پھر خود باہر چلی گئی۔ حیا نے رک کر صفحے پر لکھے الفاظ پڑھے۔
سچ سے بہتر جواب کوئی نہیں ہوتا۔”
حیا! دوسری جانب وہ پوچھ رہا تھا۔
جہان! میں بیوک ادا میں ہوں۔ وہ پیڈ پکڑے، اس پہ لکھی تحریر کو دیکھتے ہوئے بولی۔
اوہ، فرینڈ ٹریپ تھا کوئی؟ مجھے پہلے بتا دیتیں تو۔۔۔
میں ادھر کچھ دن سے رہ رہی ہوں۔ میری فرینڈ کا گھر ہے ادھر۔ اور پھر تمہیں کیا بتاتی، تم تو ہمیشہ مصروف ہوتے ہو۔ اس نے حملے کا رخ بدلا تو وہ دفاعی پوزیشن میں آگیا۔
اتنا مصروف کہاں ہوتا ہوں؟
پھر کل ملتے ہیں۔ تم کل بیوک ادا آجاؤ کیونکہ میں تو چند دن اپنی فرینڈ کے ساتھ ادھر ہی رہوں گی۔
کل میں مصروف ہوں۔
اچھا پرسوں؟”
میں اگلا سارا ہفتہ مصروف ہوں۔ تم اپنی فرینڈز کے ساتھ انجوائے کرو، میں کام کرتا ہوں۔ اللہ حافظ۔ اس نے ٹھک سے فون رکھ دیا تھا۔
جہان! اس نے جھنجھلا کر موبائل کان سے ہٹایا۔ اس شخص کا کوئی پتا نہیں چلتا تھا کہ اسے کب کیا برا لگ جائے۔
باہر سے بہارے پھر سے آوازیں دینے لگی تھی۔
حیا۔۔۔۔۔! یہ کریمی آئی کیا ہے؟ کوئی ہنٹ دے دو۔
جو بوجھے گا، گفٹ اسی کا ہو گا۔ اس نے جوابا زور سے آواز دی۔ بہارے فورا خاموش ہو گئی۔ عبدالرحمن کا تحفہ کسی دوسرے سے شیئر کرنے کا تصور بھی اس کے لیے سوہان روح تھا۔
* * *
اس صبح وہ ابھی گہری نیند میں تھی جب اس کا موبائل اچانک بجنے لگا۔ چمکتی اسکرین پہ جہان کا نام جل بجھ رہا تھا۔ اس نے خمار آلود سا ہیلو کہتے ہوئے فون کان سے لگایا۔
میں فیری سے بیوک ادا آ رہا ہوں، تم پورٹ پہ پہنچ جاو۔
کیا؟ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ تم آرہے ہو؟ اس کے لہجے میں سارے زمانے کی خوشی در آئی تھی۔
ہاں، میں نے سوچا، بندے کو اتنا مصروف بھی نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہنس کر بولا۔
وہ لحاف پھینک کر باہر کو بھاگی۔ عائشے کچن میں کام کرتی نظر آرہی تھی۔ بہارے کرسی پہ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔
آج تم جنگل نہیں جاؤ گی، بس میں نے کہہ دیا، حلیمہ آنٹی نے ہے کہا تمہیں پورا سبق دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
مگر عائشے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہارے نے منہ بسور کر پلیٹ پرے ہٹائی۔
عائشے! مجھے پورٹ جانا ہے۔ وہ بھاگتی ہوئی چوکھٹ میں آن رکی۔ میرا کزن آ رہا ہے۔ استنبول سے۔
ٹھیک ہے، پھر ہم پہلے پورٹ چلے جائیں گے۔
ٹھیک! وہ اپنی خوشی چھپاتی تیار ہونے واپس بھاگ گئی۔
دو روز قبل حلیمہ آنٹی نے عائشے کے ہاتھ اس کے لیے ایک میرون رنگ کا شیشوں کے کام والا کرتا بھیجا تھا۔ اس نے نیلی جینز پہ وہی گھٹنوں تک آتا کرتا پہن لیا اور گیلے بال کھلے چھوڑ دیے۔ کندھوں پہ اس نے عائشے کا میرون پونچو پہن لیا تھا۔
بہارے کو حلیمہ آنٹی کے پاس چھوڑ کر وہ دونوں فیری پورٹ پر آ گئیں، فیری ابھی پانچ منٹ قبل پہنچا تھا۔ ٹورسٹس کا ایک بحر بیکراں اس سے اتر رہا تھا۔ وہ آنکھوں پہ ہاتھ کا سایہ کیے، فیری سے اترتے لوگوں کو متلاشی گناہوں سے دیکھنے لگی، تب ہی اسے جہان نظر آ گیا۔
وہ نیلی جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سامنے سے چلتا ہوا آ رہا تھا، اس نے بھی اوپر میرون سوئٹر پہن رکھا تھا، جہان کو اپنے قریب دیکھ کر وہ بے اختیار مسکرا دی۔
جہان! اوور ہیئر! اس نے ہاتھ اونچا کر کے ہلایا۔ جہان نے دیکھ لیا تھا، تب ہی دھیما سا مسکراتا ہوا ان کی طرف آ گیا۔
واو! تم تو ٹائم پہ پہنچ گئیں۔
تھینکس۔ یہ میری فرینڈ ہے عائشے گل۔ میں اسی کے ساتھ رہ رہی ہوں اور عائشے! یہ میرا کزن ہے، جہان سکندر۔
السلام وعلیکم! عائشے نے اپنے نرم، ازلی خوش اخلاق انداز میں سلام کیا۔
وعلیکم اسلام! اس نے مسکراتے ہوئے سر کو جنبش دی۔ تو تم ان کی بن بلائی مہمان بنی ہوئی ہو؟
ارے نہیں، بن بلائی کیوں؟ ہم نے تو خود حیا کو بصد اصرار چند دن ادھر رکنے کا کہا تھا۔ عائشے ذرا جھینپ گئی۔
پھر تھوڑی دیر ہی وہ رک پائی کہ اسے جنگل جانا تھا۔وہ چلی گئی تو وہ دونوں بندرگاہ سے ہٹ کر سڑک کی طرف آ گئے۔ میرون اور نیلے رنگ میں ملبوس، وہ سڑک کے کنارے چلتے بالکل ایک سے لگ رہے تھے۔
تمہارا فون اتنی افراتفری میں آیا کہ میں ناشتہ بھی نہیں کرسکی۔” مین بازار میں ریسٹورنٹس کے کھلے فرنٹس سے اشتہا انگیز سی خوشبو باہر آرہی تھی۔ “پھر جاؤ، اور میرے لیے بھی ناشتہ لے آؤ۔ مگر پے میں کروں گا۔” اس نے والٹ نکال کر چند نوٹ نکالے۔
“ترک رسم و رواج کے مطابق ادائیگی ہمیشہ میزبان کرتا ہے اور ادھر میزبان میں ہوں جہان!”
چھوڑو ترک رسوم کو۔ ہم پاکستانی ہیں۔
“شکر۔ تمہیں یاد تو رہا۔” اس نے نوٹ پکڑے اور ریسٹورنٹس کی قطار کی سمت چلی گئی۔
وہاں سڑک کے ایک طرف ریسٹورنٹس تھے تو دوسری طرف قطار میں بنچ اور میزیں ایسے لگی تھیں جیسے کسی چرچ لگی ہوتی ہیں۔ درمیان میں کھلی، سرمئی سڑک تھی جو گزشتہ رات کی بارش سے ابھی تک نم تھی۔
جہان ایک بنچ پہ بیٹھ گیا اور کہنیاں میز پہ رکھ کر دونوں مٹھیاں باہم ملا کر ہونٹوں پہ رکھے اسے دیکھنے لگا، جو سڑک کے پار ایک ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ چند ثانیے بعد جب وہ پلٹی تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں کافی کے کپ اور سینڈوچز رکھے تھے۔ اس نے سڑک پار کی اور ٹرے میز پہ جہان کے سامنے رکھی۔
“شکریہ۔” اس نے مسکرا کر کہتے ہوۓ ایک کپ اٹھا لیا۔
“اور اب تم واپس استنبول آجاؤ۔ بہت رہ لیا ادھر۔” “کیوں؟” کافی کا کپ لبوں تک لے جاتے ہوۓ وہ بےساختہ رکی تھی۔
“ممی تمہیں یاد کر رہی تھیں۔”
“صرف ممی؟” اس نے آزردگی سے سوچا، پھر سر جھٹک کر پھیکا سا مسکرائی۔
“تو پھر جہان سکندر ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے مجھ سے ملنے آنے کا احسان کتنے دن تک جتائیں گے۔”
قریبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہان مسکرا کر کچھ کہتے کہتے رکا، اس کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔
“تمہاری آنکھ پہ کیا ہوا ہے؟” اس کی نگاہیں حیا کے چہرے پر سے پھسلتی گردن پہ جا ٹکیں۔ اور ہونٹ، اور گردن پہ؟ تمہیں چوٹ لگی ہے؟
“ہاں، بہت گہری چوٹ لگ گئی تھی۔
کیسے؟ وہ ذرا تفکر سے کہتا آگے کو ہوا اور کپ میز پہ رکھا۔
میں گر گئی تھی۔ بہت بری طرح سے گر گئی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بھی کہیں دور چلی گئی تھی۔
“اوہ۔ اب ٹھیک ہو؟”
حیا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔”
اور یہ تم نے اپنی عمر سے اتنی چھوٹی لڑکی سے دوستی کرنا کب سے شروع کر دی؟
“جب سے اپنی عمر والی ساتھ چھوڑ گئی۔”
ایک بوجھل سی خاموشی دونوں کے درمیان حائل ہو گئی۔ ایک نہ ختم ہونے والے کرب نے سڑک کنارے لگے بنچز کی قطار کو گھیرے میں لے لیا۔ قریب میں ایک بچہ تین گیندیں جو موٹے موٹے زرد لیموں سے مشابہہ تھیں، یوں اچھالتے ہوئے چلا آ رہا تھا کہ کوئی گیند گرنے نہ پاتی تھی۔
“خیر۔ یہ دو بہنیں عمر میں اتنی چھوٹی نہیں ہیں۔ بس چہرے سے لگتی ہیں۔ عائشے بیس سال کی ہے اور چھوٹی بہارے نو سال کی۔ انہوں نے میری مدد کی تھی، یوں ہماری دوستی ہو گئی۔”
کیسی مدد؟
“میرے بالوں پہ کچھ گر گیا تھا، حادثاتی طور پہ، وہ عائشے نے اتار دیا۔ مگر تم فکر نہ کرو، اب سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا ہے۔”
مگر کچھ تو بدلا ہے حیا! وہ کافی کےگھونٹ لیتا ذرا الجھن سے اس کو دیکھ رہا تھا۔
‏”ہاں، کچھ تو بدلا ہے۔” وہ اثبات میں سر ہلا کر گیندوں کا کرتب دکھاتے لڑکے کو دیکھنے لگی۔
ایک ڈولی تھا جو کسی نگران فرشتے کی طرح اس کا پہرہ دیا کرتا تھا، ایک میجر احمد تھا جو اس کی خاموشی سننے کے لیے تین گھنٹے فون کان سے لگاۓ رکھتا تھا، ایک عبدالرحمن تھا جو دوسرے ملک میں ہونے کے باوجود اس کی مدد کے لیے آتا تھااور ایک جہان سکندر تھا جو اس کی وضاحت پر مطمئن ہو جاتا تھا، جو اس کے چہرے کے زخم تو دیکھ سکتا تھا
مگر ان کے پیچھے اس کی جلی ہوئی روح اسے نظر نہیں آتی تھی، جو نظر آتا ہے وہ تو سب دیکھ لیتے ہیں، جو نہیں نظر آتا وہ کوئی کوئی ہی دیکھ سکتا ہے اور جہان ایسے لوگوں میں شامل نہیں تھا۔
دفعتا میسج ٹون بجی تو جہان نے موبائل جیب سے نکالا اور دیکھا۔
“ممی کو بتا کر نہیں آیا تھا، ان کی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔” وہ پیغام کا جواب ٹائپ کرتے ہوۓ مسکرا کر کہنے لگا۔
“تم جتنی ان کی مانتے ہو، میں جانتی ہوں۔”
وہ مجھ سے کچھ منواتی نہیں ہیں، ورنہ شاید میں ان کی واقعی مانتا۔” اس نے پیغام بھیج کر سیل فون وہیں میز پر ڈال دیا۔ حیا نے ایک نظر اس کے فون کو دیکھا۔
“تو وہ سم ون اسپیشل کون تھا جس نے تمہیں یہ فون گفٹ کیا تھا؟”جہان نے موبائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔”
“تو وہ سم ون اسپیشل کون تھا جس نے تمہیں یہ فون گفٹ کیا تھا؟” جہان نے موبائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔
“یہ تم رکھ لو، میں اور لے لوں گا۔ اتنے سوال پوچھتی ہو نا تم میرے فون کے بارے میں۔” حیا نے فون اس کے ہاتھ سے لے کر واپس میز پر رکھا۔
“بات کو ٹالو مت۔ میرے سوال کا جواب دو۔”
”نہیں، تم فکر نہ کرو، کسی لڑکی نے نہیں دیا تھا۔ یہ میرا آفیشل فون تھا، میری جاب کا فون۔ میرےباس نے دیا تھا۔
“تمہاراباس؟” اس کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔ “مگر تم تو اپنا کام کرتے ہونا؟”
ہمیشہ سے تو اپنا نہیں کرتا تھا۔ یہ ریسٹورنٹ تو ڈیڑھ دو سال پہلے کھولا تھا، اس سے پہلے تو بہت سی جابز کی ہیں۔” وہ زرد گیندیں اچھالتے بچے کو دیکھ کر دھیما سا مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا نرم سا تاثر تھا جو حیا نے صرف ایک دفعہ پہلے دیکھا تھا۔ جیسے وہ کچھ یاد کر رہا تھا۔ کوئی گم گشتہ قصہ۔
“ایک بات کہوں جہان؟ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اپنی جاب اور اپنا باس بہت پسند تھا۔” وہ بغور اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوۓ بولی تو جہان نے بری طرح سے چونک کر اسے دیکھا۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا؟”
کیونکہ ابھی اپنے باس اور جاب کا ذکر کرتے ہوۓ تمہاری آنکھوں میں جو چمک اور جو محبت در آئی ہے نا، یہ میں نے پہلے تب دیکھی تھی جب تم ہمارے کچن میں مجھے اس اسپیشل گفٹ کے بارے میں بتا رہے تھے اور اب بھی یہ سب کہتے ہوۓ تمہارا چہرہ ایک دم سے اتنا ‏glow‏ کرنے لگ گیا کہ مجھےلگا اس ذکر سے وابستہ کوئی خاص یاد تمہارے ذہن میں چل رہی ہے۔
“تم تو چہرے پڑھنے لگ گئی ہو۔” وہ جیسے سنبھل کر مسکرایا۔
“بتاؤ نا، تمہیں اپنی پچھلی جاب بہت پسند تھی؟” ہاں، بہت زیادہ۔ بڑے عیش تھے تب، اپنی راجدھانی، اپنی جگہ کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔” وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو ہموار رکھے۔ دوبارہ “کہیں”
پیچھے نہ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تو وہ جاب کیوں چھوڑ دی؟”
بعض دفعہ انسان کو بہت کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اپنی سلطنت سے خود کو خود جلاوطن کرنا پڑتا ہے۔ ان شہزادوں کے جزیروں کو ترکی میں “ادالار” ‏Adalar کہ­­­تے ہیں کیونکہ یہاں ان شہزادوں کو جلاوطن کر کے بھیجا جاتا تھا جو سلاطین­­­ کو اپنے تخت کے لیے خطرہ لگتے تھے۔” وہ بات کو کہیں اور لے گیا۔
ہاں، اور میں سوچتی ہوں جہان! وہ جلا وطن شہزادے اپنے پرانے شاہانہ دور کو ک­­تنا یاد کرتے ہوں گے۔”
او­ر­ جو خود کو خود ہی جلاوطن کرتے ہیں، ان کی یاد میں تکلیف بھی در آتی ہو گی۔” پھر اس نے دھیرے سے سر جھٹکا۔ “آؤ سمندر پہ چلتے ہیں۔”
کچھ دیر بعد وہ دونوں ساحل سمندر پہ پتھروں کی قطار پہ چل رہے تھے۔ ہوا سے حیا کے بال اڑ اڑ کر جہان کے کندھے سے ٹکرا رہے تھے مگر وہ انہیں نہیں سمیٹ رہی تھی۔ وہ بھی خاموشی سے جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکاۓ قدم اٹھا رہا تھا۔
“تمہارا ریسٹورنٹ­­ کیسا جا رہا ہے؟”
رینوویشن کروا رہا ہوں اور میری لینڈ لیڈی بھی کوئی لائر (وکیل)کر رہی ہے میرے خلاف۔ میری یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے پاس ایک دم سے خود کا اتنا پیسہ کہاں سے آگیا کہ وہ اتنا مہنگا لائر کرسکے۔”
حیا کا دل آزردگی کے سمندر میں ڈوب کر ابھرا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا تھا۔ وہ سب اس کی غلطی تھی۔
“تو تم اب کیا کرو گے؟”
آج کل بس چھپا ہوا ہوں، اسی لیے ریسٹورنٹ سے
بھاگ کر ادھر آگیا ہوں۔ ذرا لو پروفائل رکھی ہوئی ہے۔” وہ دھیرے سے ہنس کر بولا۔
تم اس سے اتنا ڈرتے ہو؟”
ڈرتا تو میں فرقان ماموں اور صائمہ مامی کے سوا کسی سے نہیں ہوں۔” سمندر کی ایک تیز لہر آئی اور ان کے قدموں کو بھگو کر واپس پلٹ گئی۔
“اوہ فرقان ماموں کی بیٹی کی منگنی ہو رہی ہے۔” اسے اچانک یاد آیا۔ حیا حیرت سے رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“ارم کی؟ کب؟ کس سے؟”
کل رات مامی کا فون آیا تھا ممی کو۔ انہوں نے ہی بتایا تھا۔ فنکشن تو معلوم نہیں کب ہے، البتہ رشتہ طے ہو گیا ہے۔
“مگر کس سے؟”
فرقان ماموں کے کسی دوست کی فیملی ہے۔ زیادہ تفصیل مجھے نہیں معلوم!” وہ شانے اچکا کر بولا۔ وہ دونوں پھر سے چلنے لگے تھے۔ (ارم نہیں مانی ہو گی، تایا نے ذبردستی کی ہو گی) وہ یہی سوچ رہی تھی۔ “تمہیں پتا ہے جہان! اماں، ابا اور تایا­­­، تائی کی بڑی خواہش تھی کہ ارم کا رشتہ روحیل سے ہو۔ اب پتا نہیں تایا، تائی نے کہیں اور کیوں کر دیا رشتہ۔”
”مگر روحیل تو….” وہ کچھ کہتے کہتے ایک دم رکا۔ زندگی میں پہلی بار اسے لگا کہ جہان کے لبوں سے کوئی بات غیر ارادی طور پہ پھسلی تھی۔
“مگر روحیل کیا؟” وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ روحیل کی تو ابھی کافی اسٹڈیز رہتی ہیں۔ وہ بات بدل گیا تھا، وہ شرطیہ کہہ سکتی تھی۔
“روحیل کی پڑھائی ختم ہو چکی ہے، جب میں پاکستان واپس جاؤں گی، وہ تب آنے والا ہی ہو گا۔” جوابا جہان نے ایک گہری پرکھتی نظر اس پر ڈالی۔ “تمہارا روحیل سے رابطہ ہے جہان؟ پھپھونے ایک دفعہ بتایا تھا کہ تم لوگ ان ٹچ ہو۔” اس نے اپنی پرانی الجھن کو الفاظ پہنا دیے۔
“ہاں کبھی کبھی بات ہو جاتی ہے۔ میں اس سے ملا تھا امریکہ می۔
“اچھا؟ کب؟ اس نے تو نہیں بتایا۔” وہ خوشگوار حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“پرانی بات ہے۔ تین سال تو ہو ہی گۓ ہیں۔” وہ شانے اچکا کر بولا۔ اسے بہت حیرت ہوئی تھی۔
ایک تو پتہ نہیں اس کے گھر والوں کو ہر بات اپنے تک محدود رکھنے کی عادت کیوں تھی۔ ابھی پاکستان میں اس نے اماں سے سکندر انکل کے کیس کا پوچھا تو اسے معلوم ہوا کہ اماں ابا کو سب پتا تھااور اب، روحیل جہان سے مل بھی چکا تھا مگر اس نے کبھی نہیں بتایا۔ آج تو وہ روحیل سے ضرور پوچھے گی۔ اس نے تہیہ کر لیا تھا۔
لہریں اسی طرح امڈ امڈ کر ان کے پیر چھو رہی تھیں۔
“جہان! تم نےکبھی سیپ چنے ہیں؟”
یہاں سیپ ہوتے ہیں؟ وہ ذراحیران ہوا۔
“ہاں، تمہیں نہیں پتا؟ آؤ­ سیپ چنتے ہیں۔ ان سے موتی نکلیں گے؟”
واقعی؟
“اب دیکھتے ہیں کہ تمہارا موتی نکلتا ہے یا نہیں۔” وہ چیلنجنگ انداز میں مسکراتی آگے بڑھ گئی۔
ان دونوں کو ایک ایک سیپ ہی ملی۔ حیا نے دور بیٹھے ٹورسٹس کی ٹولی سے ایک بڑا چھرا لیا جو وہ فروٹ کاٹنے کے لیے لاۓ تھے اور جہان کے پاس واپس پتھروں پہ آ بیٹھی۔
پہلے اس نے اپنی سیپ کھولی۔ وہ خالی تھی۔ مولسک پہ قطرے لگے ہوئے تھے، اس نے مایوسی سے چھرا جہان کی طرف بڑھا دیا۔
جہان نے بلیڈ سیپ کے خول کے درز میں رکھ کر احتیاط سے اسے کاٹا اور کتاب کی مانند اسے کھول لیا۔ حیا نے گردن آگے کر کے دیکھا۔ مولسک کے خون آلود لوتھرے کے عین اوپر قطار میں مٹر کے دانوں جتنے تین سفید موتی جگمگا رہے تھے۔
وہ متحیر سی ان چمکتے موتیوں کو دیکھ رہی تھی۔ جہان نے چھری کی نوک سے موتی اکھاڑے، ان کو پانی سے دھویا اور جیب سے ایک ٹشو نکال کر ان میں لپیٹا۔
“یہ تمہارے ہوۓ۔”
اس نے ٹشو حیا کی طرف بڑھایا۔
اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔
“تم اتنے قیمتی موتی کسی دوسرے کو کیسے دے سکتے ہو؟” وہ ابھی تک اسی لمحے کے زیر اثر تھی۔ “یہ لڑکیوں کے شوق ہوتے ہیں۔ میں ان کا کیا کروں گا۔ وہ لاپروائی سے بولا تھا۔
“تمہیں نہیں معلوم کہ اگر یہ بہارے گل کے نکلتے تو اس کے لیے کتنے قیمتی ہوتے۔ اس کی ذندگی کا واحد “مسئلہ” موتی ہیں جو اس کی سیپ سے کبھی نہیں نکلتے۔” اس نے بے دلی سے ٹشو تھام لیا۔ اسے اپنے نکلے موتیوں سے زیادہ خوشی کوئی شے نہیں دے سکتی تھی۔
* * *
شام میں وہ عائشے کے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی، روحیل سے اسکائیپ پہ بات کر رہی تھی۔ جہان دوپہر میں ہی واپس چلا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سیدھی گھر آ گئی تھی۔
جب تک روحیل آن لائن نہیں ہوا وہ سوچتی رہی تھی کہ تین سال پرانی بات روحیل نے کیوں نہیں بتائی۔تین سال پہلے کیا کبھی اس نے اشاروں کنایوں میں بھی بتایا کہ اسے سبین پھپھو کا بیٹا ملا تھا۔ اس کی ہر سوچ کا جواب نفی میں تھا۔ تین سال پہلے ان کی زندگیوں میں کیا ہو رہا تھا؟ وہ شریعہ اینڈ لاء کے دوسرے سال میں تھی۔ ان کے ایک دور کے چچا کی شادی ہوئی تھی، اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔ روحیل نے ایک دن بہت ہنگامی انداز میں کال کر کے ابا سے پیسے مانگے تھے۔
وہ ایک دم سے چونکی۔ تین، ساڑھے تین سال قبل ایک دن روحیل کا اچانک ہی فون آیا تھا، اس نے ابا سے دو یا تین لاکھ روپے منگواۓ تھے۔
“ابا! میں جھوٹ نہیں بول رہا، مجھے واقعی ضرورت ہے۔”
اور ہر “کیوں” کے جواب میں وہ یہی کہتا کہ پاکستان آ کر بتاؤں گا۔
حیا کو اس کی پریشانی دیکھ کر پکا یقین تھا کہ اس نے کسی دوست کی کوئی قیمتی شے گم کر دی ہے اور اسی کی قیمت بھرنے کے لیے مانگ رہا ہے۔ پھر پتا نہیں روحیل نے ابا کو وجہ بتائی یا نہیں مگر اب سارے معاملے کو دوبارہ یاد کرتے ہوۓ وہ سوچنے لگی کہ کیا ان دو واقعات کا کوئی باہمی تعلق تھا؟سیدھا سیدھا پوچھا ت­و روحیل شاید چھپا جاۓ، سو اسے اند­ھیرے میں نشانہ باندھنا پ­ڑے گا۔
روحیل آن لائن آ گیا تھا اور اب اس کا چہرہ اسکرین پر نظر آ رہا تھا۔ رسمی باتوں کے بعد اس نے بغیر کسی تمہید کے پوچھا۔
“تم نے جہان کا کون سا نقصان بھرنے کے لیے ابا سے پیسے منگواۓ تھے؟”
لمحے بھر کو تو روحیل کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے، پھر وہ ذرا حیرت سے بولا۔
“یہ تم سے کس نے کہا ہے؟”
تم پہلے میرے سوال کاجواب دو۔ تم سے جہان کا کوئی نقصان ہوا تھا نا؟ جب وہ تمہارے پاس امریکہ آیا ہوا تھا تو تم نے ابا سے پیسے منگواۓ تھے۔” اندر ہی اندر وہ خود بھی گڑبڑا رہی تھی، کیا پتا ایسی کوئی بات ہی نہ ہو۔
“تم سے یہ جہان نے کہا ہے؟” وہ اچنبھے سے پوچھ رہا تھا۔
جس نے بھی کہا ہو، تم میرے سوال کاجواب دو، روحیل۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے شش و پنج میں ہو۔
“تم جہان سے کیوں نہیں پوچھ لیتیں؟”
وہ سب کچھ بتا چکا ہے مگر تم سے اس لیے پوچھ رہی ہوں تاکہ یہ جان سکوں کہ میرا بھائی مجھ سے کتنا جھوٹ بول سکتا ہے؟” تلخ لہجے میں کہہ کر اس نے روحیل کے چہرے کو دیکھا۔ وہاں واضح تلملاہٹ در آئی تھی۔ جذباتی بلیک میلنگ کام کرگئی تھی۔ “بات جھوٹ بولنے کی نہیں ہے اور مجھے پتا ہے اس نے تمہیں کچھ نہیں بتایا، وہ بتاۓ گا بھی نہیں کیونکہ اس نے مجھے بھی منع کر رکھا تھا۔ پھر بھی، میں­ تمہیں بتاۓ دیتا ہوں۔” پھر وہ ذرا توقف سے بولا۔ “وہ ایک رات کے لیے بہت اچانک میرے پاس آیا تھا، اس کے بائیں کندھے پر گولی لگی تھی اور اسے بروقت طبی امداد چاہیے تھی، مگر وہ ہسپتال نہیں جانا چاہتا تھا، سو اس کے کہنے پہ میں نے اپنی ایک ڈاکٹر فرینڈ کو بلایا جو تب اپنی ریزی ڈینس کر رہی
تھی۔ اس نے میرے اپارٹمنٹ میں پہ جہان کو ٹریٹ کیا اور بینڈیج وغیرہ کیا۔ پھر جہان نے مجھے بس اتنا بتایا کہ اس کے پیچھے کوئی ہے اور وہ کسی سے بھاگتا پھر رہا ہے۔ اس کے پاس ترکی کے ٹکٹ کے لیے پیسے بھی نہیں تھے، سو اس کے پیسے مانگنے پہ میں نے ابا سے کہہ کر راتوں رات پیسے ارینج کیے تھے۔ وہ صبح ہوتے ہی واپس ترکی چلا گیا پھر ہفتہ بعد ہی اس نے پیسے واپس بھجوا دیے۔ بس یہی بات تھی۔
وہ حق دق سنے جا رہی تھی۔
ابا کو پتا ہے اس بات کا؟
نہیں اور تم بھی مت بتانا۔ وہ پہلے ہی جہان سے متنفر رہتے ہیں۔ یہ بات بتائی تو۔۔۔۔۔۔
وہ تو بس جہان کی لاپروائی کی وجہ سے اس سے کھنچے کھنچے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔
نہیں، وہ کسی اور بات پہ اس سے برگشتہ تھے، اب مت پوچھنا کہ وہ کیا بات تھی۔ میں ابھی جلدی میں ہوں، بعد میں بتا دوں گا، مگر اتنا یقین رکھو کہ وہ جس زخمی حالت میں میرے پاس آیا تھا، مجھے وہ اسی دن سے اچھا لگنے لگا تھا اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سچ بول رہا تھا جب اس نے اس رات مجھے کہا تھا کہ روحیل، آئی ایم ناٹ دی بیڈ گاۓ، بلکہ جو میرے پیچھے ہیں، وہ برے ہیں۔”
اور وہ دوسری بات؟” اس نے اصرار کرنا چاہا مگر روحیل اسے کوئی موقع دیے بغیر میز سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگا۔ اسے باہر جانا تھا اور وہ جلدی میں تھا۔ حیا نے بےدلی سے لاگ آؤٹ کیا۔ اس کا دل ایک دم بہت بوجھل ہو گیا تھا۔
اس کے گھر والےاس کو چھوٹا سمجھ کر اس سے اتنی باتیں چھپاتے کیوں تھے آخر؟
* * *
عائشے نے لیٹتے ہوۓ بہارے ­پہ کمبل برابر کیا، پھر ایک نظر اسے دیکھا جو بہارے کے اس طرف لیٹی، چھت کو تکے جا رہی تھی۔ وہ تینوں یوں سوتیں کہ بہارے درمیان میں ہوتی۔
“عائشے!” اس نے عائشے کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کیا تھا یا شاید وہ اسے پکارنے کا ارادہ پہلے سے رکھتی تھی۔
“کہو!” عائشے پہلو کے بل لیٹی، نرمی سے بہارے کے گھنگھریالے بالوں کو سہلا رہی تھی۔
“میری سیپ سے موتی کیوں نہیں نکلتے؟ میں اتنا جھوٹ تو نہیں بولتی۔” وہ چھت کو تکتی کہنے لگی۔ “تم بہارے کے فلسفے کو ذہن سے نکال دو۔ یہ تو رزق ہوتا ہے۔ کبھی نکل آتا ہے تو کبھی نہیں۔”
چند لمحےکمرے کی تاریکی میں ڈوب گۓ جس میں سبز نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی۔ بہارے کی بند آنکھوں سے سانس لینے کی آواز ہولے ہولے ابھرتی رہی تھی۔
“عائشے۔” اس نے اسی طرح چھت کو تکتے ہوۓ پھر سے پکارا۔ “کیا مجھے دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟”
”تمہیں کیا لگتاہے؟”
پتا نہیں۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں بہت دور نکل آتی ہوں، اتنی دور کہ میں ان باتوں سے خود کو ریلیٹ نہیں کر پاتی، جو تمہاری ذندگی کا حصہ ہیں۔
“حیا! دور ہمیشہ ہم جاتے ہیں۔ اللہ دور نہیں جاتا۔”
وہ نگاہوں کا زاویہ موڑ کر عائشے کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگی۔
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ دوریاں بہت بڑھ گئی ہیں تو انہیں ختم کرنے کی کوشش میں پہل بھی تمہیں کرنی ہو گی۔
“کیسے؟ وہ بے اختیار بول اٹھی۔
“تم کیا کرنا چاہتی ہو؟”
میرا بازو مجھ سے روز یہ سوال کرتا ہے کہ میں کون ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میرے پاس اس کے سوال کا کوئی اچھا جواب ہو۔ میں زندگی میں کچھ اچھا کرنا چاہتی ہوں۔
” اس لیے تاکہ تمھاری سیپ سے موتی نکل آئیں؟ “نہیں۔”وہ ذرا خفت زدہ ہوئی۔ بلکہ اس لیے تاکہ مجھے اس آگ میں کبھی نہ جلنا پڑے جس سے مجھے اب بہت ڈر لگتا ہے۔”
پھر اس فاصلے کو سمیٹنے کی کوشش کرو۔
“کیسے؟
“حیا” یہ جو ہمارا اللہ سے فاصلہ آجاتا ہے نا، یہ سیدھی سڑک کی طرح نہیں ہوتا۔ یہ پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔ اس کو بھاگ کر طے کرنے کی کوشش کرو گی تو جلدی تھک جاؤگی، جست لگاؤ گی تو درمیان میں گر جاؤ گی، اڑنے کی کوشش کرو گی تو ہوا ساتھ نہیں دے گی۔”
عائشے سانس لینے کو لحظہ بھر کے لیے رکی۔
“یہ فاصلہ بے بی اسٹیپس سے عبور کیا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے ­­ قدم اٹھا کر چوٹی پہ پہنچا جاتا ہے۔ کبھی بھی درمیان میں پلٹ کر نیچے اترنا چاہو گی تو پرانی ذندگی کی کشش ثقل کھینچ لے گی اور قدم
اترتے چلے جائیں گے اور اوپر چڑھنا اتنا ہی دشوار ہو گا، مگر ہر اوپر چڑھتے قدم پہ بلندی ملے گی۔ سو بھاگنا مت، جست لگانے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ بس چھوٹے چھوٹے اچھے کام کرنا اور چھوٹے چھوٹے گناہ چھوڑ دینا۔”
عائشے گل کا چہرہ مدھم سبز روشنی میں دمک رہا تھا۔ وہ اتنا نرم بولتی کہ لگتا جیسے گلاب کی پنکھڑیاں اوپر سے گر رہی ہوں، جیسے شہد کی ندی بہہ رہی ہو، جیسے شام کی بارش کے ملائم قطرے ٹپک رہے ہوں۔
“تو میں کیا کروں؟”
تم اپنی کوئی محبوب شے اللہ تعالی کے لیے قربان کردو۔”
اس کی بات پر حیا نے لمحے بھر کے لیے سوچا۔ اس کے پاس ایسی کون سی شے تھی؟
“سبانجی کے ڈورم میں میرے پاس ایک ڈائمنڈ رنگ پڑی ہے، وہ بہت قیمتی ہے۔”
قیمتی چیز نہیں، محبوب چیز قربان کرو۔ ضروری نہیں ہے کہ تمھاری محبوب چیز قیمتی بھی ہو۔” وہ مسکرا کر بولی۔ “اور میں بتاؤں کہ تمھاری محبوب ترین شے کیا ہے؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: