Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 26

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 26

–**–**–

اس نے حیرت سے باکس کی اس سائیڈ کو دیکھا۔ جس کا رنگ تپش کے ساتھ سیاہ ہو رہا تھا اور اوپر سنہری سے الفاظ ابھر رہے تھے۔ وہ شاید لاشعوری طور پر چھ حرفی لفظ کی توقع کر رہی تھی، مگر یہاں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا نے باکس آگ سے ہٹا کر دیکھا۔اس پر لکھے وہ فقرے واضح تھے۔
وہ کوئی نظمیہ شعر تھا۔
Marked on Homer’s doubts
A Stick with twin Sprouts
(ہومر کے شبہات پہ نشان زدہ ایک چھڑی جس کی دو نوکیں ہوتی ہیں)۔
وہ ابھی ان الفاظ پہ ٹھیک سے الجھ بھی نہ سکی کہ اس کی نگاہ اس سیاہ ہوتی طرف سے متصل جگہ پر پڑی۔ جو ذرا سی تپش اس جگہ کو ملی تھی، اس نے وہاں چند ادھورے حروف ظاہر کئے تھے۔ حیاہ نے وہ طرف آگ کے سامنے کی۔ ادھورے الفاظ مکمل ہو کر ایک شعر میں ڈھل گئے۔
Round the emeralad crusified
And the Freedom Petrified
(مصلوب زدہ زمرد اور ٹھہری ہوئی آزادی کے گرد)
کسی احساس کے تحت اس نے تیسری متصل دیوار
کو آنچ دکھائی۔ باکس کی تیسری طرف بھی کسی جادوئی اثر کی طرح سیاہ پڑنے لگی اور اوپر جیسے کوئی ان دیکھا قلم سنہری روشنائی سے لکھنے لگا۔
Snapped there a bloody pine
Split there some tears divine
(ادھر خون میں ڈوبا صنوبر چٹختا تھا اور آفاقی آنسو بکھرتے تھے)۔
اب کوڈ بار سے متصل دو دیواریں اور تیسری جو کوڈ بار کے بالکل متوازی تھی، حروف سے بھری جا چکی تھیں۔ باقی اوپر ڈھکن کی سطح جہاں ہراقلیطس کا قول لکھا تھا، رہ گئی تھی، یا پھر نچلی طرف۔ اس نے دونوں کو آنچ دکھائی، مگر کچھ نا ہوا۔ اب صرف کوڈ بار والی طرف بچی تھی۔ حیا نے احتیاط سے اس کو انگاروں کے قریب کیا۔ جیسے جیسے تپش لکڑی کو چھوتی گئی، کوڈ بار کے چھ چوکھٹوں کے اوپر شعر ابھرتا گیا۔
A Love lost in symbolic smell
Under which the lines dwell
(علامتی خوشبو میں اک پیار کھو گیا، جس کے نیچے لکیریں رہتی ہیں۔)
پزل باکس کا آخری شعر۔
آٹھ مصروں کی نظم پوری ہو گئی تھی۔ اب یہ نظم کس طرف اشارہ کر رہی تھی۔ یہ اس کو ابھی سوچنا تھا۔
پہلی بار اسے بری طرح سے معتصم کی کمی محسوس ہوئی تھی۔
* * *
بہارے پھول چننے کے لئے گئی تھی اور اب نیچے درختوں میں ادھر ادھر بھاگی پھر رہی تھی۔ نیکلس کا غم اب تک اسے بھول بھال چکا تھا۔ وہ عائشے کے ساتھ ایک درخت تلے چٹائی پر بیٹھی، اس کی ہدایت کے مطابق ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ٹکڑے کو تراش رہی تھی، سہ پہر کی نرم سی دھوپ، صنوبر کے درختوں سے چھن چھن کر ان پر گر رہی تھی۔
ایک پزل باکس بنانے کے لئے پانچ سو سات (507) لکڑی کے چھوٹے بڑے ٹکڑے درکار ہوتے تھے۔ خاصا مخنت طلب کام تھا۔ عائشے نے اناطولیہ کے ایک گاؤں میں کسی معمر چینی کاریگر سے یہ فن سیکھا تھا۔
“تمہیں واؤچرز منگوانے کی ضرورت نہیں تھی۔ عبدالرحمن کی تو قیمتی تحفے دینے کی عادت ہے۔ یوں ہی بہارے کی عادتیں بگڑتی جائیں گی۔”
اس کی بات پر حیا نے سر اٹھایا۔ اس نے ڈھیلی چوٹی باندھ کر آگے کو ڈال رکھی تھی اور چند لٹیں چہرے کے اطراف میں جھول رہی تھیں۔
میں تو اپنی طرف سے دینا چاہتی تھی مگر اس نے میری پوری بات ہی نہیں سنی. اب لے ہی آیا ہے تو واپس کیا کرنا۔ وہ سر جھکا کر رندا لکڑی کے ٹکڑے پر آگے پیچھے رگڑنے لگی۔ لکڑی کے باریک رول شدہ چپس سے نیچے گر رہے تھے۔
“اور ہاں، بہارے نے تمہارے لیے کچھ خریدا تھا.۔ اسے لگا اس نے تم سے اس دن بدتمیزی کر دی تھی۔”
اچھا؟ کیا خریدا ہے؟” وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ پوچھنے لگی۔
ایک ریشمی اسکارف ہے۔”
مگر میں تو سر پہ اسکارف نہیں لیتی۔” بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا۔ پھر پچھتائی، کسی کے تحفے کے لئے ایسے تو نہیں کہنا چاہئے۔
“کوئی بات نہیں، تم گردن میں لے لینا۔”
ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ وہ مسکرا کر دوبارہ رندا لکڑی پر رگڑنے لگی
“تمہیں پتا ہے عائشے! جب میں چھوٹی تھی نا، دس، گیارہ سال کی، تب مجھے اسکارف پہننے کا بہت شوق تھا۔ میرے ابا اور تایا فرقان دونوں مجھے اکثر سر ڈھانپنے کو کہا کرتے تھے۔ انہیں ایسے بہت اچھا لگتا تھا۔ میری اماں بھی چاہتی تھیں کہ میں سر ڈھکا کروں، تاکہ میرے چہرے پہ نور آجائے اور میں اللہ تعالی کے بہت قریب ہو جاؤں، انہوں نے مجھے قرآن پاک حفظ کرنے کے لۓ ایک اسلامک اسکول میں بھی داخل کروایا، مگر میں تیسرے روز ہی بھاگ آئی۔ تب میرا اسکارف پہننے کو بہت دل چاہتا تھا۔
تو کیوں نہیں لیا؟
جوابا حیا نے دھیرے سے شانے اچکاۓ۔
مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آ گئی کہ میرا فیس کٹ ایسا ہے کہ میں اسکارف میں اچھی نہیں لگوں گی۔ وہ کہہ کر سر جھکاۓ کام کرنے لگی۔ عائشے اسی طرح ہاتھ روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
کس کو؟
“ہاں؟” اس نے نا سمجھی سے سر اٹھا کر عائشے کو دیکھا۔
“تم کس کو اسکارف میں اچھی نہیں لگو گی؟
“لوگوں کو۔”
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“اور کیمرے کو۔ مثلا تصویروں میں۔”
“اور؟”
“اور خود کو؟”
اور اللہ تعالی کو؟ عائشے دھیرے سے مسکرائی۔ اس کی سبز آنکھیں نرمدھوپ میں سنہری لگ رہی تھیں۔ ہو سکتا ہے تم اسکارف میں اللہ تعالی کو بہت اچھی لگتی ہو۔ وہ ایک دم، بالکل سن ہوئی، عائشے کو دیکھے گئی۔
“تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا حیا! کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پہنتی ہوں۔ عائشے سر جھکاۓ لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ میں تمہیں بتاؤں، میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں وہ خوبصورت ملبوسات پہنوں جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی یا سپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔ بالکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں تو ایک دنیا ان کو مسحور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پر چلوں تو لوگ مسحور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ وہ سانس لینے کو رکی، حیا بنا پلک جھپکے، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
لیکن۔۔۔۔۔۔ پھر مجھے ایک خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی، جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی، جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔ پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کرے گا اور لال آندھی ہر سو چلے گی۔ اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جاۓ گا۔ تم نے کبھی اولمپکس کے وہ اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟ میں خود کو ایک ایسے اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔ میدان کے عین وسط میں کھڑے۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں حیا، اگر اس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ اناطولیہ کی عائشے گل، اب بتاؤ تم نے کیا، کیا؟ یہ بال، یہ چہرا، یہ جسم، یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا۔ یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔ یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا؟ تم نے اس سے وہ کام کیوں کیے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟ تم نے ان عورتوں کا راستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟
میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں، مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔ روز صبح اسکارف لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں ان کا راستہ چن لوں، مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے، تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟ میں ترازو کے ایک پلڑے میں وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں میں اللہ تعالٰی کو اچھی لگتی ہوں میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔ اللہ کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔ تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟ سو میں یہ اس لیے کرتی ہوں کیونکہ میں اللہ کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔
وہ اب چھرے کی نوک سے لکڑی کے کنارے خم ڈال رہی تھی۔
لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں حیا! عیاں پڑی ریت، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔ اور اگر سمندر کی تہہ میں ھو تو کیچڑ بن جاتی ہے، لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے، وہ موتی بن جاتا ہے۔ جوہری اس ایک موتی کے لیے کتنے ہی سیپ چنتا ہے اور پھر اس موتی کو مخملیں ڈبوں میں بند کر کے محفوظ تجوریوں میں رکھ دیتا ہے دکان کا کوئی جوہری اپنی دکان کے شوکیس میں اصلی جیولری نہیں رکھتا، مگر ریت کے ذرے کے لیے موتی بننا آسان نہیں ہوتا، وہ ڈوبے بغیر سیپ کو کبھی پا نہیں سکتا۔
حیا اب اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ سر جھکائے ریگ مال لکڑی کے ٹکڑے پہ رگڑ رہی تھی۔ لکڑی کی گنگھریالی پتریاں اتر اتر کر نیچے گر رہی تھیں۔ اس کے اندر بھی کچھ ایسا ہی چٹخ رہا تھا۔ کیا؟ وہ سمجھ نہیں پاتی تھی اور کبھی کبھی اسے لگتا وہ کبھی سمجھ نہیں سکے گی۔
کبرٰی بہلول کے گھر اور ان کے کھیت میں کام کرتے، ادا چائے کے پتے چنتے، ان کی مرغابیوں کو دانہ ڈالتے، وہ اب ان سے چھوٹے چھوٹے بظاہر بے ضرر سوال کثرت سے پوچھنے لگی تھی وہ عائشے کے بتائے گئے دو کو کبریٰ بہلول کے دو سے جمع کر کے دیکھتی تو جواب چار کی بجائے چا سو نکلتا۔ اب اسے پھر سے عبدالرحمن پاشا کے فون کا انتظار تھا۔ کب وہ فون کرے اور وہ اپنے پتے پھینکے۔ کھیل پاشا نے شروع کیا تھا۔ اسے ختم اب وہ کرے گی۔
چند ہی روز میں اسے یہ موقع مل گیا۔ فون کی گھنٹی بجی تو اس نے کارڈ لیس اٹھا لیا اور اوپر اسٹڈی میں آ گئی۔
ہیلو؟ اس نے بظاہر سادگی سے کہ۔ا
دوسری جانب چند لمحوں کی خاموشی چھائی رہی،
پھر اس کی بھاری کھردری آواز سنائی دی۔
حیا بی بی ۔۔۔۔ کیسی ہیں آپ؟
میں ٹھیک ہوں، آپ سنائیے۔
جی الحمد اللہ۔۔۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔۔ کیا کر رہی تھیں؟ وہ محتاط لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ جیسے اس کا فون اٹھانے کا مقصد نہ سمجھا ہو۔
میں ایک کہانی لکھ رہی تھی، کہیں تو سناؤں؟
اب کی بار دوسری جانب متذبذب خاموشی چھائی رہی، پھر وہ گہری سانس لے کر بولا۔ جی، سنا دیجیے۔
تین سال پہلے کی بات ہے، انڈیا کا اک عام سا اسمگلر اپنی ماں اور بھائی کے پاس بیوک ادا آتا ہے۔ اس کا بھائی ادا میں ایک بہت کامیاب ہوٹل چلا رہا ہوتا ہے۔ نووارد بھائی اس کے ساتھ ہوٹل کے کاموں میں دلچسپی لینا شروع کر دیتا ہے۔ بظاہر اسے اپنے بھائی کا بہت خیال ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ ہوٹل پر قبضہ کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کے تعلقات استعمال کر کے اپنے تعلقات وسیع کرتا ہے۔ مافیا کے ساتھ روابط بڑھاتا ہے اور تو اور، اس کی ایک عالمی دہشت گرد تنظیم سے بھی روابط ہیں۔ پھر آج سے ٹھیک دو سال پہلے وہ اپنے بھائی کو کچھ یوں ہراساں کرتا ہے کہ ایک روز بیچارہ بھائی چپ چاپ ہوٹل چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ یونان میں ہے، لیکن وہ درحقیقت کہاں ہے، یہ اس بڑے بھائی سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور اس سے باز پرس کرنے والا کوئی ہے بھی نہیں، سوائے ایک بوڑھی عورت اور دو معصوم لڑکیوں کے، یوں وہ عام سا اسمگلر استنبول کے بارسوخ ترین افراد میں شامل ہو جاتا ہے، اب بتایئے کیسی لگی کہانی؟ کہتے ہیں تو پبلیشگ کے لیے دے دوں؟
اس نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔
میں اس ساری بکواس سے کیا مطلب لوں؟
یہی کہ میرے بارے میں ذرا احتیاط سے کام لیجیے گا، ورنہ پیر کے نیچے دباؤ تو چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے۔
بہت احسان فراموش لڑکی ہو۔ تمہیں بھول گیا ہے کہ اس رات تمہیں اس بحری جہاز سے نیم مردہ حالت میں کون ادھر لایا تھا؟
لمحے بھر کو وہ بالکل چپ رہ گئی۔
میں پرسوں بیوک ادا واپس آرہا ہوں۔ تم نے جب تک ادھر رہنا ہے تم رہو میں ادھر نہیں آؤں گا اور نہ ہی تمہارے راستے میں آؤں گا، سو تم بھی میرے راستے میں آنے کی کوشش مت کرنا۔ دھمکی آمیز لہجہ اس بات کا غماز تھا کہ اس نے وہیں ہاتھ رکھا تھا، جہاں سب سے زیادہ درد ہوتا تھا۔
میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ ابھی نہیں کیا میں نے۔ اس نے محظوظ سے انداز میں کہہ کر فون رکھ دیا
میجر احمد کا شکریہ، جس نے اسے ایک دوسرے نہج پر سوچنا سکھایا تھا۔
* * *
اور کیا قربان کر سکتی ہو تم اپنا فاصلہ گھٹانے کے لیے؟ رات سونے سے قبل یہ آخری بات تھی جو عائشے نے اس سے پوچھی تھی۔ اس نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھول کر سوالیہ نگاہوں سے عائشے کو دیکھا، بولی کچھ نہیں۔
میں بتاؤں؟ تم اپنی نیند قربان کرنا سیکھ لو۔ وہ کہہ کر لیٹ گئی تو حیا نے بوجھل ہوتی آنکھیں بند کر لیں۔ صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی بہارے اس کا کندھا جھنجوڑ کر اسے اٹھا رہی تھی۔
اٹھ جاؤ! عائشے نے کہا ہے آج سے تم بھی ہمارے ساتھ قرآن پڑھنے جاؤ گی۔
میں؟ اس نے کسلمندی سے آنکھیں ذرا کھولیں۔ مجھے نیند آرہی ہے۔
نہیں، نہیں، اب تو تمہیں بھی جانا پڑے گا۔ یہ ٹارچر تم بھی سہو ناں۔ میں اکیلے کیوں برداشت کروں؟ اب اٹھ جاؤ۔ دم کٹی لومڑی دوسرے کی دم پھندے میں پھنستے دیکھ کے بہت خوشی خوشی اچھلتی کودتی تیار رو رہی تھی۔
حیا بدقت تمام کمبل اتار کر اٹھی۔ اسے اور ڈی جے کو صبح خیزی کی عادت تو تھی، مگر ان کی صبح فجر قضا ہونے کے بعد ہوتی تھی اور پھر بھاگم بھاگ کیمپس کی تیاری۔
اس نے اپنا لیموں کے رنگ کا زرد فراک پہنا، جو ایک دفعہ جہان کے گھر پہن کہ گئی تھی اور گیلے بال کھلے چھوڑ کر سنگھار میز کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ابھی اس نے پرفیوم کی شیشی اٹھائی ہی تھی، بہارے عقب میں زور سے چیخی۔
یہ کیا کر رہی ہو؟
کیا؟ وہ اس کے اچانک چلانے پہ ڈر کر پلٹی۔
تم باہر جانے سے پہلے پرفیوم لگا رہی ہو؟ بہارے نے بے یقینی سے پوری آنکھیں کھول کہ اسے دیکھا۔
آ۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔ کیا ہوا؟
عائشے گل کہتی ہے، اچھی لڑکیاں باہر جانے سے پہلے اتنا تیز پرفیوم نہیں لگاتیں۔ تم یہ باڈی اسپرے لگا لو، مگر پرفیوم نہیں۔ اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے۔ وہ بہت خفگی سے ڈانٹتی ہوئی حیا کے ساتھ آ کھڑی ہوئی اور پھر ایڑیاں اونچی اٹھا کر خود کو آئینے میں دیکھتی اسکارف لپیٹنے لگی۔
حیا نے ایک ہاتھ میں پکڑے پرفیوم کو دیکھا اور پھر ذرا سا خفت سے اسے رکھ کر باڈی مسٹ اٹھا لیا۔
حلیمہ آنٹی کے لان میں چاندنی بچھی تھی۔ وہ مرکزی جگہ پر بیٹھی تھیں اور سارے چھوٹے بڑے بچے ان کے گرد نیم دائرے کی صورت بیٹھے تھے۔ وہ تینوں جس وقت داخل ہوئیں، ایک جگہ سے بچوں نے فورًا جگہ چھوڑ کر دائرہ بڑا کر دیا۔ حلیمہ آنٹی نے ایک نرم مسکراہٹ ان کی طرف اچھال کر سر کو جنبش دی۔ وہ تینوں ساتھ ساتھ بیٹھ گئیں۔
میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالی کے دھتکارے ہوئے شیطان سے۔ اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
قرآت کرنے والا بچہ سنہرے بالوں والا ترک تھا، جس نے سر پر جالی دار ٹوپی لے رکھی تھی۔ باقی بچے خاموش تھے۔ وہ اپنی باریک، مدھر آواز میں پڑھ رہا تھا۔
آپ ایمان لانے والی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھا کریں اور اپنے قابلِ ستر اعضا کی حفاظت کیا کریں۔ وہ جو جماہی روکتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، ایک دم گڑبڑا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔
کمسن بچے کی آواز نے سارے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ہر سو ایک سحر سا طاری ہو رہا تھا۔ حیا نے بے اختیار سر پہ اوڑھے دوپٹے سے کان ڈھکے، جن میں اس نے موتی والی بالیاں پہن رکھی تھیں۔ وہی موتی جو جہان کے سیپ سے نکلے تھے۔ بہارے نے اسے ایک ایک موتی دونوں بالیوں میں پرو دیا تھا۔ تیسرا موتی حیا نے سنبھال رکھا تھا۔
اور انہیں چاہیے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پہ ڈالے رکھا کریں۔
کسی معمول کی سی کیفیت میں اس نے گردن جھکا کر دیکھا۔ اس کا شیفون کا دوپٹہ اس کے سر پر تو تھا لیکن گردن پہ اس نے مفلر کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ قدرے خفت سے اس نے دوپٹہ کھول کر شانوں پر ٹھیک سے پھیلا کر لپیٹا، اس وقت سوائے حکم ماننے کے اسے کوئی چارہ نظر نہیں آیا تھا۔ یہ عائشے کی باتیں نہیں تھیں، جن پہ الجھ کر ان کو ذہن سے جھٹکا جا سکتا تھا۔ یہ حکم بہت اوپر آسمانوں سے آیا تھا۔ وہاں سے، جہاں انکار نہیں سنا جاتا تھا، جہاں صرف سر جھکایا جاتا تھا۔
ترک بچہ اپنا سبق ختم کر چکا تھا۔ حلیمہ آنٹی نے بہارے کو اشارہ کیا۔ وہ اپنا قرآن سامنے کیے، تعوذ پڑھ کر اپنا سبق پڑھنے لگی۔
اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا۔
اس کے نور کی مثال ایک طاق کی طرح ہے جس میں چراغ ہیں۔
چراغ فانوس میں ہے۔
فانوس گویا ایک چمکتا ہوا تارہ ہے۔
وہ ایک بابرکت زیتون کے درخت سے روشن کیا جاتا ہے۔
نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی۔
قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے۔
اور اگرچہ اسے آگ بھی نہ چھوئی ہو۔
نور ہے اوپر نور کے۔
اللہ اپنے نور کی طرف راستہ دکھاتا ہے، جسے وہ چاہتا ہے۔۔۔۔
لان میں ایک دم بہت سی روشنی اتر آئی تھی۔ جیسے چمکتا چاند پورے افق پہ چھا گیا ہو۔ جیسے سونے کے پتنگے ہر سو آہستہ آہستہ نیچے گر رہے ہوں، جیسے نیلا آسمان سنہری قندیلوں سے جگمگا اٹھا ہو۔ وہ اس طلسم میں گھری، سحرزدہ سی ہوئی سنے جا رہی تھی۔
بہارے پڑھ رہی تھی۔
اور وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا۔۔۔۔۔۔
ان کے اعمال ایک چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہیں۔
پیاسا اس کو پانی سمجھتا ہے۔
حتٰی کہ جب وہ اس کے قریب آتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں پاتا۔
اور وہ وہاں اللہ کو پاتا ہے۔
پھر اللہ اس کو اس کا پورا پورا حساب دیتا ہے۔
اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
نیلا آسمان ان دیکھی مشعلوں سے روشن تھا۔ چاندی کی مشعلیں وہاں روشن نہیں تھیں، مگر وہاں روشنی تھی۔ نور تھا اوپر نور کے۔
یا ان کی مثال سمندر کے گہرے اندھیروں کی مانند ہے ۔
پھر اسے ایک لہر ڈھانپ لیتی ہے۔ اس کے اوپر ایک اور لہر۔ اس کے اوپر بادل۔ ان میں سے بعض کے اوپر بعض اندھیرے ہیں۔ اتنا اندھیرا کہ جب وہ شخص اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے بھی نہیں دیکھ پاتا۔
اور جس کا نہیں بنایا اللہ نے کوئی نور۔
تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی نور!
بہارے اپنا سبق ختم کر چکی تھی۔ دور مرمرا کی لہریں کناروں پر سر پٹخ پٹخ کر پلٹ رہی تھیں، واپس اپنے اندھیروں میں۔ کلاس کا وقت ختم ہوا تو سحر ٹوٹا۔ قندیلیں غائب ہو گئیں۔ صبح کی روشنی میں آسمان کے چراغ چھپ گئے۔
بچے اٹھ اٹھ کر جانے لگے۔ حلیمہ آنٹی اب ان کی طرف ہی آ رہی تھیں، مگر وہ اپنی جگہ سن سی بیٹھی کہیں بہت اندر گم تھی۔ اپنی ذات کے اندھیروں میں ۔ اندھیری لہر کے اوپر ایک اور لہر اور اس کے اوپر غم کے بادل۔ اتنا اندھیرا کے مشکلوں کا سرا سجھائی نہ دیتا تھا اور جس کا نہیں بنایا اللہ نے کوئی نور، تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی نور!
وہ بالکل چپ سی اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی تھی
ہوٹل گرینڈ بیوک ادا کے ایک نسبتاً ویران ساحل کے قریب واقع تھا۔ جزیرے کے بازار کے رش اور سیاحوں کے شور و ہنگامے سے دور وہ ایک بہت پر سکون سی جگہ تھی۔ ہوٹل کی بلند و بالا عمارت کی کھڑکیوں سے مرمرا کا سمندر بالکل سامنے دکھائی دیتا تھا۔ وہ ادا کا سب سے بڑا، سب سے مہنگا ہوٹل تھا۔
”دیمت فردوس“ پچھلے ساڑھے تین سال سے ہوٹل کے مالک کی پرسنل سیکریٹری تھی۔ اس کا عہدہ ساڑھے تین برس میں وہی رہا تھا، البتہ اس کا باس ایک دفعہ ضرور بدلا تھا۔ جب وہ تازہ تازہ ازمیر ( ترکی کا ایک شہر ) چھوڑ کر استنبول آئی تھی اور کئی جگہ نوکری کے لیے دھکے کھانے کے بعد اسے استنبول سے دور اس جزیرے پہ یہ جاب ملی تھی۔، تب دیمت کا باس عبدالرحمان پاشا نہیں تھا۔ اس وقت وہ اس کے چھوٹے بھائی کی سیکریٹری تھی، مگر ان پچھلے تین برسوں میں بہت کچھ بدلا تھا۔
اس نرم سی صبح میں اپنے ڈیسک کی کرسی سنبھالتے، پرس اتار کر میز پر رکھتے وئے بھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ ہوٹل گرینڈ اب بہت بدل گیا تھا۔ اس کا پچھلا باس بہت خوش خلق اور سادہ لوح سا آدمی تھا۔ ایسا آدمی جس میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی۔ وہ ہوٹل کا مالک ہونے کے باوجود اکثر نیچے ریسٹورنٹ کے کچن میں کام کرتا پایا جاتا تھا۔ اس کے عام سے حلیے کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ شخص بیوک ادا کے رئیسوں میں سے ہے۔ پھر وقت بدلتا گیا۔ دیمت عبدالرحمان پاشا کو پہلے کبھی کبھار اور پھر اکثر ہوٹل میں اپنے بھائی کے ساتھ آتے دیکھتی رہی۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ ہوٹل کا کنٹرول اور وہ آفس عبدالرحمان کی دسترس میں چلا گیا۔ عبدالرحمان پاشا نے کیسے سب کچھ اپنے قابو میں کیا کہ کوئی چوں بھی نہ کر سکا اور اس کا بھائی کہاں چلا گیا، وہ کبھی نہیں جان سکی تھی۔ وہ اس کی سیکریٹری ہو کر بھی اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کو نہیں پاٹ سکی تھی۔ اسے عبدالرحمان پاشا کے سوائے چھوٹے موٹے دفتری کاموں کے علاوہ کچھ بھی کرنے کو نہیں دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی دیمت کو شک گزرتا کہ اے آر پی نے اپنی کوئی اور سیکریٹری رکھی ہوئی ہو گی، جو اس کے معمولات سے باخبر ہو گی، ورنہ اس کے پاور آفس میں کیا ہوتا ہے وہ اس سے قطعاً بے خبر تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ پچھلے چند ماہ میں اس نے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہوٹل گرینڈ میں کچھ اور بھی ہو رہا ہے، کچھ ایسا جو غلط تھا۔ کچھ ایسا جو ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اسے کبھی ہونے نہیں دینا چاہیے تھا، مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھی اور کھوج لگانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ اپنی دراز سے ایک فائل نکالتے ہوئے اس نے یونہی ایک سرسری سی نگاہ سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بند دروازے پر ڈالی، جس پر اے آر پی کی تختی لگی تھی، اور ٹھٹھک کر رک گئی۔
دروازے کی نچلی درز سے روشنی جھانک رہی تھی۔ کیا عبدالرحمن واپس آ گیا ہے؟ کب؟ اسے پتا ہی نہیں چلا۔
وہ خوشگوار حیرت میں گھری جلدی جلدی اپنی چیزوں کو ترتیب دینے لگی۔ دنیا چاہے جو بھی کہے وہ عبدالرحمان پاشا کی سب سے بڑی پرستار تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی اتنا سحر انگیز اور شان دار آدمی نہیں دیکھا تھا۔ بات ہینڈسم ہونے یا نہ ہونے کی نہیں تھی۔ بات اس وقار اور مقناطیسیت کی تھی جو اس آدمی کی شخصیت کا خاصا تھی۔
اسی لمحے انٹر کام کی گھنٹی بجی۔ اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔
یس سر؟
دیمت! برنگ میں اے کافی! اپنے بھاری اور بارعب انداز میں کہہ کر اس نے فون رکھ دیا تھا۔ وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر نہایت مستعدی سے کافی تیار کرنے لگی۔ اس کا باس تین ماہ بعد انڈیا سے لوٹا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔
کافی کی ٹرے اٹھائے، اس نے دروازہ ذرا سا بجا کر کھولا۔
عبدالرحمان پاشا کا آفس نہایت شاندار اور پرتعیش انداز میں آراستہ کیا گیا تھا۔ اپنی شیشے کی چمکتی سطح والی میز کے پیچھے ریوالونگ چیئر پہ ٹیک لگا کر بیٹھا، وہ کھڑکی سے باہر پرسوچ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سگریٹ لبوں میں دبائے ہوئے تھا۔ ہلکی ہلکی بڑھی شیو میں وہ پہلے سے زیادہ باوقار لگ رہا تھا۔ دنیا کو وہ اچھا لگے یا برا، دیمت کو اس جیسا کوئی نہیں لگتا تھا۔
اس نے کافی میز پر رکھی۔ السلام علیکم سر اینڈ ویلکم بیک ۔ وہ مسکرا کر اپنے باس کا خوش آمدید کہہ رہی تھی۔
ہوں تھینکس! عبدالرحمان نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور پھر آگے ہوتے ہوئے سگریٹ انگلیوں میں پکڑ کر ایش ٹرے میں جھٹکا۔ وہاں راکھ کے بہت سے ٹکڑوں پر ایک اور ٹکڑا آن گرا۔ پاشا کے متعلق ایک بات وہ جانتی تھی، وہ اتنی بے تحاشا اسموکنگ شدید پریشانی و تفکر کے عالم میں کرتا تھا ۔
سر! آپ کچھ اور لیں گے؟ وہ مؤدب کھڑی پوچھ رہی تھی۔
میرے کوٹ پہ داغ لگ گیا ہے، اسے صاف کر لاؤ۔ اس نے میز کے دوسری جانب رکھی کرسی کے کندھوں پہ ڈالے کوٹ کی جانب اشارہ کیا۔ خود وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کیے، شرٹ کے کف کھولے بیٹھا تھا۔ اس کا لباس بھی اس کی شخصیت کی طرح ہوتا تھا۔ نفیس اور شاندار۔
جی سر! دیمت نے احتیاط سے کوٹ اٹھایا اور باہر نکل گئی۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد جب وہ سیاہی کا دھبہ صاف کر کے لائی تو پاشا کا آفس سگریٹوں کے دھوئیں سے بھرا تھا۔ اس کی کافی جوں کی توں رکھی تھی، البتہ ایش ٹرے میں راکھ کے ٹکڑے بڑھ چکے تھے۔
سر! سب ٹھیک تو ہے ناں؟ کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ھہوں؟ اس نے صرف پیشہ ورانہ تکلف میں نہیں بلکہ دلی تفکر کے باعث پوچھا۔ اسے معلوم تھا کہ جواباً وہ اسے نو تھینکس کہہ کر واپس جانے کو کہے گا۔ وہ اپنے معاملات کسی سے شیئر نہیں کرتا تھا۔
ہوں۔ بیٹھو! اس نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے ہاتھ میں دو سونے کی قیمتی انگوٹھیاں تھیں جو وہ ہمیشہ پہنے رکھتا تھا۔ دیمت حیرت چھپاتی بیٹھ گئی۔
دیمت! وہ سگریٹ کے کش لیتے، کھڑکی کے باہر ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو دیکھتے ہوئے بولا تو اس کا لہجہ بے لچک اور سرد تھا۔
کسی غیر ملکی کو ترکی سے واپس بھیجنا ہو تو کیا کیا جائے؟
(اتنی سی بات؟)
سر! کوئی غیر ملکی اگر ترکی میں رہ رہا ہو تو یقیناً کسی وجہ سے رہ رہا ہوتا ہے۔ اسے جس چیز کی کشش ترکی میں نظر آ رہی ہو، اس چیز کو ختم کر دینا چاہیے۔
اور اگر وہ کشش کسی انسان کی ہو؟ مثلاً ہزبینڈ کی تو۔۔۔۔۔۔۔؟
تب اس کشش کو ختم کرنا چاہیے۔
اور وہ کیسے؟ عبدالرحمن نے ذرا مسکرا کر اسے محفوظ انداز میں دیکھا۔
سر! کوئی عورت اپنے شوہر کو صرف تب چھوڑتی ہے، جب اسے یہ لگتا کے اس کے شوہر نے اسے دھوکا دیا ہے۔ شدید بدگمان ہوئے بغیر عورت اپنے شوہر کو کبھی نہیں چھوڑتی۔
تمہارا مطلب ہے کہ کوئی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بہکائے؟ اونہوں! اس نے ناگواری سے سر ذرا سا جھٹکا۔ وہ کیوں کسی کی بات پہ یقین کرے گی؟
جی سر! وہ کسی دوسرے کی بات پہ یقین نہیں کرے گی، وہ صرف اپنے شوہر کی بات پہ یقین کرے گی۔
اور کوئی شوہر اپنے دھوکے یا اپنی بداعمالیوں کی داستان اپنے منہ سے اپنی بیوی کو کیوں سنائے گا؟
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ وہ یہ سب اپنی بیوی کو کہے۔ اب کے دایمت ذرا معنی خیز انداز میں مسکرائی تھی۔ وہ یہ سب کسی اور سے کہے گا اور اگر ٹائمنگ صحیح رکھی جائے تو اس کی بیوی اس کے علم میں لاے بغیر اس کی باتیں سن لے گی۔ ایک معصوم سا اتفاق۔ بات ختم کر کے دیمت نے ذرا سے شانے اچکائے۔
عبدالرحمن کی آنکھوں میں ایک چمک در آئی۔ اس نے سگریٹ کا ٹکڑا الیش ٹرے میں پھینکا اور ذرا آ گے ہو کر بیٹھا۔
مگر دیمت! کوئی آدمی کسی دوسرے کے بھی سامنے اپنے کسی بدعمل کا ذکر کیوں کرے گا؟
میں نے کہا نا سر! ٹائمنگ صحیح رکھی جائے تو سب ٹھیک رہے گا۔ وہ آدمی اپنے بدعمل کی داستان نہیں سنائے گا۔ وہ عمل کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو کسی کو ہیرو بنا دیتے ہیں لیکن اگر سیاق و سباق کے بغیر پیش کیے جائیں تو وہ ہیرو کو ولن بنا دیتے ہیں۔
عبدالرحمن پاشا کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔ اس کے چہرے پہ چھائی فکر غائب ہو رہی تھی۔ دیمت! جو کام میں پچھلے پانچ مہینوں میں نہیں کر سکا، وہ تم نے پانچ منٹ میں کر دکھایا ہے۔ تھینک یو سو مچ۔ وہ واقعتا اس کا بہت ممنون تھا۔
دیمت کا دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ بہت مسرت سے اٹھی تھی۔ گو کہ اندر سے وہ جانتی تھی کہ عبدالرحمن کسی بیوی کو اس کے شوہر سے بدظن کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ غلط کام تھا، مگر عبدالرحمن کا تشکر ہر شے پہ چھانے لگا۔
تمہارا شوہر کیسا ہے، ابھی تک وینٹ پہ ہے؟
جی سر! کرسی سے اٹھتے ہوئے اس نے مغموم انداز میں بتایا۔ ایک حادثے کے بعد اس کا شوہر کچھ عرصے سے وینٹی لیٹر پہ تھا اور یہ پورا ہوٹل گرینڈ جانتا تھا۔
ایڈوانس سیلری چاہیے ہو تو بتا دینا۔
تھینک یو سر! وہ پورے دل سے مسکرائی۔ عبدالرحمن اسے ”لالچ“ دے رہا تھا۔ یہ اس کے مشورے کا انعام تھا۔ وہ بہت فرحت سے واپس جانے کے لیے مڑی تھی۔
تمہارا ہیئر اسٹائل اچھا ہے دیمت۔!
عبدالرحمن نے اس کے عقب سے پکارا تھا۔ اس کے قدم زنجیر ہو گئے۔ وہ بہت الجھن سے واپس پلٹی۔ عبدالرحمن اب ایک فائل اٹھا کر اس کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ وہ بظاہر اس کی طرف متوجہ نہ تھا مگر اس نے یہ بات کیوں کہی؟ پچھلے تین برسوں میں تو اسے کبھی دیمت کے بالوں کا خیال نہیں آیا تھا، نہ ہی وہ عورتوں سے شغف رکھنے والا بندا تھا۔ پر اس نے یہ کیوں کہا؟
تھینک۔۔۔۔۔۔ تھینک یو سر! وہ ذرا تذبذب بولی۔
ویسے تمہارا پچھلا ہیئر اسٹائل بھی اچھا تھا۔
پچھلا؟ اس نے بہت الجھ کر اپنے باس کو دیکھا۔ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ دیمت نے تو پچھلے تین برسوں میں سوائے اس کٹنگ کے، دوسری کوئی کٹنگ نہیں کرائی
تھی۔
ہاں، جو انتالیہ کے ساحل پہ تھا۔ تم پہ گنگھریالے سرخ بال اچھے لگتے ہیں۔ وہ فائل کی طرف متوجہ بہت سرسری انداز میں کہہ رہا تھا۔
دیمت کے قدموں کے نیچے سے زمین سرک گئی۔ وہ پتھر کا بت بنی رہ گئی۔ ایک دم کمرے میں گھٹن بہت بڑھ گئی تھی۔ اسے سانس نہیں آ رہا تھا۔ وہ بدقت تمام باہر نکلی اور اپنی کرسی پہ ڈھے سی گئی۔
انتالیہ کا ساحل، سرخ گنگھریالے سرخ بال۔۔۔۔۔ چھ سال پہلے اس نے ایک ایکس ریٹ میگزین کے لیے ماڈلنگ کی تھی۔ وہ بدنام زمانہ میگزین صرف انتالیہ میں چھپتا تھا اور وہاں سے باہر نہیں جایا کرتا تھا مگر۔۔۔۔۔۔ مگر تب اسے پیسے چاہیے تھے اور وہ نشے میں تھی۔ بعد میں وہ شرمندہ تھی۔ اس نے وہ شہر، وہ جگہ، سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ اس کے خاندان، اس کے دوستوں، کبھی کسی کو اس میگزین کی ان چند کاپیز کا علم تک نہیں ہوا تھا۔ وہ میگزین تو شاید اب ردی کا ڈھیر بن کر اس دنیا سے ہی غائب ہو گیا ہو، تو پھر عبدالرحمن پاشا کو کیسے پتہ چلا؟
وہ سر دونوں ہاتھوں میں گرائے بیٹھی تھی۔ اس کی بے لچک آواز کی دھمکی وہ سمجھتی تھی۔ اگر اس نے یہ گفتگو کسی کے سامنے دہرائی تو وہ میگزین منظر عام پہ آ جائے گا اور۔۔۔۔۔۔ اور اس کا گھر، بچے، زندگی سب تباہ ہو جائے گا۔
اس نے چہرہ اٹھا کر بے بس، متنفر نگاہوں سے اے آر پی کے آفس کے بند دروازے کو دیکھا۔
بلیک میلر! اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو امڈ آئے تھے۔ اسے آج علم ہوا تھا کہ عبدالرحمن پاشا نے کیسے ہر شے کو اپنے قابو میں کیا تھا۔
بند دروازے کہ اس پار وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اس کا قیمتی موبائل تھا، جس میں وہ کوئی نمبر ڈھونڈ رہا تھا، ایک نمبر پہ آ کر اس کا ہاتھ تھم گیا۔ وہ نمبر اس نے انگریزی میں ”Brother Dearest“ کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا۔
اب اس نمبر پر رابطہ کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ اگر ہر چیز ویسے ہوتی جائے جیسے وہ سوچ رہا تھا تو۔۔۔۔۔۔ اس نے مسکرا کر اس نمبر کو دیکھا اور پھر اس کے نام پیغام لکھنے لگا۔
میں انڈیا سے واپس بیوک ادا آچکا ہوں ۔ کیا ہم مل سکتے ہیں؟
پیغام جانے کے پورے ڈیڑھ منٹ بعد اسی نمبر سے جواب آیا تھا۔
جہنم میں جاؤ تم۔ میں تمہاری شکل بھی نہیں دکھنا چاہتا۔
وہ پیغام پڑھتے ہوئے محفوظ سے انداز میں ہنس پڑا۔ پھر مسکرا کر سر جھٹکتے ہوئے جوابی پیغام لکھنے لگا۔
میں جہنم میں بعد میں جاؤں گا، پہلے تم سے تو مل لوں۔ تم ہوٹل گرینڈ آؤ گے یا میں استقلال اسٹریٹ میں برگر کنگ پہ آجاؤں؟
سینڈ کا بٹن دباتے وقت وہ جانتا تھا کہ اس کے بردار ڈیرسٹ کا جواب ان دونوں جگہوں میں سے کوئی ہو گا۔ وہ انکار نہیں کرے گا۔ اس نے آج تک عبدالرحمن کو ”ناں“ نہیں کی تھی۔ وہ اسے ”ناں“ کبھی نہیں کر سکتا تھا۔
* * *
حیا اس صبح جب حلیمہ آنٹی کے گھر سے واپس آرہی تھی تو اس کے موبائل پہ جہان کا پیغام آیا تھا۔
بگھی سے اترتے ہوئے اس نے پیغام کھول کر پڑھا۔
سنو! میں ابھی ذرا کام سے بیوک ادا آرہا ہوں۔ دوپہر میں ملتے ہیں۔ لنچ ساتھ کریں گے ٹھیک!
حیا نے حیرت سے ٹائم دیکھا۔ صبح کے سات بجے تھے، اگر وہ ابھی چلا ہو تو آٹھ، ساڑھے آٹھ تک پہنچ جائے گا، پھر وہ دوپہر تک بیوک ادا میں کیا کرے گا؟ اس کا کب سے اس جزیرے میں کوئی کام ہونے لگا؟
وہ الجھتی اندر آئی تھی۔
بیگ بیڈ پہ رکھتے ہوئے اس نے موبائل پہ جہان کا نمبر ملایا۔ نمبر بزی جا رہا تھا۔ اس نے فون رکھا اور چوکھٹ میں آ کھڑی ہوئی۔ سامنے عائشے اور بہارے اپنی چیزیں اکٹھی کرتی نظر آ رہی تھیں۔انہوں نے اب جنگل جانا تھا۔
آج میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکوں گی عائشے! جہان آ رہا ہے۔وہ ذرا الجھی الجھی سی بتا رہی تھی۔
شیور! عائشے نے سمجھ کر سر ہلا دیا اور تھیلا لیے باہر چلی گئی۔ پھر آٹھ بجے کے قریب وہ سنگھار میز کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ جہان آ رہا تھا، اسے ڈھنگ سے تیار ہو جانا چاہیے۔ اس نے ہلکے ہلکے نم بالوں میں برش پھیرا، پھر ایک دراز سے وہ تھیلی نکالی جس میں اس کا تیسرا موتی رکھا ہوا تھا۔ بہارے کی سلور چین میں اس نے وہ موتی ویسے ہی پرو دیا جسے وہ دونوں بہنیں پروتی تھیں اور چین گردن سے لگا کر دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کر ہک بند کیا۔ تنگ زنجیر گردن سے چپک گئی تھی اور درمیان میں اٹکا موتی مزید چمکنے لگا تھا۔
اب اس نے پھر سے جہان کا نمبر ملایا، گھنٹی جا رہی تھی۔
ہیلو؟ جہان بولا تو پیچھے بازار کا مخصوص شور تھا۔
جہان تم پہنچ گئے؟
ہاں، میں تم سے دوپہر میں ملتا ہوں۔
تو تم دوپہر تک کیا کرو گے ادھر؟
میں وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ذرا رکا۔ میں ایک دوست سے ملنے آیا تھا، ابھی اس کے پاس جا رہا ہوں۔
کون سا دوست؟ اچنبھے سے پوچھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ جہان نے سوائے علی کرامت اور اس کی ماں کے، کبھی اپنے دوستوں کا ذکر نہیں کیا تھا۔ کیا اس کا کوئی دوست نہیں تھا یا وہ اپنے دوستوں کا ذکر مستور رکھتا تھا؟
ہے کوئی، تم نہیں جانتیں۔ اچھا۔ میں فارغ ہو کر کال کرتا ہوں۔ وہ عجلت میں لگ رہا تھا۔
اوکے! اس نے فون کان سے ہٹایا، پھر سوچا کہ لنچ پر ہی پوچھ لے گی کیوں کہ وہہ جہان کو اس سفید محل میں نہیں بلانا چاہتی تھی۔ سو جلدی سے فون کان سے لگا کر ”ہیلو جہان؟“ کہا کہ مبادا اس نے فون بند نہ کر دیا ہو۔
جہان بھی فون بند کرنے کی بجائے کان سے ہٹا کر دوسری طرف کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ اس نے یقینا حیا کا ہیلو نہیں سنا تھا۔ وہ ترکی میں کچھ کہہ رہا تھا۔
کوئی مبہم سا فقرہ جس میں ”اوتل گریند“ سمجھ میں آیا تھا۔ ساتھ ہی رابطہ منقطع ہو گیا۔
اوتل گرینڈ؟ یعنی ہوٹل گرینڈ؟ جہان نے ہوٹل گرینڈ کا ذکر کیا؟ یعنی وہ ہوٹل گرینڈ جا رہا تھا؟ وہ حیران ہونے کہ ساتھ ساتھ پریشان بھی ہو گئی۔ کیا جہان کو علم نہیں کہ وہ عبدالرحمن پاشا کا ہوٹل ہے اور پاشا تو اب بیوک ادا واپس آگیا ہے۔ لوگ عموما رسٹورانٹس میں ہی ملتے ہیں، اس لیے اس نے یقینا اپنے دوست کو وہی مقام بتا دیا ہو گا اور جہان تو سرے سے کسی عبدالرحمن کو نہیں مانتا تھا۔ پھر؟
اچھا چھوڑو سب۔ دوپہر میں اس سے ملنا تو پوچھ لینا۔
سارے خیالات ذہن سے جھٹکتی، وہ پزل باکس لے کر اٹھی اور اسٹڈی میں آ بیٹھی۔ کچھ دیر وہ باکس کو الٹ پلٹ کر دیکھتی رہی، پھر ایک دم ایک نہج پر پہنچ کر باکس میز پہ رکھ کر اٹھی اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی۔ زرد لمبے فراک پہ اس نے بھورا اسٹول شانوں کے گرد سختی سے لپیٹ لیا، بال یونہی کھلے رہنے دیے اور پرس میں کالی مرچ کا اسپرے رکھ کر وہ باہر نکل گی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: