Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 27

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 27

–**–**–

اسے معلوم تھا کہ وہ اب جب تک جہان کو اور ہوٹل گرینڈ کو دیکھ نہیں لے گی، اسے بے چینی رہے گی،
اب چاہے اس کے لے اس کو تنہا کیوں نہ سفر کرنا پڑے۔ ویسے بھی جزیرہ چھوٹا سا تھا۔ ہوٹل گرینڈ اور اس کی عقبی پھولوں کی مارکیٹ اس محل سے قریبا پندرہ منٹ کی ہارس رائید پہ تهی مگر بندرگاہ سے اس کا فاصلہ دس منٹ اوپر تھا۔۔
کیا تم مجھے دس منٹ میں پھولوں کی مارکیٹ پہنچا سکتے ہو؟ اس نے پانچ لیرا کے دو کڑکڑاتے نوٹ بگھی بان کے سامنے کر کے سنجیدگی سے پوچھا۔بگھی بان نے ایک نظر نوٹوں کو دیکھا اور دوسری نظر اس پہ ڈالی۔
تمام! (اوکے) اگلے ہی لمحے اس کی بگھی کے دونوں گھوڑے پتھریلی سڑک پہ دوڑ رہے تھے۔
وہ ایک لمبی، سیدھی سڑک تھی جو دو رویہ درختوں سے گھری تھیاور اس کے آخری سرے پہ ہوٹل گرینڈ کی بلند وبالا عمارت کھڑی تھی۔ عمارت کے پیچھے ساحل تھا، گو وہ یہاں سے نظر نہیں آتا تھا۔ عمارت پوری کالونی میں ممتاز دکھتی تھی کیونکہ آس پاس چھوٹے موٹے کیفے تھےیا پھر پھولوں کی دوکانیں۔پھولوں کی مارکیٹ یہاں سے شروع ہو کر ہوٹل کے عقب میں پچھلی گلی تک پھیلی تھی۔
وہ پھولوں کے ایک اسٹال پہ جا کھڑی ہوئی اور یونہی بے توجہی سے پھول اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگی۔بے چین نگاہیں بار بار اٹھ کر ہوٹل کے دروازے کا طواف کرتیں۔ پتا نہیں جہان نے آنا بھی تھا یا اس نے یونہی اس ہوٹل کا تذکرہ کیا تھا؟
تب ہی گلی کے سرے پہ ایک بگھی رکتی دکھائی دی۔اس میں سے نیچے اترنے والا بلاشبہ جہان ہی تھا۔ اس نے سر پہ سرخ کیپ لے رکھی تھی اور اب وہ والٹ سے پیسے نکال کر بگھی بان کو دے رہا تھا۔
حیا جلدی سے ایک اونچے شیلف کے پیچھے جا کھڑی ہوئی جس پہ گملے رکھے تھے۔ گملوں اور پھولوں کی جھکی ٹہنیوں کی درمیانی درزوں سے اسے وہ منظر نظر آ رہا تھا۔
پسیے دے کر وہ آ گے بڑھ گیا۔ وہ اب ہوٹل کی مخالف سمت میں سر جھکائے، جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتا جا رہا تھا۔ اس کا رخ ہوٹل کی عقبی گلی کی جانب تھا۔
بے چارا آیا ہو گا کسی دوست سے ملنے، وہ کیوں اس کے پچھے پڑ گئی ہے؟ وہ کیوں اس کا تعاقب کر رہی ہے؟ اس نے جھنجھلا کر خود کو کوسا۔ جہان کے آس پاس سڑک پہ بہت سے لوگ دوسری سمت میں جا رہے تھے۔ وہ بھی اس ریلے کے پیچھے چل دی۔ اب جہان کو پکارنا بے و قوفی کے سوا کچھ نہ تھا۔ بس وہ کہیں کسی کیفے میں چلا جائے تو وہ واپس چلے جائے گی۔
گلی کے دوراہے پہ پھولوں کا ایک بڑا سا اسٹال لگا تھا۔ وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور ایک فلورل میگزین اٹھا کر اپنے چہرے کے سامنے کر لیا۔ میگزین کے اطراف سے اسے گلی کا عقبی حصہ نظر آ رہا تھا، جہاں دور آخری سرے پہ ہوٹل گرینڈ کی پشت تھی۔وہاں ایک چھوٹا سا پرائیویٹ پارکنگ لاٹ بنا تھا اور مستعد گارڈز پہرہ دے رہے تھے۔ یقینا وہ ہوٹل کے مالکان کے لیے تھا اور وہاں پر کوئی پرائیویٹ لفٹ بھی ہو گی جو ہوٹل کے اعلی عہدیداران کو ڈائریکٹ اپنے فلور تک پہنچا دیتی ہو گی۔
اس نے میگزین کے کور کا کنارہ ذرا سا موڑ کر دیکھا۔جہان اس طرح سر جھکائے چلتا ہوا سامنے جا رہا تھا۔ہوٹل گرینڈ کی عقبی طرف۔
سیلزمین اب اس سے ”کیا چاہیے؟“ پوچھ رہا تھا۔ٹیولپس۔۔۔۔۔ سبز رنگ کا ٹیولپ مل سکتا ہے؟ اس نے اردگرد ٹیولپ کے پھولوں کو دیکھتے ہوئے وہ رنگ پوچھا جو استنبول کیا کرہ ارض پہ بھی شاید ہی ملتا۔ اس کے خیال میں!
سبز رنگ کا ٹیولپ؟ دکاندار ذرا حیران ہوا پھر بولا ”مل جائے گا۔“
اتنے زیادہ کیوں ہوتے ہیں ٹیولپس استنبول میں؟ جہاں دیکھو، ٹیولپس ہی نظر آتے ہیں۔ اس نے جلدی سے دوسرا سوال جھاڑا۔ کن اکھیوں سے اسے جہان اب پارکنگ لاٹ تک پہنچتا نظر آ رہا تھا ۔ وہاں رک کر اس نے والٹ نکال کر گارڈ کو کچھ دکھایا، شاید اپنا آئی ڈی کارڈ۔ نفی میں سر ہلا کر جوابا کچھ کہہ رہا تھا ۔
ٹیولپس تو استنبول کا سمبل ہیں۔ کیا آپ نے ٹیولپ فسٹیول کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دکان دار جوش و خروش سے اسے فیسٹول کے بارے میں بتانے لگا۔ جس میں اسے قطعا کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ بظاہر سر ہلا کر سنتی، گاہے بگاہے ایک نگاہ ہوٹل کے عقبی پارکنگ لاٹ پہ ڈال لیتی، جہاں وہ ابھی تک کھڑا گارڈ سے کچھ کہہ رہا تھا۔ جب تک وہ واپس پلٹا، حیا اسٹول پہ بیٹھ کر میگزین چہرے کے سامنے کیے پھولوں میں کیموفلاج ہوئی بیٹھی تھی۔ اب بس جہان چلا جائے تو وہ بھی خاموشی سے نکل جائے گی۔
کسی نے نرمی سے میگزین اس کے ہاتھ سے کھینچا۔اس نے چونک کر دیکھا۔
جب اپنا چہرہ چھپانے کے لیے میگزین اس کے سامنے کرتے ہیں تو اس کو الٹا نہیں پکڑتے۔
عین اس کے سر پہ کھڑے جہان سکندر نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ کر میگزین سیدھا کر کے اسے تھمایا۔
اگر زمین میں گڑ جانے سے زیادہ مبالغہ آمیز محاورہ ہوتا تو وہ اس وقت حیا سلیمان پہ صادق اترتا۔
وہ قدرے بوکھلا کر کھڑی ہوئی۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم، تم ادھر کیا کر رہے ہو؟
جوابا جہان نے مسکراہٹ دبائے، سوالیہ آبرو اٹھائی۔
نہیں، بلکہ، میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہاں کیا کر رہی ہوں ۔ وہ ذرا خفت سے مسکرائی ۔
میں ایک کام سے آیا تھا اور تم شاید میرے پیچھے۔ وہ مسکرا کر بولا، مگر اس کا چہرہ ذرا ستا ہوا لگ رہا تھا۔
نہیں، تمہارے پیچھے کیوں، میں بھی ایک کام سے آئی تھی۔ وہ سنبھل کر مسکرا کر بولی، البتہ دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔
واقعی؟
ہاں، میں اس علاقے پہ ایک رپورٹ لکھ رہی ہوں۔ ہالے کی ایک جرنلسٹ دوست کے لیے۔ بہت دلچسپ ہے۔
جہان نے جوابا نگاہیں جھکا کر اس کے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
اور تم کاغذ کے بغیر ہی رپورٹ لکھتی ہو؟
یہ نوٹ بک کہاں گئی؟ اوہ یہ رکھی ہے۔اس نے اب بہت اطمینان سے اسٹال کے اس طرف دکان کے کاونٹر پہ رکھی نوٹ بک اٹھائی اور اسے سینے سے لگا کر بازو لپیٹتے ہوئے مسکرا کر جہان کو دیکھا۔ جہان نے گردن موڑ کر دکان دار کو دیکھا۔ دکاندار نے ایک قلم میز سے اٹھا کر حیا کی طرف برھایا۔
یہ آپ کا قلم! کیا میرے انٹرویو کے ساتھ میری تصویر بھی چھپے گی؟ ترک دوکاندار نے بہت سادگی سے پوچھا تھا۔
کوشش کروں گی! اس نے مسکراہٹ دبائے سر ہلا دیا۔جہان شانے اچکا کر پلٹ گیا تو اس نے ایک ممنوں نگاہ دکاندار پہ ڈالی جو جوابا مسکرا دیا تھا۔ وہ جلدی سے جہان کے پیچھے لپکی۔
مل لیے دوست سے؟
نہیں۔ بعد میں ملوں گا۔ سلیمان ماموں برسوں استنبول آ رہے ہیں۔ تمہیں پتا ہے؟ وہ دونوں ساتھ ساتھ جزیرے کی ایک گلی میں چل رہے تھے۔ جب جہان نے بتایا۔
ہوں، معلوم ہے۔ اس لیے میں آج تمہارے ساتھ چلی جاؤں گی۔ اس نے ابھی ابھی کا ترتیب دیا ہوا پروگرام بتایا۔ ابا نے جب اپنے کاروباری ٹرپ کا ذکر کیا تھا تو اس نے استنبول واپس جانے کا تہیہ کر لیا تھا، اب جہان کے آنے سے آسانی ہو گئی تھی۔ اس سے زیادہ چھٹیاں وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
عیسی کی پہاڑی کس طرف تھی؟
جب سڑک ختم ہو گئی اور وہ پہاڑی راستے پر چڑھنے لگے تو جہان ایک جگہ رک گیا اور متذبذب انداز میں دو مخالف سمتوں میں جانے والے پہاڑی راستوں کو دیکھا۔
یہ کیسے ہو گیا کہ جہان سکندر کو اپنے ترکی کے راستے بھول گئے؟ وہ جتا کر مسکراتی ایک سمت اوپر چڑھنے لگی۔ ٹھنڈی ہوا سے اڑتی شال کو اس نے سختی سے شانوں کے گرد لپیٹ کر پکڑ رکھا تھا۔ جہان سکندر جب بیوک ادا تمہارے اور ڈی جے کے ساتھ آیا تھا تو اس وقت وہ دو سال بعد ادھر آیا تھا۔ اور مجھے یاد ہے، تب بھی ڈی جے کے فون کرنے پر تم بمشکل راضی ہوئے تھے۔
اوہ تم اس وقت ڈی جے کے ساتھ بیٹھی ہماری باتیں سن رہی تھیں؟ مجھے تو ڈی جے نے بتایا تھا کہ تم مصروف ہو۔ وہ اس کے پیچھے پہاڑی پہ چڑھتے ہوئے ہلکے سے مسکرا کر بولا۔
اس نے بعد میں بتایا تھا۔
وہ مڑی نہیں، مگر اسے حیرت ھہوئی تھی کہ جہان کو اتنی پرانی بات اتنی جزئیات سے یاد تھی۔
عیسٰی تیسی (عیسٰی کی پہاڑی) کی چوٹی پہ وہ یونہی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے پہنچ ہی گئے تھے۔ پہاڑی کی چوٹی کسی سرسبز لان کی طرح چپٹی اور گھاس سے ڈھکی تھی۔ وہاں فاصلے فاصلے پر بہت اونچے درخت تھے یوں جیسے کسی یونیورسٹی کیمپس کا لان ہو۔ دور دور تک ٹولیوں میں لوگ بیٹھے تھے۔
ایک طرف ایک چوکور بلاک کی مانند لکڑی کی عظیم الشان قدیم عمارت تھی وہ ایک خستہ حال، قدیم یونانی یتیم خانہ تھا جس کو دیکھنے لوگ دور دور سے Hill jesus (عیسٰی کی پہاڑی) پہ آتے تھے۔
وہ دونوں ایک درخت تلے آ بیٹھے۔ حیا نے تنے سے ٹیک لگا لی، جبکہ جہان اس کے قریب ہی کہنی کے بل گھاس پہ نیم دراز ہو گیا۔ اسے بے اختیار ٹواپ قپی کے عقبی برآمدے کا منظر یاد آیا جب وہ دونوں اسی طرح بیٹھے تھے۔ لمحے جزیرے کی ہواؤں سے پھسلتے، لکڑی کی قدیم عمارت پر گر رہے تھے۔ گویا بارش کے ان دیکھے قطرے ہوں۔
عمارت کے قریب چند لڑکے گھاس سے ہٹ کر ایک الاؤ کے گرد بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ الاؤ سے آگ کی لپیٹیں اٹھ اٹھ کر فضا میں گم ہو رہی تھیں۔
جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی تم نے اپنی جلد پر جلنے کا زخم محسوس کیا ہے؟ وہ دور اس الاؤ کو دیکھتی پوچھ رہی تھی۔
غریب شیف دن میں کئی بار ہاتھ جلاتا ہے مادام!
اس نے ایک نگاہ جہان پر ڈالی۔ اس نے سوال ضائع کیا تھا۔ یہ بات اسے میجر احمد سے پوچھنی چاہیے تھی۔ اس نے سوال غلط بندے سے کیا تھا۔
تم ہر وقت اپنے آپ کو اتنا غریب کیوں کہتے ہو؟ لمحے بھر کو اسے جہان پر بےطرح غصہ آیا تھا۔ استقلال اسٹریٹ میں تمہارا ریسٹورنٹ ہے؟ جہانگیر میں تمہارا گھر ہے اور جس روز ہم پاکستان سے آئے تھے، میں نے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی Gadget تمہارے کمرے میں رکھا تھا۔ اب وہ سب تو تمہیں گفٹ نہیں ملے تھے نا۔
تم زخم کی بات کر رہی تھیں۔ تمہاری گردن کا زخم ٹھیک ہوا؟ وہ بغیر شرمندہ ہوئے بہت ڈھٹائی سے موضوع بدل گیا۔
میرے زخم بہت سے ہیں، میں نے ان کا شمار چھوڑ دیا ہے۔ وہ ذرا تلخی سے کہتی رخ موڑ کر قدیم خستہ حال عمارت کو دیکھنے لگی۔ حرکت کرنے سے اس کے کان میں موجود بالی کا موتی ہلنے لگا تھا، مگر جہان کو تو یاد بھی نہیں ہو گا کہ حیا کو یہ موتی اس نے دیا تھا۔
تمہاری رپورٹ کہاں تک پہنچی؟ وہ مسکراہٹ دبائےاسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جیسے اسے ابھی تک یقین نہ ہو کہ حیا ”اتفاق“ سے پھولوں کی مارکیٹ میں تھی۔
بہت دور تک۔۔۔۔۔۔۔ سننا چاہو گے؟
ہاں تم نے اس بیچارے دکان دار سے پھولوں کے متعلق کون سا راز اگلوایا،، ذرا میں بھی تو سنوں۔ وہ کہنی کے بل ذرا اوپر کو ہو کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
میں پھولوں کے متعلق نہیں عبدالرحمان پاشا، اس کے گمشدہ بھائی اور ہوٹل گرینڈ کے متعلق رپورٹ لکھ رہی ہوں!
اور زندگی میں پہلی بار اس نے جہان کے چہرے سے رنگ اڑتا دیکھا۔ وہ ایکدم سیدھا ہہو کر بیٹھا۔
تم مذاق کر رہی ہو؟
نہیں، مگر اب تم یہ نہ کہنا کہ استنبول میں عبدالرحمان پاشا نامی کوئی بندہ نہیں ہے۔ وہ ہے اور ہوٹل گرینڈ کا مالک ہے، لیکن تم جانتے ہو، اس ہوٹل کا اصل مالک کون تھا؟
جہان نے جواباً سوال نہیں کیا، وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔
اس کا چھوٹا بھائی۔ عبدالرحمان کا ایک چھوٹا بھائی تھا، جو اچانک ڈیڑھ دو سال قبل منظر عام سے غائب ہو گیا۔ اگر آج وہ ادھر ہوتا تو عبدالرحمان پاشا اتنا ناقابل شکست اور مضبوط نہ بنا بیٹھا ہوتا۔ میں وجہ تلاش کر رہی ہوں جس کے باعث اس کا بھائی یوں روپوش ہوا ہے۔
تم یہ سب جان کر کیا کرو گی؟ وہ بہت الجھن سے اسے دیکھ رہا تھا۔
میں یہ اسٹوری ہالے کو دوں گی اور وہ اپنی صحافی دوست کو۔ یوں معصوم سی یہ کہانی اخبار میں چھپے گی اور اگر یہ چیز ایک دفعہہ میڈیا کے ہاتھ لگ جائے تو پریشر کے باعث عبدالرحمان اپنے بھائی کو ڈھونڈ نکالے گا یا میڈیا۔ وہ بہت جوش سے بولتی جا رہی تھی۔
اگر یہ اتنا آسان ہوتا تو کوئی پہلے ہی کر چکا ہوتا اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اس کے بھائی کو منظر عام پر لا کر کیا کروگی؟
میں چاہتی ہوں لوگ اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ عبدالرحمان پاشا کسی Voldemort Lord کا نام ہے۔ تم یقین کرو جہان! میں نے جتنی اس معاملے پہ تحقیق کی ہے، اتنا ہی مجھے اندازہ ہوا ہے کہ پاشا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ محض ایک جعلی پروپیگنڈا مہم ہے۔ بعض لوگ خود کو طاقتور کہلا کر اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ میں قانون پڑھ رہی ہوں مجھے ان باریکیوں کا پتا ہے۔
اچھا ہوا تم نے بتا دیا۔ تم قانون پڑھ رہی ہو، ورنہ میں تو اب تک بھول ہی چکا تھا۔
بات مت بدلو۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے جب میڈیا میں یہ بات آئے گی کہ ہوٹل گرینڈ کا اصل مالک یونان نہیں، بلکہ کسی چھوٹی سی جگہ پہ گمنامی کی زندگی بسر کر رہا ہے تو اس بات کو کتنا اچھالا جائے گا۔
اسٹاپ دس حیا! وہ ایک دم جھنجھلایا تھا۔ تم، تم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ضرورت ہے تمہیں پرائے مسئلے میں پڑنے کی؟ ضروری تو نہیں ہے کہ پاشا نے اپنے بھائی کو نکالا ہو، ہو سکتا ہے وہ خود گیا ہو، سکتا ہے ان دونوں کے درمیان کوئی سیٹل منٹ ہو۔ ہزار ممکنات ہو سکتی ہیں۔
اور ہو سکتا ہے، اس نے خود اپنے بھائی کو واپس آنے سے روک رکھا ہو، اگر اخبارات اس خبر کو اچھالیں گے تو عبدالرحمان پاشا کی اس خود ساختہ شہرت کے غبارے سے ساری ہوا نکل جائے گی۔ وہ بہت مزے سے بولی تھی، پھر جہان کے تاثرات دیکھ کر اچنبھا ہوا۔ وہ بہت مضطرب اور کوفت زدہ سا لگ رہا تھا۔
عبدالرحمان پاشا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ فرق پڑے گا تو اس کے بھائی کو حیا! بہت سے لوگ نئی زندگیاں شروع کر لیتے ہیں، وہ خود ہی اپنی پرانی زندگی میں نہیں لوٹنا چاہتے۔ اس طرح اس کو ایکسپوز کر کے تم اس کی زندگی مشکل میں ڈال دو گی۔ خوامخواہ مت پڑو ان لوگوں کے مسئلوں میں۔ چلو چلتے ہیں، مجھے واپس کام پہ بھی پہنچنا ہے۔ وہ ایکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے انداز میں واضح اضطراب تھا۔
تم کو اپنے دوست سے نہیں ملنا؟
جہان نے رک کر ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں، پھر کبھی مل لوں گا۔
مجھے سامان پیک کرنے میں ذرا وقت لگے گا، تم پورٹ پر میرا انتظار کر سکتے ہو؟ میں سامان لے کر سیدھی وہیں آ جاؤں گی۔
میں تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں، تمہاری دوست کے گھر۔
نہیں، تم بور ہو جاؤ گے، مجھے ساتھ والی آنٹی سے کچھ چیزیں لینی ہیں، وقت لگ جائے گا۔ میں تمہیں پورٹ پر ملوں گی۔ وہ جہان کو عائشے گل کے گھر کے باہر لگی اے آر پاشا کی تختی دکھانے کی ہرگز متحمل نہیں تھی۔
اوکے! اس نے زور نہیں دیا۔ وہ شانے اچکا کر سر جھکائے نیچے اترنے لگا۔ وہ کسی اور بات پہ الجھا ہوا لگ رہا تھا۔
* * *
گھر آ کر اس نے جلدی جلدی سامان پیک کیا۔ فون کر کے عائشے سے معذرت کی اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے، ابا کی آمد کا بتا کر جب وہ اپنا بیگ لیے نہایت عجلت میں بندرگاہ جانے کے لیے نکلی تو اسے بھول چکا تھا کہ اس کا پزل باکس اوپر اسٹڈی کی میز پر پڑا رہ گیا ہے۔
* * *
دوپہر کی سرخی بیوک ادا کی اس سر سبز درختوں سے گھری گلی پہ چھا رہی تھی۔ بلندوبالا عثمانی محل کے سفید ستون سنہری روشنی سے چمک رہے تھے۔
عبدالرحمان ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا گول چکر دار زینے اوپر چڑھ رہا تھا۔ اس کے جوتوں کی دھمک پہ کچن میں کام کرتی عائشے کے ہاتھ رک گئے۔ گھر میں جوتوں سمیت صرف عبدالرحمان ہی گھوما کرتا تھا۔ وہ مڈل کلاس ترکوں کی طرح گھر سے باہر کبھی جوتے نہیں اتارتا تھا بلکہ استنبول کی ہائی ایلیٹ کی طرح قالین پہ بھی جوتے پہن کے بہت تفاخر سے چلا کرتا تھا۔
عائشے نے صبح ہی اسے ایس ایم ایس کر دیا تھا کہ حیا کل چلی گئی ہے اور رات میں آنے بھی آ گئی تھیں، وہ چاہے تو گھر آ سکتا ہے۔ سو وہ آگیا تھا۔
اس نے جلدی سے سنک کی ٹونٹی کھولی، ہاتھ دھوئے اور انہیں خشک کیے بنا باہر نکلی تو اسے عبدالرحمان بالائی منزل کہ راہداری کے پہلے دروازے میں داخل ہوتا دکھائی دیا تھا۔ وہ اسٹڈی میں جا رہا تھا۔ عائشے تیز قدموں سے اس کے پیچھے زینے چڑھنے لگی۔
اسٹڈی روم کا دروازہ پورا کھلا تھا۔ عبدالرحمان ایک بک شیلف کے سامنے کھڑا کتابیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔
السلام علیکم! اس نے چوکھٹ میں رک کر سلام کیا۔
ہوں وعلیکم! وہ ہاتھ میں پکڑی کتاب کے صفحے پلٹ رہا تھا۔ وہ اتنے دن بعد گھر واپس آیا تھا، مگر اس کا انداز ویسا ہی تھا۔
تم کب آئے؟
ابھی۔ وہ کتاب رکھ کر اسٹڈی ٹیبل کی طرف آیا اور دراز کھول کر اندر رکھی اشیاء ادھر ادھر کرنے لگا۔
کیا ڈھونڈ رہے ہو؟ عائشے کو بے چینی ہوئی۔
کچھ پیپرز تھے اور ایک کتاب بھی۔ وہ اب گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھا نچلی دراز کھول رہا تھا۔
تم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو؟ وہ اداسی سے بولی۔
نہیں! وہ بنا پلٹے بولا تھا۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ میں نے جو کہا تھا، آنے کے لیے کہا تھا۔ اتنا عرصہ ہو گیا ہے مگر تم نے اس دن کے بعد مجھ سے کبھی ٹھیک سے بات نہیں کی۔
عائشے! میرے معاملات میں مت بولا کرو! اس نے مڑ کر ایک سخت نگاہ عائشے پر ڈال کر کہا اور واپس پلٹ گیا۔ تم نے اپنی دوست کو میرے سو کالڈ بھائی کے بارے میں بتایا ہے نا، اس نے مجھے خصوصاً یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا، تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
میں تمہارے حکم کی پابند تو نہیں عبدالرحمان! عائشے نے نرمی سے مگر خفا لہجے میں کہا۔ بہارے نے ہماری لڑائی کا ذکر کیا تو میں نے پوری بات بتا دی۔ اس سے کیا ہوتا ہے۔
آنے کدھر ہیں؟ وہ اپنے ٹیبل پہ رکھی کتابیں اٹھا اٹھا کر کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
وہ سو رہی ہیں۔ وہ کہہ کر پلٹ گئی۔ جاتے ہوئے اس کا چہرہ بہت خفا اور اداس تھا۔ وہ چلی گئی تو عبدالرحمان نے پلٹ کر دیکھا پھر برہمی سے سر جھٹکا۔ یہ لڑکی مروائے گی اسے کسی د۔
سرخ جلد والی کتاب ایک فائل تلے رکھی تھی، اس نے گہری سانس لے کر کتاب اٹھائی۔ اس کے اندر وہ کاغذات پڑے تھے جو اس نے پہلے وہاں رکھے تھے۔ کتاب اٹھا کر وہ پلٹنے ہی لگا تھا کہ اس کی نگاہ ایک شے پہ رک گئی۔
وہ ایک سیاہی مائل پزل باکس تھا جس کی چاروں اطراف جلی ہوئی لگتی تھیں اور ان پہ سنہری حروف ابھرے ہوئے تھے۔
عبدالرحمان نے کتاب واپس رکھی اور آہستہ سے وہ باکس اٹھایا، پھر اس کو الٹ پلٹ کر کے وہ سطور دیکھنے لگا۔ ایک شعر تلے کوڈ بار کے چھے چوکھٹے بنے تھے اور ان میں متفرق حروف ابھرے ہوئے تھے۔ وہ باکس پکڑے باہر آی۔ عائشے اسی وقت کچن سے نکلی جب وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ عبدالرحمان نے نامحسوس انداز میں باکس والا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ عائشے نے اسے نہیں دیکھا تھا، وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
وہ راہداری سے گزر کر پچھلے دروازے سے ہوتا ہوا عقبی باغیچے میں آگیا۔ وہاں کونے میں عائشے کی ورک ٹیبل رکھی تھی جس پر بہارے کوئی کلرنگ بک رکھے رنگ بھر رہی تھی۔ بہارے سے وہ آتے ہوئے مل چکا تھا، سو اب اسے آتے دیکھ کر وہ سادگی مسکرا دی۔
بہارے! وہ مدھم مسکراہٹ لبوں پہ سجائے اس کے قریب آیا اور پزل باکس اس کے سامنے کیا۔ یہ کس کا ہے؟
اوہ یہ تو حیا کا ہے۔ وہ یہیں بھول گئی؟ وہ حیرت سے بولی۔ کل اس کا کزن آیا تھا تو اسے جلدی میں جانا پڑا۔ تمہیں پتا ہے اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے۔
یہ حیا کا ہے؟ عبدالرحمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دہرایا۔
ہاں یہ اسے کسی نے دیا تھا۔
کس نے؟ وہ بنا پلک جھپکے بہارے کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
یہ تو مجھے نہیں پتا۔ بہارے نے شانے اچکا دیے۔
کیا یہ عائشے نے بنایا ہے؟
ہاں، مگر تم اس سے پوچھنا نہیں۔ اس کے خریدار نے تمہیں بتانے سے منع کیا تھا۔ بہارے کی آواز سرگوشی میں بدل گئی۔ وہ مسکرا دیا۔
اسی لیے تو میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔ کیا تم اس کو کھول سکتی ہو؟
نہیں! اس کی پہیلی ابھی حیا حل نہیں کر سکی تھی۔ تم کر سکتے ہو؟ بہارے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
شاید۔ مگر بہارے گل! وہ ذرا سا جھکا اور دھیرے سے بولا۔ یہ باکس میرے پاس ہے، اور یہ بات تمہارے اور میرے درمیان راز رہے گی۔ تم حیا یا عائشے کو نہیں بتاؤ گی اس بارے میں۔ ٹھیک؟
ٹھیک! بہارے نے الجھتے ہوئے سر ہلایا۔ مگر تم اس کو توڑنا نہیں توڑ کر کھولنے سے اس کے اندر کی موجود شے تمہارے کام کی نہیں رہے گی۔
وہ سر ہلا کر واپس پلٹ گیا۔ بہارے اپنی کلرنگ بک چھوڑ کر اس کے پیچھے آئی۔ وہ جب تک اندر آئی، عبدالرحمان اوپر جا چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں زینے چڑھنے لگی۔
تیسری منزل پہ عبدالرحمان کے کمرے کا دروازہ نیم وا تھا۔ بہارے نے چوکھٹ کے قریب سر نکال کر جھانکا۔
عبدالرحمان پزل باکس الماری میں رکھ رہا تھا۔ الماری کا پٹ بند کر کے اس نے لاک لگایا اور چابی اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی دراز میں ڈال دی۔ بہارے جلدی سے پیچھے ہٹ گئی اور بلی کی چال چلتے واپس اتر گئی۔
عبدالرحمن نے وہ باکس کیوں رکھ لیا، اس کا دماغ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: