Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 28

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 28

–**–**–

ابا آج صبح پہنچے تھے اور اب وہ ”مرمرا ہوٹل“ میں تھے۔ مرمرا ہوٹل ٹاقسم میں واقع تھا۔ حیا اور ڈی جے نے غریب عوام کی طرح وہ شاندار ہوٹل باہر سے ہی دیکھا تھا۔ اگر ڈی جے ہوتی تو وہ دونوں اس بات کو بہت انجوائے کرتیں کہ ابا اب اسی ہوٹ لمیں رہ رہے تھے۔
اس کا ڈروم ڈی جے بغیر بہت ادھورا سا تھا۔ ڈی جے ابھی تک وہیں تھی، وہ تو جیسے کہیں گئی ہی نہیں تھی۔ ہالے نے کل ڈروم بدل لیا تھا، اب وہ ڈی جے کے بنک پہ منتقل ہو گئی تھی۔ البتہ ان دونوں نے اس بنک سے ملحقہ میز پہ ڈی جے کی ٹوٹی ہوئی عینک ٹیپ سے جوڑ کر رکھ دی تھی۔
رات انجم باجی اور ہالے اسی کے پاس رک گئی تھیں۔ وہ تینوں گھنٹوں ڈی جے کی باتیں کرتی رہی تھیں۔
جب ہم پہلی بار آپ سے ملے تھے تو اسے آپ کے انڈین ہونے پر بہت اعتراض تھا۔ اسے پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی فائنل میں آخرہ بال پر مصباح کے آؤٹ ہونے کا بہت دکھ تھا۔ اس نے اس کے بعد کرکٹ دیکھنی ہی چھوڑ دی تھی۔ بعض دکھ اصل واقعات سے بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے ڈی جے کی محبت سے ڈی جے کا دکھ بڑھ گیا ہے۔
اور استقلال اسٹریٹ میں جب۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے اور ہالے کے پاس بہت سے واقعات تھے۔ وہ یادوں سے نکل کر جب سوئیں تو صبح دیر سے اٹھیں۔ آج چھٹی تھی اور اب اسے ابا سے ملنے جانا تھا۔ سو اب وہ اسی لیے تیار ہو رہی تھی۔
جو گہرا سبز فراق اس نے پہنا تھا یہ وہی تھا جو وہ ڈی جے کے ساتھ آخری دفعہ پھپھو کے گھر پہن کر گئی تھی۔
بالکل پاکستان کا جھنڈا لگ رہی ہو۔
کچھ یاد کر کے وہ اداسی سے مسکرائی اور پرفیوم اٹھایا۔ ابھی اس نے اسپرے نوزل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ بہارے کہیں آس پاس سے چیخی تھی۔
یہ کیا کر رہی ہو؟ اچھی لڑکیاں اتنا تیز پرفیوم لگا کر باہر نہیں جاتیں۔
وہ ایک دم رک گئی۔ اف، عائشے گل اور اس کی ”اچھی لڑکی“ اسے ان باتوں کو اپنے ذہن پہ حاوی نہیں کرنا چاہیے۔ اس نے دوبارہ نوزل دبانا چاہا مگر پتا نہیں کیوں اس نے پرفیوم واپس رکھ دیا۔
اپنے بازو کے اوپری حصے پہ داغے گئے الفاظ پہ وہ پہلے ہی اسکن کلر کا بینڈیج لگا چکی تھی۔ فراک کی شیفون کی آستینوں سے بازو جھلکتے تھے۔ کلر بینڈیج نے ان کو ڈھانپ لیا تھا۔ اس نے سبز ڈوپٹہ ٹھیک سے شانوں پہ پھیلایا اور کھلے بالوں کو کندھے کے ایک طرف ڈالتی باہر نکل آئی۔
اچھی لڑکیاں بال کھول کر باہر نہیں نکلتیں۔
وہ اپنے ذہن میں گونجتی آوازوں کو نظرانداز کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
اچھی لڑکیاں اللہ تعالی کی بات مانتی ہیں۔
وہ سر جھٹکتی آخری زینہ پھلانگ آئی۔
اچھی لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھی لڑکیاں۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔ اندھیرے پر اندھیرے۔ لہر پہ لہر۔۔۔ صبح کے وقت بھی اسے ہر طرف اندھیرا لگنے لگا تھا۔ اس کی روشنی کہاں تھی؟
وہ بے دلی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی انجم باجی کے اپارٹمنٹ کی طرف آ گئی۔ انجم باجی اپنا چارجر اس کے کمرے میں بھول گئی تھیں۔ ان کا چارجر لوٹا کر اس نے اب چلے جانا تھا مگر پتا نہیں کیوں رک گئی۔
انجم باجی! میرے بالوں کی فرنچ بریڈ بنا دیں گی؟ اس نے خود کو کہتے سنا۔
ہاں۔ شیور ادھر بیٹھو! انجم باجی برش لے کر اس کے بال سنوارنے لگیں۔
حیا! تمہارے بالوں کو کیا ہوا ہے؟ فرانسیسی طرز کی چوٹی کے باریک بل باندھتے ہوئے وہ حیرت سے کہہ اٹھیں۔ وہ ذرا سی چونکی۔
“کیا ہوا؟”
“تمہاری Scalp کی جلد کا رنگ ایسا سرخ بھورا سا ہو رہا ہے، چھالے ہوئے تھے بالوں میں”؟
“نہیں، ایک شیمپو ری ایکٹ کر گیا تھا۔ بس چند دن میں ٹھیک ہو جائیں گے۔” اس نے ان سے زیادہ خود کو تسلی دی۔
چوٹی بناتے ہوئے بال کھنچ رہے تھے اور سر کی جلد درد کر رہی تھی، مگر وہ برداشت کر کے بیٹھی رہی۔ عائشے نے جب وہ ویکس اتاری تھی تو اس کے بالوں کو کتنا نقصان ہوا، کتنا نہیں، عائشے نے تفصیل کبھی نہیں بتائی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ کبھی وہ اس سارے واقعے کی تفصیل دوبارہ سے سنے گی۔
اس نے انجم باجی کے اپارٹمنٹ سے نکلنے سے قبل خود کو آئینے میں نہیں دیکھا۔ اسے پتا تھا، وہ فرنچ بریڈ میں بہت اچھی نہیں لگ رہی ہو گی۔
حسین اور مومن گورسل شٹل سے اتر رہے تھے جب وہ اسٹاپ پہ پہنچی۔
“معتصم سے کہنا، مجھے اس کو کچھ دکھانا ہے۔ وہ نرم مسکراہٹ کے ساتھ حسین سے کہہ کر بس میں چڑھ گئی۔ وہ واپس آجائے پھر معتصم کے ساتھ مل کر پزل باکس کی پہیلی حل کرنے کی کوشش کرے گی۔
مرمرا ہوٹل، ٹاقسم ڈسٹرکٹ میں واقع تھا۔ شیشوں سے ڈھکی بلندوبالا عمارت، گویا کوئی اونچا سا ٹاور ہو۔ اندر سے بھی وہی چمکتا، آنکھوں کو خیرہ کرتا منظر۔
وہ پتلی ہیل سے پر اعتماد انداز میں چلتی لابی میں آئی تھی۔ ابا نے بتایا تھا کہ وہ لابی میں ہی ہوں گے اور وہ اسے دور سے ہی نظر آ گئے تھے۔ ان کا اس کی طرف نیم رخ تھا۔ وہ کھڑے کسی سے محو گفتگو تھے۔
وہ ان کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ نگاہ ابا کے ساتھ کھڑے دونوں افراد پر پڑی۔ ایک دم سے اس کے پاؤں برف کی سل بن گئے۔
ابا کے ساتھ کوئی اور نہیں، ان کے کاروباری شراکت دار لغاری انکل اور ولید لغاری تھے۔
گویا کرنٹ کھا کر حیا مڑی اور تیزی سے ایک دوسری راہداری میں آگے بڑھتی چلی گئی۔ صد شکر کے ان میں سے کسی کی نظر ابھی اس پر نہیں پڑی تھی۔
یہ قابل نفرت شخص کہاں سے آ گیا؟ وہ اس کا سامنا کیسے کرے؟ وہ کیا کرے؟ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بس وہ بنا دیکھے لیڈیز ریسٹ روم کی طرف آ گئی۔
وہاں آئینے سے ڈھکی دیوار کے آگے قطار میں بیسن لگے تھے۔ ایک طرف باتھ رومز تھے۔ ایک ترک لڑکی ایک بیسن کے سامنے کھڑی آئینے میں دیکھتی لپ اسٹک درست کر رہی تھی۔
حیا اس سے فاصلے پہ آئینے کے آگے کھڑی ہو گئی۔اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گردن پر ہاتھ رکھا۔ جب ولید نے اس کا دوپٹہ کھینچا تھا تو اس کی گردن پر رگڑ آئی تھی۔ ڈولی کا کھردرا ہاتھ، اس کا فرائنگ پن مگر یہاں کوئی ڈولی نہیں تھا۔ جو اس کے لیے آ جاتا۔ وہ اکیلی تھی۔ کس سے مدد مانگے، اس سے جو کسی مشکل میں اس کے ساتھ نہیں ہوتا تھا؟ مگر شاید اب کی بار۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے موبائل پر جہان کا نمبر ملایا۔ طویل گھنٹیاں جا رہی تھی۔
“اٹھا بھی چکو! وہ فون کام سے لگائے کوفت زدہ سی کھڑی تھی۔ آئینے میں جھلکتے اس کے چہرے پہ اب تک زخموں کے نشان مندمل ہو چکے تھے۔
پانچویں گھنٹی پر جہان کی خمار آلود آواز گونجی۔
“آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت سو رہا ہے۔ براہ مہربانی، کافی دیر بعد رابطہ کریں۔ شکریہ۔”
“جہان! اٹھو اور میری بات سنو !” وہ جھلا سی گئی تھی۔
“میں بہت تھکا ہوا ہوں، مجھے سونے دو، میں نے ریسٹورنٹ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جہنم میں گیا تمہارا ریسٹورنٹ۔ تم ابھی اسی وقت مرمرا ہوٹل پہنچو۔ ابا آئے ہوئے ہیں اور ساتھ ان کے دوست وغیرہ بھی ہیں، مجھے اکیلے ان سے ملنا اچھا نہیں لگ رہا۔” اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی۔
ساتھ کھڑی لڑکی اب بالوں کو اونچے جوڑے میں باندھ رہی تھی۔
“میں نہیں آ رہا، مجھے آرام کرنے دو۔”
“ٹھیک ہے۔ جہنم میں جاؤ تم اور تمہارا ریسٹورنٹ۔ وہ جن لوگوں نے تمہارے ریسٹورنٹ میں توڑ پھوڑ کی تھی نا، انھوں نے بہت اچھا کیا تھا، تم ہو ہی اسی قابل-” اس نے زور سے بٹن دبا کر کال کاٹی۔
ترک لڑکی اب بیسن کی سلیب پر رکھا اسکارف اٹھا کر چہرے کے گرد لپٹ رہی تھی۔ حیا چند لمحے بے خیالی میں اسے تکتی رہی، پھر کسی میکانکی عمل کے تحت اس نے شانوں پہ پھیلا دوپٹہ اتارا اور سر پر رکھ کر چہرے کے گرد تنگ ہالہ بنا کر پلو بائیں کندھے پر ڈال لیا۔ سبز دوپٹہ کرنکل جارجٹ کا تھا اور چاروں اطراف سفید موٹی پائی پن ہوئی تھی۔ پاکستان کا جھنڈا۔ کندھے، آستین اور کلائیاں تک دوپٹے میں چھپ گئی تھیں، مگر کیا وہ اچھی بھی لگ رہی تھی؟ شاید نہیں۔
لیکن کس کو؟ کسی نے اس سے پوچھا اور ایک دم سے اس کا دل پرسکونے ہو گیا۔ اس وقت وہ لوگوں کو اچھی لگنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ یہ سب اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لیے نہیں کر رہی تھی، وہ تو شاید صرف اپنا دفاع کر رہی تھی۔ نیکی، اللہ کا خوف، اسے اب بھی ان میں سے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا۔
“ابا! ان کے عقب میں جا کر اس نے ان کو پکارا تو وہ تینوں ایک ساتھ پلٹے۔
“اوہ مائی چائلڈ!” ابا خوشی سے آگے بڑھے۔ وہ ایک رسمی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے ابا سے ملی اور لغاری انکل کو فاصلے سے سلام کر لیا۔
“بیٹا! یہ لغاری ہیں، میرے دوست اور یہ ان کے صاحب زادے ہیں ولید۔”
“مجھے تو آپ جانتی ہوں گی، ہم پہلے مل چکے ہیں-“
ولید ایک محفوظ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
“مجھے یاد نہیں، میں ہر کسی کو یاد نہیں رکھتی -” ذرا رکھائی سے کہہ کر وہ ابا کی طرف مڑی اور اپنی بات کا رد عمل آنے سے قبل ہی بولی۔
“آپ کو کدھر لے کر جاوں ابا! استنبول کی سیر آپ کہاں سے شروع کرنا چاہیں گے؟”
“میرا خیال ہے انکل! استقلال اسٹریٹ چلتے ہیں، اس کی رونق کے بارے میں بہت سنا ہے-” ولید کی مسکراہٹ ذرا سمٹی تو تھی مگر وہ ابھی بھی مایوس نہیں ہوا تھا۔ استقلال اسٹریٹ کی رونق سے اس کا اشارہ اس جگہ کے بارز اور نائٹ کلبز کی طرف ہی تھا۔
“جہاں تم کہو، تم زیادہ جانتی ہو گی استنبول کو-” ابا مسکرا کر بولے تھے۔
“میرا خیال ہے ابا، ہم بلیو موسق (نیلی مسجد) چلتے ہیں۔ میں جہان کو بھی بتا دوں-” وہ سارا پروگرام بنا کر موبائل پہ جہان کو میسج کرنے لگی۔ جان بوجھ کر بھی جہان کا نام لینے کے باوجود بھی ان باپ بیٹے نے نہیں پوچھا کہ کون جہان؟” اسے مزید کوفت ہوئی۔ اسی کوفت زدہ انداز میں اس نے میسج لکھا۔
“ہم بلیو موسق، آیا صوفیہ اور ٹاپ قپی جا رہے ہیں، تم بھی وہیں آ جاؤ اور اگر تم نہ آئے تو میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی-“
“یہ بات اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دو!” فورا جواب آیا تھا۔
“فائن۔ اب میں تم سے واقعی کبھی بات نہیں کروں گی-“
“تو کیا ٹیکسٹ کرو گی؟” ساتھ ایک معصوم سا مسکراتا چہرہ بھی تھا۔ اس نے جواب نہیں دیا، اگر وہ سامنے ہوتا تو وہ اس کی گردن دپوچ لیتی۔
آیا صوفیہ اور ٹاپ قپی پیلس ساتھ ساتھ ہی واقع تھے اور ان کے سامنے سڑک کی دوسری جانب استنبول کی مشہور زمانہ نیلی مسجد تھی، پچھلی دفعہ آگر ڈی جے اور پھر جہان کی طبیعت خراب نہ ہو جاتی تو وہ لوگ نیلی مسجد ضرور جاتے مگر اب سب بدل چکا تھا۔
نیلی مسجد (سلطان احمت مسجد ) کا رنگ نیلا نہیں تھا مگر اس کی اندرونی ازمک ٹائلز نیلی تھیں۔ باہر سے اس کے گنبد یوں تھے گویا چھوٹے چھوٹے پیالے الٹے رکھے ہوں۔ مسجد کے احاطے کے آگے گیٹ تھا اور اس کے باہر قطار میں بنچ لگے تھے۔ یوں کے ہر دو پنچز کے درمیان ایک میز تھی۔
بنچ پر وہ اور ابا میز کے ایک طرف جبکہ ولید اور لغاری صاحب دوسری طرف بیٹھے تھے۔ موبائل حیا نے گود میں رکھا ہوا تھا گو کہ اب وہ جہان کی طرف سے مایوس ہو چکی تھی۔
وہاں ہر سو کبوتر پھڑ پھڑاتے ہوئے اڑ رہے تھے۔ ہوا سے اس کا دوپٹہ بھی پھسلنے لگتا، وہ بار بار اسے دو انگلیوں سے پیشانی پہ آگے کو کھینچی۔ آج اسے اپنے سر سے دوپٹا نہیں گرنے دینا تھا۔ آج نہیں۔
“رات کے سیمینار کے بعد یوں کرتے ہیں کہ عمیر خان سے مل لیں گے۔” ابا اور لغاری انکل آپس میں محو گفتگو تھے۔ ولید اسے نظروں کے حصار میں لیے اس کے مقابل بیٹھا تھا۔ وہ گردن موڑ کر لاتعلق سی اڑتے کبوتر دیکھ رہی تھی۔
دفعتا اس نے ابا اور لغاری انکل کو اٹھتے دیکھا۔ چونک کر اس نے گردن موڑی۔
“تم لوگ بیٹھو، ہم ابھی آتے ہیں”- اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ دونوں آگے بڑھ گئے۔
انہیں کچھ دیکھنا تھا یا کوئی مل گیا تھا یا پھر شاید ولید نے اپنے باپ کو کلیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھی رہی۔ دل کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی۔ ابا کو بھی ترکی آکر اتاترک کا اثر ہو گیا تھا۔ پاکستان ہوتا تو وہ کبھی یوں اپنی بیٹی کو دوست کے بیٹے کے ساتھ تنہا چھوڑ کر نہ جاتے۔
“تو میں آپ کو واقعی یاد نہیں؟” وہ محفوظ انداز میں مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ حیا نے گردن پھیر کر سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
“میرے ابا کے دوستوں کے پاس بہت کتے ہیں، مجھے کبھی کسی ایک کتے کا بھی نام نہیں یاد رہا-“
وہ جوابا اسی طرح مسکرائے گیا۔
“بہت نیک ہو گئی ہیں آپ مگر اس سرخ رنگ میں آپ بہت اچھی لگتی تھیں”-
وہ لب بھینچے رخ موڑے بیٹھی رہی۔
“کچھ کھائیں گی آپ؟ کیا پسند ہے آپ کو کھانے میں؟”
“آپ کو کیا ہے پسند کھانے میں؟ فرائینگ پین؟” اب کے وہ بھی تمسخرانہ مسکرا کر بولی تھی۔ وہ پھر بھی ڈھٹائی سے مسکراتا رہا۔
گاڑی نہیں ہے آپ کے پاس ادھر؟ مجھے آپ کے ساتھ ڈرائیو پر جانا اچھا لگتا”۔ وہ اسے یاد دلا رہا تھا۔ ایک سنگین غلطی جس کا پردہ وہ کبھی بھی کھول سکتا تھا۔ لمحے بھر کو وہ اندر تک کانپ گئی تھی۔
“اپنی حد میں رہیں ولید صاحب! جو رات کے اندھیرے میں آپ کو فرائینگ پین کی ایک ضرب سے زمین بوس کر سکتا ہے، وہ دن کی روشنی میں تو اس سے بھی بدتر کر سکتا ہے۔” کسی احساس کے تحت اس نے چہرہ موڑا تھا۔
دور سے جہان نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ وہ ان ہی کی طرف آ رہا تھا۔ نیلی جینز پر سفید ٹی شرٹ میں ملبوس، اس کے چہرے سے لگ رہا تھا، وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے۔
حیا کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔ اسے زندگی میں کبھی جہان سکندر کو دیکھ اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی، جتنی اس وقت ہو رہی تھی۔
وہ بے اختیار اٹھی، گود میں رکھا موبائل زمین پر جا گرا۔ وہ چونکی اور جلدی سے جھک کر فون اٹھایا۔اس کی اسکرین پر بڑی سی خراش پڑ گئی تھی۔
“کیا ہوا؟” اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھتے
ہوئے ولید بھی ساتھ ہی اٹھا تھا۔
“جی میڈم! آپ اپنی بات پر قائم ہیں؟” وہ مسکرا کر کہتا اس کے قریب آیا-” پھر نگاہ ولید پر پڑی تو اس نے سوالیہ نظروں سے حیا کو دیکھا۔
“جہان! یہ ابا کے دوست کے بیٹے ہیں، ابا ان کے والد کے ساتھ ابھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ آ گئے۔” ابا اور لغاری انکل سامنے سے چلے آ رہے تھے۔ جہان کو دیکھ کر ابا کے چہرے پر خوشگوار حیرت ابھری۔
“سوری ماموں! میں ایرپورٹ نہیں آ سکا۔ ممی نے بتایا کہ آپ نے خود منع کیا تھا۔” ابا سے مل کر وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بتا رہا تھا۔ لغاری انکل اور ولید کے ساتھ بھی وہ خوش دلی سے ملا تھا، البتہ وہ دونوں استفہامیہ نظروں سے سلیمان صاحب کو دیکھ رہے تھے۔
“اٹس اوکے، ہمیں آفیشلی پک کر لیا گیا تھا، اسی لیے میں نے سبین کو منع کر دیا تھا-” جہان نے مسکرا کر سر کو جنبش دی، پھر نگاہ لغاری انکل کے سوالیہ تاثرات پر پڑی تو جیسے جلدی سے وضاحت دی۔
“میں جہان سکندر ہوں، سلیمان ماموں کا بھانجا اور داماد۔ حیا کا ہزبینڈ!”
مرمرا کا سمندر ایک دم آسمان تک اٹھا اور کسی تھال کی طرح اس پر انڈیل دیا گیا تھا۔ وہ اس بوچھاڑ میں بالکل سن سی ہوئی جہان کو دیکھ رہی تھی جس رشتے کے متعلق نہ پوچھنے کی اس نے قسم کھا رکھی تھی، اس رشتے کا اقرار یوں اس منظر نامے میں ہو گا، اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
“داماد؟ اوہ آئی سی!” لغاری انکل نے بمشکل مسکرا کر سر ہلایا، پھر ایک نظر ابا پر ڈالی، جو لمحے بھر کو گنگ رہ گئے تھے، مگر جلد ہی سنبھل گئے تھے۔
“مجھے خوشی ہے جہان! کہ تم آئے-” حالانکہ وہ اس کے آنے کے بجائے کسی اور بات پر خوش تھے۔
“سوری ماموں! مجھے پہلے آنا چاہیے تھا اور اگر اب بھی نہ آتا تو حیا نے مجھ سے ساری زندگی بات نہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا-” اس نے مسکرا کر کہتے حیا کو دیکھا، وہ جوابا دھیرے سے مسکرائی۔ جیسے وہ دونوں ہمیشہ سے ہی ایسے آئیڈیل کپل کی طرح بات کرتے رہے ہو۔
ولید لغاری کے چہرے کی مسکراہٹ پھر یوں غائب ہوئی کہ وہ دوبارہ نہ مسکرا سکا۔ بعد میں وہ محتاط انداز میں سارا وقت اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا رہا۔ وہ اپنے سامنے، اپنے باپ اور شوہر کے درمیان بیٹھی لڑکی پر اب نظر ڈالنے کی جرات نہ کر رہا تھا۔
اس سہ پہر جہان نے ان تینوں مہمانوں کی بہت اچھے سے تواضع کی۔ ٹاپ قپی اور آیا صوفیہ (میوزیم) کی راہ داریوں میں ان کو ساتھ لیے وہ ایک اچھے گائیڈ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ آج استنبول میں حیا کا پہلا دن تھا، جب وہ بہت اعتماد سے جہان کے پہلو میں چل رہی تھی۔
“تم ان دونوں کو ہوٹل ڈراپ کر کے ابا کو گھر لے جانا، میں خود ہی گھر آ جاؤں گی۔ ابھی مجھے یہاں کچھ کام ہے۔” واپسی کے وقت اس نے جہان سے دھیرے سے کہا تھا۔ وہ شانے اچکا کر بنا اعتراض کے ساتھ چلا گیا۔
ان کے جانے کے بعد وہ نیلی مسجد کے گیٹ کے اندر چلی آئی۔ اسے یہاں کوئی کام نہیں تھا، اسے بس کچھ وقت کے لیے تنہائی چاہیے تھی۔
مسجد کے احاطے میں سبزہ زار پر پانی کا فوارہ ابل رہا تھا۔ اونچے گنبدوں پر چھاؤں سی چھائی تھی۔ وہ سر جھکائے روش پر چلتی اندر جا رہی تھی
“اندھیروں پہ اندھیرے، اس کے اوپر لہر۔ اس کے اوپر بادل۔”
اس کے قدموں میں تھکاوٹ تھی۔ اس شخص کی سی تھکاوٹ جس کا سیراب اسے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ زندگی کے بائیس برس ایک دھوکے میں گزار دینے کے بعد آج اس کو پہلی بار لگا تھا کہ وہ سب صرف ایک سیراب تھا۔ چمکتی ریت جسے وہ آب حیات سمجھی تھی۔
“اور نہیں بنایا جس کے لیے اللہ نے نور، تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی نور۔”
اندر اس عظیم الشان ہال میں وہ گھٹنوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنائے، تھوڑی ان پر جمائے ساری دنیا سے لاتعلق بیٹھی تھی۔
“تو نہیں اس کے لیے کوئی نور۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے ہمیشہ اپنی مرضی کی تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنی مرضی کر کے غلط کیا تھا۔ اس نے بہت دفعہ اللہ کو “ناں” کی تھی۔ اسے کبھی اس بات سے فرق نہیں پڑا تھا کہ اللہ اسے کیسا دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ہمیشہ وہی بنی رہی جیسے وہ خود دیکھنا چاہتی تھی۔
“وہ سمجھتا ہے اسے پانی، یہاں تک کہ وہ اس کے قریب پہنچتا تو وہاں کچھ نہیں پاتا اور وہ اس کے قریب اللہ کو پاتا ہے-“
اس نے آنکھیں بند کر کے چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا۔
جن دنوں اس کا تازہ تازہ یونیورسٹی میں ایڈمیش ہوا تھا، اس نے دوپٹہ بالکل گردن میں لینا شروع کر دیا تھا۔ کتنا ڈانٹتے تھے تایا فرقان اور ابا بھی شروع شروع میں کچھ کہہ دیتے، مگر جب وہ خاموشی سے ان کی بات سنی ان سنی کر کے آگے نکل جاتی تو رفتہ رفتہ سب نے کہنا چھوڑ دیا اور پھر اس سفر کی نوبت کہاں آ پہنچی؟ اس کی ویڈیو کو مجرے کا نام دیا گیا، ایک بدنام زمانہ آدمی اس کے پیچھے پڑا تھا، صائمہ تائی اس کے بارے میں آگے پیچھے ہر جگہ نازیبا باتیں کہتی پھرتی تھی اور ایک اغوا کار شخص نے اس کے بازو پر وہ نام داغ دیا تھا جو شرفاء اپنے منہ سے نہیں نکالا کرتے تھے۔
اس نے دھیرے سے سر اٹھایا۔
اللہ نور ہے، آسمانوں اور زمین کا۔۔۔۔
لوگ کہتے ہیں، مسجدوں میں سکون ہوتا ہے، کوئی اس سے پوچھتا تو وہ کہتی، مسجدوں میں نور ہوتا ہے۔ نور، اوپر نور کے۔
اس نے آہتگی سے گردن موڑی۔ اس کے بائیں طرف ایک تیرہ چودہ سال کا ترک لڑکا آ بیٹھا تھا۔ جس کے ایک بازو پر پلستر چڑھا تھا۔ وہ گم صم سی نگاہوں سے اوپر مسجد کی منقش چھت کو دیکھ رہا تھا۔
“نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟ وہ اتنی ہولے سے بولی تھی کہ اپنی آواز بھی سنائی نہ دی۔
“نور وہ ہوتا ہے جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پر نظر آتا ہے، گویا کسی پہاڑ سے گرتا پگھلے سونے کا چشمہ ہو۔” وہ اسی طرح چھت کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“اور کیسے ملتا ہے نور؟”
“جس اللہ تعالی کی جتنی مانتا ہے، اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے، کسی کا درخت جتنا، کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔۔۔۔۔۔”
لڑکے نے سر جھکا کر اپنے پاؤں کو دیکھا۔
“انگوٹھے جتنا نور، جو جلتا بجھتا ہے، بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔
“اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟”
“وہ اللہ کو ناں کہنا چھوڑ دے۔ اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی- وہ ایک دفعہ پھر گردن اٹھائے مسجد کی اونچی چھت کو دیکھنے لگا تھا۔
اسے محسوس ہوا، اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ رہا ہے۔ وہ دھیرے سے اٹھی اور باہر کی طرف چل دی۔ “سنو! وہ لڑکا پیچھے سے بولا تھا۔ حیا لمحے بھر کو رکی۔
“دل کو مارے بغیر نور نہیں ملا کرتا۔”
وہ پلٹے بغیر آگے بڑھ گئی۔ دل کو مارنا پڑتا ہے، مگر ضروری تو نہیں ہے کہ ٹھوکر بھی کھائی جائے۔ انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم لیے بغیر، خود کو جلائے بغیر بات کیوں نہیں مانتا؟ پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا؟ نیلی مسجد کے کبوتروں کی طرح اوپر اڑنا کیوں چاہتا ہے؟ پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں ہوتا ہے؟ اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟
اس نے ہتھیلی کی پشت سے دھیرے سے آنکھیں رگڑیں اور باہر نکل آئی۔
ایک فیصلہ تھا جو اس نے نیلی مسجد کو گواہ بنا کر کیا تھا۔ اب اسے اس فیصلے کو نبھانا تھا۔
* * *
پھپھو اور ابا لاؤنج میں بیٹھے بیتے دنوں کی باتیں کر رہے تھے۔ پھپھو بہت خوش تھیں۔ بار بار نم آنکھیں پونچھتیں۔ وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی، جہان کیک ٹرے میں سیٹ کر رہا تھا۔ آج اس نے کون سا اعتراف کیا ہے۔ وہ سب یوں ظاہر کر رہے تھے، گویا انہیں یاد ہی نہ ہو۔
“تمہاری پڑھائی کا حرج تو بہت ہو گیا ہو گا؟ اتنے دن لگا دیے ادالار میں، ڈورم آفیسر نے طلبی کی ہو گی؟
وہ کیک پر کچھ چھڑکتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
نہیں، ڈورم میں حاضری مارکنگ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ہاں کلاسز کا حرج تو ہوا ہے، پانچ دن تو اسپرنگ بریکر میں شامل ہو گئے تھے۔ اوپر کے چھ دن کی غیر حاضری لگی ہو گی۔ اب مزید صرف ایک چھٹی کی گنجائش ہے میرے پاس! وہ کیتلی میں چائے انڈیلتے ہوئے بولی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو نہیں دیکھ رہے تھے۔
ایگزامز کب ہیں؟
مئی کے آخر سے جون کے پہلے ہفتے تک۔
اور پاکستان تم نے پانچ جولائ کو جانا ہے نا؟ یہ آخری مہینہ تو شاید صرف ترکی گھومنے کے لیے ہے۔
ہاں مگر ایکسچینج اسٹوڈنٹس کی کوشش ہوتی ہے کہ قریبی ممالک بھی دیکھ لیں۔ کوئی قطر جا رہا ہے تو کوئی پیرس۔ وہ ٹرے اٹھا کر جانے کے لیے مڑی۔
“ہم لندن چلیں؟
حیا نے پلٹ کر حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ اوون سے اسنیکس کی پلیٹ نکالتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا تھا۔
ہم لندن جا رہے ہیں کچھ عرصے تک، ابا کے علاج کے لیے۔ تم بھی ساتھ چلو۔
آئیڈیا اچھا ہے، سوچوں گی۔ وہ مسکراتے ہوئے باہر آ گئی۔
میری بہت خواہش تھی بھائی کہ یہ سب پاکستان میں، سب رشتےداروں کے ساتھ ہو، لیکن شاید ایسا جلد ممکن نہ ہو اور پھر ہم دونوں تو ہیں یہاں، اس لیے میں نے سوچا کہ غیر رسمی انداز میں رسم کر لیں۔
پھپھو شاید ابا سے بات کر چکی تھیں، تب ہی مسکرا رہی تھیں، وہ جو کارپٹ پر پنجوں کے بل بیٹھی ٹرے سے پیالیاں نکال کر میز پر رکھ رہی تھی، ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی۔
پھپھو مسکراتے ہوئے اٹھیں اور چند لمحوں بعد سلور ٹرے لے آئیں جس میں سرخ فیتہ رکھا نظر آرہا تھا۔ حیا نے ناسمجھی سے ٹرے کو دیکھا، پھر کچن سے ٹرالی دھکیل کر لاتے جہان کو وہ بھی پھپھو کے ہاتھ میں ٹرے دیکھ کر رکا، پھر سوالیہ نگاہوں سے ان کا چہرہ دیکھا۔
جہان سکندر! آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ پھپھو نے بظاہر مسکراتے، آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے متنبہ کیا۔ وہ شاید راضی نہیں تھا،مگر “نہیں” کہہ کر ٹرالی آگے لے آیا۔ حیا میز پر ہی ٹرے چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اب نظر آیا، سرخ فیتے کے دونوں سروں پہ ایک ایک انگھوٹھی بندھی تھی۔
شادی کا وقت تو ظاہر ہے ہم بعد میں ڈیسائیڈ کریں گے، مگر ہر ماں کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ میں اپنی بہو کو نسبت کی انگھوٹھی پہنا دوں۔ فاطمہ بھی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ وہ دونوں انگھوٹھیوں کو پکڑے ان دونوں کے پاس آئیں۔
ان کے ہاتھ بڑھانے پر حیا نے کسی خواب کی سی کیفیت میں اپنا ہاتھ آگے کیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس میں انگھوٹھی ڈالی۔ وہ ایک سادہ، پلاٹینم بینڈ تھا۔ سرخ ربن کے دوسرے سرے سے بندھا بینڈ انہوں نے جہان کی انگلی میں ڈالا، پھر ٹرے سے چھوٹی قینچی اٹھا کر ربن درمیان سے کاٹا۔ دونوں کی انگھوٹھیوں سے بندھا ربن ان کی انگلیوں کے ساتھ جھولتا رہ گیا۔ ترکی میں منگنی شاید اسی طرح ہوا کرتی تھی۔
حیا نے سن ہوتے دماغ کے ساتھ سر اٹھایا۔ جہان پھپھو کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اور وہ اس کی پیشانی کو چوم کر دعا دے رہی تھیں۔ ابا بھی اٹھ کر اس کو گلے سے لگائے دعا دے رہے تھے۔ وہ سب کتنا حسین تھا، کسی خواب کی طرح۔ دھنک کے سارے رنگوں سے مزین کوئی بلبلہ جو کشش ثقل سے آزاد ہو کر اوپر اڑتا جا رہا ہو۔ اوپر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اوپر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کیوں چپ بیٹھے ہو برخودار؟ ابا شاید جہان سے پوچھ رہے تھے۔
میں سوچ رہا ہوں، میں وہ پہلا آدمی ہوں جس کی منگنی، اس کی شادی کے بعد ہوئی ہے۔
وہ دھیرے سے ہنس کر بولا تھا۔ وہ نچلا لب دبائے جلدی سے ٹرے لیے کچن میں آ گئی۔ اس کا ست رنگا بلبلہ اوپر، بہت اوپر تیرتا جا رہا تھا۔
شام میں دیر سے جہان، ابا کو واپس چھوڑنے گیا اور پھپھو اپنے کام نبٹانے لگیں تو وہ لاؤنج میں آ بیٹھی۔ اپنی انگلی میں پہنی انگھوٹھی سے بندھے ربن کو دیکھتے ہوئے وہ زیر لب مسکرا رہی تھی۔ تب ہی لینڈ لائن فون کی گھنٹی بجی۔
ہیلو؟ اس نے ریسیور اٹھایا۔ دوسری جانب کوئی نسوانی آواز تھی۔
کیا میں مسٹر جہان سکندر سے بات کر سکتی ہوں؟
نہیں، وہ ذرا باہر تک گئے ہیں۔ کوئی پیغام ہو تو دے دیجئے۔
وہ چند لمحے کی خاموشی کے بعد بولی۔
جہان کو کہنا، اس نے جو پارسل مجھے بھجوایا تھا، وہ کھو گیا ہے۔ کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا ہے شاید۔ میں اسے رات میں کال کروں گی۔
اس کے ساتھ ہی اس نے فون رکھ دیا۔
حیا نے ایک نظر ریسیور کو دیکھا اور پھر شانے اچکاتے ہوئے اسے کریڈل پہ ڈال دیا۔
جہان جب واپس آیا تو وہ لاؤنج میں منتظر بیٹھی تھی۔ پھپھو اب تک سونے جا چکی تھیں۔ حیا کا ارادہ تھا کہ وہ لندن کے ٹرپ کا پروگرام جہان سے ڈسکس اور بھی بہت سی باتیں تھیں مگر پہلے اس کا پیغام۔
ماموں صبح ہوٹل سے ہی ایئر پورٹ چلے جائیں گے، ہمیں آنے سے منع کر دیا ہے۔ تم ایسا کرو، دو کپ کافی بنا لاؤ، میں کچھ نئی موویز لایا تھا۔ دیکھتے ہیں۔
وہ بہت اچھے موڈ میں کہتے ہوئے ٹی وی کے نیچے بنے ریک کی طرف آیا تھا۔
اوکے لاتی ہوں اور ہاں، تمہارے لیے فون آیا تھا۔ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔ کوئی لڑکی تھی، نام تو نہیں بتایا مگر کہہ رہی تھی کہ تمہارا پارسل اسے نہیں ملا، کسی غلط ایڈریس پہ چلا گیا ہے۔ شاید وہ رات میں کال کرے۔
وہ تیزی سے مڑتے ہوئے اٹھا تھا۔
میرا پارسل اسے نہیں ملا اور کیا کہا؟ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کچھ نہیں۔ کافی لاؤں؟
نہیں، رہنے دو۔ وہ قدرے مضطرب انداز میں کہتے ہوئے صوفے کی طرف آیا اور فون اٹھا کر سی ایل آئی چیک کرنے لگا۔ اس کی انگلی میں انگوٹھی اب بھی تھی، مگر ربن نہیں تھا۔
تم۔۔۔۔۔۔ تمہیں صبح کیمپس بھی جانا ہو گا، تم ایسا کرو سو جاؤ۔ میں بس تھوڑا کام کروں گا۔ وہ الجھے الجھے متفکر انداز میں سی ایل آئی چیک کرتے ہوئے بولا۔
ست رنگا بلبلہ پھٹ گیا تھا۔
سارا موڈ غارت، سارا پلان ختم۔
وہ ”اچھا“ کہہ کر کمرے میں چلی آئی۔
اس کا کمرہ لاؤنج سے محقہ تھا۔ دروازے کی ہلکی سی درز اس نے کھلی رہنے دی۔ جب تک وہ سو نہیں گئی، اسے جہان صوفے پہ مضطرب سا بیٹھا فون کو دیکتا نظر آتا رہا تھا۔
وہ صبح فجر پہ اٹھی تو دیکھا، جہان اسی طرح صوفے پہ بیٹھا ، فون کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں رت جگے سے سرخ ہو رہی تھیں۔ اس لڑکی کا فون نہیں آیا تھا شاید۔ انتظار لا حاصل۔ اس کے دل پہ بہت سا بوجھ آن پڑا تھا۔
* * *
کلاس میں وہ سر سے دوپٹا اتار کر گئی تھی اور بالکل پیچھے بیٹھی رہی۔ باہر نکلتے ہی اس نے دوپٹا پھر ٹھیک سے سر پہ لے لیا۔ کامن روم میں واپس آئی تو متعصم مل گیا۔
”حیا۔۔۔۔۔۔۔ کی آ حال ہے؟“ حسین اور متعصم اس کے لیے کھڑے ہو گئے تھے۔ ڈی جے کی سکھائی گئی اردو۔وہ اداس مسکراہٹ کے ساتھ ان کے پاس آئی۔
”میں ٹھیک ٹھاک ہوں اور آپ کی خیریت ٹھیک چاہتی ہوں۔ مجھے تمہیں کچھ دکھانا تھا۔“ آخری فقرہ اس نے انگریزی میں ادا کیا۔
”پزل باکس؟ وہ کھلا؟“
”نہیں، مگر اس پہ لکھی پہیلی مل گئی ہے۔ ٹھہرو میں لے آٶں۔“ وہ الٹے قدموں واپس پلٹ گئی۔
کمرے میں آ کر اس نے بیگ کھولا، کپڑے، جوتے، سوئیٹرز، پرس، ہر چیز الٹ پلٹ کی، مگر پزل باکس وہاں نہیں تھا۔
”کدھر گیا؟ یہیں تو تھا۔ آخری دفعہ کہاں رکھا تھا اس نے؟“ وہ سوچنے لگی۔ ”ہاں، اسٹڈی میں، جب وہ جہان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ”اوہ، خدا نہ کرے وہ پاشا کے ہاتھ لگے۔“
اس نے جلدی سےموبائل اٹھایا اور اس کی ٹوٹی اسکرین کو دیکھتے ہوۓ عائشے کا نمبر ملانے لگی۔
* * *
سفید محل کے عقبی باغیچے میں سہ پہر اتری تھی۔
عائشے اسٹول پہ بیٹھی’ورگ ٹیبل پہ لکڑی کا ٹکڑا رکھے نوکدار چھرے سے اس کو چھید رہی تھی۔ اس کی آنکھیں مکمل اپنے کام پہ مرکوز تھیں۔
”عائشے! حیا کی کال!“ بہارے اس کا موبائل پکڑے بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی۔ عائشے نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا اور پھر موبائل تھام لیا۔
”سلام علیکم حیا۔“ اب وہ فون کان سے لگائے ازلی خوش دلی سے رسمی باتیں کر رہی تھی۔ بہارے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ باتیں سننے لگی۔
”پزل باکس؟“ عائشے کی مسکراہٹ ذرا سمٹی، بھنویں الجھن سے سکڑیں۔ ”تمہارا والا کدھر رکھا تھا؟“
بہارے نے چونک کر دیکھا۔ اس کا دل اس لمحے زور سے دھڑکا تھا۔
”میں نے کل ہی پوری اسٹڈی کی صفائی اپنے سامنے کروائی ہے۔ اگر ہوتا تو مل جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ تم ساتھ لے گئی ہو؟ اچھا تم فکر نہ کرو۔ میں دوبارہ دیکھ کر کرتی ہوں۔“ اس نے موبائل بند کر کے میز پہ رکھا۔
”بہارے! تم نے حیا کا پزل باکس تو نہیں دیکھا؟“
”نہیں!“ بہارے نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔
”چلو پھر یوں کرتے ہیں کہ مل کر تلاش کرتے ہیں۔
مہمان کی چیز میزبان کے گھر میں کبھی کھونی نہیں چاہیۓ۔ بہت شرمندگی کی بات ہوتی ہے۔“
وہ چیزیں سمیٹتے ہوئےاٹھ گئی۔ بہارے سر جھکاۓ اپنی بڑی بہن کے پیچھے چل دی۔ اس کے ذہن کے پردے پہ صرف ایک آواز گونج رہی تھی۔
”یہ باکس میرے پاس ہے۔ یہ بات میرے اور تمہارے درمیان راز رہے گی۔ تم حیا یا عائشے کو نہیں بتاٶ گی اس بارے میں۔ ٹھیک؟“
”ٹھیک عبدالحمٰن!“ اس نے بےدلی سے زیر لب دہرایا۔
* * *
اس روز جب عائشے نے اسے ایس ایم ایس کیا تب وہ ہالے کے ساتھ جمعہ کی نماز پہ ایوب سلطان جامعه
آئی ہوئی تھی۔
نماز جمعہ پہ جامعہ میں خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ ترک رسم کے مطابق کم سن بچے جمعے کی نماز پڑھنے سلطان کے مخصوص لباس میں آتے۔ سنہری پگڑی، سنہرا اور سفید زرتار لباس، میان میں تلوار، کامدار جوتے پہنے وہ ننھے سلاطین اپنی ماٶں کی انگلیاں تھامے ہر جگہ پھر رہے ہوتے۔
انصاری محلے میں ہالے کے ساتھ چلتے ہوۓ اسے بے اختیار اپنا اور ڈی جے کا ترکی میں پہلا دن یاد آ یا تھا۔ وہ دن جو بہت طویل تھا۔ اب ان ساڑھے تین ماہ میں کتنا کچھ بدل چکا تھا۔
انصاری محلے میں استنبول کے بہترین اور سستے اسکارف ملا کرتے تھے۔ وہ اب سر ڈھکے بغیر باہر نہیں نکلتی تھی، مگر اس کے سارے دوپٹے شیفون کے یا ریشمی ہوتے، جو سر پہ نہیں ٹکتے تھے۔ اب وہ یہاں ایسے اسکارف لینے آئی تھی، جو سادہ اور ایک رنگ کے ہوں نہ کہ ایسے شوخ اور کام دار کہ ہر کسی کی توجہ گھیریں۔ اسے اب کسی اور کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرنا تھا۔ جہان اس کا تھا۔ اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔
وہ اپنے چند جوڑوں کے ساتھ ہم رنگ اسکارف پیک کروا رہی تھی، جب میسج ٹون بجی۔ اس نے فون نکال کر خراش زدہ اسکرین کو دیکھا۔ عائشے کا پیغام جگمگا رہا تھا۔
”میں نے سارے گھر میں ڈھونڈا، مگر نہیں ملا۔ تم خود کسی دن آ جاٶ، دوبارہ مل کر ڈھونڈ لیتے ہیں۔“
اس نے ویک اینڈ پہ آنے کا وعدہ کر کے موبائل پرس میں رکھ دیا۔
”واپسی پہ جواہر چلتے ہیں، مجھے فون کی اسکرین ٹھیک کروانی ہے۔“
”شیور!“ ہالے نے ہامی بھر لی۔ وہ ڈی جے کے بعد اس کے ساتھ ساتھ ہی رہا کرتی تھی۔ ہالے ان لوگوں میں سے تھی جو دوسروں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور بدلے کی توقع کے بغیر مدد کرتے رہتے ہیں۔ ترکی کے پر خلوص لوگ!
ٹاقسم سے انہوں نے انڈر گراٶنڈ میٹرو پکڑی۔ پہلا اسٹاپ چھوڑ کر وہ دوسرے پہ اتر گئیں۔ اسٹیشن سے باہر سامنے ہی جواہر شاپنگ مال تھا۔ بلندوبالا کھجور کے درخت، لش چمکتا مال۔ روشنیوں کا سمندر۔
ہالے کچھ کھانے کے لیے ٹیک اوے کرنے ایک ریسٹورنٹ میں چلی گئی اور وہ بالائی فلور پہ فون ریپئیرنگ شاپ پہ آ گئی۔
”پانچ دس منٹ کا کام ہے میم! آپ کاٶچ پہ بیٹھ جائیں۔ میں ابھی کر دیتا ہوں۔“ جس ترک دکان دار لڑکے نے اس سے فون لیا تھا، وہ فون کا معائنہ کر کے بولا۔
وہ سر ہلا کر سامنے کاٶچ پہ آبیٹھی اور ریک سے ایک میگزین اٹھا کر یونہی ورق گردانی کرنے لگی۔
لڑکا اب شو کیس کے پیچھے کھڑا،اس کے موبائل کے ٹکڑے الگ کر رہا تھا۔ کیسنگ اتار کر اس نے بیٹری نکالی تو ایک دم رک گیا اور سر اٹھا کر قدرے تذبذب سے حیا کو دیکھا۔
”میڈم!“ اس نے ذرا الجھن سے پکارا۔ حیا نے میگزین سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”کیا ہوا؟“
”یہ لگا رہنے دوں؟“
”کیا؟“ وہ رسالہ رکھ کر اس کے قریب چلی آئی۔
”آپ کے فون میں جی پی ایس ٹریسر ہے۔ اسے لگا رہنے دوں؟“
”ٹریسر؟ میرے فون میں ٹریسر ہے؟“ وہ سانس لینا بھول گئی تھی۔
”اوہ! آپ کو نہیں معلوم تھا اور جس نے یہ ٹریسر ڈالا ہے، وہ تو ہمہ وقت آپ کی لوکیشن ٹریس کر رہا ہو گا۔“
وہ بنا پلک جھپکے اپنے موبائل کے اندر لگے ناخن برابر باریک ٹریسر کو دیکھے گئی۔
اور وہ سوچتی تھی، پاشا کو اس کی لوکیشن کا کیسے پتہ چلتا ہے؟ یقیناً اس کے پچھلے فونز میں بھی ٹریسرز ہوں گے۔ تب ہی۔
”یہ بہت سوفسٹی کیٹڈ ہے میم! وہ جب چاہے اس سے فون کا مائیک آن کر کے آپ کی گفتگو بھی سن سکتا ہے۔ اب اس کا کیا کروں؟“
وہ چند لمحے اسے دیکھے گئی۔ اس کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔
”اسے لگا رہنے دو۔“
”رئیلی؟“ لڑکا حیران ہوا تھا۔
”ایک ٹریسر نکالوں گی تو وہ دس اور ڈال دے گا۔ اس لیے بہتر ہے میں اس کو اسی ٹریسر سے دھوکا دیتی رہوں۔ میں ہر جگہ اسے ساتھ نہیں لے کر جاٶں گی۔خصوصاً اس جگہ نہیں، جہاں میں نہیں چاہتی کہ اس کو پتہ چلے۔“
”اوہ ویری اسمارٹ!“ لڑکا مسکرا دیا۔ ”میں آپ کو کسی چھوٹی سی ڈبی میں یہ ڈال دیتا ہوں تا کہ آپ کو اسے بار بار فون سے علیحدہ نہ کرنا پڑے۔“
وہ اب احتیاط سے وہ ننھا سا ٹریسر نکال رہا تھا۔ حیا ابھی تک بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔
عبدالرحمٰن پاشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیا کرے اس آدمی کا؟ وہ اپنا اتنا وقت اور توانائی اس پہ کیوں صرف کرتا تھا؟کیا یہ اندھی محبت تھی؟ شاید کچھ اور؟
* * *
اندھیرے کمرے میں مدھم سبز نائٹ بلب کی روشنی بکھری تھی اور جزیرے کے ساحل سے سر ٹکراتی لہروں کی سرسراہٹ یہاں تک محسوس ہوتی تھی۔عائشے آنکھوں پہ بازو رکھے قریباً نیند میں جا چکی تھی۔ جب بہارے نے پکارا۔
”عائشے، بات سنو!“ وہ چت لیٹی چھت پہ کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
”ہوں؟“ عائشے کی آواز نیم غنودگی سے بوجھل تھی۔
”جب بندہ بار بار جھوٹ بولتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟“
”اللٰہ اسے اپنے پاس۔ ”بہت جھوٹ بولنے والا“ لکھ لیتا ہے۔“
بہارے نے چونک کر اسے دیکھا۔ عائشے کی آنکھوں پہ بازو تھا۔ شکر کہ وہ بہارے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔
”اپنے پاس کدھر؟ آسمانوں پہ؟“
”ہاں، آسمانوں پہ۔“
”کیا اس کے نام کے ساتھ ”جھوٹا“ کسی بڑے پوسٹر پہ لکھا جاتا ہے؟“
”شاید ایسا ہی ہو۔ اب سو جاٶ۔“
”عائشے! اگر اللٰہ تعالیٰ وہ پوسٹر آسمان پہ بچھا دے تو کیا سب کو اس کے نام کے ساتھ جھوٹا لکھا نظر آئے گا؟ اس کی آواز میں انجانا سا خوف تھا۔
چشم تصور میں اس نے دیکھا، باہر تاریک آسمان پہ سرخ انگاروں سے لکھا تھا۔
”اناطولیہ کی بہارے گل۔۔۔۔۔۔۔ بہت جھوٹ بولنے والی۔“
”ہاں، سب کو ہر جگہ سے وہ نظر آۓ گا۔“
”جو گھر کے اندر ، کمرےکے اندر ہو گا اسے بھی؟“
”ہاں، اب سو جاٶ بچے! صبح کام پہ بھی جانا ہے۔“
”اور اگر کوئی بیڈ کے نیچے گھس جاۓ تو وہاں سے بھی آسمان نظر آۓ گا؟“
”ہاں اور بہارے گل! تم اب بولیں تو میں تمہیں ٹرنک میں بند کر دوں گی۔“
عائشے جھنجھلا کر بولی تھی۔ اس کی نیند بار بار ٹوٹ رہی تھی۔ وہ سارے دن کی تھکی ہوئی تھی۔بہارے ذرا سی عائشے کے قریب کھسکی اور چہرہ اس کے کان کے قریب لے آئی۔
”عائشے!“ اس نےبہت دھیمی سی سرگوشی کی۔ کیا ٹرنک کےاندر سے آسمان نظر آۓ گا؟“
”اللٰہ اللٰہ!“ عائشے نے غصے سے بازو ہٹایا۔ بہارے نے غڑاپ سے منہ کمبل کے اندر کر لیا۔
مگر اسے کمبل کے اندر سے بھی آسمان نظر آ رہا تھا۔سرخ انگارے اسی طرح دہک رہے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: