Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 29

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 29

–**–**–

اس شام وہ ٹاقسم اپنی سرخ ہیل ٹھیک کروانے آئی تھی۔ جب ہیل جڑ گئی تو وہ کسی خیال کی تحت شاپر لیے اسکوائر کے مجسمے کی طرف آ گئی۔ استقلال یمینی (مجسمہ آزادی)۔
مجسمے کےگرد گھاس کے گول قطعے اراضی کو مثبت کے نشان کی طرح دو گزرگاہوں نے کاٹ رکھا تھا، جس سے گول قطعہ چار برابر خانوں میں بٹ گیا تھا۔ کمپاس کے چار خانے۔ ہر سو ٹیولپس کی مہک تھی۔
بہادر جرنیل اب مجسم صورت اس کے سامنے کھڑے تھے۔ اتاترک مصطفی کمال پاشا۔ یہ وہ دوسرا پاشا تھا، جس سے اس کو شدید نفرت ہونے لگی تھی۔ صرف اس کی وجہ سے وہ روز کلاس میں اسکارف اتارتی تھی اور ٹالی اس کو استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا کرتی۔ اس ایک آدمی نے اسے ہرا دیا تھا مگر۔
انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی، جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے۔ ڈی جے کہیں دور سے بولی تھی۔
وہ چند قدم مزید آگے چل کر آئی۔ اس نے مجسم ہوئے جنگجو کی پتھر آنکھوں میں دیکھا۔ یہ آدمی کیوں جیتا؟ کیونکہ یہ لڑنا جانتا تھا، کیونکہ اس نے شکست تسلیم نہیں کی تھی، کیونکہ وہ لڑتا رہا تھا یہاں تک کہ اسے فتح مل گئی اور ایک جنگجو کو کیسے ہرایا جاتا ہے؟ اس نے میجر احمد سے دل ہی دل میں پوچھا تھا۔
اس سے مقابلہ کر کے، اس سے تب تک لڑ کے، جب تک فتح نہ مل جائے یا جان نہ چلی جائے۔
جواب فورا آیا تھا۔ اگر وہ غلط ہو کر اتنا پر اعتماد تھا، تو وہ صحیح ہو کر پر اعتماد کیوں نہ تھی؟ وہ غلط ہو کر جیت سکتا ہے تو وہ صحیح ہو کر کیوں نہیں جیت سکتی؟ وہ کیوں اتارے اسکارف؟ وہ ان لوگوں کے پیچھے اللہ تعالی کو کیوں ناں کرے؟ زیادہ سے زیادہ سبانجی والے نکال دیں گے، تو نکال دیں، مگر کیوں نکال دیں؟ نہیں، وہ نہ اسکارف اتارے گی، نہ میدان چھوڑے گی۔
وہ اتاترک کے مجسمے کو یہی اسکارف لپیٹ کر سبانجی کے کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھ کر دکھائے گی۔ مسجد میں جو فیصلہ میں نے کیا تھا، اسے بس اب پورا کرنا ہے طیب اردگان کو قانون بدلنا پڑے، سو بدلے۔ وہ مزید اس ذلت سے نہیں گزرے گی اللہ تعالی کی حدود مذاق نہیں ہوتیں۔ اب وہ اسکارف پہن کر ہی پڑھے گی، دیکھتے ہیں کون روکتا ہے اسے۔ اس کی ماں اسے روئے!
اتاترک کے مجسمے کو دیکھتے ہوئے اس نے عہد کیا تھا کہ وہ اسے زندگی بھر اپنے اسکارف پہ سمجھوتا نہیں کرتا۔ وہ نقاب نہیں کر سکتی، وہ برقع نہیں اوڑھ سکتی، مگر اسکارف اوڑھنا۔ یہ ایک کام ہے جو وہ کر سکتی ہے، تو پھر اسے روکنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ کوئی رستہ تو ہو گا۔
رستہ ضرور ہوتا ہے۔ میجر احمد نے کہا تھا۔
رستے ڈھونڈے جاتے ہیں اسے بھی رستہ ڈھونڈنا تھا۔
* * * *
آئینے میں اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اس نے اسکارف کو ٹھوڑی تلے پن سے جوڑا، پھر سامنے کے دو تکونے پلوؤں میں سے ایک کو مخالف سمت چہرے کے گرد لپیٹ کر سر کی پشت پہ پن سے لگا دیا۔ اسکارف خاصا بڑا تھا۔ دوسرے پلو نے سامنے سے اسے ڈھک دیا۔ نیچے سیاہ اسکرٹ پہ اس نے پوری آستینوں والا میرون پھول دار بلاؤز پہن رکھا تھا۔ توقع کے برخلاف، میرون اسکارف کے ہالے میں دمکتا اس کا چہرہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔
کتابیں اٹھائے، بیگ کندھے پہ ڈالے جب وہ سبانجی کی مرکزی عمارت کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تو سامنے ہی ٹالی چند یورپین اسٹوڈنٹس کے ساتھ آتی دکھائی دی۔ وہ گزرتے گزرتے آج کل حیا کے اسکارف پہ کوئی تبصرہ کر دیا کرتی تھی۔ اب بھی حیا کو آتا دیکھ کر اس کے لبوں پہ استہزائیہ مسکراہٹ ابھری۔
حیا! اس نے زور سے آواز دی۔
حیا اسے نظر انداز کر کے تیز تیز سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ آج اس کی پہلی کلاس ٹالی کے ہی ساتھ تھی۔
Haya! What Colour is your hair today? blue?
حیا بن کچھ کہے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ پیچھے سے آتے قہقہے کو اس نے نظرانداز کر دیا تھا، آج کل جہاں ان لڑکیوں سے سامنا ہوتا، وہ اسے تمسخر سے عرب لڑکی کہہ کر پکارا کرتی تھیں۔ بدتمیز نہ ہوں تو۔۔۔۔۔۔
آج وہ بنا اسکارف اتارے کلاس میں چلی آئی اور دوسری قطار میں بہت اعتماد سے بیٹھ گئی۔ چند ہی لمحوں بعد ٹالی اس کے ساتھ آ بیٹھی۔
تم نے آج اسکارف نہیں اتارا؟ کیا ابھی سب کے سامنے اتارو گی؟
جوابا اس نے بہت اعتماد سے مسکرا کر ٹالی کو دیکھا۔
دیکھتے ہیں! جتانے والے انداز میں کہہ کر وہ کتابیں جوڑنے لگی۔ اندر سے اس کا دل بھی عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔ آج کیا ہو گا؟ وہ اسے نکال دیں گے کیا؟
پروفیسر بابرصات نے ابھی لیکچر شروع بھی نہیں کیا تھا کہ ان کی نگاہ حیا پہ پڑ گئی۔
مس۔۔۔۔۔۔ میرا نہیں خیال آپ کو کلاس روم میں اسکارف کرنے کی اجازت ہے۔ وہ براہ راست اسے مخاطب کر کے بولے۔
بہت سے طلبا و طالبات گردنیں موڑ کر اسے دیکھنے لگے، جو ساری بڑی بڑی باتیں، احادیث، آیات، اقوال اس نے اس موقع کے یاد کر رکھے تھے، وہ سب اسے بھول گئے۔ اسے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا کہے۔ وہ بالکل خالی خالی نظروں سے پروفیسر کا چہرہ دیکھنے لگی۔ ٹالی بھی مسکراہٹ دبائے اسے دیکھ رہی تھی۔
مس۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہیڈ کورنگ ریموو کریں۔ انہوں نے دہرایا۔
جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے۔
عائشے نے ایک دفعہ کہا تھا مگر اسے سارے راستے بند نظر آ رہے تھے سب سے ہی دیکھ رہے تھے۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، تب ہی پیچھے سے کوئی ترک لڑکی اٹھی۔
سر! ایکسچینج اسٹوڈنٹ ہے۔ مہمان اور یہ رول مہمان پر اپلائی نہیں ہوتا۔ اس نے جلدی سے اپنے پروفیسر کو کچھ یاد دلایا تھا۔
اوہ سوری، آپ مہمان ہیں؟ پلیز تشریف رکھیے۔ پروفیسر بہت شائستگی سے معذرت کر کے لیکچر شروع کرنے لگے۔
ٹالی کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔ حیا نے ایک نظر اسے دیکھا اور دھیرے سے مسکرائی، پھر گردن موڑ کر پیچھے اپنی محسنہ کو دیکھنا چاہا، لیکچر شروع ہو چکا تھا، تمام سر جھکنے لگے تھے۔ وہ اس لڑکی کو دیکھ نہ پائی، سو چہرہ موڑ لیا۔ اس کے دل و دماغ سن ہو چکے تھے۔ کسی خواب کی سی کیفیت میں اس نے لکھنا شروع کیا۔ سب اتنا آسان ہو گا، اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
* * * *
یہیں رکھا تھا، کہاں جا سکتا ہے۔ وہ ویک اینڈ پہ بیوک ادا آئی تھی اور اب عائشے ار بہارے کے ساتھ مل کر ساری اسٹڈی چھان کر مایوسی سے کہہ رہی تھی۔ وہ بہت قیمتی تھا۔ میں اسے کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
ساتھ کھڑی بہارے کا چہرہ زرد او سر جھکا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ دھیرے سے چل رہے تھے آج۔ شاید وہ بیمار تھی۔
تمہیں کیا ہوا بہار کا پھول؟ وہ بہارے کا پژمردہ انداز کافی دیر سے محسوس کر رہی تھی، سو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
بہارے نے گردن اٹھا کر خالی خالی، خاموش نگاہوں سے اسے دیکھا۔
وہی پرانا مسئلہ، صبح بہارے کو ایک سیپ ملا، جس میں موتی نہیں تھا، حالانکہ مجھے تو آج ایک بھی سیپ نہیں ملا۔ عائشے اپنے گھر سے پزل باکس کھو جانے پر بہت اداس تھی۔
اب میرے سیپ سے موتی کبھی نہیں نکلے گا۔ بہارے بڑبڑائی۔ وہ دونوں محسوس کیے بنا اسٹڈی ٹیبل کے دراز کھول کھول کر دیکھ رہی تھیں۔
وہ باکس عبدالرحمان کے ہاتھ نہ لگ جائے، مجھے اسی بات کا ڈر ہے۔ وہ باکس اس کو نہیں ملنا چاہیے عائشے!۔
بہارے کی جھکی گردن مزید جھک گئی۔
ملازمہ کبھی چوری نہیں کرتی، اس نے بھی باکس نہیں دیکھا۔ کہاں ڈھونڈیں۔
حیا تھکے تھکے سے انداز میں کرسی پر گر سی گئی۔ اس کا دل بہت برا ہو رہا تھا۔
آئی ایم سوری حیا! عائشے نے آزردگی سے کہا۔ اسی پل کمرے میں دبی دبی سسکیاں گونجنے لگیں۔ حیا نے چونک کر بہارے کو دیکھا۔ وہ سر جھکائے ہولے ہولے رو رہی تھی۔
بہارے! کیا ہوا؟ وہ دونوں بھاگ کر اس کے پاس آئیں۔ بہارے نے بھیگا چہرہ اٹھایا۔
وہ باکس عبدالرحمان کے پاس ھہے۔ اس نے مجھے تمہیں بتانے سے منع کیا تھا۔
کیا؟ وہ سانس لینا بھول گئی۔ عائشے خود ششدر سی کھڑی رہ گئی۔
مگر مجھے پتا ہے کہ اس نے وہ کدھر رکھا ہے۔ میں تمہیں لا دیتی ہوں۔ بہارے ایک دم اٹھی اور باہر بھاگ گئی۔ وہ دونوں ساکت، ششدر سی اپنی جگہ کھڑی تھیں۔
پانچ منٹ بعد ہی بہارے واپس آئی تو اس کا بھیگا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پزل باکس تھا۔ وہ حیا کا پزل باکس ہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں تھا۔
یہ لو، تمہاری امانت۔ اس نے باکس حیا کی طرف بڑھایا۔
بہارے گل! حیا سلیمان تم سے بہت پیار کرتی ہے۔ اس نے بے اختیار جھک کر اس ننھی پری کے دونوں گال چومے۔ اور تم اس کو ڈانٹنا مت۔ سچ بولنے پہ کسی کو ڈانٹا نہیں کرتے۔ اس نے ساتھ ہی عائشے کو کہہ دیا تھا، جو بہارے سے ذرا سی خفا لگ رہی تھی، مگر اس کی بات سمجھ کر مسکرا دی۔
آنے کسی کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد وہ حیا کو واپس چھوڑنے کے لیے گھر سے نکل آئیں۔ بہارے قریبی کلب سے عبدالرحمان کا گھوڑا لے آئی تھی اور اب اس پر بیٹھی ان دونوں کے عقب میں چلی آ رہی تھی۔
اسے عبدالرحمان نے رائیڈنگ سکھائی ہے۔ بہارے سے اچھی رائیڈنگ پورے ادا میں کوئی بھی نہیں کر سکتا۔
وہ بس مسکرا کر رہ گئی۔ عبدالرحمان کا نام وہ آخری نام تھا، جو اس وقت وہ سننا چاہتی تھی۔ اس نے اس کا باکس کیوں رکھا، وہ یہی سمجھنے سے قاصر تھی۔
تم پہ یہ اسکارف بہت اچھا لگتا ہے حیا! اسے کبھی مت چھوڑنا۔
نہیں چھوڑوں گی۔ میں سبانجی سے جیت گئی، میں اتاترک سے جیت گئی، مجھے اور کیا چاہیے۔
تمہیں کچھ بھی چھوڑنا پڑے، اسے مت چھوڑنا! عائشے نے دہرایا۔ حیا نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
ان کے عقب میں گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھی بہارے نے اچنبھے سے عائشے کو دیکھا تھا۔ اس کی بہن اتنے اصرار سے اپنی بات دہراتی تو نہیں تھی، پھر اب کیوں؟
* * * *
معتصم نے جلی ہوئی اطراف والے پزل باکس کو الٹ پلٹ کر دیکھا، پھر ایک بڑے ڈبے کی طرف اشارہ کیا، جو اس کے ساتھ گھاس پر پڑا تھا۔
پہلے فلوٹیلا کے لیے فنڈ دو۔
اوہ شیور ! وہ گھاس پر بیٹھتے ہوئے پرس سے پیسے نکالنے لگی۔ چند نوٹ ڈبے کی درز میں ڈال کر اس نے دیکھا، اس پہ جلی حروف میں لکھا تھا۔
فریڈم فلوٹیلا 2010۔
وہ مئی 2010 تھا اور اسی ماہ کے آخر تک فلوٹیلا نے غزہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ یہ بات فلسطینی اب تک بہت دفعہ دہرا چکے تھے۔
گھاس کے آگے مصنوعی جھیل دوپہر کی کرنوں سے چمک رہی تھی۔ معتصم اس چمکتی دھوپ میں باکس پکڑے کافی دیر اسے الٹ پلٹ کر کے دیکھتا رہا۔
یقین کرو! مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر اس ”ہومر“ والی پہیلی کو حل کرنا آسان ہو گا۔ ٹھہرو! کوشش کرتے ہیں۔ اس نے جلی لکڑی پہ لکھے سنہرے حروف پڑھے۔
Marked on Homer’s Doubts
A Stick with twin sprouts
ہومر وہی فلسفی تھا نا جس کے بارے میں ہراقلیطس نے کہا تھا کہ اسے درے مارے جانے چاہئیں؟
اس کے کہنے پر معتصم نے سر اٹھا کر خفگی سے اسے دیکھا تھا۔ وہ شانے اچکا کر رہ گئی۔ یونانی فلسفہ وہ آخری شے تھی جو اسے دلچسپ لگتی تھی مگر شاید میجر احمد کا حساب الٹا تھا۔
ہومر کے شبہات پہ نشان زدہ اسٹک۔ یہاں کسی نشان کی بات ہو رہی ہے۔ ہومر کے شبہات، مگر کیسے شبہات؟ وہ سوچنے لگا۔
معتصم! نشان تو کسی کے لکھے ہوئے کام پہ ہی لگایا جا سکتا ہے نا، تو کیا ہومر کے لکھے ہوئے کام میں کسی کے شکوک وشبہات کا ذکر ہے؟
یہ تو مجھے نہیں پتا، مگر اس کے اپنے کام میں جو حصہ بعد میں آنے والے ناقدین کو مشکوک لگتا ہے، اسے مارک ضرور کیا گیا ہے۔
کیسے مارک کیا گیا ہے؟ وہ چونکی۔ کسی خاص نشان سے؟
مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ ہومر کے کام میں مشتبہ حصہ ہوتا ہے، اس پہ oObelus کا نشان لگا کر مارک کیا جاتا ہے۔
کیا ہوتا ہے Obelus؟
تمہیں اوبلس کا نہیں پتا؟ یہ ہوتا ہے اوبلس! اس نے رجسٹر کےصفحے پر ایک سیدھی لکیر کھینچی اور اس کے اوپر اور نیچے ایک ایک نقطہ لگا دیا۔
یہ تو تقسیم کا سمبل ہے۔ اس طرح کہو نا۔ اس نے پزل باکس کی سلائیڈز اوپر نیچے کیں، یہاں تک کہ پورا لفظ اوبلس لکھا گیا مگر باکس جامد رہا۔
یہ صرف پہلی پہیلی کا جواب ہے حیا! ہمیں ان چاروں کے جواب تلاش کر کے ان میں سے مشترک بات ڈھونڈنی ہے۔ اس نے یاد دلایا۔
حیا نے بد دلی سے پزل باکس اسے تھما دیا۔ وہ اس وقت خود کو بہارے کی طرح محسوس کر رہی تھی، اپنے تحفے کے اتنے قریب مگر اتنی ہی دور اور بے بس۔ بہت بے بس۔
* * * *
شام کا اندھیرا استقلال اسٹریٹ پر اتر آیا تھا۔ گلی کی رونق اور روشنیاں اپنے عروج پر تھیں۔ وہ اور ہالے کافی دنوں بعد استقلال اسٹریٹ آئی تھیں۔ امتحان قریب تھے سو نکل ہی نہیں پائی تھیں۔ اب نکلیں تو ڈی جے کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ خریدا انہوں نے کچھ نہیں، بس ونڈو شاپنگ کرتی رہیں۔ وہ آٹھ بجے والے گورسل سے آئی تھیں۔ گورسل کو واپس رات کے ڈیڑھ بجے جانا تھا، سو تب تک ان کا ارادہ خوب اچھی طرح سے جدیسی میں گھومنے کا تھا۔
پہلے تو برگر کنگ میں ڈنر کر لیتے ہیں، ٹھیک ؟ وہ اس روز کے بعد جہان سے بھی نہیں ملی تھی، سوچا اب مل لے۔
تمہاری صلح ہو گئی اس سے؟ وہ برگر کنگ کے دروازے پہ تھیں۔ جب ہالے نے پوچھا۔ حیا نے ذرا حیرت سے اسے دیکھا، پھر ہنس پڑی ۔
وہ بات تو بہت پرانی ہو گئی۔ اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔ وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ سیاہ اسکارف چہرے کے گرد لپیٹ رکھا تھا اور اس میں دمکتا اس کا چہرہ بہت مطمئن لگ رہا تھا۔
ہاں! لگ تو رہا ہے۔ ہالے شرارت سے مسکرائی۔
حیا نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا۔ پلاٹینم رنگ رات کی مصنوعی روشنیوں میں چمک رہی تھی۔
وہاٹ؟ تمہاری جہان سکندر سے منگنی ہو گئی اور تم نے مجھے بتایا نہیں؟ ہالے خوشگوار حیرت سے کہہ اٹھی۔ وہ دونوں ریسٹورنٹ کے دروازے میں کھڑی تھیں۔ اطراف میں لوگ آ جا رہے تھے۔
مگر ہماری شادی منگنی سے پہلے ہوئی تھی۔ یہی کوئی بیس، اکیس سال پہلے۔ لمبی کہانی ہے، ڈنر کے بعد سناؤں گی۔ وہ جلدی سے ہالے کا بازو تھامے اندر چلی آئی۔ آج اس نے وہی سرخ ہیل پہن رکھی تھی اور ذرا احتیاط سے چل رہی تھی۔
جہان تو چھ بجے تک آف کر گیا تھا۔ ابھی گھر پہ ہو گا۔ وہاں کام کرنے والے لڑکے نے بتایا۔ اسے مایوسی ہوئی مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔
مجھے پوری کہانی سناؤ۔ تم نے اتنی بڑی بات نہیں بتائی؟ ہالے پرجوش بھی تھی اور سارا قصہ سننے کے لیے بے تاب بھی۔
چلو! ٹاقسم چلتے ہیں۔ وہیں بیٹھ کر سناتی ہوں۔ وہ ہنس کر بولی۔
چند قدم کا تو فاصلہ تھا۔ باتوں میں ہی کٹ گیا۔ وہ اسکوائر پہ آئیں تو شام میں ہوئی بارش سے گیلی سڑک ابھی تک چمک رہی تھی۔ حیا نے بے اختیار اپنے پاؤں کو دیکھا۔
یہیں ٹوٹی تھی میری ہیل۔ اس نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے اپنی مرمت شدہ ہیل کو دیکھا۔ لکڑی کی بہت باریک ہیل اب بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ پھر کتنا خوار کرایا تھا اس نے اس دن۔ سرخ ہیل، سرخ کوٹ، برستی بارش۔ اسے بہت کچھ یاد آیا تھا۔
آؤ پارک میں چلتے ہیں۔ ہالے اسے بلا رہی تھی مگر وہ اسی طرح کھڑی سر جھکائے اپنی ہیل کو دیکھ رہی تھی۔ لمحے بھر کو اس کے گرد جگمگاتا اسکوائر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ ساری آوازیں بند ہو گئیں۔ وہ بالکل ساکت کھڑی اپنی ہیل دیکھ رہی تھی۔
یہیں ٹوٹی تھی اس کی ہیل۔ یہیں۔۔۔۔۔۔ یہیں
Snapped there a Blooded pine
بلڈڈ؟ یعنی خون۔۔۔۔۔۔۔ مگر خون سرخ ہوتا ہے۔ سرخ لکڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکڑی کی ہیل۔۔۔۔۔۔۔
Split there some Ttears divine
اس کی متحیر نگاہوں نے ٹاقسم اسکوائر کا احاطہ کیا۔
آفاقی آنسو، آسمان کے آنسو۔۔۔۔۔۔۔ بارش۔ نہریں ”تقسیم“ ہوتی تھیں اس جگہ۔
Roud the emerald crusified
اس کی نظریں مجسمے کے گرد پھیلے گھاس کے قطعہ اراضی پر جم گئیں، جنہیں دو گزر گاہیں صلیب کے نشان کی طرح کاٹ رہی تھیں۔ زمرد گھاس جو مصلوب تھی۔
And the freedome petrified
ساکن ہوئی، پتھر بنی آزادی۔ یقیناً مجسمہ آزادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتاترک کا مجسمہ استقلال یمینی
A love lost in symbolic smell
پیار جو کھو گیا؟
ڈی جے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ ادھر ساتھ استقلال جدیسی میں ڈیجے گری تھی اور روز ٹاقسم اسکوائر میں ٹیولپس کی مہک پھیلی تھی۔ علامتی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔ ٹیولپس جو استنبول کی علامت تھے۔
Under which the lines dwell
اس جگہ کے نیچے کیا تھا؟ لکیریں نہیں لائنز۔ ہاں! میٹرو لائنز۔ ریلوے لائنز۔ نیچے ریلوے اسٹیشن تھا۔ ایک ایک کر کے پزل کے سارے ٹکڑے جڑتے جا رہے تھے ۔
ابلس کا نشان کس چیز کا نشان تھا بھلا؟
حیا! یہ آدمی ہمیں فالو کر رہا ہے۔ ہالے نے اس کا بازو جھنجھوڑا۔ وہ ہالے کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ کسی خوابیدہ کیفیت میں وہ بڑبڑائی۔
پورے چھ حروف Taksim۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی، اس نے پزل حل کر لیا تھا۔
“حیا۔۔۔۔۔۔! یہ آدمی ہمارے پیچھے آ رہا ہے۔” ہالے کی آواز میں ذرا سی گھبراہٹ تھی۔ وہ جیسے کسی خواب سے جاگی اور پلٹ کر دیکھا۔
سڑک کے اس پار کھڑا شخص اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ ایک دم برف کا مجسمہ بن گئی۔ اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
وہ اس چہرے کو کیسے بھول سکتی تھی؟ عبدالرحمن پاشا۔
آنے کے ساتھ اور انفرادی کتنی ہی تصویروں میں وہ اسے دیکھ چکی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر جس شناسائی سے مسکرایا تھا۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اسے پہچان چکا ہے۔
“چلو! واپس اسٹریٹ میں چلتے ہیں۔” وہ ہالے کا ہاتھ تھامے تیزی سے واپس پلٹ گئی۔ لوگوں کے رش میں سے جگہ بناتے، تیز تیز قدموں سے فٹ پاتھ پہ چلتے ہوۓ وہ دونوں اس شخص سے دور جا رہی تھیں۔ جب حیا کو یقین ہو گیا کہ وہ ان کو کھو چکا ہے، تو اسی طرح ہالے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ایک کافی شاپ میں آگئی۔
“پتا نہیں کون تھا۔” انہوں نے ایک کونے والی میز کا انتخاب کیا تھا۔ ہالے دو مگ گرما گرم کافی کے لے آئی اور اب وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھی، اس آدمی کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہی تھیں۔
“ہاں! پتا نہیں کون تھا؟ اس نے لاتعلقی سے شانے اچکاۓ اور گرم کپ لبوں سے لگایا۔ ایک دم ہی کافی کا گھونٹ کسی تلخ زہر کی طرح اس کی گردن کو جکڑ گیا۔ اسے سامنے سے پاشا آتا دکھائی دیا تھا۔ وہ کافی شاپ میں کب داخل ہوا، انہیں پتا ہی نہیں چلا تھا۔
“ہالے وہ ادھر ہی آ گیا۔” اس نے سراسیمگی کی سی کیفیت میں کپ نیچے کیا۔ ہالے نے پریشانی سے پلٹ کر دیکھا۔ وہ عین ان کے سر پر آ پہنچا تھا۔
“کیا میں آپ کو جوائن کر سکتا ہوں مسز جہان سکندر؟” کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھ کر کھڑے اس نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔ لم­­بی سرمئی برساتی میں ملبوس، وہ اچھا خاصا لحیم شحیم آدمی تھا۔ فریم لیس گلاسز کے پیچھے سے چھلکتی آنکھوں میں واضح مسکراہٹ تھی۔ وہ لمحہ ملاقات جس سے اس کو کبھی ڈر نہیں لگا تھا، اس وقت بے حد خوف زدہ کر گیا تھا.
“جی! ضرور بیٹھیے۔” اس نے کپ پہ اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوۓ بظاہر مسکرا کر کہا۔
ہالے نے اسے آنکھوں میں کوئی اشارہ کیا تھا۔ حیا نے سمجھ کر سر کو اثبات میں ذرا سی جنبش دی۔ جیسے ہی وہ کرسی کھینچ کر بیٹھنے لگا، حیا نے گرما گرم کافی اس کے چہرے پہ الٹ دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: