Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 3

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ بہت بے چین سی بیٹھی۔ پاؤں اوپر صوفے پر سمیٹے، ہاتھ میں ریمورٹ پکڑے، وہ جھلائی ہوئی سی چینل بدل رہی تھی۔ مضطرب، بے بس، پریشان۔
اسمارٹ ٹی وی کی سکرین پہ پورے میوزک کے ساتھ اشتہار چل رہا تھا۔ وہ غائب دماغی سے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں موبائل کمپنی کے ساتھ ” غیر تصدیق شدہ سم کا استعمال قانوناً جرم ہے۔ پی ٹی اے“ لکھا آ رہا تھا۔ جانے کب pause کا نبٹن اس سے دبا اور اشتہار وہیں رک گیا۔ وہ اتنی دور بھٹکی ہوئی تھی کہ play بھی نہ کر سکی۔
دفعتاً دروازے میں فاطمہ بیگم کی شکل دکھائی دی۔ وہ تھکی تھکی سی اندرداخل ہو رہی تھیں۔ حیا ریمورٹ پھینک کر تیزی سے اٹھی۔
کیا بات تھی؟ صائمہ تائی نے کیوں بلایا تھا؟
ارم کے رشتے کے لیے جو لوگ اس دن آئے تھے انہوں نے انکار کر دیا ہے، حالانکہ رشتہ مانگ چکے تھے۔
اور حیا کا دل بہت ڈوب کر ابھرا تھا۔
کیوں؟ کیوں انکار کر دیا؟ اس کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔
کوئی وجہ نہیں بتاتے۔ بس ایک دم ہی پیچھے ہٹ گئے۔ صائمہ بھابھی بھی بہت اپ سیٹ تھیں۔
مگر کچھ تو کہا ہو گا؟
بس یہی کہا ہے کہ ہم نے کسی آزاد خیال اوربے پردہ لڑکی کو بہو بنا کر اپنی عاقبت خراب نہیں کرنی۔
وہ متحیر رہ گئی۔ چند روز قبل سنا تائی کا فقرہ سماعت میں گونجا تھا۔
”جب فرقان نے سختی کی کہ بھلا ایسی بے پردہ اور آزد خیال لڑکی کو بہو بنا کر ہم نے اپنی آخرت بگاڑنی ہے کیا، تب کہیں جا کر وہ مانا“
کیا اس کو مکافات عمل کہتے ہیں؟
کیا دوسروں کی بیٹیوں پر انگلیاں اٹھانے والوں کےگھروں پر وہی اٹھی انگلیاں لوٹ کر آتی ہیں؟
مگر وہ خوش نہیں ہو پائی۔ اگر بات کھل جاتی تو اصل بدنامی تو اسی کے حصے میں آتی۔ ارم کو تو شاید اس کی ماں ”حیا نے اسے بگاڑا ہے“ کہہ کر درمیان سے نکال لیتی اور بات تو اب بھی کھل سکتی تھی۔ وہ ویڈیو تو اب بھی انٹر نیٹ پر موجود تھی۔ ٹی وی سکرین پر اب بھی اشتہار رکا ہوا تھا۔ وہ بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھے گئی۔
”بغیر تصدیق شدہ سم کا استعمال قانوناً جرم ہے۔ پی ٹی اے۔“
”بغیر تصدیق شدہ سم کا استعمال قانوناً جرم ہے۔ پی ٹی اے“
وہ بے خیالی میں تکتی، سوچوں کی الجھن سے نکل کر ایک دم چونکی۔
۔
”بغیر تصدیق شدہ سم کا استعمال قانوناً جرم ہے۔ پی ٹی اے“
بجلی کا ایک کوندا سا اس کےذہن میں لکا تھا۔اوہ خدایا! یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا تھا؟
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور باہر کی طرف لپکی۔
”ارم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ بہت جوش سے چلاتے ہوئے حیا نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔
ارم موبائل پکڑے بیڈ پر بیٹھی تھی، دروازہ کھلنے پر گڑبڑا کر موبائل سائڈ پر رکھا۔
کیا ہوا؟ ساتھ ہی ارم نے اپنا موبائل الٹا کر دیا تا کہ اسکرین چھپ جائے۔
سنو وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب ہی رشتے والی بات یاد آئی۔ اوہ آئی ایم سوری ان لوگوں نے رشتے سے انکار کر دیا۔
وہ تو ویڈیو دیکھ کر کرنا ہی تھا، خیر جانے دو اچھا ہی ہوا۔ وہ مطمئن تھی۔
ارم تم ے کبھی موبائل کنکشنز کے اشتہاروں میں وہ عبارت پڑھی ہے کہ غیر تصدیق شدہ سم کا استعمال جرم ہے۔
ہاں تو؟
تو کیا تمہیں معلوم ہے کہ سم رجسٹر کروانا کیوں ضروری ہوتا ہے؟
کیوں؟
تا کہ کوئی کسی سم کا غلط استعمال نہ کر سکے، چاہے وہ دہشت گردی کی وردات ہو یا کسی کو رانگ کالز کرنا، یہ سب سائبر کرائم کے تحت آتا ہے۔
سائبر کرائم؟ ارم نے پلکیں جھپکائیں۔
ارم۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم ہماری پرسنل ویڈیوانٹرنیٹ پر ڈال دینا بھی تو ایک سنگین جرم ہے، ہم اس کی رپورٹ کر سکتے ہیں۔
مگر ہم کس کو رپورٹ کریں گے؟ وہ نیم رضا مند ہوئی تو حیا نےجھٹ اپنا موبائل نکالا۔
پی ٹی اے کو، روازہ بند کرو، میں ہیلپ لائن سے نمبر لیتی ہوں۔
پی ٹی اے کی ہیلپ لائن کا نمبر آسانی سے مل گیا، مگر آپریٹر نے نہایت شائستگی سے یہ کہہ کر معزرت کرلی کہ اس طرح کے کیس کی سائبر کرائم یا کسی انٹیلی جنس کے سائبر سیل کو رپورٹ کرنا ہوگا۔ حیا نے ان سے ملک کی سب سے بڑی سرکاری، سویلین ایجنسی کے سائبر کرائم سیل کا ای میل ایڈریس تو لے لیا لیکن اب وہ متذبذب بیٹھی تھی۔
یہ انٹیلی جنس والے بڑے خطرنا لوگ ہوتے ہیں ارم!
مگر اب یہ کرنا تو ہے نا!
اور واقعی کرنا تو تھا۔
ارم نے لیپ ٹاپ کھولا اور پھر بہت بحث و تمحیص کے بعد انہوں نے ایک کمپلینٹ لکھی اور اس پتے پر بھیج دی جو پی ٹی اے سے ان کو ملا تھا۔
بمشکل دس منٹ گزرے تھےکہ حیا کا موبائل بجا۔ چمکتی سکرین پر private number calling لکھا آ رہا تھا۔
یہ کون ہو سکتا ہے؟ اس نےاچنبھے سے موبائل کان سے لگایا۔
ہیلو! دوسری جانب ذرا خاموشی کے بعد ایک بھاری گمبھیر آواز سنائی دی۔
السلام علیکم، مس حیا سلیمان؟
جج۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کون؟
میں میجر احمد بات کر رہا ہوں، سائبر کرائم سیل سے۔ آپ نے ہماری ایجنسی میں رپورٹ کی ہے، ہمیں ابھی آپ کی کمپلینٹ موصول ہوئی ہے۔
وہ جو کوئی بھی تھا۔ بہت خوبصورت بولتا تھا۔ گہرا، گمبھیر، مگر نرم لہجہ جس میں ذرا سی چاشنی بھری تپش تھی۔ گرم اور سرد کا امتزاج۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میجر احمد ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کمپلینٹ میں اپنا نمبر تو نہیں لکھا تھا۔ وہ دھک ھک کرتے دل کے ساتھ کہہ رہی تھی۔ ارم بھی حیرت بھرے خوف سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ جواباً وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
نمبر تو بہت عام سی چیز ہے مس سلیمان! میں تو آپ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔
کیا؟
یہی کی آپ سلیمان اصغر کی بیٹی ہیں۔ آپ کے والد کی ایک کنسٹریکشن کمپنی ہے۔ آپ کا بھائی روحیل جارج میسن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ خود آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایل ایل بی آنرز شریعہ اینڈ لاء کے پانچویں سال میں ہیں۔ فروری میں آپ ایکسچینج پروگرام کے تحت استنبول جا رہی ہیں، غالباً سبانجی یونیورسٹی میں اور پچھلے ہفتے اپنے کزن داور فرقان کی مہندی کی فنکشن پہ بننے والی ویڈیو کی انٹرنیٹ پہ اپ لوڈنگ کو آپ نے رپورٹ کیاہے۔ از دیٹ رائٹ میم؟
وہ جو دم بخود سنتی جا رہی تھی، بمشکل بول پائی۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔جی وہی ویڈیو۔
اب آپ کیا چاہتی ہیں؟
یہی کی آپ اسے ویب سائٹ سے ہٹادیں۔ اس کی آواز میں بہت مان، بہت منت بھر آئی تھی۔
اوکے اور کچھ؟
اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جن لوگوں کے پاس اس کی سی ڈی ہے وہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے اس کا گلہ رندھ گیا، احساس توہین سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
میں شہر کےایک ایک بندے سے وہ ویڈیو نکلوالوں گا آپ بے فکر رہیے۔ اور اسے لگا منوں بوجھ اس کے اوپر سے اتر گیا ہو۔
تھینک یو میجر احمد۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ فون رکھنے والی ہے تو وہ بول اٹھا۔
تھینک یو تو آپ تب کہیں جب میں یہ کام کردوں اور اس کام کو محض شروع کرنےکے لیے بھی مجھے آپ کا تعاون چاہیے۔
کیسا تعاون؟
مادام! آپ کو ذرا سی تکلیف کرنی ہو گی، آپ کو اس ویڈیو کی باقاعدہ رپورٹ کرنے کے لیے میرے آفس آنا ہو گا۔
کیا؟ نہیں، نہیں میں نہیں آ سکتی۔ وہ پریشانی سے ہکلا گئی۔ ارم بھی گکر مندی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
پھر تویہ کام نہیں ہو پائے گا۔ ایسے اسٹیپ فون پر نہیں لیے جا سکتے۔ اسے لگا، وہ محفوظ سا مسکرا رہا
تھا۔
مم۔۔۔۔۔۔ مگر میں نہیں آسکتی۔ اور وہ کیسے آ سکتی تھی؟ اگر کسی کو پتا چل جاتا تو کتنی بدنامی ہوتی۔
آپ کو آنا پڑے گا، میں گاڑی بھیج دیتا ہوں۔
نہیں نہیں، اچھا خدا حافظ۔ اس نے جلدی سےفون بند کر دیا۔
بھاڑ میں گیا یہ اور اس کا سائبر کرائم سیل۔ اگر ابا یا تایا ابا کو پتا چل گیا کہ ہم ایک ایجنسی کے ہیڈکواٹرز گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ہماری ٹانگیں توڑ دیں گے وہ۔
میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ رپورٹ نہ کرو۔
پرائیویٹ نمبر سے پھر کال آنے لگی تھی۔ اس نے جھنجھلا کر فون ہی آف کر دیا۔ اس ویڈیو سے زیادہ میجر احمد نے اسے بلیک میل کیا ہے۔ یہ خیال پھر سارا دن اس کے ذہن میں گونجتا رہا۔
********************
وہ بہت تھکی ہوئی پاسپورٹ آفس سے نکلی تھی۔ اسلام آباد سے پنڈی کا اتنا لمبا اور رش بھری سڑک پہ تھکا دینے والا سفر کر کے وہ آج پاسپورٹ آفس سے اپنا پاسپورٹ اٹھانے آئی تھی، مگر یہاں علم ہوا کہ پاسپورٹ چودہ جنوری کو ہی مل پائے گا اور ابھی چودہ جنوری میں ہورا ہفتہ باقی تھا۔ اسلام آباد میں کوئی تکنیکی مسئلہ تھا اس لیےاسے پنڈی میں ہی اپلائی کرنا پڑا تھا۔
واپسی پر بھی اتنا ہی رش تھا۔ کچھ شاپنگ کے بعد جب وہ مری روڈ پر آئی تو مغرب چھا رہی تھی۔سڑک گاڑیوں سے بھری پڑی تھی اور گاڑیوں کا یہ سیلاب بہت سست روی سے بہہ رہا تھا۔ سگنل پر اس نےگاڑی روکی اور شیشے کھول دیے۔ اس کا ذہن ابھی تک پاسپورٹ میں الجھا ہوا تھا۔
یکایک کوئی اس کی کھڑکی پر جھکا۔
سوہنیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا سوچ رہے ہو؟
وہ بری طرح چونکی اور سر اٹھا کر دیکھا۔
وہ وہی تھا ڈولی۔
ناگواری کی ایک لہر اس کے چہرے پر سمٹ آئی۔ اسے بھول گیا کہ کبھی ڈولی نے اس پر کوئی احسان کیا تھا۔
ہٹو سامنے سے۔ وہ جھڑک کر بولی۔ وہ کھلی کھڑکی میں اس طرح ہاتھ جما کر کھڑا تھا کہ وہ شیشہ اونچا نہیں کر سکتی تھی۔
لو باجی! میں تو سلام دعا کرنے آئی تھی اور آپ غصہ کر رہی ہو۔ اس روز والے سخت تاثرات ڈولی کے چہرے پر نہیں تھے۔ اس کے چہرے پر کراہیت بڑی معصومیت تھی۔
ہٹو سامنے سے، ورنہ میں پولیس کو بلا لوں گی۔
ہائے باجی! ڈولی سے ایسے بات کرتی ہو؟ اور آپ کی تریفیں کر کر کے ڈولی نے میرا سر کھا لیا تھا۔
اس نے آواز پر سر گھما کر دیکھا تو فرنٹ سیٹ کی کھلی کھڑکی پر ایک اور خواجہ سرا کھڑا تھا۔ ڈولی کی سیاہ رنگت کی نسبت اس کا رنگ ذرا صاف تھا۔
وہ دونوں ہاتھ کھڑکی کی چوکھٹ میں دیے کھڑا تھا۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون ہو تم؟ ہٹو میری گاڑی سے۔ اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
یہ جی میری بہن ہے پنکی۔ بڑا شوق تھا جی اسے آپ سے ملنے کا۔ ایک بڑی ضروری بات کرنی تھی جی ہمیں آپ سے۔
گیٹ لاسٹ۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر شیشہ اونچا کرنا چاہا، مگر پنکی نے اپنا ہاتھ اندر کر دیا۔ ایک دم سے اس کی کلائی سامنے آئی تھی۔ اس کی کلائی پر ایک گلابی سرخ سا کانٹا بنا تھا۔ جیسے جلا ہو یا شاید برتھ مارک۔
ہٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی سے گیٹ لاسٹ۔ وہ عالم طیش میں شیشہ اوپر کرنےلگی مگر پنکی نے اس پر اپنے ہاتھ رکھ دیے تھے۔ شیشہ اوپر نہیں ہو پا رہا تھا۔
باجی! ایسے نا کرو پنکی نال۔ اس کا ہاتھ زخمی ہو جائےگا جی۔ ڈولی نے پیچھے سے کہتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اس کے کندھے پر رکھا تو وہ تیورا کر گھومی۔ اس نے ڈولی کو دھکا دیا اور وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہٹا تو اس نے جلدی سے شیشہ اوپر چڑھا دیا۔
اب تم بھی ہٹو ادھر سے، ورنہ میں لوگوں کو اکٹھا کر لوں گی۔ وہ ہاتھ بڑھا کر پنکی کی طرف والا شیشہ بند کرنے لگی لیکن وہ اڑ ہی گیا تھا۔
باجی جی میں تو تہانوں ڈولی کے دل کی بات بتانے آئی تھی اور تساں اس طرح کر رہے ہو، یہ جو ڈولی ہے نا یہ بڑا پسند کرتی ہےآپ کو مگر اقرار نہیں کرتی ہے۔ پنکی مصنوعی انداز میں بن بن کر بل رہا تھا۔
پیچھے ڈولی شیشہ بجانے لگا تھا۔
وہ پوری قوت سے شیشہ اوپر چڑھانے لگی۔ پنکی نے لمحہ بھر کو گردن موڑ کر ڈولی کو دیکھا تو اس کی گرفت ذرا ڈھیلی ہوئی، حیا نے فوراً شیشہ اوپر چڑھایا۔ پنکی نے چونک کر دیکھا پھر انگلیاں کھینچنی چاہیں مگر وہ مسلسل شیشہ اوپر کر رہی تھی۔ پنکی کی انگلیاں پھنس کر رہ گئی۔
اوہ چھڈو باجی جی!
دفعتاً پنکی کے دائیں ہاتھ کی انگلی سے خون کی بونڈ ٹپک کر شیشے پر گری تو اسے ہوش آیا ایک جھٹکے سے اس نے لیور نیچے کیا۔ شیشہ ایک انچ نیچے گرا۔ پنکی نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے ہاہر کھینچے۔ گاڑی آگے بھگانے سے قبل اس نے بہت غور سے پنکی کے ہاتوھں کو دیکھا تھا۔ دائیں ہاتھ، جس کی کلائی پر کانٹے کا جلا ہوا نشان تھا، کی شہادت کی انگلی سے خون نکلا تھا اور باقی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے اوپر پوروں کی قدرتی لکیر پر موٹی سی بھوریلکیر بن گئی تھی۔ یقینا اس کے ہاتھ زخمی ہئے تھ مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔
وہ زن سے گاڑی آگے لے گئی، پھر اس نے بیک ویو مرر میں دیکھا۔ وہ دونوں خواجہ سرا بار بار مڑ مڑ کر اسے غصے سے دیکھتے ہوئے سڑک پار کر رہے تھے۔ ڈولی نے پنکی کا زخمی ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور غصے سے پلٹ کر حیا کی دور جاتی گاڑی کو دیکھتے ہوئے کچھ کہہ رہا تھا۔ اس نے سر جھٹک کر ایکسیلیٹڑ پر زور بڑھا دیا۔ کم ازکم اتنی امید اسے تھی کہ اب وہ ڈولی اس کا پیچھا کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔
بہت جلد وہ غلط ثابت ہونے والی تھی۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئی، لاؤنج میں بیٹھے سلیمان صاحب تیزی سے اس کی طرف آئے۔ ان کے چہرے پر غیظ و غضب چھایا تھا۔
وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ تب ہی فون کی گھنٹی بجی۔
یہ ویڈیو تمہاری ہے؟ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم مجرے کرتی ہو؟ روحیل جو صوفہ پر بیٹھا تھا، ایک دم اٹھا اور بہت سی سی ڈیز اس کی طرف اچھالیں۔ وہاں سب موجود تھے۔ تایا فرقان، داور بھائی، روحیل اور ایک طرف ارم زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔ دور کہی فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ ان کو کہنا چاہتی تھی۔ اس کا منہ تو ہلتا تھا پر آواز نہیں نکل رہی تھی۔ وہ سب اس کا خون لینے پہ تلے تھے۔
سلیمان صاحب آگے بڑھے اور اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
بے حیا۔۔۔۔۔ بے حیا اسے تھپڑوں سے مارتے ہوئے سلیمان صاحب کہ رہے تھے۔ ان کے لب ہل رہے تھے مگر ان سے آواز ڈولی کی نکل رہی تھی۔ وہ سلیمان صاحب نہیں ڈولی بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ڈولی۔۔۔۔۔۔ ڈولی۔۔۔۔۔۔۔ پنکی۔۔۔۔۔۔۔ بے حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنکی کی انگلیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فون کی گھنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹیبل لیمپ آن کیا۔ زرد سی روشنیہر س پھیل گئی۔
اس نے بے اختیار دونوں سے اپنا چہرہ چھوا ۔سب ٹھیک تھا۔ کسی کو کچھ علم نہیں ہوا تھا۔ وہ سب ایک خواب تھا۔۔۔۔اوہ خدایا ۔۔۔۔ اس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا۔۔۔۔۔ دل ویسے ہی دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔ پورا جسم پسینے سے بھیگا تھا۔۔۔۔۔۔
فون کی مخصوص ٹون اسی طرح بج رہی تھی۔ ہاں بس وہ گھنٹی خواب نہیں تھی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور چمکتی سکرین کو دیکھا۔ private number caling…. اور پھر اس نے فون کان سے لگا لیا۔۔
میجر احمد میں آپ کے آفس آ کر رپورٹ درج کروانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ کل صبح نو بجے میرے گھر کی بیک سائیڈ پہ موجود گراؤنڈ کے انٹرنس پہ گاڑی بھیج دیں۔ شارپ۔
اوکے! اسے فاتحانہ لہجہ سنائی دیا تھا۔ اس نے آہستہ سے فون بند کر دیا۔
کبھی بھی وہ کسی لڑکے سے تنہا نہیں ملی تھی۔ مگر نہ ملنے کی صورت میں وہ ویڈیو کبھی نہ کبھی لیک
اس خوفناک خواب نے اسے یہ سب کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اسے لگا اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا۔ میجر احمد سے تو وہ نپٹ لے گی۔۔
************
پلے گراؤنڈ کے گیٹ کے ساتھ توت کا تناور درخت تھا۔ وہ اس سے ٹیک لگائے منتظر کھڑی تھی۔ سرخ اے لائن قمیض چوری دار پاجامہ۔ اوپر سٹائلش سا سرخ سوئیٹر جس کی لمبی آستین ہتھیلیوں کو ڈھانپ کر انگلیوں تک آتی تھی اور کندھوں پہ براؤن چھوٹی سی اسٹول نما شال۔ لمبے بال پیھچے کمر پہ گر رہے تھے، سردی اور دھندمیں وہ مضطرب سی کھڑی تھی۔
ارم یا زارا اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا۔ یہ خطرہ اس کو اکیلے مول لینا تھا۔
دفعتا اس نے بے چینی سےگھڑی دیکھی۔ نو بجنے میں ایک منٹ تھا۔
اسی پل ایک کار زن سے اس کے سامنے آ کے رکی ۔۔سیاہ پرانی مرسڈیز اور کسی بت کی طرح سامنے دیکھتا ڈرائیور۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے آگے بڑھی اور پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ اس کے دروازہ بند کرتے ہی ڈرائیور نے گاڑی آگے بھگا دی۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ سیف ہاؤس تھی۔
سفید دیواروں والا خالی کمرہ، درمیان میں لکڑی کی کرسی اور میز، جس پر اسے بٹھایا گیا۔ میز پر صرف ٹیلیفون رکھا تھا۔ باقی پورا کمرہ خالی تھا۔
وہ مضطرب سی گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ تین طرف سفید دیواریں تھیں۔ ان میں سے ایک دیوار میں وہ دروازہ تھا، جہاں سے وہ آئی تھی۔ البتہ چوتھی سمت اس کے بالمقابل دیوار شیشے کی بنی تھی۔ دراصل وہ شیشے کی سکرین تھی، جو زمین سے لے کر چھت تک تھی۔
اس نے غور سے سکرین کو دیکھا۔ اس کا شیشہ دھندلا کر دیا گیا تھا۔ جیسے مشین پھیر کر frosted کیا جاتا ہے۔ ہر شے اتنی مبہم اور دھندلی تھی کہ وہ بمشکل ایک خاکہ بنا ہا رہی تھی۔ یقینا وہ شیشہ ایک کمرے کر دو حصوں میں تقسیم کرنےکے لیے درمیان میں لگایا تھا اوراس کے پار کمرے کا باقی حصہ تھا۔
شیشے کے اس پار کوئی بڑا، پرتعیش سا آفس تھا اور آفس ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چیئر پہ کوئی بیٹھا تھا۔اس کا رخ حیا کی جانب ہی تھا۔ اس کا چہرہ واضح نہ تھا۔ خاکی یونیفارم، سر پر کیپ، ٹیک لگا کر کرسی پر بیٹھا، میز پر رکھی کوئی چیز انگلیوں پر گھماتا ہوا۔ شاید دیکھ بھی اسی کو رہا تھا مگر اس کی آنکھیں واضح نہ تھیں، واضح تھی تو بس ایک چیز، اس آفیسر کےگندمی چہرے کے دائیں طرف والے آدھے پہ یک بدنما سی کالک، جیسے آدھا چہرہ جھلس گیا ہو۔
دفعتا وہ شخص آگے کو جھکا اور میز سے کچھ اٹھا کر کان سے لگایا۔ غالبا فون کا ریسیور۔
ٹرن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک دم حیا کے سامنے میز پر رکھا فون بجنے لگا۔ وہ چونکی۔ فون مسلسل بج رہا تھا کیا وہ شخص اسےکال کر رہا تھا؟ اس نے دھڑکتے دل سے ریسیور اٹھایا اور کان سے لگایا۔
“ہیلو!”
السلام علیکم مس حیا سلیمان! دس از میجر احمد۔
وہی بھاری، نرم گرم سا خوبصورت لہجہ۔
وعلیکم السلام! وہ فون ہاتھ میں پکڑ کر کان پر رکھے یک ٹک سامنے اسکرین کو دیکھ رہی تھی، جس کے پر آدھے جھلسے چہرے والا آفیسر فون تھامے بیٹھا تھا۔ کیا وہی میجر احمد تھا؟
میں امید کرتا ہوں کہ ہم نے آپ کو زیادہ تکلیف نہیں دی۔
جی۔ اس کو گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔
میرے سامنے لیپ ٹاپ پر سسٹم کھلا ہوا ہے۔ مجھے ایک کلک کرنا ہے اور آپ کی ویڈیو صفحہ ہستی سے ایسے مٹ جائے گی جیسے کبھی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔
دیوار کے اس پار دھندلے منظر میں بیٹھے آفیسر کے سامنے بھی لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔ تو وہ میجر احمد تھا؟ وہ سامنے کیوں نہیں آتا تھا؟
“اور شہر کے ایک ایک بندے سے میں یہ ویڈیو نکلوا چکا ہوں۔ بولے حیا! میں کلک کر دوں؟
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رپورٹ؟
سمجھیں، وہ درج ہو گئی۔ اسے لگا وہ مسکرایا تھا۔
مگر۔۔۔۔۔۔ آپ نے کہا تھا کے مجھے رپورٹ کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غلط کہا تھا، ایکسکیوز بنایا تھا۔ بعض اوقات بہانے بنانے پڑتے ہیں، تب جب مزید صبر نہیں ہوتا، سمجھیں؟
فون کو جکڑا، اس کا ہاتھ پسینے میں بھیگ چکا تھا۔ یہ شخص اتنی عجیب باتیں کیوں کر رہا تھا؟
آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کلک کر دیں۔ بمشکل وہ کہہ پائی۔ وہ شخص جھکا، شاید بٹن دبانے اور پھر واپس پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔
“کر دیا!”
اوہ تھنک یو میجر احمد! اس کا گلا رندھنے لگا تھا۔
ایک بات پوچھوں؟
جی؟
کیا یہ ویڈیو جعلی تھی؟
نہیں، تھی تو اصلی۔
تو آپ اتنی ڈر کیوں رہی تھیں؟
ظاہر ہے یہ ہماری فیملی ویڈیو تھی اور شادیوں پر ڈانس کی ویڈیو ہم نہیں بنواتے۔
کیوں؟ وہ پے درپے سوال کر رہا تھا۔
کیا مطلب کیوں؟ شادیوں کی ویڈیوز سرکولیٹ ہوتی ہیں ہر جگہ، کیا اچھا لگتا ہے ہمارے ڈانس کی ویڈیو پرائے لوگ دیکھیں؟
مگر پرائے لوگ لائیو تو دیکھ سکتے ہیں، غالبا اس ویڈیو میں مجھے ویٹرز، مووی میکر اور ڈی جے نظر آ رہے تھے، وہ بھی تو پرائے مرد ہیں نا؟ میں سمجھ نہیں پایا کہ اگر آپ اس طرح رقص کرنے کو صحیح سمجھتی ہیں تو ویڈیو کے باہر نکلنے پر پریشان کیوں تھیں۔
میں آپ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں۔ وہ درشتی سے بولی۔
ٹھیک کہا آپ نے، خیر! ایک اور بات پوچھوں؟
پوچھیئے۔۔۔ اب کے اس کی آواز میں اجنبیت در آئی تھی۔
کبھی کوئی آپ کے لئے جنّت کے پتے توڑ کر لایا ہے؟
ہم دنیا والوں نے جنّتیں کہاں دیکھی ہیں میجر احمد! اس کے چہرے پر تلخی رقم تھی۔
تب ہی تو ہم دنیا والے جانتے ہی نہیں کے جنّت کے پتے کیسے دکھتے ہیں۔ کبھی کوئی آپ کو لادے تو انہیں تھام لیجییے گا۔ وہ آپ کو رسوا نہیں ہونے دیں گے۔
اس کے چہرے کی تلخی سکوت میں ڈھلتی گئی۔ کون تھا اس پار؟
آپ سن رہی ہیں؟
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی۔ وہ چونک کر سنبھلی۔ میں چلتی ہوں۔ وہ ریسیور کان سے ہٹانے ہی لگی تھی کہ وہ کہہ اٹھا۔
“ایک منٹ، ایک آخری سوال کرنا ہے مجھے”
وو اٹھتے اٹھتے واپس یٹھ گئی “جی پوچھیئے”
“”آپ مجھ سے شادی کریں گی؟”
اسے زور کا دھچکا لگا۔ وہ گنگ سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے دھندلی دیوار کو دیکھے گئی۔
بتائیے مس حیا
اس کے لب بھینچ گئے۔ حیرت اور شاک پہ غصّہ غالب آ گیا۔
مس حیا نہیں، مسسز حیا! ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتی وہ پرس تھام کر اٹھی۔ فون کا ریسیور ابھی تک پکڑ رکھا تھا۔
کیا مطلب۔۔ وہ واضح چونکا تھا۔
افسوس کے میرے بارے میں اتنی معلومات رکھنے کے باوجود آپ میرے بچپن میں ہونے والے نکاح سے بےخبر ہیں۔ وہ نکاح جو میرے کزن جہاں سکندر سے میرے بچپن میں ہی پڑھا دیا گیا تھا۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرا شوہر ترکی میں رهتا ہے۔
اوہ آپ کی وہ رشتہ دار فیملی جو کبھی پاکستان آئی ہی نہیں؟ جانتا ہوں، آپ کی پھپھو کا خاندان جو ذلّت اور شرمندگی کے مارے اب شاید کبھی ادھر کا رخ نہیں کرے گا آخر کارنامہ بھی تو بہت شرمناک انجام دیا تھا نا۔ ان کا انتظار کر رہی ہیں آپ؟ ارے بچپن کا نکاح تو کورٹ کی ایک ہی پیشی میں ختم ہو جاتا ہے۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ میجر احمد! وہ چلائی۔ آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی یہ بات کرنے کی؟ ارے بھاڑ میں جائیں آپ اور آپ کی وہ ویڈیو، آپ بھلے اسے ٹی وی پر چلوا دیں، مجھے پرواہ نہیں۔ میرا ایک کام کرنے کی اتنی بڑی قیمت وصولنا چاھتے ہیں آپ۔ رہاجہاں سکندر تو وہ میرا شوہر ہے اور مجھے بہت محبّت ہے اس سے۔ اس کے علاوہ میری زندگی میں کوئی نہیں آ سکتا سمجھے آپ۔
ریسیور واپس پٹخنے سے قبل اس نے سوگواریت بھرا قہقہ سنا تھا۔ پیر پٹخ کر وہ دروازے کی جانب بڑھی۔ اسی لمحے دروازہ کھول کر ایک سپاہی اندر آیا۔ جو اسے اندر بٹھا کر گیا تھا؛ اسے فورا اشارہ کر دیا گیا تھا۔ ملاقات ختم ہو چکی تھی اور حیا کے لیے وہ بےحد تلخ ثابت ہوئی تھی۔
گاڑی آپ کا انتظار کر رہی ہے میم! آئیے۔ وہ راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گیا۔ حیا نے گردن موڑ کر دیکھا۔
دھند کے اس پار وہ شخص میز پر جھکا کچھ لکھ رہا تھا۔ اسے لگا اس نے اس کی میز پر کسی سرخ شے کی جھلک دیکھی ہے۔ شاید سرخ گلابوں کے گلدستے کی یا شاید یہ اس کا وہم تھا۔
جس لمحے وہ اس پرانی کار کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی تو کھلے دروازے سے اس سپاہی نے اسے ایک سرخ گلابوں کا بوکے اسے تھمایا۔ گو کہ اس کے ساتھ کوئی خط نا تھا اور وہ پھول بھی ان سفید پھولوں سے قطعا مختلف تھے ، پھر بھی اسے یقین ہو گیا کہ وہ گمنام خطوط بھیجنے والا بھی میجر احمد ہی تھا۔ اور وہ اسے بہت پہلے سے جانتا تھا۔
“یہ جا کر اپنے میجر احمد کے منہ پر دےمارو”۔ اس نے بوکے سپاہی کے بازوؤں میں پھینکا اور دروازہ کھٹاک سےبند کیا۔ گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی۔۔۔
***********
حیا۔۔۔حیا۔۔۔
شام میں ارم بھاگتی ہوئی آئی۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
“وہ ویڈیو اس ویب سائٹ سے ریموو ہو گئی ہے” اس نے فرط جزبات سے تقریبا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی حیا کو جھنجھوڑ ہی دیا تھا۔
مگر کیسے ہوا یہ سب؟
“اس ویب سائٹ والے کو خوف خدا آ گیا ہو گا، مجھے کیا پتا” وہ لاپرواہی سے انجان بن گئی۔
ہوں شاید؛ مگر اچھا ہی ہوا اور ہاں تمہاری ترکی کی فلائٹ کب ہے ۔۔۔۔
“پتا نہیں پہلے پاسپورٹ تو ملے پھر ہی ویزا ملے گا۔۔”اس کو ارم کی موجودگی سے کوفت ہونے لگی تھی۔ کچھ اس کے تاثرات سے واضح ہو ہا تھا اس لیے ارم جلد ہی اٹھ کر چلی گئی۔ وہ پھر سے سوچوں میں گم گئی۔
میجر احمد۔۔۔۔۔۔۔ اس کا آدھا جھلسا چہرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے نا آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پردے کے پیچھے سے بات کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی وہ عجیب فلسفیانہ باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جننت کا تذکرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بازپرس کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر مجھ سے شادی کا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ میرے خدایا ۔۔۔۔! کیسا عجیب آدمی تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی ایک بات جس کے بارے میں وہ اس وقت شدید طیش میں ہونے کے باعث سوال نہیں کر سکی تھی۔
“آپ کی پھپھو کا خاندان جو ذلّت اور شرمندگی کے مارے اب شاید ادھر کا رخ کبھی نہیں کرے گا۔ آخر کار کارنامہ بھی تو بہت شرمناک انجام دیا ہے”۔
کیوں کہی تھی اس نے یہ بات؟ کیسی ذلت و شرمندگی؟ کیسا شرم ناک کارنامہ؟
پھپھو کا خاندان واقعتا پلٹ کر نہیں آیا تھا، تو کیا اس کی وجہ ان کی اپنے ملک اور خاندان سے بےزاری نہیں تھی جیسا کہ وہ قیاس کرتی تھی بلکہ کوئی ار تھی؟ کوئی ذلت آمیز کام ج انہوں نے سر انجام دیا تھا؟ اور انہوں نے کس نے؟ پھپھو؟ ان کے شوہر؟ یا جہان سکندرنے؟ کیا گتھی تھی بھلا؟ مگر میجر احمد سے وہ استفسار کر نہیں سکتی تھی، نہ ہی اس کا دوبارہ کوئی فون آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر؟
اور وہ خطوط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، وہ گلدستے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اسی نے بیجھے تھے۔اسے اس کےسپانجی جانے کا کیسے علم ہوا؟ یقیناً وہ اس کی کال ٹیپ کر رہا تھا جب زارا نے اس کو بتایا تھا۔ اور وہ اس وقت یقینا اس کے گھر کے باہر ہی ہو گا، مگر گلدستہ تو کچن کی ٹیبل پر رکھا تھا۔ تو کیا وہ ان کے گھر بھی داخل ہو سکتا تھا؟ اور اس کے کمرے میں بھی؟
خوف کی لہر نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ اٹھ کر دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی کہ فاطمہ بیگم دروازہ کھول کر اندر آئیں۔
“حیا۔۔تمہارے ابّا تمہیں بلا رہے ہیں”
اوکے، آ رہی ہوں۔اس نے تکیہ پر رکھا ڈوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا،سلیپر پہنے اور باہر آئی۔
ابّا؟ اس نے انگلی کی پشت سے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
آ جاؤ حیا۔
اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے بیڈ پر سلیمان صاحب بیٹھے تھے۔ سوچ میں گم، متفکر، اس کے منتظر۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ایک طرف صوفے پر فاطمہ بیگم موجود تھیں۔ ان کی خوبصورت آنکھیں سوگوار تھیں ار باوقار سراپا پہ افسردگی چھائی ہوئی تھی۔
آپ نے بلایا تھا ابّا۔
ہاں آؤ بیٹھو۔
میں نے ایک فیصلہ کیا ہے
اس نے گردن اٹھائی۔ وہ بہت سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔
“اب تمہیں کورٹ کے ذریعے سبین کے بیٹے سے خلع لے لینی چاہیے۔
کوئی اس کے منہ پر چابک دے مارتا، تو شاید تب بھی اسے اتنا دکھ نا ہوتا جتنا اب ہوا تھا۔
میں نے وکیل سے بات کر لی ہے۔ عدالت کی ایک پیشی میں علیحدگی ہوجائے گی اور جتنے بےزار وہ لوگ ہم سے ہیں، یقینا انھیں اس بات سے بہت خوشی ہو گی۔
اس نے شاکی نظروں سے ماں کو دیکھا تو انہوں نے بے بسی سے شانے اچکا دیے۔
“ابّا کیا یہ واحد حل ہے “بہت دیر بعد وہ بولی۔ ان کے رویے سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ اس رشتے کو رکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔
کیا اس کے علاوہ بھی کوئی حل ہے؟ حیا دنیا کا کوئی باپ اپنی بیٹی کا گھر نہیں توڑنا چاہتا اورمیں کبھی تمہیں یہ نہ کہتا، لیکن کس قیمت پر؟ کس قیمت پر ہم یہ رشتہ نبھانے کی کوشش کریں جب وہ کوئی امید ہی نہیں دلاتے۔
اگر آپ کو واقعی لگتا ہے کہ آپ میرا گھر بسا ہوا دیکھنا چاھتے ہیں تو مجھے ترکی جانے دیں، وہاں میں اس کو ضرور ڈھونڈوں گی اور پوچھوں گی کہ اگر وہ گھر بنانا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ مجھے طلاق دے دے۔ اگر نہیں دیتا تو وہیں کورٹ چلی جاؤں گی۔ مگر مجھے ایک آخری کوشش کر لینے دیں پلیز!
وہ خاموش ہو گئے شاید قائل ہو گے تھے۔
“ابّا آپ مجھے پانچ ماہ کا وقت دیں۔ اگر اس کےآخرمیں بھی آپ کو لگے کہ مجھے خلع لے لینی چاہئیے تو میں آپ کےفیصلے میں آپ کے ساتھ ہوں گی۔ وہ اٹھی اور پھر بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: