Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 30

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 30

–**–**–

باب 8
پاشا کے لیے یہ حملہ قطعا غیر متوقع تھا۔ گو کہ ردعمل کے طور پر اس نے چہرہ فورا پیچھے کیا تھا، اس کے باوجود کافی اس کے رخسار کو جھلسا گئی تھی۔
چھبک چھبک۔ (جلدی جلدی) ہالےنے اس کا ہاتھ تھاما اور دوسرے ہی لمحے وہ دونوں باہر بھاگی تھیں۔
کافی گرم تھی، اور اس نے پاشا کا چہرہ سرخ کر دیا تھا۔ وہ بلبلا کر چہرہ ہاتھوں سے صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دوسرے گاہک اور ویٹرز اس کیجانب لپکے تھے۔ یہ وہ آخری منظر تھا جو حیا نے باہر نکلنے سے پہلے دیکھا تھا۔
وہ نہیں آ رہا، جلدی چلو! گلی میں لوگوں کے رش میں سے رستہ بناتے ہوئے تیز قدموں سے دوڑتے، ہالے بار بار گردن موڑ کر دیکھتی تھی۔
‏”برگر کنگ سامنے ہی ہے، جلدی سے اس میں چلے جاتے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ باہرنکلے۔”
مگر تمہیں اس پر کافی الٹنے کی کیا ضرورت تھی؟” ہالے جھنجھلائی۔
(کچھ پرانے حساب اتارنے تھے۔)
تم خود ہی تو میرے کپ کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
“میرا مطلب تھا کہ کپ چھوڑو اور باہر نکلو۔”
وہ مزید بحث کیے بنا ہاتھ سے ہالے کو ساتھ کھینچتی برگر کنگ کا گلاس ڈور دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔ وہ دونوں ایسے اندھا دھند طریقے سے دوڑتی آئی اور استقبالیہ کاؤنٹر پہ آ کر دم لیا کہ وہاں موجود لڑکا قدرے بوکھلا گیا۔
“کیا ہوا؟ جہان نہیں ہے ادھر۔” وہ سمجھا وہ دوبارہ جہان کے لیےآئی ہیں۔
“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے!” حیا نے پھولے تنفس کے درمیان ہاتھ اٹھا کر کہا۔ تمہارے کچن میں کوئی دروازہ ہے جو پچھلی گلی میں کھلتا ہو؟
“کچن میں نہیں، مگر پینٹری میں بیک ڈور ہے۔ آپ میرے ساتھ آئیں۔” شاید وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ دونوں کسی سے بچنا چاہ رہی ہیں، سو بنا کوئی مزید سوال کیے وہ انہیں اپنی رہنمائی میں پینٹری میں لے آیا۔
پینٹری مستطیل سی تھی اور اس میں اسٹوریج شیلف اور بڑے بڑے فریزر رکھے تھے۔ کچھ دوسرا کاٹھ کباڑ بھی تھا۔
“وہ رہا دروازہ۔” اس نے ایک دروازے کی جانب اشارہ کیا اور ایک مشکوک نظر ان پہ ڈالتا واپس پلٹ گیا۔ ہالے نے پینٹری سے کچن میں کھلنے والا دروازہ بند کیا اور پھر قدرے تذبذب سے پچھلی گلی کے دروازے کو دیکھا۔
“ابھی باہر نکلنے کا فائدہ؟ گورسل تو ڈیڑھ بجے آۓ گی، تب تک یہیں بیٹھتے ہیں۔”
وہ ایک کونے سے دو پلاسٹک کی کرسیاں اٹھا لائی اور کمرے کے وسط میں فرش پہ آمنے سامنے رکھیں۔
“ویسے اب میں سوچ رہی ہوں کہ تم نے ٹھیک ہی کیا، استقلال جدیسی میں اکثر ایسے ڈرنک لوگوں سے ٹکراؤ ہو جاتا ہے جو عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔”
تب ہی میں نے کافی الٹی، تاکہ وہ فورا ہمارے پیچھےنہ آسکے۔”
وہ کرسی پہ نہیں بیٹھی، بلکہ دروازے کے قریب چلی آئی تھی۔ دروازے کے ساتھ ایک چوکور کھڑکی نما روشن دان تھا۔ وہ بہت اونچا نہیں تھا، بلکہ حیا کےچہرے کے بالکل برابر تھا۔
اس نے روشن دان کی شیشے کی سلائیڈ ایک طرف کی تو ٹھنڈی ہوا اور پچھلی گلی کی آوازیں اندر آنے لگیں۔
وہ استقلال اسٹریٹ کی بغلی گلی تھی۔ استقلال اسٹریٹ کی دونوں جانب ایسی ہی گلیاں تھیں جو ذرا تنگ اور چھوٹی مگر دونوں اطراف سے عمارتوں سے گھری تھیں۔
“اب تم مجھے بتاؤ، یہ منگنی کا کیا قصہ ہے؟” ذرا سکون کا سانس ملا تو ہالے کو ادھوری بات یاد آگئی۔ وہ پرجوش سی کرسی پہ آگے ہو کر بیٹھی۔
حیا نے پلٹ کر دیکھا اور مسکرا دی۔ جو­­ تناؤ اور پریشانی وہ تھوڑی دیر پہلے محسوس کر رہی تھیں، وہ پینٹری کی فضا میں تحلیل ہوتا جا رہا تھا۔
“بتاتی ہوں۔” وہ کرسی پہ آبیٹھی اور گورسل شٹل آنے تک وہ سارا قصہ سنا چکی تھی۔ بس میں بھی سارا راستہ وہ دونوں یہی باتیں کرتی رہیں۔
“اگر وہ جانتا تھا تو اس نے پہلے اظہار کیوں نہیں کیا؟”
اب کر دیا، یہی بہت ہے۔ وہ بہت پریکٹیل اور کم گو سا آدمی ہے۔ اس سے وابستہ توقعات میں نےاب کم کر دی ہیں۔ اس نے شانے اچکا کر کہا تھا۔
ک­مرے میں آ کر ہالے تو سونےچلی گئی۔ ٹالی اور چیری بھی تب تک سو چکی تھیں۔ جبکہ اس نے پہلے تو اپنی میز کی دراز میں اس ڈبیا کی تصدیق کی جس میں موبائل شاپ کے لڑکے نےجی پی ایس ٹریسر ڈال کر دیا تھا۔ وہ دراز میں ہی رکھی تھی، جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی، پھر پاشا کو کیسے پتا چلا کہ وہ کہاں ہے؟ ہو سکتا ہے اس کی کسی اور شے میں بھی ٹریسر ہو، یا پھر وہ محض اتفاق ہو، لیکن اس کے اتفاقات تو کم ہی ہوتے تھے، اتنا تو اسے یقی­­ن تھا۔
جو بھی ہے، وہ ہر شےکو ذہن سے جھٹک کر اپنا پزل باکس نکال کر دبے قدموں باہر آگئی۔ بالکونی کی بتی اسے دیکھتے ہی جل اٹھی۔ وہ وہیں پہلے زینے پہ بیٹھ گئی اور پزل باکس چہرے کے سامنے کیا۔ چاروں پہیلیاں ایک چوکور کی صورت میں باکس کی چاروں اطراف پہ لکھی تھیں۔ چوکور اسکوائر، ٹاقسم اسکوائر۔
دھڑکتے دل اور نم ہتھیلیوں کے ساتھ وہ سلائیڈز اوپر نیچے کرنے لگی۔ ‏‎ Taksim‏ کا آخری حرف ایم جیسے ہی جگہ پہ آیا۔ کلک کی آواز کے ساتھ باکس کی دراز اسپرنگ کی طرح باہر نکلی۔
وہ بنا پلک جھپکے بے یقینی سے باکس کےاندر دیکھ رہی تھی۔ اس نے میجر احمد کا پزل حل کر لیا تھا۔ وہ باکس کھول چکی تھی۔
دراز میں ایک سفید مستطیل کاغذ رکھا تھا۔ وہ کاغذ پوری دراز پہ فٹ آ رہا تھا۔ اس نے دو انگلیوں سے پکڑ کر کاغذ باہر نکالا۔ بالکونی کی مدھم روشنی میں وہ کاغذ پہ لکھی تحریر بنا کسی دقت کے پڑھ سکتی تھی۔
Two full stops under the key
‏(چابی کے نیچے دو فل اسٹاپس)
اس نے بے یقینی سے وہ سطر پڑھی جو کاغذ کے اوپری حصے پہ لکھی تھی۔ کیا یہ کوئی مذاق تھا۔ اپریل فول؟ اس کاغذ کےٹکڑے
کے لیے اس نے اتنی محنت کی؟
کاغذ کے چاروں کونوں میں چھوٹا چھوٹا سا چھ (6) کا ہندسہ بھی لکھا تھا۔ اس نے کاغذ پلٹا۔ اس کی پشت پہ بالکل وسط میں ایک بار کوڈ چھپا تھا۔ موٹی پتلی ایک انچ کی لکیریں اور ان کے نیچے ایک سیریل نمبر، شیمپوز، لوشن اور ان گنت دوسری اشیا کے لفافوں اور ڈبوں کے کونوں میں اکثر ایسے ہی بار کوڈ چھپے ہوتے تھے۔ اس بار کوڈ کا وہ کیا کرے گی؟
مگر نہیں، باکس میں کچھ اور بھی تھا۔
دراز کی زمین سے ایک لوہے کی لمبی اور
عجیب وضع کی چابی چپکی تھی۔ اس نے دو انگلیوں سے چابی کو کھینچا تو وہ جو گوند کے محض ایک قطرے سے چپکائی گئی تھی، اکھڑ کر حیا کے ہاتھ میں آگئی۔ حیا نے دیکھا، چابی کے نیچے موجود لکڑی پہ دو موٹے موٹے نقطے لگے تھے اور ان کے درمیان لکھا تھا۔ ”Emanet“
پھر کوئی پزل؟ پھر پہیلیاں؟ چابی تلے دو فل اسٹاپ؟ وہ دونوں نقطے اسے مل گۓ مگر اب وہ ان کا کیا کرے؟ کاش! وہ یہ سب اٹھا کر میجر احمد کے منہ پہ دے مار سکتی۔
یہ چابی کس شے کی تھی؟
کسی کمرے، کسی گاڑی، کسی گھر کی؟ اگر پہاڑ کھودنے پہ یہ مرا ہوا چوہا ہی نکلنا تھا تو بہتر تھا وہ اسے توڑ کر ہی نکال لیتی، اچھا مذاق تھا۔
اس نے خفگی سے دراز بند کی تو وہ پھر باہر نکل آئی۔ اس نے دوبارہ دراز کو اندر دھکیلا اور اسے پکڑے پکڑے سلائیڈز اوپر نیچے کیں۔ کوڈ بار کا سہ حرفی لفظ بگڑ گیا باکس پھر سے لاک ہو گیا۔ اس نے ہاتھ ہٹایا تو دراز باہر نہیں آئی۔
واپس بستر پہ لیٹتے ہوۓ وہ بے حد کڑھ رہی تھی۔ ایک چابی سے کوئی اور پزل باکس کھلے گا، اس سے کوئی اور، اس سے کوئی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا وہ ساری زندگی مقفل تالے ہی کھولتی رہے گی؟ اچھا مذاق تھا۔
پھر وہ ذہن سے یہ سوچیں جھٹک کر پاشا کے بارے میں سوچنے لگی۔ ایک مطمئن مسکراہٹ خودبخود اس کے لبوں پر بکھر گئی۔
بہت اچھا کیا اس نے کافی الٹ کر۔ وہ اسی قابل تھا۔
حقیقت میں اپنے روبرو پاشا کو دیکھت­­ے ہوۓ اسے تصاویر سے بہتر لگا تھا۔ اس کا قد کافی اونچا تھا۔ چھ فٹ سے بھی اوپر اور لباس بھی مناسب تھا۔ آنکھوں پہ بغیر فریم کی گلاسز لگاۓ اور ذرا، ذرا سی بڑھی شیو۔
وہ روبرو دیکھنے میں بس ایسا تھا کہ مقابل اس کی عزت کرے۔ مگر اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہینڈسم تو وہ اسے کبھی نہیں لگا تھا، نہ ہی اس کی شخصیت میں کوئی سحر تھا۔ (جس کی باتیں بہارے کرتی تھی) وہ دیکھنے میں بس درمیانے درجے کا آدمی لگتا تھا یا شاید استقلال­­ اسٹریٹ میں چہل قدمی کرنے کے لیے اس نے خود کو ایک عام آدمی کی طرح ڈریس اپ کر کےکیموفلاج کر رکھا تھا۔ شاید یہی بات ہو۔
وہ ان ہی سوچوں میں گھری کب نیند کے سمندر میں ڈوب گئی، اسے علم ہی نہ ہو سکا۔
* * * *
اس نے چابی کی ہول میں گھمائی اور پھر الماری کا پٹ کھولا۔ سامنے والے خانے میں جہاں چند کاغذات کے اوپر اس نے جلی ہوئی اطراف والا پزل باکس رکھا تھا۔ اب وہ وہاں نہیں تھا۔ اس کے ذہن نے لمحوں میں کڑیوں سے کڑیاں ملائیں، اگلے ہی پل وہ پٹ بند کر کے باہر آیا تھا۔
“بہار­­ے گل!” سڑھیوں کے دہانے پہ کھڑے ہو کر اس نے آواز دی۔
بہارے کافی دنوں سے اس آواز کی منتظر تھی، مگر عبدالرحمن کو اپنی مصروفیت میں الماری کھولنے کا موقع شاید آج ملا تھا۔ اس لیے اب آواز سن کر وہ جو ٹی وی کے سامنے بیٹھی تھی، تابعداری سےاٹھی اور سر جھکاۓ مودب انداز میں سڑھیاں چڑھنے لگی۔
تیسری منزل کے دہانے پہ پہنچ کر اس نے جھکا سر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے
کھڑا تھا۔ وہ ابھی ابھی ہوٹل سے آیا تھا، سو ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کیے، کوٹ کے بغیر تھا۔ اسے متوجہ پا کر عبدالرحمن نے سوالیہ ابرو اٹھائی۔
“کیا بہارےگل مجھے بتانا پسند کریں گی کہ وہ پزل باکس کہاں ہے؟”
میں پسند کروں گی۔ بہارے نے سادگی سے اثبات میں گردن ہلائی۔ “میں نے وہ حیا کو واپس کر دیا۔”
وہ چند لمحےکچھ کہہ ہی نہیں سکا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔ مگر بہارے جانتی تھی کہ اسے دھچکا لگا ہے۔ “وہ کس کی اجازت سے؟”
وہ تمہاری چیز نہیں تھی عبدالرحمن! جس کی تھی، میں نے اسے دے دی۔”
وہ چند ثانیے اسے دیکھتا رہا، پھر اس کے سامنے ایک پنجے کے بل فرش پہ بیٹھا اور سیدھا بہارے کی آنکھوں میں دیکھا۔
“کیا تم نے مجھ سے رازداری کا وعدہ نہیں کیا تھا؟” میں رحمن کے بندے کو خوش کرنے کے لیے رحمن کو ناراض نہیں کر سکتی تھی۔ میں جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔” اس کی بڑی بڑی آنکھیں بھیگ گئیں۔ “جو جتنا اچھا جھوٹ بولتا ہے بہارے! یہ دنیا اسی کی ہوتی ہے۔”
لیکن پھر اس کی آخرت نہیں ہوتی، یہ عائشےگل کہتی ہے۔
وہ زخمی انداز میں مسکرایا۔
“پھر تو مجھے تمہارے دوسرے وعدے کا بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔”
نہیں! ہم واقعی جزیرے پہ کسی سے تمہارے بارے میں بات نہیں کرتے۔
وہ نہیں، ایک اور وعدہ بھی تھا ہمارے درمیان، ہمارا لٹل­ سیکرٹ۔
بہارے کے کندھوں پہ ایک دم بہت بھاری بوجھ سا آگرا۔ اس نے اداسی سے عبدالرحمن کو دیکھا جو منتظر سا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بہت پہلے عبدالرحمن نے اس سے عہد لیا تھا کہ اگر وہ مر گیا تو وہ اسے جنازہ بھی دے گی اور اس کی میت کو اون بھی کرے گی۔
“تم سچ بولنے والی بہارے گل پہ اعتبار کر سکتے ہو۔ پورا ادالار،­­ بلکہ پورا ترکی تمہیں چھوڑ دے، مگر بہارے گل تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی۔
اور ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آۓ، جب تم مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر دو۔ تم کہو، کون عبدالرحمن، کہاں کا عبدا­­لرحمن؟
“تم ایسی باتیں مت کیا کرو، مجھے دکھ ہوتا ہے۔”
اور اس بارے میں بھی عائشے گل کی کوئی کہاوت ضرور ہو گی۔ وہ ذرا سا مسکرایا۔
“اس کو چھوڑو، وہ تو بہت کچھ کہتی رہتی ہے۔ میں دوسرے کان سے نکال دیتی ہوں۔” اس نے ناک پہ سے مکھی اڑا کر گویا عبدالرحمن کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ “وہ تو مجھ سے اتنی خفا ہوئی تھی کہ میں نے تم سے شادی کی بات کیوں کی۔ لحظہ بھر کو رک کر بہارے ذرا تشوش سے بولی۔ “تم مجھ سے شادی کرو گے نا عبدالرحمن؟” ساتھ ہی اس نے گردن موڑ کر ارد گرد دیکھ بھی لیا۔ عائشےقریب میں کہیں نہیں تھی۔ وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
“مگر میں تمہاری نئی دوست میں دلچسپی رکھتا ہوں۔”
وہ تم سے شادی کیوں کرے گی؟ وہ اپنے کزن کو پسند کرتی ہے اور اس کا کزن بہت ہینڈسم ہے۔” بہارے کو جیسے بہت غصہ آیا تھا۔
“اور تمہاری دوست کو عبدالرحمن جیسا کوئی بدصورت نہیں لگتا ہو گا، ہے نا؟”
یہ سچ ہے۔ اسے تم بالکل پسند نہیں ہو، مگر مجھے تم سے زیادہ کوئی ہینڈسم نہیں لگتا۔”
وہ مسکراتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا۔ بہارے نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔
“سنو!­­ وہ حیا کے پزل باکس پہ جو پہیلی کھدی تھی، وہ کس نے لکھی تھی؟” وہ جاتے جاتے ذرا چونک کر واپس پلٹا۔
مجھے کیسے علم ہو سکتا ہے؟ میں نے تو ابھی تک اس باکس پر غور ہی نہیں کیا تھا۔
“نہیں! دراصل میرے باکس کی پہیلی اور حیا کی پہیلی بالکل ایک سی لکھی تھیں، تب ہی حیا نےمجھ سے پوچھا تھا کہ میری پہیلی کس نے لکھی ہے؟
وہ واقعتا چونکا تھا۔ اس نے یہ محسوس کیوں نہیں کیا؟ وہ یہ بات نظرانداز کیوں کر گیا؟
پھر تم کیا کہا؟ بلکہ­­ ٹھہرو! تم نے کہا ہو گا کہ عبدالرحمن کے پاس ہر کام کے لیے بہت سے بندے ہوتے ہیں۔
بہارے ک­­ا منہ کھل گیا۔ “تمہیں کیسے پتا؟”
بہارے گل! میں تمہاری سوچ سے بھی زیادہ
اچھے طریقے سے تمہیں جانتا ہوں۔ وہ کہہ کر رکا نہیں۔ بہارے نے آزر­­دگی سے اسے جاتے دیکھا۔ وہ اس سے خفا تھا، وہ جانتی تھی مگر عائشے کہتی تھی، بندہ خفا ہو جاۓ، خیر ہے، بس رحمن خفا نہ ہو۔
“اف!” اس نے سر جھٹکا۔ “عائشےگل کی کہاوتیں!!”
* * *
آڈیٹوریم اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ باسکٹ بال کا میچ جاری تھا۔ کورٹ میں لڑکے نارنجی گیند اچھالتے ادھر ادھر ب­­ھاگ رہے تھے۔ تماشائیوں کی نگاہیں بھی گیند پہ لگی تھیں۔ مخصوص شور، ہنگامہ اور رش۔
حیا ان سب سے بےنیاز، اپنا بیگ تھامے کرسیوں کی قطاروں کے درمیان۔۔۔۔۔۔ رستہ بناتی آگے بڑھ رہی تھی۔ امتحان قریب تھے اور ان دنوں وہ اتنی مصروف رہی تھی کہ معتصم سے بات کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ ابھی لطیف نے بتایا کہ وہ آڈیٹوریم میں ہے تو وہ یہاں آ گئی۔ ویسے بھی اب وہ فلسطینی لڑکوں سے بات چیت میں ذرا احتیاط کرتی تھی۔
نہیں، وہ تو ویسے ہی ڈیسنٹ اور بھائیوں جسے تھے، مگر وہ وہی نہیں رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ اسکارف لیتی ہے، سو اس کے نام کے ساتھ کوئی غلط بات جڑی تو بدنام اس کا اسکارف ہو گا۔ اس لیے اس کی کوشش ہوتی کہ وہ معتصم یا حیسن وغیرہ سے تنہائی میں نہ ملے بلکہ کسی ایسی جگہ پہ ملے، جہاں سب سامنے ہی ہوں۔
وہ تیسری قطار میں بیٹھا تھا۔ نگاہیں کھیل پہ مرکوز کیے کرسی پر آگے ہو کر بیٹھا وہ میچ کی طرف متوجہ تھا۔ اس کے بائیں طرف دو کرسیاں خالی تھیں۔ وہ ایک کرسی اپنے اور اس کے درمیان چھوڑ کر بیٹھ گئی اور بیگ سے پزل باکس نکال کر اس کے سامنے کیا۔ وہ چونکا۔
میں نے اسے کھول لیا۔ اس کا کوڈ ٹاقسم تھا۔ کیا تم آگے میری مدد کر سکتے ہو؟
اوہ سلام! ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں۔ معتصم نے دارز کھولی اور کاغذ پہ لکھی تحریر پڑھی، پھر اسے پلٹا۔
بار کوڈ؟ بار کوڈ تو اشیاء کے پیکٹس پہ لگا ہوتا ہے، اسے کوئی مشین ہی ڈی ٹیکٹ کرتی ہے۔ یہ بار کوڈ بھی مشین کے لیے ہے تاکہ وہ اسے پہچانے، مگر کدھر؟ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ شاید اس سطر سے کوئی مدد مل جائے۔ وہ پھر سے کاغذ پلٹ کر سطر پڑھنے لگا، پھر نفی میں سر ہلا کر دراز سے چابی اٹھالی۔
بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ سطر اس چابی تلے لکھے دو نقطوں اور اس لفظ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
اور یہ لفظ کسی تالے کی طرف اشارہ کر رہا ہے، ویسے emanet کہتے کسے ہیں؟ اس نے ذرا الجھن سے پوچھا۔
یہ امانت ہے نا، ہمارا والا امانت، ترک میں بھی اس کو یہی کہتے ہیں۔ اس نے بے اختیار گہری سانس اندر کھنچی۔
ایک تو ترک اور اردو کی مماثلت!
مجھے یہ لگتا ہے حیا! کہ اس نے تمہاری کوئی امانت کہیں لاک لگا کر رکھی ہے اور اس کی چابی تمہیں دی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ کوئی عظیم الشان سا محل ہو یا کوئی برانڈ نیو گاڑی۔ وہ اپنی بات پہ خود ہی دھیرے سے ہنسا۔
مجھے ایسا کچھ بھی نہیں لگتا۔
ہو سکتا ہے اس باکس میں کوئی نادیدد لکھائی ہو اور آنچ دکھانے سے۔۔۔۔۔۔
میں کوشش کر چکی ہوں۔ اس ایک لفظ امانت کے سوا اس میں کچھ نہیں لکھا ہے۔ اس نے باکس میں ساری چیزیں واپس ڈالیں اور اسے بند کر کے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ معتصم مزید اس کی مدد نہیں کر سکتا تھا، اب جو بھی کرنا تھا، اسے خود کرنا تھا۔
امتحانوں کے بعد کچھ سوچوں گی۔ ابھی تو اس قصے کو بند ہی کر دیتے ہیں۔ جوابا معتصم نے مسکرا کر شانے اچکا دیے۔
وہ آڈیٹوریم ے نکل رہی تھی جب اسکا موبائل بجا۔ اماں اس وقت تو فون نہیں کرتی تھیں، پھر؟
اس نے بیگ سے موبائل نکال کر دیکھا۔ یہ وہی پاکستان کا نمبر تھا جس سے پہلے بھی میجر احمد نے فون کیا تھا۔
ہیلو! کرسیوں کی قطار سے راستہ بناتے وہ ذرا اونچا بولی تھی ۔ اردگرد کہے شور میں میجر احمد کی آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی۔
السلام علیکم! کسی ہیں آپ حیا؟ وہی نرم، خوبصورت، ٹھہرا ہوا انداز۔ اب وہ اس سے چڑتی نہیں تھی بلکہ ذرا احتیاط سے بات کر ہی لیتی تھی۔
وعلیکم السلام! میری خیریت آپ کو پتا لگتی ہی رہتی ہو گی۔ وہ باہر کاریڈور میں تیز تیز چلتی جا رہی تھی۔ جوابا وہ دھیرے سے ہنسا۔
اب ایسا بھی نہیں ہے۔ آپ کو لگتا ہے، مجھے آپ کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔؟
مجھے لگتا تو خیر یہی ہے کہ آپ کو اور پاشا کو میرے علاوہ کوئی کام نہیں ہے؟
غصے میں ہیں، خیرت
کوئی مذاق کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ؟ میں کتنی پہیلیاں بوجھوں؟ اس نے زچ سے انداز میں کہتے ہوئے اپنا بیگ اتار کر سبانجی کی عمارت کی بیرونی سیڑھیوں پہ رکھا۔
میں معذرت خواہ ہوں۔ بعض چیزیں اتنی حساس ہوتی ہیں کہ انہیں بہت راز داری سے کسی کے حوالے کرنا پڑتا ہے، تا کہ وہ غلط شخص کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ ویسے ایک گھنٹے کا کام تھا، آپ نے ہی اتنے دن لگا دیے۔
خیر! آپ کا پزل تو میں حل کر ہی لوں گی، مگر کیا گارنٹی ہے کہ آخر میں مجھے ”اپریل فول“ کے الفاظ نہیں ملیں گے۔ وہ وہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھی۔ استنبول کی دھوپ اردگرد سبزہ زار کو سنہری پن عطا کر رہی تھی۔
اتنا غیر سنجیدہ سمجھتی ہیں آپ مجھے؟
کیوں؟ کیا آپ ہی نہیں ہیں جو خواجہ سرا بن کر مجھ سے ملے تھے؟ کبھی شرمندگی نہیں ہوئی آپ کو اس بات پہ؟
شرمندگی کیسی؟ میں خواجہ سرا بن کر آپ سے ملا ہی تھا، خواجہ سرا بن کر کوئی محفل تو نہیں لگائی تھی۔ وہ شاید برامان گیا تھا۔
مگر خواجہ سرا بننا بزات خود بہت عجیب ہے۔
کیوں؟ کیا خواجہ سرا انسان نہیں ہوتے؟ کیا وہ جانور ہوتے ہیں؟ میں نے ان کا حلیہ اپنایا تھا، مگر آپ کے لیے نہیں۔ میں تو اپنے کام سے وہ سب بنا تھا۔ بس اسی دوران۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مل گئیں۔
آپ اپنے کام خواجہ سرا بن کر نکلواتے ہیں؟ وہ دم بخود رہ گئی۔ پہلی دفعہ کوئی سوال اس نے بچوں کی سی دلچسپی سے پوچھا تھا۔
کبھی میرے آفس آئیے گا۔ میں آپ کو اپنے کام کی تفصیل بتاؤں گا۔
آپ کے آفس میں کبھی نہیں آرہی، مگر وہ امانت، وہ کیسے ڈھونڈو میں؟
جو لکھا ہے، اس پر غور کریں۔ وہ ڈولی کی امانت ہے اور وہ اسی کو ملنی چاہیے، جو اپنی صلاحیتوں سے خود کو اس کے قابل ثابت کر سکے۔ کیا آپ اتنی باصلاحیت ہیں؟
ٹرائی می! اس نے جتا کر کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔ سبانجی کی دھوپ ابھی تک سیڑھیوں پہ اس کے قدموں میں گر رہی تھی۔
* * *
کلینک کی انتظار گاہ میں ٹھنڈی سی خنکی چھائی تھی۔ وہ کاؤچ پہ خاموش سی بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ ہالے کے توسط سے اس نے ایک ڈرماٹولوجسٹ سے وقت لیا تھا، اس کے بال بظاہر ٹھیک نظر آتے تھے، اور عاشئے کے دیے گئے لوشن کام کر رہے تھے مگر ہاتھ لگانے پہ وہ پہلے سے ذرا روکھے لگتے اور سر کی جلد جو خراب ہوئی، وہ الگ۔
حیا نے اپنا پرس ساتھ ہی رکھا ہوا تھا۔ ٹریسر والی ڈبیا ڈروم میں ہی تھی، اب وہ اسے استنبول میں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتی تھی۔
تب ہی اس کے ساتھ والی نشست پہ ایک سیاہ عبایا والی لڑکی آ بیٹھی۔ بیٹھتے ہی اس نے چند گہرے سانس لے کر تنفس بحال کیا، پھر ٹشو سے نقاب کے اندر چہرہ تھپتھپانے لگی۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ پیدل آئی ہے اور بہت تھک گئی ہے ۔
حیا لاشعوری طور پہ نگاہوں کا زاویہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ جانے کیوں آج کل وہ عبایا اور حجاب والی لڑکیوں کو بہت غور سے دیکھا کرتی تھی۔ استنبول میں ایسی لڑکیاں بہت کم ہی نظر آتی تھیں، البتہ اسکارف اور لانگ اسکرٹس والی مل جاتی۔ اکثریت ایسی لڑکیوں کی ہوتی جن میں سے ایک اس کے سامنے کاؤچ پہ بیٹھی تھی۔ مختصر اسکرٹ بنا آستین کے بلاؤز اور خوب صورت بال۔ وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی گھٹنے پہ پھیلا مگزین پڑھنے میں مگن تھی۔ استنبول کی علامتی لڑکی۔ اس کے اسکرٹ کا رنگ نارنجی تھا، بالکل ان دو کراؤن فش جیسا ان دونوں کاؤچز کے درمیان رکھی میز پہ سجے ایکوریم میں تیر رہی تھیں ۔ نھنی نھنی سی نارنجی مچھلیاں، جن کی زندگی، جن کی سانس اور جن کی آواز سب پانی تھا۔
عبایا والی لڑکی اب پرس کھول کر کچھ تلاش کر رہی تھی۔ حیا ابھی تک اسے یوں ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے پرس سے ایک اورنج جوس کی بوتل نکالی اور اس کا ڈھکن اتارا، پھر ذرا رکی اور حیا کی طرف بڑھائی۔
نو تھینک یو۔ وہ ذرا سنبھل کر سیدھی ہوئی۔
وہ لڑکی مسکرا کر بوتل میں اسٹرا ڈالنے لگی۔ سیاہ نقاب میں اس کی سرمئی آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔
آپ ہمیشہ یہ عبایا کرتی ہیں؟ وہ رہ نہیں سکی اور پوچھ ہی بیٹھی۔
ہوں۔ نقاب تلے ایک گھونٹ لیتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
آپ کو گٹھن نہیں ہوتی اس میں؟
میرا دل اللہ نے اس کے لیے کھول دیا ہے، سو گھٹن کیسی۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی مسلمان لڑکی تو بہت مضبوط ہوتی ہے۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کرتے ہوئے کہا۔ مگر مجھے تو نقاب کا سوچ کر ہی گٹھن ہوتی ہے۔
ہو سکتا ہے، یہ سب صرف آپ کے ذہن میں ہو۔
آپ کے ذہن میں بھی یہ باتیں آتی ہو گی نا۔ وہ اس کی طرف رخ موڑے غیر ارادی طور پہ بحث کرنے لگی تھی۔
کیا بہت پڑھے لکھے، ماڈرن قسم کے لوگوں کے درمیان بیٹھے آپ کو احساس کمتری نہیں ہوتا؟ ساتھ ہی ایک نگاہ اس نے ایکوریم کے پار بیٹھی ترک لڑکی پہ ڈالی جو ابھی تک میگزین میں گم تھی۔
بہت ماڈرن قسم کے لوگ تو میرے جیسے ہی ہوتے ہیں نا۔ میری شریعت تو دنیا کی سب سے ماڈرن (جدید) شریعت ہے۔ احساس کمتری تو انہیں ہونا چاہیے، جو جاہلیت کے زمانے کا تبرج کرتے ہیں۔
تبرج سمجھتی ہو؟
اسے اندازہ تھا، پھر بھی اس نے نفی میں گردن ہلائی۔
تبرج۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے سمجھاوں؟ اس لڑکی نے لمحے بھر کو سوچا۔ تم نے دبئی کے وہ اونچے اونچے ٹاورز تو دیکھے ہوں گے۔ برج العرب، برج الخلیفہ؟
ہاں تصاویر میں۔
بس! اسی برج سے یہ تبرج نکلا ہے۔ کسی شے کو اتنا نمایاں اور خوبصورت بنانا کہ دور سے نظر آ ئے۔ وہ صدیوں پہلے یوسف علیہ اسلام کے مصر کی عورتیں تھیں، جو تبرج کرتی تھیں۔ وہ ابو جہل کے عرب کی عورتیں تھیں، زیب و زینت کر کہ مردوں کہ درمیان سے گزرتی تھیں۔ اگر استنبول کی لڑکیاں ان زمانہ جاہلیت کی عورتوں کی پیروی کرتی ہیں تو وہ ماڈرن تو نہ ہوئیں نا۔ ماڈرن تو میں ہوں، تم ہو، پھر کیسی شرمندگی۔ اس نے رسان سے کہتے ہوئے شانے اچکائے۔
اللہ، اللہ، یہ اعتماد؟ وہ دم بخود رہ گئی۔ (ترکوں کا اثر تھا وہ بھی اللہ، اللہ کہنے لگی تھی)۔
تمہیں لگتا ہے، تم کبھی نقاب نہیں پہن سکتیں؟ وہ اب ٹشو سے ماتھے پہ آئے پسینے کہ قطرے تھپتھپا رہی تھی۔
شاید نہیں، میری دوستوں اور فرسٹ کزنز میں سے کوئی نقاب نہیں لیتا۔ اسے شہلا یاد تھی، پر وہ اس کے سیکنڈ کزن کی بیوی تھی۔
تو تم یہ رواج ڈالنے والی پہلی لڑکی بن جاؤ۔
اس سے کیا ہو گا؟ جواب میں اس لڑکی نے مسکرا کر ذرا سے شانے اچکائے۔
جو غار ثور کے آخری سوراخ پہ اپنا پاؤں رکھ دیتا ہے اور ساری رات سانپ سے ڈسے جانے کے باوجود اف نہیں کرتا، اس کی اس ایک رات کی نیکیاں عمر بن
خطابرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی زندگی بھر کی نیکیوں کے برابر ہوتی ہیں۔ مگر ہر شخص ابوبکر نہیں بن سکتا۔ ابوبکر صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ پہلوں میں پہل کرنے والا۔
اس کی باری پکاری گئی تو وہ چونکی۔ پر سلام کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اب اس لڑکی سے کچھ نہیں کہنا تھا۔ اس کا ذہن صاف تھا، اس کراؤن فش کے نارنجی پن کی طرح، شفاف اور صاف، مگر وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی اپنا چہرہ نہیں لپیٹ سکتی۔ اس تصور سے ہی اس کا دم گھٹتا تھا۔
ایکوریم کے پانی میں اسی طرح بلبلے بن اور مٹ رہے تھے۔ دونوں مچھلیاں بنا تھکے ایک دوسرے سے پیچھے دائرے میں دوڑ رہی تھیں۔ دائرہ۔۔۔۔۔ جس میں آغاز اور اختتام کی تفریق مٹ جاتی ہے۔
* * *
استقلال جدیسی میں معمول کی چہل پہل تھی۔ ٹھنڈی سی دھوپ گلی کے دونوں اطراف میں اٹھی قدیم عمارتوں پہ گر رہی تھی، گویا سنہری برف ہو۔
وہ جہان کے ساتھ ساتھ چلتی گلی میں آگے بڑھ رہی تھی۔ پھر اتفاق ہوا تھا کہ اس نے سیاہ اسکارف اور سیاہ اسکرٹ کے ساتھ گرے بلاؤز پہن رکھا تھا اور جہان نے سیاہ جینز پہ گرے آدھی آستین والی ٹی شرٹ۔ آج جب وہ ادھر آئی تھی تو اس نے خواہش کی تھی کہ وہ استقلال اسٹریٹ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اسے اس گلی کا انت دیکھنا تھا۔ اب وہ اسی لیے چلتے جا رہے تھے۔
کچھ پیو گی؟ جہان نے رک کر پوچھا، پھر جواب کا انتظار کیے بنا ایک کیفے میں چلا گیا۔ جب باہر آیا تو اس کے ہاتھوں میں دو ڈسپوزیبل گلاس تھے اور بغل میں رول شدہ اخبار۔
شکریہ۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے گلاس تھاما۔ جھاگ سے بھرا پینا کولاڈا۔ ناریل اور انناس کی رسیلی خوشبو اور ٹاقسم اسکوائر سے اٹھتی ٹیولپس کی مہک۔ اس نے آنکھیں بند کر کے سانس اندر کھینچی۔ جہان سکندر کا استنبول بہت خوبصورت تھا۔
ہوں، اچھا ہے۔ وہ خود ہی تبصرہ کرتا گھونٹ بھر رہا تھا۔ حیا نے اس کے گلاس پکڑے ہاتھ کو دیکھا۔ اس نے وہ پلاٹینم بینڈ نہیں پہن رکھا تھا۔ یہ ان کی منگنی کے بعد پہلی ملاقات تھی اور اس میں اتنی انا تو تھی کہ اسے خود سے کبھی اس موضوع کو نہیں چھیڑنا تھا۔
تم اس روز دو دفعہ آئی تھیں؟ بیک ڈور کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ وہ سرسری انداز میں پوچھ رہا تھا۔ یقینا اس کے ورکر نے اسے پوری رپورٹ دی ہو گی، مگر جواب اس کے پاس تیار تھا۔ عائشے گل نے بے شک کہا تھا کہ سچ سے بہتر جواب کوئی نہیں ہوتا، مگر اس وقت عائشے کون سا دیکھ رہی تھی۔
کوئی جاننے والا نظر آ گیا تھا۔ ہالے اور میں نے اس سے ٹکرانے سے بہتر سمجھا کہ دوسری گلی میں چلے جائیں، ویسے بھی شٹل کے آنے تک ہمیں انتظار تو کرنا تھا نا۔
اگر کبھی پچھلی گلی میں کوئی جاننے والا ملے اور تمہیں استقلال میں آنا پڑے تو بے شک برگر کنگ کے اسی دروازے کو استعمال کر لینا۔ اس کی پچھلی طرف گھنٹی لگی ہے۔ گلاس خالی کر کے جہان نے کچرے دان میں اچھال دیا۔ حیا کا ابھی آدھا گلاس باقی تھا۔
تم سناؤ! تمہیں لندن کب جانا ہے۔ وہ کافی بلند آواز میں بول رہی تھی۔ قریب سے گزرتے تاریخی، سرخ ٹرام میں سوار سیاحوں کا گروہ اونچی اونچی سیٹیان بجا رہے تھا۔ جس کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
اگلے ماہ کا سوچ رہے ہیں۔ تب تک تم بھی فارغ ہو گی۔ باقی ایکسچینج اسٹوڈنٹس کہاں جا رہے ہیں؟
کچھ ترکی میں ہی گھومیں پھیریں گے، اور کچھ قطر، پیرس، دبئ وغیرہ جا رہے ہیں۔
تو تم ہماربے ساتھ لندن چلو نا۔ پھر جولائی میں
واپس آکر کلیئرنس کروانا اور پاکستان چلی جانا۔
میں اپنی دوستوں کے ساتھ بیوک ادا رہنا چاہتی ہوں۔ گو کہ جہان کے ساتھ لندن جانے کا خیال کافی پرکشش تھا، مگر اس نے فورا ہامی بھرنا مناسب نہ سمجھا۔
اوہ! ڈونٹ ٹیل می کہ تم ابھی تک وہی رپورٹ لکھ رہی ہو۔
جہان نے ہاتھ ہلا کر گویا ناک سے مکھی اڑائی۔ حیا نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ ہالے کی دوست چھاپنے کے لیے تیار تھی، مگر جہان کے منع کرنے پہ اس نے وہ رپورٹ بند کر دی تھی۔ آج صبح ہی جب وہ اس بارے میں سوچ رہی تھی تو اسے لگا اسے یہ سب کسی بااعتماد شخص سے شیئر کرنا چاہیے اور میجر احمد سے بڑھ کر کسی پہ اعتبار نہیں تھا۔ تب ہی صبح اس نے میجر احمد کو ٹیکسٹ کیا تھا کہ وہ بات کرنا چاہتی ہے، مگر کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
نہیں! میں نے اسے ذہن سے نکال دیا ہے۔
گڈ گرل! وہ ایک دم اس کہ بالکل مقابل آکھڑا ہوا، یوں کے حیا کا سامنے کا منظر چھپ گیا۔ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
بعض دفعہ جو ہم دیکھتے ہیں، وہ ہو نہیں رہا ہوتا اور جو ہو رہا ہوتا ہے، وہ ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے۔
کہتے ہوئے اس نے رول شدہ اخبار کھولا اور پھر اسے لپیٹنے لگا، یہاں تک کہ کون آئس کریم کی سنہری کون کی طرح اس نے اخبار کو رول کر دیا۔ پھر اس نے حیا کا گلاس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔ حیا نے نا سمجی سے گلاس اسے پکڑایا
ایک چیز ہوتی ہے، نظر کا دھوکا، لوگ وہ نہیں ہوتے، جو وہ نظر آتے ہیں اور جو وہ ہوتے ہیں، اسے وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔ اس نے گلاس کون کے منہ میں انڈیل دیا۔ جوس دھار کی صورت اخبار کی کون میں گرنے لگا۔ جہان نے خالی گلاس حیا کو تھمایا اور اخبار کی کون کو مزید لپیٹنا شروع کیا۔ پھر اس کا منہ بند کر دیا اور مخالف سمت سے اخبار کھولنے لگا۔ تہیں کھلتی گئیں اور پورا اخبار سیدھا کھل کر سامنے آگیا۔
صفحے سوکھے تھے اور جوس غائب۔
زبردست! وہ مسکراتے ہوئے تالی بجانے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ کوئی ٹرک تھی۔ اس نے یقینا کمال مہارت سے جوس کہیں آس پاس گرا دیا تھا یا پھر کچھ اور کیا ہو گا، بہرحال اس کا انداز متاثر کن تھا۔
وہ دونوں پھر سے ساتھ چلنے لگے تھے۔ جہان نے اخبار اب دو رویہ تہہ کر کے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔
دفعتا حیا کا فون بجا۔ اس نے پرس سے موبائل نکال کر دیکھا۔ مجیر احمد کی کال آ رہی تھی۔ اس نے کال کاٹ دی اور فون رکھ دیا۔ جہان اتنا مہذب تو تھا کہ کوئی سوال نہ کرتا، مگر وہ خود بتانا چاہتی تھی۔
مجیر احمد کی کال تھی کچھ کام تھا ان سے۔ وہ چلتے ہوئے سرسری انداز میں بولی۔ یہ سراسر جواء تھا۔ جہان کے موڈ کا کچھ بھروسا نہ تھا، مگر وہ اس پہ بھروسا کرنا چاہتی تھی۔
میجر احمد کون؟ اس نے ناسمجھی سے حیا کو دیکھا۔
پاکستان میں ہوتے ہیں، سائبر کرایم سیل میں انٹیلی جنس آفیسر ہیں۔ تمہارے ابا کو بھی جانتے ہیں۔ وہ ذرا رکی۔ میں ان سے بات کروں تو تمہیں برا تو نہیں لگے گا نا؟
آف کورس نہیں! اس نے شانے اچکا دیے۔ کون کتنا قابل اعتبار ہے، یہ فیصلہ تم جود کر سکتی ہو، کیوں کہ میرے نزدیک تو سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔
اتنی بے یقینی بھی اچھی نہیں ہوتی جہان!
رئیلی؟ جیسے تمہیں یقین ہے کہ تمہارا جوس میں نے کہیں گرا دیا تھا؟ وہ پھر اس کے مقابل آ کھڑا ہوا اور گلاس لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا جو جانے کیوں ابھی تک وہ پکڑے کھڑی تھی۔
یقینا تم نے ایسا کیا ہو گا۔ اس نے گلاس جہان کو تھما دیا۔ تب تک وہ اخبار کو دوبارہ کون کی شکل میں لپیٹ چکا تھا۔ گلاس لے کر اس نے اخبار کی کون کا کھلا منہ گلاس میں الٹا۔ پینا کولاڈا ایک دھار کی صورت گلاس میں گرنے لگا۔
وہ بے یقینی سے ساکت کھڑی دیکھ رہی تھی۔
یہ تم نے کیسے کیا؟ میں نے۔۔۔۔۔۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ اخبار سوکھا تھا۔ پھر یہ جوس کہاں سے آیا؟
اگر جادوگر اپنی ٹرک کے گورا بعد ہی راز بتا دے تو کیا فائدہ؟ کبھی فرصت میں بتاؤں گا کہ یہ کیسے ہوا۔ البتہ اگر تم میری جگہ پہ کھڑی ہو کر دیکھتیں تو جان پاتیں کہ کیسے کیا ہے جب تک انسان دوسرے کی جگہ پہ کھڑا ہو کر نہیں دیکھتا، اسے پوری بات سمجھ میں نہیں آتی۔
تم عجیب ہو جہان! اس نے تحیر سے سر جھٹکا۔
ان دونوں چیزوں کو ٹریش میں پھینک دو، میری پیاس مر گئی ہے۔
وہ ہنس پڑا۔ نہیں! تمہاری پیاس ڈر گئی ہے۔ پھر شعبدہ باز نے دونوں چیزیں ایک قریبی کچرے دان میں اچھال دیں۔
دور سامنے گلی کے اختتام پر ایک اونچا ٹاور تھا۔ جس نے گلی کا دہانہ بالکل بلاک کر رکھا تھا، جیسے زمین سے اگ آیا ہو۔ وہ یوں تھا جیسے پاکستان میں اونچی گول سی اینٹوں کی بھٹی ہوتی ہے، ویسا ہی سلنڈر نما ٹاور جس کا گنبد کون کی شکل کا تھا۔
یہ رہا وہ انت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Galata ٹاور (غلطہ ٹاور) جسے جاننے کا تمہیں تجسس تھا۔ اس نے ٹاور کی طرف اشارہ کیا۔
اور انت جاننے کا سب سے بڑا نقصان پتا ہے کیا ہوتا ہے جہان؟
جہان نے سولیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
انسان کا سفر ختم ہو جاتا ہے.۔ اس نے گہری سانس لی اور پلٹ گئی۔ وہ شانے اچکا کر اس کے پیچھے ہو لیا۔
* * *
ترکی والوں کو سلام۔ واپسی پر گورسل میں بیٹھے جب اس نے میجر احمد کو کال کی اور جوابا احمد نے کال کاٹ کر اسے خود سے کال کی تو اس کا ہیلو سنتے ہی وہ جیسے کسی خوشگوار حیرت کے زیراثر بولا تھا۔
زندگی میں پہلی دفعہ آپ نے میجر احمد کو خود یاد کیا ہے۔ مگر جب آپ نے کال نہیں اٹھائی تو میں سمجھا کہ وہ ٹیکسٹ آپ نے غلطی سے کیا ہو گا۔
یہ بات نہیں ہے۔ میں اس وقت جہان کے ساتھ تھی۔ سوچا بعد میں تفصیلی بات کروں گی۔
اچھا۔ وہ جیسے چپ ہو گیا۔ شاید اسے جہان کا ذکر کرنا ناگوار گزرا تھا۔
میں نے جہان کو آپ کے بارے میں بتایا، مگر وہ آپ کو نہیں جانتا۔
کیوں؟ آپ نے کیوں بتایا؟ وہ بہت حیران ہوا۔
شوہر کو علم ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی کس سے بات کرتی ہے۔ وہ ذرا جتا کر بولی۔ جانتی تھی کہ اس کا استحقاق سے شوہر کی بات کرنا احمد کو کتنا برا لگتا تھا۔
شوہروں کا بھروسہ نہیں ہوتا۔ احتیاط کیجیے گا، آپ پھنس ہی نہ جائیں۔
غلط کام تو نہیں کر رہی کہ پھنسوں۔ بہرحال! ہم کام کی بات کریں۔ اس ک لہجہ بےلچک ہو گیا۔ ساتھ ہی جو کچھ بیوک ادا میں وہ جان پائی تھی، اس نے وہ میجر احمد کو بتا دیا۔
میں وہ رپورٹ شائع کروانا چاہتی تھی، مگر جہان نے منع کر دیا۔ روانی میں کہہ گئی۔ پھر ایک دم خاموش ہو گئی۔
وہ منع تو کرے گا، اس کا بہت کچھ داؤ پر جو لگے گا۔ خیر! آپ بالکل وہ رپورٹ شائع کروائیں، مگر حیا!حیا اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
کیا مطلب.؟ وہ جہان والی بات نظرانداز کر گئی۔ وہ ذاتی عناد کے باعث کہہ رہا تھا یقینا۔
ایک رپورٹ سے اے آر پی جیسے بندے کا کیا بگڑے گا۔؟ مافیا کے ایک ایک بندے کے پیچھے پوری کی پوری نیٹ ورکنگ ہوتی ہے۔ عبدالرحمن جیسے شہرت یافتہ تو صرف پل کا کام کرتے ہیں۔ ایسے کہ اپنے دامن پر کوئی چھینٹا نہ پڑے۔ سو ان کے خلاف نہ
ثبوت ہوتے ہیں، نہ فائلز کھلتی ہیں۔
مگر میں نے سنا ہے کہ اس کے عالمی دہشت گرد تنظیموں سے بھی۔۔۔۔۔۔
کس سے سنا ہے؟ وہ بات کاٹ کر بولا۔
لیڈی کبریٰ سے۔ ادالار میں۔
بہرحال! یہ دوسری دنیا کے لوگ ہیں۔ آپ ان معاملوں میں مت پڑیں۔
تو پھر یہ پاشا میرے پیچھے کیوں پڑا ہے آخر؟ وہ زچ ہو کر بولی.۔
مجھے تو لگتا ہے حیا! اس نے آپ کا پیچھا چھوڑ دیا ہے۔ اب صرف آپ انس کے پیچھے پڑی ہیں۔
وہ ایک دم چپ ہو گئی۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ویسے ضروری نہیں تھا کہ آپ میرے بارے میں جہان سکندر کو بتائیں۔ انسان کو کچھ باتیں اپنے تک بھی رکھنی چاہئین۔
بس باسفورس برج سے گزر رہی تھی اور وہ کھڑکی سے باہر پل تلے بہتا سمندر کو دیکھ سکتی تھی۔ وہاں حسب معمول ایک فیری تیر رہا تھا۔
میں نہیں چاہتی کہ کوئی میرے اور آپ کے رابطے کو غلط طریقے سے استعمال کرے مجھے رسوا کر سکے۔
اللہ آپ کو رسوا نہیں کرے گا حیا! جنت کے پتے تھامنے والوں کو اللہ رسوا نہیں کرتا۔
اسی لمحے دور نیچے سمندر کے کناروں پر بگلوں کا ایک غول پھڑپھڑاتا ہوا اڑا تھا۔ وہ نگاہیں ان کے سفید پروں پر مرکوز کیے ٹھہر سی گئی۔
آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: