Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 31

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 31

–**–**–

آپ جنت کے پتے کسے کہتے ہیں۔
احمد نے گہری سانس لی اور کہنے لگا۔
آپ جانتی ہیں، آدم علیہ السلام اور حوا جنت میں رہا کرتے تھے، اس جنت میں، جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ دھوپ اور نہ برہنگی۔ تب اللہ نے انہیں ایک ترغیب دلاتے درخت کے پاس جانے سے روکا تھا، تا کہ وہ دونوں مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔ وہ سانس لینے کو رکا۔
بس اب پل کے آخری حصے پہ تھی۔ بگلوں کا غول فیری کے اوپر سے پھڑپھڑاتا ہوا گزر رہا تھا۔ سمندر پیچھے کو جا رہا تھا۔
اس وقت شیطان نے ان دونوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ اس ہمیشگی کے درخت کو چھو لیں تو فرشتے بن جائیں گے یا پھر ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں کبھی نہ پرانی ہونے والی بادشاہت ملے گی۔
پل پیچھے رہ گیا۔ گورسل اب پرانے شہر (اناطولیہ یا ایشیائی حصہ) میں داخل ہو رہی تھی۔ وہ ہر شے سے بے نیاز یکسوئی سے سن رہی تھی۔
سو انہوں نے درخت کو چکھ لیا۔ حد پار کر لی۔۔۔۔۔۔
تو ان کو ورا بے لباس کر دیا گیا۔ اس پہلی رسوائی میں جو سب سے پہلی شےجس نے انسان کو ڈھکا تھا، وہ جنت کے پتے تھے، ورق الجنتہ۔
پرانے شہر کی سڑک پر کوئی ٹریفک جام تھا۔ گورسل بہت سست روی سے چل رہی تھی۔ سڑک کنارے چلتے لوگ اور دکانوں پہ لگا رش، اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہاتھا۔ وہ بس سن رہی تھی۔
آپ جانتی ہیں، ابلیس نے انسان کو کس شے کی ترغیب دلا کر اللہ کہ حد پار کروائی تھی؟ فرشتہ بننے کی اور ہمیشہ رہنے کی۔ جانتی ہو حیا! فرشتے کیسے ہوتے ہیں؟
اس نے نفی میں گردن ہلائی، گو کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے نہیں دیکھ سکتا۔
فرشتے خوب صورت ہوتے ہیں۔ وہ لمحے بھر کو رکا۔ اور ہمیشہ کی بادشاہت کسے ملتی ہے؟ کون ہمیشہ کے لیے امر کون ہو جاتا ہے؟ وہ جسے لوگ بھول نہ سکیں، جو انہیں مسحور کر دے، ان کے دلوں پر قبضہ کر لے۔ خوبصورتی اور امر ہونے کی چاہ، یہ دونوں چیزیں انسان کو دھوکے میں ڈال کر ممنوعہ حد پار کرواتی ہیں اور پھل کھانے کا وقت نہیں ملتا۔ انسان چکھتے ہی بھری دنیا میں رسوا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اگر وہ خود کو ڈھکے تو اسے ڈھکنے والے جنت کے پتے ہوتے ہیں۔ لوگ اسے کپڑے کا ٹکڑا کہیں یا کچھ اور، میرے نزدیک یہ ورق الجنتہ ہیں۔
پرانے شہر کی قدیم اونچی عمارتوں پر سے دھوپ رینگ گئی تھی اور اب چھاؤں کی نیلاہٹ ان پر چھا رہی تھی۔ وہ سانس روکے موبائل کان سے لگائے دم سادھے بیٹھی سن رہی تھی۔
جنت کے پتے صرف اسی کو ملتے ہیں، جس نے ترغیب کو چکھنے کی کوشش کی ہوتی ہے اور ان کا سفر ان کو خود پہ لگا لینے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا، کیونکہ ان کو تھامنے سے پہلے انسان جنت میں ہوتا ہے۔ تھامنے کے بعد وہ دنیا میں اتار دیا جاتا ہے، بخشش مل جاتی ہے، مگر دنیا شروع ہو جاتی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے دھیرے سے مسکرایا۔
دنیا والوں نے جنت تو نہیں دیکھی ہوتی نا! سو ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا جنت کے پتے دکھتے کیسے ہیں۔سو وہ ان کے ساتھ سلوک بھی وہی کرتے ہیں، جو کسی شے کی اصل جانے بغیر اس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ آپ دنیا میں اترنے کے بعد دنیا والوں کے رویے سے پریشان مت ہوئیے گا۔
وہ خاموش ہوا تو کوئی طلسم ٹوٹا۔ سحر کا بلبلہ جو اس کے گرد تن چکا تھا، پھٹ کر ہوا میں تحلیل ہو گیا۔
تھینکس میجر احمد! وہ گہری سانس لے کر بولی۔ اس وقت کچھ زیادہ کہنے کے قابل نہیں تھی۔
آپ اچھے انسان ہیں، اچھی باتیں کرتے ہیں۔
شکریہ! میں اب فون رکھتا ہوں۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ اس نے فون کان سے ہٹایا۔ اس کا کان سن ہو چکا تھا۔
قدیم شہر کی عمارتوں میں اس کو ابھی تک میجر احمد کی باتوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔
••••••••••••••••••
اناطولین سٹی میں ایک سیمینار ہے، چلو گی؟ ہالے نے ڈورم کے دروازے سے جھانک کر اسے مخاطب کیا۔ وہ جو اپنی کرسی پر بیٹھی میز پہ پھیلی کتابوں میں منہمک تھی، چونک کر پلٹی۔
ابھی تو ممکن نہیں ہے، میرے پورے دو چیپٹر رہ گئے ہیں۔ حیا نے صفحے آگے پلٹ کر دیکھا اور پھر نفی میں گردن ہلائی۔
کار میں پڑھ لینا۔ کتاب ساتھ لے چلو۔
اتنا ضروری کیا ہے؟
تم پچھتاؤ گی نہیں۔ لکھ کر رکھ لو۔ ہالے مصر تھی، سو اس نے کتاب ساتھ رکھ لی۔ پزل باکس بھی بیگ میں ڈال لیا اور بھنی مونگ پھلی کا پیکٹ جو کلہی دیا اسٹور سے لائی تھی، ہاتھ میں پکڑ لیا۔
کپڑے ٹھیک ہیں؟ اس نے گردن جھکا کر صبح کے پہنے لباس کو دیکھا۔ گرے اسکرٹ کے ساتھ لائم گرین بلاؤز اور اوپر گرے اسکارف جو ابھی ابھی پن اپ کیا تھا۔
ہاں! ٹھیک ہیں، چلو۔ ہالے نے کار کی چابی اور پرس سنبھالا۔ یہ اس کا خوش قسمت دن تھا کہ آج اس کے پاس کار تھی۔
وہ سیمینار ہوٹل کے جس ہال میں تھا وہ ہال سب سے اوپر والے فلور پر تھا۔ اس کی دو متوازی دیواریں گلاس کی بنی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہال کھچا کھچ بھرا تھا۔ عورتیں، لڑکیاں اور بے حد معمر خواتین، خالص نسوانی ماحول تھا۔
ان دونوں کو شیشے کی دیوار کے ساتھ جگہ ملی۔ حیا کی کرسی قطار کی پہلی کرسی تھی، سو اب اس کے دائیں طرف گلاس وال تھی اور بائیں طرف ہالے۔ اس نے مونگ پھلی کا پیکٹ کھول کر درمیان میں رکھ دیا تھا۔ وہی ڈی جے کے ساتھ کلاس میں کھانے کی عادت۔
روسٹرم کے عقب میں دیوار اس خوب صورت بینر سے ڈھکی تھی، جس پر انگریزی میں چھپا تھا۔
Face Veil Mandatory or Recommended
(چہرے کا نقاب، واجب یا مستجب؟)
اس نے دو انگلیوں اور انگوٹھے کو پیکٹ میں ڈال کر چند دانے نکالے اور منہ میں رکھے۔ وہ اسکارف کر لے، یہ اس کے تقویٰ کی انتہا تھی۔ سو اب چہرے کانقاب واجب تھا یا مستجب، کیا فرق پڑتا تھا؟
سیمینار انگریزی میں تھا۔ سو ڈائس سنبھالے کھڑی میرون اسکارف والی عربی خاتون انگریزی میں ہی کہہ رہی تھیں۔
واجب وہ چیز ہوتی جو کریں تو ثواب، نہ کریں تو گناہ، جبکہ مستجب وہ کام ہیں جو کریں تو ثواب، مگر نہ کرنے پہ گناہ نہیں ہے۔ اب اس بات پر تو سب راضی ہیں کہ لڑکیوں کا سر اور جسم ڈھکنا واجب، لیکن کیا چہرہ ڈھکنا بھی لازمی ہے؟
حیا کے دائیں جانب گلاس وال پہ ایکدم سے کوئی پرندہ آ ٹکرایا تھا۔ وہ چونکی۔ وہ ننھی سی چڑیا تھی جو شیشے سے ٹکرا کر نیچے گر گئی تھی۔
جب میں کہتی ہوں کہ چہرہ ڈھکنا واجب نہیں، صرف مستجب ہے تو اس کی وجہ وہ حدیث ہے کہ جب حضرت اسماء بنت ابو بکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور ان کا لباس ذرا باریک تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اسماء! جب لڑکی جوان ہو جاتی ہے تو سوائے اس اور اس کے (چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کر کے) کچھ نظر نہیں آن چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چہرہ کھلا رہنے پہ گناہ نہیں ہوتا۔
گری ہوئی چڑیا اب سنبھل کر فرش پر پھدک رہی تھی۔ چند ایک بار اس نے شیشے کی دیوار پر پنجے مار کر چڑھنے کی کوشش کی، مگور ناکام رہی۔
اور پھر جب حج کے موقع پر ایک لڑکی جو اونٹ پر سوار آپ سے بچے کے حج کے بارے میں پوچھ رہی تھی تو آپﷺ کے پیچھے کھڑے فضل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لاشعوری طور پر اس لڑکی کے چہرے کو دیکھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے ہاتھ پیچھے کر کے فضل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا، جبکہ اس لڑکی کو چہرہ ڈھکنے کا نہیں کہا۔ دوسری طرف آپ ﷺ کے زمانہ میں ازواج مطہرات اور صحابیات جو حجاب اوڑھتی تھیں، وہ مستحب کے درجے کا تھا۔ واجب کا نہیں۔ سو جو سورۃ نور میں ہے کہ وہ اپنی زینتیں چھپائیں، سوائے اس کے کہ جو خود ظاہر ہو جائے تو اس ”وہ جو خود ظاہر ہو جائے“ میں سرمہ، انگھوٹھی وغیرہ کے ساتھ چہرہ بھی شامل ہے۔
چڑیا پھڑپھڑاتی ہوئی کب کی اڑ چکی تھی۔ وہ مونگ پھلی چباتے ہوئے سر اثبات میں ہلاتی مقررہ کو سن رہی تھی۔ وہ مزید چند دلائل دے کر اپنی کرسی پر واپس جا چکی تھیں اور تب تک وہ مطمئن ہو چکی تھی۔ اسے ان کی ساری بات ٹھیک لگی تھی۔
میں ڈاکٹر فریحہ سے اختلاف کی جسارت کروں گی۔ ڈائس پر آنے والی گرے اسکارف والی مقررہ اپنی بات شروع کر چکی تھیں۔ وہ دراصل بحث تھی۔ حیا اور ہالے باری باری اپنی پیکٹ میں انگلیاں ڈال کر مونگ پھلی نکالتے ہوئے، پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھیں۔
رہی اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والی حدیث، اس کی تشریح تو محرم رشتوں کے لحاظ سے بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سالی تھیں اور اسی حدیث سے ہم دلیل لیتے ہیں کہ بہنوئی سے چہرے کا پردہ نہیں ہوتا اور حضرت فضل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والا واقعہ حج کے موقع کا تھا اور حج پر آپ ﷺ نے سختی سے نقاب یا دستانے پہننے س منع فرمایا تھا۔ جس سے ظاہر ہوتاہ کہ نقاب کرنا اس زمانے میں ایک کامن پریکٹس تھی۔
دو فاختائیں تیزی سے اڑتی ہوئی آئیں اور شیشے کی دیوار سے ٹکرائیں۔ حیا نے گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ اب ٹکرا کر نیچے جا گری تھیں اور اگلے ہی پل اٹھ کر اڑ گئیں۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کہتی ہیں کہ جب گریبانوں کو ڈھانپ لینے کا حکم نازل ہوا تھا تو مدینے کی عورتوں نے وہ حکم سنتے ہی اپنی اوڑھنیاں حصوں میں پھاڑی اور سر سے پاؤں تک خود کو اس سے ڈھانپ لیا۔ یہاں ڈھانپنے سے مراد چہرہ ڈھانپنا بھی ہے۔ سو ”وہ جو خود ظاہر ہو جائے“ میں انگوٹھی، سرمہ، جوتی تو آتی ہے، مگر چہرہ نہیں۔
پھر جب ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے آیت حجاب کی تفسیر پوچھی گئی تھی تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنی چادر سر پر لپیٹ کر بکل مار کر دکھائی، یوں کہ بس ایک آنکھ واضح تھی۔ آیت حجاب میں اللہ نے ”اے ایمان والو!“ کہہ کر حکم دیا ہے اور جب اللہ تعالیﷻ مومن کو اس کے ایمان کا واسطہ دے کر حکم دیتا ہے تو وہ حکم بے حد اہم ہوتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ صرف سر اور جسم ڈھکنا واجب نہیں، بلکہ چہرہ ڈھکنا بھی واجب ہے۔
وہ گردن ذرا سی پھیرے شیشے کی دیوار کو دیکھ رہی تھی، جہاں تھوڑی سی دیر میں بہت سے پرندے ٹکرائے تھے۔ تایا فرقان کہتے تھے کہ پرندے یوں اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ پچھلے سال جب یہاں سے گزرے تھے تو وہ عمارت وہاں نہیں تھی۔ اب وہ راستے پر اپنی رو میں اڑتے جا رہے ہوتے ہیں تو ٹکر لگنے پہ معلوم ہوتا ہے کہ راستہ بلاک ہے۔ معلوم نہیں، تایا کی فلاسفی کتنی درست تھی، مگر وہ ہوٹل نیا تعمیر شدہ ہی تھا۔ شاید وہ واقعی پرندوں کی گزرگاہ کے درمیان بن گیا تھا۔
مستجب اور واجب، بحث بہت پرانی ہے۔ ڈائس پر اب ایک سیاہ عبایا اور سیاہ اسکارف والی دراز قد، شہد رنگ آنکھوں والی خاتون آ چکی تھیں۔ خوبصورت، شفاف چہرہ، نرم سی مسکراہٹ، سب بہت توجہ سے انہیں سن رہے تھے۔
آپ نے مستجب والوں کے دلائل سنے، آپ کو لگا ہو گا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ نے پھر واجب والوں کا بیان سنا، تو لگا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ دونوں ٹھیک کہتے ہیں؟ یہ وہی لطیفہ ہو جائے گا کہ آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔
ہال میں بے اختیار قہقہہ بلند ہوا۔ شیشے کی دیواریں بھی مسکرا اٹھیں۔
ایسا ہے کہ میں ان دونوں میں سے کسی گروہ کی حمایت یا مخالفت کرنے کے لیے نہیں آئی۔ میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں۔
وہ لمحے بھر کو رکیں۔ پورا حال بہت دلچسپی سے سن رہا تھا۔
ہم عموما دنیا اور آخرت کی مثال کسی کالج ایگزام سے دیتے ہیں، رائٹ؟ تو وہی مثال لے لیتے ہیں۔ دنیا اور آخرت کے کسی بھی سکول یا کالج کا جب پیپر سیٹ کیا جاتا ہے تو اس میں چند سوال بہت آسان رکھے جاتے ہیں۔ جو کوئی اوسط درجے کا طالب علم بھی حل کر کے %33 سے زیادہ نمبر لے کر پاس ہو سکتا ہے۔ پھر چند سوال ذرا مشکل ہوتے ہیں جو صرف اچھے طلبہ حل کر کے ستر، اسی فیصد نمبر لے جاتے ہیں اور آخر میں کچھ سوال بہت پیچ دار۔۔۔۔۔۔۔ اور مشکل رکھے جاتے ہیں۔ وہ سوال پوزیشن ہولڈرز کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے عموما پوزیشن ہولڈرز کے آپس میں چند نمبرز یا پرسنٹیج کے ذرا سے تناسب کا فرق ہوتا ہے۔ یہ سوال مستحب ہوتے ہیں۔ ہم عموما سمجھتے ہیں کہ مستحب وہ ہوتا ہے کہ جب پانچ میں سے چار سوال حل کرنے ہوں، تو چاروں میں سے کوئی غلط ہونے کے ڈر سے پانچواں بھی اٹیمپ کر دیا جائے، ایکسٹرا سوال جبکہ وہ مستحب نہیں ہوتا۔
وہ اب کرسی پہ ذرا آگے ہو کر بیٹھی غور سے سن رہی تھی۔ استنبول کی خوب صورت عورتوں کی خوب صورت باتوں کا بھی ایک اپنا ہی سحر تھا۔
اب ہوتا یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ شفاف چہرے والی ڈاکٹر شائستہ کہہ رہی تھیں۔ کہ اس مسئلے پہ واجب والے، مستحب والوں پہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ اپنی مرضی کا دن چاہتے ہیں اور خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ جبکہ مستحب والے انہیں کہتے ہیں کہ آپ شدت سند ہو رہے ہیں۔ الزامات کی اس جنگ میں لڑکیوں کے پاس بہانہ آ جاتا ہے کہ انہیں حجاب کی ضرور نہیں ہے۔ وہ ایسے ہی ٹھیک ہیں، کیونکہ یہ تو ثابت ہی نہیں ہے کہ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے بھی یا نہیں۔ جبکہ یہ غلط تاثر ہے۔ بحث نقاب کے ”ہونے“ یا ”نہ ہونے“ کی نہیں ہے، بلکہ بحث اس کے واجب یا مستحب ہونے کی ہے۔ آسان الفاظ میں کہتی ہوں، اس پہ سب راضی ہیں کہ نقاب کرنے پہ ثواب ہے، جبکہ اختلافی نقطہ یہ ہے کہ کیا نقاب نہ کرنے پہ گناہ بھی ہے یا نہیں؟
اس نے اسکالر کے چہرے کو دیکھتے انگلیاں پیکٹ میں ڈالیں تو پوروں نے خالی پلاسٹک کو چھوا۔ مونگ پھلی کب کی ختم ہو چکی تھی۔ اس نے انگلیاں نہیں نکالیں، وہ ویسے ہی پوری یکسوئی سے اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی۔
میں سوچتی ہوں کہ تھوڑی دیر کے لیے ہم اختلافی نقطہ یعنی گناہ ہے یا نہیں۔ چھوڑ دیں اور صرف “متفق نقطے” پہ غور کریں تو اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ “گناہ کو چھوڑ دیں۔” کامن پوائنٹ دیکھیں کہ نقاب کرنا ایک نیکی ہے۔ بہت بڑی نیکی۔ تو کیا جو چیز مستحب ہوتی ہے، اسے فالتو سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے؟ جیسے مستحب والے کرتے ہیں۔ وہ نقاب کو غیر واجب قرار دے کر اس کی ترویج و تبلیغ کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف 33 فیصد والے جواب دے کر کسی فالتو سوال کے بغیر ہی ہم پاس ہو جائیں گے؟ کیا ہمیں یقین ہے کہ ہمارا 33 فی صد کا جواب نامہ بھی درست لکھا گیا ہے؟
ان کے سوال پر ہال میں خاموشی چھائی رہی مرعوب سی خاموشی۔
“ادھر ہم سب عورتیں اور لڑکیاں ہی موجود ہیں۔ ایک بات کہوں آپ سے؟ ہم میں یہ چند باتیں ضرور ہوتی ہیں۔ ساری نہیں تو کچھ تو ضرور ہی۔ ہم جلد جیلس ہو جاتی ہیں، کسی کے پیچھے اس کی برائی بھی کر لیتی ہیں۔ منہ سے جھوٹ بھی پھسل جاتا ہے ۔ نمازیں ہم پوری پڑھتی نہیں۔ جو پڑھیں، ان میں بھی دھیاں کہیں اور ہوتا ہے۔ ان کا بھی پتہ نہیں کتنا پانچواں ، نواں یا دسواں حصہ لکھا جاتا ہو گا۔ رمضان کے روزے رکھ لیں تو چھوٹے روزوں کی قضا دینا بھول جاتے ہیں۔ یہ تھا وہ 33 فیصد پرچہ۔ یہ کتنا اچھا ہم حل کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں۔ پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی ایکسٹرا عمل کی ضرورت نہیں؟ مائی ڈئیر لیڈیز! جنت صرف خواہش کرنے سے نہیں مل جاتی۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آدم کی اولاد میں ہر ایک ہزار میں سے 999 جہنم میں ڈالے جائیں گئے اور صرف ایک جنت میں داخل کیا جائے گا؟ یہ میں نہیں کہہ رہی، یہ بخاری کی حدیث ہے۔ کیا ہم اس اعمال نامے کے ساتھ اس “ایک” میں شامل ہو سکتے ہیں؟
وہ بالکل ساکت بیٹھی، بنا پلک جھپکے مقررہ کو دیکھ رہی تھی۔ “جہنم” کے لفظ نے اس کی آنکھوں کے سامنے ایک فلم چلا دی تھی۔
ہراقلیطس کی دائمی آگ، بھڑکتا آتش دان، دھکتے انگارے۔
آج ہم بحث کرتے ہیں کہ نقاب واجب ہے یا نہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ کل کو قیامت کے دن جب ہم ایک ایک نیکی کہ تلاش میں ہوں گے تب ہم شاید رو رو کر کہیں کہ آخر اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ حجاب واجب تھا یا مستحب، تھا تو نیک عمل۔۔۔۔۔۔۔ تھا تو ثواب ہی نا، تو ہم نے کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے رک کر ایک گہری سانس اوپر کو کھینچی۔ یقین کریں! میں واجب والوں اور مستحب والوں، کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں کر رہی۔ میں بس ایک بات کہہ رہی ہوں کہ حجاب کرنا نیکی ہے، سو چاہے آپ اسے واجب سمجھ کر کریں یا مستحب سمجھ کر۔۔۔۔۔۔ اسے کریں ضرور اور اسے پھیلائیں بھی ضرور۔ ہمارے جھوٹ، خیانتیں اور دھوکے ہمارے لیے جو آگ تیار کر رہے ہیں، اس سے دور ہونے کے لیے جو کرنا پڑے کریں اور ایک آخری بات۔۔۔۔۔ وہ پھر سانس لینے کو رکیں۔ ہال میں اسی طرح مکمل خاموشی تھی۔
آپ حجاب کے جس بھی درجے پر ہوں، صرف اسکارف لیں یا عبایا بھی لیں یا ساتھ میں نقاب بھی کریں، جو بھی کریں، اس پر قائم ہو جائیں۔ اس سے نیچے کبھی نہ جائیں اور پھر اس کے لیے لڑنا پڑے تو لڑیں۔ مرنا پڑے تو مریں، مگر اس پہ سمجھوتا کبھی نہ کریں۔ مجھے نہیں معلوم کہ حجاب واجب ہے یا مستحب، میں بس یہ جانتی ہوں کہ یہ اللہ کو پسند ہے تو پھر یہ مجھے بھی پسند ہونا چاہیے۔
وہ اسٹیج سے اتریں تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
گرے اسکارف والی اور میرون اسکارف والی دونوں خواتین متفق انداز میں مسکراتے ہوئے سر ہلا کر تالی بجا رہی تھیں۔
وہ بالکل چپ، خاموش سی بیٹھی تھی۔ دل و دماغ جیسے بالکل خالی ہو گئے تھے۔ جیسے ہی وہ سیاہ عبایا والی ڈاکٹر شائستہ ہمدانی دروازے کی طرف بڑھیں۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور ان کی جانب لپکی۔
میم! وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے ان تک آئی۔
یس؟ وہ پلٹیں۔ ساتھ ہی وہ ایک ہاتھ میں اپنا فون پکڑے تیز تیز کچھ ٹائپ کر رہی تھیں۔
وہ۔۔۔۔۔۔ میں بھی۔۔۔۔۔۔ میں بھی کرنا چاہتی ہوں نقاب۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے اپنی بات سمجھائے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے کروں؟
بہت آسان! ڈاکٹر شائستہ نے موبائل بیگ میں ڈالا اور پھر آگے بڑھ کر اس کے اسکارف کا سامنے کو گرا دایاں تکونا پلو اٹھایا۔ اسے پہلے بائیں گال کے ساتھ اسکارف کے ہالے میں اڑسا، اور پھر کچھ حصہ دائیں گال کے اس طرف اڑسا۔ یوں کے اس کے چہرے کو ایک نفیس سے نقاب نے ڈھانپ دیا۔
بس۔۔۔۔۔ اتنی سی بات تھی۔ مسکرا کر کندھوں کو ذرا سی جنبش دے کر وہ موبائل نکالنے کے لیے پرس کھنگالتے ہوئے پلٹ گئیں۔
اتنی سی بات تھی؟ وہ اپنی جگہ منجمند سی کھڑی رہ گئی۔
بس؟ اتنی سی بات تھی؟ اس کا سانس گھٹا، نہ دل تنگ ہوا، نہ ہی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھایا۔سب ویسا ہی تھا۔ بس اتنی سی بات تھی؟
اناطولیہ کے بازار میں چہل قدمی کرتے، گوسل کی نشست سے کھڑکی کے باہر دیکھتے، سبانجی کے کیمپس میں واپس بس سے اترتے، ہر جگہ اس نے لوگوں کو، دیواروں کو، مناظر کو کھوجنے کی سعی کی۔ کیا کوئی فرق پڑا تھا؟ مگر اسے احساس ہوا کہ سب ویسا ہی تھا۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ ڈاکٹر شائستہ کا پہنایا نقاب اتار سکتی، سو وہ استنبول میں اسی نقاب کے ساتھ لمحے بتاتی رہی۔ پر کہیں کوئی گھٹن، کوئی تنگی نہ تھی۔ انسان دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، نہ کہ ناک، رخسار، ٹھوڑی یا پیشانی سے، سو ان کے ڈھکے ہونے کے باوجود منظر وہی رہتا ہے، پھر کیسی پریشانی؟
لیکن پھر بھی اسے عجیب سی خفت ہو رہی تھی۔ باوجود اس کے ہالے کا انداز ویسا ہی تھا، جیسا پہلے تھا۔ ڈورم کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے حسین اور معتصم اترتے دکھائی دیے۔ حسین بس لمحہ بھر کو ٹھٹکا تھا، پھر دونوں مسکرا کر سلام کرتے نیچے اتر گئے۔ سب پہلے جیسا تھا۔
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ﷺ کہہ دیں اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور وہ ستائی نہ جائیں۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
وہ اپنی کرسی پر بیٹھی، کتاب پر جھکی، ذہنی طور پر ابھی تک اسی ہال میں تھی، جہاں شیشے کی دیواروں سے پرندے ٹکرا جایا کرتے تھے۔ جب واپسی کے وقت پس منظر میں کسی نے یہ آیت چلا دی تھی تو وہ اس کے ٹرانس سے باہر ہی نہ آ سکی تھی۔ اسے لگا، وہ کبھی اس کے اثر سے نہیں نکل سکے گی۔ لمحے بھر میں اس کی سمجھ میں آ گیا تھا کہ وہ آج تک حجاب یا نقاب کیوں نہیں پہن سکی تھی۔ باوجود اس کے کہ تایا، ابا اور روحیل بھی اسے بہت تاکید کرتے تھے۔ وہ یہ نہیں کر سکی۔ اس لیے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اپنی کہی۔ کبھی اللہ کی بات سنائی ہی نہیں۔ جبر کی طرح اپنی بات مسلط کرنی چاہی اور اکثر باپ، بھائی یہی تو کرتے ہیں۔ اپنی ہی کہتے رہتے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ بچیاں مانتی کیوں نہیں ہیں؟ کبھی اللہ کی سنوا کر تو دیکھتے، پھر علم ہوتا کہ مسلمان لڑکی چھوٹی ہو یا بڑی، نرم ٹہنی ہو یا سخت کانچ، دل اس کا ایک ہی ہوتا ہے۔ وہ دل جو اللہ کی سن کر جھک ہی جاتا ہے۔ پھر کسی وعظ، تقریر یا درس کی ضرورت نہیں رہتی۔
ایک آیت۔۔۔ ایک آیت زندگی بدل دیتی ہے۔ بس ایک آیت۔
ببوک ادا کے ساحل پہ لہریں پتھروں سے سر پٹخ رہی تھیں۔ ان کا شور اس اونچے، سفید قصر عثمانی کے اندر تک سنائی دے رہا تھا۔ محل اندھیرے میں ڈوبا تھا، راہداریاں تاریک تھی۔ صرف دوسری منزل کی اسٹڈی میں نیم روشنی چھائی تھی۔ اندر ایک مدھم سا بلب جل رہا تھا یا پھر میز پر کھلا پڑا عبدالرحمن کا لیپ ٹاپ۔ البتہ وہ اسکرین کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ ریوالونگ چیئر کی پشت پہ سر گرائے، سوچتی نگاہوں سے چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی دونوں سونے کی انگوٹھیاں اور موٹے فریم کے گلاسز میز پہ لیپ ٹاپ کے ساتھ رکھے تھے۔
بے خیالی میں اس نے ہاتھ بڑھا کر سگریٹ کی ڈبیا اٹھائی۔ اسے دیکھا اور پھر ذرا کوفت سے واپس میز پر پھینک دیا۔ اس سگریٹ نوشی سے اسے چھٹکارا لے لینا چاہئیے تھا اب تک۔ بلکہ اور بھی بہت چیزوں سے۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور انگلیوں سے کنپٹیوں کو دھیرے دھیرے مسلنے لگا۔ اس کے سر میں کافی دیر سے درد تھا، شاید بہت سوچنے کے باعث اعصابی دباؤ۔
اوں ہوں! اس نے نفی میں سر جھٹکا۔ اس کے اعصاب بہت مضبوط تھے اور وہ کبھی بھی اس قسم کے دباؤ سے نہیں ہار سکتا تھا۔ اس نے خود کو یقین دلایا۔ ویسے بھی سب کچھ ٹھیک ہو رہا تھا۔ ہر شے حسب منشا جا رہی تھی۔ جو تاش کے پتوں کا گھر اس نے بنا رکھا تھا۔ وہ اپنے آخری مرحلے میں تھا۔ کامیابی بہت نزدیک تھی۔ جو وہ چاہتا تھا، سب ویسے ہی ہو رہا تھا۔ مگر اب اسے زیادہ توانائی اور زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔ پچھلی دفعہ کھیل آخری مرحلے میں بگڑ گیا تھا۔ ہر شے دھپ سے اس پر آ گری تھی اور وہ بھی اس دوست کے طفیل “دوست” دھوکہ دے، اس سے بڑھ کر تکلیف دہ شے کوئی نہیں ہوتی۔ کچھ پل کے لیے وہ اذیت ناک دن اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائے تھے۔ اپنے قابل سے قابل دوستوں اور جاننے والوں کو چھوڑ کر، وہ اس قابل نفرت آدمی کے پاس گیا تھا مدد کے لیے اور اس نے جو کیا، وہ بہت برا تھا۔
عبدالرحمن نے تلخی سے سر جھٹکا۔ اس وقت کم از کم وہ اس واقعے اور اس شخص کو یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جس نے اس کی پیٹھ پر چھرا کھونپا تھا۔ اللہ ضرور اسے موقع دے گا کہ وہ اس سے اپنا انتقام لے اور وہ کبھی وہ موقع ضائع نہیں کرے گا۔ اس نے قسم کھا رکھی تھی، مگر اس وقت اسے وہ سب بھلا کر ان مواقع پر توجہ مرکوز رکھنی تھی جو اس کے سامنے تھے۔ عبدالرحمن نے کبھی موقعوں کا انتظار نہیں کیا تھا۔ اس نے موقعے ہمیشہ خود پیدا کیے تھے اور پھر اپنے کام نکلوائے تھے۔ اب بھی وہ یہی کر رہا تھا۔
مگر اس سب سے پہلے اسے اس چھوٹے سے مسئلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا جو چار، پانچ ماہ قبل اس نے خود کھڑا کیا تھا۔ گو کہ ہر چیز ویسے نہیں ہوئی تھی جیسے اس نے سوچا تھا۔ بڑی غلطی ہوئی اس سے ہاشم پر اعتبار کر کے، مگر پھر بھی اس سب کا اختتام ویسا ہی ہو گا، جیسے اس نے سوچا تھا۔ جیسے اس نے پلان کیا تھا، جیسے دیمت فردوس نے مشورہ دیا تھا۔
ایک اتفاقیہ موقع اسے مزید پیدا کرنا تھا۔
اس نے میز پر رکھا اپنا فون اٹھایا اور فون بک کھولی۔ وہ نمبرز کبھی لوگوں کے اصل نام سے محفوظ نہیں کرتا تھا۔ یہ نمبر بھی اس نے ایکسچینج اسٹوڈنٹ کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ اس نمبر پر میسج لکھنے لگا۔
* * * *
چھبیس مئی سے سبانجی میں امتحانات کا موسم چھا گیا۔ اس کھٹں موسم کو نو جون تک جاری رہنا تھا۔ ٹاقسم کا مجسمہ۔۔۔۔۔۔ استقلال جدیسی کے چکر، جواہر کی شاپنگ اور پزل باکس کی پہلیاں، اسے سب بھول گیا تھا۔ ادالار میں رکنے کے باعث ہونے والا نقصان تو وہ پورا کر چکی تھی، مگر یہاں صرف پاس نہیں ہونا تھا، بلکہ ڈسٹنکشن لینی تھی۔ اس کا رزلٹ برا ہوا تو پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس کی ناکامی ہو گی اور رزلٹ اچھا آیا تو پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹ کی کامیابی ہو گی۔ وہ حیا سلیمان کو بھلا کر صرف اور صرف “پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹس” رہ گئی تھی۔
اکتیس مئی کی صبح استنبول پر کسی قہر کی طرح نازل ہوئی تھی۔ وہ رات دیر تک پڑھنے کے بعد فجر کے قریب سوئی تھی کہ آج چھٹی تھی، مگر صبح ہی صبح ہالے کسی آندھی طوفان کی طرح ڈورم میں بھاگتی آئی تھی۔
حیا۔۔۔۔۔ حیا۔۔۔۔۔۔ اٹھو! وہ ہالے کے زور، زور سے پکارنے پر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔
کیا ہوا؟ نیچے اپنے بینک کی سیڑھی کے ساتھ کھڑی ہالے کے حواس باختہ چہرے کو دیکھ کر اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔ وہ لحاف پھینک کر تیزی سے نیچے اتری۔
“حیا۔۔۔۔۔۔۔” ہالے کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں۔ حیا نے بے اختیار اس کے ہاتھ پکڑے، جو سرد ہو رہے تھے۔
“ہالے؟”
“حیا۔۔۔۔۔ فریڈم فلوٹیلا۔۔۔۔۔۔ جو غزہ جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے روک دیا گیا ہے، اسرائیل نے اس پر اٹیک کر دیا ہے۔ پتا نہیں، کتنے فلسطینی اور ترک مارے جا چکے ہیں۔”
“اللہ۔۔!” اس نے بے اختیار دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔مگر وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ان بحری جہازوں میں تو خوراک تھی، دوائیاں تھیں۔”
“وہ کہتے ہیں کہ ان میں اسلحہ تھا اور دہشت گرد بھی۔ پھر انہیں پوچھنے والا کون ہے؟”
“خدایا! معتصم وغیرہ تو بہت پریشان ہوں گے۔ ان کے تو دوست بھی تھے مسافر بردار جہاز میں۔” اسے بے اختیار یاد آیا۔
“ہمیں ان کے پاس جانا چاہیے چلو، جلدی کرو۔”
اس نے جلدی جلدی بال جوڑے میں لپیٹے اور لباس بدل کر، اسکارف لپیٹ کر اور نقاب نفاست سے سیٹ کر کے وہ ہالے کے ساتھ باہر آ گئی۔ کامن روم کے راستے میں اس نے موبائل چیک کیا تو ادھر رات کے کسی ایک پہر ترک موبائل نمبر سے ایک پیغام آیا ہوا تھا۔
“میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے، اے آر پی۔”
“جہنم میں جائے اے آر پی۔” وہ اس وقت اس پریشانی میں اے آر پی کے سرپرائز کے بارے میں کہاں سوچتی۔
کامن روم میں پانچوں فلسطینی لڑکے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ میز پر لیپ ٹاپس کھلے پڑے تھے اور موبائل ہاتھوں میں لیے وہ سب اپ ڈیٹس کے منتظر تھے۔ ان کے چہرے دیکھے تو وہ افسوس کے سارے الفاظ بھول گئی۔ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا کہے۔ وہ اور ہالے خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گئیں۔
“آئی ایم سو سوری معتصم” اس کے کہنے پر معتصم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ہلکی سی پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ سر کو جنبش دی اور دوبارہ اپنے جوتوں کو دیکھنے لگا۔ وہ اس کی تکلیف محسوس کر سکتی تھی، بلکہ نہیں وہ کیسے محسوس کر سکتی تھی سوائے اس کے کہ وہ خود کو ان کی جگہ پہ رکھے۔ وہ تصور کرے کہ (اس نے لمحے بھر کو آنکھیں میچ کر سوچا) اگر خدانخواستہ اسلام آباد میں جنگ جاری ہو، پورا شہر اپنے گھروں میں محصور ہو، اس کے گھر والے بیمار اور زخمی ہوں اور پھر وہ ادھر ترکی سے ایک فلوٹیلا پر انہیں دوائیاں اور خوراک بھیجے، مگر وہ فلوٹیلا کراچی کے ساحل پر روک لیا جائے، اس میں سوار کچھ لوگوں کو مار دیا جائے اور اس کے گھر والے تڑپتے رہیں۔ ہاں! (اس نے تکلیف سے آنکھیں کھولیں۔) اب وہ محسوس کر سکتی تھی۔ جب تک اپنے ملک اور اپنے گھر پر بات نہ آئے، کسی دوسرے کا درد محسوس ہی نہیں ہوتا۔
کامن روم کا دروازہ کھول کر ٹالی اندر داخل ہوئی۔
حیا اور ہالے نے ایک دم اسے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو۔ ٹالی چلتی ہوئی سامنے آئی۔ وہ لڑکوں کو دیکھ رہی تھی، مگر لڑکوں میں سے کسی نے بھی اس کی طرف نہیں دیکھا۔
“معتصم! کیا ہم بات کر سکتے ہیں ؟”
معتصم اپنے جوتوں کو دیکھتا رہا، اس نے جیسے سنا ہی نہیں تھا۔
“حسین۔۔۔! وہ حسین کے قریب صوفے پر بیٹھی، اس کا بیٹھنا گویا کسی کرنٹ کا جھٹکا تھا۔ حسین تیزی سے اٹھا۔ ساتھ ہی چاروں لڑکے اٹھے اور وہ اکھٹے باہر نکل گئے۔
ٹالی لب کاٹتے ہوئے انہیں جاتے دیکھتی رہی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ دن اس کی اور ان فلسطینیوں کی مثالی دوستی کا آخری دن تھا۔
ان کے نکلتے ہی دوسری طرف سے لطیف کمرے میں داخل ہوا۔ آہٹ پر ٹالی اور ان دونوں نے گردن موڑ کر دیکھا۔ لطیف نے جینز پر سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی، جس پر کالے مارکر سے نمایاں کر کے لکھا تھا۔
“شیم آن یو اسرائیل!”
ٹالی نے وہ تحریر پڑھی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ہالے زیر لب مسکرائی اور حیا کو دیکھا۔ وہ بھی جوابا مسکرائی۔
“ٹالی۔۔۔۔۔۔۔ ٹرسٹ می، یہ صرف۔۔۔۔۔۔۔” لطیف ہاتھ اٹھا کر اب بہت ہی دھیمے انداز میں ٹالی کو سمجھا رہا تھا کہ اس کی یہ تحریر صرف اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فوج کے لیے تھی۔ اسے ٹالی سے کوئی مسلئہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس سے ناراض تھا۔ ٹالی پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے ہوئے سمجھنے والے انداز میں سنتی رہی۔ لطیف کیتھولک تھا، ڈچ تھا۔ وہ یہ سب کہہ سکتا تھا، مگر فلسطینیوں کی بات اور تھی۔ جو انہوں نے کیا ہالے اور حیا کو بالکل درست لگا تھا۔
وہ ماتم کا دن تھا۔ گو کہ یونیورسٹی میں سارے کام معمول کے مطابق ہو رہے تھے، مگر درودیوار پہ چھایا سوگ اور اذیت دل کو کاٹتی تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں، کس سے انصاف مانگیں۔
“ہٹلر کہتا تھا، میں چاہتا تو تمام یہودیوں کو مار دیتا، مگر میں نے بہت سوں کو چھوڑ دیا، تا کہ دنیا جان سکے کہ میں نے ان کے بھائی بندوں کو کیوں مارا تھا۔”
اور اس جیسی بہت سی دوسری ”کہاوتیں“ اسٹوڈنٹس اپنی اپنی شرٹس پر لکھ کر پہنے گھوم رہے تھے۔ وہ اور ہالے بھی سارا دن سناٹے میں ڈوبی راہ داریوں میں بے مقصد چلتی رہی تھیں۔
پاکستان میں اپنے لاؤنج میں بیٹھے ریموٹ ہاتھ میں پکڑے ٹی وی پہ فریڈم فلوٹیلا کی خبر دیکھنا اور افسوس کر کے چینل بدل دینا اور بات تھی، مگر ترکی میں رہ کر اس ساری اذیت و تکلیف کا حصہ بننا دوسری بات تھی۔
وہ اینکر پرسن طلعت حسین کا شو کبھی بھی نہیں دیکھتی تھی، مگر یہ بات کہ وہ بھی ان سینکڑوں لوگوں کے ساتھ قید تھے، بہت دل دکھانے والا تھا۔ وہ چھ جہاز تھے، تین کارگو اور تین مسافر بردار۔ یہ سب مختلف جگہوں سے آ کر مرمرا میں ایک مقام پر اکٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے یہ پورا فلوٹیلا غزہ کی جانب گامزن ہوا تھا، تا کہ غزہ کے محصورین کو امداد پہنچا سکے۔ جب فلوٹیلا غزہ کے قریب پہنچا تو اسرائیلی فوج نے جہازوں پر حملہ کر دیا۔ کتنے ہی لوگ شہید کر دیے اور باقی سب قید۔
دوپہر میں وہ اور ہالے باہر سبانجی کے کیفے کے فوارے کے ساتھ کرسیوں پہ بیٹھی، چارٹس اور پلے کارڈز بنا رہی تھیں۔
انہوں نے سنا تھا کہ پورا استنبول سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ (سبانجی شہر میں نہیں، بلکہ دور مضافات میں تھی) سو ان کا ارادہ بھی آج جا کر اس احتجاج میں شامل ہونے کا تھا۔
مئی کے آخر کی دھوپ فوارے کے پانی سے ابل رہی تھی۔ وہ کہنیاں میز پر ٹکائے سر جھکائے پوسٹر میں رنگ کر رہی تھی اسکارف کے ایک پلو سے نفاست سے کیا گیا نقاب اس کے چہرے کا حصہ بن گیا تھا۔ صرف بڑی بڑی سیاہ آنکھیں نظر آتیں جو پہلے سے
زیادہ سنجیدہ ہو گئی تھیں۔ انسان ایک ہی دریا میں دو دفعہ نہیں اتر سکتا۔ وہ بھی اب وہ والی حیا سلیمان نہیں رہی تھی جو چار ماہ قبل ترکی آئی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ نا محسوس طریقے سے بدلتی جا رہی تھی۔
ایک ثانیے کو اس کا ذہن صبح آئے پیغام کی جانب بھٹک گیا۔
“کون سا سرپرائز؟ کیسا سرپرائز؟ خیر! عبدالرحمن کی ہر بات ہی سرپرائز ہوتی تھی۔ اب تو اس نے حیران ہونا بھی ترک کر دیا تھا۔
پلے کارڈز اور پوسٹرز لپیٹ کر جب وہ کامن روم میں آئی تو سینڈرا، چیری اور سارہ کتابیں گود میں رکھے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ ہالے میز پہ رکھے اپنے بیگ میں کچھ چیزیں ڈال رہی تھی اور فلسطینی لڑکے بھی افراتفری کے عالم میں آ جا رہے تھے۔ سب کو احتجاج کے لیے استنبول جانا تھا۔
“کیا تم لوگ آؤ گے سارہ؟” اس نے ٹی وی میں مگن تینوں لڑکیوں کو مخاطب کیا۔
نہیں۔۔۔۔۔ سارہ نے اسکرین پہ نگاہیں جمائے بے نیازی سے شانے اچکائے۔ چیری اور سینڈرا نے تو اسے دیکھا تک نہیں۔ وہ اسی طرح کھڑی ٹکر ٹکر ان کے چہرے دیکھے گئی۔
ہالے اور فلسطینیوں کے ساتھ سامان پیک کروانے اور احتجاجی شرٹس پہن کر اس کارواں میں شامل ہونے کے لیے بہت سے ترک اسٹوڈنٹس بھی آ گئے تھے۔ یہ وہ لڑکیاں تھی جو گرمی، سردی، ہر موسم میں منی اسکرٹس میں ملبوس ہوتی تھیں۔ وہ لڑکے جن کا دین، مذہب سے کوئی دور، دور کا واسطہ بھی نہ تھا، کانوں میں بالی اور قابل اعتراض تصاویر والی شرٹس اور جینز پہننے والے سب ایک ہو گئے تھے۔ مگر وہ لڑکیاں چیری، سارہ اور ٹالی، وہ جن کے ساتھ حیا اور ڈی جے رات کو گھنٹوں باتیں کرتی تھی، جو ساتھ کھاتی پیتی، سوتی جاگتی، ہنستی بولتی تھیں، اب وہی لڑکیاں اجنبی بنی بیٹھی تھی۔
یہ لوگ کیوں نہیں چل رہے؟ سب واضع تھا، پھر بھی اس نے الجھن بھرے انداز میں ہالے سے دھیرے سے پوچھا۔ ہالے نے سارہ والی بے نیازی سے شانے اچکائے۔
“کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں حیا!”
وہ بالکل چپ کھڑی رہ گئی۔ ان چار ماہ میں انہیں ترک، پاکستانی، فلسطینی، نارویجن، ڈچ، چائنیز، اسرائیل اور ایسی ہی درجنوں تفریقات میں بانٹا گیا تھا، مگر آج قومیت کے سارے فرق مٹ گئے تھے۔ یہودی، عیسائی، بدھسٹ، سب ایک طرف ہو گئے تھے اور مسلمان اسٹوڈنٹس ایک طرف۔
اور وہ بھی کن سیرابوں کے پیچھے دوڑا کرتی تھی؟ اسے بھی کن لوگوں کا لباس، کن کا رہن سہن اچھا لگتا تھا؟
انجم باجی اور جاوید بھائی سمیت وہ سب جب ٹاقسم پہ پہنچے تو وہ پانچ منٹ کے لیے معذرت کر کے تیزی سے استقلال اسٹریٹ کی طرف چلی آئی۔اسے جہان کو بھی اپنے ساتھ لینا تھا۔ جتنے زیادہ مسلمان ہوں، اتنا بہتر تھا۔ برگر کنگ پر معمول کی گہما گہمی تھی۔ وہ ریسٹورنٹ کی میزوں سے ہٹ کر اندر جانے والے دروازے میں داخل ہو گئی۔ کچن میں ایک ترک لڑکی اور ایک نیا لڑکا کام کر رہے تھے۔ دونوں شیف تھے۔
سلام! جہان کہاں ہے؟ اس نے اردگرد نگاہیں دوڑاتے ہوئے لڑکے کو مخاطب کیا۔
وہ ابھی تو یہیں تھا۔ گوشت کاٹ رہا تھا۔ اب شاید۔۔۔۔۔ لڑکے نے مڑ کر ایک دوسرے دروازے کی طرف دیکھا۔ شاید ڈریسنگ روم میں ہو یا باتھ روم میں۔
اسی پل ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا۔ حیا نے بے اختیار گردن موڑ کر دیکھا۔ جہان اندر داخل ہو رہا تھا، یوں کہ سر جھکائے وہ آنکھوں کو انگلیوں سے رگڑ رہا تھا۔
جہان! اس نے پکارہ تو جہاں نے چونک کر گردن
اٹھائی۔ اس کی آنکھیں بھیگی اور سرخ سی ہو رہی تھی۔ وہ بامشکل مسکرایہ اور سلیب کی طرف آیا۔
السلام علیکم! تم کب آئیں؟ وہ اس سے نظر ملائے بغیر گردن جھکا کر گوشت کی ٹرے اٹھانے لگا۔
ابھی۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو؟ وہ بغور اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
ہاں، بس پیاز کاٹنے سے آنکھوں میں تھوڑی جلن ہو رہی تھی، تو ابھی منہ دھونے گیا تھا۔ اتنی لمبی وضاحت؟ وہ بھی جہان دے؟ اور پیاز۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ارد گرد دیکھا، پیاز تو کہیں نہیں تھی۔
تم بتاؤ! کیسے آئیں؟
وہ۔۔۔۔۔۔ ہم اسٹریٹ پروٹیسٹ کے لیے جا رہے ہیں۔ فریڈم فلوٹیلا پہ حملے کے خلاف۔ تم چلو گے؟
پروسٹیٹ کیوں؟ ان بحری جہازوں میں اسلحہ نہیں تھا؟
اسلحہ؟ نہیں جہان! ان میں دوا اور خوراک تھی۔ اس نے اچنپھے سے جہان کو دیکھا۔ کیا وہ اتنا بے خبر تھا؟
یہ تو تم کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ اسلحہ نہ ہوتا تو اسرائیلی کیوں روکتے اسے؟ وہ لاپرواہی سے کہتے ہوئے گوشت کے قتلے کھٹا کھٹ کاٹ رہا تھا۔
جہان! کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان کو کسی وجہ کی ضرورت ہے؟
یہ ان کی آپس کی جنگ ہے حیا! یہ فلسطینی بھی اتنے سیدھے نہیں ہوتے۔ یہ جہاد وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ سب دہشت گردی کی قسمیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ فلوٹیلا کو واقعی ناجائز روکا گیا ہو، مگر ہمیں فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی بننے کی ضرورت نہیں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔
جہان! یہ کیسے ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارے ریجن کو ہماری ضرورت ہے۔
ہمارا ریجن ہمارے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور ہمارے مرنے کے بعد بھی رہے گا۔ اسے ہماری قطعا ضرورت نہیں ہے اور پلیز! تم اس محمد بن قاسم ایرا کے رومانس سے نکل آؤ۔
وہ بہت بے زاری سے گردن جھکائے کام کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
یہ کیسا جہاد ہے کہ بوڑھے ماں، باپ کو چھوڑ کر بندوق اٹھائے نکل پڑو۔ جہاد تو وہ ہوتا ہے جو ایک آدمی اپنے گھر والوں کے لیے مشقت کر کے روزہ کماتا ہے، جو میں کرتا ہوں، جو اس ریسٹورنٹ میں میرے ورکرز کرتے ہیں۔
جہنم میں گیا تمہارا ریسٹورنٹ، بہرحال میں تم سے متفق نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر تم غلط ہو کر اتنے پر اعتماد ہو سکتے ہو تو میں صحیح ہو کر پر اعتماد کیوں نہ ہوؤں؟ وہ تلخی سے کہہ کر پلٹ گئی۔
جہان نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا، پھر سر جھٹک کر کام کرنے لگا۔
مسلمان اسٹوڈنٹس کا دوسرے ترک باسیوں کے ساتھ اسٹریٹ پروٹیسٹ جاری تھا۔ پلے کارڈ اور بینرز اٹھائے وہ نعرے بلند کرتے آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک شخص زور سے پکارتا تھا “ڈاون ود؟” تو باقی لوگ ہم آواز ہو کر “اسرائیل!” چلاتے۔ ہر طرف “Down with Israel” کے نعروں کی گونج تھی۔ پاکستان میں ایسے مظاہروں میں عموما مردوں، عورتوں کے درمیان تفریق سی ہوتی تھی، مگر ترکی میں دونوں صنف اکھٹے ہی ریلی میں چل رہے تھے۔ یوں بہت بچ بچ کر چلنا پڑتا، مگر اس کا ذہن ابھی تک جہان میں اٹکا تھا۔
ہر ایک کے سیاسی تجزیات الگ ہوتے ہیں سب کو اپنی راہ رکھنے کا حق ہے، پھر اسے کیوں بار بار رونا۔۔۔۔۔۔ آ رہا تھا اور وہ کیوں بار بار اپنے آنسو بمشکل روک رہی ہے؟
وہ اسرئیلی ایمبیسی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ معتصم کا وعدہ پورا نہ ہو سکا، مگر ان کا احتجاج شاندار رہا۔ اگلے روز اس کا پیپر تھا۔ وہ بے دلی سے تھوڑا بہت پڑھ کر جلدی سو گئی اور پھر صبح منہ اندھیرے اٹھ کر کتابیں لیے جھیل پر آ گئی۔
ہر سو نیلا اندھیرا چھایا تھا۔ جون شروع ہو چکا تھا۔ مگر اس وقت بہت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ گرمی صرف دن میں ہوا کرتی تھی۔ وہ پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھ گئی اور گھنٹوں پہ کتاب رکھ لی۔ ہوا کے باعث شال سر سے پھسل کر گردن کی پشت پر جا ٹھہری۔ دور، دور تک کوئی نہ تھا، وہ وہاں اکیلی تھی۔
رونا تو اسے رات سے ہی آ رہا تھا، مگر اب اس میں شدت آ گئی تھی۔ وہ سر جھکائے بے آواز آنسو بہاتی رہی۔ گھر، اماں، ابا، روحیل سب بہت یاد آ رہے تھے۔
دفعتا اس کا فون بجا۔ اس نے گھاس پر رکھا موبائل اٹھایا۔
“جہان کالنگ“ اس وقت؟ خیریت؟ وہ حیران ہوئی۔
جہان! کیا ہوا؟ وہ زکام زدہ آواز میں ذرا پریشانی سے بولی۔
تم جاگ رہی ہو؟ آج تمہارا پیپر ہے نا؟
ہاں! میں جھیل پہ ہوں، تم کہاں ہو؟
ایک کام سے قریب میں آیا تھا، بس تم رکو! میں آ رہا ہوں۔
حیا نے موبائل بند کیا اور ہتھیلی کی پشت سے آنسو رگڑے۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں اتنا غیر متوقع رویہ رکھنے والا شخص نہیں دیکھا تھا۔
ہیلو! چند ہی منٹ بعد وہ اس کے ساتھ آ بیٹھا تھا۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھا کر دیکھا۔ جینز اور چاکلیٹ کلر ٹی شرٹ میں وہ بہت تروتازہ لگ رہا تھا۔
“تم اتنی صبح کیسے؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: