Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 32

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 32

–**–**–

تم اتنی صبح کیسے؟
یہاں مجھے قریب میں پہنچنا تھا، سات بجے تک۔ سوچا جلدی آ جاؤں تا کہ پہلے تم سے مل لوں۔ مجھے لگا، تم کل مجھ سے ذرا ناراض ہو گئی تھیں۔ وہ اسی کے انداز میں اکڑوں بیٹھا اب جھیل کے پانی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ بھی پانی ہی کو دیکھ رہی تھی۔
نہیں! ایسی تو کوئی بات نہیں۔ چند لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے۔
حیا! ایک بات کہوں؟ کبھی بھی اپنے قرابت داروں سے ان کے پولیٹیکل ویوز کے باعث ناراض نہیں ہوتے۔ وہ بہت نرمی سے دھیمے انداز میں سمجھا رہا تھا۔ وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ اسے کچھ یاد آیا تھا۔
ہر شخص کے رویے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ جب تک آپ کسی دوسرے کی جگہ پہ کھڑے ہو کر نہیں دیکھتے، آپ کی سمجھ میں پوری بات نہیں آسکتی۔ ہر کہانی کی ایک دوسری سائیڈ ضرور ہوتی ہے۔ اس نے چہرہ موڑ کر حیا کو دیکھا۔ اب بتاؤ کیوں رو رہی تھیں؟
ہوں ہی۔ وہ فورا نگاہ چرا کر پانی کو دیکھنے لگی۔
“بس گھر یاد آ رہا تھا۔”
صبر کر لو، انسان کو ہمیشہ اتنی ہی تکلیف ملتی ہے جتنی وہ سہہ سکے۔
اور اگر وہ نہ سہنا چاہے؟ آخر کیوں انسان کو سہنا پڑتا ہے سب کچھ؟ زندگی آسان کیوں نہیں ہوتی جہان؟ اس کی آنکھیں بھر سے بھیگ گئیں۔ وہ ابھی تک پانی کو دیکھ رہی تھی جو چمک رہا تھا۔ جیسے نیلے آسمان پہ چاندی کے تھال کی طرح کے چاند سے قطرہ قطرہ چاندی پگھل کر جھیل کی سطح پر گر رہی تھی۔
ابھی تمہاری اسٹوڈنٹ لائف ہے، اسے جتنا انجوائے کر سکتی ہو، کرو۔ کیونکہ اس کے بعد زندگی اپنا نقاب اتر پھینکتی ہے اور چیزیں بہت مشکل ہو جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی تمہاری زندگی مشکل ہو جائے گی۔ تم کرو گی مجھ سے شادی؟
لمحے بھر کو چاندی کی تہہ جھیل کی سطح سے پھیل کر سارے سبزہ زار پر چڑھتی گئی۔ وہ ہر شے کو چاندی بنا گئی اور وہ دونوں بھی چاندی کے مجسمے بنے رہ گئے، چمکتے ہوئے سلور مجسمے۔
ہماری شادی ہو نہیں چکی؟
وہ تو ہمارے بڑوں نے کی تھی۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ تم مجھے جانتی ہو۔ میں کوئی ہر وقت ہنستا مسکراتا آدمی نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں، میں بعض دفعہ بہت سخت ہو جاتا ہوں اور تب تمہیں میں بہت برا لگتا ہوں۔ مجھے پتہ ہے، مگر میں ایسا ہی ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ ساری زندگی رہ لو گی؟ وہ بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ حیا نے دھیرے سے شانے اچکائے۔
استنبول میں ہر حالات میں رہنے کو تیار ہوں میں۔
اللہ نہ کرے جو ہم یہاں رہیں۔ وہ ایک دم بالکل غیر ارادی طور پہ چونک کر بولا۔ چاندی کے دوسرے مجسمے نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں؟
یوں ہی کہہ رہا تھا۔ پہلے مجسمے نے گردن موڑ لی۔
تمہیں پھپھو نے کب بتایا کہ کہ ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ بات ادھوری چھوڑ گئی۔
وہ کیوں بتاتیں؟ میں اس وقت آٹھ سال کا تھا اور آٹھ سال کے بچے کا حافظہ اچھا خاصا ہوتا ہے۔ مجھے ہمیشہ سے پتا تھا۔
میں سمجھی تھی کہ تمہیں نہیں پتا۔ بے اختیار اس نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ زبان بھی چاندی بن چکی تھی۔
تمہیں کیا لگتا ہے، میں ہر کسی سے معذرت کرنے آ جاتا ہوں یا۔۔۔۔۔۔۔ ہر لڑکی کو ڈنر کے لیے لے جاتا ہوں؟ وہ ذرا خفگی سے اس معذرت کا حوالہ دینے لگا، جب اس نے اس کا خنجر بریڈ ہاؤس توڑا تھا۔
تم میری بیوی ہو اور میرے لیے بہت خاص ہو۔ بس میرے کچھ مسئلے ہیں۔ وہ ٹھیک ہو جائیں تو ہم اپنی زندگی شروع کریں گے۔
چاندی کی تہ اب سبزہ زار کے دہانوں سے پھیلتی ڈورم بلاکس پہ چھاتی جا رہی تھی۔ پوری دنیا، زمین، آسمان، سب چاندی بنتا جا رہا تھا۔
حیا! ہمارے بہت مسئلے رہے ہیں، مگر میری ماں۔۔۔۔۔۔ ہم انہیں ٹھیک کر لیں گے۔ وہ زخمی انداز سے مسکرایا۔ ہم ہمیشہ سے ساتھ مل کر اپنے مسئلے ٹھیک کرتے آئے ہیں۔ ہم نے بہت اذیتیں کاٹی ہیں۔ بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ مگر میری ماں بہت مضبوط عورت ہے، بہت نڈر، بہت بہادر۔ انہوں نے ساری زندگی بوتیکس کے لیے کپڑے سی کر مجھے کسی قابل بنایا ہے وہ اب بھی یہ کام کرتی ہیں، مگر انہوں نے تمہیں نہیں بتایا ہو گا۔ وہ اپنے مسئلے کسی سے بیان نہیں کرتیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اتنی ہی مضبوط اور بہادر بن جاؤ۔ وجیہہ مجسمہ اٹھ کھڑا ہوا تو چاندی کا خول چٹخا۔ سبزہ زار پہ چڑھے ورق میں دراڑیں پڑ گئیں۔
میں چلتا ہوں، تم اچھا سا ایگزام دو اور اگر لندن چلنے کا موڈ ہو تو بتانا۔ ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا، وہ جانے کے لیے مڑ گیا۔
وہ بھیگی آنکھوں اور نیم مسکان سے اسے جاتے دیکھتی رہی۔
چاندی کے ٹکڑے ٹوٹ ٹوٹ کر جھیل کے پانی میں گم ہو رہے تھے۔ چاند اب سرخ نارنجی روشنی کے نقطوں میں ڈر کر بادلوں کی اوٹ میں تیرنے لگا تھا۔ فسوں ختم ہو چکا تھا، حقیقی دن کا آغاز ہو چکا تھا۔
* * * *
چھ جون کو جب تک اسرائیل نے سارے قیدی رہا کر دیے تب تک سبانجی اور استنبول میں غم و غصے کی فضاء چھائی رہی۔ قیدیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے، طیب اردگان کے سخت بیانات اور فلسطینی اسٹوڈنٹس کا تناؤ اور بھی بہت کچھ ہوا جو ہماری کہانی کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ بہرحال، ماوی مرمرا اور فریڈم فلوٹیلا کی پریشانی ختم ہوئی تو سب ایگزامز کی طرف متوجہ ہو گئے۔
وہ امتحان بھی اسی لمبے اسکرٹ، فل سلیو بلاؤز اور اسکارف سے کیے گئے نقاب میں دیتی گئی اور اب اسے اپنے چہرے کی عادت ہوتی جا رہی تھی۔ کندھے پر بیگ لٹکائے اور سینے سے فائل لگا کر بازو لپیٹے وہ سر اٹھا کر بہت اعتماد سے جب سبانجی کی راہداری میں چلتی تو اسے ٹالی اور اس کی دوستوں کی آوازوں کی پرواہ نہ ہوتی۔
ٹالی ابھی بھی اسے استہزایہ انداز میں “Arab baci” کہتی تھی۔ (عرب باجی، یہ اردو والا باجی ہی تھا کہ ترکوں کا ”C“ جیم کی آواز سے پڑھ جاتا تھا۔) البتہ ٹالی اور فلسطینی لڑکوں کے درمیان فریڈم فلوٹیلا کی کھینچی گئی لکیر ہنوز قائم تھی گو کہ ڈی جے اپنی دلی خواہش کی تکمیل دیکھنے کے لیے زندہ نہیں تھی۔
نو جون کو امتحان ختم ہوئے تو الوداعی دعوتوں کا آغاز ہو گیا۔ پچاس ممالک کے ایکسچینج اسٹوڈنٹس میں سے کچھ آخری مہینے میں دوسرے ممالک جا رہے تھے، جبکہ کچھ ترکی میں ہی رہ رہے تھے۔ وہ عائشے کے پاس بیوک ادا جانا چاہتی تھی، مگر وہاں عبدالرحمن تھا اور ابھی کافی تو اسے یاد ہو گی۔ وہ بدلہ بھی لے گا، مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔ بس چند دن ہیں، پھر وہ پاکستان چلی جائے گی تو نہ وہاں عبدالرحمن ہو گا، نہ آوازے کسنے والی ٹالی۔ وہاں اس کے حجاب کی عزت ہو گی۔ پہلی دفعہ اسے تایا فرقان کے نظریات برے نہیں لگے تھے۔ وہ ٹھیک ہی ارم پر روک ٹوک کرتے تھے۔ ابا اور تایا کتنے خوش ہوں گے اس کے حجاب پہ۔ مگر نہیں اسے ان کی خوشی سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ کسی کی ستائش کے لیے تو یہ سب نہیں کر رہی۔
ستائش کے لیے اگر کوئی حجاب لے تو جلد ہی چھوڑ دے، کیونکہ یہ وہ کام ہے، جس میں ریا ہو ہی نہیں سکتی۔ عائشے نے اس کی بات پہ ہنس کر کیا تھا۔ وہ اتنے دن بعد آج بیوک ادا آئی تھی اور اب وہ تینوں ساحل کے کنارے ایک اوپن ایر کیفے میں بیٹھی تھیں۔
اس سے قبل وہ ان دونوں بہنوں کے ساتھ حلیمہ آنٹی کی طرف بھی ہو آئی تھی۔ آنٹی، عثمان انکل اور سفیر کے ساتھ کہیں نکل رہی تھی۔ بس دروازے پہ ہی کھڑے کھڑے سلام دعا ہو سکی۔ عثمان انکل ویسے ہی تھے، بھاری بھر کم اور خوش مزاج۔ ڈی جے کا افسوس کرنے لگے تو عادتا بولتے ہی چلے گئے اور بہارے گل برے برے منہ بنا کر سنے گئی۔ ایک وہی تھی جو اپنے تاثرات نہیں چھپا سکتی تھی سفیر سے البتہ بہارے اور عائشے دونوں بور نہیں ہوتی تھیں۔ وہ اکثر اس کا ذکر اس کا ذکر کرتی تھی اور اب حیا کی سفیر سے سرسری سی ملاقات بھی ہو گئی تھی۔ وہ تئیس، چوبیس برس کا خوش مزاج سا لڑکا تھا جیسا کہ یورپ میں مقیم پاکستانی لڑکے ہوتے ہیں۔
اس کی شادی اس کے والدین پاکستان میں زبردستی کرنا چاہتے تھے اور یہ قصہ بہارے اتنی دفعہ دہرا چکی تھی کہ وہ حیا کے لیے اہمیت کھو چکا تھا۔ وہ دونوں باپ بیٹا ہوٹل گرینڈ میں کام کرتے تھے اور اس دس منٹ کی ملاقات میں بھی چند ایک بار سفیر کے لبوں سے “عبدالرحمن بھائی” ضرور نکلا تھا۔ وہی ستائش، فخر سے نام لینے کا انداز جو ان دونوں بہنوں کا بھی خاصہ تھا۔ پتہ نہیں ان سب کو عبدالرحمن میں کیا نظر آتا تھا ۔
جانے سے پہلے اس نے ایک دفعہ سوچا کہ عثمان شبیر سے پوچھ لے کہ جہاز میں انہوں نے اگلی نشست پہ بیٹھی ترک عورت کو کیا کہا تھا کہ وہ خفگی سے واپس مڑ گئی تھی، مگر پھر اس نے جانے دیا۔ بعض باتیں ادھوری ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔
اور ریا کاری کی ایک پہچان ہوتی ہے حیا! عائشے کہہ رہی تھی۔ بعض دفعہ بندے کو خود بھی علم نہیں ہوتا کہ وہ دکھاوا کر رہا ہے، مگر ایسے کام کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اللہ اس پر کبھی ثابت قدمی عطا نہیں کرتا۔ ساحل کے کنارے پر سیاحوں کا کافی رش تھا۔ بیوک ادا، استنبول والوں کا “مری” تھا۔ موسم گرما شروع ہوتے ہی سیاحوں کا رش لگ جاتا تھا۔
بھورے، سرمئی پروں والے سمندری بگلے بھی ساحل کی پٹی کے ساتھ ساتھ اڑ رہے تھے۔
بہارے کے ہاتھ میں روٹی تھی ار وہ بگلوں کی طرف اچھال رہی تھی۔ ایک ٹکڑا بھی زمین پہ نہ گرتا، بگلے فضا میں ہی اسے چونچ میں دبا لیتے۔
ثابت قدمی واقعی مشکل ہوتی ہے عائشے! میری ساتھی اسٹوڈنٹس مجھ پہ آواز کس کر پوچھتی ہیں کہ میں نے اس بڑے سے اسکارف کے اندر کیا چھپا رکھا ہے؟
تم آگے سے کہا کرو، خودکش بم چھپا رکھا ہے۔ بہارے نے اس کی طرف گردن جھکا کر رازداری سے کہا تھا، مگر اس کی بہن نے سن لیا۔
بری بات، بہارے! عائشے گل نے خفگی سے اسے دیکھا۔ جب اچھی لڑکیاں کوئی فضول بات سنتی ہیں تو اسے باوقار طریقے سے نظرانداز کر دیتی ہیں۔ بہارے نے اتنی ہی خفگی سے سر جھٹکا اور روٹی کے ٹکڑے توڑنے لگی۔
خیر ہے بہارے! بس جولائی میں، میں واپس چلی جاؤں گی اور وہاں نہ ترک حکومت کی سختی ہو گی، نہ اسرائیلی طعنے، میں ادھر پوری آزادی کے ساتھ حجاب لے سکوں گی۔
ضرور، مگر خندق کی جنگ میں ایک بنوقریظہ مل ہی جاتا ہے حیا!
مطلب؟ اس نے نا سمجھی سے ابرو اٹھائی۔ جوابا عائشے اپنے خاص انداز میں مسکرائی، جیسے اس کے پاس دکھانے کے لیے کوئی خاص جواہر ہو۔
تم نے کبھی سوچا ہےحیا کہ آیت حجاب سورۃ احزاب میں ہی کیوں آئی ہے؟ اس نے جواب دینے کے بجائے ایک نیا سولل کیا۔
اس نے ذہن پر زور دیا، پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
شاید اس لیے کہ یہ حکم غزوہ احزاب کے قریب ہی اترا تھا۔
یہ تو سب کو نظر آتا ہے حیا! میں تمہیں وہ سمجھاؤں جو سب کو نظر نہیں آتا، یقین کرو، یہ گتھی تمہارے پزل باکس کی پہیلیوں سے زیادہ دلچسپ ثابت ہو گی۔
حیا لاشعوری طور پر کرسی پر ذرا آگے ہوئی۔ بہارے برے برے منہ بناتی روٹی کے ٹکڑے اچھال رہی تھی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی کہ عائشے سن لیتی اور سب کے سامنے وہ ہمیشہ عائشے کی وفادار رہتی تھی، لیکن اس نے قدیم لوک کہانی میں پڑھا تھا کہ مرمرا کے بگلے ان کہی باتیں بھی سن لیتے ہیں، سو اس نے دل ہی دل میں ان پھڑپھڑاتے بگلوں کو مخاطب کیا تھا۔
(عبدالرحمن ٹھیک کہتا ہے، میری بہن کو لیکچر دینے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ کیا تم نے سنا، میں نے کیا کہا؟)
اللہ چاہتا تو کسی اور سوره میں یہ حکم نازل کر دیتا، یا اس سوره احزاب کا کچھ اور نام رکھ دیتا، مگر یہی نام کیوں؟
ایک چھوٹے سے بگلے نے فضا میں ہی بہارے کا پھینکا ٹکڑ اچکا اور پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ گیا۔ بہارے نے گردن اٹھا کر اسے اوپر اڑتے دیکھا۔ کیا اس نے سنا تھا جو وہ اس سے کہہ رہی تھی؟
تمہیں پتا ہے، احزاب کہتے ہیں گروہوں کو اور ”احزاب“ دراصل غزوہ خندق کا دوسرا نام ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تم یہ سارا واقعہ جانتی ہو کہ کس طرح مسلمانوں نے خندق کھودی، مگر پھر بھی میں تمہیں یہ دوبارہ سنانا چاہتی ہوں۔
(میری بہن حیا کو بور کر رہی ہے، اگر عبدالرحمن ادھر ہوتا تو یہی کہتا، کیا تم نے اب سنا؟) مگر بگلے بس روٹی چونچوں میں دبا کر اڑ جاتے۔
تمہیں پتا ہے مدینہ میں یہود کے ساتھ مومنین کا معاہدہ تھا کہ مدینہ پر حملہ ہوا تو مل کر دفاع کریں گے، مگر یہود تو یہود ہوتے ہیں۔ بنو قریظہ، یہود کے گروہ نے اہل مکہ سمیت کئی گروہوں کو جا جا کر اکسایا کہ مدینہ پر حملہ کر دیں، وہ ان کے ساتھ ہیں۔ یوں جب سارے گروہوں نے لشکر کی صورت مدینہ کے باہر پڑاؤ ڈال دیا تو بنو قریظہ آپ ﷺ کا اعتماد کر ”گروہوں“ کے ساتھ جا ملا۔ عائشے سانس لینے کو رکی۔ بہارے بگلوں کو بھول کر، روٹی توڑنا چھوڑ کر عائشے کو دیکھ رہی تھی۔
تب مسلمانوں نے اپنے دشمن کے گروہوں کےدرمیان ایک بہت لمبی بہت گہری خندق کھودی تھی۔ سردی اور بھوک کی تکلیف واحد تکلیف نہیں تھی۔ اصل اذیت کسی حلیف کے دھوکا دینے کی ہوتی ہے۔ باہر والے تو دشمن ہوتے ہیں، مگر جب کوئی پنا بیچ جنگ میں چھوڑ کر چلا جائے، وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اسی لیے جب یہ ”گروہ“ محاصرے سے تنگ آ کر ایک عرصے بعد واپس چلے گئے اور بنو قریظہ خف کے مارے اپنے قلعوں میں چھپ گئے، تو ان کو سز یہ ملی کہ ان کے ایک ایک مرد کو چن چن کر مارا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ جانتی ہو، میں نے تمہیں اتنی لمبی کہانی کیوں سنائی؟
کیوں؟ حیا کی بجائے، بہارے کے لبوں سے پھسلا۔ وہ اب ساری خفگی بھلائے عائشے کی طرف گھومی بیٹھی تھی۔
کیونکہ حجاب پہننا، جنگ خندق کو دعوت دینا ہے۔ گروہوں کی جنگ میں حجابی لڑکی کو دل پہ پتھر باندھ کر اپنے گرد خندق کھودنی پڑتی ہے، اتنی گہری کہ کوئی پاٹنے کی جرات نہ کر سکے۔ اور پھر اسے اس خندق کے پار مصحور رہنا پڑتا ہے۔ اس جنگ میں اصل دشمن اہل مکہ نہیں ہوتے، بلکہ اصل تکلیف بنو قریظہ سے ملتی ہے۔ یہ جنگ ہوتی ہی بنو قریظہ سے ہے اور خندق کی جنگ کبھی بھی بنو قریظہ کے بغیر وجود میں نہیں آتی۔
عائشے خاموش ہوئی تو کوئی سحر ٹوٹا۔ حیا نے سمجھ کر سر یلایا۔ قرآن کی پہیلی زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں۔
تم صحیح کہہ رہی ہو، مگر شکر ہے میری فیملی حجاب کی بہت بڑی حامی ہے۔ میرا ان سے ساری زندگی نقطہ اختلاف ہی یہ رہا ہے۔
ہو سکتا ہے تمہاری اس جنگ میں کوئی بنو قریظہ نہ ہو۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ عائشے نے مسکرا کر دعا دی تھی۔
مگر عائشے۔۔۔۔۔۔۔۔! بہارے کچھ کہتے کہتے الجھ کر رک گئی، ان دونوںنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ قدرے مبہم سے تاثرات کے ساتھ کچھ سوچ رہی تھی۔
کیا ہوا بہارے؟
کچھ نہیں۔ بہارے سنبھل کر مسکرائی۔ اسے حیا کے سامنے عائے کا ہمیشہ وفادار رہنا تھا، لیکن بعد میں تنہائی میں وہ اسے بتائے گی کہ اس نے پوری پہیلی حل نہیں کی، وہ احزاب کی پزل میں کچھ مس کر گئی تھی۔ وہ اصل نتیجہ نہیں جان سکی تھی اور وہ تو کتنے سمنے کی بات تھی۔ بہارے نے ذرا سا غور کیا تو اس کی سمجھ میں آ گیا۔ اس نے دل ہی دلمیں وہ بات بگلوں سے دہرائی۔
(کیا تم نے اب سنا؟ کیا تم نے سنا؟)
قریب ہی ساحل پہ پھدکتے بگلے نے ریت میں کچھ ڈھونڈنے کے لیے گردن جھکائی تھی۔ کیا یہ اثبات کا اشارہ تھا؟ بہارے گل سمجھ نہ سکی۔
* * * *
امتحانات کا موسم ختم ہوا تو الوداعی دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسٹوڈنٹس نے اب آخری مہینے کی سیاحت کے لیے روانہ ہونا تھا، سو سبانجی میں ایک دفعہ پھر سے وہی ماحول چھا گیا جو سپرنگ بریک سے پہلے چھایا تھا۔ روانگی کی تیاریاں، پیکنگ، آخری شاپنگز، نقشے، گائیڈ بکس، صرف وہی تھی جس نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا تھا۔
اس رات ان کے ڈروم میں پوٹ لک Potluck ڈنر تھا۔ سب ایکسچینج اسٹوڈنٹس اہنے ممالک کی ڈشز تیار کر کے لا رہے تھے۔ دیسی کھانوں میں بریانی کے علاوہ اسے صرف چکن کڑاہی بنانی آتی تھی، سو انجم باجی کے اپارٹمنٹ پہ ان کے ساتھ مل کر اس نے وہی بنائی۔ نمک مرچ البتہ ذرا تیز ہو گیا تھا۔
چلو خیر ہے، کم بنی ہے تو کم ہی کھائیں گے سب۔ انجم باجی نے اسے تسلی دی۔ ابھی وہ دونوں ان کے کمرے میں بڑے آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھیں۔ حیا سیاہ اسکارف ٹھوڑی تلے پن اپ کر رہی تھی، جبکہ انجم باجی آئی شیڈز لگا رہی تھیں۔ انہوں نے سلک کا نارمل سا جوڑا پہن رکھا تھا۔ جوڑا اچھا تھا، مگر قمیض کافی چھوٹی اور شلوار کھلے تھی یا تو انجم باجی ذرا آؤٹ ڈیٹڈ تھیں یا پھر انڈیا میں ابھی تک پٹیالہ شلوار اور چھوٹی قمیص کا فیشن چل رہا تھا (پاکستان سے تو وہ عرصہ ہوا غائب ہو چکا تھا) اس نے سوچا ضرور مگر کہا نہیں۔
تم آج تو نقاب مت کرو، آج تو پارٹی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: