Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 33

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 33

–**–**–

تم آج تو نقاب مت کرو، آج تو پارٹی ہے۔ اسے نقاب اڑستے دیکھ کر انجم باجی ذرا بے چینی سے بولی تھیں۔ وہ ذرا چونکی، پھر دھیرے سے مسکرائی۔
”پارٹی تو ہے انجو باجی! مگر لوگ تو وہی ہیں جن سے سارا دن نقاب کرتی ہوں۔ اب اتارا تو کتنا برا لگے گا۔“
اس نے بے حد رسان سے سمجھایا۔ تو انہوں نے سر ہلا دیا۔
”ہاں، یہ تو ہے۔“
اپنے دیسی لوگ کتنے اچھے ہوتے ہیں نا، حجاب پہ آپ کو اذیت نہیں دیتے جیسے ٹالی جیسے لوگ دیتے ہیں۔
شکر ہے انجم باجی نے دوبارہ اعتراض نہیں کیا۔ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ وہ بھی تو ان کے پرانے فیشن پہ کچھ نہیں بولی تھی۔ اس نے پیشانی سے اسکارف ٹھیک کرتے ہوۓ سوچا تھا۔
آج اس نے سیاہ سلک بلاٶز اور اسکرٹ کے ساتھ سیاہ اسکارف لیا تھا۔ پورا لباس سیاہ تھا، بس آستین پہ کلائیوں کے گرد سفید موتیوں کی دہری لڑی لگی تھی۔جو مدھم سی چمکتی تھی۔
ڈورم بلاک کے کامن روم میں روشنیوں کا سا سماں تھا۔ کرسیوں کے پھول ویسے ہی بنے تھے جیسے حسین کی سالگرہ کے دن بناۓ گئے تھے۔ (آہ، اس کا جنجر بریڈ ہاٶس اور ڈی جے!) یورپین لڑکیاں بہت دل سے تیار ہوئی تھیں۔ شولڈر لیس ملبوسات جو گھٹنوں پر سے اوپر آتے تھے۔ جیسے وہ کوئی ہروم نائٹ ہو۔ ایسے میں وہ سب سے الگ تھلگ ایک کونے میں خاموش سی بیٹھی تھی۔ فلسطینی لڑکے اور ہالےاپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے سو نہیں آ سکے تھے۔ وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔ دل میں عجیب سی ویرانی چھائی تھی، جیسے وہ کسی غلط جگہ پہ آ گئی ہو۔
اگر وہ پہلے والی حیا ہوتی تو ایسے تیار ہوتی کہ کوئی اسے نظر انداز نہ کر پاتا۔ وہ موقع کی مناسبت سے ساڑھی، اونچا جوڑا اور ہائی ہیلز پہنتی اور۔ اس نے سر جھٹکا زمانہ جاہلیت کی کشش ثقل آخر مرتی کیوں نہیں ہے؟ وہ کیوں بار بار کھینچتی رہتی ہے؟حالانکہ وہ قطعاً واپس اس دور میں نہیں لوٹنا چاہتی تھی، وہ تو اس پہاڑی پہ قدم بہ قدم اوپر چڑھنا چاہتی تھی، پھر اب نیچے کیوں دیکھ رہی تھی؟ نیچے تو کھائی تھی۔
کھانا شروع ہو چکا تھا۔ اسٹوڈنٹس ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے پلیٹیں لیے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ٹالی اپنی ڈش اٹھاۓ آئی تھی۔ پتا نہیں گوشت اور گاجر کا کیا ملغوبہ تھا جس کا وہ ایک بہت مشکل سا عبرانی نام لے رہی تھی۔ اس نے بہت خوش دلی سے حیا کے آگے ڈش کی تو حیا نے شکریہ کہتے ہوۓ ذرا سا پلیٹ میں ڈالا۔ ٹالی مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔ حیا نے تمام سوچوں کو ذہن سے جھٹکتے کانٹے میں گوشت کا ٹکڑا پھنسایا، پھر ایک دم ٹھہر گئی۔
وہ نقاب میں بیٹھی تھی۔ نقاب کے ساتھ وہ کیسے کھا سکتی تھی، اسے کیوں بھول گیا کہ وہ نقاب کے ساتھ نہیں کھا سکتی؟
اس نے بے بسی سے ارد گرد دیکھا۔ کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا مگر وہاں بہت سے لڑکے تھے۔ وہ نقاب نہیں اتار سکتی تھی، کم از کم ٹالی کے اس ملغوبے کے لیے تو نہیں۔
اس نے بے دلی سے کانٹا پلیٹ میں گرا دیا۔ دل کی ویرانی بڑھ گئی تھی۔ اتنے سارے ایک جیسے لوگوں میں ایک ہی مختلف سی لڑکی پتا نہیں کہاں سے آ گئی تھی۔ وہ ان سب میں بالکل مس فٹ تھی۔ اجنبی، ایلین کسی اور دنیا سے تعلق رکھنے والی۔ یہ اس کی دنیا نہیں تھی۔ آگے پاکستان میں بھی تو دعوتیں اور تقریبات ہوں گی۔ وہ تو ادھر بھی مس فٹ لگے گی۔ یوں اس لبادے میں خود کو لپیٹے، الگ تھلگ، خاموش سی، لوگ تو اسے پاگل کہیں گے۔ اسے اجنبی کہیں گے۔ اسے لوگوں کی باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا، مگر خود اس کو سارا منظر بہت اجنبی اجنبی سا لگ رہا تھا۔ وہ جیسے انگریزی میں کہتے ہیں ”اوڈ ون آؤٹ“ وہ وہی بن چکی تھی۔
گھٹن بڑھ گئی تھی۔ اسے لگا اگر وہ کچھ دیر مزید بیٹھی تو رو دے گی۔ اسے یہاں سے کہیں بہت دور چلے جانا چاہئیے، کسی جنگل میں، جہاں وہ اجنبی نہ ہو۔ وہ تیزی سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی۔راستے میں ٹالی، دو لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، اسے آتے دیکھ کر وہ شرارت سے مسکرائی۔
حیا! تم نے اپنے اسکارف میں کیا چھپا رکھا ہے؟
ڈور ناب گھماتے ہوۓ حیا نے پلٹ کر دیکھا اور سنجیدگی سے بولی۔
خود کش بم! کیا دکھاٶں! اس نے سوالیہ ابرو اٹھائی۔
ٹالی کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ اس کے سنبھلنے کا انتظار کیے بغیر باہر نکل آئی۔
اپنے ڈروم میں آ کر اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور پھر دروازے سے کمر ٹکاۓ آنکھیں بند کیے، تیز تیز سانس لینے لگی۔ چند ثانیے بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔ کمرہ خالی تھا۔ چاروں ڈبل اسٹوری بینکس نفاست سے بنے پڑے تھے۔
وہ اسی طرح دروازے سے لگی زمین پہ بیٹھتی گئی۔ اسکارف کی پن نوچ کر اتاری اور اسے اپنی میز کی طرف اچھالا۔ وہ کرسی پہ جا گرا، ایک پلو لٹکتا ہوا زمین کو چھونے لگا۔ وہ اسے اٹھانے کے لئے نہیں اٹھی۔ بس نم آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔
وہ تو کبھی محفلوں کی جان ہوتی تھی۔ اتنی سحر انگیز کہ اسے کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ پھر اب؟ اب وہ کیسے ایک دم سے اجنبی بن گئی تھی؟
بپ کی آواز کے ساتھ پاکٹ میں رکھا موبائل بجا۔ اس نے فون نکال کر ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھا۔ میجر احمد کا میسج آیا تھا۔
کیسی ہیں آپ؟ بس تین الفاظ۔ شاید اس کے دل نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ بہت ٹوٹی ہوئی، بکھری ہوئی سی ہے اس وقت یہ کوئی جی پی ایس ٹریکنگ نہیں تھی، وہ وجدان کا تعلق تھا۔ خیال کا رشتہ۔
وہ جواباً ٹائپ کرنے لگی۔
مجھے جنت کے ان پتوں نے دنیا والوں کے لیے اجنبی بنا دیا ہے۔ میجر احمد!
پیغام چلا گیا۔ آنسو اسی طرح اس کے چہرے پہ لڑھکتے رہے۔ اسے پرانی زندگی یاد نہیں آ رہی تھی۔اسے نئی زندگی مشکل لگ رہی تھی۔ احزاب کی جنگ کی یہ خندق تو بہت گہری، بہت تاریک تھی۔ اس میں تو دم گھٹتا تھا۔ وہ کیسے اس پہ قائم رہ پاۓ گی؟
احمد کا جواب آیا تو اسکرین جگمگا اٹھی۔ اس نے پیغام کھولا۔
اللہکے رسول ﷺ ؐ نے فرمایا تھا۔
اسلام شروع میں اجنبی تھا۔
عنقریب یہ پھر اجنبی ہو جاۓ گا۔
اور
سلام ہو ان اجنبیوں پہ!“
اسکرین پہ ٹپ ٹپ اس کے آنسو گرنے لگے۔ اوہ اللٰہ!اس نے بے اختیار دونوں ہاتھوں میں سر گرا لیا۔
وہ کیوں نہیں سمجھ سکی کہ یہی اجنبی پن تو اسلام تھا۔
ایسی ہی تو ہوتی ہیں اچھی لڑکیاں۔ عام لڑکیوں سے الگ، منفرد، مختلف۔ وہ دنیا میں گم، بے فکری سے قہقہے لگاتی، کپڑوں، جوتوں اور ڈراموں میں مگن لڑکیوں جیسی تو نہیں ہوتیں۔ اجنبیت ہی ان کی شناخت ہوتی ہے۔ وہ ساحل کے کیچڑ پہ چمکنے والا الگ سا موتی ہوتی ہیں۔ اجنبی موتی۔
وہ دھیرے سے مسکرائی اور ہتھیلی کی پشت سے آنسو رگڑے۔ وہ ایک مضبوط لڑکی ہے، اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننی۔ وہ اس اجنبی طریقے سے اس دنیا
میں سر اٹھا کر سب کے درمیان جیے گی اور وہ دنیا والوں کو یہ کر کے دکھاۓ گی۔ آئندہ۔۔۔۔۔۔ وہ کوئی پارٹی چھوڑ کر نہیں آۓ گی، وہ پورے اعتماد سے ان میں بیٹھے گی۔
وہ اٹھی اور اپنا اسکارف اٹھایا۔ پھر فون پہ عائشے کا نمبر ملانے لگی۔ اجنبی لڑکیوں کو اپنے جیسی ایلینز سے زیادہ سے زیادہ ان ٹچ رہنا چاہئیے تا کہ جب خندق کھودتے کوئی اپنے دل پہ رکھا ایک پتھر دکھاۓ تو آپ اسے اپنے دو پتھر دکھا سکیں۔
اسلام علیکم حیا! دوسری جانب بہارے چہکی تھی۔ میں ابھی تمہارے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔
اچھا تم کیا سوچ رہی تھیں؟ وہ آئینے کے سامنے کھڑی بالوں کا جوڑا کھولنے لگی۔ نرم، ریشمی بال کھل کر کمر پہ گرتے چلے گئے۔ وہ اب بھی اتنی ہی خوبصورت تھی جتنی پہلے تھی۔
میں سوچ رہی تھی کہ میں نے تم سے پوچھا ہی نہیں کہ تمہارا باکس کھلا یا نہیں؟
ارے ہاں، وہ کھل گیا۔ مگر اس میں صرف ایک چابی تھی۔
کھل گیا؟ تم نے پہیلی بوجھ لی؟ بہارے ایک دم سے بہت پرجوش ہو گئی۔
ہاں میں نے بوجھ لی۔
تو اس باکس کی”کی“ کیا تھی؟ کون سا لفظ تھا؟“ بہارے کو بہت بے چینی تھی۔ اس نے بھی حیا کے باکس پہ زور آزمائی کی تھی مگر سب اس کے اوپر سے گزر گیا تھا۔
اس کی key ٹاقسم ہے۔ اس نے مسکراتے ہوۓ بتایا۔ عائشے اور بہارے باکس کے کوڈ کو عموماً ”کی“ کہا کرتی تھیں۔ مقفل باکس کی چابی۔
بالوں میں برش چلاتی، وہ ایک دم بالکل ٹھہر گئی۔ اس کے ذہن میں روشنی کا کوندا سا لپکا تھا۔
”کی؟“ اس نے بے یقینی سے دہرایا۔ بہارے! میں تمہیں بعد میں کال کرتی ہوں۔ ابھی کچھ کام آن پڑا ہے۔ اس نے جلدی سے فون بند کیا، اور اپنے دراز سے پزل باکس نکالا۔ بہت تیزی سے اس نے سلائیڈز اوپر نیچے کیں ٹاقسم کا لفظ سامنے آیا تو مقفل باکس کھل پڑا۔ مقفل باکس کی کنجی ٹاقسم تھی۔
اندر رکھے کاغذ پہ لکھی تحریر واضح تھی۔
چابی کے نیچے دو فل سٹاپس۔
چابی! اوہ خدایا۔ اسے پہلے کیوں سمجھ میں نہیں آیا۔ پنکی نے کہا تھا، توڑ کر کھولنے پہ یہ کسی کام کا نہیں رہے گا۔ اس نے وہ تحریر توڑ کر کھولنے والے کے لیے لکھی تھی تاکہ وہ سمجھے کہ ”چابی“ سے مراد وہ لوہے کی چابی ہے جبکہ پہیلی بوجھ کر کھولنے والے کو علم ہو گا کہ چابی سے مراد ”ٹاقسم“ ہے۔
ٹاقسم کے نیچے دو فل اسٹاپس لگانے سے کیا بنتا تھا؟ وہ سوچنا چاہتی تھی، مگر لڑکیاں واپس آ گئیں تو اس کی یکسوئی متاثر ہونے لگی۔ اس نے باکس لیا، اسکارف لپیٹا اور اسٹڈی روم میں آ گئی۔ وہاں ان کے ڈورم بلاک کی دو ترک اسٹوڈنٹس بیٹھی پڑھ رہی تھیں۔ وہ بھی ایک کرسی پہ آ بیٹھی اور ایک کاغذ پہ لکھا ”ٹاقسم“ پھر اس کے نیچے کئی جگہوں پہ نقطے لگا کر دیکھے، مگر کچھ نہیں بن رہا تھا۔ انگریزی حروف میں لکھا تب بھی کچھ نہیں بنا۔
سنو۔ اس نے ان دونوں لڑکیوں کو مخاطب کیا۔ دونوں سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگیں۔
ٹاقسم کے نیچے آئی مین، ٹاقسم اسکوائر کے نیچے اگر ہم دو فل اسٹاپس لگائیں تو ہمیں کیا ملے گا؟“
ایک لڑکی الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔ جبکہ دوسری نے بہت بے نیازی سے شانے اچکاۓ۔ لگانے سے اگر تمہارا مطلب ٹریول کرنا ہے تو پھر سسلی!
کیا؟ حیا کو سمجھ نہیں آیا۔
ٹاقسم کے نیچے اگر تم میٹرو لائن پہ دو پورے اسٹاپ ٹریول کرو تو سسلی کا اسٹاپ آۓ گا نا۔۔۔۔۔!
وہ بالکل سناٹے میں رہ گئی۔
اوہو، وہ ٹاقسم لفظ کی بات کر رہی ہے، اصلی والے اسکوائر کی نہیں۔ دوسری لڑکی نے اپنی ساتھی کو ٹوکا تھا۔ جواباً اس لڑکی نے سوالیہ نگاہوں سے حیا کو دیکھا۔ وہ بدقت مسکرائی۔
نہیں میں اصلی والے ٹاقسم اسکوائر کی ہی بات کر رہی تھی۔ وہ کرسی پر واپس گھوم گئی اور وہ تحریر پڑھی۔
چابی تلے دو فل اسٹاپس۔ یعنی ٹاقسم کے نیچے دو (پورے اسٹاپس) فل اسٹاپس سے مراد نقطے نہیں، بلکہ میٹرو کے اسٹاپ تھے اور لوہے کی چابی تلے وہ نقطے اس نے توڑ کر کھولنے والے کے لیے بطور دھوکے لگائے تھے۔
سسلی! اس نے زیر لب دہرایا۔ سسلی میں اس کی امانت تھی۔ ڈولی کی امانت، جسے میجر احمد نے چھپایا تھا۔ اسے اب کل صبح ٹاقسم کے نیچے پورے دو اسٹاپس تک سفر کرنا تھا۔
میجر احمد کا پزل آہستہ آہستہ کھلتا جا رہا تھا۔
* * * *
وہ صبح بہت سنہری، نرم گرم سی طلوع ہوئی تھی۔ وہ ٹاقسم جانے کے لیے آئینے کے سامنے کھڑی گیلے بال ڈرائر سے سکھا رہی تھی۔ وہ کبھی بھی نم بالوں کو اسکارف میں نہیں باندھتی تھی۔ اسکارف پہننے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گندہ، میلا رہا جائے۔ وہ اب بھی اپنے بالوں کی خوبصورتی کا اتنا ہی خیال رکھتی تھی جتنا کہ پہلے۔ جب تک بال خشک ہوئے، ہالے ایک پیکٹ اٹھائے اندر چلی آئی۔
فلسطینی اسٹوڈنٹس صبح سویرے قطر جانے کے لیے نکل گئے تھے۔ وہ مجھے تمہارا یہ گفٹ دے گئے تھے۔ تب تم سو رہی تھیں۔ انہوں نے سب کو گفٹس دیے ہیں۔
اچھا، دکھاؤ۔ وہ برش رکھ کر بہت اشتیاق سے پیکٹ کھولنے لگی۔ اندر اس کے تحفے پر ایک سادہ موٹے کارڈ پہ لکھا تھا۔
لطیف نے بتایا تھا کہ کل ہماری پاکستانی ایکسچینج اسٹوڈنٹ اپنے نقاب کی وجہ سے کھانا نہیں کھا سکی تھیں۔ اس لیے ہم یہ لے آئے۔ اس میں آپ کو کبھی بھوکا نہیں رہنا پڑے گا۔ منجانب فلسطینی ایکسچینج اسٹوڈنٹس!
اس کے نیچے ایک سیاہ سلک کا لبادہ رکھا تھا۔
اس نے وہ اٹھایا تو وہ نرم ریشمی سا کپڑا انگلیوں سے پھسلنے لگا۔ سیاہ، لمبا عبایا جو ”حریر“ کا بنا تھا۔ وہ عام ریشم نہیں تھا بلکہ ذرا مختلف تھا۔ اس میں بہت ہلکی سی چمک تھی جتنی چائنا سلک کے دوپٹے میں ہوتی ہے۔ آستین پہ کلائیوں کے گرد موٹے موٹے سبز پتھر لگے تھے کسی لیس کی طرح وہ بادام کے سائز کے تھے اور بالکل زمرد کی طرح لگے تھے۔ سوائے سبز اسٹونز کی لیس کے سارا عبایا سادہ تھا۔ اس کی اسٹول البتہ ریشم کے بجائے کسی نرم کپڑے کی تھی اور ساتھ میں ایک علیحدہ نقاب بھی تھا۔ اسے کارڈ پر لکھی تحریر کا مطلب سمجھ آ گیا اس علیحدہ نقاب کو (جس میں آنکھوں کا خلا بنا تھا) پیشانی پہ رکھ کر سر کے پیچھے پن اپ کرنا تھا۔ یوں نقاب کی سائیڈ کھلی ہوتیں اور وہ اس سے کھا سکتی۔
یہ تو بہت مہنگا لگ رہا ہے، تمہیں پتا ہے یہ انہوں نے ضرور جواہر سے لیا ہو گا۔ وہاں ایک شاپ سے سعودیہ کے امپورٹڈ عبایا ملتے ہیں، یہ وہی ہے اور تمہارے پاکستانی روپوں میں دس، پندرہ ہزار سے کم کا نہیں ہو گا۔ ہالے ستائش سے اس خوبصورت عبایا کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اور ان کی خاص بات یہ کہ ان میں گرمی نہیں لگتی۔ پتا نہیں کیا میکانزم ہے، مگر اس کو تم گرم سے گرم ماحول میں بھی پہنو تو تمہیں گھٹن یا گرمی نہیں لگے گی۔
واقعی؟ وہ بہت متاثر سی عبایا کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ وہ اتنا خوبصورت اور باوقار تھا کہ نگاہ نہیں ٹکتی تھی۔ اس نے اپنے لباس پہ ہی اس کو پہنا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بٹن بند کرنے لگی۔ عبایا اس کے قدموں تک گرتا تھا۔ جیسے کسی رائل پرنس کا ریشمی لبادہ ہو۔ ایک بہت شاہانہ جھلک تھی اس میں۔
بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ کہیں جا رہی ہو تم؟ ہالے کو کچھ یاد آیا۔ اگر مارکیٹ جا رہی ہو تو مجھے کچھ منگوانا تھا۔ وہ جلدی سے ایک کاغذ پر کچھ چیزیں لکھنے لگی۔
ہاں، ٹھیک ہے لے آؤں گی۔ اس نے عبایا کی اسٹول چہرے کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔ بس مجھے سسلی سے ایک امانت اٹھانی ہے۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
ہالے نے جو میز پر کاغذ رکھے کچھ لکھ رہی تھی ناسمجھی سے سر اٹھایا۔
امانت؟ کیا کسی نے تمہارے لیے رکھوائی ہے؟
یہی سمجھ لو۔ اس نے ذرا سے شانے اچکائے۔
چابی ہے تمہارے پاس؟ ہالے نے عادتاً پوچھا وہ ہمیشہ باہر جانے سے پہلے پوچھ لیا کرتی تھی کہ کون سی شے رکھی اور کون سی نہیں، مگر وہ ٹھٹک کر رک گئی۔
کس چیز کی چابی؟
امانت کی چابی۔ اس کے بغیر تو نہیں کھلے گی نا۔
ہالے! اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ تم۔۔۔۔۔۔۔ تم امانت کسے کہتی ہو؟
امانت لاکرز کو۔ تم ان ہی کی بات کر رہی ہو نا؟ ہم لیفٹ لگیج eLeft Luggag لاکرز کو لگیج امانت بولتے ہیں نا۔
اوہ۔۔۔۔۔۔۔ لیفٹ لگیج لاکرز! اس نے بے اختیار ماتھے کو چھوا۔ وہ لاکرز جہاں لوگ سامان محفوظ کر کے چلے جاتے ہیں کہ بعد میں اٹھا لیں گے؟ اسے یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ یہ چابی کسی لیفٹ لگیج لاکر کی بھی ہو سکتی ہے۔
ہالے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہالے۔۔۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے اس کے قریب آئی۔ تمہیں پتا ہے سسلی میں امانت لاکرز کہاں ہوں گے؟ اس کی بات پہ ہالے متذبذب سی سوچنے لگی۔
سچ کہوں تو میں نے کبھی استنبول میں کوئی پبلک لاکر ٹرائی نہیں کیا، مگر عموماً ریلوے اسٹیشنز پر لاکرز ہوتے ہیں۔ تم سسلی کہ اسٹاپ پر دیکھنا، شاید وہاں کوئی مل جائے۔
ٹاقسم کے نیچے دو پورے میٹرو اسٹاپس۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں کوئی امانت لاکر تھا۔ اس نے ذہن میں اس پہیلی کو ڈی کوڈ کیا۔
* * *
سسلی کے میٹرو اسٹاپ پر معمول کی گہما گہمی تھی۔ وہ پرس کندھے پہ لٹکائے بہت پر اعتماد طریقے سے چلتی ٹکٹ کاؤنٹر تک آئی۔
السلام علیکم۔ مجھے کچھ سامان ڈمپ کرنا ہے لگیج امانت کس طرف ہے؟ اس نے سرسری سے انداز میں لاکرز کا پوچھا۔ اس لیے کہ وہ مشتبہ نہ لگے، اس نے یہ نہ بتانا ہی بہتر سمجھا کہ کسی نے اس کے لیے امانت رکھوائی ہے۔
میڈم! یہاں اس اسٹاپ میں تو کوئی لاکر نہیں ہے۔
کیا مطلب؟ یہاں کوئی لاکر نہیں ہے؟ اس نے اچنبھے سے ارد گرد نگاہ دوڑائی۔
جب سے میں یہاں کام کر رہا ہوں، تب سے تو اس اسٹاپ پہ کوئی لاکر نہیں ہے۔ شاید پہلے ہوتے ہوں۔ آپ کو پتا ہے نائن الیون کے بعد یورپ کہ بہت سے ریلوے اسٹیشن سے لاکرز ختم کر دیے گئے تھے۔ معمر ترک کلرک نے تفصیلاً بتایا۔
اچھا! اس کا دل مایوسی میں ڈوب گیا۔ ٹاقسم سے میٹرو میں سوار ہونے کے بعد وہ پہلے اسٹیشن پہ نہیں اتری پھر دوسرے، یعنی سسلی پہ اتر گئی۔ ٹاقسم سے میٹرو لائن کا آغاز ہوتا تھا۔ میٹرو ایک ہی سمت میں جاتی تھی سو دو پورے اسٹاپس کا اختتام سسلی پہ ہی ہوتا تھا۔
آپ کو سامان رکھوانا ہے تو میرے پاس رکھوا دیں پھر بعد میں لے لیجیے گا۔ وہ جانے لگی تو کلرک نے بہت خلوص سے پیش کش کی۔
نہیں خیر ہے۔ میں اٹھا لوں گی۔ اس نے شعوری طور پر پرس کو ذرا مضبوط پکڑ لیا۔ بس مجھے جواہر سے ذرا سی شاپنگ کرنی ہے، ہمیں مینج کر لوں گی۔ اس کی آواز میں واضح مایوسی تھی۔
اچھا آپ جواہر جا رہی ہیں؟ تو پھر آپ سامان وہیں رکھوا دیجیے گا۔ بلکہ۔۔۔۔۔ وہ ذرا سا رکا۔ جواہر میں امانت لاکرز ہوتے ہیں۔ وہ انٹرنس کے قریب ہی بنے ہیں۔
واقعی؟ وہ جھٹکے سے واپس پلٹی تھی۔ ”امانت لاکرز؟ جو چابی سے کھلتے ہیں ؟“
ارے میم! وہ زمانے گئے، جب لاکرز چابی سے کھلا کرتے تھے۔ سلطنت ترکیہ اب ترقی کر چکا ہے۔ ترک بوڑھے نے بہت فخر سے گردن اٹھا کر کہا۔ ہمارے امانت لاکرز بار کوڈ سے کھلتے ہیں۔
آف کورس! حیا نے گہری سانس لی اور مسکرائی۔ اللہ ترقی یافتہ سلطنت ترکیہ کو سلامت رکھے! بار کوڈ! اس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
بالآخر اسے سارے بریڈ کرمبز ملتے جا رہے تھے۔
سسلی کے اسٹاپ سے ایک ڈائریکٹ ایگزٹ تھی جو جواہر مال میں کھلتی تھی۔ وہ مال میں آئی اور تیزی سے ان لاکرز کی طرف لپکی جو داخلی حصے کے قریب ہی بنے تھے۔ ایک دیوار پہ پھیلے نارنجی لاکرز، جیسے کچن کیبنٹس ہوں۔ سب پہ ایک ایک نمبر لکھا تھا۔ اس نے پرس سے چابی اور بارکوڈ سلپ نکالی، اور پورے اعتماد سے چلتی لاکرز کے قریب آئی۔
وہاں کھڑا گارڈ بے اختیار اسے دیکھنے لگا۔
حیا نے وہاں لاکرز کی مشین کا طریقہ دیکھا۔ اسے پہلے لاکر نمبر ٹائپ کرنا تھا۔ وہاں بنے کی پیڈ پہ اس نے 6 کا ہندسہ دبایا۔ یہی ہندسہ اس کی بار کوڈ کی رسید کے چار کونوں میں لکھا تھا۔ یہی لاکر نمبر ہو سکتا تھا۔
مشین کی سیاہ اسکرین پہ چھ لکھا آیا، پھر اس نے بار کوڈ مانگا۔ حیا نے بار کوڈ والی طرف سے کاغذ شناخت کے لیے مشین کے سامنے کیا۔ ٹوں ٹوں کی آواز آئی اور اسکرین پر سرخ عبارت ابھری۔ بار کوڈ غلط تھا۔
اس نے بے یقینی سے رسید کو دیکھا اور پھر مشین کو، شاید کوئی غلطی ہو گئی ہو۔ گارڈ اب پوری گردن موڑ کر مشکوک نگاھہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
حیا نے جلدی سے مشین ری سیٹ کی اور 6 پہ انگلی رکھی، پھر بارکوڈ سامنے کیا پھر سرخ عبارت ابھری۔ کچھ غلط تھا۔
گارڈ کی نظریں اور بے بسی بھری پریشانی۔ وہ کپکپاتی انگلیوں سے تیسری دفعہ مشین ری سیٹ کرنے لگی تو رسید ہاتھ سے پھسل کر فرش پر جا گری۔ وہ تیزی سے اسے اٹھانے کے لیے جھکی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: