Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 34

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 34

–**–**–

رسید کا کاغذ الٹا گرا تھا۔ یوں کہ الفاظ سر کے بل الٹے نظر آ رہے تھے۔ چاروں کونوں میں لکھا ہوا چھ اب الٹا ہو کر 9 لگ رہا تھا۔ کاغذ اٹھا کر اس نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ 9 نمبر لاکر اوپر والی قطار میں سب سے آخر پہ تھا۔ کچھ سوچ کر اس نے مشین کے کی پیڈ پہ 9 پہ انگلی رکھی، پھر بار کوڈ سامنے کیا۔ بپ کی آواز آئی اور سبز رنگ کی عبارت ابھری۔ نو نمبر لاکر کھل گیا تھا۔
وہ جلدی سے آگے بڑھی اور 9 نمبر لاکر کا دروازہ کھولا (جیسے کچن کیبنٹ کو کھولتے ہیں) اندر ایک چوکور سی تجوری رکھی تھی جو پیچھے کہیں سے چپکی تھی۔ (یہ وہ تجوری تھی جس کی دھات کی تہوں میں شیشے کی تہہ ہوتی ہے، اور اگر اسے غلط طریقے سے کھولنے کی کوشش کی جائے تو اندرونی شیشہ ٹوٹ کر تجوری کو جام کر دیتا ہے۔) اس نے تجوری کے کی ہول میں وہ چابی ڈال کر گھمائی۔ تجوری کھل گئی۔ حیا نے جلدی سے اسے کھولا۔ اندر ایک چھوٹی سی سیاہ مخملیں ڈبی رکھی تھی جیسے انگوٹھی کی ڈبی ہوتی ہے۔ اس نے وہ ڈبی مٹھی میں دبائی اور احتیاط سے اپنے کھلے بیگ کے اندر گرا دیا کہ پیچھے کھڑا گارڈ نہ دیکھ سکے۔
دو منٹ کے بعد وہ مال کے باہر کھڑی تھی۔ اس نے بیگ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ ترکی اور ترکی کے ایڈونچرز۔ وہ کبھی ان پر ایک کتاب ضرور لکھے گی، اس نے مسکراتے ہوئے سوچا تھا۔ فی الحال اسے ایک ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں بیٹھ کر وہ آرام سے وہ ڈبی کھول سکے۔
دفعتاً اس کا موبائل بجا۔
آپ کا سرپرائز برگر کنگ کی پینٹری میں آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ اے آر پی۔ دو سطور کا وہ مختصر سا پیغام اس کو سُن کر گیا۔ کہیں عبدالرحمان، جہان کے پاس تو نہیں چلا گیا؟ اس کی آنکھوں کے سامنے جہان کا ٹوٹا پھوٹا ریسٹورنٹ گھوما تھا۔ اوہ نہیں۔
وہ واپس زیر زمین میٹرو کی طرف بھاگی تھی۔
برگر کنگ میں معمول کا شور اور رش تھا۔ وہ قریباً دوڑتی ہوئی کچن میں آئی تھی۔
جہان کہاں ہے؟ اس کے حواس باختہ انداز پہ وہاں شیف لڑکے نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔ پینٹری میں ہے، مگر ٹھہریں، آپ ادھر نہ جائیں۔ وہ پینٹری کی طرف بڑھی تو وہ لڑکا اس کے سامنے آ گیا۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم پلیز، اس کا کوئی مہمان آیا ہے، وہ اندر ہے، اس نے کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو اندر نہ آنے دوں، ورنہ میری نوکری چلی جائے گی۔
کچھ نہیں ہو گا، مجھے دیکھنے دو۔
پلیز مجھے سمسٹر کی فیس دینی ہے، آپ ادھر مت جائیں، وہ مجھے واقعی جان سے مار دے گا۔ اگر۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو اندر جانا ہی ہے تو آپ پچھلی گلی سے چلی جائیں پچھلے دروازے کی گھنٹی بجا دیجیے گا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات مکمل ھہونے سے قبل ہی وہ باہر نکل چکی تھی۔
دس منٹ بھی نہیں لگے تھے اسے پچھلی گلی سے پینٹری کے دروازے تک پہنچتے ۔ اگر عبدالرحمان ادھر آیا تو وہ اسے جان سے مار دے گی، اس نے سوچ لیا تھا۔
پینٹری کا روشن دان کھلا تھا۔ وہ حیا کے چہرے برابر آتا تھا۔ اس سے اندر کا منظر اور آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ وہ جو گھنٹی بجانے لگی تھی، بے اختیار رک گئی۔
جہان، جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے حیا کی طرف پشت کیے کھڑا کہہ رہا تھا۔
آواز نیچی رکھو، یہ تمہارا ادالار نہیں ہے جہاں میں تمہاری ساری بکواس چپ کر کے سنتا رہوں گا۔ یہ میری جگہ ہے!
اس کے مخاطب نے استہزائیہ انداز میں سر جھٹکا۔
سرمئی برساتی، آنکھوں پہ عینک اور وہ ناقابل فراموش چہرہ جس پہ چند روز قبل اس نے کافی الٹی تھی۔ وہ پاشا کا چہرہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔
ہا! تمہاری جگہ! مت بھولو کہ یہ جگہ بھی میں نے تمہیں دی تھی جب تمہیں بیوک ادا سے فرار ہو کر چھپنے کے لیے جگہ چاہیے تھی، مگر تم دنیا کے سب سے بڑے احسان فراموش ہو جہان!
وہ دیوار سے لگی، پتھر کا مجسمہ بنی رہ گئی۔ استقلال اسٹریٹ کا شور غائب ہو گیا۔
میرا بھی اپنے بارے میں یہی خیال ہے۔ وہ جواباً کمال بے نیازی سے شانے اچکا کر بولا تھا۔
اور میرے کام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اڑتالیس گھنٹوں میں ہو جائے گا؟
نہیں۔ جہان اسی رکھائی سے بولا تھا۔ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تمہارے باپ کا ملازم نہیں ہوں اور دوسری یہ کہ تم اپنے لالچ کے ہاتھوں بےصبرے ہونے کی بجائے تھوڑا انتظار کرو تو بہتر ہو گا۔
لالچ؟ پاشا نے بےیقینی سے دہرایا۔ میرا سب کچھ داؤ پہ لگا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں لالچی ہوں۔
جہان نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔
تمہارے اپنے جرائم کی سزا ہے، میرا کیا قصور ہے؟
اور تمہیں تمہارے جرائم کی سزا کب ملے گی جہان سکندر؟ وہ لب بھینچے اتنی سختی سے بول رہا تھا کہ جبڑے کی رگیں تن گئی تھیں۔ یاد رکھنا، جس دن میں نے زبان کھولی، اس دن تم سیدھا پھانسی چڑھو گے۔
جہان بے اختیار ہنس پڑا۔
اور تمہیں لگتا ہے کہ میں پھانسی چڑھ کر تمہیں ادالار میں عیش کرنے کے لیے چھوڑ جاؤں گا؟ ایسی فیری ٹیل تم ہی گھڑ سکتے ہو، پاشا بے!
بے ترک میں صاحب یا مسٹر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
پاشا بہت تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تم ایک دفعہ پہلے بھی مجھے دھوکہ دے چکے ہو، میں اس دفعہ تمہارا اعتبار نہیں کروں گا۔
تو نہ کرو! اس نے بے نیازی سے کندھوں کو جنبش دی۔ جہنم میں جاؤ میری طرف سے۔
پاشا چند لمحے بہت ضبط کیے اسے دیکھتا رہا، پھر کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ نگاہ روشن دان سے جھانکتے چہرے پہ پڑی۔ سیاہ لبادے میں سے صرف اس کی بڑی بڑی آنکھیں نظر آ رہی تھیں، جن میں سارے زمانے کی بے یقینی تھی۔ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
تمہاری بیوی باہر کھڑی ہے جہان! اسے اندر نہیں بلاؤ گے؟
وہ جو چہرے پہ ڈھیروں بے زاری لیے کھڑا تھا، کرنٹ کھا کر پلٹا۔ حیا اسی طرح ساکت سی روشن دان کے باہر کھڑی تھی۔
کیا؟ جہان نے بے یقینی سے دہرایا، اسے شاید لگ رہا تھا کہ اس نے غلط سنا ہے۔ پاشا زیر لب مسکرایا۔
تمہاری بیوی، سبانجی یونیورسٹی کی ایکسچینج سٹوڈنٹ، ڈورم نمبر بھی بتاؤں؟ حیران مت ہو جہان! تم نے پاشا بے کو انڈر اسٹیمیٹ کیا ہے۔ میں تمہاری بیوی کو اچھی طرح جانتا ہوں بلکہ کچھ دن پہلے ہی ہماری ملاقات ہوئی ہے۔ کیوں مادام؟ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟
اس نے آگے بڑھ کر پینٹری کا دروازہ کھولا اور اسے جیسے اندر آنے کا راستہ دیا۔
ملاقات؟ جہان کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا ۔ اس نے ششدر نگاہوں سے حیا کو دیکھا۔ وہ اتنی ہی بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ بے یقینی، بے اعتبار، فریب، جھوٹ۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ۔ تم اس کو جانتی ہو؟ وہ متحیر سا تھا، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو وہ اس سب سے بے خبر تھا۔ یہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سچ کہہ رہا ہے؟
اس نے بمشکل اثبات میں گردن ہلائی، وہ ان ہی بے اعتبار نگاہوں سے پلک جھپکے بنا جہان کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کون تھا، وہ نہیں جانتی تھی۔
اب بتاؤ، جہان! میرا کام اڑتالیس گھنٹوں میں ہو جائے گا یا نہیں؟ وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔ جہان نے اسے دیکھا، پھر اس کی پیشانی کی رگیں تن گئیں۔ وہ آگے بڑھا اور اپنے ساتھی کو گریبان سے پکڑ لیا۔
میری بات کان کھول کر سن لو۔ میں تمہارا کام کر دوں گا، اڑتالیس گھنٹوں سے پہلے۔ لیکن اگر تم نے میری بیوی کو طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، تو استنبول کے کتوں کو کھانے کے لیے تمہاری لاش بھی نہیں ملے گی۔
ایک جھٹکے سے اس نے پاشا کا گریبان چھوڑا۔ اس کی آنکھوں میں وہ خون اترا تھا کہ حیا ڈر کر دو قدم پیچھے ہی، اس نے واضح طور پر محسوس کیا کہ پاشا کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔
مجھے تمہاری بیوی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ میں نے پہلے اسے کچھ کہا، نہ اب کہوں گا۔ مجھے صرف اپنے کام سے غرض ہے۔
ہو جائے گا۔ ناؤ گیٹ لاسٹ! وہ بہت ضبط سے بولا تھا ۔
پاشا نے اپنی برساتی کا کالر ٹھیک کیا اور پھر بنا کسی کو دیکھے باہر نکل گیا۔ حیا ابھی تک بغیر پلک جھپکے جہان کو دیکھتی، دروازے میں کھڑی تھی۔
تم اسے کیسے جانتی ہو، میں سمجھ نہیں پا رہا۔ وہ اس کے قریب آیا تو وہ بے اختیار دو قدم مزید پیچھے ہٹی۔ وہ رک گیا۔
میں نہیں جانتا کہ تم نے کیا سنا، مگر تم نے ادھوری باتیں سنی ہیں۔ میرا اس آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہے حیا۔۔۔۔۔۔ تم، تمہیں مجھ پر اعتبار ہے نا، میری بات سنو! وہ بے بسی سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اسے جہان سکندر کی کسی بات کا اعتبار نہیں رہا تھا۔
وہ ایک دم مڑی اور اسکوائر کی جانب واپس بھاگی۔
میری لینڈ لیڈی نے خوب ہنگامہ کیا۔۔۔۔۔۔ میں آج کل اس سے چھپتا پھر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں کوئی عبدالرحمن پاشا نہیں ہے۔ یونہی کسی نے اپنے بارے میں افواہیں پھیلائی ہوں گی۔
جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھوٹ تھا۔ سب فریب تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے گرتے حجاب بھگو رہے تھے۔ ایک لمحہ بس، ایک لمحہ لگتا ہے اعتبار ٹوٹنے میں اور سب ختم ہونے میں۔
وہ اسے مسلسل فون کر رہا تھا۔ مگر وہ سن نہیں رہی تھی۔ سبانجی واپس پہنچنے تک وہ فیصلہ کر چکی تھی اسے معلوم تھا کہ اسے جہان کی بات لینی چاہیے ایک دفعہ اسے وضاحت دینے کا موقع دینا چاہیے، مگر وہ خوف، بےاعتباری کے دکھ سے بڑا تھا جو اسے اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ پاشا نے اسے وضاحت مہرے کے طور پر استعمال کیا۔ ایک بلیک میلنگ ہتھیار کے طور پہ۔ یہ سب جرم کی دنیا کے ساتھی تھے۔ کرمنلز۔ اسے ان کے درمیان نہیں رہنا تھا اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔ پہلی دفعہ اسے استنبول سے بہت ڈر لگا تھا۔ اسے جلد از جلد واپس پاکستان پہنچنا تھا۔ اس کا گھر دنیا میں ان کی واحد محفوظ پناہ نگاہ تھی۔
ہالے اس سے پوچھ رہی تھی، مگر وہ کچھ بھی بتائے بغیر مسلسل بے آوز روتی، سامان پیک کر رہی تھی، نہ بیوک ادا، نہ لندن، اسے اپنا آخری مہینہ پاکستان میں گزارنا تھا۔ پھر جولائی میں دو دن کے لیے وہ آ کر کلیئرنس کوا لے گی۔
فلائٹ رات کو ملی، اور تب تک ہر مرحلے پہ ہالے نے اس کی بہت مدد کی۔ سبانجی کو وہ ایسے چھوڑے گی، اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ سب کچھ ادھورا رہ گیا تھا۔ وہ لڑکا پھر کبھی نہیں ملا جو ڈی جے کے گڈ مارننگ کا جواب دیا کرتا تھا۔ ادھوری یادیں۔ پورے دکھ۔
اس نے ابا کو مختصر سا بتا کر فون آف کر دیا تھا۔ وہ واقعی بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔ اسے بس جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا۔ ایر پورٹ پہ بھی وہ بہت پریشان اور چڑچڑی سی ہو رہی تھی۔ جب آفیسر نے اسے لیپ ٹاپ ہینڈی کیری میں رکھنے کو کہا تو وہ اڑ گئی۔
مجھے اتنا بھاری ہینڈ کیری نہیں اٹھانا بس۔ یہ اس کا ڈی جے کو ایک آخری خراج تھا۔
جب فلائٹ نے استنبول سے ٹیک آف کر لیا اور مرمرا ان کے قدموں تلے آ گیا تو اس کے دل کو ذرا سکون ملا۔ بالاخر۔ و اپنے گھر واپس جا رہی تھی۔ بس، بہت ہو گیا ایڈونچر، بہت ہو گئے پزل۔
پزل؟ وہ چونکی اور پھر جلدی سے پرس کھولا مخملیں، سیاہ ڈبی اندر محفوظ پڑی تھی۔ وہ سارا دن اتنی پریشان رہی کہ اسے بھول ہی گئی۔ جانے اس میں کیا تھا؟
ڈھرکتے دل کے ساتھ اس نے ایک ہاتھ میں ڈبی پکڑ کر، دوسرے ہاتھ سے اس کا ڈھکن کھولا۔
* * * *
#باب_9
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے ایک ہاتھ میں ڈبی پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اس کا ڈھکن کھولا۔ اندر سیاہ مخمل پہ ایک چھوٹی سی فلیش ڈرائیو رکھی تھی۔ اس نے فلیش ڈرائیو اٹھا کر کھولی۔ ڈرائیو کا سلور، یو ایس بی چمک رہا تھا۔ حیا نے ڈھکن بند کیا، اور اچنبھے سے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ انگلی کی دو پوروں برابر ننھی سی ڈرائیو کا کور سیاہ تھا وہاں کہیں کچھ نہیں لکھا تھا۔
اس میں کیا ہو سکتا ہے بھلا؟ تصاویر؟ ڈاکومنٹس؟ کتابیں؟ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی میموری کتنی ہے کیونکہ اس کے اوپر لکھا نہیں تھا، مگر یہ تو واضح تھا کہ اس میں دنیا جہاں کی چیزیں سما سکتی تھیں۔ اندر جو بھی تھا، وہ تب ہی کھلتا، جب وہ اسے کمپیوٹر سے جوڑتی اور کمپیوٹر۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔! ڈی جے کو خراج دیتے ہوئے وہ لیپ ٹاپ اپنے پاس نہیں رکھ سکی تھی۔ اب اس میں جو بھی تھا، وہ اسے گھر پہنچ کر ہی دیکھ سکتی تھی۔
اس نے فلیش ڈرائیو واپس ڈبیا میں ڈالی اور احتیاط سے پرس کے اندرونی خانے میں رکھ دی یہ قیمتی چیز تھی اور اسے اس کی حفاظت کرنی تھی۔
حیا نے سر سیٹ کی پشت ٹکا دیا اور جلتی آنکھیں موند لی۔ صبح کے واقعات اور اس ہنگامہ خیز فیصلے و تیاری نے اسے تھکا دیا تھا۔ بخار، سر درد اور تکان، ان سب کی تکلیف اس تکلیف سے کہیں چھوٹی تھی، جو آج جہان نے اسے دی تھی۔ وہ کچھ بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی، مگر تمام واقعات امڈ امڈ کر آنکھوں کے سامنے چلتے نظر آ رہے تھے۔
بےاعتباری کا دکھ زیادہ بڑا تھا یا خود کو جہان کے لیے بلیک میلنگ کا ہتھیار بنائے جانے کا خوف، وہ فیصلہ نہیں کر سکی۔ البتہ ایک بات طے تھی۔ اگر ان پچھلے پانچ ماہ میں اس نے کچھ فیصلے صحیح کیے تھے تو پاکستان واپس جانے کا فیصلہ ان میں سے ایک تھا۔ اپنے گھر، باپ اور بھائی کے تحفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔
اسے ترکی اب بھی پسند تھا، مگر ترکی کے کچھ لوگوں سے اب اسے خوف آنے لگا تھا۔ بس بہت ہو گئے ایڈونچرز، اس نے ہار مان لی۔ وہ جہان کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر چلی آئی تھی۔ مگر وہ جانتی تھی کہ صحیح یہی تھا۔ اس کو سنبھلنے اور سوچنے کے لیے وقت چاہیے تھا۔
جہان کے لیے بھی شاید یہ درست تھا۔ اب کم از کم پاشا اسے حیا کی وجہ سے بلیک میل نہیں کر سکے گا جہان سکندر سے شدید ناراضی کے باوجود لاشعوری طور پر بھی اس نے اس کا اچھا ہی سوچا تھا۔
فجر کے قریب وہ اسلام آباد پہنچی۔ ابا کو آنے سے منع کر دیا تھا، سو اس کی تاکید کے مطابق انہوں نے ڈرائیور بھیج دیا تھا۔
سر درد، بخار اور بوجھل دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گولی لے کر سوئی تو ظہر کے قریب اٹھی۔
اتنا بڑا سر پرائز! اسے ہاتھوں سے بال لپیٹتے ہوئے لاؤنج میں آتے دیکھ کر فاطمہ نے مسکرا کر کہا۔ صبح وہ سو رہی تھیں اور ان کی ملاقات اب ہو رہی تھی۔
اماں! وہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ گئی۔ گھر، تحفظ، امان۔ اس کے آنسو امڈ امڈ کر آ رہے تھے۔
سبین پریشان ہو رہی تھی کہ اتنی اچانک حیا کیوں چلی گئی؟
اپنے بیٹے سے پوچھنا تھا نا!
جہان کو بتایا تھا، وہ شاید بتانا بھول گیا ہو۔۔۔۔۔۔ کچھ کھانے کو ہے؟ وہ نگاہیں چرا کر کچن کی طرف جانے لگی وہی سبانجی سے پڑی ہر کام خود کرنے کی عادت۔ فاطمہ نے ہاتھ پکڑ وپس بٹھایا۔
آرام سے بیٹھو۔ نوربانو کھانا لگا ہی رہی ہے۔ پھر ذرا چونکیں۔ تمہیں بخار ہے۔ جب وہ گلے لگی تھی تو اس وقت اتنے عرصے بعد ملنے کے جوش میں انہیں محسوس نہیں ہوا تھا شاید۔
نہیں، سفر کی وجہ سے۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑایا۔
پچھلی دفعہ جب وہ پاکستان آئی تھی، تب بھی اسے بخار تھا۔ تب اس نے استقلال اسٹریٹ میں ڈی جے کو کھویا تھا۔ اب بھی اس بخار تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور اس دفعہ شاید اس نے جہان کو کھویا تھا۔ اسی جگہ استقلال اسٹریٹ میں۔ آزادی کی گلی۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے وہ کبھی اپنی زندگی آزاد نہیں کر سکتی تھی۔
شام میں جب وہ عصر پڑھ کر جائے نماز تہہ کر رہی تھی تو لاؤنج کی چوکھٹ پر تایا فرقان نے ہولے سے دستک دی۔ وہ چونک کر موڑی، پھر مسکرا دی۔
تایا ابا! وہ آگے بڑھ کر ان سے ملی۔
ارے یہ ترکی والے کہاں سے آ گئے؟ انہیں جیسے اس کا نماز کے انداز میں لیا دوپٹا بہت اچھا لگا تھا۔ بس ایگزام ختم ہو گئے تھے آخری مہینہ ترکی گھومنے کے لیے تھا۔ میں نے سوچا اس میں پاکستان آ جاتی ہوں، پھر جولائی میں کلیئرنیس کروانے چلی جاؤں گی۔ اس نے رسان سے وضاحت دی جو اب بہت سی جگہوں پر دینی تھی۔
یہ تو بہت اچھا کیا۔ ابا کدھر ہیں تمہارے؟ کچھ کام تھا۔
پتا نہیں! آفس میں ہوں گے۔ گھر پہ تو نہیں ہیں۔
اچھا! میںکال کر لیتا ہوں۔ وہ کہہ کر مڑنے لگے تو وہ جائے نماز رکھ کر ان کے ساتھ ہی چلی آئی تا کہ سب سے مل لے۔
صائمہ تائی اپنے مخصوص مسکراتے انداز سے ملیں۔ ارم کمرے میں تھی۔ اسے دیکھ کر ذرا حیران ہوئی۔
خیر! اچھا کیا، اب کم از کم تم میری منگنی تو اٹینڈ کر ہی لو گی۔ تلخ مسکراہٹ کے ساتھ وہ بولی مگر اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔
تمہاری منگنی، کب؟
ایک ڈیڑھ ہفتے تک ہے۔ ان کے کچھ رشتے دار باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ ان کی روانگی سے پہلے پہلے ہی فنکشن ہو گا۔ ارم بہت ناخوش لگ رہی تھی۔ وہ زیادہ دیر اس کے پاس بیٹھ نہیں سکی اور باہر آ گئی۔
سونیا کچن میں تھی۔ اس سے اپنے فطری خوش خلق انداز میں ملی۔ بیٹھنے کر کہا، مگر وہ بیٹھنا نہیں چاہتی تھی۔ پاکستان اور خاندان والے۔ وہی پرانی
زندگی لوٹ آئی تھی، ترکی اور ترکی کے چار ماہ کسی ست رنگے بلبلے کی طرح ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے۔
* * * *
اسٹڈی روم کی کھڑکی کے سامنے کھڑا وہ نیچے نظر آتی گلی کو دیکھ رہا تھا۔ پتھریلی سڑک پہ بگھی سیاحوں کو لیے جا رہی تھی۔ ادالار کی سب سے شاہانہ سواری۔ مگر اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
کھلے دروازے سے عائشے اسے ندر آئی۔ اس کے ہاتھ میں پرچ پیالی تھی۔ ہلکی سی آواز کے ساتھ اس نے اسٹڈی ٹیبل پہ پیالی رکھی۔
عبدالرحمن! تمہای کافی۔
عبدالرحمن نے ذرا سی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ عائشے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ روئی روئی سبز آنکھیں، اس کے دیکھنے پہ اس نے نگاہیں جھکا دیں۔ اس کا مطلب تھا آنے اسے مطلع کر چکی تھیں اور وہ دکھی تھی۔
میں امید کرتا ہوں، تم میرے ساتھ تعاون کرو گی۔
وہ اپنے ازلی خشک انداز میں کہتے ہوئے کھڑکی سے باہر یکھ رہا تھا۔ آنے کو اپنا بیٹا واپس مل رہا ہے، اس سے زیادہ بڑی خوشی ان کو کبھی نہیں مل سکتی۔ تم ان ماں بیٹے کے فیصلے میں ان کا ساتھ نہ دے کر ان کی خوشی ختم کر دو گی، مگر میں جانتا ہوں کہ تم ایسا نہیں کرو گی۔
عائشے نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
میں جانتی ہوں کہ مجھے اور بہارے کو وہیں رہنا ہے، جہاں آنےکو رہنا ہے۔ اگر وہ ادالار نہیں آ سکتا۔۔۔۔۔۔ اور یہ ضروری ہے کہ ہم سب یہاں سے چلے جائیں تو میں رکاوٹ نہیں ہوں گی۔ میں نے پیکنگ شروع کر دی ہے۔ وہ لمحے بھر کو رکی۔ کیا واقعی سب ایسا ہی ہو گا، جیسا تم کہہ رہے تھے؟ کیا واقعی باہر جا کر وہ ہمارے ساتھ ہی رہے گا؟
ہاں! اور تم جانتی ہو، میں تمہیں دھوکا نہیں دے سکتا۔ وہ اب بھی کھڑکی سے باہر ہی دیکھ رہا تھا۔
ٹھیک ہے! میں بہارے کو سمجھا دوں گی۔ وہ کوئی مسئلہ نہیں کرے گی۔ ہم اتنی ہی خاموشی سے ترکی چلے جائے گے۔ جتنی خاموشی سے تم چاہتے ہو۔
شیور! کیا اب تم مجھےاکیلا چھوڑ سکتی ہو؟
عائشے سر ہلا کر پلٹ گئی۔ عبدالرحمن نے گردن موڑ کر اسے جاتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر دیکھتا رہ یہاں تک کہ وہ کاریڈور کے سرے کے آگے غائب ہو گئی۔ پھر اس نے گہری سانس لی اور بولا۔
بہارے گل! کیا تم میز کے نیچے سے نکلنا پسند کرو گی؟
اور اسٹڈی ٹیبل تلے بیٹھی، کان لگا کر باتیں سنتی بہارے گل نے بےاختیار زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔ اللہ اللہ، وہ ہر بار کیوں پکڑی جاتی تھی؟ جب وہ دونوں باتیں کر رہے تھے، تب وہ خاموشی سے دبے قدموں آئی تھی اور میز تلے چھپ گئی تھی۔ زمین تک لٹکتے میز پوش نے چاروں اطراف سے اسے ڈھانپ دیا تھا، مگر عبدالرحمن پھر بھی جان گیا تھا۔
بہارے گل! وہ ذر سختی سے بولا تو وہ رینگتی ہوئی باہر نکلی۔ اسے اپنے طرف دیکھتے پا کر وہ معصومیت سے مسکراتے ہوئے کپڑے جھاڑتی اٹھی۔
کیا کر رہی تھیں تم؟
وہ شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ باندھے خاموشی سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
کچھ بولو گی نہیں؟
بہارے نے نفی میں سر ہلایا۔
کیوں؟
کیونکہ بہارے گل چپ زیادہ اچھی لگتی ہے۔
عبدالرحمن سر جھٹک کر واپس کھڑکی کی طرف مڑ گیا اور باہر دیکھنے لگا۔ وہ جیسے کچھ سوچ رہا تھا یا شاید پریشان تھا۔
میں ادھر بیٹھ جاؤں؟ بہارے نے اسٹڈی ٹیبل کی ریوالونگ چیئر جس کے ساتھ ہی عبدالرحمن کھڑا تھا کی طرف اشارہ کیا اس نے دھیرے سے گردن اثبات میں ہلائی۔ وہ بڑی سی کرسی پہ بیٹھ گئی اور میز کی سطح پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔
جب حیا ادھر تھی تو وہ یہیں بیٹھ کر اپنے پزل باکس پر پہ غور کرتی تھی۔ وہ چونکا۔
وہ چلی گئی ہے۔
بہارے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں حیرت پنہاں تھی۔
کہاں؟
اپنے ملک، واپس۔
مگر کیوں؟ اس نے بتایا بھی نہیں۔ میرا نیکلس بھی
نہیں خریدا۔ میں اسے فون کروں؟
نہیں! بالکل نہیں۔ وہ سختی سے بولا تو بہارے کرسی سے اٹھتے اٹھتے ٹھہر گئی۔
اور اب تم اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھو گی۔ سمجھیں؟
میں نےکیا کیا ہے؟ اس کے چہرے پر اداسی اتر آئی۔ وہ ان ہی سخت تنبیہہ بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
بس! کہہ دیا تو کہہ دیا۔
چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی۔ پھر وہ جیسے ڈرتے ڈرتے آہستہ سے بولی۔
کیا ہم کہیں جا رہے ہیں؟ نہیں! میں نے کچھ نہیں سنا۔ میں تو بس دیکھ رہی تھی کہ تمہاری میز نیچے سے کیسی لگتی ہے۔ بس! تھوڑا سا خودبخود سنائی دیا تھا۔ وہ جلدی سے وضاحت کرنے لگی۔
تمہارا خودبخود سمجھتا ہوں میں اچھی طرح۔ اسےگھور کر واپس باہر دیکھنے لگا۔ بہارے کی سمجھ میں نہیں آیا، اس کا موڈ کس بات پہ خراب تھا۔
عبدالرحمن!
بہارے! میری باب غور سے سنو۔ بعض دفعہ انسان کو اپنا گھر، شہر، ملک، سب چھوڑنا پڑتا ہے۔ قربانی دینی پڑتی ہے۔ میں تم سے ایک قربانی مانگ رہا ہوں۔ میں تمہارے انکل کو واپس لے آیا ہوں۔ وہ اب تمہار ساتھ رہے گا، مگر اس کی مجبوری ہے کہ وہ ادالار میں نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اس نے ایک دوسرے ملک میں تم سب کے رہنے کا انتظام کیا ہے۔ وہ ادھر ہی ہے اور تمہارے عائشے اور آنے کے لیے گھر سیٹ کروا رہا ہے۔ اسی ہفتے تم لوگ ادھر چلے جاؤ گے۔ اور پلیز! ،نہ روؤ گی، نہ ہی شور ڈالو گی، نہ تم مجھے تنگ کرو گی۔ تم ادالار چھوڑ دو گی اور میرے خلاف جانے کی ضد نہیں کرو گی، سمجھیں؟ وہ باہر دیکھتے ہوئے بےلچک، سردانداز میں کہتا گیا۔ بہارے کا چہرہ بجھتا چلا گیا۔
یہ رہا تمہارا پاسپورٹ۔ اس نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک ننھی سی کتاب نکال کر بہارے کو تھمائی۔ بہارے نے بےدلی سے اسے کھولا۔ اندر اس کی تصویر لگی ہوئی تھی۔
ہم یہاں کیوں نہیں رہ سکتے؟
سوال نہیں کرو گی تم، سنا تم نے؟
بہارے کا سر مزید جھک گیا۔ وہ پژمردگی سے پاسپورٹ کے صفحے پلٹ رہی تھی۔ ایک جگہ وہ ٹھہر سی گئی۔ وہ نہ پاسپورٹ کے رنگ کو دیکھ رہی تھی، نہ ہی دوسری تفصیلات کو۔ وہ صرف ان دو حروف کو پڑھ رہی تھی، جو وہاں نمایاں کر کے لکھے گئے تھے۔
Hannah Kareem
عبدالرحمن! غلطی ہو گئی ہے۔ میرا نام غلط لکھ دیا ہے۔ حنہ کریم۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو میرا نام نہیں ہے۔ وہ حیرت اور الجھن سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
اب یہی تمہارا نام ہے۔
بہارے حیرت زدہ رہ گئی۔ کبھی وہ اس پاسپورٹ کو دیکھتی تو کبھی عبدالرحمن کے بے تاثر چہرے کو۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
اور ایک آخری بات۔ وہ اس کی طرف مڑا اور سابقہ میں بولا۔ میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔
سفید محل، ادالار، ترکی، اپنا نام، شناخت، بہارے گل ہر چیز چھوڑ سکتی تھی، مگر اس آخری بات نے تو اس کی سانس ہی روک دی تھی۔ وہ ٹکر ٹکر عبدالرحمن کا چہرہ دیکھنے لگی۔
تم۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہمارے ساتھ نہیں رہو گے؟
نہیں! اور تم کوئی رونا نہیں ڈالو گی۔
مگر تم ہمیں ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔ تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں میری ضرورت ہے۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اوہ کم آن! مجھے تمہاری بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ وہ برہمی سے کہتے ہوئے مڑا اور باہر نکل گیا۔
بہارے کو اپنے اندر سے ایک آواز آئی تھی۔ جیسی مرمرا کے پانی میں پتھر پھینکنے کی ہوتی ہے۔ جیسی دل ٹوٹنے کی ہوتی ہے۔
آنسو لڑیوں کی صورت اس کے رخساروں پہ گرنے لگے۔ عبدالرحمن کو اس کی ضرور تھی، تب ہی تو اس نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ اگر وہ مر گیا تو بہارے اسے جنازہ دے گی اور اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی۔ چاہے پورا ترکی اسے چھوڑ دے، بہارے گل اسے کبھی نہیں چھوڑے گی۔
اس نے اپنی کمر سے بندھے گلابی پرس کو کھولا اور پاسپورٹ اس میں ڈال دیا۔ پھر وہ کرسی سے اتری اور دبے قدموں میز کے نیچے چلی آئی۔ چاروں طرف سے گرتے میز پوش نے اسے ڈھک دیا۔
وہ لکڑی کی ٹانگ سے سر ٹکائے بیٹھی ہولے ہولے سسکنے لگی۔ وہ سب کچھ چھوڑ سکتی تھی، مگر عبدالرحمن کو نہیں۔ پھر اب کیوں۔۔۔۔۔۔۔
آنسو اس کی گردن سے پھسلتے ہوئے فراک کے کالر میں جذب ہو رہے تھے۔ اس نے دیکھنا چاہا کہ نیچے سے میز کیسی لگتی ہے، مگر وہ اسے دھندلی ہی دکھائی دی۔
بھیگی، آنسوؤن سے لدی۔
عبدالرحمن نے باہر نکلتے ہوئے جب آخری دفعہ گردن موڑ کر دیکھا تو بہارے اسے کرسی پہ سن سی بیٹھی، بے آواز روتی دکھائی دی تھی۔ وہ اس سے زیادہ نہیں دیکھ سکتا تھا، سو تیزی سے باہر آ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: