Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 35

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 35

–**–**–

پیچھلے باغیچے میں وہ عائشے کی ورک ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھا اور یوں ہی آسمان کو دیکھنے لگا۔ اس کا اپنا دل بھی بہت دکھی تھا۔ ان دونوں بہنوں کو اس کی وجہ سے اتنی تکلیف اٹھانی پڑے گی، اس نے کبھی یہ نہیں چاہا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ وہی اس سب کا ذمہ دار ہے۔ اس کی اور اس کے کاموں کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا، مگر پھر بھی وہ بے قصور تھا۔ بہارے سے سختی اور سرد مہری سے بات کر کے اپنے تئیں اس نے ان کی روانگی آسان بنانے کی کوشش کی تھی، شاید یوں کرنے سے بہارے اس سے محبت کرنا چھوڑ دے اور پھر جلد اسے بھول جائے۔ یہ سب آسان نہیں ہو گا، مگر عائشے سنبھال لے گی اسے۔
اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے باغیچے میں بیٹھے دیکھ کر عائشے نے بے اختیار سوچا تھا کہ بہارے کو تو وہ سنبھال لے گی، مگر خود کو کیسے سنبھالے گی؟ چند ماہ قبل اس کی اور عبدالرحمن کی شدید لڑائی کے بعد اسے علم ہو گیا تھا کہ جلد یا بدیر وہ عبدالرحمن سے الگ ہو جائیں گی۔ وہ ان کا کبھی نہیں تھا۔ وہ ان کے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ وہ ایک غیر فطری زندگی گزار رہے تھے، مگر اب وہ فطری طریقے پہ واپس آ جائیں گے۔ دادی، چچا، چھوٹی بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عائشے کے تین ساتھی، فیملی ممبرز۔ اصل زندگی، حقیقی گھر، مکمل فیملی۔
اس نے انگلی کی نوک سے آنکھ کا بھیگا گوشہ صاف کیا اور الماری کی طرف بڑھ گئی۔ آنے صبح سے تیاری میں لگی تھیں۔ وہ بہت خوش تھیں، سو اسے بھی تیاری مکمل کر لینی چاہیے۔
رہی محبت۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ اچھی لڑکیوں کو بھی ہو ہی جاتی ہے، لیکن جب انہیں یہ پتہ چل جائے کہ وہ محبت انہیں مل ہی نہیں سکتی، تو وہ خاموش رہتی ہیں۔ اچھی لڑکیاں خاموش ہی اچھی لگتی ہیں۔
دکھی دل کے ساتھ اس نے دراز سے اپنی قیمتی چیزیں نکالنی شروع کی۔ وہ یہ سب ایک جیولری باکس میں ڈال رہی تھی۔ سب سے اوپر اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر رکھی۔ یہ اسے عبدالرحمن نے اس کی سالگرہ پر تحفہ میں دی تھی اور وہ اسے کبھی نہیں اتارتی تھی۔ جواب میں اس نے عبدالرحمن کی سالگرہ پر اس نے اس کو کیا دیا تھا۔ اس نے اپنے جیولری باکس کی سب سے آخری، چھوٹی سی دراز کھولی۔ وہ خالی تھی۔ کبھی اس میں وہ شے ہوتی تھی، جو اس نے عبدالرحمن کو دے دی تھی۔ مگر اس بے رحم آدمی نے اس کے تحفے کے ساتھ کیا کیا؟
عائشے نے آزردگی سے سر جھٹکا۔ زندگی میں سب سے زیادہ خوف اسے اسی بات سے آتا تھا کہ کہیں وہ جانتا تو نہیں کہ وہ کیا سوچتی ہے۔
مگر نہیں، وہ کبھی نہیں جان سکتا تھا۔ اس نے خود کو تسلی دی۔
وہ غلط تھی۔
* * * *
زارا اس سے ملنے آئی تھی۔ اتنے عرصے میں زارا کو تو وہ جیسے بھول ہی گئی تھی۔ اب دونوں مل کر بیٹھیں تو وہ ترکی کی ہی باتیں کیے گئی۔ بس یہی وہ موضوع تھا جس پر وہ زارا سے بات کر سکتی تھی۔ بعض اوقات دوست تو وہی ہوتے ہیں، مگر وقت انسان کو اتنا آگے لے جاتا ہے کہ وہ اپنے دوست کے مدار سے ہی نکل آاتا ہے۔ پھر کتنا ہی میل ملاقات رکھ لے، وہ درمیانی فاصلہ ناقابل عبور بن جاتا ہے۔ وہ بھی زارا کے مدار سے نکل آئی تھی۔ اس کی دوستیں تو صرف عائشے گل اور بہارے گل تھیں، جن سے کو وہ بتا کر بھی نہیں آئی تھی۔
آج فون کیا تو عائشے کا فون آف تھا، سو اس نے میل کر دی۔ ابھی تک جواب نہیں آیا تھا۔
زارا گئی تو فاطمہ نے اسے بلا لیا۔ صائمہ ٹائی آئی تھیں اسے دیکھ کر مسکرا دیں۔
“شکر ہے بیٹا! تم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں کیا کرتی۔ ارم کے سسرال والوں کی شاپنگ کرنی ہے۔ منگنی کے تحائف وغیرہ۔ ارم کو تو کچھ سمجھ نہیں ہے۔ تمہارا ٹیسٹ اچھا ہے۔ میرے ساتھ چلو۔ تائی امی کی زبان میں جو حلاوت تھی، چکنائی بری حلاوت معتصم، ہالے ، عائشے، بہارے ، ڈی جے یہ لوگ اس چکنائی سے کتنے دور تھے نا۔
شیور تائی اماں! میں ذرا عبایا لے آؤں۔ وہ ہامی بھر کے اٹھی تو فاطمہ چونکی۔
تم نے عبایا لیا ہے؟
جی اماں! ایک فرینڈ نے گفٹ کیا تھا۔ میں نے سوچا، اب باہر جاتے ہوئے لے لیا کروں گی۔ وہ بظاہر بہت لاپروائی سے کہتی اٹھ آئی۔
پھر تھوڑی دیر بعد وہ اپنے پاؤں کو چھوتے، حریر کے عبایا میں سیاہ اسٹول کو سلیقے سے چہرے کے گرد لپیٹے باہر آئی تو وہ دونوں پل بھر کو حیران رہ گئیں۔
یہ اچھا کیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پر اچھا بھی بہت لگ رہا ہے۔ فیشن بھی ہے آج کل عبایا کا۔ صائمہ تائی مسکرا کر بولیں۔ “ویسے تمہارے تایا نے دیکھا تو بہت خوش ہوں گے۔”
(مجھے تایا سے سرٹیفیکیٹ تو نہیں چاہیے تائی اماں!)
“ہاں! عبایا تو اچھا ہے۔ مگر بہت سمپل نہیں ہے؟” فاطمہ ذرا متذبذب تھیں۔
چونکہ اس کا عبایا سادہ تھا اور سوائے آستین کے سبز اسٹونز کے جو اتنے مدھم تھے کہ توجہ نہ گھیرتے، کوئی کام نہ تھا، سو انہیں قلق تھا۔
“اور میں جب حج پر گئی تو کتنا کہتی رہی کہ تمہارے لیے عبایا لے آؤں، مگر تم نے انکار کر دیا تھا۔فاطمہ تین چار سال پرانی بات دہرانے لگیں۔ وہ اس لیے اصرار کرتی رہی تھیں کہ ان کی بھابھی جو ان کے ساتھ حج پر تھیں، اپنی بیٹیوں کے لیے قیمتی اور کامدار عبایا لے رہی تھیں۔ حیا نے صاف منع کر دیا تھا۔ عبایا کے بجائے اس کی کزنز کے برقعے عروسی ملبوسات لگتے تھ
“بس! اب دل چاہ رہا تھا۔” وہ نقاب کی پٹی سر کے پیچھے باندھنے لگی۔
“تم نے نقاب بھی شروع کر دیا؟” صائمہ تائی کو اب واقعتا جھٹکا لگا تھا۔
“چلیں تائی!” وہ گاڑی کی چابی بیگ سے نکالتے ہوئے بولی۔ اس کے نظر انداز کرنے کے باوجود تائی کہنے لگیں۔
چلو اچھا لگ رہا ہے، مگر دیکھتے ہیں کہ تم کتنے دن
کرتی ہو۔
“اس نے دو دن بعد ہی چھوڑ دینا ہے۔ فاطمہ مسکرا کر بولیں۔
“چلیں! دیکھتے ہیں لیڈیز۔ وہ شانے اچکا کر کہتی باہر نکل آئی۔
استنبول بلا شک و شبہ ایک خوبصورت اور شان دار قسم کا شہر تھا۔ وہ مانتی تھی، مگر جو بھی ہو، پاکسان، پاکسان تھا۔ اپنے ملک کا کوئی مقابلہ نہیں ہوتا۔ بہت عرصے بعد وہ اسلام آباد کی سڑکیں، درخت اور مارکیٹ دیکھ رہی تھی۔
تائی کو پورا ایف ٹین پھرا کر وہ دونوں شام ڈھلے واپس آئیں تو ابا اور تایا فرقان لان میں ہی بیٹھے تھے۔ حیا شاپرز اٹھائے چلتی ہوئی آئی تو تایا ذرا سیدھے ہوئے۔ شاید انہیں لگا، کوئی مہمان ہے۔
“میں ہوں تایا! اس نے سر کے پیچھے بندھی پٹی اتار کر چہرے سے نقاب علیحدہ کیا تو وہ دونوں واقعی حیرت زدہ رہ گئے۔
تم نے کب سے برقع لینا شروع کر دیا؟”
ترکی میں شروع کیا تھا اور بس! ایسے ہی لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ بہت عام سے انداز میں اپنے برقعے کی بات کر رہی تھی۔ تا کہ کوئی مذاق نہ اڑا پائے۔
مگر صائمہ تائی کسی اور ہی موڈ میں تھیں۔ وہ وہیں کھڑے کھڑے حیا کے برقعے کی تعریفیں کرنے لگیں۔ ابا اب مسکرا رہے تھے۔ انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ البتہ تایا ابا بہت خوش ہوئے۔
ہم آج حیا سے کہہ رہے تھے کہ دیکھتے ہیں! تم کتنے دن برقع کرتی ہو؟
“نہیں! انشاءاللہ میری بیٹی قائم رہے گی۔ تایا ابا کی بات پر وہ پھیکا سا مسکرائی اور اندر چلی ائی۔
برقع ہی تھا، اتنا کیوں ڈسکس کرنے لگے تھے سب۔ اسے اچھا نہیں لگا تھا، مگر شاید وہ بھی حق بجانب تھے۔ وہ پہلے اس کے برعکس لباس پہنتی تھی، سو ان کی حیرانی بجا تھی۔
خیر! جو بھی ہے۔ عبایا اتار کر لٹکانے تک وہ ان تمام سوچوں سے چھٹکارہ پا چکی تھی۔ اب اسے وہ کام کرنا تھا جس کے لیے وہ سارا دن مارکیٹ میں مضطرب رہی تھی۔ کل اسے یاد ہی نہیں رہا۔ تھکاوٹ ہی اتنی تھی اور آج موقع نہیں ملا۔ مگر اب مزید انتظار نہیں۔
اس نے لیب ٹاپ آن کر کے بیڈ پر رکھا اور پرس سے وہ مخملیں ڈبی نکالی۔ وہ جب بھی اسے کھولتی، دل عجیب طرح سے دھڑکتا تھا۔
پتا نہیں، کیا ہو گا اس میں؟
اس نے فلیش ڈرائیو کا پلگ لیپ ٹاپ میں لگایا۔
روشن اسکرین پر ایک چوکھٹا ابھرا۔ اس پہ ایک مختصر سا پیغام تھا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس فائل پر پاس ورڈ تھا اور پاسورڈ درج کرنے کے لیے ایک ہی کوشش کی جا سکتی تھی۔ صیح پاسورڈ درج کیا تو فائل کھل جائے گی۔ غلط درج کیا تو فائل خود کو خود ہی ختم کر دے گی یعنی وہ کبھی نہیں جان سکے گی کہ اس میں کیا تھا۔
پیغام چند لمحوں بعد ہی غائب ہو گیا۔ اب اسکرین پر ایک خالی چوکھٹا چمک رہا تھا، جس میں آٹھ خانے بنے تھے۔ کسی آٹھ حرفی لفظ کے لیے یا کسی آٹھ ہندسوں کے عدد کے لیے۔
ایک تلخ مسکراہٹ اس کے لبوں پر ابھری۔ اسے ایک نئی پہیلی دیکھ کر بالکل غصہ نہیں چڑھا۔ میجر احمد نے اسے چیلینج کیا تھا اور اسے اب یہ چیلنج جیت کر دکھانا تھا۔ کہیں نہ کہیں اسے پاس ورڈ مل ہی جائے گا اور پھر وہ اسے کھول لے گی۔
اس نے فائل کو آگے پیچھے ہر طرح سے کھولنے کی کوشش کی، مگر اس کا پروگرام خاصا پیچیدہ تھا۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ویسے یہ عجیب بات تھی کہ اس دفعہ احمد نے پہیلی نہیں دی تھی۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا، ورنہ وہ پہیلی ہمیشہ ساتھ ہی دیتا تھا۔ اب وہ پاس ورڈ کیسے ڈھونڈے؟ خیر! کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آئے گا۔ وہ پامید تھی۔
ترکی سے واپس آنے کے بعد آج اس نے فون آن کیا تھا۔ اپنی پرانی سم وہ نکلوا چکی تھی۔ ابھی دو گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اس کا فون بجنے لگا۔ وہ جو لیپ ٹاپ پہ اپنی اور ڈی جے کی تصاویر دیکھ رہی تھی، چونک کر سیدھی ہوئی جلتی بجھتی اسکرین پر چمکتے الفاظ دیکھ کر ایک گہری سانس اس کے لبوں سے خارج ہوئی۔
“خبر مل گئی آپ کو میجر صاحب؟ فون کان سے لگاتے ہوئے وہ بولی۔
“مل تو گئی، مگر میں کافی حیران رہ گیا۔ آپ واپس کیوں آگئیں؟ وہی نرمی، دھیما، شائستہ انداز۔ وہ جیسے اس کے انداز پر مسکرایا تھا۔
“حیرت ہے، آپ کو پہلی دفعہ پوری بات کا علم نہیں ہوا۔”
“لگتا ہے، آپ بہت غصے میں ہیں۔ کیا ہوا ہے؟”
“پتا نہیں۔” وہ بے زار سی بولی۔ پہلی بار اسے شدید احساس ہوا کہ وہ میجر احمد سے بات نہیں کرنا چاہتی۔
“آپ کی آواز کافی بوجھل لگ رہی ہے۔ پریشان بھی ہیں اور اداس بھی۔ اگر آپ وجہ نہیں بتائیں گی تو میں اصرار نہیں کروں گا۔ بس اتنا بتائیں! آپ ٹھیک تو ہیں؟” وہی فکر مند انداز۔ وہ کیوں کرتا تھا اس کی اتنی فکر۔
جی! میں ٹھیک ہوں اور کچھ نہیں ہوا۔ اگر اسے نہیں معلوم تھا تو وہ خود۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے شوہر کی کسی کمزوری سے اسے آگاہ نہیں کرے گی۔
اور بتاتی بھی تو کیا، کہ اس نے عبدالرحمن کے ساتھ دیکھا ہے جہان کو؟ اور وہ ان کی باتیں؟
ان ساری باتوں کو از سر نو یاد کرتے ہوئے وہ ٹھہر سی گئی۔ عبدالرحمن نے اسے ٹیکسٹ کر کے بلایا تھا۔ جب وہ پینٹری کی کھڑکی کے قریب پہنچی تو اسے وہاں پاشا کا چہرہ سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ ہو سکتا ہے، اس نے آتے ہی اسے دیکھ لیا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ جان بوجھ کر یہ سب کہہ رہا ہو تا کہ وہ بد دل ہو جائے اور جہان کو چھوڑ دے۔ ہو سکتا ہے اس نے حیا کو “سیٹ اپ” کیا ہو۔ آخر! اس نے جہان کی طرف کی کہانی تو نہیں سنی تھی۔ ابھی پورا مہینہ حائل تھا، اس کی اور جہان کی ملاقات میں۔ تب تک وہ۔۔۔۔۔۔۔
“حیا؟ وہ چونکی، پھر سر جھٹکا۔
“یہ جو آپ کی فلیش ڈرائیو پہ پاس ورڈ ہے، اسے کھول کر کوئی اور پزل بھی نکلے گا کیا؟”
“نہیں! یہ آخری لاک ہے۔ پھر میری امانت آپ دیکھ لیں گی۔”
“اور اس کا پاس ورڈ کیا ہے؟”
“وہ تو آپ جیسی ذہین خاتون کو چند منٹ میں ہی مل جائے گا۔”
اچھا! آپ طنز کر رہے ہیں؟ وہ بے اختیار ہنس دی۔
نہیں! سچ کہہ رہا ہوں۔ بہت ہی آسان ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میرے پزل کا آخری ٹکڑا ابھی جوڑ لیں گی۔”
“ٹھیک ہے! اگر مجھے آپ کی مزید ضرورت نہیں ہے تو پھر آپ آئندہ مجھے کال مت کیجئے گا۔ میں مزید آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔ اس کا لہجہ بہت خشک ہو گیا تھا۔ چند ثانیے وہ کچھ کہہ نہیں پایا ۔۔۔
“مگر آپ کے شوہر کو تو علم ہے، پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز میں دکھ سا تھا۔
“میں بغیر کسی ضرورت کے آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی اور اب مجھے ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے آئندہ میں آپ کی کال اٹینڈ نہیں کروں گی۔ خدا خافظ۔”
کسی لمبی بحث سے بچنے کے لیے اس نے از خود کال بند کر دی۔ احمد نے فورا دوبارہ کال کی۔ اس نے نہیں اٹھائی۔ اب اسے احمد کی مزید کال نہیں اٹھانی تھی۔ کل کو کوئی اونچ نیچ ہوئی تو سب سے پہلے اس کا حجاب بدنام ہو گا۔ وہ جانتی تھی کہ اب سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اس نے موبائل تکیے پہ ڈال دیا۔ احمد سے قطع تعلق کر کے اسے کوئی افسوس نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کے لیے کبھی بھی، کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ وہ مطمئن تھی۔
* * * *
اس شام وہ کچن میں کھڑی سلاد تیار کر رہی تھی۔ فاطمہ بھی ساتھ ہی کام میں مصروف تھیں۔ نور بانو برتن دھو رہی تھی۔ ابا لاونج میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ وہ ذرا بلند آواز میں ان تینوں افراد کی مصروفیات سے بے نیاز ان کو ترکی کی باتیں سنا رہی تھی۔ جب اپنے اندر کی اداسی، جہان کی خاموشی اور یادوں سے تنگ آ جاتی تو اسی طرح بولنے لگ جاتی اور آج کل تو اس کی ہر بات ترکی سے شروع ہو کر ترکی پہ ختم ہوتی تھی۔ سفر نامہ استنبول، یہ وہ موضوع تھا جس سے گھر والے اب بور ہو چکے تھے۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔
اپنے گھر میں یہ سہولت تھی کہ کوئی مرد ملازم نہ تھا۔ تایا فرقان کا کک ظفر بہت ہی کم ادھر آیا کرتا تھا۔ ان کا خاندان ویسے بھی روایتی تھا۔ تایا کی تربیت تھی کہ روحیل نہیں ہے تو ان کے بیٹوں کو ادھر نہیں آنا اور خود بہت کم، سوائے کسی کام کے، ادھر نہیں آتے تھے۔ سو وہ اپنے گھر میں آزادی سے گھوم پھر سکتی تھی۔
“پتا ہے نور بانو! وہاں ٹاپ قپی پیلس کے پیچھے والے ریسٹورنٹ میں کیا ملتا تھا؟”
اب نور بانو کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ ٹاپ قپی پیلس کس جگہ کا نام ہے۔ وہ بے چار گی سے نفی میں سر ہلائے گئی۔ مگر وہاں جواب کا انتظار کر کون رہا تھا۔ وہ کٹنگ بورڈ پہ سبزیاں کھٹ کھٹ کاٹتی بولتے چلی جا رہی تھی۔
“وہاں ایک مشروب ملتا تھا، ایران نام کا، بالکل لسی کی طرح تھا۔ اتنا مزے دار کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ میں ریسیپی لائی ہوں۔ کبھی مل کر بنائیں گے۔”
لاؤنج میں رکھا لینڈ لائن فون بجنے لگا تو ابا نے ہاتھ
بڑھا کر ریسیور اٹھایا۔ حیا نے گردن اٹھا کر ان کو دیکھا۔ لاؤنج اور کچن کی درمیانی دیوار اوپر سے آدھی کھلی تھی، سو وہ ان کو باآسانی دیکھ سکتی تھی۔
ہاں سبین! کیسی ہو؟ وہ اب مسکرا کر بات کرنے لگے تھے۔
اس کا دل زور سےدھڑکا۔ لمحے بھر کو اسے ٹاپ قپی اور ایران بھول گیا۔ وہ بالکل چپ سی ہو گئی، ذرا سست روی سے ہاتھ چلانے لگی۔ سماعت ادھر ہی لگی تھی۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ کب؟ ابا کے تاثرات بدلے۔ وہ ایک دم سیدھے ہو کر بیٹھے۔
اس نے چھری گاجر میں لگی چھوڑ دی اور پریشانی سے ابا کو دیکھا۔ کہیں کچھ غلط تھا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون! وہ بہت دکھ سے کہہ رہے تھے۔ فاطمہ بھی جیسے گھبرا کر باہر گئیں۔ تب تک ابا فون رکھ چکے تھے۔
کیا ہوا؟ فاطمہ پریشانی سے پوچھ رہی تھیں۔ حیا اسی طرح مجسمہ بنے کھڑی، سانس روکے ان کو دیکھ رہی تھی۔
سکندر کا انتقال ہو گیا ہے۔
ابا کے الفاظ نے پورے لاؤنج کو سکتے میں ڈال دیا۔ ملال بھرے سکتے میں۔ حیرت، شاک، دکھ، وہ ملی جلی کیفیات میں گھری کھڑی تھی۔
وہ لوگ ایک، دو روز میں باڈی لے کر آ رہے ہیں۔ میں فرقان بھائی کو بتا دوں۔ ابا تاسف سے کہتے فون اٹھا کر نمبر ملانے لگے۔
ایک لمحہ، بس ایک لمحہ انسان سے اس کی شناخت چھین کر اسے باڈی بنا دیتا ہے۔
اس کے اندر کہیں بہت سے آنسو گرے تھے۔ بےاختیار اسے ڈی جے یاد آئی تھی۔
* * * *
سلیمان صاحب کے بنگلے پہ فوتگی والے گھر کی سوگواریت چھائی تھی۔ لان میں قنات لگا کر مردوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جبکہ خواتین اندر لاؤنج میں تھیں، جہاں فرنیچر ہٹا کر چاندنیاں بچھا دی گئی تھیں درمیان میں کھجور کی گٹھلیوں کا ڈھیر تھا۔ رشتےدار خواتین سادہ حلیوں میں تھیں، مگر عابدہ چچی، سحرش اور ثنا بالکل سفید، نئے لباس پہن کر آئی تھیں۔ پتا نہیں یہ رواج کہاں سے چل نکلے تھے۔ اس نے البتہ چاکلیٹی رنگ کی لمبی قمیض، چوڑی دار کے ساتھ پہن رکھی تھی۔ ہم رنگ دوپٹا ٹھیک سے سر پہ لیے، گٹھلیاں پڑھتے وہ لاشعوری طور پہ ایسی جگہ بیٹھی تھی، جہاں سے کھڑکی کے باہر لان صاف نظر آتا مگر باہر والوں کو اندر نظر نہیں آتا تھا کہ دوپہر کا وقت تھا اور کھڑکیوں کے شیشے باہر سے ری فلیکٹ کرتے تھے۔ لان میں خاندان کے مرد جمع تھے۔ ابا، تایا اور کچھ کزنز البتہ نہیں تھے۔ وہ لوگ پھپھو اور میت کو لینے ایر پورٹ گئے تھے۔ آج تین روز بعد سکندر انکل کی باڈی کلیئرنس حاصل کر کے اپنے ملک لائی جا رہی تھی۔ اور وہ صرف یہ سوچ رہی تھی کہ وہ جہان کا سامنا کیسے کرے گی؟
خیر! خفت اسے ہونی چاہیے، نہ کہ حیا کو۔ وہی قصوروار تھا، وہی پاشا کا ساتھی تھا اور اتنی مضبوط تو وہ تھی ہی کہ اپنے تاثرات چہرے پر نہیں آنے دے گی۔ جو بھی ہو گا، دیکھا جائے گا۔ اس کے باوجود جب باہر شور سا مچا اور وہ لوگ پہنچ گئے تو اس کا دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا کہ وہ خود حیرت زدہ رہ گئی۔
اتنے برس بعد پھپھو آئی تھیں، وہ بھی تابوت کے ساتھ۔ لاؤنج کے دروازے پر خواتین ان سے ملتے ہوئے رو رہی تھیں۔ اونچا بین، بلند سسکیاں۔ وہ دور دراز کی رشتہ دار عورتیں جو ہر شادی میں سب کی طرف سے گاتی اور ہر فوتگی میں سب کی طرف سے روتی تھیں، سب سے آگے تھیں۔
پھپھو بہت نڈھال لگ رہی تھیں۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ فاطمہ سے مل رہی تھیں۔ وہ سب ہی کھڑے ہو چکے تھے۔ لڑکے تابوت اندر لا رہے تھے۔ حیا ذرا ایک طرف ہو گئی۔ اور دوپٹے کا پلو ذرا ترچھا کر کے چہرے پہ ڈال کے، ہاتھ سے پکڑ لیا۔ دوپٹا پیشانی سے کافی آگے تھا اور یوں ترچھا کر کے ڈالنے سے گال، ہونٹ، ناک سب چھپ گیا تھا۔ یہ اس کا غیر محسوس سا نقاب تھا۔ اب اگر وہ نقاب کرتی ہی تھی تو منافقت کیسی کہ باہر کے مردوں سے کرے اور کزنز سے نہ کرے؟ ایک فیصلہ کیا ہے تو اسے صحیح سے نبھائے بھی۔
مرد باہر چلے گئے تو وہ آگے بڑھ کر پھپھو کے گلے لگی۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کہاں چلی گئی تھیں؟ جہان بہت اپ سیٹ تھا۔ بے آواز آنسو بہاتی پھپھو اس سے الگ ہو کر آہستہ سے بولی تھیں۔ وہ سخت شرمندہ ہوئی۔ کیا تھا اگر پھپھو کو ایک فون ہی کر لیتی؟ اس نے جواب نہیں دیا۔ جواب تھا بھی نہیں۔
پھر جب وہ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھی تو نگاہ کھڑکی پہ پھسل گئی۔ باہر لگے مجمعے میں وہ جہان کو کھوجنے لگی اور پھر ایک دم چونکی۔
اس نے بہت سی باتیں سوچی تھیں۔ جہان اتنا غیر متوقع تھا کہ اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھے گا، مگر جو جہان نے کیا، وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
* * * *
جہان سکندر پاکستان آیا ہی نہیں تھا۔
جہان نہیں آیا چچی! فرخ پتا نہیں کب اندر آیا تھا اور قریب ہی کھڑا فاطمہ کو بتا رہا تھا۔ پھپھو بتا رہی تھیں کہ وہ کاموں میں پھنسا ہوا ہے۔
فرخ بتا کر آگے بڑھ گیا۔ فاطمہ تو فاطمہ وہ خود بھی ششدر رہ گئی۔ ایسی بھی کیا مجبوری کہ بندہ باپ کے جنازے پہ بھی نہ آئے۔ وہ اتنی حیران تھی کہ گٹھلیاں بھی نہیں پڑھ پا رہی تھی۔ وہ ایسا کیسے کر سکتا تھا۔ صرف حیا کا ساتھ دینے وہ ڈی جے کے وقت آ سکتا تھا تو اپنے باپ کے ساتھ کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟
جب تک انسان دوسرے کی جگہ پہ کھڑا ہو کر نہیں دیکھتا، اسے پوری بات سمجھ نہیں آتی۔
کہیں دور سے جہان کی آواز ابھری تھی۔ شاید وہ وضاحت اس نے اسی لمحے کے لیے دی تھی۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں نہیں آیا! کیوں!
* * * *
سب بہت متاسف اور غم زدہ سے تھے۔ گھر میں خاموشی نے سوگواریت طاری کی ہوئی تھی۔
اگلے روز قل تھے۔ گھر میں کچھ کرنے کے بجائے تایا اور ابا نے وہی کیا تھا، جس کا رواج آج کل اسلام آباد میں چل نکلا تھا۔ تمام عزیز و اقارب کو کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں ڈنر کے لیے فیملی واؤچرز دے دیے گئے کہ بمع خاندان جا کر ڈنر کریں اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دعا کریں۔ اسلام آباد بھی کبھی کبھی اسے لگتا کہ استنبول بنتا جا رہا ہے۔ اس سے یہ ہوا کہ لوگوں کے سوال اور گڑے مردے اکھاڑے جانے سے تایا اور ابا محفوظ رہے۔ مگر حیا نے سوچا ضرور کہ تایا فرقان کے اسلام کو اب کیا ہوا؟
فاطمہ فون سننے اٹھیں تو وہ کافی کا کپ لیے پھپھو کے پاس آ گئی۔ وہ اکیلی بیٹھی تھیں۔ خاموش، تھکی ہوئی۔ ایک سفر تھا جو تمام ہوا۔ ایک مشقت تھی جو ختم ہوئی۔
تھینک یو بیٹا! اس نے کپ بڑھایا تو وہ چونکیں، پھر بھیگی آنکھوں سے مسکرائیں اور کپ تھام لیا۔
تمہارے ساتھ بیٹھ ہی نہیں سکی۔
شرمندہ مت کریں پھپھو! میری ہی غلطی ہے، میں نے سوچا، جہان کو میرا میسج مل گیا ہو گا اور وہ آپ کو بتا دے گا۔ ایک مبہم سی وضاحت دے کر وہ اپنا کپ لیے ان کے ساتھ آ بیٹھی۔
نہیں! وہ کہہ رہا تھا، تم بغیر بتائے چلی گئی ہو۔ بہت پریشان تھا۔ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آیا کیوں نہیں؟ سرسری سے انداز میں اس نے پوچھ ہی لیا۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہیں، جیسے فیصلہ نہ کر پا رہی ہوں کہ وہ کتنا جانتی ہے۔
وہ ترکی سے باہر گیا ہوا تھا۔ فلائٹ کا مسئلہ تھا کچھ ابھی ایک دو روز میں آ جائے گا۔
پھر آپ کو تو بہت مشکل ہوئی ہو گی، اکیلے سب کچھ مینج کرنا۔
حیا! میں نے ساری زندگی سب کچھ تنہا ہی مینج کیا ہے۔ میرے ساتھ تب بھی کوئی نہیں تھا، جب میں اور میرا بیٹا جلا وطنی کاٹ رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ نرمی سے کہہ رہی تھیں۔ اور اب تو میں اتنی مضبوط ہو چکی ہوں کہ اپنے مسئلے حل کرنے کے لیے مجھے اپنے خاندان کے مردوں کے سہارے کی ضرورت نہیں رہی۔
وہ بس ان کو دیکھے گئی۔ ان کے چہرے کی لکیروں میں برسوں کی مشقت کی داستان تھی، جسے پڑھنے کی آنکھ حیا کے پاس نہیں تھی۔
تمہیں بھی اتنا ہی مضبوط بننا چاہیے۔
ان کی آخری بات پر وہ بے اختیار چونکی تھی۔
یہ ماں بیٹا بعض اوقات کتنی مبہم باتیں کر جاتے تھے۔
* * * *
وہ گہری نیند میں تھی، جب کوئی آواز سیٹی کی طرح اس کی سماعت میں گونجی۔ کافی دیر بعد اس نے بھاری پپوٹے بمشکل اٹھائے اور اندھیرے میں جلتے بجھتے روشنی کے منبع کی طرف دیکھا۔
موبائل۔
بدقت اس نے بازو بڑھا کر بجتا ہوا موبائل اٹھایا۔
جہان کالنگ۔
اس کی ساری نیند اڑ گئی۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ وہ ایک دم اٹھ بیٹھی اور کال پک کی۔ ساری ناراضگی رات کی خاموشی میں تحلیل ہو گئی تھی۔
جہان؟ اس کی آواز ابھی بھی نیند سے بوجھل تھی۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ! وہ دھیمی آواز میں کہتا ذرا رکا۔ کیسی ہو؟
میں ٹھیک ہوں اور تم؟ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اس نے ریموٹ اٹھا کر اے سی آف کیا۔ کمرہ بہت ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
فائن۔ تم سو رہی تھیں؟
ہاں!
اس وقت میں فٹبال تو کھیلنے سے رہی، اس نے سوچا۔
ممی سو رہی ہیں؟
ظاہر ہے! اٹھاؤں انہیں؟
نہیں، نہیں! ان کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا۔ ماموں ہیں یا ڈرائیور؟ وہ جیسے سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔
نہیں! ابا اور اماں شام میں لاہور گئے ہیں۔ کوئی فوتگی ہو گئی تھی۔ صبح ہی آ جائیں گے، کیوں؟ وہ ایک دم چونکی۔ تم کہاں ہو؟
میں ایر پورٹ پہ ہوں اور مجھے تمہارے گھر کا راستہ معلوم نہیں ہے۔ تم مجھے لینے آ سکتی ہو؟
اوہ ہاں! تم رکو۔ میں آ رہی ہوں۔ وہ لحاف پھینک کر تیزی سے بستر سے اتری۔
منہ دھو کر عبایا پہن کر وہ چابی لیے خاموشی سے باہر نکل آئی۔ ڈرائیور ابا کے ساتھ گیا تھا۔ ویسے بھی وہ پارٹ ٹائم تھا۔ ایسے میں وہ خود جائے، اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں تھا۔
اسلام آباد کی خوبصورت، صاف ستھری سڑکیں خالی پڑی تھیں۔ ابھی رات باقی تھی۔ اسٹریٹ پولز کی زرد روشنی سڑک کو جگمگا رہی تھی۔ ایر پورٹ پر پہنچ کر اس نے جہان کو کال کر کے آنے کا پیغام دیا۔ اس کا ترکی کا نمبر رومنگ پہ تھا۔
السلام علیکم! چند ہی منٹ بعد وہ دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھا۔ ایک چمڑے کا بھورا دستی بیگ اپنے قدموں میں رکھا اور سیٹ بیلٹ پہننے لگا۔
وعلیکم السلام! اگنیشن میں چابی گھماتے ہوئے حیا نے ذرا کی ذرا نگاہ پھیر کر اسے دیکھا۔ وہ سیاہ پینٹ پہ آدھے آستین والی گرے شرٹ پہنے ہوئے تھا۔ وہی ماتھے پر گرتے ذرا بکھرے بکھرے بال۔ ائلیر پورٹ کی بتیاں اندھیرے میں اس کے چہرے کو نیم روشن کیے ہوئے تھیں۔ وہ اسے پہلے سے ذرا کمزور لگا۔ اسے ترکی سے آئے ڈیڑھ ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا، مگر پھر بھی فرق واضح تھا۔
کار سڑک پر رواں دواں تھی۔ دونوں خاموش تھے۔ آخری ملاقات کا تناؤ اور بوجھل پن ابھی درمیان میں حائل تھا۔
ممی اٹھیں تو نہیں؟
نہیں! وہ ذرا دیر کو رکی۔ تم آئے کیوں نہیں؟ سب پوچھ رہے تھے۔
مصروف تھا۔ وہ گردن ذرا ترچھی کیے باہر ویران اندھیری سڑک کو دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموش ہو گئی۔ کہنے کو جیسے کچھ نہیں تھا۔
کیا تم پہلے مجھے قبرستان لے جا سکتی ہو؟
حیا نے سر ہلا دیا۔ قبرستان گھر سے ذیادہ دور نہ تھا۔ جلد ہی وہ پہنچ گئے۔ باہر نیلا سا اندھیرا چھایا تھا۔ سوالیہ نشان کی صورت بنے سات بہن بھائی ، ستارے آسمان پہ چمک رہے تھے۔
پھوپھا کی قبر آپ کے دادا کی قبر کے ساتھ ہی ہے۔ حیا نے اسے بتایا۔
احاطے میں جہان کے والد اور دادا کی قبریں داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک طرف تھیں۔ ایک درخت اس کے دادا کی قبر پہ سایہ کر رہا تھا۔ وہ سینے پر بازو لپیٹے قبرستان کے دروازے پر ہی کھڑی ہو گئی۔ یہاں سے وہ جہان کو باآسانی دیکھ سکتی تھی۔ جہان آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا دونوں قبر کے پاس آیا پھر دھیرے سے وہ سکندر شاہ کی قبر کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا گیا۔ دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اب وہ دعا مانگ رہا تھا۔ حیا اس کے عقب میں تھی، سو اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔
دعا کے بعد وہ کافی دیر سر جھکائے، ایک پنجے کے بل قبر پر بیٹھا رہا۔ انگلی سے وہ مٹی پر لکیریں کھینچ رہا تھا، پھر جب وہ اٹھا تو حیا جانے کے لئے پلٹ گئی۔
گھر آ کر وہ اندر داخل ہوا تو حیا نے آہستگی سے لاؤنج کا دروازہ بند کیا اور دو انگلیوں سے نقاب نیچے کھنچتے ہوئے اتارا۔
تم آرام کر لو۔ میں اوپر کمرا دکھاتی ہوں۔ وہ اجنبی سے انداز میں کہتی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ جہان خاموشی سے اس کے پیچھے اوپر آیا۔ دستی بیگ ہاتھ سے پکڑ کر کندھے پہ ڈال رکھا تھا۔
حیا دروازہ کر ایک طرف کھڑی ہو گئی صاف ستھرا سا گیسٹ روم۔
کچھ کھاؤ گے؟ اس نے چوکھٹ پہ کھڑے کسی رسمی میزبان کے لہجے میں پوچھا۔ جہان نے بیگ بیڈ پہ رکھا اور ساتھ بیٹھا۔
بس ایک کپ چائے۔ میرے سر میں درد ہے۔ وہ جھک کر جوگرز کے تسمے کھول رہا تھا۔
وہ الٹے قدموں واپس پلٹی۔ چند منٹ بعد جلدی جلدی چائے بنا کر لائی۔
وہ بیڈ پر نیم دراز آنکھوں پہ بازو رکھے ہوئے تھا۔
چائے! اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔ وہ ہلا تک نہیں۔
جہان!
مگر وہ سو چکا تھا۔
حیا کی نگاہیں اس کے پاؤں پہ پھسلیں۔ جوگرز کے تسمے کھول چکا تھا، مگر اتارے نہیں۔ پتا نہیں کیوں اسے ترس سا آیا۔ شاید وہ تھکا ہوا تھا۔ شاید بیمار تھا۔ اس نے اے سی آن کیا اور دروازہ بند کر کے باہر آ گئی۔
صبح وہ دیر سے اٹھی۔ لاؤنج میں آئی تو پھپھو اور فاطمہ چائے پی رہی تھیں۔ گیارہ بج چکے تھے۔
نور بانو! میرا ناشتہ! نوری بانو کو پکار کر وہ ان کے پاس آ بیٹھی۔ فاطمہ لاہور والوں کا تذکرہ کر رہی تھیں۔
آپ لوگ کب آئے؟
صبح آٹھ بجے پہنچ گئے تھے۔ تم سو رہی تھیں۔ فاطمہ مسکرا کر کہنے لگیں۔
ہوں، اچھا! جہان اٹھ گیا؟ حیا کی نگاہ سیڑھیوں کے اوپر پھسلی تو یونہی لبوں سے نکلا وہ دونوں ایک دم اسے دیکھنے لگیں۔
جہان؟
اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک دم سیدھی ہوئی۔ وہ صبح پہنچ گیا تھا۔ اوپر کمرے میں ہے۔ آپ کو نہیں پتا چلا؟
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آ گیا؟ سبین سکندر کے چہرے پہ ایک دم چمک سی ابھری۔ خوش گوار سی حیرت۔ وہ باپ کے جنازے کے تیسرے دن پہنچ رہا ہے، مگر ادھر کوئی ناراضی نہیں۔
جی! میں دیکھتی ہوں۔ وہ خود ہی اٹھ آئی۔
اوپر اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تو یخ بستہ ہو چکا تھا۔ اے سی تب کا آن تھا۔ اس نے جلدی سے اے سی بند کیا اور پنکھا چلا دیا۔
جہان اسی حالت میں جوتوں سمیت لیٹا تھا۔ آنکھوں پر بازو رکھے۔ وہ شاید نیند میں بھی کسی کو اپنی آنکھیں نہیں پڑھنے دیتا تھا۔ تپائی پہ دھری چائے پرانی اور ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ سوچا، اٹھا لے، پھر خیال آیا کہ رہنے دے۔ اس کو پتا تو چلے کہ وہ اس کے لیے چائے لے آئی تھی۔
وہ دوپہر کے کھانے تک بھی نہیں اٹھا۔ پھپھو اس کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھیں، سو اس کے اٹھنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ سہ پہر میں زارا آ گئی۔ موسم اچھا تھا۔ دونوں نے شاپنگ پلان کر لی، مگر جب وہ عبایا پہن کر باہر آئی تو پھر سے ایکشن ری پلے شروع ہو گیا۔
تم نے عبایا کب سے لینا شروع کر دیا؟
وہی حیرت، سوال، تفتیش، تشویش۔
ایک لمبا اور جامع سا جواب دے کر بھی اسے لگا کہ زارا غیر مطمئن ہے اور غیر آرام دہ بھی۔ شاپنگ کرتے، جوتے دیکھتے، کپڑے نکلواتے اور پھر آخر میں راحت بیکرز کے سامنے پارکنگ لاٹ میں بیٹھے ”اسکوپ“ کا سلش پیتے ہوئے زارا بار بار ایک غیر آرام دہ نگاہ اس پہ ڈالتی۔ جو پورے اعتماد سے عبایا اور نقاب میں بیٹھی، سلش پی رہی تھی۔
یار! چہرے سے تو اتار دو۔
زارا! میرا نہ دم گھٹ رہا ہے، نہ ہی مرنے لگی ہوں۔ میں بالکل کمفرٹیبل بیٹھی ہوں۔ اگر تم نہیں ہو تو بتاؤ۔ وہ ایک دم بہت سنجیدگی سے کہنے لگی۔
وہ حیا سلیمان تھی۔ وہ عائشے گل کی طرح ہر بات نرمی سے سہہ جانے والی نہیں تھی۔ جب وہ اپنے زمانہ جاہلیت کے لباس پر کسی کو بولنے کا موقع نہیں دیتی تھی تو اب نقاب پر کیوں کسی کو بولنے دے؟ صرف حجابی لڑکی صبر کیوں کرے؟ اس کی رائے میں بہت زیادہ چپ رہنے کو بھی کمزوری سمجھا جاتا تھا۔
نہیں، نہیں! میں تو تمہارے لئے کہہ رہی تھی۔ زارا ذرا بوکھلا گئی تھی۔
وہ سر جھٹک کر سلش پینے لگی۔
باہر پارکنگ لاٹ میں چند ماہ پہلے کے مناظر اب بھی رقم تھے۔ ڈولی اسے سب سے پہلے اسی جگہ پہ ملا تھا۔ میجر احمد یعنی پنکی سے مل کر اسے جو الجھن ہوتی تھی کہ وہ پنکی کیسے بنا، اب وہ ختم ہو گئی تھی۔ وہ تو اس کی جاب کا حصہ تھا۔ پتا نہیں، وہ یہ بات پہلے کیوں نہیں سمجھ سکی؟
وہ واپس آئی تو دل ذرا بوجھل تھا۔ زارا اور اس کا مدار اب مختلف ہو گیا تھا۔ پتا نہیں، ڈی جے اگر ہوتی تو کیسا ردعمل دیتی؟ اب اجنبی کا ٹیگ جو پیشانی پر لگ گیا تھا۔
لاؤنج میں سب بڑے بیٹھے تھے۔ تایا، تائی، ابا، اماں، پھپھو اور سامنے ایک صوفے پر سنجیدہ سا بیٹھا جہان۔ وہی صبح والے کپڑے، مگر بال گیلے تھے۔ شاید ابھی ابھی فریش ہو کر نیچے آیا تھا۔ وہ سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ دروازے پر پہنچ کر اسے لگا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا۔ جہان تایا فرقان کی طرف متوجہ تھا۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ سر جھٹک کر اندر آ گئی۔
دوبارہ اس کی جہان سے ملاقات رات کے کھانے پر ہوئی۔
وہ ذرا دیر سے ڈائننگ ٹیبل پہ پہنچا تھا۔ ابا مرکزی کرس پہ تھے۔ حیا، فاطمہ کے ساتھ ایک طرف تھی۔ جہان نے جو کرسی کھینچی، وہ حیا کے مدمقابل تھی، مگر وہ اسے نظرانداز کر رہی تھی۔ وہ بھی یہی کر رہا تھا۔ بلکہ وہ تو شاید ہمیشہ سے یہی کرتا آیا تھا۔
کتنی چھٹی ہے تمہاری؟ ابا کھانے کے دوران پوچھنے لگے۔ وہ سر جھکائے، کانٹے سے سلاد کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے بولا۔
کچھ کنفرم نہیں ہے۔
چھٹی کیسی؟ اپنا ریسٹورنٹ ہے اس کا۔ بلکہ پاشا کا۔ اس نے تلخی سے سوچا۔
ایک ڈیڑھ ہفتہ تو ہوں، پھر شاید چلا جاؤں۔­­ ممی کو یہیں اپارٹمنٹ لے دوں گا۔
حیا نے چونک کر سر اٹھایا۔
پھپو! آپ اب یہیں رہیں گی؟ اس کے چہرے پہ خوش گوار سی حیرت امڈ آئی تھی۔ سبین پھپھو نے ہلکی سی مسکراہٹ کےساتھ سر اثبات میں ہلا دیا۔
صرف سکندر کے لیے وہاں تھی۔ اب ادھر رہنے کا جواز نہیں ہے۔
تو جہان! آپ بھی یہیں شفٹ ہو جاؤ۔
فاطمہ نے ذرا دبے دبے سے جوش سے کہتے ہوۓ ایک نظر سلیمان صاحب کو دیکھا۔ وہ بھی ذرا امید سے جہان کو دیکھنے لگے۔ وہی، بیٹی­­ کو اپنے قریب رکھنےکی خواہش۔
اور اپارٹمنٹ کی کیا ضرورت ہے؟ یہی گھر ہے سبین کا۔
جہان ہلکا سا مسکرایا۔ وہ پورے دن میں پہلی دفعہ مسکرایا تھا۔
رہنے دیں مامی! میرےنصیب میں پاکستان میں رہنا لکھا ہی نہیں ہے۔
اس کی آواز میں کچھ تھا کہ حیا ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ سر جھکاۓ کھانا کھا رہا تھ­­ا، مگر چہرے پہ وہی مسکراہٹ، وہی چمک تھی، جو وہ کبھی کبھی اس کے چہرے پہ دیکھا کرتی تھی۔ خاص موقعوں پہ، خاص باتوں پہ۔
خیر! کبھی وہ اس کی وجہ بھی جان ہی لے گی۔ وہ دھیرے سے سر جھٹک کر کھانا کھانے لگی۔
‏ * * * *
صبح فجر پڑھ کر سونے کی بجاۓ وہ اوپر آ گئی۔ جہان کے کمرے کے سامنے سے گزرتے­­ ہوۓ ایک نظر اس نے بند دروازے پہ ضرور ڈالی تھی۔ کچھ چیزیں کرنے سے انسان خود کو کبھی روک نہیں پاتا۔
چھت پہ ہر اطراف لہلاتے گملوں کی سرحد بنی تھی۔ ابا کا شوق، منڈیر و­­ہاں سے کافی اونچی تھی۔ منڈیر کے ساتھ ہی کین کا ایک جھولا رکھا تھا۔ اس خوب
صورت صبح میں وہ جھولے پہ آ بیٹھی اور گردن موڑ کر منڈیر کے سوراخ سے باہر دیکھا۔ منڈیر اس کے سر سے اونچی تھی، مگر ڈیزائن کے طور پر بنے بڑے بڑے سوراخوں سے نیچے کالونی اور سڑک صاف نظر آتی تھی۔ وہ یونہی ترچھی ہو کر بیٹھی کالونی پہ اترتی صبح دیکھے گئی۔ ہر سو خاموشی اور تازگی تھی۔ کبھی کبھی پرندوں کے بولنے کی آواز آ جاتی یا پھر کسی کے بھاگنے کی۔
وہ ذرا چونکی۔ دور سڑک پر کوئی بھاگتا آ رہا تھا۔ ٹریک سوٹ میں ملبوس، جاگنگ کرتا شخص۔ اسے ایک لمحہ لگا تھا پہچاننے میں۔
“جہ­­ان!”
وہ حیران ہوئی تھی۔ وہ کب اٹھا، کب گھر سے نکلا، معلوم نہیں۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ جہان اب گھر
کے سامنے سے گزر کر مخالف سمت دوڑتا جا رہا تھا۔
وہ گردن پوری موڑ کر اس کو دیکھے گئی۔
چند قدم دور وہ رکا، اور ٹھٹک کر پیچھے سڑک کو دیکھا۔ جیسے اسے محسوس ہوا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ سڑک پر ہی دیکھ رہا تھا، اوپر نہیں۔ وہ جلدی سے جھولے پر سے اٹھی اور اندر دوڑ گئی۔
وہ پھر سے پکڑے نہیں جانا چاہتی تھی۔ سبز ٹیولپ، پھولوں کی مارکیٹ اور وہ دکاندار۔۔۔۔۔۔ اسے سب یاد تھا۔
‏ * * * *
جب جہان نے اس کے کمرے کا درواذہ کھٹکھٹایا تو وہ کتابیں کھولے بیٹھی تھی۔ دستک پہ چونکی اور پھر اٹھ کر دروازہ کھولا۔ اسے سامنے کھڑے دی­کھ کر دل عجیب سی متضاد کیفیات کا شکار ہونے لگا۔
حیا! کی­ا تم فارغ ہو؟ وہ بہت دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
ہاں! کیوں؟”اس نےدروازہ ذرا زیادہ کھول دیا تاکہ وہ بستر پر پھیلی اس کی کتابیں دیکھ کر جان لے کہ وہ ہر گز بھی فارغ نہیں ہے۔
اوکے! تم فارغ ہی ہو ٹھیک۔” اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔ یعنی تم میرے ساتھ مارکیٹ چل سکتی ہو؟ شیور! اس نے شانے اچکا دیے۔
حلانکہ اسے اس پہ بہت غصہ تھا۔ وہ اس سے مخاطب بھی نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس نے ہمیشہ غلط بیانی ہی کی تھی۔ اسے جہان سے بہت گلے تھے، مگر پھر بھی جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ وہ اسے انکار نہیں کر سکتی تھی۔
کیا خریدنا ہے؟ تاکہ اسی حساب سے مطلوبہ جگہ پہ جائیں۔
کپڑے وغیرہ۔ جلد­­ی میں نکلا تھا۔ زیادہ سامان نہیں اٹھا سکا۔
ایک تو جب وہ مہذب اور شائستہ ہوتا تھا تو اس سے زیادہ نرم خو کوئی نہیں تھا۔ وہ اندر ہی اندر تلملاتی ہوئی باہر آئی تھی۔ کوئی اور نہیں ملا تھا اسے ساتھ لے جانے کے لیے۔ اسے ضرور گھسیٹتا تھا اپنے ہمراہ۔
شاپ پہ اس کا ساتھ دینے کے لیے وہ بھی ریک پر کپڑوں کے ہینگرز الٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔ جہان ایک کرتےکا ہینگر کندھے سے لگاتے ہوۓ سامنے ­­قدآور آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا۔ حیا اس کےقریب ہی کھڑی تھی، سو آئینے میں وہ بھی نظر آ رہی تھی۔ اس کا عکس دیکھتے ہوۓ جہان ذرا سا مسکرایا۔
تم نے وہ کارٹون دیکھے ہیں ننجاٹرٹلز؟ وہ مسکراہٹ دباۓ سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو اس نے سادگی سے سر اثبات میں ہلا دیا۔
ہاں تو؟ وہ جواب دیے بنا بےساختہ امڈ آتی مسکراہٹ دباتے ہوۓ ہینگر پکڑے پلٹ گیا۔
چند لمحے وہ الجھی کھڑی رہی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔ پھر قدآور آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو فورا سمجھ آ گیا۔ غصے کا شدید ابال اس کے اندر اٹھا تھا۔ بمشکل ضبط کرتے ہوۓ اس نے نگاہوں سے جہان کو تلاشا۔ وہ وہی کرتا لیے کاؤنٹر کی طرف جا رہا تھا۔
وہ بدتمیز انسان اس کے نقاب کو ننجاٹرٹلز کی آنکھوں کی پٹی سے تشبیہہ دے گیا تھا؟ اس کا موڈ واپسی کا سارا راستہ آف رہا، مگر وہاں پروا کسے تھی۔..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: