Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 36

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 36

–**–**–

کچن میں شام کی چائے دم پر چڑھی تھی۔ الائچی اور تلتے کبابوں کی ملی جلی خوشبو سارے کچن میں پھیلی تھی۔ وہ نوربانو کے سر پہ کھڑی ٹرالی میں برتن رکھوا رہی تھی۔ ذمہ دار وہ پہلے بھی تھی، مگر ترکی سے آنے کے بعد ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے لگی تھی۔ اب بھی نوبانو سے زیادہ وہ کام کر رہی تھی۔
باہر لاؤنج میں تایا فرقان اور صائمہ تائی آۓ بیٹھے تھے۔
اماں، ابا،­­ پھپھو اور جہان بھی وہیں تھے۔ کام کرتے ہوۓ مسلسل اسے احساس ہوتا رہا کہ جہان اسے دیکھ رہا ہے، مگر جب وہ رک کر گردن موڑ کر دیکھتی تو وہ کسی اور جانب دیکھ رہا ہوتا۔
جہان کے ساتھ ایک ہی گھر میں وہ دو دفعہ رہی تھی۔ ایک جب ڈی جے کی بار وہ اکھٹے پاکستان آۓ تھے تب اسے اپنے غم سے وقت نہ ملا تھا۔ دوسرا جب اپنی”منگنی” کی رات وہ پھپھو کے گھر رک گئی تھی اور تب جہان کو اپنی فون کال کے انتظار سے وقت نہ ملا تھا۔ یوں اب نارمل حالات میں پہلی دفعہ وہ ایک چھت تلے تھے اور اب اسے احساس ہوا تھا کہ وہ بہت بےضرر، خاموش اور دھیما سا انسان تھا۔
یہ اس کا ایٹی ٹیوڈ نہیں، فطرت تھی۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوۓ وہ سلام کر لیتا، حال احوال پوچھتا اور بس۔ ہاں! گھر میں فارغ رہ رہ کر وہ اکتا جاتا تو نوربانو کے ساتھ کچن میں کبھی برتن دھونے لگ جاتا تو کبھی اسے سبزیاں کاٹ کر دیتا۔ نوربانو بےچاری حق دق رہ جاتی۔ اگر باہر جاتا تو صبح جاگنگ۔
اسے پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا کہ وہ جاگنگ، واک، ورزش، ان چیزوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔ پھر جب گھر میں بہت بور ہو گیا تو ایک دفعہ فاطمہ کے کہنے پہ حیا اسے باہر لے گئی، مگر وہ اتنا تنگ کر دینے والا تھا، یہاں سے مڑ جاؤ، وہاں لے جاؤ، نہیں! لیفٹ سے کیوں مڑ رہی ہو، رائٹ سے مڑو۔
کیونکہ میں رائٹ ہینڈ ڈرائیو کر رہی ہوں جہان! اب اس نے اپنی گاڑی کی چابی جہان کو دے دی تھی۔ جہاں جانا ہے، خود چلے جاؤ، جسے تاثرات کے ساتھ۔ اس کے پاس انٹرنیشنل لائسنس تھا، سو مسئلہ نہیں تھا۔
اب وہ کبھی کبھی باہر نکل جاتا۔ گھر کے قریب اس نے جم بھی ڈھونڈ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جہان کے ساتھ رہنے میں ایک مسئلہ تھا۔ وہ اتنی خاموشی سے بنا چاپ پیدا کیے گھر میں داخل ہوتا کہ پتا ہی نہ چلتا اور وہ آپ کے پیچھے کھڑا ہوتا تھا۔ اب آتے جاتے چند ایک رسمی باتوں کے علاوہ ان کی بات نہ ہو پاتی۔ چاندی کے مجسمے یا تو چٹخ چکے تھے یا بالکل پتھر چکے تھے۔
آج بھی وہ اسے دیکھ رہا تھا، مگر وہ اسے پکڑ نہ پائی تھی۔ وہ کچھ کہتا کیوں نہیں ہے۔ اسے الجھن ہوتی۔ وہ اسے بے اعتبار قرار دے کر چھوڑ آئی تھی۔ وہ گلہ کیوں نہیں کرتا۔ صفائی نہ دے، مگر شکایت تو کرے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہاں ازلی خاموشی تھی۔
وہ ٹرالی دھکیلتی لاؤنج میں لائی۔ دوپٹا شانوں پہ پھیلا کر اس نے لمبے بالوں کو سمیٹ کر کندھے پہ آگے کو ڈالا ہوا تھا۔
واقع­­ی! دل تو نہیں کرتا۔ سکندر بھائی کو گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا، مگر وہ لوگ سمجھتے ہی نہیں۔ جلدی مچائی ہوئی ہے۔ صائمہ تائی کہہ رہی تھی۔ شاید ارم کی منگنی کا معاملہ تھا۔
حیا پنجوں کے بل کارپٹ پہ بیٹھی، چاۓ کے کپ پرچ میں رکھ کر باری باری سب کو پکڑانے لگی۔
بھابھی! آپ بالکل فکر نہ کریں۔ جب ہمیں اعتراض نہیں ہے تو لوگوں کا کیا ہے۔ آپ اللہ توکل کر کے فنکشن کی تیاری شروع کریں۔ پھپھو بہت رسان سے واضح کر رہی تھیں کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اصل میں اسجد کے بھائی اور بھابھی باہر سے آۓ ہوۓ ہیں۔ ان کی موجودگی میں وہ فنکشن کرنا چاہتے ہیں تھینکس!­­
تایا نے مسکرا کر اس سے کپ پکڑا تو وہ واپس آئی اور آخری کپ جہان کی طرف بڑھایا۔ وہ جو غور سے اب تائی کی بات سن رہا تھا، ذرا سی نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور کپ پکڑ لیا۔
وہ اسی اتوار کا کہہ رہے تھے۔
تو بھائی! آپ ہاں کر دیں نا۔ مجھے خوشی ہو گی۔ اتوار کا فنکشن! حیا نےسوچا۔ کی­­ا پہنے گی؟ وہ چاۓ سے فارغ ہو کر کمرے میں آئی اور الماری کھول کر کپڑے الٹ پلٹ کرنے لگی۔ کوئی سلیو لیس تھا۔ کسی کی آستین شیفون کی تھیں۔ کسی کا دوپٹا باریک تھا۔ اس کا ایک جوڑا بھی”آئیڈیل حجابی لباس” پہ پورا نہیں اترتا تھا۔
دوسری الماری کو لاک لگا تھا۔ اس نے چابی نکالنے کے لیے پرس میں ہاتھ ڈالا تو انگلیاں مخملیں ڈبی سے ٹکرائیں۔ وہ مسکرا اٹھی۔ میجر احمد کا چیلنج ڈولی کی امانت۔
اس نے ڈبی کھولی۔ سیاہ یو ایس بی اندر محفوظ رکھی تھی۔ پزل باکس کھل گیا۔ جواہر کا لاکر بھی کھل گیا، مگر اس لاک کو کیسے کھولے؟ آخری لاک۔ اس کی تو پہیلی بھی نہیں تھی، مگر پہیلی ہونی چاہیے تھی۔ میجر احمد نے پہیلی کے بغیر کبھی کوئی پزل اسے نہیں دیا تھا۔ وہ تالے کے ساتھ اس کی چابی بھی ہمیشہ دیا کرتا تھا۔
“اوہ۔۔۔۔۔ ڈبی تو میں نے دیکھی ہی نہیں۔”ایک دم اسے خیال آیا۔
وہ بیڈ پہ آ بیٹھی اور فلیش باہر نکالی۔ وہ صاف تھی۔ کوئی لفظ، نشان وغیرہ نہیں۔ اب اس نے ڈبی اوپر نیچے سے دیکھی۔ کچھ بھی نہیں۔ اس نےاندر رکھے مخملیں فوم کو انگلیوں سے پکڑ کر باہر نکالا۔ نیچے ڈبی کے پیندے پہ سیاہ مخمل کا ایک اور ٹکڑا رکھا تھا۔ اس نے ٹکڑا نکال کر پلٹ کر دیکھا۔
وہاں سنہری دھاگے سے دو الفاظ سلے تھے۔
Story Swapped
اسٹوری سوپڈ؟ اس نے اچنبھے سے دہرایا۔ یہ فلیش ڈرائیو کی پہیلی تھی اس کو حل کر کے ہی وہ آخری تالا کھعل سکتی تھی۔ مگر اس سطر کا مطلب کیا تھا۔ کہ کہانی کو ”Swap“ کرنے سے کیا مراد ہوا بھلا؟ کیا یہ سطر انگریزی گرائمر کے لحاظ سے درست بھی تھی؟ ادل بدل کی گئی کہانی؟ کہانی کو Swap کرنے سے مراد تو یہی ہوتا ہے نا! کہ آپ اپنی کہانی کسی کو پڑھنے دیں اور وہ بدلے میں اپنی کہانی آپ کو پڑھنے دے۔ اس عجیب سی سطر کا یہی مطلب نکلتا تھا۔ مگر کون سی کہانی؟
شاید پروفیسر گوگل کچھ کر سکے۔ یہی سوچ کر اس نے کمپیوٹر آن کیا اور گوگل پہ یہی الفاظ لکھ کر ڈھونڈا، مگر لاحاصل۔ دو متفرق سے الفاظ تھے جن کو احمد نے جمع کر دیا تھا۔ یہ کل بارہ حروف تھے، سو پاس ورڈ نہیں ہو سکتے تھے۔، مگر پاس ورڈ ان ہی میں چھپا ہوا تھا۔
رات سونے سے پہلے تک وہ ان ہی دو الفاظ کو سوچتی رہی تھی۔ مگر کسی بھی نتیجے پہ پہنچنے سے قبل ہی نیند آ گئی۔
* * * *
ارم کی منگنی کا فنکشن تایا فرقان کے لان میں منعقد کیا گیا تھا۔ فنکشن خواتین کا تھا۔ مردوں کا انتظام باہر تھا، مگر تیار ہوتے وقت وہ جانتی تھی کہ یہ فنکشن بھی اتنا ہی سیگریگیٹڈ ہو گا، جتنا داور بھائی کہ مہندی کا فنکشن تھا۔ برائے نام ”زنانہ حصہ“ جہاں ویٹرز، مووی میکر، لڑکے کزنز، سب آ جا رہے ہوں گے۔ پتا نہیں، پھر بےچارے باقی مردوں کو علیحدہ کیوں بٹھایا جاتا تھا، یا پھر ایسی شادیوں کو سیگریگیٹڈ کہنے کی منافقت کیوں تھی؟ سوسائٹی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معیارات جن پہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس نے اپنی بائیس سالہ زندگی میں کبھی کوئی مکلمل سیگریگیٹڈ شادی نہیں دیکھی تھی۔ تایا کی سختی تھی کہ منگنی پہ دلہا نہیں آئے گا، انگوٹھی ساس پہنائے گی، مگر جو خاندان کے لڑکے کام کے بہانے چکر لگا رہے ہوں گے، ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
باہر وہ عبایا لیتی تھی۔ اصولا اسے ادھر بھی عبایا لینا چاہیے تھا، مگر منگنی کا فنکشن برائے نام ہی سہی تھا تو سیگریگیٹڈ۔ لڑکے وغیرہ تھے، مگر وہ ذرا دور تھے۔ وہ مکمل طور پر مکسڈ گیدرنگ نہیں تھی۔
عبایا کا مقصد زینت چھپانا اور چہرہ چھپانا ہی تھا تو وہ یہ کام اپنے لبا سے بھی کر سکتی تھی، سو اس نے عبایا نہیں لیا، مگر لباس کا انتخاب عبایا کے متبادل اور مترادف کے طور پر کیا۔
کچے سیب کے رنگ کا سبز پاؤں کو چھوتا فراک، نیچے ٹراؤزر اور کلائی تک آتی آستین۔ یہ ایک مشہور برانڈ کا جوڑا تھا اور اس کے ساتھ نیٹ کا ڈوپٹا تھا، سو اس نے الگ سے بڑا سا ڈوپٹا بنوا لیا تھا، کچے سیب کے رنگ کا۔ یوں گلے کا کام ڈوپٹے میں چھپ گیا۔ چہرے کے گرد بھی دوپٹا یوں لپیٹا کہ وہ پیشانی سے کافی آگے تھا۔ کان بھی چھپ گئے۔ سہولت تھی کہ کسی آدمی کو دیکھتے ہی وہ تھوڑی سے انگلی ڈوپٹا پکڑ کر اوپر لے جا کر نقاب لے سکتی تھی۔ یوں عبایا کے بغیر بھی زینت چھپ گئی، نقاب بھی ہو گیا اور اچھا لباس بھی پہن لیا۔ بیٹھی بھی ذرا کونے کی میز پہ تھی۔
گلابی پھولوں سے آراستہ اسٹیج پہ ارم کامدار گلابی لباس میں گردن اونچی کیے اور نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ ارم کو جانتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ زبردستی بٹھائی گئے ہے۔ اس کی ساس اب اسے انگوٹھی پہنا رہی تھیں۔ مووی میکر مووی بنا رہا تھا۔ پتا نہیں یہاں تایا کے اسلام کو کیا ہوا تھا۔ ویٹرز، مووی میکرز، یہ بھی تو مرد تھے، مگر وہی سوسائٹی کے دہرے معیارات۔
حجاب کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ یہ تو ایک مکمل الگ طرز زندگی ہوتا ہے۔ اور یہ طرز زندگی اتنا آسان نہیں تھا۔ اسے جلد ہی اندازہ ہو گیا۔
تم نے ڈوپٹا سر پہ کیوں لے رکھا ہے؟
گلے کا کام ہی نظر نہیں آ رہا۔
چہرے سے تو ہٹاؤ۔ مووی میکر ویڈیو بنا رہا تھا، سو وہ چہرے کو ڈھکے، رخ موڑے بیٹھی تھی اور فاطمہ جو ذرا دیر کو ادھر آئی تھی، اپنی حیرت ظاہر کرنے میں ساتھی خواتین کے ساتھ مل گئی تھیں۔
نہیں ہٹا سکتی لیڈیز! میں اب ناب کرتی ہوں۔ وہ رسان سے جواب دے رہی تھی مگر پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں؟ اور یار! فنکشن پہ تو خیر ہوتی ہے۔
خیر؟ مجھ سے پوچھو کہ کتنا شر ہوتا ہے۔ وہ اب بد دل ہو رہی تھی۔ حجاب سے نہیں۔ لوگوں سے۔
یا اللہ! لوگ خاموش کیوں نہیں رہتے؟ اتنا کیوں سوال کرتے ہیں؟
سحرش، ثنا اور اسجد کی بہنیں اب ڈانس کی تیاری کر رہی تھیں۔ انہیں کوئی نہیں ٹوک رہا تھا، سلیولیس پہنے پھرتی کسی لڑکی کو کوئی نہیں ٹوک رہا تھا، مگر حجابی لڑکی کے سب کیوں پیچھے پڑ گئے تھے۔
کیا لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے؟
وہ اپنے آنسو اندر ہی اتارتی رہی۔ لڑکیاں رقص کے لیے پوزیشنز سنبھالے کھڑی تھیں۔ مووی میکر کا کیمرا ریڈی تھا۔ اس نے رخ موڑ کیا۔ دل اندر ہی اندر لرز رہا تھا۔ وہ کسی کو منع نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی کوئی نہ سنتا۔
تباہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تباہی کتنی قریب تھی اور سب بے خبر تھے۔ ہراقلیطس کی دائمی آگ، بھڑکتے الاؤ، دہکتے انگارے انسان بھی خود ہی اپنے لیے کیا کیا کما لیتا ہے؟
اور یادیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں جب بندہ اندھیرے سے نور میں آتا ہے تو ہر شے سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ اسے یاد آ رہا تھا، شریعہ اینڈ لاء کے دوسرے سمسٹر میں اصول الدین ڈیپارٹمنٹ کے ہی ایک پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری نے یونہی ایک قصہ سنایا تھا۔ اسے وہ قصہ آج پوری جزئیات کے ساتھ یاد آ رہا تھا۔
میری بیٹی کی جب شادی ہونے لگی تو میں نے اسے منع کیا کہ بیٹا مووی اور فوٹو سیشن وغیرہ مت کروانا، مگر وہ مجھ سے بہت خفا ہوئی۔ وہ مجھ سے لڑتی رہی کہ ابا میں نے ہمیشہ پردہ کیا۔ آپ کی ساری باتیں مانیں۔ اب میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی پہ مجھے بد دل نہ کریں۔ میں خاموش ہو گیا۔ اصرار نہیں کیا کہ میں زبردستی کا قائل نہیں تھا۔ شادی ہوئی۔ اس کی سسرال نے فوٹو سیشن کا مکمل انتظام کروا رکھا تھا۔ میں چپ رہا۔ شادی کے چوتھے روز میں اپنے کمرے میں کرسی پہ بیٹھا تھا کہ میری بیٹی آئی اور میرے قدموں میں بیٹھ کر چپ چاپ رونے لگی۔ میں نے بہتیرا پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ اس نے کچھ نہیں بتایا۔ بس یہی کہا۔
ابا آپ ٹھیک کہتے تھے۔
میری بیٹی کے آنسو میرے دل پہ اس دن سے گڑ گئے ہیں اور یہی سوچتا ہوں کہ پتا نہیں، ہم اپنی خوشی کے موقع پہ اللہ کو ناخوش کیوں کر دیتے ہیں؟
جب ڈاکٹر عبدالباری نے وہ قصہ سنایا تھا تو اس نے چند حجابی لڑکیوں کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تھے تب کندھے اچکا کر وہ حیران ہو کر سوچتی تھی کہ یہ کیوں رو رہی ہیں؟
اب اسے پتا چلا تھا کہ وہ کیوں رو رہی تھیں۔
فنکشن ختم ہونے تک اس کا دل اچاٹ ہو چکا تھا۔ رات اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے وہ بالیاں اتارنے کے ارادے سے وہ بےدلی سے کھڑی تھی۔ کچے سیب کے رنگ کا ڈوپٹا کندھے پہ تھا اور بال کھول کر آگے کو ڈال رکھے تھے۔ بہارے بھی اس کی نقل میں گھنگریالی پونی آگے کو ڈال لیتی تھی۔
پتا نہیں، وہ بہنیں فون کیوں نہیں اٹھاتیں اور میل کا جواب بھی نہیں دیتیں۔ خیر! دو ہفتے تو رہ گئے تھے، جا کر پوچھ لوں گی۔
دروازے پر دستک ہوئی وہ چونکی، پھر آگے بھر کر دروازہ کھولا۔ وہاں جہان کھڑا تھا۔ زمرد رنگ کا کرتا اور سفید شلوار پہنے۔ پتا نہیں کہاں سے کرتا خرید کر لایا تھا مگر اچھا تھا۔ آستین عادتا کہنیوں تک موڑے وہ ہاتھ میں دو مگ لیے کھڑا تھا۔
کافی پیو گی؟ وہ پھر سے وہی دوستانہ سے انداز والا جہان سکندر بن چکا تھا۔
میں سونے سے پہلے کافی نہیں پیتی۔ کہہ دینے کے بعد اسے لہجے کی سردمہری کا احساس ہوا تو رکی، پھر زبردستی مسکرائی۔
ہاں! لیکن اگر استنبول کے بہترین شیف، مکینک اور کارپینٹر نے بنائی ہے تو ضرور پیو گی۔
تم ایک لفظ کا اضافہ کرتے کرتے رہ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کریمنل۔ وہ مسکرایا تو حیا کی مسکراٹ غائب ہو گئی۔
کیا مجھے اس لفظ کا اضافہ کرنا چاہیے؟
ہم اس بارے میں بات کر سکتے ہیں؟
دو ہفتے بعد اسے بالاخر اس کے متعلق بات کرنے کا خیال آ ہی گیا تھا۔
ٹھیک ہے! چھت پہ چلتے ہیں۔
اس نے کانوں سے بالیاں نہیں اتاریں، جن میں موتی پروئے تھے۔ جہان کے موتی۔ وہ سچ نہیں بولتا تھا تو اس کے موتی کیسے نکل آئے؟ وہ ان دو ہفتوں میں یہ سوچتی رہی تھی۔ نامحسوس طور پہ بھی وہ عبدالرحمن پاشا سے متفق تھی کہ وہ ”سچے موتی“ ہی تھے۔ مگر جہان کو تو یاد بھی نہیں ہو گا کہ یہ وہ موتی ہیں۔
چھت پہ اندھیرا تھا۔ دور نیچے کالونی کی بتیاں جل رہی تھیں۔ وہ دونوں منڈیر کے ساتھ لگے جھولے پہ آ بیٹھے۔ ہلکا ہلکا ہلتا جھولا ان کے بیٹھنے سے بالکل تھم گیا۔ حیا نے کافی کا مگ لبوں سے لگایا۔
ہوں! اچھی بنی ہے۔
آخر! استنبول کے بہترین شیف، مکینک اور کارپینٹر نے بنائی ہے۔
اوہ! تم نے بھی کریمنل کا اضافہ نہیں کیا۔
کیونکہ میں کریمنل ہوں بھی نہیں۔ کیا تمہیں میر اعتبار ہے؟
ہاں! اس نے سوچنے کا وقت بھی نہیں لیا۔ سامنے دیوار پہ ابا کے گملوں سے اوپر ان دونوں کے سائے گر رہےتھے۔ پودوں کی ٹہنیوں سے اوپر وہ عجیب سی ہیئت بنا رہے تھے۔
ٹھیک ہے! پھر تم بتاؤ کہ تم اس شخص کو کیسے جانتی ہو، جو اس روز میرے ساتھ تھا؟
عبدالرحمن پاشا؟ امت اللہ حبیب پاشا کا بیٹا؟اس نے آنے کا پورا نام لیا۔ وہ ذرا چونک کر اسے دیکھنے لگا۔
آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔۔ تم کیسے؟
لمبی کہانی ہے۔ سنو گے؟ اس نے بےنیازی سے شانوں کو جنبش دے کر پوچھا۔ وہ سامنے دیوار پہ ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے دوسرے سائے کو اثبات میں سر ہلاتے دیکھا تو وہ کہنا شروع ہوئی۔ اپنے سائے کے ہلتے لب دکھائی نہیں دیتے تھے۔ نہ ہی کان میں پڑی بالی کے موتی کی چمک۔ اگر دکھائی دے رہی تھی تو وہ پریشانی، اذیت اور اضطراب جسے وہ پچھلے پانچ ماہ سے اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھی۔ جس کا ایک حصہ اس نے ڈی جے کے ساتھ بانٹا بھی تھا اور اب اس نے پورا ہی بانٹ دیا۔ سبانجی کی طرف سے میل موصول ہونے والی رات جب پہلی دفعہ پھول آئے تھے، اس سے لے کر اس روز کے واقعے تک، اس نے سب کہہ سنایا۔ وہ بالکل خاموشی سے سنتا رہا۔ اگر بولا تو صرف اس وقت جب اس نے استقلال جدیسی میں پاشا کے چہرے پہ کافی الٹنے کا واقعہ بتایا۔
اچھا! تم نے پاشا بے کے اوپر کافی الٹ دی؟ وہ جیسے بہت محفوظ ہوا تھا۔
ہاں! تم اسے پاشا بے کیوں کہتے ہو؟
اسے سب پاشا بے کہتے ہیں، مسٹر پاشا۔ شوق ہے خود کو مسٹر کہلوانے کا۔
کافی کے مگ خالی ہو کر زمین پہ پڑے تھے۔
دیوار پہ سائے ویسے ہی چپکے بیٹھے، ساری داستان سنتے رہے۔ پودے بھی متوجہ تھے۔ جب وہ خاموش ہوئی تو وہ جیسے سوچتے ہوئے بولا۔
یعنی کہ اس نے تمہارے بارے میں معلومات حاصل کیں، مجھے بلیک میل کرنے کے لیے، مگر میں صرف ایک بات نہیں سمجھ سکا۔ اتنا سب کچھ ہوا اور تم نے کبھی اپنے پیرنٹس کو نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔ کیوں؟ تم نے کسی سے مدد کیوں نہیں لی؟
میں کبھی بھی ان کو یہ سب نہیں بتا سکتی جہان! اب تو معاملہ ختم ہو گیا ہے، مگر جب شروع ہوا تھ تو مجھے ترکی جانا تھا۔ اگر میں بتاتی تو وہ مجھ سے فون لے لیتے اور گھر سے نکلنے پہ پابندی لگا دیتے۔ ترکی تو جانے کا سوال ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی میں جانتی تھی کہ جو میرے گھر کے اندر پھول رکھ سکتا ہے، میرے فون میں ٹریسر لگوا سکتا ہے، اس کے خلاف ابا بھی کچھ نہیں کر سکتے اور اب کو بتانے کا مطلب تھا کہ تایا فرقان کو بھی بتا دینا، یعنی پورے خاندان میں تماشا۔ ابا، تایا ابا کو بتائیں، یہ نہیں ہو سکتا اور اتنی بہادر تو میں تھی ہی کہ خد اپنے مسائل حل کر سکتی۔
(کیا خیال ہے گرلز۔ پیرنٹس کو بتانا چاہیے یا نہیں۔۔۔۔۔ ایسا کوئی پرابلم ہو تو۔۔۔۔ اپنا اپنا وائنٹ اف ویو ضرور بتانا۔۔ ناول سے قطع نظر، کیونکہ ناول کی تو اسٹوری ہی نہ بتانے کی وجہ سے ہے۔)
سو تو ہے! اس نے سر ہلا کر اعتراف کیا۔ کیا تم واقعی جاننا چاہتی ہو کہ میں اشا بے کو کیسے جانتا ہوں؟
دیکھ لو! تم نہ بھی بتاؤ، میں نے جان تب بھی لینا ہے۔ تمہارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
اللہ، اللہ! یہ اعتماد۔ وہ پہلی دفعہ ہنسا تھا۔ وہ ہولے سے مسکرا دی۔
اصل میں، میں نے کچھ عرصہ ہوٹل گرینڈ پہ کام کیا ہے۔ اس لیے میں ان سوکالڈ بھائیوں کو جانتا ہوں۔
یہ سگے بھائی نہیں ہیں۔ یہ مافیا بھائی ہیں، ایک ہی مافیا فیملی کا حصہ، مگر یہ بات ادالار میں اگر کوئی میرے علاوہ جانتا ہے کہ وہ سگے بھائی نہیں ہیں تو وہ امت اللہ حبیب پاشا ہیں۔ خیر! میرا پاشا بے سے کچھ مسئلہ ہو گیا اور میں استقلال اسٹریٹ آ گیا۔ وہ ریسٹورنٹ اس کا ہی ہے اور وہ عورت جس کو میں اپنی لینڈ لیڈی بتاتا ہوں، ا کو وہی بھیجتا ہے۔ وہ اس کی ساتھی شیئر ہولڈر ہے۔ وہ مجھے ریسٹورنٹ کی قسطوں کے لیے تنگ نہیں کرتا۔ یہ میںنے جھوٹ بولا تھا۔ سوری! مگر اس نے میرے ذمے ایک کام لگایا تھا، جو میں کر نہیں سکا، جس کی وجہ سے ا روز تلخ کلامی ہوئی تھی۔
کون سا کام؟ وہ چونکی۔
وہ اپنی فیملی کو بیرون ملک شفٹ کروانا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اسے اس ملک کی جعلی دستاویزات اور نئی شناختیں چاہیے تھیں۔ میں اپنے ایک دوست سے اس کے لیے وہی بنوا رہا تھا۔ اینڈ تھینکس ٹو یو! میں نے اب وہ بنوا دیے ہیں اور اس کی فیملی ترکی سے جا چکی ہے۔
کیا؟ اسے جھٹکا لگا۔ عائشے اور بہارے چلی گئیں؟ (تو وہ عائشے، بہارے، سب کو جانتا تھا!)
ہاں! مزید میں کچھ نہیں جانتا، اس لیے اس موضوع کو ختم کر دو۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اس کا بھائی؟ وہ کہاں چلا گیا؟
میں نہیں جانتا، وہ اب کہاں ہے۔ اس نے شانے اچکا دیے۔ وہ جیسے اس موضوع سے بچنا چاہتا تھا۔ پھر حیا نے دیکھا، اس کا سایہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ پودوں کے اوپر سے ہوتا، پوری دیوار پر پھیل گیا۔ اس نے سائے میں اس کا چہرہ تلاشنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔ کتنا سچ تھا، کتنا جھوٹ، سائے میں سب گڈمڈ ہو چکا تھا۔
تم کیا کرتے پھرتے ہو جہان! مجھے یقین ہے کہ تم کریمنل نہیں ہو، مگر تم ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھا کرو پلیز۔
جو آپ کا حکم! سایہ مسکرایا تھا۔
وہ بس تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔ اس کی ساری کتھا سن کر بھی وہ اپنی دفعہ بہت کچھ چھپا گیا تھا۔
اور عائشے بہارے، وہ کہاں چلی گئی تھیں؟
وہ دونوں آگے پیچھے زینے اترتے نیچے آ رہے تھے، جب اس نے ابا کو لاؤنج میں کھڑے اپنی جانب متوجہ پایا۔
جہان! وہ صرف جہان کی طرف متوجہ تھے۔
جی ماموں! وہ پرسکون انداز میں قدم اٹھاتا سیڑھیوں سے نیچے ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
مجھے کچھ پوچھنا ہے تم سے۔ وہ بہت سنجیدہ لگ رہے تھے۔ وہ پہلی سیڑھی پہ ریلنگ پہ ہاتھ رکھے کھڑی ان کو دیکھنے لگی۔
میں سن رہا ہوں۔
تم روحیل سے ان ٹچ ہو، یہ میں جانتا ہوں، مگر کیا کوئی ایسی بات ہے جو تم مجھے بتانا چاہو، جو کہ میں نہیں جانتا؟ جہان نے لمحے بھر کی خاموشی کے بعد نفی میں سر ہلایا۔
نہیں! میں اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتا۔
یعنی کہ کوئی بات ہے؟
ماموں! میں دوسروں کے معاملے میں کبھی مداخلت نہیں کرتا، اس لیے خاموش رہوں گا۔ البتہ آپ اپنے طور پر کسی سے بھی پتا کروا سکتے ہیں۔
پتا کروا لیا تھا۔ تم سے تصدیق چاہ رہا تھا، بہرحال مجھے اپنا جواب مل گیا ہے۔ تم آرام کرو۔
اس کا شانہ تھپتھپا کر وہ آگے بڑھ گئے۔ ان کے چہرے کی سنجیدگی اور اضطراب پہلے سے بڑھ چکا تھا۔ جہان واپس سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا کہ اس کا کمرا اوپر تھا۔ وہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔
کیا ہوا؟
جوابا جہان نے ذرا سے شاے اچکائے۔
تمہیں پتا چل جائے گا۔ اب ذہن پر زور مت دو، سو جاؤ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ سایہ غائب ہو گیا، روشنی عیاں تھی۔
وہ الجھی ہوئی واپس کمرے میں آئی تھی۔ جہان سکندر کے ساتھ رہنے کا مطلب تھا، انسان بہت سے رازوں کے ساتھ رہے اور پھر صبر سے ان کے کھلنے کا انتظار کرے۔
وہ تمام سوچوں کو جھٹک کر عائشے کو ای میل کرنے لگی۔
* * * *
جہان نے ٹھیک کہا تھا۔ اسے پتا چل جائے گا۔ مگر حیا کو اندازہ نہیں تھا کہ اسے اتنی جلدی پتا چل جائے گا۔ اسی رات وہ ابھی کچی نیند میں ہی تھی کہ بین پھپھو نے پریشانی کے عالم میں جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلدی اٹھو۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔
تمہارے ابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ چلو! اسپتال چلنا ہے۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے پھپھو کو دیکھے گئی۔ زندگی ایک دفعہ پھر اسقلال اسٹریٹ میں پہنچ گئی تھی۔ اس کے سامنے ڈی جے گری تھی اور کسی کا جوتا اس کی عینک پر آیا تھا۔ ایک آواز کے ساتھ عینک ٹوٹی تھی۔ وہ آواز جو کانچ ٹوٹنے کی ہوتی ہے۔ وہ آواز جو زندگی کی ڈور ٹوٹنے کی ہوتی ہے۔
* * * *
سلمان صاحب کو شدید قسم کا دل کا دورہ پڑا تھا۔ وہ سی سی یو (کارڈیک کیئر یونٹ) میں تھے اور ان کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ باقی سب کہاں تھے، اسے کچھ نہیں پتا تھا۔ وہ تو بس دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بینچ پہ بیٹھی، روئے جا رہی تھی۔ کاریڈور میں کون آ جا رہا تھا، اسے ہوش نہ تھا۔ وہ پھر سے ٹاقسم فرسٹ ایڈ ہسپتال کے سرد، موت کے سناٹے جیسے کاریڈور میں پہنچ گئی تھی۔
وہ اب بہتر ہیں۔ یقین کرو! وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ جہان اس کے ساتھ بنچ پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔ رات سے وہی تھا جو ساری بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ تایا وغیرہ تو صبح آئے تھے اور اب تک پورے خاندان کو وہ وجہ بھی پتا چل چکی تھی جو ابا کی بیماری کا باعث بنی تھی۔
روحیل نے شادی کر لی تھی۔
ٹھیک ہے! بہت سے لڑکے امریکہ میں شادی کر لیتے ہیں۔ سب کے والدین کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا، مگر روحیل نے دو سال سے شادی کر رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اس نے ایک نیپالی بدھسٹ سے شادی کی تھی۔ اب قدرے روشن خیال تھے، مگر اپنی اقدار اور مذہبی حدود کا پاس انہیں بہت تھا۔ روحیل کے حوالے سے انہوں نے بہت سے خواب دیکھے تھے۔ بہت مان تھا ان کو اس پر۔ وہ ایک دفعہ کہتا تو سہی، مگر اس نے خود ہی سارے فیصلے کر لیے۔ شاید وہ جانتا تھا کہ کہنےکا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ لڑکی بدھ مت کی پیروکار تھی۔ مسلمان تو چھوڑ، وہ تو اہل کتاب بھی نہ تھی کہ ایسی شادی جائز ہوتی۔ وہ مسلمان ہونے کو تیار نہ تھی اور روحیل اس کو چھوڑنے پہ راضی نہ تھا۔ اپنی حدود کا مذواق بنانے پہ ابا کا دکھ الگ۔ جہان سے تصدیق کر لینے کے بعد انہوں نے روحیل کو فون کر کے جب بازپرس کی توپھر تلخ کلامی سے ہوتی ہوئی بات باپ بیٹ کے ایک سنگین جھگڑے تک پہنچ گئی۔ ابا نے غصے میں اسے سخت برا بھلا کہا اور پھر ہر تعلق توڑ دیا، مگر فون کال کی ڈور ٹوٹنے سے قبل ہی وہ ڈھے گئے تھے۔ پھپھو اور فاطمہ اس سارے معاملے کی گواہ تھیں۔ معلوم نہیں وہ کیوں سوتی رہ گئی۔
جب میں روحیل کے پاس رات رہا تھا ، تب اس لڑکی نے مجھے ٹریٹمنٹ دی تھی۔ انہوں نے کچھ نہیں بتایا، مگر میں جان گیا تھا کہ ان کے درمیان کیا ہے۔ اس کے کوئی ڈیڑھ سا ل بعد انہوں نے شادی کی تھی۔ یہ مجھے بعد میں امریکا میں مقیم ایک دوست نے بتایا۔ کتنی دیر ایسی باتیں چھپتی ہیں۔ ماموں کو بھی کسی عزیز سے خبر مل ہی گئی۔
وہ نم آنکھوں سے سر ہاتھوں میں دیے سنتی رہی۔ اسے روحیل یا اس کی بیوی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسے صرف ابا کی فکر تھی۔ ڈھائی ماہ قبل کا واقعہ پھر دہرایا جانے لگا تھا کیا؟ وہ پھر علامتی خوشبو میں ایک محبت کو کھونے لگی تھی کیا؟
جب بمشکل انہیں ابا سے ملنے کی اجازت ملی، تب وہ غنودگی میں تھے اور وہ ان کے قریب بیٹھی اندر ہی اندر رو رہی تھی۔ آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، مگر ہر آنسو آنکھ سے تو نہیں گرتا نا۔ شاید اگر ابا کے دوست ذیشان انکل ملنے نہ آئے ہوتے تو وہ آنکھوں سے بھی رونے لگ جاتی، مگر ان سب کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرنا تھا۔ فاطمہ نڈھال تھیں، مگر سبین پھپھو بہت ہمت سے کام لے رہی تھیں۔
سلیمان بہت مضبوط ہے بیٹا! فکر نہ کرو، وہ ٹھیک ہو جائے گا۔
ذیشان انکل کو چھوڑنے وہ فاطمہ کے ساتھ باہر تک آئی تو وہ تسلی دینے لگے۔
وہ ابا کے سب سے اچھے دوست تھے۔ وہ ان کو زیادہ نہیں جانت تھی، مگر فاطمہ واقف تھیں۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، پندرہ سولہ سالہ رجا جو جو قد اور ذہنی طور پر اپنی عمر سے پیچھے تھی۔ قدرے ابنارمل بچی جو گھنگھریالے بالوں والا سر جھکائے مسلسل اخبار پہ قلم سے کچھ لکھتی رہی تھی۔
رجا بہت ذہین ہے۔اس کی نگاہوں کو اپنی بیٹی پہ پا کر ذیشان انکل مسکرا کر بتانے لگے۔ اسے ورڈ پزل اور کراس ورڈ کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ پورا چارٹ حل کرنے میں کئی دن لگاتی ہے، مگر کر لیتی ہے۔
وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔ وہ اپنی بیٹی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، چاہے گھر ہو یا آفس محبت تھی یا فکر یا پھر دونوں۔
ان کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے گھر آئی تھی۔ گھر پہ وحشت اور ویرانی چھائی تھی۔ جیسے سب کچھ تھم گیا ہو۔ وہ ابھی عبایا اتار ہی رہی تھی کہ فون بجنے لگا۔ پرائیویٹ نمبر کالنگ۔
اس روز کے نعد میجر احمد نے آج کال کی تھی، مگر اس نے کال کاٹ دی۔ وہ بار بار فون کرنے لگا، مگر حیا نے فون بند کر دیا۔ وہ اس آدمی سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ ضرورت ہی نہیں تھی۔
ابا ابھی ہسپتال میں تھے۔ آج سبین پھپھو اور فاطمہ ان کے پاس تھیں، سو وہ اور جہان گھر پہ تھے۔ وہ شام کا وقت تھا، مگر روشنی باقی تھی۔ حیا چھت پر منڈیر کے ساتھ لگے جھولے پہ بیٹھی ابا کے گملوں کو دیکھ رہی تھی۔ آج ان پہ سائے نہیں گر رہے تھے۔ مگر وہ پھر بھی مرجھائے ہوئے لگ رہے تھے۔ ان کا اس گھر میں خیال رکھنے والا جو تھا، وہ اب خیال رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔ اس نے بہت سے آنسو اپنے اندر اتارے۔ ابا کے پودے اکیلے ہو گئے تھے۔
کیسی ہو؟ جہان ہولے سے اس کے ساتھ آ کر بیٹھا۔
تمہارے سامنے ہوں۔ تم نے کھانا کھا لیا؟
ہاں! نور بانو میرا کھانا لے آئی تھی۔ اور تم نے؟
موڈ نہیں ہے۔ وہ ابھی تک گملوں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ اسے سرزنش کرنے ہی لگا، مگر رک گیا۔ منڈیر کے سوراخ سے اسے جیسے کچھ نظر آیا تھا۔
سنو! یہ آدمی کون ہے؟
کوں؟ حیا نے ذرا چونک کر گردن پھیری۔ منڈیر کے سوراخ سے تایا کے لان کا منظر واضح تھا۔ وہ اپنے ڈرائیووے پہ کھڑے ایک صاحب کے ساتھ باتیں کر رہے تھے، جو سیاہ سوٹ میں ملبوس، بریف کیس ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ وہ انہیں نہیں پہچانتی تھی۔
پتا نہیں۔ اس نے لاتعلقی سے شانے اچکائے۔
میرا خیال ہے، وہ وکیل ہے۔
تمہیں کیسے پتا؟ اس کے سوٹ کا رنگ تو سمپل بلیک ہے، لائرز والا تو نہیں ہے۔
مگر ٹائی دیکھو، جیٹ بلیک ہے۔ وکیل کی مخصوص ٹائی۔ وہ آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے ان کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ اور میرا خیال ہے وہ ابھی ادھر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حیا نے ذرا حیرت سے اسے دیکھا۔
وہ اپنے ڈرائیووے پہ کھڑے ہیں، تمہیں کیسے پتا کہ ان کا ارادہ کیا ہے؟
غور سے دیکھو! فرقان ماموں کے جوتوں کا رخ کس طرف ہے؟
حیا نے گردن ذرا اونچی کر کے دیکھا۔ تایا ابو کے جوتوں کا رخ نامحسوس سے انداز میں ان کے گھر کے درمیانی دروازے کی طرف تھا۔
انسان جدھر جانے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے پاؤں خودبخود ادھر ہی مڑ جاتے ہیں، چاہے وہ ساکن کھڑا یا بیٹھا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر دوران گفتگو تمہارے مخاطب کے جوتے تمہاری مخالف سمت ہوں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ بور ہو رہا ہے تم سے۔
حیا نے بےاختیار جہان کے جوتوں کو دیکھا اس کے سیاہ تسمے والے بوٹ سیڑھیوں کے دروازے کی سمت تھے۔
اس فائل میں کیا ہو سکتا ہے؟ اب وہ ذرا الجھے ہوئے کہہ رہا تھا۔ حیا نے گردن پھر سے منڈیر کی جانب موڑی۔ نیچے وکیل صاحب اپنے بریف کیس سے ایک فائل نکال کر تایا ابا کو دکھا رہا تھا۔
سلیمان ماموں کمپنی کے ایم ڈی ہیں نا؟
ہاں۔۔۔۔۔۔۔! اور باقی شیئر ہولڈر ہیں۔
ہوں! اس کا مطلب ہے کہ ماموں کی بیماری کے باعث کچھ کام رک گئے ہوں گے، سو باقی شیئر ہولڈرز ان سے کچھ دستخط کروانا چاہ رہے ہوں گے۔ ماموں کا پاور آف اٹارنی کس کے پاس ہے۔
میرے پاس! وہ بےاختیار بولی۔ جہان ذرا سا چونکا۔
اصل میں بہت پہلے ابا نے مجھے اپنا Attorney-in-fact بنایا تھا اور وہ صرف اس صورت میں، جب وہ خدونخواستہ کام کرنے کے اہل نہ رہیں۔
یعنی کہ میں اس وقت اصغر اینڈ سنز کی ایم ڈی سے مخاطب ہوں۔ وہ مسکرایا۔
ارے نہیں! میں تو بس اٹارنی ان فیکٹ ہوں۔ ابا ٹھیک ہو جائیں گے تو خود سنبھال لیں گے۔ سب کچھ۔
اور جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتے؟
تب تک تایا فرقان سنبھال لیں گے۔ اس نے کہنے کے ساتھ نیچے دیکھا۔ تایا فرقان اب سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے فائل کے صفحے پلٹ رہے تھے۔
اس کے لیے انہیں سلیمان ماموں کا پاور آف اٹارنی چاہیے ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شاید وہ ان سے اسی پہ دستخط کروانا چاہتے ہوں گے۔
جہان! ہو سکتا ہے، یہ ان کا کوئی دوست ہو اور تمہارت سارے اندازے غلط ہوں۔
اور اگر میرے اندازے درست ہوئے تب؟ تم انہیں پاور آف اٹارنی لینے دو گی؟
ہاں! کیوں نہیں؟ تایا فرقان، ابا کے بھائی ہیں آخر!
جہان نے جیسے افسوس سے اسے دیکھا۔
مادام! ایک بات کہوں؟ جب باپ کسی قابل نہیں رہتا تو اولاد کے لیے زندگی بدل جاتی ہے۔ یہ جو آج تمہارے ساتھ ہیں نا، ایک دفعہ کاروبار ہاتھ سے گیا تو تمہیں کنارے لگا دیں گے۔
ہر کسی پہ شک مت کیا کرو جہان! وہ بےزار ہوئی۔
یہ فرقان ماموں وہیں ہیں نا، جن کی ہم بات کر رہ ہیں؟ آنکھیں کھولو اپنی، تم انہیں اپنے باپ کی کرسی نہیں دتے سکتیں حیا! اور دیکھو! وہ ادھر ہی آ رہے ہیں۔
وہ بے اختیار چونکی۔ وہ دونوں حضرات واقعی تیزقدموں سے درمیانی دیوار کے منقش لکڑی کے دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ ذرا سیدھی ہوئی۔ جہان کے لبوں پہ ہلکی فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
مگر جہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابا کی غیر موجودگی میں ان کے علاوہ کون سنبھال سکتا ہے کاروبار؟ مجھے تو بزنس ایڈمنسٹریشن کان کچھ نہیں پتا۔ وہ مضطرب سی کھڑی ہو گئی۔
تایا ابا نے گھنٹی بجائی۔ نور بانو کچن سے نکل کر دروازہ کھولنے بھاگی۔
پتا ہو یا نا پتا ہو، تم انہیں اپنی کرسی نہیں لینے دو گی۔ اپنی جگہ کبھی نہیں چھوڑتے۔ ہوٹل گرینڈ کی مثال یاد رکھنا۔ ایک پاشا نے جگہ چھوڑی تو دوسرے پاشا نے قبضہ کر لیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جھولا دھیرے دھیر ہلنے لگا۔
اب چلو! وہ اندر آ ہے ہیں۔
وہ الجھی الجھی سی جہان کے ساتھ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی۔ تایا ابا وکیل صاحب کو باہر چھوڑ کر خود لاؤنج میں آ کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں فائل تھی، مگر حیا کو تب بھی لگ رہا تھا کہ جہان کے اندازے غلط ہیں۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔! تایا نے عجلت بھرے انداز میں اسے پکارا۔ تمہارے ابا اس کنڈیشن میں سائن کر سکتے ہیں؟
وہ آ خری سیڑھیپہ ٹھہر سی گئی۔ حالات اتنے حساس ہو چکے تھے کہ معمولی سی بات بھی بہت زور سے لگتی تھی۔ اب بھی لگی۔ انہوں نے ابا کا حال پوچھنے کی بجائے صرف دستخط کا پوچھا۔
آپ کو کیا سائن کروانا ہے؟ وہ سپاٹ سے انداز میں پوچھتی، وہ ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ جہان بہت سکون سے آخری سیڑھی پہ بیٹھ گیا تھا اور اب گویا تماشا دیکھ رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: