Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 37

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 37

–**–**–

تمہارے کام کی چیز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ سائن کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تایا ابا کو اس کا سوال کرنا سخت ناگوار گزرا تھا۔ جہان ہلکا سا مسکرایا مگر حیا تایا ابا کی طرف متوجہ تھی۔
وہ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر نے ان سے زیادہ بات چیت سے منع کیا ہے۔ وہ دانستہ لمحے بھر کو روکی۔ آپ مجھے بتا دیں تایا ابا! شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔ آخر میں ابا کی اٹارنی ان فیکٹ ہوں۔
تایا فرقان کو جیسے جھٹکا لگا۔ وہ حیرت بھری الجھن سے اسے دیکھنے لگے۔
تم؟ سلیمان نے تمہیں کب اٹارنی ان فیکٹ بنایا؟
بہت پہلے ابا نے اپنا ڈیور ایبل (Durable) پاور آف اٹارنی مجھے دیا تھا اور اس کے مطابق میں ابا کی جگہ کام کر سکتی ہوں۔ پر اعتماد وہ ہمیشہ سے تھی اور اب بھی تایا فرقان کی بارعب شخصیت کے سامنے کھڑی بہت اطمینان سے انہیں بتا رہی تھی۔ خلاف توقع وہ ایک دم غصے میں آ گئے۔
دماغ خراب ہے سلیمان کا۔ وہ اس طرح کیسے کر سکتا ہے؟
اب تو وہ کر چکے ہیں۔ آخر! میں ان کی بیٹی ہوں۔ انہیں مجھ پہ بھروسہ ہے۔
کیا مذاق ہے یہ؟ وہ جیسے جھنجھلائے تھے۔ اب سارا کام کیسے چلے گا۔ل؟ کیا میں ذرا ذرا سی بات کے لیے تمہارے پاس ادھر آتا رہوں؟
اوہ! نہیں تایا ابا! میں آپ سب کو اپنی وجہ سے زحمت نہیں دوں گی۔ کسی کو ادھر نہیں آ نا پڑےگا۔میں کل سے خود ہی آفس آجاؤں گی۔
انٹرسٹنگ! آخری زینے پہ مطمئن سے بیٹھے تماشائی نے دلچسپی سے انہیں دیکھا جو آمنے سامنے کھڑے تھے۔ وہ جیسے دونوں کو تقریبا لڑوا کر بہت لطف اندوز ہو رہا تھا۔
تم۔۔۔۔۔۔۔ تم آفس آؤ گی؟ تمہیں کیا پتا بزنس ایڈمنسٹریشن کا؟ دبے دبے غصے سے انہوں نے ہاتھ سے گویا مکھی اڑائی۔
کیا فرق پڑتا ہے تایا ابا؟ داور بھائی جب پولیٹیکل سائنس میں سمپل ایم اے کر کے آج بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہو سکتے ہیں تو پھر چند دن کے لیے ابا کی کرسی میں بھی سنبھال سکتی ہوں۔
وہ لب بھینچ کر بمشکل ضبط کر کے رہ گئے۔
ہمارے خاندان کی بچی اب آفس آئے گی، لوگ کیا کہیں گے آخر؟ وہ ذرا سے دھیمے پڑے۔
جب وہ اپنے تایا، چاچا اور تایا زاد بھائی کے ساتھ آفس ائے گی تو لوگ کچھ نہیں کہیں گے۔ وہ پہلی بار ذرا سی مسکرائی۔
عجیب رواج چل نکلے ہیں۔ تایا ابا ماتھے پہ بل لیے پلٹ گئے اور لمبے لمنے ڈگ بھرتے باہر نکل گئے۔ اپنے پیچھے دروازہ انہوں نے زور دار آواز میں بند کیا تھا۔
کیا بات ہے! وہ مسکرا کر ستائشی انداز میں کہتا سیڑھی سے اٹھا۔ بس تالی نہیں بجائی ورنہ انداز ویسا ہی تھا۔
تایا ابا نے مجھ سے کبھی ایسے بات نہیں کی۔ وہ ابھی تک ملال سے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ گئے تھے۔
آہستہ آہستہ وہ اس سے بھی زیادہ تحقیر سے بات کرنے لگیں گے۔ بس! دیکھتی جاؤ۔
مگر وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ میں کیسے ابا کی سیٹ پہ بیٹھ سکتی ہوں۔؟ مجھے واقع ان کے کاروبار کا کچھ نہیں پتا۔ اب پہلی دفعہ اسے فکر ستانے لگی۔ تایا ابا کے سامنے جو بڑے بڑے دعوے کیے تھے، ان کو ثابت کرنے کے لے وہ کیا کرے گی؟ ایک دم سے بہت سا بوجھ اس کے کندھوں پہ آ گرا تھا۔
حیا! جب تم نے اس رات کو مجھے وہ ساری باتیں بتائئں تھیں تو میں نے تمہارے بارے میں دو آراء قائم کی تھیں۔ پہلی یہ کہ جو لڑکی کسی کی مدد لیے بغیر اتنا کچھ خود ہی تنہا سہتی ہے، وہ بہت مضبوط لڑکی ہوتی ہے۔ شاید چند ماہ قبل تم اتنی مضبوط نہ ہو, مگر اب ہو گئی ہو۔
وہ نرمی سے کہتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ ابھی تک دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
اور دوسری بات یہ کہ تم نے اس سائیکو آفیسر کا پزل حل کر لیا جس سے مجھے لگا کہ تم ایک سمجھدار اور ذہین لڑکی ہو، جو معمولی سی باتوں سے بھی اپنے مسائل کے حل ڈھونڈ لیتی ہے۔ یقین کرو! بزنس سنبھالنے کے لیے کسی ڈگری سے زیادہ کامن سینس، مضبوط اعصاب اور ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے اور سب تمہارے پاس ہے، پھر فکر کیسی؟
اس نے دروازے سے نگاہیں ہٹا کر جہان کو دیکھا۔
“کیا تم میری مدد کرو گے؟” بہت پر امید انداز میں اس نے پوچھا تھا۔
“بالکل بھی نہیں۔ جو کرنا ہے، اکیلے کرو اور خود کرو کیونکہ تم کر سکتی ہو۔” ایک لا تعلق سا تبصرہ کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے تلملا کر اسے جاتے دیکھا۔ آخر اس نے مدد مانگی ہی کیوں اس آدمی سے؟ سوچا بھی کیسے کہ وہ اس کی مدد کرے گا؟ وہ تو جہان تھا، وہ تو ہمیشہ اسے تنہا چھوڑ کر چلے جانے کا عادی تھا۔
اب وہ کیا کرے گی؟ سر ہاتھوں میں تھامے وہ صوفے پر گر سی گئی۔ اس کی انا کا سوال تھا۔ تایا کے سامنے اتنے دعوے کر کے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔ پیچھے ہٹنے کا راستہ اب بند تھا۔ اسے کل سے واقعی آفس جانا پڑے گا، وہ جانتی تھی۔
“چند دنوں کی ہی تو بات ہے۔ اس نے خود کو تسلی دی۔”
* * * *
رات وہ ابا سے ملنے گئی۔ جب فاطمہ قریب نہیں تھیں تو ان کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے انہیں اپنے فیصلے کا بتایا۔ ساری بات سن کر وہ نحیف سے انداز میں ہلکا سا مسکرائے۔
باقر صاحب سے مل لینا، وہ تمہیں کام سمجھا دیں گے۔” بہت دھیمی آواز میں وہ بس اتنا ہی کہہ پاۓ تھے۔ “اور ذیشان میرا دوست ہے۔ کوئی مدد چاہیے ہو تو اسے کہہ دینا۔
پھر انہوں نے آ نکھیں موند لیں۔ بیماری واحد شے نہیں ہوتی جو انسان کو ڈھا سکتی ہے۔ دکھ زیادہ زور آور ہوتے ہیں۔ وہ بھی ٹوٹ چکے تھے۔ اسے روحیل پہ پہلے سے بھی زیادہ غصہ آیا۔
فاطمہ سے سامنا ہوا تو بس سرسری سا بتایا۔
“کل میں ابا کے آ فس جاؤں گی۔” انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیوں_؟”
“ابا نے کہا تھا۔ اچھا! آپ یہ کاروباری باتیں ان سے مت کیجیے گا۔ ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔”
وہ نگاہ بچا کر اس سے نکل گئی۔ وہ فاطمہ کو جانتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے فیصلے پہ بہت خوش نہیں ہوں گی اور خوش تو شاید خود بھی نہیں تھی۔وہ خود بھی ایسا نہیں چاہتی تھی۔ یہ تو جہان تھا۔جس نے اسے پھنسوایا تھا اور پھر خود پیچھے ہٹ گیا تھا۔
* * * *
سلیمان صاحب کا آفس نہایت پر تعیش انداز میں آرستہ کیا گیا تھا۔ گرے اود گہرے نیلے کی تھیم کے ساتھ، سفید چمکتے ماربل ٹائلز، قمیتی پردے، شاہانہ سا فرنیچر اور اس اونچی، سیاہ، گھومنے والی کرسی کی تو شان ہی الگ تھی، جس پر وہ اس وقت بیٹھی تھی۔
اپنے سلک کے سیاہ عبایا میں ملبوس، دونوں کہنیاں کرسی کے ہتھ پہ جمائے، انگلیوں سے دوسرے ہاتھ میں موجود پلاٹینم گھماتے ہوئے، ٹیک لگا کر بیٹھی، وہ سنجیدگی سے سر ہلاتی باقر صاحب کی بریفنگ سن رہی تھی۔ نفاست سے لیے گئے نقاب میں سے جھلکتی آنکھیں متوجہ انداز میں سکڑی ہوئی تھیں۔
وہ ادھیڑ عمر اور شریف النفس سے انسان لگتے تھے اور اب پوری جانفشانی سے اسے ابا کی کنسٹرکشن کمپنی کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز، شیئر ہولڈرز، کمپنی کے زیر تعمیر پروجیکٹس، ٹینڈرز، وہ سن سب رہی تھی، مگر بعض اصطلاحات بہت مشکل تھیں۔ اسے سب سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ رہ رہ کر اسے کاروباری معلومات میں اپنی کم علمی کا افسوس ہو رہا تھا۔ وہ خود کو سمجھا رہی تھی کہ یہ افسوس بھی کم علمی کا ہے، نہ کہ تایا کو یوں چیلنج کرنے کا، لیکن شاید آخر الذکر پہ اسے زیادہ افسوس تھا۔
کمپنی میں چالیس فیصد شیئرز آ پ کے والد کے ہیں میم! بیس فیصد فرقان صاحب کے، بیس فیصد زاہد صاحب کے اور دس فیصد سیٹھی صاحب کے ہیں۔
اور آخری دس فیصد؟ پہلی دفعہ اس نے زبان کھولی اور ساتھ ہی آ فس کا دروازہ کھلا۔ حیا نے چونک کر دیکھا اور پھر ناگواری کی ایک لہر نے اسے سر سے پاؤں تک گھیر لیا۔ اگر اسے تھوڑا سا بھی خیال آ تا کہ آخری دس فیصد شیئرز ہولڈر ولید لغاری ہو سکتا ہے تو وہ کبھی آفس نہ آتی۔
اوہ! آپ۔۔۔۔۔۔۔ آفس آئی ہیں؟ وہ آپ پہ زور دیتا، طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بہت اعتماد سے چلتا اندر آیا۔ باقر صاحب کے چہرے پہ ناگواری ابھری، مگر وہ خاموش رہے۔
تو سلیمان انکل کی سیٹ آپ سنبھال لیں گی؟ اس کے سامنے کرسی کھینچ کر وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔ کیا بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری آپ نے ترکی سے لی ہے؟ مگر ابا کو تو آپ نے بتایا تھا کہ آپ ایل ایل بی کر رہی ہیں؟
تمسخرانہ انداز میں کہتا وہ واضح پہ اس رات کا حوالہ دے رہا تھا۔ یہ طے تھا کہ پہلی دفعہ نقاب میں دیکھ کر اگر وہ فور اسے پہچان گیا تھا تو وجہ یہی تھی کہ اس نے باہر اسٹاف سے اس کی آمد کے بارے میں سنا تھا۔، تب ہی وہ اتنے اعتماد سے بے دھڑک اس آفس میں داخل ہوا تھا، جس سے وہ غالبا ہمیشہ ہوتا تھا۔
تو میڈم ایم ڈی! کیا ارادے ہیں آپ کے؟ کیا اب اس آفس میں طالبانائزیشن رائج ہو جائے گی؟
وہ جو خاموشی سے لب بھینچے اس کی بات سن رہی تھی، اس نے دائیں ابرو سوالیہ اٹھائی۔ سیاہ نقاب سے جھلکتی آنکھوں کی سختی واضح تھی۔
میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ آپ کی تعریف؟ باقر صاحب یہ صاحب کون ہیں؟
میم یہ لغاری صاحب کے۔۔۔۔۔۔۔۔
پہچان تو خیر آپ گئی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا، آپ کبھی بھول پائیں گی۔ ولید لغاری کہتے ہیں مجھے اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ولید صاحب! میری ایک بات کا جواب دیں۔ متوازن لہجے میں بات کاٹتے ہوئے وہ آگے کو ہوئی اور ایک دوسرے میں پھنسے ہاتھ میز پر رکھے۔ وہ جو استہزائیہ انداز میں بولے جا رہا تھا، رک گیا۔
ولید صاحب! کیا میں نے آپ کو اپنے آفس میں بلایا تھا؟ ولید نے ہنس کر سر جھٹکا۔
میڈم حیا! بلکہ مسز حیا! اب جب آپ کو ادھر کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولید صاحب! کیا میں نے آپ کو بلایا تھا؟ وہ پہلے سے بلند اور درشت آواز میں بولی۔ ولید کی بھنویں سکڑیں۔
سلیمان انکل کے آفس میں آنے کے لیے مجھے اجازت۔۔۔۔۔۔
ولید صاحب! کیا میں نے آپ کو بلایا تھا؟
وہ بے حد اونچی آواز میں کہتی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ باقر صاحب بھی احتراما ساتھ ہی اٹھے۔تابعداری کا ثبوت۔ وفاداری کا احساس۔ ولید کی پیشانی کے بل گہرے ہو گئے۔ وہ تیزی سے اٹھا۔ سلیمان انکل میرے ساتھ یہ سلوک کبھی برداشت نہ کرتے۔
میں آپ کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کر سکتی ہوں۔ باقر صاحب! ان صاحب کو باہر جانا ہے۔ پلیز! دروازہ کھول دیں۔
باقر صاحب نے زرا تذبذب سے اسے دیکھا، پھر پلٹنے ہی لگے تھے کہ ولید نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روکا۔
میں دیکھتا ہوں، آپ کتنے دن اس آفس میں رہتی ہیں۔ اک خشمگیں نگاہ باقر صاحب پہ ڈالتا وہ تیزی سے پلٹا۔
حیا نے کرسی پہ واپس بیٹھتے ہوئے انٹر کام کا ریسیور اٹھایا۔
درخشاں! اگر یہ آدمی مجھے دوبارہ بلا اجازت اپنے آفس میں داخل ہوتا نظر آیا تو آپ کی چھٹی۔ سن لیا آپ نے؟ اور سنایا تو اس نے ولید کو تھا، جو اس کی بات ختم کرنے کے بعد ہی باہر نکلا تھا۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔ جی میم! ابا کی سیکریٹری بو کھلا گئی تھی۔
بیٹھئے! رسیور واپس رکھتے ہوئے اس نے باقر صاحب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
باقی دس فیصد شیئرز ان کے پاس ہیں میم! باقر صاحب نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔ تب تک وہ چند گہرے سانس لے کر خود کو کمپوز کر چکی تھی۔ پہلے عمیر لغاری آفس آیا کرتے تھے، مگر گزشتہ ایک ماہ سے وہ علاج کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں۔ چند مزید تفصیلات کے بعد وہ اسے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی آج متوقع میٹنگ کے بارے میں بتانے لگے۔
میم! ایک ٹریڈ سینٹر کا پروجیکٹ ہیں۔ ہمیں وہ حاصل کرنا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یعنی کہ ٹینڈر کی نیلامی ہے اور ہمیں نیلامی جیتنی ہے؟ اس نے دبے دبے جوش سے اس کی بات کاٹی۔ گزرتے گزرتے کبھی کوئی سوپ سیریل دیکھتی تھی تو اس میں عموما ٹینڈرز کی نیلامی ہو رہی ہوتی اور مخالف کمپنیاں بولی لگا رہی ہوتیں۔ سو کم از کم کچھ تو پتا تھا اسے کنسٹرکشن کمپنی کے معتلق۔ باقر صاحب لمحے بھر کو خاموش ہوئے، پھر نفی میں سر ہلایا۔
نہیں میم! ٹینڈر کی نیلامی کا معاملہ نہیں ہے۔
اچھا! اس نے خفت چھپاتے ہوئے سر ہلا دیا۔ اب وہ درمیان میں نہیں بولے گی۔ خاموش رہ کر بس سنے گی۔
اصل میں ایک گروپ ٹریڈ سینٹر بنانا چاہ رہا ہے۔ وہ اس کے لیے مختلف کمپنیوں کے آئیڈیاز دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون ان کی زمین کو بہترین طور پہ استعمال کر کے ٹریڈ سینٹر بنا سکتا ہے۔ اگر ہمارا آئیڈیا اپروو ہو گیا تو پروجیکٹ ہمیں مل جائے گا۔ میں ہیڈ آرکیٹیکٹ کو بھیجتا ہوں۔ وہ آپ کو مزیر بریف کر دیں گے۔ باقر صاحب مؤدب انداز میں اٹھتے ہوئے بولے۔
ہیڈ آرکیٹیکٹ رضوان بیگ صاحب درمیانی عمر کے تجربے کار انسان تھے، مگر ان کا انداز یوں تھا، گویا ان کے سامنے کوئی ان پڑھ لڑکی بیٹھی ہو، جس کو بریف کرنا وہ اپنی شان میں توہین سمجتے ہوں۔ جان بوجھ کر مشکل اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے وہ بہت لاپروائی سے اس کو اپنا کام دکھا رہے تھے۔
یہ ٹریڈ سنٹر ہے، یہ پارکینگ لاٹ ہے، یہاں ہم یوں کریں گے، یہاں یوں۔۔۔۔۔۔۔۔” حیا اسی انداز سے کمر سیٹ سے ٹکائے ہتھیلیاں ملائے بیٹھی بہت تحمل سے ان کی بات سن رہی تھی۔
اب آپ کو تو اتنا پتا نہیں ہو گا میم! بہر حال یہ اتنا شان دار پروجیکٹ پلان ہے کہ عمارت دیکھتے ہی گاہک فورا کار ادھر پارک کرے گا اور شاپنگ شروع کر دے گا۔
خیر! میں تو اس موت کے کنویں میں کبھی کار پارک نہ کروں۔ کار کو کچھ ہو گیا تو روحیل کبھی نہیں چھوڑے گا کہ وہ اس کی کار تھی، مگر اب تو روحیل نے بہت کچھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کار تو جہان کے پاس تھی۔ پتا نہیں، وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا۔ اف حیا کام پہ توجہ دو۔
وہ سر جھٹک کر ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔ ڈیزائن کی اسے واقعی کچھ سمجھ نہیں تھی، لیکن اگر وہ اتنے قابل آرکیٹیکٹ اس کی اتنی تعریف کر رہے تھے تو یقینا وہ بہت اچھا ہو گا، وہ قائل ہو گئی۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ اس کی توقع سے زیادہ بری رہی۔
ﺟﺐ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﭨﯿﺒﻞ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﮐﺮﺳﯿﻮﮞ ﮐﯽ قطاروں ﭘﮧ ﺳﻮﭨﮉ ﺑﻮﭨﮉ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﻓﺎﺋﻞ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﮯ، ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ قدموں سے چلتی ﮐﺮﺳﯽ ﮐﯽ تک ﺁﺋﯽ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﺮﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺳﯽ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺎﺋﻞ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺎﯾﺎ ﻓﺮﻗﺎﻥ، ﭼﭽﺎ زﺍﮨﺪ چچا، ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ، ﻭﻟﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻏﯿﺮ ﺷﻨﺎﺳﺎ ﭼﮩﺮﮮ۔ ﻟﻤﺤﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮈﺍﻧﻮﺍ ﮈﻭﻝ ﮨﻮﺍ۔
ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﺗﻨﮩﺎ ﺳﮩﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ۔
ﺗﻤﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍزﻟﯽ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﭨﻮﮎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﺻﻐﺮ ﮐﯽ ﺍﭨﺎﺭﻧﯽ ﺍﻥ ﻓﯿﮑﭧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺑﯽ ﺗﮏ میں ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﭧ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ کہ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺗﺎﯾﺎ ﻓﺮﻗﺎﻥ ﻧﮯ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ہاتھ جھلا کر ﮐﮩﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ بہت سنجیدگی سے ﺍنہیں ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺟﯽ ﺳﺮ! ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ کہ ﺑﮩﺖ سے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ، ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ان کی ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ہے۔ ﺍﺏ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﮧ ﮨﺎﮞ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻧﺎﮞ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﭩﯿﻨﮓ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ آ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﻟﯿﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﻭﻟﯿﺪ ﺳﻤﯿﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺳﺐ ﮨﯽ، ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ اس سے ﺑﺎﺕ بہ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﺍﻝ کرتے ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺎﻥ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ ﮐﻨﻔﯿﻮﺯ ﮐﺮنے ﻭﺍﻟﮯ ﺳﻮﺍﻝ اور اس کی توجیہہ پہ استہزائیہ انداز میں سر جھٹک دیا جاتا۔ ﻏﺼﮧ اسے ﺁﯾﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﻋﺎﺋﺸﮯ ﮔﻞ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺻﺒﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﺒﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ۔
ﻣﯿﮉﻡ! ﺁﭖ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﻞ ﺍﯾﻞ ﺑﯽ ﺑﮭﯽ مکمل ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻨﺴﭩﺮﮐﺸﻦ فرم ﮐﯽ ﭘﯿﭽﯿﺪﮔﯿﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ؟
ﺟﺐ ﺁﭖ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﮕﻠﺶ لینگویج ﻣﯿﮟ سپلی ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﭙﻞ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺝ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ و ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﭘﯿﭽﯿﺪﮔﯿﺎﮞ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎؤﮞ ﮔﯽ۔
ﺑﮩﺖ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﻭﮦ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ۔ کانفرنس روم میں سناٹا چھا گیا۔ ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺳﺮﺥ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﮐﺴﮯ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ “ﺍلسلام ﻭ ﻋﻠﯿﮑﻢ” کہہ کر ﺍﭘﻨﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ اسی اعتماد اور قار کے ساتھ دروازے کی سمت بڑھ گئی، جس کے ساتھ وہ اندر آئی تھی۔
ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﺻﻐﺮ ﮐﯽ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﭘﯿﭽﮭﮯ سے ﺍﺱ ﻧﮯ کسی ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯽ۔ ﭘﺮﺳﻮﮞ ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﭼﮭﯽ سی ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺍﭘﺮﻭﻭ ﮐﺮﻭﺍ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺷﺎؤﻧﺴﭧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﭘﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﺻﻐﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺤﺎﺏ درست ﺗﮭﺎ۔
* * * *
ﺑﯿﮉ ﭘﺮ ﻟﯿﺐ ﭨﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮐﯽ ﭘﯿﮉ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ ﭼﻼﺗﯽ، ﻭﮦ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ کی طرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ مکمل ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﺳﮑﮯ۔ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺱ کے ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺮ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﭨﯿﺴﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﺭﮨﯽ تھیں۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔
“ﺣﯿﺎ۔” فاطمہ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺗﮏ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﺻﺒﺢ ﺍﺑﺎ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﺷﻔﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺖ تلے ﺗﮭﮯ۔
ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮐﺎﻏﺬﻭﮞ، ﻓﺎﺋﻠﺰ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺳﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ؟ ﺻﺎﺋﻤﮧ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ خفا ﮨﻮ ﺭﮨﯽ تھیں کہ ﺟﺐ ﺗﺎﯾﺎ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭی ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻣﺎﮞ! ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭨﺎﺭﻧﯽ ﺍﻥ ﻓﯿﮑﭧ ﺑﻨﺎﯾﺎ تھا ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ وہ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﺳﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺋﮯ بنا بولی۔
ﺍﭼﮭﺎ! ﮐﻞ ﺍﺭﺳﻞ ﮐﺎ ﻭﻟﯿﻤﮧ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﭘﮩﻨﻮ ﮔﯽ؟
اﻑ! ﯾﮧ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺟﺐ سے ﺍﺑﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﻝ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺭﺳﻞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﺰﻥ ﺗﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻣﮩﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ گئی ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﻭﻟﯿﻤﮯ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﻣﮑﺴﮉ ﮔﯿﺪﺭﻧﮓ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ اس کی انگلیوں سے درد اب کلائیوں تک سرایت کر رہا تھا۔
ﮨﺎﮞ! ﻣﮑﺴﮉ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﭘﻠﯿﺰ! ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﻣﺖ ﻟﭙﯿﭩﻨﺎ۔ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﯿﮉ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﻧﺮﻭﭨﮭﮯ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺑﻮلیں۔
ﭘﺮ ﺍﻣﺎﮞ ﻣﮑﺴﮉ ﮔﯿﺪﺭﻧﮓ ﺟﻮ ﮨﮯ۔ ﻧﻘﺎﺏ ﺗﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﮯ پتا ﻧﮩﯿﮟ چلا کہ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺲ شے ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﮮ ﮈﺍﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻧﻘﺎﺏ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ؟ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﻧﻘﺎﺏ؟ ﮐﺰﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ ہی ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯿﮟ۔ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻣﺎﮞ! ﻭﮦ ﮐﺰﻧﺰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﮕﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺟﺐ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻧﻘﺎﺏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﮐﺮﻭﮞ ﻧﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﺳﮯ ﺩﺭﺩ اپنے ﺑﺎﺯﻭ ﺗﮏ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﻨﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔
ﺗﻢ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻗﻊ ﺍﻭﮌﮬﻮ ﮔﯽ؟
ﺑﺮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﮌﮪ ﺭﮨﯽ۔ ﺑﮍﮮ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﺎﻡ ﭼﻼ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﻣﮑﺴﮉ ﮔﯿﺪﺭﻧﮓ ﺟﻮ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﺘﯽ ﺍﻟﻮﺳﻊ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﻤﺎ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
ﻣﮕﺮ ﻣﮑﺴﮉ ﮔﯿﺪﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﯿﺒﻠﺰ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺣﯿﺎ! ﻣﺮﺩ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ! ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ۔ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﺗﻮ ﺣﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﻭﯾﭩﺮﺯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺳﻞ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻭﮦ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﮦ ﺗﻮ ﺑﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﯿﺎ۔
ﺑﯿﺲ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺗﻢ ﺑﺤﺚ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻨﭙﭩﯽ ﺳﮯ ﮨﻮتی، ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﻨﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺭﮨﯽ تھیں۔ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ! ﺑﺤﺚ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻘﺎﺏ ﮐﯽ۔
ﺍﭼﮭﺎ! ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ تھیں۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﻭﮦ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﺎ ﻃﻌﻨﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﺎﺑﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﺵ! ﯾﮧ ﻃﻌﻨﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ۔
ﺟﯽ! ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ مجھے ﭘﺮﺍﭘﺮ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
ﺗﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻧﻘﺎﺏ ﻟﻮ ﮔﯽ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﺋﯿﮟ۔
ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﮞ گی ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ تعالی ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ؟
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺣﯿﺎ! ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻏﯿﺒﺖ، ﮔﻠﮯ، ﯾﮧ ﺳﺐ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ہوتا؟ ﮐﯿﺎ ﺻﺮﻑ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ؟
ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻓﻮﻻﺩﯼ ﮔﺮﻓﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺏ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﻨﺪھوں ﭘﮧ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺑﺎؤ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﺍﻣﺎﮞ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺐ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻧﯿﮏ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺖ ﺭﻭﮐﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ، ﻭﮦ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﻣﻨﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﻨﻮ ﻗﺮﯾﻈﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﭼﮭﺎ! ﭘﮩﻠﮯ تو ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺑﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﯾﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﺐ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ پھر ﻭﮨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﻃﻌﻨﮧ۔
ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞ! ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﯾﺎ ﺍﺑﺎ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﯽ، ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺎﺑﺎﺵ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﺑﮭﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ وہ ماس کو برچھی کی طرح زخمی کرتی اذیت کندھوں سے گزرتی، سینے میں اتر رہی تھی۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﻣﺖ ﺩﻭ۔ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﻞ ﺍﯾﻞ ﺑﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻣﺖ ﺁﺯﻣﺎؤ۔ ﺍﺭﻡ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ، ﺑﺎﺕ ﺩﺏ ﮔﺌﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺎﺏ ﻟﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ حق دﺍﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺻﺎﺋﻤﮧ ﭨﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺣﯿﺎ! ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﻥ ﺣﺠﺎﺏ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﯽ۔ ﻧﮩﯿﮟ! ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻋﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ، ﻟﯿﮑﻦ اﮔﺮ ﻣﯿﮟ اپنے ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﻟﮍﮐﯽ ہوﮞ ﺟﻮ ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﻟﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﻨﻮﮞ ﮔﯽ ﺍﻣﺎﮞ!
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺍﺏ ﺍﺱ کی ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﯿﺎﻝ ﻣﺎﺩﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﯿﺮﺗﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺟﻼﺗﯽ، ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻗﻄﺮﮦ ﻗﻄﺮﮦ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺣﯿﺎ! ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ! ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ پہ ﮨﯽ ﺗﻮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻥ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎﺕ ﺳﮯ ﮨﯽ تو ﺧﯿﺮ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺷﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺘﻨﺎ برﺍ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ، ﺗﻢ ﻧﻘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﺲ ﮐﻮ برﺍ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ؟ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﭼﮭﺎ! یعنی ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﻮ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ تو ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﺋﮯ۔۔۔۔۔۔؟ ﮨﺎﮞ! ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ برﮮ ﮨﻮﺋﮯ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺐ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﺎﮞ؟ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻧﻘﺎﺏ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ، ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺍﻣﺎﮞ!
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮭﯿﮓ ﮔﺌﯽ۔ ﺩﺭﺩ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻟﭩﯽ ﭼﮭﺮﯼ ﺳﮯ ﺫﺑﺦ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﻮ ﻗﺮﯾﻈﮧ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﻮ ﻗﺮﯾﻈﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻼ، ﺟﮩﺎﮞ سے ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺗﻢ ﻣﺖ ﮐﮩﻮ، ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺣﺠﺎﺏ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ یہی ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﺑﺮﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻤﮏ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ وہ کہیں سے بھی ایک مہذب اور تعلیم یافتہ خاتون نہیں لگ رہی تھیں۔
ﺍﻣﺎﮞ! ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺳﯿﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﻗﺼﻮﺭ؟ ﻣﯿﮟ تو ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ بس ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺗﮭﺎ؟
ﭘﮩﻠﮯ ﺻﺮﻑ ﻋﻠﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﻣﺎﮞ! ﺍﺏ ﯾﻘﯿﻦ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺎﺭﮮ۔
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ لاﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﺯﻣﺎﺋﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺍﭼﮭﺎ ﺻﺮﻑ ﭘﺮدﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ، ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ کہ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﻑ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ۔
ﺍﻣﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﺟﮕﮧ پہ ﻏﻠﻂ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ۔
ﺑﺲ ﮐﺮﻭ! ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ، ﺗﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﻗﯿﺎﻧﻮﺳﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ۔ ﺗﺮﻗکی ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺍﺳﮯ۔ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﮐﺲ ﻃﺮﻉ ﺭﻭﺯ ﻓﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻣﺎﮞ! ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﺑﺎؤ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ؟ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﺎ۔ ﻭﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺍﭨﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭ! ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﻧﻘﺎﺏ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ۔ ﻭﮦ ﺗﻦ ﻓﻦ ﮐﺮﺗﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﺍﻟﭩﯽ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ خوﻥ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﮔﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺩﻝ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﺭﮔﮍﺍ، ﻣﮕﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ابل پڑے۔
ﺟﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩﻧﺎ کٹھن ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺑﻨﻮ ﻗﺮﯾﻈﮧ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺳﮩﻨﺎ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔ اور ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺐ۔۔۔۔؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺳﮯ ﺭﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
* * * *
ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺟﺒﮑﮧ ﻭﻟﯿﻤﮯ ﮐﺎ ﻓﻨﮑﺸﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ۔ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﯿﻮﯼ ﺑﻠﯿﻮ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺭﻡ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺫﺭﺍ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭧ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ۔ ﻭﮨﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﻭ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ۔
ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮨﭩﺎؤ۔ ﯾﮧ ﻭﮦ فقرہ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﻨﺒﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺭﮨﯽ۔
ﺗﮭﻨﮏ ﯾﻮ! ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮞ۔
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﻟﮕﺘﯽ تھیں۔ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﻓﻌﮩ اﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﮭﻮﻝ ﻟﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﺏ میں ﻭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﻭﯼ ﻣﯿﮑﺮ ﻣﻮﻭﯼ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﺍﻭﮨﻮ! ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻭﮈﯾﻮ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﺑﺎﻟﮑﻞ! ﻭﮦ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺻﺮﻑ ﺷﮩﻼ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ہی ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻟﺒﺘﮧ اب بھی ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺍداﺱ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﺣﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﺏ ﻭﺟﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﻓﻨﮑﺸﻨﺰ ﺣﺠﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﯿﻨﮉ کیے ﺗﮭﮯ، ﮐﻞ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﮯ بحث ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﻼ ﺗﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺧﻮﺷﯽ، ﮨﺮ ﻏﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﺮتی ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﯾﺎ ہے ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺎﻧﮯ ﺷﮩﻼ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺗﮭﯽ۔
ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺍﺟﻨﺒﯿﻮﮞ ﭘﮧ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﺎ۔
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮐﭽﮫ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﺗﺎﯾﺎ ﻓﺮﻗﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﯽ۔
ﻻﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺍﺗﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﺎﯾﺎ ﺑﺮﺁﻣﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ کھڑے ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮔﮩﻤﺎ ﮔﮩﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﻖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺁﺝ ﭘﺮﯾﺰﯾﻨﭩﯿﺸﻦ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ہے۔ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﻧﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺷﺖ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺟﻮ ﺳﺮﺩ ﻣﮩﺮﯼ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ در ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ، اﺳﮯ ﻓﻄﺮﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺎﯾﺎ ﺍﺑﺎ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﯿﺮ! ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻢ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻨﻮﺯ ﺭﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺳﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﯾﺎ ﺍﺑﺎ! ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮ گیا۔ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﻡ ﻭﺭﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ رہے۔ ﺗﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺑﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﮐﮯ ﺑﻞ۔ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯽ۔
ﺍﭼﮭﺎ! ﺑﺎﻗﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﻨﮉﺭ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﭙﻼﺋﯽ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺭﮐﯽ۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮑﺎﻧﮑﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺩﻭ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﺎﮎ ﺗﮏ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﺗﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺁﺗﮯ ﺩﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ، ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺘﺬﺑﺬﺏ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻼ ﺟﺎؤﮞ۔
ﯾﮧ ﺗﻢ ﮐﺲ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟ ﺗﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﮐﮍﮮ ﺗﯿﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﻟﻤﺤﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔
ﺟﯽ؟
تم میرے بیٹے سے پردہ کر رہی ہو؟
تایا ابا! میں تو……….. اس نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ ایک دم بہت بلند آواز میں بولنے لگے۔
میرے بیٹے آوارہ ہیں؟ لوفر لفنگے ہیں؟ بد نیت ہیں؟ کیا کیا ہے میرے بیٹوں نے جو تم ان کے سامنے پردے ڈالنے لگتی ہو؟ اونچی، غصیلی آواز نے اندر باہر خاموشی طاری کر دی۔
وہ بالکل ساکت سی بنا پلک جپھکے انہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔
تم میرے ہی گھر میں کھڑے ہو کر میرے بیٹوں کو گھٹیا اور نیچ ثابت کرنا چاہتی ہو؟ تم میرے بیٹوں کو ذلیل کر رہی ہو۔ وہ غصے سے دھاڑے۔ داور بھائی نے نفی میں سر ہلایا، جیسے انہیں قطعا نہ لگا ہو کہ ان کو ذلیل کیا گیا ہے۔
اندر سے لوگ باہر آنے لگے۔ کوئی کچن سے باہر نکلا۔ کوئی برآمدے کے دروازے سے تماشا سج گیا تھا۔ اور تماشائی جمع ہو رہے تھے۔
میرے بیٹوں نے ساری عمر بھائیوں کی طرح تمہارا خیال رکھا۔ اپنا بھائی تو اس کافر عورت کے ساتھ منہ کالا کر کے بیٹھ گیا ہے نا! مگر تم الٹا میرے بیٹوں کے خلاف محاذ بنا رہی ہو؟ پورے ترکی میں آوارہ پھرتے تمہیں پردے کا خیال نہیں آیا تھا؟
اس کا سانس جیسے رک گیا۔ اسی پل ان کو دیکھا۔ بمشکل وہ چند الفاز کہہ پائی۔
زاہد چچا! آپ تایا ابا کو سمجھائیں، انہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی! یہ ڈھکوسلے تم کس ک لیے کر رہی ہو؟ پہلے ساری زندگی خیال نہیں آیا، اب کہاں کا اسلام شروع ہو گیا ہے تمہارا؟ وہ جوابا اتنے ہی غصے سے بولے۔
پورے خاندان میں ہمارا تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔
سب باتیں بنا رہے ہیں کہ حیا بی بی نقاب میں کھانا کھا رہی تھیں۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ اردگرد لگے مجمعے کی نظریں، تحقیر، طنز، ذلت۔ اس نے کیا کچھ نہیں محسوس کیا تھا۔
آپ سب کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ بولنا چاہتی تھی مگر لبوں سے بس یہی نکلا۔
تایا! آپ کو تو حجاب بہت پسند تھا۔ آپ تو۔۔۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو میرے سامنے، اور میری بات کان کھول کر سن لو! اگر تم آئندہ میرے گھر آؤ گی تو منہ لپیٹے بغیر آؤ گی۔ اگر تمہیں میرے بیٹوں کو اس طرح ذلیل کرنا ہے تو آ ئندہ میرے گھر میں قدم مت رکھنا۔
انگلی اٹھا کر متنبہہ کرتے وہ سرخ چہرہ لیے بولے۔ اس سے مزید کھڑا نہیں ہوا گیا۔ وہ ایک دم پلٹی اور اپنے گھر کی طرف دوڑتی چلی گئی۔
پیچھے تماشائیوں کے مجمع میں کہیں فاطمہ بھی تھیں مگر وہ بھی اس کا ساتھ دینے کے لیے آگے نہیں بڑھی تھیں۔ ان سب نے اسے اندھیری خندق میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔
اپنے لان میں وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر ہی گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور قدموں میں سکت نہیں رہی تھی۔ آنکھوں سے گرم گرم آنسو ابل کر گرتے جا رہے تھے۔
اتنی ذلت؟ اتنی تحقیر، اتنا تماشا؟
یہ تایا فرقان تھے۔ ساری عمر اس حجاب پہ ہی اختلاف رکھنے والے تایا فرقا۔ اب حجاب پر ہی اس کے خلاف ہو گئے تھے۔ ان کا دین، شریعت، سب کدھر گیا تھا؟
اس کی گردن گھٹنوں پہ جھکی تھی۔ وہ روۓ چلی جا رہی تھی۔ پورے خاندان کے سامنے تایا نے اسے ذلیل کیا تھا اسے لگا، وہ اب کبھی سر نہیں اٹھا سکے گی۔
گاڑی کے اندر آنے کی آواز آئی، پھر کوئی اس کے ساتھ آ بیھٹا۔
آج میرا چالان ہوتے ہوتے بچا۔ پوچھو کیوں؟ کسی اور ہی دھن میں محفوظ سا بتا رہا تھا۔
وہ ایک دم کھڑی ہو گئی۔ جہان نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ حیا! کیا ہوا؟ ماموں ٹھیک ہو جائیں گے۔ پریشان مت ہو۔ اس نے یہی اندازہ لگایا کہ وہ ابا کی وجہ سے رو رہی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: