Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 39

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 39

–**–**–

مجھے آپ کو ایک اچھی خبر دینی تھیں جنٹلمین! میٹنگ کے آغاز پہ اس نے مسرور و مطمئن انداز میں انہیں مخاطب کیا جو اپنے سابقہ رویے کو برقرار رکھے اس کی طرف متوجہ تھے۔
ابھی ابھی پتا چلا ہے کہ وینڈر عارف نجمی نے سپلائی بحال کر دی ہے اور وہ بھی پرانی قیمت پہ۔
واقعی؟ فرقان تایا حیران ہوۓ تو زاہد چچا سیدھے ہو بیٹھے۔
مگر اس نے تو اس روز فنانس ڈپارٹمنٹ کے رٶف سے خاصی بدتمیزی کی تھی اور وہ سراسر بلیک میلنگ پہ اترا ہوا تھا۔ میں نے خود اسے فون کیا تھا مگر وہ تو سیدھے منہ بات کرنے کا روادار بھی نہیں تھا۔
پھر آپ کو بلیک میلرز سے نپٹنے کا فن سیکھ لینا چاہیے سر! کیونکہ میں نے اس سے بات کی ہے اور وہ غیر مشروط طور پہ سپلائی بحال کرنے پہ راضی ہو گیا ہے۔
زاہد چچا خاموش ہو گئے۔ ان کے لیے یہ سب خاصا غیر متوقع تھا۔ اگر سلیمان صاحب ان کو آ کر بتاتے کہ انہوں نے وینڈر کو راضی کر لیا ہے تو انہیں حیرانی نہ ہوتی کیونکہ وہ اس قابل تھے تب ہی تو اپنے بڑے بھائی سے زیادہ مضبوط شیئر ہولڈر اور ایم ڈی تھے، مگر حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ بات نگلنا بھی دشوار تھا۔
آپ کو گرین ہاٶس اسکیم کے لیے بجٹ کم پڑ رہا تھا، اس لیے میں نے بجٹ کو ری شیپ کیا ہے۔ وہ اپنے کاغذات آگے پلٹ کر بتانے لگی۔ ہمیں جتنی رقم چاہئے، وہ ہمارے بجٹ کے اندر ہی پوری ہو سکتی ہے، اگر ہم فالتو لوازمات کو نکال دیں۔
مطلب؟ تایا فرقان نے ابرو اٹھاۓ۔
ہم ہر سال تمام شیئر ہولڈرز کو سالانہ پروفٹ کا ایک منقسم حصہ دیتے ہیں، جبکہ بہت سی کمپنیاں شیئر ہولڈرز کو سالانہ پروفٹ dividend دینے کے بجاۓ اس کو ری انویسٹ کرتی ہیں۔ ہم بھی اس دفعہ شئیر ہولڈرز کو وہ حصہ دینے کی بجاۓ اسے اس پروجیکٹ میں لگا دیں گے۔
مگر اس طرح تو مطلوبہ رقم پوری نہیں ہو گی۔
ولید! آپ ان کی بات مکمل ہونے دیں۔ سیٹھی صاحب نے پہلی وفعہ ولید کو ٹوکا۔ پہلی دفعہ بورڈ میٹنگ میں اس کی سائیڈ لی گئی تھی۔ سب خاموش ہوۓ تو اس نے کہنا شروع کیا۔
ہم اپنے بجٹ کا پندرہ سے بیس فیصد حصہ مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ پر خرچ کرتے ہیں۔ ہم فی الحال بھی یہی کر رہے ہیں۔ ہم مارکیٹنگ کر رہے ہیں تا کہ مستقبل میں ہمیں پروجیکٹس ملیں۔ وہ لمحے بھر کو رکی۔ لمبی میز کے گرد موجود تمام ایگزیٹوز اب واقعتاً بغور اسے سن رہے تھے۔
مستقبل کے پروجیکٹس جو ابھی ملے نہیں اور جن پہ کام کرنے کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں، ان کے لیے ہم اپنے حالیہ پروجیکٹ کو قربان نہیں کر سکتے۔ میں نے مارکیٹنگ بجٹ کو گھٹا کر پانچ فیصد کر دیا ہے۔ یوں ہم بہ آسانی وہ رقم آہستہ آہستہ اس پروجیکٹ میں منتقل کر سکتے ہیں۔ کیا کسی کو کائی اعتراض ہے؟“
پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوۓ اس نے ذرا مسکرا کر خاموش پڑے کانفرنس روم پہ نگاہ دوڑائی۔ وہ جانتی تھی کہ اب کوئی اس پہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔وہ آہستہ آہستہ اپنا انتخاب درست ثابت کر رہی تھی۔
* * * *
آج تایا فرقان کے گھر حیا کے دادا کی برسی کی قرآن خوانی تھی۔ خیرات کی دیگیں الگ تھیں۔ سب مدعو تھے، سواۓ اس کے۔ اس کو جانے کی خواہش بھی نہیں تھی۔
وہ مغرب پڑھ کر لاٶنج میں آئی تو فاطمہ، جہان سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ اسے آتے دیکھ کر خا موش ہو گئیں۔
اچھا! میں جا رہی ہوں۔ سرسری سا مطلع کر کے باہر نکل گئیں۔ پھپھو پہلے ہی جا چکی تھیں۔ ابا کمرے میں سو رہے تھے۔ ان کے پاس نرس تھی۔
وہ خاموشی سے صوفے پہ آ بیٹھی اور ٹی وی کا ریموٹ اٹھایا۔ کنکھیوں سے اس نے لاٶنج کی بڑی کھڑکی کے پار اماں کو لان عبور کرتے دیکھا۔ وہ اس سے ناراض نہیں تھیں، بات بھی ٹھیک سے کرتیں، مگر ایسے جیسے کہ انہیں بہت دکھ پہنچایا گیا ہو۔
باہر بجلی زور کی چمکی۔ پل بھر کو کھڑکیوں کے باہر سارا لان روشن ہو گیا۔ پھر اندھیرا چھا گیا۔
وہ کچھ سوچتے ہوۓ اس کے سامنے آ بیٹھا۔ حیا نے ٹی وی نہیں چلایا۔ وہ ریموٹ پکڑے بیٹھی بس اس کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا شاید۔
اماں کیا کہہ رہی تھیں؟ اس نے بظاہر سرسری سے انداز میں پوچھتے ہوۓ بات کا آغاز کیا۔ جہان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ نیلی جینز پہ سیاہ ٹی شرٹ پہنے، گیلے بالوں کو پیچھے کیے، وہ جیسے کہیں جانے کے لیے تیار لگ رہا تھا۔
وہ چاہتی ہیں کہ میں تمہیں سمجھاٶں کہ تم یہ برقع وغیرہ چھوڑ دو۔ وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔ اس کی پشت پہ لاٶنج کی دیوار گیر کھڑکی پہ ٹپ ٹپ قطرے گرنے لگے تھے۔ تاریک پڑا آسمان پہلے ہی بادلوں سے ڈھک چکا تھا۔
تو تم نے کیا کہا؟ وہ اسی طرح مطمئن سے انداز میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی تھی، جیسے وہ اپنے آفس میں بیٹھا کرتی تھی۔
بات تو ٹھیک ہے ان کی۔ تم ایک برقعے کے لیے اپنے اتنے رشتے نہیں کھو سکتیں۔
باہر بادل زور سے گرجے تھے۔ کھڑکی کے شیشوں پہ تڑاتڑ گرتے قطروں کی اب آوازیں آنے لگی تھیں۔
دوسروں کو چھوڑو، تم اپنی بات کرو جہان۔ کیا تم بھی میرے حجاب سے خوش نہیں ہو؟ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی تو اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔
اگر میں کہوں کہ میں نہیں ہوں، تب؟ اگر میں کہوں کہ تم میرے لیے اسے چھوڑ دو، تب؟
دور کہیں زور دار آواز آئی تھی۔ جیسے بجلی گرنے کی ہوتی ہے۔ جیسے صدمہ پہنچنے کی ہوتی ہے۔
کیا تم مجھے چوائس دے رہے ہو؟ یکایک اس کی آواز میں سردمہری در آئی۔
اگر میں کہوں، ہاں تب؟
وہ اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتی دیوار گیر کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ اس نے سیاہ لمبی قمیض اور چوڑی دار پہن رکھا تھا۔ بال بھی سیدھے کمر پہ گر رہے تھے۔ قمیض اور بالوں کے رنگ کا فرق غیر واضح سا تھا۔ سیاہی جس کا نہ آغاز تھا نہ اختتام۔
”مجھے کبھی کسی نے کہا تھا کہ خندق کی کوئی جنگ بنو قریظہ کے بغیر وجود میں نہیں آئی اور تب میں نے سوچا تھا کہ میرے سارے قرابت دار تو میرے ساتھ ہی ہوں گے۔ وہ بھیگتے شیشے کے پار تاریک لان کو دیکھتی کہہ رہی تھی۔
تایا ابا، حجاب کے سب سے بڑے علم بردار، اماں جن کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں اللٰہ کے قریب ہو جاٶں اور میرا شوہر جو روز صبح فجر پڑھنے مسجد جاتا ہے، لیکن آج مجھے پتا چلا کہ عائشے ٹھیک کہتی تھی۔ خندق کی جنگ بنو قریظہ کے بغیر وجود میں آ ہی نہیں سکتی۔
بارش کے ٹپ ٹپ گرتے قطرے شیشے سے لڑھک کر زمین پہ گر رہے تھے جب بجلی چمکتی تو پل بھر کو ان میں قوس ِقزح کے ساتوں رنگ جھلکتے اور پھر اندھیرا چھا جاتا۔ وہ صوفے سے نہیں اٹھا تھا۔ بس گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
اگر میں لوگوں کے لیے حجاب لیتی ہوتی تو لوگوں
کے کہنے پہ چھوڑ بھی دیتی، لیکن میں اب نہیں چھوڑ سکتی۔ آنسو اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر گال پہ پھسلتا گیا۔
کیوں؟ میں یہی نہیں سمجھ پا رہا کہ آخر کیوں؟ وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔ بادل ابھی تک گرج رہے تھے۔
حیا نے جواب نہیں دیا۔ اس نے ایک نظر جہان کو دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر کونے میں رکھی منی پلانٹ کی سبز بوتل اٹھائی۔ پودے کی بیل جھٹک کر نکال پھینکی اور بوتل کو ہاتھ سے پکڑے ہوۓ دیوار پہ دے مارا۔ کانچ ٹوٹا۔ ٹکڑے گرتے گئے اور ایک نوک دار بڑا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں رہ گیا۔
یہ پکڑو۔ اس نے بوتل کی گردن کا وہ ٹکڑا جہان کی طرف بڑھایا۔ اور جا کر اپنی ماں کی گردن میں اتار دو۔
حیا! اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ حیا نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا اور آخری ٹکڑا باقی ماندہ کرچیوں پہ پھینک دیا۔
نہیں کر سکتے نا؟ کانپ اٹھتا ہے نا دل؟ لگتا ہے نا جیسے آسمان پھٹ پڑے گا اگر تم نے ایسا سوچا بھی؟ اس نے گردن موڑ کر بھیگی آنکھوں سے باہر برستی موسلا دھار بارش کو دیکھا۔
مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ وہ بولی تو اس کی آواز آنسوٶں سے بھاری تھی۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے جہان! اللٰہ نے امانت کو آسمان و زمین پہ پیش کیا تھا، مگر دونوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور اسے انسان نے اٹھا لیا تھا۔ تمہاری ماں، ایک انسانی جان تم پہ امانت ہے۔ ایسے ہی مجھ پہ میرا وعدہ امانت ہے۔ میں نے زندگی میں بس، ایک دفعہ کوئی وعدہ کیا اللٰہ تعالیٰ سے۔ کوئی مجھے اسے نبھانے کیوں نہیں دیتا؟
بجلی نے اپنی چاندنی پھر سے ہر سو بکھیر دی۔ بس لمحے بھر کی چاندنی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ اندھیری رات چھا گئی۔
مجھے کسی نے کہا تھا کہ دل مارے بغیر نور نہیں ملتا اور میں سوچتی تھی کہ نور کیا ہوتا ہے؟ جانتے ہو نور کیا ہوتا ہے؟ آنسوٶں نےگلے میں پھندا ڈال دیا تھا، دم گھوٹنے والا پھندا۔
نور قرآن ہوتا ہے۔ اللٰہ کا حکم جن کو پورے کا پورا لیا جاتا ہے۔ ایک حصہ لے کر دوسرے سے انکار نہیں کیا جاتا جہان! میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ اللٰہ کیوں کہتا ہے کہ اگر قرآن کو پہاڑ پہ نازل کرتا تو وہ ٹوٹ جاتا۔ مجھے کبھی اس بات کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ مگر آج آ گئی ہے۔
گرم، ابلتے آنسو اس کی ٹھوڑی سے پھسلتے ہوۓ، گردن تک لڑھک رہے تھے۔ وہ کھڑکی کے باہر دیکھ رہی تھی اور وہ اسے۔
جانتے ہو پہاڑ کیوں ٹوٹتا؟ کیونکہ وہ قرآن کو پورے کا پورا لیتا۔۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص قرآن کو پورے کا پورا اپنے دل پہ اتارتا ہے نا، اسے ایک بار ٹوٹنا پڑتا ہے۔ اس نے جلتی آنکھیں بند کیں۔ اب ہر طرف اندھیرا تھا۔ پل بھر کو بجلی چمکتی بھی تو اسے پروا نہیں تھی۔
لوگوں نے مجھے اس لیے چھوڑا، کیونکہ میں نے اللہ کو نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مجھے واقعی ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں چاہیے۔
اس نے آنکھیں کھولیں۔ وہ واپس پلٹ رہا تھا۔ اس نے دھندلی بصارت سے گردن موڑ کر اس شخص کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا، جس سے اس کی زندگی کا ایک حصہ محبت کرنے میں گزرا تھا۔ وہ اوپر چلا گیا، مگر حیا اسی طرح سیڑھیوں کو دیکھتی رہی۔
چند منٹ بعد وہ اترتا دکھائی دیا۔ اس کا دستی بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ بنا اس کی طرف دیکھے، بنا کچھ کہے، باہر نکل گیا۔ اس نے اسے نہیں روکا، آواز تک نہ دی۔ دے ہی نہیں سکی۔ آنسوؤں نے ہر راستہ روک یا۔ وہ جا رہا تھا۔ وہ جانے کے لیے ہی تو آیا تھا۔
* * * *
#باب_10
وہ جا رہا تھا۔ وہ جانے کے لیے ہی تو آیا تھا۔
اس نے بھیگا چہرہ کھڑکی کی طرف موڑا۔ وہ اب اسے تیز بارش میں سبک قدموں سے لان عبور کرتا نظر آ رہا تھا۔ بوچھاڑ اسے بھگو رہی تھی مگر اس نے اس سے بچنے کے لیے بھی سر پر کچھ نہیں تانا تھا۔ گیٹ کے قریب پہنچ کر وہ لمحے بھر کو رکا اور پلٹ کر دیکھا۔
حیا کا دل ڈوب کر ابھرا۔ رخسار پر بہتے آنسو مزید تیزی سے لڑھکنے لگے۔ جہان نے آخری بار پلٹ کر اسے نہیں بلکہ اوپر اپنی ماں کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھا تھا، چونکہ پھپھو ادھر نہیں تھیں، سو اگلے ہی پل جہان نے گردن ذرا سی تایا فرقان کے گھر کھلنے والے درمیانی دروازے کی طرف موڑی اس کی ماں وہاں تھی۔
اسے اب بھی صرف اپنی ماں کی فکر تھی۔ پھر وہ مڑا اور گیٹ کھول کر باہر نکل گیا۔ حیا پلٹنے لگی، تب ہی اس کو باہر درمیانی دروازے کی اوٹ میں کچھ غائب ہوتا دیکھائی دیا۔ گلابی اور پیلا آنچل۔ ارم کا دوپٹہ جو وہ پہچانتی تھی۔ یقینا ارم ادھر آئی تھی اور وہ سب سن چکی ہو گی۔ اس نے گہری، تھکن زرہ سی سانس اندر کو کھینچی۔
ارم کس سلسلے میں ادھر آئی تھی، وہ نہیں جانتی تھی، نہ ہی یہ کہ جہان نے اسے دیکھا تھا یا نہیں، مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی کہ وہ واپس جا کر تمام رشتہ داروں کے بیچ کھڑے ہو کر سارا قصہ مزے سے دہرائے گی۔ قرآن خوانی کی تقریب میں رنگ بھر جاۓ گا۔
گوسپ کا ایک نیا موضوع۔
لاؤنج میں دروازہ اماں پورا بند کر کے نہیں گئی تھیں، سو اسے یہ خام خیالی ہرگز نہیں تھی کہ ارم نے کچھ نہ سنا ہو گا۔ بس چند ہی منٹ پورے خاندان کو پتا چل جاۓ گا کہ حیا نے جہان کو گنوا دیا ہے۔ وہ حیا کے پردے سے تنگ آ کر اسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ وہ تھکے تھکے سے انداز میں واپس صوفے پہ آ گری۔ کھڑکی کے ساتھ سبز سی بوتل کی کرچیاں ابھی تک بکھری تھیں۔ اس میں انہیں اٹھانے کی ہمت نہیں تھی اس میں ابھی کسی شے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ اس میں ابھی کسی شے کی ہمت نہیں تھی۔
* * * *
وہ ارم ہی تھی اور اس نے وہی کیا جو حیا نے سوچا تھا۔ فاطمہ واپس آئیں تو سخت متاسف تھیں۔ وہ سبین پھپھو کی بات سن ہی نہیں رہی تھیں جو بار بار کہہ رہی تھیں۔
بھابھی! وہ اس وجہ سے نہیں گیا، اس نے مجھے صبح بتا دیا تھا کہ وہ آج چلا جاۓ گا۔ اس نے ویسے ہی چلے جانا تھا۔
پھپھو کو ارم سے بھی شکوہ تھا۔ انہوں نے ارم کو ہلکا سا ڈانٹ بھی دیا تھا کہ غلط بات نہ کرے مگر فاطمہ کا انداز بتا رہا تھا کہ انہیں یقین نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی اس سب کا ذمہ دار تھا تو وہ حیا تھی جس نے اپنی ”ضد“ کے پیچھے سب کھو دیا تھا۔
جب تایا نے اسے بے عزت کر کے گھر سے نکالا تھا، تب وہ روئی تھی لیکن جب جان چلا گیا تو اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے تھے۔ خندق کی جنگ میں صرف بنوقریظہ ہی تو نہیں ہوتا نا۔ اس میں جاڑے کی سختی بھی ہوتی ہے، وہ سردی اور خشکی جو لوگوں کے رویوں میں در آتی ہے۔ رشتے سردمہر ہو جاتے ہیں اور اس میں بھوک کی تنگی بھی ہوتی ہے۔ معاشی دباؤ اور فکر بھی ہوتی ہے۔ وہ اب پروا کیے بنا کان لپیٹے اماں کی ساری باتیں سنتی رہتی اور آگے نکل جاتی۔ آفس میں البتہ اب رویہ ذرا بدلا تھا۔ اس کی بات سنی جاتی تھی، کبھی کبھار تائید بھی ہو جاتی۔ وہ کاریڈور میں چل کر جا رہی ہوتی یا لفٹ کے انتظار میں کھڑی ہوتی، لوگ ادھر ادھر ہٹ جاتے۔ اس کے لیے رستہ چھوڑ دیتے۔ اس کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
ہیڈ آرکیٹیکٹ رضوان بیگ کو اس نے اگلے ہی روز اپنے آفس میں بلایا تھا۔
بیٹھئے۔ اپنے مخصوص انداز میں پاور سیٹ پہ ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے، اس نے ہاتھ سے سامنے کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گئے البتہ چہرے پہ ذرا الجھن تھی۔
کچھ پئیں گے؟
کافی ٹھیک رہے گی!
شیور! اس نے انٹر کام کا ریسیور اٹھایا۔
ایک اچھی سی بلیک کافی اندر بھیجیں، بغیر چینی کے!
رضوان صاحب ذرا چونکے۔ ریسیور رکھ کر وہ واپس کرسی پہ پیچھے ہو کر بیٹھی اور سنجیدگی سے ان کو دیکھا۔
بیگ صاحب! ادھر آپ نے کون سی ملٹی اسٹوری پارکنگ دیکھ لی جو آپ کو لگا کہ اس ٹریڈ سنٹر میں اسے ہونا چاہیے؟
میرا خیال تھا کہ وہ ایک منفرد آئیڈیا ہے جس میں کم جگہ پر ایک بہت بڑی پارکنگ بن سکتی تھی۔
آپ کے ساتھ اور کس کا خیال تھا یہ؟
* * * *#
آپ کے ساتھ اور کس کا خیال تھا یہ؟
رضوان صاحب نے ابرو اٹھائی۔
آپ مجھ پہ الزام لگا رہی ہیں؟ بنا گھبرائے وہ قدرے ناگواری سے بولے۔
بیگ صاحب! آواز نیی رکھ کر بات کریں کیونکہ آپ کے پارٹنر نے ایک دو جگہ بہت فخر سے آپ کا اور اپنا کارنامہ بیان کیا ہے، میں تو پھر آپ سے بند کمرے میں پوچھ رہی ہوں۔
میرا کوئی پارٹنر نہیں ہے، یہ دھمکیاں آپ کسی اور کو دیں۔ ایک عمر گزری ہے کارپوریٹ ورلڈ میں، آپ کی طرح وراثت میں کرسی نہیں ملی۔
وہ استہزائیہ انداز میں کہتے اٹھے۔
اگر میرا آئیڈیا ان کو پسند نہیں آیا تو اس کی ذمہ داری ہم دونوں پر ہے۔ میں نے ڈیزائن بنایا، آپ نے پیش کیا۔ اگر کوئی مسئلہ تھا تو اس وقت آپ کی سمجھداری کدھر تھی؟ جو آپ نے تب کچھ نہیں کیا؟ اب اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے آپ مجھ پہ الزام لگا رہی ہیں۔ مائی فٹ! وہ سر جھٹک کر تیزی سے مڑے اور باہر نکل گئے۔
اس نے جیسے سمجھتے ہوئے سر ہلایا اور فون کا ریسیور اٹھایا۔ ایک نمبر ڈائل کر کے وہ دھیرے سے بولی۔
عمران صاحب! پورے آفس میں موبائل جیمر آن کر دیں جیسا کہ ہم نے پہلے بات کی تھی اور بیگ صاحب کے آفس فون کی ایک لائن مجھے ٹرانسفر کر دیں۔
ریسیور واپس رکھتے ہوئے ایک طویل سانس اس کے لبوں سے آزاد ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے رضوان بیگ کو اکسا دیا ہے۔ وہ اب پہلی کال اسے ہی کریں گے جو ان کا ساتھی تھا۔ اخلاقی حرکت تھی یا غیر اخلاقی، اسے یہی درست لگا تھا۔
* * * *
سمندری بگلے ساحل کنارے پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ رہے تھے۔ نیلا، خوبصورت باسفورس آج صبح بہت ہی پرسکون تھا۔ وہ ہاربر کے قریب سڑک پر ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس کی توجہ سمندر کی طرف تھی ، نہ موسم کی جانب، وہ قدرے تشویش کے عالم میں ایک ہاتھ سے موبائل پہ نمبر ملا رہا تھا جب سلسلہ ملا تو اس نے فون کان سے لگایا۔
ہاں بولو سفیر! کیا مسئلہ ہوا ہے؟ دوسری جانب سے آواز سن کر وہ بھنویں سکیڑ کر بولا تھا۔
عبدالرحمن بھائی! میں نے بہت کوشش کی مگر معاملہ میرے ہاتھ سے باہر ہے۔ میں۔۔۔۔۔۔
سفیر بے! مجھے تمہید سے نفرت ہے۔ سیدھی بات کرو۔ وہ ذرا بے زاری سے بات کاٹ کر بولا تھا۔ کار کی رفتار اس نے قدرے آہستہ کر دی تھی۔ اس کے تنے ہوئے اعصاب پوری طرح فون کی طرف متوجہ تھے۔
بھائی! میں۔۔۔۔۔۔۔ اصل میں بہارے مسئلہ کر رہی ہے۔ اس نے پہلے ہمیں کہا کہ وہ آخری فلائٹ سے جائے گی، سب کے جانے کے بعد۔ اس نے سب کو راضی کر لیا کہ اسی شرط پہ وہ بغیر کوئی شور ڈالے آرام سے چلی جائے گی۔
پھر، وہ نہیں جا رہی؟ اس نے بمشکل اپنی ناگواری چھپاتے ہوئے پوچھا۔
صرف یہی نہیں، اس نے اپنا پاسپورٹ بھی جلا دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جب تک آپ نہیں آئیں گے اس کے پاس، وہ نہیں جائے گی۔
بہارے، عائشے اور آنے کے جانے کے بعد عثمان شبیر کے گھر پہ تھی اور وہ یقینا اسے وہیں بلا رہی تھی۔
سفیر! میں نے تمہیں ایک کام کہا تھا، وہ بھی تم سے نہیں ہوا۔ بہت اچھے! وہ برہمی سے گویا ہوا۔
سوری بھائی! وہ نادم تھا۔
پھر آپ کب آئیں گے؟
میں کیوں آؤں گا؟ اتنا فارغ ہوں میں کہ ایک ضدی بچے کی مرضی پہ چلا آؤں؟ اسے بولو، اس نے جانا ہے تو جائے، نہیں تو نہ جائے۔ مجھے پروا نہیں ہے اور سنو! اب اتنی غیر اہم باتوں کے لیے مجھے تنگ مت کرنا۔ قریبا جھڑکتے ہوئے اس نے فون بند کیا اور ڈیش بورڈ پہ ڈال دیا۔
مسائل پہلے کم تھے جو یہ ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اب اس کا پاسپورٹ پھر سے بنوانا پڑے گا۔ اور یہ بہارے کی شرائط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا ایک دو کام کر لے پھر نپٹے گا وہ اس ٹانگ برابر لڑکی سے۔ ناگواری سے سر جھٹکتے ہوئے اس نے سوچا اس کے سر کے پچھلے حصے میں پھر سے درد اٹھنے لگا تھا۔
* * * *
وہ لاؤنج میں صوفے پہ پیر اوپر کیے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ویسلین کی ڈبی تھی، جس میں سے وہ دو انگلیوں پہ کریم نکال کر ایڑیوں پہ مل رہی تھی۔
فاطمہ اور سبین شام کی چائے پی کر ابھی ابھی اٹھی تھیں۔ ارم کے سسرال والے آئے تھے، شادی کی تاریخ رکھی جا رہی تھی، سو ان کا وہاں ہونا ضروری تھا۔ حیا کا دل بھی نہیں چاہا کہ وہاں ان کے ساتھ ہو جائے، وہ بہت پتھر دل ہو گئی تھی، یا بہت مضبوط، جو دل پہ لگنے والی چوٹوں کو سہنا سیکھ گئی تھی۔
دروازہ ہولے سے بجا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ سونیا دروازے میں کھڑی تھی۔
بھابھی! آئیے، پلیز۔ وہ خوشگوار حیرت سے مسکراتی اٹھی اور ویسلین کی ڈبی بند کر کے میز پہ رکھی۔
تھینکس! سونیا خوش دلی سے مسکراتی صوفے پہ آبیٹھی۔ حیا نے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر ہاتھ پونچھے اور اس کے قریب آ بیٹھی۔ سونیا بظاہر مسکرا رہی تھی مگر اس میں قدرے ہچکچاہٹ تھی، جیسے وہ کھ کہنا چاہتی ہو مگر متذبذب ہو۔
کہیے بھابھی! وہ بغور اس کو دیکھ رہی تھی۔
اصل میں حیا! میں تمہیں لینے آئی تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ تم آ کر ابا سے معافی مانگ لو، ان کی ناراضگی دور ہو جائے گی اور ہم سب پھر سے مل کر بیٹھ سکیں گے۔ دیکھو، اب سب ادھر ہیں، مگر تمہاری کمی پھر بھی محسوس ہو رہی ہے۔
حیا نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ آفس سیٹ پہ بیٹھ کر جس طرح وہ معاملات کا تجزیہ کرتی تھی، ویسے ہی اس کے دماغ نے فورا کڑیاں ملانی شروع کیں۔ ظفر اور دوسرے ملازمین کے ہوتے ہوئی بھی مہمانوں کہ آمد پہ تائی سارا کام سونیا سے کرواتی تھیں۔ اس کو لمحے بھر کی بھی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ سو یہ تو طے تھا کہ وہ خود سے یعنی تائی سے چھپ کر نہیں آئی تھی، مطلب اسے تائی نے ہی بھیجا تھا۔ تا کہ وہ حیا کو جھکا سکیں اور ان کی انا کی تسکین ہو سکے۔ دوسری طرف اس کو معاف کر کے تایا، تائی ایثار اور عظمت کا پرچم بلند کریں گے۔ زبردست۔
میں تیار ہوں بھابھی! وہ بولی تو اس کا لہجہ بے تاثر تھا۔ میں تایا ابا سے ہر اس وقت کی معافی مانگنے کو تیار ہوں جب میں نے ان کا دل دکھایا، جب میں نے کوئی گستاخی کی یا مجھ سے کوئی بدتمیزی سرزد ہوئی۔ ان سے کہیے میں پوری دنیا کے سامنے معافی مانگنے پہ تیار ہوں۔ وہ بڑے ہیں، میں چھوٹی ہوں۔ مجھے جھکنا چاہیے، میں جھک جاؤں گی، لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بھابھی! تایا ابا نے ایک شرط رکھی تھی۔
وہ لمحے بھر کو رکی۔
اور وہ شرط یہ تھی کہ میں ان کے گھر ان کے بیٹوں منہ لپیٹ بغیر داخل ہوں کی، ورنہ نہیں ہوں گی۔ میں ان کی اس بات کا بھی مان رکھوں گی۔ میں ہر بات کی معافی مانگ لوں گی، سوائے اپنے حجاب کے۔ یہاں میں ٹھیک ہوں، وہ غلط ہیں۔ میں ان کے گھر میں داخل نہیں ہوں گی۔ یہ بات آپ ان کو بتا دیں۔
حیا! سونیا نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ اب اتنا بھی کیا پردہ؟ دیکھو اس دن ڈاکٹر زاکر نائیک کہہ رہے تھے کہ۔۔۔۔
بھابھی پلیز، کوئی میرے حق میں بات کرے یا خلاف، مجھے کوئیفرق نہیں پڑتا۔ بہت سی لڑکیاں صرف اسکارف لیتی ہیں، چہرہ نہیں ڈھکتیں کیونکہ انہوں نے اللہ سے اتنا ہی وعدہ کیا ہوتا ہے۔ سو جتنا وہ کرتی ہیں، اس پہ قائم رہتی ہیں، اس سے نیچے نہیں جاتیں۔ میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا کہ جو حکم سن لوں گی اور اس پہ دل کھل جائے گا، اپنا لوں گی۔ اب میرا دل نقاب کے لیے کھل چکا ہے۔ پلیز مجھے اس نبھانے دیں۔
وہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایڑی پہ لگائی چکنائی کو انگلیوں سے مل بھی رہی تھی۔ ذرا سی سخت پڑی ایڑی اس کی پوروں کو کھردری محسوس ہو رہی تھی۔
دیکھو! تمہاری بات ٹھیک ہے۔ مگر حیا! تم جانتی ہو پورا خاندان باتیں بنا رہا ہے کہ جہان تمہیں صرف اس لیے ٹھکرا گیا ہے کیونکہ تم نے اپنی دقیانوسی ضد نہیں چھوڑی۔
بھابھی! جب ارم نے یہ بات سرعام کہی تھی، تب پھپھو نے بتایا تھا کہ وہ صرف اپنی چھٹی ختم ہونے پہ واپس گیا ہے مگر لوگوں نے ان کی بات پہ یقین نہیں کیا۔ انہوں نے ارمکی بات پہ یقین کیا۔ لوگ اسی بات پہ یقین کرتے ہیں جس پہ وہ یقین کرنا چاہتے ہیں۔
اور اگر جہان نے تمیں واقعی اس بات پہ چھوڑا ہو، تب تم کیا کرو گی؟ وہ جیسے بہت فرصت سے اسے سمجھانے آئی تھی۔
بھابھی! یہ میرا اور اس کا مسئلہ ہے، جسے ہم ہینڈل کر لیں گے۔ میں نیکسٹ ویک ترکی جا رہی ہوں نا، بات کر لوں گی اس سے۔ پورے خاندان کو اس بات کی اتنی فکر کیوں ہے، مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی۔ بات کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی انگلیاں ایڑی کا مساج بدستور کر رہی تھیں۔
مگر حیا! تم یہ بھی دیکھو کہ کزنز سے پردہ کون کرتا ہے۔ میری ایک فرینڈ کا تعلق بہت سخت قسم کی پٹھان فیملی سے ہے مگر ان کے ہاں بھی کزنز سے چہرے کا پردہ نہیں کیا جاتا۔ ٹھیک ہے، وہ سب اسلام کا حصہ ہے مگر اب اس سب کو دقیانوسی سمجھا جاتا ہے۔ زمانہ بہت آگے بڑھ گیا ہے۔
اس نے بہت دکھ سے سونیا کو دیکھا۔
اگر میرے اور آپ کے رسول اللہﷺ آج ہمارے سامنے ہوتے تو کیا آپ ﷺ کی موجودگی میں بھی آپ یہی بات کہہ سکتیں؟
سونیا ایک دم بالکل چپ ہو گئی۔
بتائیں نا بھابھی! آپﷺ کے سامنے آپ سے پوچھا جاتا تو آپ، آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کو سپورٹ کرتیں یا اپنے ساس سسر کو؟
سونیا نے لب کھولے، مگر کچھ کہہ نہیں سکی۔ اس کے پاس سارے الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ حیا نے ڈبی سے ذرا سی مزید ویسلین نکالی اور دوسری ایڑی پہ دھیرے دھیرے رگڑتے ہوئے بولی۔
کیا آپ جانتی ہیں کہ داور بھائی پہلے مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے؟ سونیا کی آنکھیں حیرت سے ذرا سی کھلیں۔ دھیرے سے اس نے نفی میں سر ہلایا۔
بالکل ایسے جیسے فرخ کچھ عرصہ پہلے تک مجھ سے شادی کے لیے تائی اماں کو تنگ کرتا رہا ہے، ویسے ہی داور بھائی نے بھی بہت اصرار کیا تھا۔ یہ بات میں نے تائی کے منہ سے آپ کی شادی سے دو روز قبل سنی تھی۔ جانتی ہیں داور بھائی ایسا کیوں چاہتے تھے؟
وہ کچھ نہیں بولی۔ وہ بس بنا پلک جھپکے شاک کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔
کیونکہ میں ہمیشہ بہت تیار رہا کرتی تھی۔ اب بھی رہتی ہوں۔ میرے کپڑے، جوتے، بال، ناخن۔۔۔۔ میں ہر چیز میں آج بھی اتنی ہی تراش خراش کر رکھتی ہوں جتنا پہلے رکھتی تھی۔ فرق بس اتنا ہے کہ اب میں باہر نکلتے ہوئے خود کو ڈھک لیتی ہوں۔ جانتی ہیں اس سے کیا ہوتا ہے؟ بس اتنا کہ دوسری عورتوں کے شوہر میری طرف متوجہ نہیں ہوتے اور یوں اپنی بیوی سے ناخوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں رہتی ان کے پاس۔
ایڑی میں ساری چکنائی جذب ہو چکی تھی۔ وہ اب بھی پہلے کی طرح کھردری تھی مگر وہ جانتی تھی کہ یہ چکنائی ایک دم سے اثر نہیں کرتی۔ آہستہ آہستہ وہ کھردرے پن کو نرم کرے گی اور یوں پھٹی ہوئی جلد ویسی ہو جائے گی جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔
کیا آپ اب بھی مجھے غلط سمجھتی ہیں؟ ٹشو سے ہاتھ پونچھتے ہوئے اس نے بہت اطمینان سے دیکھا۔ وہ جو بالکل گم صم سی بیٹھی تھی۔ کچھ کہے بنا اٹھ کھڑی ہوئی۔
حیا نے دور تک سونیا کو جاتے دیکھا اور پھر اپنی پھٹی ایڑیوں کو۔ آہستہ آہستہ یہ نرم پڑ جائیں گی۔ وہ جانتی تھی کچھ چیزیں کافی وقت لیا کرتی ہیں۔
* * * *
اس دن اس سے صرف اتنی غلطی ہوئی کہ وہ بغیر بتائے زارا سے ملنے چلی آئی تھی۔ آج آفس میں کام زیادہ نہیں تھا، ویسے بھی باقر صاحب کو وہ اپنی ٹاپ Heirarchy کو از سر نو تشکیل دے کر نگران بنا چکی تھی۔ اب اسی ہفتے واپس ترکی جا کر کلیئرنس کروانی تھی انہی سوچوں میں غلطاں وہ اس کے گھر آئی۔
زارا اندر کمرے میں ہے، فارینہ وغیرہ آئی ہوئی ہیں۔ تم اندر چلی جاؤ۔ زارا کی ممی اسے دروازے پہ ہی مل گئیں۔ وہ کہیں جانے کے لیے نکل رہی تھیں۔ خوش اخلاقی سے بتا کر وہ باہر نکل گئیں۔ وہ سر ہلا کر اندر آ گئی۔
زارا کا کمرا کاریڈور کے آخری سرے پہ تھا۔ گھر میں خاموشی تھی۔ کمرے سے باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ فارینہ اور مشال کی آوازیں، اس کی کلاس فیلوز اور فرینڈز، یقینا وہ اچھے وقت پہ آئی تھی۔ ان سے بھی مل لے گی۔ یہی سوچ کر وہ چند قدم آگے آئی مگر اس سے پہلے کہ وہ مانوسیت پیدا کرنے کے لیے آواز دیتی ادھ کھلے دروازے سے آتی آوازوں نے اسے روک دیا۔
حیا کو مت بلانا پلیز! بے زاری سے بولتی وہ زارا تھی۔ بے اختیار وہ پیچھے ہٹتی دیوار سے جا لگی۔ سانس روکے۔ وہ اب ان کی گفتگو سن رہی تھی۔
کیا یار! اکھٹے ہو جائیں گے تو مزا آئے گا نا۔ فارینہ کو ذرا حیران ہوئی۔
تم اس سے ملی نہیں ہو نا ترکی سے واپسی پہ، اسی لیے کہہ رہی ہو۔ ورنہ وہ اتنی بور ہو گئی ہے کہ کوئی حد نہیں۔ تمہیں پتا ہے اس نے برقع پہننا شروع کر دیا ہے۔ آئی مین رئیل والا برقع! وہ رئیل پہ زور دے کر جیسے بے یقینی کا اظہار کر رہی تھی۔
برقع؟ ڈونٹ ٹیل می زارا!
ہاں، میں نے اسے بولا، تم ترکی سے آئی ہو یا عمرے سے۔
یہ جھوٹ تھا۔ زارا نے کبھی اسے ایسے نہیں کہا تھا۔ وہ دم سادھے سنے گئی
میں اس کا وہ کالا طالبان والا برقع ود اسٹینڈ نہیں کر سکتی۔ پلیز اسے کال مت کرنا۔ اسے دیکھ کر میرا دم گھٹتا ہے۔ پتا نہیں اس کا اپنا کیا حال ہوتا ہو گا۔
خیر! حیا کو میں جتنا جانتی ہوں، اس لحاظ سے اس نے برقع بھی ڈیزائنر لیا ہو گا، برانڈ برقع۔ شاید فیشن میں کر رہی ہو گی۔
اب مزید کھڑے ہونا خود کو ذلیل کرنا تھا۔ وہ بنا چاپ پیدا کیے واپس پلٹ گئی۔ باہر گیٹ کیپر کے قریب وہ رکی تھی۔
زارا کو بتا دینا کہ میں آئی تھی مگر جا رہی ہوں۔ وجہ پوچھیں تو کہنا کہ انہیں معلوم ہے۔ سختی سے دو ٹوک انداز میں کہہ کر وہ باہر کار کی طرف بڑھ گئی۔
چلو اور کہیں دور لے جاؤ۔ میں ذرا دور جانا چاہتی ہوں۔ پچھلی سیٹ پر بیھٹتے ہوئے اس نے تھکے تھکے سے انداز میں ڈرائیور سے کہا، جس نے سر ہلا کر کار اسٹارٹ کر دی۔
اس نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ گردن کے پچھلے حصے اور کندھوں پر عجب سا دباؤ محسوس ہونے لگا تھا۔ جیسے اب اعصاب تھکان کا شکار ہو رہے ہوں۔ وہ انسان ہی تھی۔ اس کی قوت برداشت اور اعصاب کی مضبوطی کی بھی ایک حد تھی۔ اس سے زیادہ پریشر وہ نہیں لے سکتی تھی۔ ہر دروازے سے دھتکارے جانا، ہر جگہ سے ٹھکراۓ جانا، ہر دوست کا چھوٹ جانا، کیا مشکلات کی کوئی حد تھی؟ صبر، صبر، صبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کتنا صبر کرے، ایک نقاب ہی تو کرنا شروع کیا تھا اس نے، ایک دم سے اتنے چہروں سے نقاب کیسے اتر گۓ؟
ڈرائیور بے مقصد سڑکوں پہ گاڑی چلاتا رہا۔ بہت دیر بعد جب اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تو اس نے گھر چلنے کا کہا۔
ابا کمرے میں تھے۔ آج ٹیک لگا کر بیٹھے، عینک لگاۓ اخبار دیکھ رہے تھے۔ اس نے دروازے کی درز سے انہیں دیکھا۔ ایک تھکی تھکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی۔ پھر وہ انہیں بنا تنگ کیے اپنے کمرے میں چلی آئی۔
زارا کی باتوں نے اتنا ڈسٹرب کیا تھا کہ وہ رات کا کھانا بھی نہیں کھا سکی۔ فاطمہ نے پوچھا۔ ان کا رویہ زرا بہتر تھا۔ آخر ماں تھیں، مگر اس نے بھوک نہ لگنے کا بہانہ کر دیا اور اوپر چھت پہ چلی آئی۔
کین کا جھولا ویران پڑا تھا۔ وہ اس پہ آ بیٹھی تو دھیرے سے بہت سی یادیں سامنے دیوار سے لگے ابا کے گملوں کے اوپر سائے بن کر ناچنے لگیں۔ آج چاند کی روشنی کافی تیز تھی، پودوں کے پتے چمک رہے تھے۔ اسے سبانجی میں جھیل کے کنارے پہ چھائی چاندنی کہ تہہ یاد آئی اور چاندی کے مجسمے اور اسی جگہ بیٹھا وہ شخص جو خاموشی سے اس کی کہانی سنے گیا تھا، مگر اپنی نہیں سنائی تھی۔ واپس جا کر فون بھی نہیں کیا۔ وہ تھا ہی ایسا، پھر بھی وہ اس سے امید وابستہ کر لیتی تھی۔ پاگل تھی وہ۔
بہت دیر جھولے پہ بیٹھی ابا کے گملوں کو دیکھتی رہی۔ اب بیمار پڑے تو ملازموں نے بھی ان کا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ منڈیر کی سامنے والی دیوار کے ساتھ رکھے تھے۔ ان کے اور منڈیر کے درمیان قریبا چار گز چوڑا صحن تھا۔ وہ چھت کا پچھلا حصہ تھا۔ ٹیرس دوسری طرف تھا۔ وہ اب ٹیرس پہ نہیں بیٹھتی تھی کہ وہاں بے پردگی ہوتی تھی سامنے گھروں میں نظر آتا تھا، اللہ، اللہ، پھر پردہ!
اس نے بد دلی سے سر جھٹکا، نہیں، وہ اپنے پردے سے تنگ نہیں پڑ رہی، مگر پھر وہ بےزاری کیوں محسوس کر رہی ہے؟
اپنی سوچوں سے اکتا کر وہ ایک دم کھڑی ہوئی اور اندر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی، مگر پھر رک گئی۔ گملوں اور منڈیر کے درمیان کچھ تھا۔ کچھ چمکا تھا۔
کون؟ وہ ذرا چوکنی ہو کر پیچھے ہوئی۔ کوئی ہے؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: