Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 40

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 40

–**–**–

وہاں ہر طرف سناٹا تھا۔ خاموشی۔ اندھیرا۔ کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر شاید اس کا وہم ہو۔ اس نے سر جھٹک کر پھر سے قدم اندر کی جانب بڑھانے چاہے مگر لمحے بھر کو پھر سے کچھ چمکا۔
کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون ہے؟ وہ بالکل ساکن کھڑی پلکیں سکیڑے اس جگہ کو دیکھے گئی۔ اسے ڈر نہیں لگ رہا ہے۔ وہ بالکل بھی خوف زدہ نہیں ہے۔ اس نے خود کو بتانے کی کوشش کی، مگر فطری خوف نے اسے چھوا تھا۔ پھر وہ کچھ سوچ کر آگے بڑھی۔ گملوں کی قطار کے ساتھ چلتی وہ آخری گملے تک پہنچی جس میں لگا منی پلانٹ ڈنڈی کی مدد سے قریبا چھ فٹ اونچا کھڑا تھا۔ وہاں کچھ بھی نہیں تھا، مگر کچھ تھا۔ کسی احساس کے تحت وہ ذرا سی آگے ہوئی اور پھر ایک دم رک گئی۔
خدایا! وہ جیسے کرنٹ کھا کر دو قدم پیچھے ہٹی اور پھر بے یقینی سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے گردن اونچی کر کے دیکھا۔
اونچے منی پلانٹ سے لے کر چھت کی منڈیر تک ایک ان دیکھی دیوار سی بنی تھی، مکڑی کے جالے کی دیوار۔ جیسے کسی بیڈ مینٹن کورٹ میں جالی دار نیٹ لگا ہوتا ہے۔ وہ چھ فٹ اونچا اور بے حد لمبا سا جالا بے حد خوبصورت اور سحر انگیز تھا۔ اس کے تانے بانے بہت نفاست سے بنے تھے گو کہ وہ بہت پتلا تھا، پھر بھی چاند کی روشنی کسی خاص زاویے سے پڑتی تو دھنک کے ساتوں رنگ چمکتے۔
وہ اسے تحیر سے دیکھتی الٹے قدموں پیچھے آئی۔ اگلے ہی پل وہ اندر سیڑھیوں کے دہانے پہ غصے سے نوربانو کو پکار رہی تھی۔
جی، جی آئی۔نور بانو جو کچن میں کھانے کے برتن سمیٹ رہی تھی، بھاگتی ہوئی باہر آئی۔
جاؤ کوئی جھاڑو لے کر آؤ۔ اتنے جالے لگے ہیں چھت پہ۔ تم صفائی کیوں نہیں کرتی ٹھیک سے؟ پتا نہیں اسے کس بات پہ زیادہ غصہ چڑھا تھا۔ اس کے تیور دیکھ کر نوربانو بھاگتی ہوئی لمبی والی جھاڑو لیے اوپر آئی۔
اتنا بڑا جالا جہاں بنا ہی کیسے؟ جب نور بانو اس کے
ساتھ باہر چھت پر آئی تو وہ حیرت اور اچنبھے سے جیسے خود سے بولی تھی۔
حیا باجی! دیکھیں نا، یہاں کی صفائی کی ذمہ داری نسرین کی ہے، وہ روز چھت صاف نہیں کرتی۔ مجھے تو لگتا ہے کافی دن سے ادھر سے گزری بھی نہیں ہے۔ گزری ہوتی تو جالا نہ بنتا۔ یہ مکڑیاں جالے ادھر ہی بناتی ہیں جہاں کچھ عرصہ کچھ گزرا نہ ہو، چاہے بندہ، چاہے جھاڑو۔ جتنے اتار لو جالے، پر کچھ روز بعد بن لیتی ہیں۔ سدا کی کام چور ہے نسرین، ذرا سا کام نہیں ہوتا۔ یہ جالا دیکھنے میں کتنا بڑا تھا جی، مگر جھاڑو ایک دفعہ ماری اور اتر گیا۔ اتنی سی بات تھی۔
نور بانو جھاڑو ہوا میں اوپر نیچے مارتی جلدی جلدی وضاحتیں دے رہی تھیں۔ حیا نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ درست کہہ رہی تھی۔ وہاں سے کافی دنوں سے کوئی نہیں گزرا تھا۔ وہ بھی ادھر آتی تو جھولے پہ بیٹھ کر تھوڑی دیر بعد اندر چلی جاتی۔ اسی لیے تو جالا بنا تھا۔ اسی لیےتو جالے بنتے ہیں۔ اس کے دل میں بھی بن گئے تھے۔ اب اسے ان کو صاف کرنا تھا۔ کیسے؟ لمحے بھر بعد ہی اس کے دل نے اسے جواب دے دیا تھا۔
اسے اب صبح کا انتظار تھا۔
* * * *
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ویسی ہی خوب صورت اور پر سکون تھی جیسی وہ چھوڑ کر گئی تھی۔ لہلہاتا سبزہ، کشادہ سڑکیں اور کیمپس کے سرخ اینٹوں والے بلاکس۔ کیمپس میں رش بہت کم تھا۔ وہ بنا کچھ دیکھے، سیدھی ڈاکٹر ابراہیم حسن کے آفس آئی تھی۔ خوش قسمتی سے اسے ان کا نمبر مل گیا تھا اور چونکہ وہ ان کی ایک اچھی اسٹوڈنٹ تھی، اس لیے انہوں نے ملاقات کا وقت طے کر لیا تھا۔ السلام علیکم سر! اجازت ملنے پہ ان کے آفس میں داخل ہوتے ہوۓ وہ بولی۔ وہ معمر مگر پر وقار سے استاد تھے۔ مسکراتے ہوۓ اس کے لیے اٹھے اور ”وعلیکم السلام“ کہتے ہوۓ سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
بہت شکریہ آپ نے ٹائم دیا۔ میں کچھ پریشان تھی، سوچا آپ سے ڈسکس کر لوں، شاید کوئی حل نکل آۓ۔ کرسی کھینچتے ہوئے اس نے وہی بات دہرائی جو فون پہ کہی تھی۔ اپنے سیاہ عبایا اور نفاست سے لیے گئے نقاب میں وہ بہت تھکی تھکی لگ رہی تھی۔
شیور۔ آپ بتایئے اور چاۓ لیں گی یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
نہیں نہیں سر! پلیز، کچھ بھی نہیں۔ بس میں بولنا چاہتی ہوں۔ مجھے ایک سامع چاہیے۔
انہوں نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔ وہ منتظر تھے۔ حیا ایک گہری سانس لے کر ٹیک لگا کر بیھٹی کہنیاں کرسی کی ہتھی پہ رکھے، ہتھیلیاں ملاۓ، وہ پلاٹینیم کی انگوٹھی انگلی میں گھماتے ہوۓ کہنے لگی۔
میں جانتی ہوں کہ ایک مسلمان کا بہترین ساتھی قرآن ہوتا ہے اور اسے اپنی تمام کنسولیشن (ہدایت) اللہ تعالی سے لینی چاہیے اپنا مسئلہ صرف اللہ کے سامنے رکھنا چاہیے، لیکن اگر یہی کافی ہوتا تو اللہ تعالی سورہ عصر میں یہ نہ فرماتا کہ ”انسان خسارے میں ہے، سواۓ ان کے جو ایمان لاۓ اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی۔ اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔“ سر! یہ جو وتواصو بالصبر ہوتا ہے نا، یہ بندے کو بندے سے ہی چاہیے ہوتا ہے، خصوصا تب جب دل میں مکڑی کے جالے بن جائیں۔
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ کرسی پہ قدرے آگے ہو کر بیٹھے وہ بہت توجہ سے اسے سن رہے تھے۔
آپ مجھے جانتے ہیں، آپ کو معلوم ہے کہ میں ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ میرے لیے دین کبھی بھی لائف سٹائل کا حصہ نہیں رہا تھا، پھر بھی میں ایک بری لڑکی کبھی بھی نہیں تھی۔ ہر انسان اپنی کہانی خود سناتے ہوۓ خود کو مارجن دے دیا کرتا ہے، شاید میں بھی دے رہی ہوں۔ پھر بھی میں بے شک حجاب نہیں لیتی تھی، مگر لڑکوں سے بات نہیں کرتی تھی۔ میری کسی لڑکے سے خفیہ دوستی نہیں تھی۔ میں دوکان دار سے پیسے پکڑتے ہوۓ بھی احتیاط کرتی تھی کہ ہاتھ نہ چھوۓ۔ میرا نکاح بچپن میں ہوا تھا اور میں اتنی وفادار تھی کہ اگر کبھی کسی لڑکے سے یوں ملی تو اسی نکاح کو بچانے کے لیے۔
وہ کہہ رہی تھی اور ہر ہر لفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے تکلیف عیاں تھی۔ دل میں چبھے کانٹے اتنی اذیت نہیں دیتے جتنا ان کو نوچ کر نکالنے کا عمل اذیت دیتا ہے۔
پھر میں باہر چلی گئی۔ وہاں بھی دین میرے لیے بس اتنا ہی تھا کہ میلاد اٹینڈ کر لیا اور ٹاپ قپی میں متبرکات دیکھ کر سر ڈھانپ لیا، بس ثواب مل گیا، پھر جو چاہے کرو، مگر پھر میں نے محسوس کیا کہ میری عزت نہیں ہے۔ میں نے خود کو بے عزت اور رسوا ہوتے دیکھا۔ میری نیت کبھی بھی غلط نہیں ہوتی تھی، پھر بھی میں رسوا ہو جاتی تھی۔ تب میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کیوں ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے مجھے دو طرح کے عذاب چکھاۓ۔ روحانی اور جسمانی۔ پہلے میں نے موت دیکھی، اور موت کے بعد جہنم۔ درد سے اس نے آنکھیں میچ لیں۔ بھڑکتا الاؤ، دہکتے انگارے۔ سب کچھ سامنے ہی تھا۔
میری جلد پر آج بھی وہ زخم تازہ ہیں جو اس بھیانک حادثے نے مجھے دیے اور تب مجھے سمجھ میں آ گیا کہ اللہ کی رضا صرف تمنا اور خواہش سے نہیں ملتی۔ اس کے لیے دل مارنا پڑتا ہے۔ محنت کرنی پڑتی ہے اور میں نے دل مارا۔ تا کہ میری آنکھ میں اور دل میں اور وجود میں نور داخل ہو جاۓ اور میں نے وہ سب کرنا چاہا جو اللہ تعالی چاہتا تھا کہ میں کروں مگر تب مجھے کسی نے کہا تھا کہ قرآن کی پہیلیاں زیادہ دلچسپ ہوتی ہیں اور یہ کہ ”احزاب“ میں آیت حجاب اترنا بھی ایک پہیلی ہے۔ اس نے اس پہیلی کو یوں حل کیا کہ حجاب لینا خندق کی جنگ کو دعوت دینے کے مترارف ہے۔ جہاں کسی عہد میں بندھے بنوقریظہ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، جہاں جاڑے کی سختی اور بھوک کی تنگی ہوتی ہے اور پھر میں نے خود کو اسی خندق میں پایا۔ اب جب کہ میں اس دوسرے لائف اسٹائل کو نہیں چھوڑنا چاہتی تو لوگ مجھے اس پہ مجبور کر رہے ہیں۔ میرے سگے تایا جو اپنی بیٹی کو ساری عمر اسکارف کرواتے آئیں ہیں، وہی اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ میں کیسے اس دل کی ویرانی پہ قابو پاؤں جو میرے اندر اتر آئی ہے؟ میں کیسے ان جالوں کو صاف کرو؟
بہت بے بسی اور شکستگی سے کہتے اس نے اپنا سوال ان کے سامنے رکھا۔ دل جیسے ایک غبار سے صاف ہوا تھا۔ ایک بوجھ سا کندھوں سے اترا تھا۔
میں جہاں تک آپ کی بات سمجھ سکا ہوں۔ بہت دھیمے مگر مضبوط لہجے میں انہوں نے کہنا شروع کیا۔ تو آپ کے دل میں مکڑی کے جالے اسی لیے بن رہے ہیں کہ آپ لوگوں کے ان رویوں کو دائمی سمجھ رہی ہیں۔ دیکھیں! قرآن کیا کہتا ہے؟ ایک سوره ہے جس کا نام عنکبوت یعنی ”مکڑی“ ہے، اس میں یہی لکھا ہے نا کہ جو شخص اللہ تعالی کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز بناتا ہے، اس کی مثال مکڑی کی سی ہے جو اپنا گھر بنتی ہے اور بےشک گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہی ہوتا ہے تو بیٹا یہ جو ”کارساز“ بنانا ہوتا ہے نا، یہ صرف کسی انسان کو خدا کے برابر سمجھنا نہیں ہوتا بلکہ کسی کو زور آور تسلیم کرنا اور اس کے رویے کو خود پہ طاری کر لینا بھی ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے حجاب کے لیے بہت فائٹ کی، یہی تو عورت کا جہاد ہوتا ہے، اس کی الٹی میٹ اسٹرگل۔ مگر آہستہ آہستہ فطری طور پہ آپ نے یہ سمجھ لیا کہ لوگوں کا رویہ ہمیشہ یہی رہے گا۔
آپ کو لگتا ہے وہ بدلیں گے؟ نہیں۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ میرے تایا کبھی اپنی شکست تسلیم نہیں کریں گے، آپ ان کو نہیں جانتے۔
آپ کے تایا کا مسئلہ پتا ہے کیا ہے حیا؟ بہت سے لوگوں کی طرح انہوں نے بھی انی بیٹی کو اسکارف اللہ کی رضا کے لیے کروایا ہو گا، انہوں نے حجاب کے لیے اسٹینڈ لیا ہو گا، جیسے آج آپ لے رہی ہو اور حجاب کے لیے ہر اسٹینڈ لینے والے کو آزمایا جاتا ہے۔ آپ کو طنز و طعنے کے نشتروں سے آزمایا گیا کیونکہ یہی آپ کی کمزوری ہے کہ آپ کسی کی ٹیڑھی بات زیادہ برداشت نہیں کر سکتیں اور آپ کے ”تایا کو تعریف، ستائش اور واہ واہ“ سے آزمایا گیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔ یہ بات ان سے لوگوں نے کہی ہو گی اور یوں ان کا کام جو اللہ کی رضا کے لیے شروع ہوا تھا، اس میں تکبر اور خودپسندی شامل ہو گئی۔
وہ بالکل یک ٹک ان کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس نے تو کبھی س نہج پہ سوچا بھی نہیں تھا۔
اب اس خود پسندی میں وہ اتنے راسخ ہو گئے کہ اپنی ہر بات ان کو درست لگتی ہے۔ یہاں ہر شخص نے اپنا دین بنا رکھا ہے، اصولوں کا ایک سیٹ اسٹینڈرڈ جس سے آگے پیچھے ہونے کو وہ تیار نہیں۔ آپ کے تایا کا بھی اپنا دین ہے، جو اس تک عمل کرے مثلا صرف اسکارف لے، اس کو وہ سراہیں گے مگر جو اس سے آگے بڑھے، شرعی حجاب شروع کرے، مثلا ان کے بیٹے یا داماد سے پردہ کرنے لگے، اس نے ان کے دین سے آگے نکلنے کی کوشش کی، نتیجتا وہ ان کے عتاب کا شکار ہوا۔
اس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ جو اسے لگتا تھا کہ تایا اس کی مخالفت میں دین کے دشمن ہو گئے ہیں تو وہ غلط تھی۔ وہ یہ سب دین اور صحیح کام سمجھ کر ہی تو کر رہے تھے۔
مگر اب اس سب کا انجام کیا ہو گا؟ یہ سب کدھر ختم ہو گا؟ انا اور اپنی نیکی پہ تکبر کی یہ جنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بنے گا اس کا؟
اس کی بات پہ وہ دھیرے سے مسکرائے۔
حیا! ابھی آپ نے احزاب کی پہیلی کی بات کی۔ اسے آپ نےحجاب سے تشبیہ دی۔
میں نے نہیں، میری دوست نے۔ اس نے فورا تصحیح کی۔
دوست۔ آپ کی دوست نے یہ سب کہا؟ خندق، بنوقریظہ، بھوک اور جاڑا۔ سب کی حجاب سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، مگر پھر بھی آپ ایک آخری چیز مس کر گئی ہیں۔
کیا؟ وہ چونکی۔ کیا عائشے کچھ مس کر گئی تھی؟ آپ نے احزاب کی پہیلی ابھی مکمل حل نہیں کی۔ آپ بس ایک چیز نہیں دیکھ رہیں، وہ جو اس پہیلی کی اصل ہے، اس کی بنیاد ہے، ایک چیز جو آپ بھول گئی ہیں۔
کیا سر؟ وہ آگے ہو کر بیٹھی۔
اگر وہ میں آپ کو بتاؤں یا سمجھاؤں تو آپ کو اتنا فائدہ نہیں ہو گا جتنا آپ کو خود سوچنے سے ہو گا۔ قرآن کی پہیلیاں خود حل کرنی پڑتی ہیں۔ خود سوچیں، خود ڈھونڈیں، آپ کو اپنے مسئلےکا سیدھا سیدھا حل نظر آ جائے گا۔
اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔ اب اسے پہیلیاں بوجھنا اچھا لگتا تھا۔
ٹھیک ہے، میں خود سوچوں گی۔ مگر سر! لوگ مجھے دقیانوسی کہتے ہیں تو میرا دل دکھتا ہے، میں اپنے دل کا کیا کروں؟ وہ ایک ایک کر کے دل میں چبھے سارے کانٹے باہر نکال رہی تھی۔ اذیت ہی اذیت تھی۔
دقیانوسی کیا ہوتا ہے حیا؟
اس نے جواب دینے کے لیے لب کھولے، وہ کہنا چاہتی تھی کہ پرانا، بیک ورڈ، پینڈو، مگر رک گئی۔ اہل علم کے سوالات کا جواب کسی اور طریقے سے دینا چاہیے۔
آپ بتائیں سر! کیا ہوتا ہے؟
ڈاکٹر حسن ذرا سا مسکرائے۔ ”اصحاب کہف“ کا قصہ تو سنا ہو گا آپ نے؟ جس بادشاہ کے ظلم و جبر سے، اور اللہ تعالی کی فرماں برداری سے روکے جانے پہ انہوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی تھی، اس بادشاہ کا نام دقیانوس تھا۔
دقیانوس King Decius کا طریقہ اللہ تعالی کی فرماں برداری سے روکنا تھا۔ سو اللہ تعالی کی اطاعت کی کوئی بھی چیز دقیانوسی کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ لمحے بھر کو بالکل چپ رہ گئی۔
میں تو یہ سمجھ جاؤں، مگر ان کو کیسے سمجھاؤں؟ میں نے اپنی ماں سے ایک گھنٹہ بحث کی مگر وہ نہیں سمجھیں۔
آپ کی عمر کتنی ہو گی؟
تئیس سال کی ہونے والی ہوں۔ اس نے بنا حیران ہوئے تحمل سے بتایا۔
آپ کو بارہ، تیرہ سال کی عمر سے اسکارف لے لینا چاہیے تھا، مگر آپ نے بائیس، ئتیس سال کی عمر میں لیا۔ جو بات دس سال، ایک دوست کی موت اور ایک بھیانک حادثے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئی، آپ دوسروں سے کیسے توقع کرتی ہیں کہ وہ ایک گھنٹے کی بحث سے سے سمجھ لیں گے؟ وہ بہت نرمی سے اس سے پوچھ رہے تھے۔
تو کیا ان کو بھی میرا موقف سمجھنے میں دس سال لگیں گے؟
اس سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے اور کم بھی، مگر آپ انہیں ان کا وقت تو دیں۔ کچھ چیزیں وقت لیتی ہیں حیا!
مگر انسان کتنا صبر کرے سر! کب تک صبر کرے؟ وہ اضطراب اور ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
جب زخم پہ تازہ تازہ دوا کا قطرہ گرتا ہے تو ایسی ہی جلن اور تکلیف ہوتی ہے۔ میرے بچے! صبر کی ایک شرط ہوتی ہے، یہ صرف اسی مصیبت پہ کیا جاتا ہے جس سے نکلنےکا راستہ موجود نہ ہو۔ جہاں آپ اپنے دین کے لیے لڑ سکتی ہوں، وہاں لڑیں وہاں خاموش نہ رہیں۔ آپ سے آیت حجاب میں اللہ تعالی نے کیا وعدہ کیا ہے؟ یہی کہ آپ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکائیں تا کہ پہچان لی جائیں۔ یہ جو ”پہچان لی جائیں“ ہے نا، عربی میں ”عرف“ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ”تا کہ آپ عزت سے جانی جائیں“ بھی ہوتا ہے۔ آپ اپنا وعدہ نبھا رہی ہیں تو اللہ تعالی سے کیا توقع کرتی ہیں؟ وہ آپ کو عزت دینے اور اذیت سے بچانے کا وعدہ نہیں نبھائے گا کیا؟
مرہم لگنے کے باوجود زخم درد کر رہے تھے۔ اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولا سا بنتا گیا۔
مگر کب سر؟ کیا میں تبدیلی دیکھوں گی؟ اس کی آواز میں نمی تھی۔
مزدور کو اجرت مزدوری شروع کرتے ہی نہیں ملتی حیا! بلکہ جب مطلوبہ کا لے لیا جاتا ہے تب ملتی ہے، شام ڈھلے، مگر کام ختم ہوتے ہی مل جاتی ہے، اس کے پسینے کے خشک ہونے کا انتظار کیے بغیر۔ ابھی آپ نے کہا تھا کہ اللہ تعالی کی رضا صرف تمنا اور خواہش سے نہیں مل جاتی۔ اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اللہ تعالی کے راستے میں تھکنا پڑتا ہے، پھر ہی اجرت ملتی ہے۔ فون کی گھنٹی بجی تو وہ رکے اور ریسیور اٹھایا۔ چند ثانیے کو عربی میں بات کرتے رہے، پھر ریسیور رکھ کر اٹھے۔
میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں، تب تک آپ بیٹھیں۔ سوری! میں آپ کو زیادہ کچھ آفر نہیں کر سکتا، سوائے اس کے۔ انہوں نے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا شیشے کا جار اس کے سامنے میز پہ رکھا جو گلابی ریپرز والی کینڈیز سے بھرا تھا۔
اٹس اوکےسر! وہ خفیف سی ہو گئی۔
دو ہفتے قبل ہم ترکی گئے تھے، یونیورسٹی آف استنبول میں ایک کانفرنس تھی، اس سلسلے میں۔ یہ میں کپادوکیہ سے لایا تھا۔ آپ کو ترکی پسند ہے، سو یہ بھی اچھی لگے گی۔ میں ابھی آتا ہوں۔ وہ مسکرا کر بتاتے چند کتابیں اٹھائے، جن میں سرفہرست ہولی بائبل تھی، باہر نکل گئے۔
اس نے بھیگی آنکھیں رگڑیں اور پھر مسکرا کر جار کھولا۔ اندر ہاتھ ڈال کر دو کینڈیز نکالیں۔ گلابی ریپر اتار کر کینڈی منہ میں رکھی، پھر ریپر کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس پہ کوئی عجیب و غریب سا غار بنا تھا۔ جو بھی تھا، اس نے دوسری کینڈی اور ریپر پرس میں ڈال دیے۔ ترکی سے متعلقہ ہر چیز سے بہت پیاری تھی۔
کینڈی کو اپنے منہ میں محسوس کرتے، اس نے گردن موڑ کر بند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی ابھی سر باہر گئے تھے۔
کچھ لوگ صرف دین کی وجہ سے آپ کے کتنے قریب آ جاتے ہیں نا۔
* * * *
صبح آفس جانے سے قبل وہ ڈائننگ ٹیبل پہ جلدی جلدی ناشتا کر رہی تھی۔ کل سے اس کا دل اتنا پرسکون تھا کہ کوئی حد نہیں۔ کبھی کبھی انسان کا اپنا بوبھ بانٹ لینا چاہیے، مگر صحیح بندے کے ساتھ اور صحیح وقت پہ۔
نوربانو! فاطمہ قریب ہی کچن میں کھڑی نوربانو کو ہدایات دے رہی تھیں۔
عابدہ بھابھی اور سحرش دوپہر کے کھانے پہ یہاں ہوں گی، تم لنچ کی تیاری ابھی سے شروع کر دو۔ یوں کرنا کہ۔۔۔۔۔۔۔
جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے وہ ٹھہر گئی۔
یہ عابدہ چچی اور سحرش کے چکر ان کے گھر بڑھ نہیں گئے تھے؟ پرسوں ہی تو وہ آئیں تھیں اور پھپھو کے لیے ایک بہت قیمتی جوڑا بھی لائی تھیں۔ آج پھر آ رہی تھیں۔ کیوں بھلا؟
اماں! کرسی سے اٹھ کر ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس نے فاطمہ کو آتے دیکھا تو پکار لیا۔
چچی کیوں آ رہی ہیں، ابا سے ملنے؟
نہیں، تمہاری پھپھو کے ساتھ شاپنگ پہ جانا چاہتی ہیں۔ سحرش کے کالج میں کوئی فنکشن ہے۔ اسے آئرش طرز کی دلہن بننا ہے۔ وہ اس کے لیے کوئی خاص ڈریس بنوانا چاہتی ہے۔ سبین کو تجربہ ہے نا کپڑوں وغیرہ کا، اس لیے۔
اچھا۔ وہ اچنبھے سے عبایا پہننے لگی۔
پہلے تو سحرش کسی سے مشورے نہیں لیتی تھی، اب کیوں؟ اور پھپھو ہی کیوں؟ یا پھر وہ جہان سکندر بنتی جا رہی تھی۔ ہر ایک پہ شک کرنا۔ اف! وہ نقاب کی پٹی سر کے پیچھے باندھ کر باہر نکل آئی۔
خیر جو بھی ہے۔ اسے آتے دیکھ کر ڈرائیور نے فورا پچھلی نشست کا دروازہ کھولا۔ وہ اندر بیٹھنے لگی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا! ارم کی آواز نے اسے چونکایا۔ وہ بیٹھتے بیٹھتے رکی اور حیرت سے پلٹی۔ ارم سامنے ہی کھڑی تھی۔ سر پہ ڈوپٹا لیے، آنکھوں تلے حلقے، چہرے پہ سنجیدگی۔
ارم؟ اسے حیرت ہوئی۔ ارم چلتی ہوئی اس کے سامنے آئی۔
بات کرنی تھی تم سے۔ پھر اس نے ڈرائیور کو دیکھا۔
تم باہر جاؤ۔ وہ جیسے اسی جگہ پہ بات کرنا چاہتی تھی۔ ڈرائیور فورا تابع داری سے وہاں سے ہٹ گیا۔
بتاؤ، کیا بات ہے؟ اس نے نرمی سے پوچھا۔ ارم چند لمحے اسے سنجیدگی سے دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے بولی۔
اس روز میں نے جو سنا، وہ وہاں جا کر بتا دیا، صرف اس لیے کہ مجھے تم پہ غصہ تھا۔ کیونکہ تم نے بھی میرا پردہ نہیں رکھا تھا۔
ارم! اگر تم نہ بھی بتاتیں اور مجھ سے کوئی پوچھتا کہ وہ کیوں گیا ہے تو میں خود ہی بتا دیتی۔ جہاں تک بات ہے میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تایا نے رات کے تین بجے فون کر کے پوچھا تھا کہ میرے پاس کوئی دوسرا نمبر ہے یا نہیں، اگر تم نے مجھ پہ بھروسا کیا ہوتا تو میں بھی تم پہ بھروسا کرتی کہ تم مجھے پھنساؤ گی نہیں۔ وہ گاڑی کے کھلے دروازے کے ساتھ ہی کھڑی، بہت سکون سے کہہ رہی تھی۔ ارم چند لمحے لب کاٹتی رہی، پھر نفی میں سر ہلایا۔
مگر میں نے اس دن زیادتی کر دی تمہارے ساتھ۔ آئی ایم سوری فار ڈیٹ۔ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ حیا نے بغور اسے دیکھا۔ وہ نادم تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد تھا۔ البتہ اس کا دل پسیجنے لگا تھا۔
کوئی بات نہیں۔ کیا فرق پڑتا ہے؟
فرق تو پڑا ہے نا، اسی وقت سے عابدہ چچی، پھپھو کے پیچھے پڑی ہیں۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: