Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 41

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 41

–**–**–

اسی وقت سے عابدہ چچی، پھپھو کے پیچھے پڑی ہیں کہ تمہارا پتا صاف ہو اور وہ جہان کے لیے سحرش کی بات چلا سکیں۔
کیا؟ وہ چونکی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
ہاں! اسی لیے تو روز ہی پھپھو کے پاس آئی بیٹھی ہوتی ہیں۔ کیا تم نہیں جانتیں؟ اب کے ارم کو حیرت ہوئی۔ حیا نے بمشکل شانے اچکائے۔
جو بھی ہے، مجھے ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔ اس نے بظاہر لاپروائی سے کہا، البتہ اس کا دل اتھل پتھل ہو رہا تھا۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر! ارم نے گہری سانس لی۔ لمحے بھر کو خاموش رہی پھر بولی
کیا مجھے تمہارا فن مل سکتا ہے، مجھے ایک کال کرنی ہے بس! اس کا لہجہ ملتجی نہیں ہوا، بلکہ ہموار رہا۔ بس مجھے اس قصے کو ختم کرنا ہے، بس اسے خدا حافظ کہنا ہے۔
تو یہ بات تھی۔ حیا نے گہری سانس اندر کو کھینچی۔ ارم نے جسے بھی فون کرنا تھا وہ اسے لینڈ لائن یا کسی بھی طرح ماں، بھابھی کسی کا بھی فون لے کر سکتی تھی، مگر غالبا وہ پہلے پکڑی گئی ہو گی یا پھر سختی بڑھ گئی تھی، تب ہی وہ خطرہ مول نہیں لیتی تھی۔
ٹھیک ہے! مگر بہتر ہے کہ تم میرا فون استعمال مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الہی بخش! اس نے دور کھڑے ڈرائیور کو آوز دی۔ وہ فورا ہاتھ باندھے ان کے پاس آیا۔
کیا میں تمہارا فون لے سکتی ہوں ایک منٹ کے لیے؟
جی، جی! اس نے فورا اپنا موبائل پیش کیا اور دور چلا گیا۔
لو۔ حیا نے موبائل ارم کی طرف بڑھایا۔ ارم نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے فون تھاما اور تیزی سے نمبر ملانے لگی۔
وہ گاڑی میں بیٹھی اور دروازہ بند کیا۔ باہر ارم جلدی جلدی فون پہ دھیمی آواز میں کچھ کہ رہی تھی۔ اسے کچھ بھی سنائی نہیں دیا۔ نہ اس نے سننے کی کوشش کی۔ ایک منٹ بعد ہی ارم نے فون بند کر دیا۔ حیا نے بٹ دبایا، شیشہ نیچے ہوا۔
تھینکس حیا! ممنونیت سے کہتے ہوئے اس نے فون حیا کو تھمایا۔ میں چلتی ہوں۔ وہ تیزی سے واپس مڑ گئی۔ جب وہ درمیانی دروازہ پار کر گئی تو حیا نے موبائل کے کال ریکارڈز چیک کیے۔ اس نے ڈائلڈ کالز میں سے کال مٹا دی تھی مگر یہ نوکیا کا وہ ماڈل تھا جس میں ایک کال لاگ الگ سے موجود تھا۔ حیا نے اسے کھولا۔ وہاں نمبر محفوظ تھا۔ اس نے وہ نمبر اپنے موبائل میں اتارا اور محفوظ کر لیا۔
الہی بخش! اب وہ دور کھڑے الہی بخش کو واپس آنے کے لیے کہہ رہی تھی۔
کبھی اگر ارم نے اسے پھنسانے کی کوشش کی، تو اس کے پاس ثبوت بھی تھا اور موقع کا گواہ بھی۔ الہی بخش کو آتے دیکھ کر اس نے سوچا تھا۔
ذیشان صاحب کے آفس لے چلو! جہاں اس دن گئے تھے۔ فون آگے ہو کر اسے تھماتے ہوئے اس نے الہی بخش کو ہدایت دی۔
اور ارم بی بی نے تمہارا فن استعمال کیا ہے، یہ بات کسی اور کو پتا نہیں لگنی چاہیے۔
جی میم! اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسٹیرنگ سنبھال لیا۔
* * * *
ذیشان انکل آفس میں نہیں تھے۔ ان کی سیکرٹری پھر بھی اسے آفس میں لےگئی کیونکہ رجا اندر تھی۔
آپ بیٹھ جائیے۔ سر ابھی آتے ہوں گے۔ جاتے ہوئے ان کی سیکرٹری نے اوپر سے نیچے تک عجیب سی نظر اس پہ ڈالی تھی۔
وہ بنا اثر لیے کاؤچ پہ بیٹھ گئی۔ اس کے عبایا کو بہت سی جگہوں پہ اسی طرح دیکھا جاتا تھا مگر جب دوسرے غلط ہو کر اتنے پر اعتماد تھے تو وہ درست ہو کر پر اعتماد کیوں نہ ہو؟ اور وہ بھی کتنی پاگل تھی جو ٹالی اور اس کی باتوں کو دل سے لگا لیتی تھی۔ ٹالی بے چاری نے چند ایک بار فقرے اچھالنے کے سوا کہا ہی کیا تھا۔ وہ تو اہل مکہ تھی، ان سے کیا گلہ؟ اصل اذیت دینے والے تو بنوقریظہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ جنگ وہی جیتتا ہے جو ہار نہیں مانتا، اور پھر انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے۔
اس لمحے ڈی جے اسے بہت یاد آئی تھی۔ دھیان بٹانے کے لیے اس نے سر جھٹکا تو خیال آیا، رجا اس لمبے سے کاؤچ کے دوسرے سرے پہ بیٹھی تھی۔ چہرہ اخبار پہ اتنا جھکائے کہ گھنگھریالے بال صفحے کو چھو رہے تھے، وہ قلم سے اخبار پہ نشان لگا رہی تھی۔ اسے ورڈ پزل اچھے لگتے تھے۔ حیا کو بھی اب اچھے لگتے تھے، مگر وہ آخری پزل ابھی تک حل نہیںبہو سکا تھا۔ رجا تو اس کی مدد نہیںبکر سکتی تھی مگر شاید وہ رجا کی کچھ مدد کر سکے۔
رجا! کیا کر رہی ہو؟ وہ نرمی سے کہتی اٹھ کر اس کے قریب آ بیٹھی۔ رجا نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا اور پھر اخبار اس کے سامنے کیا۔ اس کی حرکات بہت آہستہ تھیں۔ اسے بچی پہ بہت ترس آیا۔ مگر پھر سوچا، وہ کیوں ترس کھا رہی ہے؟ جب وہ ایب نارمل لڑکی اپنی تمام ہمت مجتمع کر کے محنت کر رہی ہے تو وہ اس کے بارے میں ہمدردی اور تاسف سے کیوں سوچے؟ اسے ستائش سے سوچنا چاہیئے۔
دکھاؤ! کیا ہے یہ؟ اس نے وہ پرانا، مڑا تڑا ہوا اخبار رجا کے ہاتھ سے لیا۔ ایک ہی پزل پہ وہ کافی دن سے لگی ہوئی تھی شاید، اسی لیے وہ جگہ کافی خستہ حال لگ رہی تھی۔ ذیشان انکل یقینا اپنی محبت میں سمجھتے تھے کہ رجا یہ پزل حل کر لے گی ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاید ذہنی طور پہ کافی پیچھے تھی۔
تم سے یہ حل نہیں ہو رہا؟ اس نے پیار سے پوچھا۔ رجا نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔ ایک ثانیے کو اسے بے اختیار بہارے گل یاد آئی۔
اچھا! یہ دیکھو۔ یہ جو پہلا لفظ ہے نا، یہ ایک اینا گرام ہے، اینا گرام یوں ہوتا ہے جیسے کسی لفظ کے حروف آگے پیچھے کر دو تو نیا لفظ بن جائے، جیسے Silent کے حروف ادل بدل کر دو تو Listen بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں اینا گرام میں بہت حکمت اور دانائی چھپی ہوئی ہے۔ اب یہ پہلا لفظ دیکھو! وہ اخبار سے پڑھ کر بتانے لگی۔
یہ لکھا ہے Try Hero Part۔ یہ کسی مووی کا نام ہے،
تمہیں بتانا ہے کہ اس کے حروف ادل بدل کرو تو کس مووی کا نام بنتا ہے۔ ٹھیک؟
رجا نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بنا تاثر کے خالی خالی نظروں سے حیا کو دیکھتی رہی۔
حیا نے چند ثانیے غور سے دیکھا اور پھر اس کی سمجھ میں آ گیا کہ ٹرائی ہیرو پارٹ کے حروف کی جگہیں آگے پیچھے کرنے سے کیا بنتا ہے۔
۔Harry Potter دیکھو! اس سے ہیری پوٹر بنتا ہے۔ اب یہاں لکھو ہیری پوٹر۔ اس نے اخبار رجا کو تھمایا۔
رجا نے دھیرے سے اثبات میں گردن ہلائی اور بہت آہستگی سے ایک ایک حرف خالی جگہ پہ اتارنے لگی۔
اب یہ اگلا مجموعہ دیکھو۔ Old Vest Action اس سے کسی مشہور ایکٹر کا نام بنتا ہے جو پرانی انگریزی ایکشن فلموں میں کام کیا کرتا تھا۔ کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ان تین الفاظ کو دیکھتے ہوئے سوچ میں پڑ گئی۔ ذیشان انکل کے پاس وہ کس کام سے آئی تھی، اسے سب بھول چکا تھا۔
اوہ ہاں! Clint Eastwood۔ وہ ایک دم چونکی۔ بہت ہی دلچسپ پزل تھا۔
ویسے میں تمہیں چیٹنگ کروا رہی ہوں، یہ غلط بات ہے، چلو! اب باقی تم خود سولو کرو۔ بس تمہیں ان الفاظ کے حروف کی جگہوں کو ادل بدل کرنا ہے، جیسے میں نے کیا تھا، پھر تم نئے الفاظ بنا سکو گی، ٹھیک؟ بات ختم کرنے سے قبل ہی اس کا ذہن اپنے اس آخری پزل کی طرف بھٹک گیا۔
۔Swap؟ ساپ کرنے کا بھی یہ مطلب ہوتا ہے نا، کیا وہ کوئی ہنٹ تھا کہ اسے حروف کی جگہوں کو Swap کرنا ہے اور کوئی نیا لفظ بنانا ہے؟ مگر وہ کل بارہ حروف تھے، اور پاس ورڈ تو آٹھ حرفی ہونا چاہیے تھا، پھر وہ اس سے کیا بنا سکتی تھی؟ ایک دم وہ بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہو سکتا ہے وہ دو الفاظ کوئی اینا گرام ہی ہو۔ اینا گرام کے ذریعے کوڈز لکھنا تو بہت قدیم طریقہ تھا، یہ ہر دور میں استعمال ہوتا رہا تھا۔ فلسفے میں، آرٹ، فکشن، جاسوسی، ہر چیز میں کہیں نہ کہیں اینا گرامز کا ایک کردار ہوتا تھا۔ اسے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا بھلا؟
فلیش ڈرائیو اس کے پاس پرس میں ہی تھا، مگر اسے اس کو صرف اپنے لیپ ٹاپ میں لگانا چاہیے اور ابھی ابھی وہ کام اسے کرنا تھا۔ ذیشان انکل سے وہ بعد میں مل لے گی۔ ابھی اسے اپنے آفس پہنچنا تھا جہاں تنہائی میں وہ یہ کام کر سکے۔
باہر سیکرٹری کو بتا کر، رجا کو بائے کہہ کر وہ تیزی سے باہر آئی تھی۔ گاڑی میں ہی اس نے اپنے موبائل سے گوگل آن کیا اور ایک اینا گرام فائینڈر ویب سائٹ کھولی تا کہ وہ دیکھ سکے سائیڈ اسٹور سے کتنے ممکنہ الفاظ بن سکتے ہیں۔
پانچ ہزار چار سو تراسی مجمعوعات؟ نتیجہ دیکھ کر اس نے گہری سانس لی۔ اب ان میں سے کون سا درست ہو سکتا ہے بھلا؟ خیر، وہ ان تمام الفاظ کو دیکھتی ہے، شاید کچھ مل جاۓ۔
پہلا مجموعہ تھا۔ ”pasty powders“
اونہوں! اس نے خفگی سے نفی میں سر ہلایا۔
۔“so try swopped”٫ “trays swopped”
وہ ان عجیب و غریب مجموعات سے نظر گزارتی تیزی سے موبائل اسکرین کو انگلی سے اوپر نیچے کر رہی تھی کہ ایک مجموعہ الفاظ پہ ٹھہر گئی۔ storS swappeS کے حروف کو آگے پیچھے کرنے سے بننے والے یہ دو الفاظ تھے۔
۔Type Password
ٹائپ پاس ورڈ؟ اس نے اچنھبے سے دہرایا۔ یعنی کہ پاس ورڈ ٹائپ کرو۔ کیا مطلب؟ اور پھر روشنی کے کسی کوندے کی طرح وہ اس کے دل و دماغ کو روشن کر گیا۔
پاس ورڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاس ورڈ میں پورے آٹھ حروف ہوتے ہیں۔ ٹائپ پاس ورڈ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ کوئی خفیہ لفظ ٹائپ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لفظ ”پاس ورڈ“ ہی ٹائپ کر دے۔
لفظ ”پاس ورڈ“ جو آج بھی دنیا میں سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا پاس ورڈ ہے، لاکھوں ای میل ہولڈرز کا پاس ورڈ آج بھی یہی لفظ”پاس ورڈ“ ہے۔ دنیا کا سب سے کامن، سب سے آسان پاس ورڈ۔ اس نے موبائل بند کیا اور پرس میں ڈالا۔
تیز چلاؤ الہی بخش! وہ بے چینی سے بولی۔ اپنے آفس پہنچے کی اتنی جلدی اسے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔
میں آفس جا رہی ہوں مگر پلیز! میں کسی سے نہیں ملنا چاہتی، سو مجھے کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ ٹھیک؟ ابا کی سیکرٹری کو حکمیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی۔
آفس مقفل کرنے اور نقاب اتارنے کہ بعد اس نے لیپ ٹاپ کھول کر میز پہ رکھا اور پرس سے مخملی ڈبی نکالی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اندر سیاہ فلیش ڈرائیو ویسے ہی رکھی تھی۔ اس نے اسے باہر نکالا اور ڈھکن کھول کر ساکٹ میں ڈالا۔
چند لمحوں بعد اسکرین پہ آٹھ چوکھٹے اس کے سامنے چمک رہے تھے۔ کی بورڈ پر انگلیاں رکھ کر اس نے لمحے بھر کو آنکھیں بند کر کے گہری سانس اندر کھینچی اور پھر آنکھیں کھولی۔ اگر وہ غلط ہوئی تو وہ اس فائل کو کھو دے گی، مگر اسے یقین تھا کہ ”پاس ورڈ“ ہی وہ لفظ تھا جو اسے اس فائل میں داخل کر دے گا۔ ٹھنڈی پڑتی انگلیوں سے اس نے ٹائپ کیا۔
پی اے ایس ایس ڈبلیو او آر ڈی۔
اور انٹر پہ انگلی رکھ دی۔ چند لمحے خاموشی چھائی رہی، پھر ہرا سگنل چمکا، access granted (ایکسیس گرانٹڈ) پاس ورڈ درست تھا۔
یا اللہ! وہ خوش ہو، یا حیران، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا، مگر دل کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی تھی۔ اسکرین پہ اب وہ فائل کھل رہی تھی۔ اس کے لیے جو پروگرام کمپیوٹر نے کھولا وہ ونڈوز میڈیا پلئیر تھا۔
میڈیا پلئیر؟ اس نے اچھنبے سے اسکرین کو دیکھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ فائل کوئی وڈیو یا آڈیو تھی۔ اس کا پہلا خیال اپنی اور ارم کی وڈیو کی طرف گیا تھا، داور بھائی کی مہندی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اسے زیادہ کچھ سوچنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ کوئی وڈیو تھی اور شروع ہو چکی تھی۔
اس کے پہلے منظر پہ نظر پڑتے ہی حیا سلیمان کا سانس رک گیا۔ اسے لگا وہ کبھی ہل نہیں سکے گی۔ اللہ، اللہ، یہ کیسے۔۔۔؟ وہ سفید پڑتا چہرہ لیے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔
* * * *
جو کام نپٹا کر اسے بہارے گل سے نپٹنا تھا، وہ کام ابھی نہیں ہوئے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ آج دوپہر سے اچھا موقع اسے حلیمہ عثمان کے گھر جانے کا نہیں ملے گا، اس لیے وہ ادھر آ گیا تھا۔
حلیمہ آنٹی نے دروزہ کھولا تو وہ سامنے ہی کھڑا تھا۔ سوٹ میں ملبوس وہی گلاسز جیل سے پیچھے کیے بال اور عبدالرحمن کے ماتھے کے مخصوص بل۔
عبدالرحمن؟ آ جاؤ۔ وہ خوشگوار حیرت سے کہتے ہوئے ایک طرف ہوئیں۔
سفیر کدھر ہے حلیمہ؟ بے تاثر اور سپاٹ انداز میں پوچھتے ہوئے اس نے قدم اندر رکھا۔ یہ تو طے تھا کہ وہ لوگوں کو کبھی ریلیشن شپ ٹائٹل سے نہیں بلایا کرتا تھا۔ صرف ان کے پہلے نام لیا کرتا تھا۔
ہوٹل میں ہو گا، کال کروں اسے؟
نہیں! آپ اسے کال نہیں کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہارے؟ اس نے یک لفظی استفسار کیا۔ جتنا حلیمہ عثمان اسے جانتی تھیں، وہ بھانپ گئیں کہ وہ بہت برے موڈ میں تھا۔
وہ اندر اسٹڈی روم میں بیٹھی ہے۔ بہت اداس ہے۔ انہوں نے ملال سے بتایا۔ شاید اس کا دل نرم کرنے کی کوشش کی۔
حرکتیں جو ایسی ہیں اس کی۔ وہ بے حد غصے سے کہتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھر کر اسٹڈی روم کی جانب بڑھ گیا۔
بنا دستک کے دروازہ دھکیلا تو کرسی پہ بیٹھی بہارے گل نے چونک کر سر اٹھایا۔ پورے گھنگھریالے بالوں کی پونی بنائے، لمبے فراک میں ملبوس وہ واقعی غم زدہ لگ رہی تھی، اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
عبدالرحمن!عبدالرحمن وہ کرسی سے اٹھی اور میز کے پیچھے سے گھوم کر سامنے آئی۔ بہارے کا پھول جیسا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
بہت اچھا لگتا ہے تمہیں دوسروں اذیت دینا؟ وہ اتنے غصے سے بولا تھا کہ وہ وہیں رک گئی۔ چہرے کی جوت بجھ سی گئی۔
میں تمہارے لیے کیا نہیں کرتا اور تم بدلے میں میرے مسائل بڑھانے پہ تلی ہو۔ تم میری دشمن ہو یا دوست؟ اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
تم مجھ سے ناراض ہو عبدالرحمن؟
نہیں، نہیں! میں تم سے بہت خوش ہوں۔ اتنا پیسہ خرچ کر کے، اتنی مشکل سے میں نے تمہارے لیے پاسپورٹ بنوایا تھا۔ نئی شناخت، نیا گھر، نئی زندگی مگر تم نے اسے جلا دیا۔ وہ اتنی برہمی سے جھڑک رہا تھا کہ کوئی حد نہیں۔
بہارے خفگی سے سر جھکائے واپس کرسی پہ جا بیٹھی۔
مجھے نیا گھر نہیں چاہیے۔ اگر میں چلی جاتی تو تمہاری مدد کون کرتا؟ میں نے تم سے مدد کا وعدہ کیا تھا نا۔ تمہیں میری ضرورت ہے، میں اس لیے نہیں گئی۔ چند لمحے بعد سر اٹھا کر بہت سمجھداری سے اس نے سمجھایا۔
اچھا! مجھے تمہاری ضرورت ہے؟ وہ استہزائیہ انداز میں کہتا آیا اور کرسی کھینچ کر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھا۔ اب دونوں کے درمیان میز حائل تھی۔
ہاں! ہے۔ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔
مجھے ایک بیوقوف بچے کی کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے، سنا تم نے!
مجھے بچہ مت کہو۔ بہارے نے دبے دبے غصے سے اسے دیکھا۔ میں پورھے ساڑھے پانچ سال بعد پندرہ کی ہو جاؤں گی۔
اور پھر؟
اور۔۔۔۔۔۔ اور تم تب مجھ سے شادی کرو گے۔ کرو گے نا؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ عائشے نہ بھی ہو، تب بھی اسے لگتا کہ وہ کہیں نہ کہیں سے خفگی سے اسے دیکھ رہی ہے۔
بہارے گل! اس نے بے زاری سے سر جھٹکا۔ میں تم سے کبھی شادی نہیں کروں گا، بلکہ جو تم کر رہی ہو، اس سے تم مجھے مروا ضرور دو گی۔
نہیں! ایسے مت کہو۔ میں تمہیں ہرٹ نہیں کر سکتی۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ مگر تم ہمیشہ مجھے ہرٹ کرتے ہو، تم ہمیشہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہو۔
اچھا! کون سا جھوٹ بولا ہے میں نے؟ ذرا میں بھی تو سنو۔ اس کے تیور ویسے ہی لگ رہے تھے، مگر پلکیں سکیڑے اب وہ جس طرح اسے دیکھ رہا تھا، بہارے کو محسوس ہوا وہ دلچسپی سے اس کی بات سننے کا منتظر ہے اور اس کا غصہ بھی ذرا کم ہوا ہے۔
بہت سارے جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتن تو ادالار میں بگلے نہیں ہیں، جتنے جھوٹ تم نے مجھ سے بولے ہیں۔ وہ خفا سے انداز میں مگر ڈرتے ڈرتے کہہ رہی تھی۔ مگر اب مجھے سب پتا چل گیا ہے۔ مثلا کیا پتا چل گیا ہے تمہیں میرے بارے میں؟ بہارے کو لگا وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔ چیلنج دیتی مسکراہٹ۔ اکساتی ہوئی مسکراہٹ۔
بہت سی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ تمہارا اصلی نام عبدالرحمن نہیں ہے اور یہ کہ تمہارا نام جہان سکندر ہے اور تم ہی حیا کے کزن ہو۔
جہان ایک دم ہنس پڑا۔ بہارے کو حوصلہ ہوا۔ اسے برا نہیں لگا، وہ اسے ڈانٹے گا نہیں۔ اس کو ذرا تقویت ملی۔
صبر نہیں ہوا عائشے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اسے کہا تھا کہ جاتے وقت بتائے۔ اس نے ابھی بتا دیا۔ وہ جیسے بہت محفوظ ہوا تھا۔
اس نے اپنے جاتے وقت ہی بتایا تھا۔ تم بہت جھوٹ بولتے ہو عبدالرحمن۔ بہارے نے خفگی سے اسے دیکھا تھا۔
اور یہ بات تم نے کتنے لوگوں کو بتائی ہے؟ وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا۔ اس کے تاثرات اب تک ہموار ہو چکے تھے۔ نہ غصہ تھا، نہ محفوظ سی مسکراہٹ۔
کسی کو نہیں۔ پرامس۔
مجھے امید ہے کہ تم اسے راز رکھو گی۔ کیا تمہیں راز رکھنے آتے ہیں بہار گل؟ میز پہ دونوں ہتھیلیاں رکھ کر اس کی طرف جھک کر وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ بہارے نے اثبات میں سر ہلایا۔
مجھے راز رکھنے آتے ہیں۔
تمہارا پاسپورٹ کہاں ہے؟
میں نے جلا دیا اور میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ اس کے تھوڑی دیر قبل ہنسنے کا اثر تھا، جو وہ ذرا نروٹھے انداز میں بولی تھی۔
میں تمہارا نیا پاسورٹ جلد بھجوا دوں گا اور تمہیں جانا پڑے گا، کیونکہ میں بھی یہاں سے جا رہا ہوں۔ وہ واپس سیدھا ہوا۔
کدھر ہمارے ساتھ؟ اس کا چہرہ چمک اٹھا۔
نہیں! بلکہ یہاں سے بہت دور اور میں تم سے آخری دفعہ مل رہا ہوں۔ اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔ تم مجھے ایک اچھی یا بری یاد سمجھ کر بھلا دینا۔ مجھے یہاں سے نکلنا ہے اس سے قبل کہ میں گرفتار ہو جاؤں اور اگر میں گرفتار ہوا تو مجھے پھانسی ہو جائے گی۔ اگر تم نہیں چاہتیں کہ میرے ساتھ یہ سب کچھ ہو، تو میری بات مانو۔ جب پاسپورٹ آ جائے تو چلی جانا۔ وہ بے تاثر لہجے میں کہہ کر جانے کے لیے مڑا۔
مگر تم کہاں جا رہے ہو؟ وہ پریشانی سے کہہ اٹھی۔
جہان نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
میں جہاں بھی جا رہا ہوں، اس کے بارے میں تمہیں، عائشے، آنے یا پاشا بے کو نہیں بتا سکتا۔ اس لیے یہ سوال مت کرو۔
کیا تم نے کسی کو نہیں بتایا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ وہ آنسو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بمشکل بول پائی تھی۔
میں نے آنے سے کچھ دن پہلے حیا کو بتایا تھا، اسے معلوم ہے میں کدھر جا رہا ہوں۔ اسے راز رکھنے آتے ہیں۔ وہ کہہ کر دروازہ کھولتا باہر نکل گیا۔
بہارے گل بھاگ کر باہر آئی۔ بھیگی آنکھوں سے اس نے اپنے عبدالرحمن کو بیرونی دروازہ پار کرتے دیکھا۔ یہ خیال کہ وہ اسے آخری دفعہ دیکھ رہی ہے، بہت اذیت ناک تھا۔ آنسو ٹپ ٹپ اس کے چہرے پہ لڑھکنے لگے۔
آج پہلی دفعہ اسے یقین آیا تھا کہ وہ آخری دفعہ عبدالرحمن کو دیکھ رہی ہے۔
مگر بہت جلد وہ غلط ثابت ہونے والی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: