Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 43

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 43

–**–**–

نہیں، بالکل نہیں۔ وہ زبردستی مسکرایا۔ تم سناؤ کب تک تمہارا منگیتر دوبارہ مجھ جتنا ہینڈسم ہو جائے گا؟۔
چند سیشن مزید لگیں گے، برن کافی زیادہ تھا۔ بات کا رخ بدلنے پہ ثانیہ اسے حماد کے بارے میں بتانے لگی۔ کچھ عرصہ قبل ایک حادثے میں اس کا چہرا قدرے مسخ ہو گیا تھا، البتہ سرجری سے وہ بہتر ہو رہا تھا۔ وہ بے توجہی سے سنتا گیا۔ اس کا ذہن وہیں پیچھے تھا۔
پھر جب ثانیہ چلی گئی تو وہ باہر آ گیا۔ اسلام باد کی ٹھنڈی سرمئی سڑک کے کنارے چلتے ہوئے اس کے دل و دماغ میں ثانیہ کی باتیں مسلسل گونج رہی تھیں۔
اس چیز سے باہر نکل آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنے ابا کے کسی جرم میں شریک نہیں رہے ہو جہان! اس چیز سے باہر نکل آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذیت کی ایک شدید لہر اس کے اندر اٹھی۔ آنکھوں کے سامنے ہ زخمی کر دینے والا منظر پھر سے لہرایا۔ ثانیہ غلط تھی۔ ایک جرم میں وہ اپنے باپ کے ساتھ کسی حد تک شریک رہا تھا۔
••••••••••••••••••
بچپن کی یادیں اس کے ذہن میں بہت ٹوٹی پھوٹی، بکھری، مدہم مدہم سی تھیں۔ باسفورس کا نیلا سمندر، سمندری بگلے، جہانگیر میں واقع ان کا گھر اور دادا۔ یہ وہ سب تھے جو بچپن میں اس کے ساتھ تھے۔ دادا ابا کا ساتھ ان میں سب سے زیادہ اثر انگیز تھا۔
وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔ شادی کے ساتویں برس ملنے والی پہلی اور آخری اولاد۔ احمد شاہ کا اکلوتا پوتا۔
دادا کاروبار کے سلسلے میں ترکی آیا کرتے تھے۔ وہ فوج سے میجر ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ وقت سے قبل ان کی ریٹائرمنٹ کی وجہ ان کی خرابئ صحت تھی۔ فوج سے باعزت طور پہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گئے اور تب ہی وہ ترکی آئے اور پھر آتے جاتے رہے۔ ترکی میں ان کا علاج، جو پاکستان میں ممکن نہ تھا، قدرے سستا ہوتا رہا۔
جب ابا کا تبادلہ ترکی ہوا تو ممی بھی ساتھ آئیں۔ دادا نے تب ہی چند پیسے جوڑ کر جہانگیر (Cihangir) کے علاقے میں زمین خریدی۔ وہ خوش قسمتی کا دور تھا۔ ابا نے بعد میں اس جگہ گھر بنوانا شروع کیا۔ وہ تب ہی پیدا ہوا تھا۔ دادا کی گویا آدھی بیماری ہی دور ہو گئی۔ وہ تب بہت خوش رہا کرتے تھے۔ باقی بچی آدھی بیماری کے بہترین علاج کی سہولتوں کے باعث استنبول نہ چھوڑ سکے۔ اس وقت سلطنت ترکیہ اتنی ترقی یافتہ نہیں تھی۔ ابھی پاپا کی حکومت آنے میں کافی دہائیاں پڑی تھیں۔ پاپا یعنی(طیب اردگان) مگر ترکی تب بھی بہت خوبصورت تھا۔
ابا واپس چلے گئے تھے مگر ممی، دادا اور وہ ادھر ہی رہے۔ دادا بگڑتی صحت کے باعث کاروبار میں بہت زیادہ فائدہ حاصل نہ کر سکے، سو گھر کے حالات قدرے خراب ہوتے گئے۔ کچھ عرصہ قبل کی خوشحالی روٹھ گئی۔ ابا کی تنخواہ پر گزارا کرنا تو ناممکن سی بات لگتی تھی۔ تب ہی اس نے ممی کو کام تلاش کرتے اور پھر نوکری کرتے دیکھا۔ تب وہ بہت چھوٹا تھا، وہ عمر جس میں محنت اور مشقت کے معنی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔
ممی ایک فیکٹری میں معمولی ملازمت کرنے لگی تھیں۔ پتہ نہیں وہ کیا کام کرتی تھیں مگر ملک کے برے حالات کے باعث وہ نوکری ان کی تعلیمی قابلیت سے کم ہی تھی۔ گھر سے جیسے قسمت ہی روٹھ گئی تھی۔
دادا ابا کو کاروبار میں شدید گھاٹا ہوا اور ناسازی صحت کے باعث ان کا کام کرنا نہ کرنا برابر ہو گیا، مگر وہ کام پھر بھی کرتے تھے۔ وہ محنت کرنے والے، مضبوط ہاتھوں والے اور مشقت کرنے والے آدمی تھے۔ بظاہر رعب دار لگتے، مگر بات کرنے پر اتنے ہی مہربان اور شفیق۔ جہان کو وہ کبھی بیمار نہیں لگتے تھے۔ روز صبح وہ اسے ساتھ لے کر واک پر جایا کرتے تھے۔ وہ تھک جاتا، دادا نہیں تھکتے تھے۔ وہ بہت مضبوط، بہت بہادر انسان تھے۔ وہ اس کے آئیڈیل تھے۔ اس کے ہیرو۔
برا وقت کم نہیں ہوا، بڑھتا گیا تو ایک روز اس نے دادا کو افسردہ دیکھا۔ جہانگیر والا گھر جو انہوں نے بہت چاہ سے بنوایا تھا، انہیں بیچنا پڑا رہا تھا۔
دادا! ہم وہ گھر کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ جب وہ واک کے لیے باہر نکلے، تو ان کا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہوئے اس نے گردن اٹھا کر ان کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ انہوں نے بہت ملال سے اسے دیکھا مگر بولے تو آواز مضبوط تھی۔
یہ گھر بہت بڑا ہے، ہماری ضرورت سے بھی زیادہ۔ اس کو بیچ کر ہم کوئی چھوٹا گھر لے لیں گے۔
کیا ہم نیا گھر خریدیں گے؟
نہیں بیٹا! ہم ابھی اس کے متحمل نہیں ہیں مگر تم یہ بات اپنی ماں سے مت کرنا۔ تم تو جانتے ہو، یہ جان کر وہ غمگین ہو گی۔ کیا تم کو راز رکھنے آتے ہیں میرے بیٹے؟ اس نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
جی دادا! مجھے راز رکھنے آتے ہیں۔
پھر انہوں نے جہانگیر چھوڑ دیا اور سمندر کنارے ایک درے خستہ حال جگہ پر آ بسے۔ یہاں ان کا گھر چھوٹا اور پہلے سے کمتر تھا۔ کرائے کا گھر۔ تب اس کے قریب پھیلا ساحل سمندر آج کی طرح خوبصورت پختہ فٹ پاتھ سے مزین نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہاں پتھروں کا کچا پکا سا ساحل تھا۔ بگلے ہر وقت وہاں پھڑپھڑاتے ہوئے اڑا کرتے۔ دادا کہتے تھے۔
استنبول مسجدوں کا شہر ہے، لیکن جہان کو وہ ہمیشہ بگلوں کا شہر لگتا تھا۔ اپنے گھر کی بالکونی سے وہ ان بگلوں کو اکثر دیکھا کرتا تھا۔ شام میں وہاں بیٹھ کر وہ ان کو یوں شمار کرتا جیسے لوگ تارے شمار کرتے تھے۔ وہ تھک جاتا، مگر بگلے ختم نہ ہوتے۔
وہ اب بھی صبح دادا کے ساتھ باسفورس کنارے واک پہ جایا کرتا تھا۔ وہ اپنی بیماری کے باوجود بہت تیز تیز چلا کرتے، جہان بگلوں کے لیے روٹی کا ٹکڑا پکڑے ان کی رفتا سے ملنے کی کوشش میں لگا رہتا مگر وہ ہمیشہ آگے نکل جاتے، پھر رک جاتے اور تب تک نہ چلتے جب تک وہ ان کے ساتھ نہ آ ملتا۔
آپ رکتے کیوں ہے؟ وہ تنک کر پوچھتا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا مجھ سے آگے نکلے، پیچھے نہ رہے۔ وہ اسے ہمیشہ ”میرا بیٹا“ کہتے تھے۔
بہت بعد میں اسے محسوس ہوا کہ وہ اپنے اصل بیٹے کو بہت پسند نہیں کرتے۔ ابا عرصے بعد آیا کرتے اور جب بھی آتے، دادا کے ساتھ تلخ کلامی ضرور ہو جاتی۔ ممی اب کسی جگہ سے کپڑوں پہ مختلف قسم کے موتیوں کا کام سیکھتی تھیں، ساتھ میں نوکری۔ ابا ان سے بھی لڑ پڑتے مگر اس نے ہمیشہ اپنی ماں کو صبر شکر کر کے، خاموشی سے اپنا کام کرتے دیکھا تھا۔ وہ ابا کو بہت رسان سے جواب دے کر انہیں خاموش کرا دیتیں اور ساتھ ساتھ اپنا کام کرتی رہتیں۔ ممی اور دادا، یہ دونوں افراد کبھی فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔ بےکار رہنا، یہ لفظ ان کی لغت میں نہیں تھا۔
بہت بچپن سے وہ ان کی طرح بنتا گیا۔ اسے کام کی عادت پڑ گئی اور پھر اسے فارغ بیٹھنے کا مطلب بھول گیا۔ اسے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ورکنگ کلاس لوگ ہیں۔ انہیں ہر وقت کام کرنا چاہیے۔ فارغ صرف ان لوگوں کو بیٹھنا چاہیے، جو امیر ہوں اور جن کے پاس ہر سہولت میسر ہو۔ جیسا کہ اس کے ماموں لوگ۔
وہ ان سے تب ہی مل پاتا جب کبھی شاد و نادر وہہ ترکی آتے۔ وہ اسے ہمیشہ ناپسند رہے تھے۔ اس کے دونوں بڑے ماموں رعب دار، دبنگ اور مغرور سے تھے۔ ان کے سامنے بیٹھ کر ہی لگتا تھا کہ وہ بہت شاہانہ قسم کے لوگ ہیں، جبکہ وہ، دادا اور ممی بہت غریب اور معمولی انسان ہیں۔ اس نے ممی کو بڑے ماموں کے سامنے سختی سے نفی میں سر ہلاتے، جیسے انکار کرتے یا منع کرتے ہیں، دیکھا تھا۔ ممی استفسار پہ کچھ نہ بتاتیں، دادا سے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا۔
وہ تمہاری ممی کو پیسے دینا چاہتے ہیں مگر وہ نہیں لیتیں۔
کیوں؟ وہ حیرت سے سوال کرتا۔
جب انسان کے یہ دو ہاتھ سلامت ہوں تو اس کی عزت کسی سے کچھ نہ لینے میں ہی ہوتی ہے۔ جو ہاتھ پھیلاتا ہے میرے بیٹے! وہ اپنا سب کچھ کھو دیتا ہے۔
دادا کہتے تھے، انسان کو عزت سے جینا اور وقار سے مرنا چاہیے۔ جیسے دادا تھے، بہت عزت والے اور جیسے ممی تھیں۔ محنت کر کے، مشقت کر کے زندگی بسر کرنے والے لوگ، مگر پتا نہیں کیوں ابا ایسے نہہ تھے۔
وہ آٹھ برس کا تھا، جب ابا ایک دن ترکی آئے۔ تب وہ ایک اعلا عہدے پر پہنچ کر کافی کمانے لگ گئے تھے، مگر تب بھی ان کے حالات نہ بدل پائے۔ البتہ اس بار اس نے پہلی بار دادا اور ابا کو لڑتے ہوئے سنا تھا۔ بلند آواز سے، غصے سے بحث کرتے۔ وہ بہت ڈر گیا تھا۔ ممی اس وقت گھر پہ نہیں تھیں۔ ابا لڑ جھگڑ کر سامان پیک کر کے باہر چلے گئے اور دادا اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئے۔
رات وہ ڈرتے ڈرتے، خاموشی سے دادا کے کمرے میں آیا۔ وہ چپ چاپ لیٹے تھے۔ لحاف اوڑھے، چھت کو تکتے۔ ان کا چہرہ پیلا، سفید اور آنکھیں گلابی پڑ رہی تھیںـ
دادا! وہ دھیرے سے ان کے پاس آ بیٹھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ انہیں ہوا کیا ہے۔ اس نے پوچھا کہ ”کیا وہ ٹھیک ہیں، انہوں نے کھانا کھایا ہے، انہیں کچھ چاہیے۔ دادا ابا نم آنکھوں سے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلائے گئے۔
تمہیں پتا ہے جہان! اپنے بوڑھے ہاتھوں میں اس کا چھوٹا سا ہاتھ تھام کر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہنے لگے۔ سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکا دیا تھا، وہ میر صادق تھا۔ اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی۔ انگریز نے انعام کے طور پر اس کی کئی پشتوں کو نوازا۔ انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا، مگر پتا ہے جہان! جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتا۔
”میر صادق غدار کے ورثا حاضر ہوں“
ایک آنسو ان کی آنکھ سے پھسلا اور تکیے میں جذب ہو گیا۔
میرے بیٹے! میری بات یاد رکھنا، جیسے شہید قبر میں جا کر سینکڑوں سال زندہ رہتا ہے، ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے۔ دن کے اختتام پر فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ انسان تاریخ میں صحیح طرف تھا یا غلط طرف پہ۔
پھر انہوں نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ اسے آج بھی یاد تھا، دادا کے ہاتھ اس روز کپکپا رہے تھے۔
میرے بیٹے! مجھ سے ایک وعدہ کرو گے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
یہ تمہارا ملک نہیں ہے، مگر تم اس کیا کھا رہے ہو، کبھی اس کو نقصان مت پہنچانا۔ لیکن جو تمہارا ملک ہے نا، جس نے تمہیں سب کچھ دیا ہے اور تم سے کچھ نہیں لیا، اس کا کبھی کوئی قرض آ پڑے تو اسے اٹھا لینا۔ میں وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا، جو تم پہ آن پڑا ہے۔ تم اسے اٹھا لینا۔ پھر انہوں نے لحاف میں جیسے جگہ بنائی۔ آؤ میرے پاس لیٹ جاؤ۔
وہ وہیں دادا کے بازو سے لگا، ان کے لحاف میں لیٹ گیا۔ دادا بہت گرم ہو رہے تھے، ان کا بستر بھی گرم تھا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ سو گیا۔
صبح وہ اٹھا تو دادا فوت ہو چکے تھے۔
اس روز وہ بہت رویا تھا۔ ممی بھی بہت روئی تھیں۔اس نے پہلی بار جانا تھا کہ موت کیا ہوتی ہے۔ موت کی شکل اور ہیئت کیا تھی، وہ کچھ نہیں جانتا تھا، سوائے اس کے کہ موت بہت سرد ہوتی ہے۔ دادا کے جسم کی طرح۔ اس نے بہت بار ان کا ماتھا، ان کی آنکھیں اور ہاتھوں کو چھوا۔ وہ برف ہو رہے تھے۔ سرد اور ساکن۔
اسی شام ایک سمندری بگلا ان کی بالکونی میں آ گرا تھا۔ وہ زخمی تھا، جب تک اس نے دیکھا، وہ مر چکا تھا۔ جہان نے اسے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر دیکھا، وہ سرد تھا۔ سرد اور سخت
یہی موت تھی۔
ابا ان کے ساتھ نہیں تھے، وہ کہاں تھے، اسے معلوم نہیں تھا۔ بس ممی اور وہ دادا کو پاکستان لے آئے۔ وہیں ان کو دفنایا گیا، وہیں وہ ابدی نیند جا سوئے، مگر ابا کا نام و نشان نہ تھا۔
ممی ان دنوں بہت غمم ذدہ رہتی تھیں۔ غم بہت سے تھے، مگر تب وہ ان کی شدت کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اپنے بڑے ماموں کے گھر تھا، جب ایک روز ممی نے اسے بتایا کہ وہ اس کا نکاح ماموں کی بیٹی سے کر رہی ہیں۔
کیوں؟ اس نے اپنا پسندیدہ سوال کیا تھا۔
کیونکہ کچھ ایسا ہوا ہے کہ شاید ہم پھر یہاں نہ آ سکیں۔ میں چاہتی ہوں کہ تعلق کی ڈور بندھی رہے۔ میرے بھائی مجھ سے نہ چھوٹیں۔ ممی نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا مگر اسے یاد نہیں تھا۔ اسے صرف دادا کی باتیں یاد تھیں۔
ماموں کا گھر، ممانیاں اور ان کے بچے، اسے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہاں رہ کر اسے مزید احساس دلایا جاتا کہ وہ ان سے کم تر ہے۔ وہ بہت حساس ہوتا جا رہا تھا۔ اسے یاد تھا۔
وہ اس روز فرقان ماموں کے کچن میں پانی لینے آیا تھا۔ جب اس نے اپنے سے تھوڑے سے بڑے داور کو غصے سے فریج کا دروازہ بند کرتے دیکھا-
نہیں! مجھے انڈا ہی کھانا ہے۔ صائمہ ممانی اس کو اصرار کر کے منانے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر وہ بگڑے بگڑے انداز میں ضد کر رہا تھا-
کیوں انڈے ختم ہو گئے ہیں؟ میرے لیے کیوں نہیں بچے؟ دفعتا اس کی نگاہ دروازے پر کھڑے گہرے بھورے بالوں والے لڑکے پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں مزید غصہ در آیا-
یہ لوگ ہمارے گھر کے سارے انڈے کھا جاتے ہیں، یہ کیوں آئیں ہیں ہمارے گھر؟
بس کرو داور! کوفتوں میں ڈال دیے تھے، اسی لیے ختم ہوئے۔ میں منگوا دیتی ہوں ابھی۔ پتا نہیں ممانی نے اسے دیکھا تھا یا نہیں، مگر وہ فورا پلٹ گیا-
اسے اپنے اندر سے ایک ہلکی سی آواز آئی تھی، جو انڈے کو ضرب لگا کر توڑنے کی ہوتی ہے، جو کسی کی عزت نفس مجروع کرنے کی ہوتی ہے۔
اس روز کھانے میں نرگسی کوفتے بنے تھے۔ اسے کوفتوں میں انڈے دکھائی دیے تو اس نے پلیٹ پرے کر دی۔ رات کو بھی اس نے کھانا نہیں کھایا۔ اس کا اب ماموں کے گھر کسی بھی شے کو کھانے کا دل نہیں چاہتا تھا، انڈے تو کبھی بھی نہیں۔
ممی رات کو بہت حیرت سے وجہ پوچھنے لگیں تو اس نے صاف صاف وہ بتا دیا جو صبح ہوا تھا۔ ممی چپ ہو گئیں، پھر انہوں نے اسے توس اور ساتھ کچھ اور لا دیا۔ جتنے دن وہاں رہے، اس نے انڈوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ممی نے ایک دفعہ بھی اصرار نہیں کیا۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ غم زدہ لگتی تھیں۔
وہ واپس آئے تو چند روز بعد ابا بھی آ گئے۔ وہ اب ان کے ساتھ رہتے تھے مگر گھر کا ماحول بہت تلخ اور خراب ہو گیا تھا۔ ممی اور ابا کی اکثر لڑائی ہو جاتی۔ ابا ہی بولتے رہتے، ممی خاموشی سے کا کیے جاتیں۔ اس نے بھی اپنی ماں کی عادت اپنا لی۔ وہ بھی خاموشی سے ممی کا ہاتھ بٹاتا رہتا۔
پھر جلد ہی انہوں نے استنبول چھوڑ دیا۔ صرف ایک گھر، ایک شہر نہیں، انہوں نے بہت سے گھر اور بہت سے شہر بدلے۔ وہ جیسے کسی سے بھاگ رہے تھے۔ کس سے اور کیوں؟ وہ نہیں جانتا تھا مگر اس نے ابا کو پھر ہمیشہ مضطرب اور پریشان ہی دیکھا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا وہ دس برس کا تھا جب اس نے جان لیا کہ ابا کس سے اور کیوں بھاگتے تھے اور یہ اس نے تب جانا جب اس نے دنیا کا سب سے خوبصورت آدمی دیکھا۔
ان دنوں وہ انطاکیہ میں تھے۔ ابا کے ایک دوست کے فارم ہاؤس کے دو کمرے ان کے پاس تھے۔ ممی ان لوگوں کے باڑے اور کھیت میں کام کرتی تھیں۔ وہ فصل کے دن تھے۔ انطاکیہ میں کٹائی کے موسم کی خوشبو بسی تھی۔ فارم کے چھت پر چڑھ کر دیکھو تو دور شام کی سرحدی باڑ دیکھائی دیتی تھی۔ وہ اکثر وہاں سے شام کی سر زمین کو دیکھا کرتا تھا، مگر اس رات وہ سو رہا تھا۔ جب اس نے وہ آواز سنی۔
وہ ایک دم اٹھ بیٹھا، ممی ادھر نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو آج رات دیر تک فصل کا کام نپٹانا تھا، وہ جانتا تھا۔ پھر آواز کس کی تھی؟ جیسے کوئی درد سے چلایا تھا۔ آواز ساتھ والے کمرے سے آئی تھی۔ وہ فورا بستر سے اترا۔ وہ ڈرا نہیں، وہ میجر احمد شاہ کا بہادر پوتا تھا۔ اس نے سلیپرز پہنے اور دروازہ کھول کر باہر آیا۔
دوسرا کمرہ جو سامان کے لیے استعمال ہوتا تھا-اس کی بتی جلی ہوئی تھی۔ جہان نے اس کا دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ اندر کا منظر بہت بھیانک تھا۔
کمرے میں چیزیں ادھر ادھر بکھری تھیں، جیسے بہت دھینگا مشتی کی گئی ہو۔ ابا ایک کونے میں شل سے کھڑے تھے، ان کے ہاتھ میں ایک چاقو تھا جس کے پھل سے خون کے قطرے ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ وہ خود بھی جیسے شاکڈ سے ہوئے سامنے فرش پر دیکھ رہے تھے جہاں کوئی اوندھے منہ گرا ہوا تھا۔
ابا! اس نے پکارا۔ جیسے کرنٹ کھا کر انہوں نے سر اٹھایا۔ اسے دیکھ کر ان کی انکھوں میں خوف در آیا۔ انہوں نے گبھرا کر چاقو پھینکا۔
یہ………. یہ میں نے نہیں……….. یہ مجھے مارنا چاہتا تھا، میں کیا کرتا؟ بے ربط سی صفائی دیتے وہ آگے آئے اور جلدی سے دروازہ بند کیا۔
جہان پھٹی پھٹی نگاہوں سے اوندھے منہ گرے شخص کو دیکھ رہا تھا، بلکہ نہیں، وہ اس خون کو دیکھ رہا تھا جو اس کے اوندھے گرے جسم کے نیچے سے کہیں سے نکلتا فرش پر بہہ رہا تھا-
جہان! میری بات سنو میرے بیٹے! ابا نے بہت بے چارگی سے اسے کندھوں سے تھام کر سامنے کیا۔ ان کا میرے بیٹے کہنے کا انداز بالکل دادا جیسا نہ تھا۔
یہ آدمی مجھ سے لڑ رہا تھا، میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا سواۓ اس کے کہ میں اس کو روکوں۔ ورنہ یہ مجھے پاکستان لے جاتا۔ میرے بیٹے! تم یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گے، ٹھیک ہے؟ اس نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھتے اثبات میں سر ہلایا وہ بہت گھبراۓ ہوۓ لگ رہے تھے۔
تم کسی کو بتاؤ گے تو نہیں؟ اپنی ماں کو بھی نہیں۔
نہیں ابا! مجھے راز رکھنے آتے ہیں۔ اس نے خود کو کہتے سنا۔
چلو! پھر جلدی کرو۔ اس جگہ کو ہمیں صاف کرنا ہے اور اس کی لاش کو کہیں دور لے کر جانا ہے۔ میں گھوڑا لاتا ہوں، تب تک تم تولیہ لے کر یہ جگہ صاف کر دو۔
اس نے فرماں برداری سے سر اثبات میں ہلایا۔ چند روز پہلے باڑے میں ایک گاۓ زخمی ہو کر مر گئی تھی، اس کا خون جو دیوار پہ لگ گیا تھا، اسی نے صاف کیا تھا ممی کے ہمراہ۔ اب بھی وہ کر لے گا۔
میں ابھی آتا ہوں۔ ابا تیزی سے باہر نکل گئے۔ اسے لگا شاید وہ اب کبھی واپس نا آئیں، جیسے دادا نہیں آۓ تھے۔ پہلی دفعہ اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کو ابا پہ بھروسہ نہ تھا مگر کام تو اسے کرنا تھا۔ وہ بھاگ کر دو تین تولیے لے آیا اور پنجوں کے بل فرش پہ جھکا خون صاف کرنے لگا۔
وہ باڑے کی گاۓ نہیں تھی، وہ کوئی انسان تھا، جیتا جاگتا وجود جو اب لاش بن چکا تھا۔ چند لمحے بعد ہی وہ شدید خوف کے زیرِاثر آنے لگا۔ اس کے ہاتھوں میں لرزش آ گئی۔ مگر کام تو اسے کرنا تھا۔ کچھ دیر بعد کسی خیال کے تحت اس نے خون سے تر تولیہ چہرے کے قریب لے جا کر سونگھا۔ پھر ناک اس اوندھے منہ گرے وجود کے اوپر جھکا کر سانس اندر کو کھینچی۔
اس آدمی کے وجود سے خوشبو اٗٹھ رہی تھی۔ ایسی خوشبو جو اس نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ وہ خوشبو دھیرے دھیرے اس کا خوف زائل کر گئی۔ بہت زور لگا کر اس نے اس آدمی کو سیدھا کیا۔ پھر اس کے سینے پہ، جہاں سے خون ابل رہا تھا، تولیہ زور سے دبا کر رکھا۔ اپنے سامنے ایک نعش کو دیکھ کر بھی اسے ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ احمد شاہ کا بہادر پوتا تھا، بلکہ اس شخص میں ہی کچھ ایسا تھا جو ہر طرف خوشبو بکھیر رہا تھا۔
اس نے سیاہ پینٹ، سیاہ سوئیٹر اور سر پر سیاہ اونی ٹوپی لے رکھی تھی۔ اس کا رنگ سرخ و سفید تھا، وہ بہت خوبصورت اور وجیہہ آدمی تھا۔ سیدھا کرنے پر اس کی ٹھوڑی جو سینے سے جا لگی تھی، ذرا اوپر ہو گئی تو گردن پر پسینے کے قطرے نمایاں نظر آ رہے تھے۔ جہان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، وہ گرم تھا۔ دادا کے جسم کی طرح ٹھنڈا نہیں، سخت نہیں، اکڑا ہوا نہیں۔ وہ بہت نرم اور گرم تھا۔
کیا وہ واقعی مر چکا تھا؟
اسی اثنا میں ابا آ گئے۔ وہ اب پہلے سے زیادہ سنبھلے ہوئے لگ رہے تھے۔ اس کے زخم پہ ایک کپڑا کس کے باندھنے کر بعد ابا اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔وہاں ایک گھوڑا کھڑا تھا۔ اسے بمشکل گھوڑے پہ اوندھا لاد کر ابا نے بھاگ تھام لی۔ وہ بھی ساتھ ہی ہو لیا۔ رات کا وقت تھا، ہر سو سناٹا تھا، مہیب تاریکی۔
ابا فارم کی پچھلی طرف آ گئے۔ وہاں بڑے سے کچے صحن کے وسط میں فوارہ بنا تھا۔ ابا دو بڑے بیلچے کہیں سے لے آئے اور زمین کھودنے لگے۔ اس نے بھی بیلچہ تھام لیا۔ وہ ان کی مدد کرنے لگا۔ کافی دیر بعد جب گڑھا کھد گیا تو ابا نے بمشکل اس لاش کو اتار کر گڑھے میں ڈالا۔
ابا! کیا یہ مر چکا ہے؟ وہ متذبذب تھا۔ وہ بول اٹھا۔ انہوں نے اسے ذرا حیرت سے دیکھا۔
ہاں! یہ مر چکا ہے، نہ سانس ہے نہ دھڑکن۔
یہ کون تھا ابا؟
مٹی ڈالتے ہوئے لمحے بھر کو وہ رکے، جیسے فیصلہ کر رہے ہوں کہ اسے بتانا چاہیے یا نہیں، مگر پھر بتانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ پاک اسپائی تھا، اور مزید کوئی سوال نہیں۔
جہان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ مزید کوئی سوال کر بھی نہیں رہا تھا۔ اس کی نگاہیں اس سیاہ پوش شخص پر جمی تھیں، جس پر اب ابا مٹی گرا رہے تھے۔
بلاشبہ وہ اس دنیا کا خوب صورت ترین آدمی تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: