Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 44

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 44

–**–**–

پاک اسپائی۔ پاکستانی جاسوس۔
واپسی پہ ابا نے کمال مہارت سے تمام نشانات صاف کر دیے۔ تھوڑی سی دیر میں کمرا یوں ہو گیا جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ چیزیں درست کرتے ہوۓ اب اسے پتہ نہیں کیوں پھر سے ڈر لگنے لگا تھا۔ جب تک وه آدمی قریب تھا، اس کا سارا خوف زائل ہو گیا تھا، مگر جب وه دفن ہو گیا تو وہ خوف پھر سے عود کر آ گیا۔ ابا نے ہر نشان مٹا ڈالا، ممی کو بھی کچھ پتا نہ لگ سکا۔
مگر اسے یاد تھا، دادا کہا کرتے تھے، انسان جس جگہ پہ جو کرتا ہے، اس جگہ اس کا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ آثار ہمیشه وہیں رہتے ہیں۔ وه کہتے تھے کہ یہ سورة يسين میں لکھا ہے۔ وه یہ بھی کہتے تھے کہ انسان جو بولتا ہے، اس کے الفاظ ہوا میں ٹھہر جاتے ہیں۔ آثار کبھی نہیں مٹتے۔
اس پاک اسپائی کے آثار بھی اس کے ذہن پہ، اس کمرے کے فرش پر اور فوارے کے سنگِ مرمر پر نقش ہو چکے تھے۔
اگلے تین روز وه بخار میں پھنکتا رہا۔ ایک عجیب سا احساس کہ کوئی اسے پکار رہا ہے۔ فوارے کے ساتھ کچے صحن کی قبر سے کوئی اسے آواز دے رہا ہے۔ وه کہہ رہا ہے کہ اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا، یہ احساس ہر شے پہ حاوی تھا-
تب پہلی دفعہ اسے نے وہی منظر خواب میں دیکھا۔ حقیقت میں وه اسے دفنا کر آ گئے تھے، مگر خواب میں ہمیشه یوں دکھائی دیتا کہ جب وه دفنا کر پلٹتے ہیں تو وه قبر سے اسے پکارتا ہے۔ خوبصورت سحر انگیز سی آواز۔ مگر الفاظ اسے سمجھ میں نہیں آتے۔ وه بہت مدھم، مبہم سا کچھ کہتا تھا، وه کبھی نہ جان پایا کہ وه کیا کہتا تھا لیکن تب بھی اسے لگتا تھا کہ شاید وه بتا رہا ہے کہ اس کا بدلہ ضرور لیا جاۓ گا۔
وه لوگ جلد ہی انطاکیہ چھوڑ کر ادانہ چلے آئے۔ یہاں سے وه کچھ عرصے بعد قونیه منتقل ہو گئے اور جب وه باره برس کا ہوا، تب چار برس کی خانہ بدوشی کے بعد وه استنبول واپس آ گئے۔ ممی نے بتایا کہ اب انہیں حکومت نے اجازت دے دی ہے اور یہ کہ اب وه آرام سے استنبول میں ره سکتے ہیں۔
مگر آرام سے وه تب بھی نہیں رہنے لگے تھے۔ ممی ویسے ہی جاب کرتیں، البتہ ابّا بدلتے جا رہے تھے۔ وه پہلے سے زیاده مضطرب اور چڑچڑے رہنے لگے تھے۔ کبھی کبھی وه غصے میں اتنے بے قابو ہو جاتے کہ اسے لگتا، وه پاگل ہوتے جا رہے ہیں۔
تب اسے وه پاک اسپائی بہت یاد آتا۔ پھر ایک رات ممی کے ساتھ لیٹے ہوئے، چھت کو تکتے اس نے انسے پوچھ ہی لیا۔
ممی! یہ پاک اسپائی کون ہوتا ہے؟
ممی چند لمحے خاموش رہیں، پھر کہنے لگیں۔
بیٹا! پاکستان کی فوج میں جو خفیہ ایجنسیز ہوتی ہیں، ان میں بہت سے فوجی اور غیر فوجی کام کرتے ہیں۔ ان اہل کاروں میں سے کچھ تربیت یافتہ ایجنٹ ہوتے ہیں، وه اپنے ملک کے رازوں کی حفاظت کے لیے دوسرے ملکوں کے راز چرایا کرتے ہیں۔
مگر وه کرتے کیا ہیں؟
وه دوسرے ممالک میں جا کر جاسوسی کرتے ہیں۔ بھیس بدل بدل کر وه ہر جگہ پھرتے ہیں۔ ان کا کوئی ایک نام یا ایک شناخت نہیں ہوتی۔ ان کا کوئی ایک گھر یا ایک فیملی نہیں ہوتی۔ وه کبھی کچھ اور کبھی کچھ بن جاتے ہیں۔ ان کو یہ سب سکھایا جاتا ہے، تا کہ وه جاگیں اور پاکستان کے لوگ سکون سے سو سکیں۔ وه اپنے ملک کی آنکھیں ہوتے ہیں۔
اور پھر ان کو کیا ملتا ہے؟
کچھ بھی نہیں۔ ممی نے گہری سانس لے کر کہا۔ جب کوئی وردی والا سپاہی محاذ پہ لڑتا ہے تو اگر وه زنده ره جاۓ تو غازی کہلاتا ہے۔ جان قربان کرے تو شہید، اعزازت صرف وردی والے کو ملتے ہیں۔ ان کے نام پسے سڑکیں اور چوک منسوب کیے جاتے ہیں، ان پہ فلمیں بنائی جاتیں ہیں مگر جو جاسوس ہوتا ہے نا وه Unsung Hero ہوتا ہے۔ بے نام و نشان، خاموشی سے کسی دوسرے ملک میں زندگی بسر کرتا، وه اکیلا، تنہا ہی کام کیا کرتا ہے اور اگر گرفتار ہو جائے تو عموماً اسے بچانے کے لیے کوئی نہیں آتا۔
کیوں؟ وه حیران ہوا۔
بیٹا! یہی اس پیشے کی مجبوری ہوتی ہے۔ گرفتار ہونے کی صورت میں جاسوس کا ملک، حکومت، فوج، ایجنسی کوئی بھی کھلم کھلا اسے اون نہیں کرتی، اگر ان سے پوچھا جائے تو صاف انکار کر دیا جاتا ہے۔ دوسرے طریقوں سے وه اسے جیل سے بھگانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اگر یہ نہ ہو سکے تو جاسوس کو ساری زندگی جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ اگر وه راز اگل دے تو وہ غدار کہلاتا ہے۔ اس لیے اسے یہ تک چھپانا ہوتا ہے کہ وه جاسوس ہے، کیونکہ ہر ملک میں جاسوسی کی سزا موت ہوتی ہے۔ پھر اگر اس پہ جاسوسی ثابت ہو جائے تو اسے مار دیا جاتا ہے اور اس کی لاش کہیں بے نام و نشان دفن کی جاتی ہے یا کسی بھی طرح ڈسپوز آف کر دی جاتی ہے اور بعض دفعہ کتنے ہی عرصے تک اس کے خاندان والوں کو بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہے۔ اس کا جنازہ تک نہیں پڑھایا جاتا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے انطاکیہ میں فوارے کے ساتھ کھودی گئی قبر گھوم گئی۔ بے نام و نشان قبر۔
پھر تو اس کو کچھ بھی نہ ملا ممی!
بیٹا! جو آدمی خود کو اس کام کے لئے پیش کرتا ہے، وہ اس بات سے واقف ہوتا ہے کہ گرفتار ہونے یا دیار ِغیر میں مارے جانے کے بعد اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ اس کو تاریخ کبھی ہیرو کے نام سے یاد نہیں کرے گی۔ اس کے ملک میں اس کی فائل پہ ٹاپ سیکرٹ یا کلاسیفائیڈ کی مہر لگا کر بند کر دی جائے گی۔ وہ یہ سب جانتے بوجھتے بھی خود کو اس جاب کے لئے پیش کرتا ہے۔ پتا ہے کیوں؟
کیوں؟ اس نے اپنا پسندیدہ سوال پھر سے دہرایا۔
کیونکہ بیٹا! جو شخص اپنی جان کے ذریعے ﷲ کی راہ میں لڑتا ہے اسے دنیا کے اعزازات اور تاریخ میں یاد رکھے جانے یا نہ رکھے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ اسے اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ گرفتاری کی صورت میں سب اسے چھوڑ دیں گے اور موت کی صورت میں کوئی اس کا جنازہ بھی اٹھانے نہیں آئے گا، کیونکہ اسے ﷲ تعالیٰ کی رضا چاہئیے ہوتی ہے اور جسے یہ مل جائے، اسے اور کچھ نہیں چاہئیے ہوتا۔
ممی اکثر اسے ایسی باتیں بتایا کرتیں۔ پھر ایک دم چپ ہو جاتیں اور پھر اپنی رو میں کہتیں۔ اپنے ملک کے راز کبھی نہیں بیچنے چاہئیں۔ انسان بھی کتنی تھوڑی قیمت پہ راضی ہو جاتا ہے۔ اس وقت ان کی آنکھوں میں ایک لو دیتی اذیت ہوتی۔ بہت عرصے بعد جہان کو اس تاثر کی وجہ سمجھ آئی تھی۔
اور یہ تب ہوا جب ان کی جدیسی (گلی) سے پچھلی جدیسی میں رہنے والے ایک لڑکے حاقان نے اس پہ راہ چلتے فقرہ اچھالا کہ وہ پناہ گزین ہے، اور یہ کہ اس کا باپ ایک مفرور مجرم ہے۔
اس نےحاقان کو کچھ بھی نہیں کہا مگر رات جب ممی سے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا۔ سب کچھ صاف صاف کہ کس طرح ابّا سے غلطی ہوئی اور اس کی سزا وہ بھگت رہے تھے۔ جلا وطنی کی سزا۔ اور ترک حکومت نے رحم کھاتے ہوئے انہیں سیاسی پناہ بخشی تھی۔ تب اسے لگا، وہ بھی وظیفہ لینے والوں کی قطار میں عدالت میں کھڑا ہے اور چپڑاسی زور زور سے صدا لگا رہا ہے۔
سکندر شاہ غدّار کے ورثاء حاضر ہوں۔
اس سب کے باوجود وہ ابا سے نفرت نہ کر سکا۔ وہ ان سے اتنی ہی محبت کرتا تھا جتنی پہلے۔ ابا ویسے ہی اب بیمار رہنے لگے تھے۔ ممی کبھی کبھی ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا کرتی تھیں۔ مگر ان کے اخراجات، اس کی پڑھائی، ممی کو ڈبل شفٹ کام کرنا پڑتا۔ رات میں کبھی کبھار وہ ممی کو لاؤنج میں پاؤں اوپر کر کے بیٹھے تلوؤں پہ بنے چھالوں پہ دوا لگاتے دیکھتا۔ ان کے ہاتھ سوئی، موتی، کپڑے، دھاگے اور قینچی سے آشنا ہو کر اب سخت پڑتے جا رہے تھے۔
تب وہ سوچتا کہ وہ بہت محنت کر کے بہت امیر آدمی بنے گا، تا کہ ممی کو کام نہ کرنا پڑے اور وہ انہیں جہانگیر والا گھر دوبارہ خرید کر دے سکے۔ مگر وہ وقت قوسِ قزح کی طرح دور چمکتا تو دکھائی دیتا لیکن اگر وہ اس کے پیچھے بھاگتا تو وہ غائب ہو جاتا۔
ایک روز وہ سکول سے آیا تو ممی اپنا زیور الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھیں، ان کے چہرے کے افسردہ تاثرات کو دیکھتے ہوئے وہ ان کے پاس آ بیٹھا۔
ممی! کیا آپ اپنا زیور بیچ دیں گی؟ جیسے دادا نے جہانگیر والا گھر بیچا تھا؟
ممی بے دلی سے مسکرا دیں۔
چیزیں اسی لیے تو ہوتی ہیں۔ میں تمہارے ابا کے اس پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتی، جو بینک میں رکھا ہے اور جس نے ہم دونوں کو اپنے ملک کے سامنے شرمندہ کر دیا ہے۔ اس لیے زیور بیچ رہی ہوں۔ مگر تم یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گے۔ کیا تمہیں راز رکھنے آتے ہیں جہان؟ وہ اکثر دادا کو جہان سے یہ فقرہ کہتے سنتی تھیں، اس لیے دہرایا تو اس نے پُر ملال مسکراہٹ کے ساتھ سر اثبات میں ہلا دیا۔
ممی نے زیور بیچ دیا۔ کچھ وقت کے لیے گزارہ ہونے لگا، مگر پھر اس کا دل چاہنے لگا کہ وہ بھی کچھ کام کر کے پیسہ کمائے۔ تاکہ اس کی ماں کے ہاتھ نرم پڑ جائیں اور ان کے پیروں کے چھالے مٹ جائیں۔ یہی سوچ کر اس نے پچھلی جدیسی کے حاقان کے چچا کرامت کی ورکشاپ میں کام کرنے کے لئے خود کو پیش کر دیا۔ کرامت بے کا بیٹا علی کرامت اس کا کلاس فیلو بھی تھا، سو اس کو کام مل گیا۔ اس کو راز رکھنے آتے تھے، سو یہ بات اس نے ممی سے راز رکھ لی۔
کرامت بے کی گاڑیوں کی ورکشاپ ان کے گھر کے ساتھ تھی، یعنی جہان کے گھر سے پچھلی گلی میں۔جہان کا گھر بالائی منزل پہ تھا، اگر وہاں سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو کرامت بے کا گھر اور ورکشاپ دونوں دکھائی دیتی تھیں۔ ورکشاپ گلی کے بالکل نکڑ پہ تھی، اس سے آگے دوسری گلی میں مڑو تو کمرشل ایریا شروع ہو جاتا تھا۔
ایک روز ممی نے اس کے کمرے کی کھڑکی سے جھانکا تو ورکشاپ میں ہاتھ منہ کالا کیے، کام کرتا نظر آ گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ کھیلنے کے لئے جانے کی اجازت لے کر جایا کرتا تھا اور ممی کو علم ہوتا تھا کہ وہ علی کرامت کے گھر جا رہا ہے۔ آج ان کو پتا لگ گیا کہ اصل میں وہ کہاں جاتا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو انہوں نے ساری بات دہرا دی، مگر نہ اسے ڈانٹا، نہ ہی خفا ہوئیں۔
تم ورکشاپ میں کام کرو، اخبار بیچو یا پھولوں کے گلدستے بناؤ۔ کبھی ان کاموں میں اتنا پیسہ نہیں کما سکو گے کہ اپنی پوری کتابیں بھی خرید سکو۔ اس کے باوجود میں تمہیں نہیں روکوں گی۔ میں اپنے بیٹے کو مضبوط اور محنتی دیکھنا چاہتی ہوں۔
اس نے ہمیشہ کی طرح اثبات میں سر ہلا دیا۔ کمائی نہ ہونے کے برابر تھی، مگر پھر بھی اسے کام کرنا اچھا لگتا تھا۔ اس نے ممی سے کہا کہ وہ بڑا ہو کر مکینک بنے گا۔ ممی خوب ہنسیں۔
ابھی تم نے زندگی میں بہت کچھ دیکھنا ہے۔ بہت سے پیشے دیکھ کر تم کہو گے، تم نے وہی بننا ہے لیکن اصل میں انسان کو وہی پیشہ اپنانا چاہئیے جس کے مطابق اس کی صلاحیت ہو۔ ابھی یہ فیصلہ بہت دور ہے کہ تم کیا بنو گے۔
مگر تب بھی وہ جانتا تھا کہ وہ مکینک ہی بنے گا۔یہی اس کی منزل تھی۔ پھر کبھی کبھی وہ خواب اسے ستاتا۔ وہ خواب جس نے ان برسوں میں کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ وہ پاک اسپائی اور اس کا روشن چہرہ، تب اس کی خواہش ہوتی کہ وہ بھی اس جیسا ہی بنے لیکن پھر وہ ڈر جاتا۔ معلوم نہیں کیوں۔
اس کا یہ خوف، یہ عجیب سا الجھن بھرا ڈر کب نکلا؟ شاید تب جب اس نے فریحہ سے دشمنی مول لی۔
فریحہ کرامت بے کے بھائی کی بیوی تھی۔ دراز قد، اسمارٹ، خوبصورت سبز آنکھوں اور کندھوں تک گرتے اخروٹی بالوں والی۔ اس کا لباس، اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کے ناز و انداز، سب میں ایک شاہانہ جھلک ہوتی تھی۔ وہ بہت مغرور، بہت طرح دار سی تھی۔ اس کا بیٹا حاقان بھی اتنا ہی مغرور اور نک چڑھا تھا۔ فریحہ کا شوہر ایکان معمولی صورت کا تھا، جب کہ کرامت بے کافی وجیہہ تھے۔ اس لیے حاقان، جو عمر میں جہان سے دو برس ہی بڑا تھا، ہر جگہ اپنی ماں کے حسن کے قصے سنایا کرتا تھا۔ وہ لوگ پیچھے سے عرب تھے، آپس میں عربی بولا کرتے۔ ایک روز فریحہ ایکان ان کے اسکول آئی تو حاقان نے سب کے سامنے اپنی ماں کو گلاب کا پھول پیش کرتے ہوئے عربی میں کچھ کہا۔ میں “انت مرہ جمیلہ” ہی اسے سمجھ آیا۔
اس نے علی کرامت سے مطلب پوچھا تو اس نے بتایا کہ “مرہ جمیلہ” بہت بہت خوبصورت عورت کو کہتے ہیں۔ اسے “انت” بھی بھول گیا۔ صرف “مرہ جمیلہ” ذہن پہ نقش رہ گیا۔
بے حد حسین عورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرہ جمیلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ممی اپنے زیور بیچ رہی تھیں تو انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک نیکلس رکھ لیا ہے، وہ اسے نہیں بیچیں گے کیونکہ وہ اسے حیا کو دیں گی۔
تم ہمیشہ یاد رکھنا۔ میں تمہاری شادی اپنے بھائی کے گھر ہی کروں گی، اس لیے تمہیں استنبول میں کوئی لڑکی خوبصورت نہیں لگنی چاہیے۔ سن لیا تم نے؟
مگر فریحہ کافی خوبصورت تھی، اسے بھی اچھی لگی، لیکن اتنی بھی نہیں کہ وہ اسے مرہ جمیلہ ہی کہہ دے۔
حاقان سے اس کا جھگڑا گیم کے دوران ہوا تھا۔ ورکشاپ میں کام ختم کر کے وہ جدیسی میں کھیلتے علی کرامت، حاقان اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ شریک ہوا تھا۔ حاقان کو اعتراض تھا، مگر علی کرامت کا کہنا تھا کہ جب دوسرے آدھے گیم کے دوران شامل ہو سکتے ہیں۔ تو جہان کیوں نہیں (اس کا اشارہ حاقان کی جانب تھا جو گزشتہ روز اسی طرح شامل ہوا تھا)۔
مجھ میں اور اس میں فرق ہے۔ میں حاقان ایکان رضا ہوں اور یہ ایک پناہ گزین کی اولاد۔
جہان نے ہاتھ میں پکڑی سرخ گیند اس کو دے ماری۔ اس نے بر وقت سر نیچے کر لیا مگر پھر تن فن کرتا آگے بڑھا۔ تھوڑی سی مارکٹائی کے بعد لڑکوں نے انہیں چھڑا لیا۔ وہ وہاں سے یوں بکھرے کہ حاقان کا ہونٹ پھٹا ہوا تھا اور جہان کی نکسیر پھوٹی ہوئی تھی۔
گھر آ کر اس نے چپ چاپ خون صاف کر لیا۔
اصل اذیت اس طعنے کی تھی، جو اسے دیا گیا تھا۔ جیسے منہ پر چابک دے مارا ہو۔ وہ تکلیف بہت زیادہ تھی۔ پھر بھی وہ ابا کے خلاف نہ جا سکا۔ شاید اس لیے کہ اس کی ماں نے کبھی اسے باپ کے خلاف نہیں بھرا، بلکہ ہمیشہ یہی سکھایا کہ نفرت گناہ سے کی جاتی ہے، گناہگار سے نہیں۔
حاقان نے البتہ چپ چاپ اپنا خون صاف نہیں کیا۔ اس کا ثبوت یہ تھا کہ فریحہ تن فن کرتی ان کے گھر آتی، بلند آواز اور رعونت سے اس کو بہت سی باتیں سنا کر گئی۔ (اس کا شوہر کاروباری آدمی تھا، اور مالی حالات کرامت بے سے اچھے تھے ُاسے اسی پیسے کا غرور تھا) یہی نہیں، اس نے جا کر میونسپلٹی والوں سے بات بھی کی کہ ان سیاسی پناہ گزینوں کو کہیں اور رہائش اختیار کرنے کو کہا جاۓ ورنہ وہ ماحول خراب کریں گے۔
ممی کو اس بات کا علم نہ ہو سکا، وہ گھر پہ نہیں تھیں۔ ابا ان دنوں بیمار رہنے لگے تھے، سو کمرے میں تھے۔ اس نے اکیلے فریحہ کی باتیں سنیں، مگر چپ رہا۔ میونسپلٹی والی بات اسے علی نے بتائی۔ اس کا دل جیسے ٹوٹ سا گیا۔ ابا کی وجہ سے، بلکہ اس کے اپنے جھگڑے کی وجہ سے ان کو یہ گھر چھوڑنا پڑے گا۔ اتنی مشکل سے ممی خرچے کی گاڑی کھینچ رہی تھیں، اب ان کو مزید تکلیف سہنی پڑے گی۔ وہ بہت پریشان ہو گیا۔
تم ان باتوں سے پریشان مت ہو بچے! کوئی نہ کوئی راستہ نکل آۓ گا۔ راستہ ہمیشہ ہوتا ہے، بس ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ علی کی بات سن کر اس کی ممی نے کہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ان کو دیکھا۔
وہ اس وقت کچن سلیب کے سامنے کھڑی تھیں۔ وہ باہر کام سے آئی تھیں اور ابھی ابھی انہوں نے اسکارف سے کیا گیا نقاب اتارا تھا۔ اب وہ ٹشو سے چہرے پہ آیا پسینہ تھپتھپا رہی تھیں۔ ان کا رنگ سیاہ تھا، وہ مصری تھیں، مصری سیاہ فام مگر پھر بھی ان کے چہرے پہ ایسی روشنی، ایسا نور تھا کہ وہ نگاہ نہیں ہٹا سکتا تھا۔ اسے وہ بہت خوب صورت لگتی تھیں۔ اس دن ان کی بات سن کر وہ خاموشی سے اٹھ گیا، مگر بعد میں مارکیٹ جا کر اس نے کارڈ خریدا اور اس پہ انگریزی میں لکھا۔
“You Are My Marrah Jameelah”
ساتھ میں ان کا نام اور فقط میں اپنا نام لکھ کر اس نے کارڈ کو خط کے لفافے میں ڈالا اور گوند سے لفافہ بند کر دیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ صبح جا کر چپکے سے یہ ان کو دے آۓ گا۔ ٹھیک ہے کہ ممی نے کہا تھا کہ اسے کوئی دوسری لڑکی خوب صورت نہیں لگنی چاہئیے۔ مگر وہ لڑکی تو نہ تھیں۔ وہ تو ایک درمیانی عمر کی خاتون تھیں، اپنی جیٹھانی فریحہ سے بالکل مختلف۔
جس پل وہ کارڈ اپنے بیگ میں رکھ رہا تھا، اسے کھڑکی کے باہر کچھ دکھائی دیا۔ اس نے جلدی سے بتی گل کی اور کھڑکی کے شیشے کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
باہر رات پھیلی تھی۔ فریحہ کا گھر (جہاں کرامت بے اور ایکان دونوں کے خاندان اکٹھے رہتے تھے) اور کرامت بے کی ورکشاپ سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ ورکشاپ کے دروازے کے پاس دو ہیولے سے کھڑے تھے۔ ایک لاک کھول رہا تھا جبکہ دوسرا ساتھ میں چپکا کھڑا تھا۔
لاک کھول کر وہ اندر چلے گۓ جب دروازہ بند کرنے کے لئے وہ سایہ پلٹا تو اسٹریٹ پول کی روشنی ان دونوں پہ پڑی۔ لاک کھولنے والے شخص کا چہرا واضح ہوا جو کرامت بے کا تھا جب کہ اس کے پیچھے موجود لڑکی اسی وقت پلٹی تھی۔ روشنی نے اس کے اخروٹی بالوں کو چمکایا اور پھر دروازہ بند ہو گیا۔
فریحہ۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ بھی کرامت بے کے ساتھ اس وقت؟
استنبول میں رہنے والے ایک تیرہ سالہ لڑکے کے لیے یہ سب سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا، یقین کرنا اور اس دھوکے کو جذب کرنا، یہ بہت مشکل تھا۔ وہ کتنی ہی دیر تو تحیر کے عالم میں وہیں بیٹھا رہا تھا۔ پھر ہر رات اس نے ان پہ نظر رکھنا شروع کر دی۔ وہ ہر رات نہیں آتے تھے۔ دو، دو، تین، تین دن بعد آیا کرتے۔
قریباٍ ایک مہینے بعد اس نے فریحہ کو سرِراہ اس وقت روکا، جب وہ صبح واک پہ تیز تیز چلتی جا رہی تھی۔
لیڈی ا یکان۔۔۔۔۔۔ کیا آپ مجھے ایک منٹ دے سکتی ہیں؟
فریحہ نے گردن موڑ کر کچھ اچنبھے، کچھ نخوست سے اسے دیکھا۔
بولو!
* * * * *
ثانیہ کی باتیں تب بھی اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔ جب وہ اپنے اپارٹمنٹ بلڈنگ کی لفٹ سے نکلا۔ پرانی یادیں، کسی ٹوٹے کانچ کی صورت ماس میں کھب گئی۔ ان کو کھینچ کر نکالنے کا تصور ہی جان لیوا تھا۔
اس نے سست روی سے فلیٹ کے دروازے میں چابی گھمائی تو اوپر کہیں سے پانی سے بھری ڈبی آ گری۔ وہ عین ڈور میٹ پر گری تھی اور کارپیٹ گیلا ہو گیا تھا۔ اس نے توجہ دیے بغیر دروازہ بند کیا۔ وہ اکثر ایسی چیزیں گھر میں چھوڑ جاتا۔ اگر ڈبی ابھی گری تھی تو اس کا مطلب تھا کہ اس کے بعد فلیٹ میں کوئی داخل نہیں ہوا تھا۔ ڈبی دوبارہ بھر کر رکھی جا سکتی تھی مگر کارپٹ پر نشانات ضرور ملتے۔
اس کے باوجود عادت سے مجبور اس نے کچن کی کھڑکی کی کنڈی چیک کی، پھر باتھ روم کے روشن دان کو دیکھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
اس نے ٹی وی آن کیا اور لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر پاؤں لمبے کر کے میز پر رکھے، صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ ان تمام ڈاکو منٹس کو دیکھنا چاہتا تھا جو ثانیہ نے اسے سی ڈی کی شکل میں دیے تھے۔
ثانیہ نے فائل پر سہ حرفی پاس ورڈ لگا دیا تھا اور وہ اسے بتا چکی تھی کہ پاس ورڈ کیا تھا اگر وہ اس سے کچھ بھی لیتا تو وہ اس کو اس فائل پہ یہی پاس ورڈ لگانے کو کہا کرتا تھا۔ ARP۔
لمحے بھر کو اس کا دھیان بھٹک کر ادالار میں اپنے ہوٹل گرینڈ کے آس کے باہر لگی تختی کی طرف چلا گیا۔ وہاں بھی اس نے یہی لکھوا رکھا تھا۔ اس سے عمومی تاثر یہی پڑتا تھا کہ اے ار پی کا مطلب عبدالرحمن پاشا ہے جب کہ ایسا نہیں تھا۔ وہ جب بھی خود کو اے ر پی لکھتا،وہ اس سے مراد کبھی بھی عبدالرحمن پاشا نہیں لیا کرتا تھا۔ اے آر پی کا مطلب اس کے نزدیک کچھ اور تھا۔
فائلز کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی وہ ذہنی طور پہ الجھا ہوا تھا۔ ممی نے صبح اسے جتنی تاکید سے کہا تھا کہ وہ ماموں سے مل لے، اب اگر وہ نہیں جائے گا تو وہ ہرٹ ہو گی اور یہی وہ چیز تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔ اسے جانا ہی پڑے گا۔ وہ جتنا اس رشتے اور ان رشتہ داروں سے احتراز برتنے کی کوشش کر رہا تھا، اب اتنے ہی وہ اس کے سامنے آ چکے تھے۔
بہت بے دلی سے اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور پھر کلائی پہ بندی گھڑی دیکھی۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ ماموں کا گھر یہاں سے دس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ کیا وہ ابھی ہی چلا جائے؟ گاڑی آج اس کے پاس نہیں تھی۔ سروس کے لیے دی ہوئی تھی، اسے کل ملنا تھا۔ اگر ہوتی تب بھی وہ ٹیکسی پر ہی جاتا، کیونکہ وہ ان کو یہی تاثر دے گا کہ وہ ترکی سے آج آیا ہے، دو ہفتے قبل نہیں۔ البتہ وہ ان کے گھر رکے گا نہیں۔ واپس آ ائے گا، کہہ دے گا کہ وہ ہوٹل میں رہائش پزیر ہے وغیرہ وغیرہ۔ کور اسٹوری تو اس کے پاس ہمیشہ تیار ہوتی تھی۔
وہ اٹھا، اپنی جیکٹ پہنی، جوگر کے تسمے باندھے اور والٹ اٹھا کر جانے لگا، پھر خیال آیا کہ وہ خط کے لفافے اٹھا لے جن کو اسے پرانی تاریخوں میں اسٹیمپ کروا کر میڈم سیکنڈ سیکرٹری کو بھیجنا تھا۔ یہ کام ماموں کے گھر جانے سے زیادہ ضروری تھا، پہلے اسے یہی کرنا چاہیے۔
پانی کی ڈبی دروازے کی اوپری جگہ پر احتیاط سے رکھ کر، اس کی ڈور پھنسا کر وہ باہر نکل آیا۔ ٹیکسی نے اسے ماموں کے سیکٹر کے مرکز پہ اتارا۔ یہاں سے ان کا گھر سو قدم کے فاصلے پہ تھا۔ جس دن وہ اسلام آباد پہنچا تھا، اس نے یونہی سرسری سا وہ راستہ سمجھ لیا تھا۔ شاید اس کے لاشعور میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ اس دفعہ اسے جانا ہی پڑے گا۔
مرکز پہ ایک کوریئر سروس کی شاپ سامنے ہی تھی۔ اس کے سامنے پھول والا بیٹھا تھا۔ مختلف رنگوں اور قسموں کے پھول سجائے، وہ ان پہ پانی چھڑک رہا تھا۔ پھول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے چاہیے کہ وہ ان کے گھر کچھ لے کر جائے، پھولوں سے بہتر کوئی تحفہ نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ ہی ایک بہت قیمتی اور خوب صورت تحفہ ہوتے ہیں۔ اس نے سوچا وہ لڑکے کو گلدستہ بنانے کا کہہ دے اور تب تک وہ اندر کوریئر سروس سے لفافے اسٹیمپ کروا لے۔
بات سنو! اس نے پھول بیچنے والے لڑک کو پکارا۔ وہ پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا، فورا پلٹا۔
جی صاحب! اپنے سامنے موجود آدمی کو دیکھ کر، جو سیاہ جیکٹ میں ملبوس، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا، وہ جلدی سے پانی کا برتن رکھ کر مؤدب سا ہوا، اس کے پاس آیا۔
گلاب کے پھول ہیں تمہارے پاس؟
کون سا رنگ چاہیے صاحب؟
سرخ! اس نے بنا سوچے کہہ دیا۔ لڑکے نے ذرا تاسف سے سر ہلایا۔
صاحب! سرخ پھول ختم ہو گیا ہے۔ تھوڑے سے سفید گلاب پڑے ہیں۔ وہ کردوں؟
نہیں، نہیں۔ اس نے قدرے برہمی سے نفی میں سر ہلایا۔ سفید گلاب، دشمنی کی علامت۔ ممی کو پتا چلے، وہ پہلے ہی دن ماموں کے گھر سفید گلاب لے گیا ہے تو وہ از حد خفا ہوں گی۔
مجھے سرخ ہی چاہئیں۔ کہاں سے ملیں گے۔
صاحب! میرے پاس سرخ اسپرے ہے، ان سفید پھولوں کو اسپرے کر دوں؟ قسم سے صاحب اتنی مہارت سے کروں گا، بالکل پتا نہیں چلے گا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے، یہ ہی کر دو۔ اس نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔ نقلی سرخ رنگ کے گلاب، سفید گلاب سے پھر بھی بہتر تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: