Jannat Kay Pattay Nimra Ahmed Urdu Novels

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed – Episode 45

Jannat Kay Pattay Novel By Nimra Ahmed
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
جنت کے پتے تک از نمرہ احمد – قسط نمبر 45

–**–**–

پھولوں والا لڑکا جلدی جلدی باسکٹ سے سفید پھول نکالنے لگا-
تم گلدستہ بناؤ، میں آتا ہوں۔ اس کی رفتار دیکھ کر وہ جان گیا کہ ابھی اسے کافی وقت لگے گا، اس لیے وہ اندر کوریئر شاپ کی طرف بڑھ گیا۔ اسے اگر کسی شے سے از حد چڑ تھی تو وہ وقت ضائع کرنے سے تھی۔
کوریئر شاپ میں دو افراد کھڑے اپنے اپنے لفافے جمع کروا رہے تھے۔ ڈیسک کے پیچھے بیٹھا، پی کیپ پہنے لڑکا کمپیوٹر پہ مصروف نظر آ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے جا کر ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ دفعتا ملازم لڑکے نے ٹائپ کرتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا۔ جہان پہ نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پہ شناسائی کی رمق ابھری۔ وہ جلدی جلدی کام نپٹانے لگا۔
دونوں افراد کو فارغ کر کے وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
جی احمد بھائی! کوئی خدمت؟
ہاں، چوٹا سا کام ہے۔ وہ جیکٹ کی جیب سے چند صاف لفافے نکالتے ہوئے کاؤنٹر پر آیا۔
ان کو کچھ بیک ڈیٹس میں اسٹیمپ کرنا ہے اور کچھ کو آگے کی ڈیٹس میں۔ یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے کام سمجھانے لگا۔ غضنفر اس کو جانتا تھا، اس سے پہلے وہ جہان کو اس سے ہٹ کر بھی اضافی کام کر چکا تھا، نہ بھی کر چکا ہوتا، تب بھی اس کے کارڈ کے باعث کر ہی دیتا۔
انٹری نہیں کرنی بھائی؟ جب وہ لفافے میں واپس جیکٹ میں رکھنے لگا تو غضنفر حیرت سے بولا۔
اوں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ لمبا کام ہو جائے گا اور گھر میں سب ٹھیک ہیں؟
جی بھائی! غضنفر اب اسے گھر کی باتیں بتانے لگا۔ اس کا وہ بھائی جسے جیل سے نکلوانے میں جہان نے مدد کی تھی، اب وہ کام پہ لگ گیا تھا اور وہ اس بات سے کافی آسودہ لگ رہا تھا۔
میں چلتا ہوں، تمہارا بھی آف کرنے کا ٹائم ہو رہا ہے۔ اس کی بات تحمل سے سن کر اور تبصرہ کر کے اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ ماموں کے گھر پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ غضنفر سے مصافحہ کر کے وہ باہر آیا۔
سست رو لڑکا ابھی بوکے پلاسٹک کور کے گرد ربن باندھ رہا تھا۔
اسپرے نہیں کیا؟ اس نے سفید گلاب کے پھولوں کو دیکھ کر اچنبھے سے آبرو اٹھائی۔
میں نے ابھی دیکھا صاب!صاب اسپرے ختم ہو گیا ہے۔ آپ ایسے ہی لے جائیں۔ دیکھیں! یہ سبز پتے ساتھ میں لگائے ہیں، کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔
اچھا، زیادہ لیکچر مت دو۔ کتنے پیسے ہوئے، ناگواری سے ٹوکتے ہوئے اس نے بٹوہ نکالا۔ اندر سے چند نوٹ نکالتے ہوئے اس کی نگاہ اپنے سروس کارڈ پر پڑی۔ کیا ماموں کو یہ دکھانا تھا؟ نہیں، ابھی بہت جلدی ہو گا۔ پہلے ان کا اعتماد جیتنا ہو گا اور وہ ان کی نازک اندام، مغرور سی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب لوگوں کی زندگی کا حصہ بننا مشکل لگ رہا تھا۔
بوکے چھوٹا سا تھا۔ اس کو پہلو میں لٹکے ہاتھ میں لاپروائی سے پکڑے وہ سڑک کنارے چلنے لگا۔ ماموں کا گھر یہاں سے قریب تھا۔ مگر وہ کچھ دیر مرکز کی سڑکوں کے کناروے چلنا چاہتا تھا۔ ابھی وہ صرف اپنی سوچوں کو مجتمع کرنا چاہتا تھا۔
وہ کیا چاہتا تھا۔ وہ خود بھی پر یقین نہیں تھا۔ یا پھر جو وہ چاہتا تھا، اسے کہنے سے ڈرتا تھا۔ ماں سے کہنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر خود سے تو کہہ ہی سکتا تھا اور اصل بات وہی تھی، جو ثانیہ نے آج دوپہر میں کہی تھی وہ اپنے ماموؤں سے ڈرتا تھا- وہ ان کے طعنوں سے ڈرتا تھا۔ اتنے سالوں بعد بھی وہ ان کے سامنے سر اٹھانے سے ڈرتا تھا۔ مگر ممی کہتی تھیں، وقت بدل گیا ہے- فرقان ماموں اور سلیمان ماموں نرم ہو گئے ہیں۔ البتہ پیچھلے برس ہونے والی سلیمان ماموں سے ملاقات کے بعد اسے کوئی خوش فہمی نہیں رہی تھی کہ ان کے مزاج کی سختی اور غرور ختم ہو گیا ہے۔ وہ ویسے ہی تھے۔ فرق یہ تھا کہ اب سلیمان ماموں کو اپنی بیٹی کی فکر تھی، اب وہ بیٹی والے تھے۔ ان کا ہاتھ نیچے تھا اور اس کا اوپر۔ پہلے کی بات اور تھی۔ تب ان کی بیٹی چھوٹی تھی۔ انہیں مستقبل کی فکر نہیں تھی لیکن اب اس کی شادی کی عمر تھی۔ رشتے بھی آتے ہوں گے۔ اب وہ اس فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہوں گے اور ان کی پہلی ترجیح ان کا بھانجا ہی تھا۔ کوئی بھی اپنی خوشی سے بچپن کا نکاح نہیں توڑتا۔ سلیمان ماموں سے بھی اسے یہ امید تھی کہ وہ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہوں گے نہ وہ خود چاہتا تھا۔ لیکن نبھانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں آ کر وہ رک جاتا۔ یہ رشتہ نبھانا بہت مشکل تھا۔
وہ ایسی چھوٹی سوچ کا حامل آدمی تو تھا نہیں کہ پرانے انتقام لینے کے لیے ان کی بیٹی کو لٹکائے رکھتا۔ یہ بھی ٹھیک تھا کہ وہ ان سے مل لے تا کہ دونوں فریقین دیکھ لیں کہ یہ رشتہ چل سکتا ہے یا نہیں۔ اگر اسے محسوس ہوا کہ وہ نبھا سکتا ہے تو وہ ممی کو آگاہ کر دے گا اور اگر اسے لگا کہ وہ کہ نہیں نبھا پائے گا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھر اسی مقام پر آ کر رک گیا۔ ممی ہرٹ ہوں گی۔ یہ وہ آخری چیز تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا۔ اتنے سال اگر اس نے جان بوجھ کر ماموں کی فیمیلی سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی تو اس لیے کہ دور اندر وہ یہ رشتہ نہیں چاہتا تھا۔
سڑک کنارے سر جھکا کر چلتے ہوئے اس نے خود سے سچ بولنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ وہ خود ہی یہ رشتہ نہیں چاہتا تھا۔ اس کی یہ ساری بے رخی، لاتعلقی اور اعراض برتنا، سب لاشعوری طور پر اسی لیے تھا کہ وہ لوگ تنگ آ کر خود ہی یہ رشتہ ختم کر دیں اور وہ ماں کو دکھ دینے کے بوجھ سے آزاد ہو جائے۔ یہ الگ بات تھی کہ یہ خود کو دھوکہ دینے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ جو بھی یہ رشتہ ختم کرے، ذمہ دار تو وہی ہوتا۔ اس کے خشک رویے کے باعث ہی یہ رشتہ ٹوٹے گا۔
لیکن وہ لوگ اس سے اور کیا توقع رکھتے ہیں؟ کس نے کہا تھا انہیں کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کا رشتہ طے کر دیں؟ اسے کبھی کبھی ان سب ذمہ واران پہ ازحد غصہ چڑھتا تھا۔ ممی پہ البتہ نہیں چڑھتا۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ صرف اپنے بھائیوں کے ساتھ تعلق قائم رکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا، بس رشتے بچانے کے لیے ہی کیا۔ وہ جان بوجھ کر ماں کو شک کا فائدہ دے دیا کرتا تھا مگر ماموں کو نہیں۔ بے انصافی ہے تو بے انصافی ہی سہی۔
بہت دیر وہ سڑکوں پہ بے مقصد چلتا سوچوں میں غلطاں رہا۔ وہ ابھی ان کے گھر نہیں جانا چاہتا تھا مگر ماں کے سامنے اس کے “میں ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں“ اور ”یہ بہت جلدی ہے، مجھے سوچنے کا وقت دیں” جیسے بہانے نہیں چلتے تھے۔ اسے ایک دفعہ جانا ہی پڑے گا۔
گھڑی کی سوئیاں دس سے اوپر آ چکی تھیں۔ جب اس نے خود کو سلیمان ماموں کے گھر کے بیرونی گیٹ کے سامنے کھڑے پایا۔ گیٹ بند تھا۔ اندر گھر کی بتیاں جل رہی تھیں۔ اس کی نگاہیں ساتھ والے گیٹ پر پھیلیں۔ یہ فرقان ماموں کا گھر تھا۔ وہ پہلے ایک دن آ کر یہ گھر دیکھ گیا تھا اور پھر فیس بک پہ روحیل نے ان دونوں گھروں کے اندر باہر کی اتنی تصاویر لگا رکھی تھیں کہ اسے اندرونی نقشہ بھی حفظ تھا۔
وہ ان دونوں وسیع و عریض اور خوب صورت بنگلوں کے سامنے سڑک پہ گویا کسی دوراہے پہ کھڑا تھا۔ اندر جائے، یا یہیں سے پلٹ جائے؟ اسے صرف ایک بہانہ درکار تھا، اس گھر اور اس کے مکینوں سے دور بھاگنے کا۔ صرف ایک وجہ وہ ڈھونڈ لے اور واپس پلٹ جائے لیکن کوئی وجہ تھی ہی نہیں۔ اسے اندر جانا ہی تھا۔
دفعتاً فرقان ماموں کے گیٹ کے پیچھے کھڑکا ہوا اور پھر بولنے کی آوازیں، پاس آتے قدم۔ وہ غیر اختیاری طور پہ تیزی سے ایک طرف ہوا۔ کالونی میں نیم اندھیرا سا تھا۔ گھروں کی بیرونی بتیاں بھی اس جگہ کو روشن کرنے میں ناکام تھیں۔ وہ فرقان ماموں کے گیٹ کے داہنی طرف ایک گھاس سے بھرے جنگلے کے اوٹ میں ہو گیا۔
گیٹ سے فرقان ماموں چند افراد سمیت باہر نکل رہے تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس وہ خوش اخلاقی سے اپنے مہمانوں کو چھوڑنے باہر آئے تھے ۔ مہمان تین مرد حضرات تھے، جن کی کار سڑک کے پار ایک خالی پلاٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ یہاں سے ذرا دور، نا جانے کیوں ماموں اب ان افراد کے ساتھ باتوں میں مگن اسی طرف جا رہے تھے، پیچھے گیٹ کھلا رہ گیا تھا۔ گارڈ، چوکیدار، فی الوقت کوئی بھی نہ تھا۔ شادی قریب تھی۔ سو مصروفیت نے ملازموں کو بھی گھیر رکھا ہو گا۔
وہ اندھیری جگہ پر دم سادھے کھڑا فرقان ماموں کو دیکھتا رہا۔ دل میں ایک عجیب سی ہوک اٹھی تھی۔ پرانی باتیں پھر سے یاد آنے لگی تھیں۔ اس نے بے اختیار سر جھٹکا اور جیسے امڈتی یادوں کر رفع کرنا چاہا۔
ماموں اب اپنے مہمانوں کی گاڑی کے ساتھ کھڑے ان سے کچھ کہہ رہے تھے۔ اسے یوں وقت ضائع ہونے پہ الجھن ہو رہی تھی۔ چند منٹ تو وہ کھڑا رہا، مگر جب اسے لگا کہ ماموں اور ان کے مہمانوں کی گفتگوں لمبی ہوتی جا رہی ہے تو وہ جنگلے کے عقب سے نکل آیا۔ وہ لوگ بہت دور تو نہیں تھے۔ البتہ ایسے رخ سے کھڑے تھے کہ کسی کا بھی چہرہ گیٹ کی جانب نہیں تھا۔
وہ فرقان ماموں کا سامنا کیے بغیر اندر جانا چاہتا تھا۔ کیا حرج تھا اگر وہ یوں ہی اندر داخل ہو جاۓ۔ فرقان ماموں کو متوجہ کرنا اور ان کے سوالات کا جواب دینا؟ نہیں، ابھی نہیں۔
بہت آرام اور آہستہ سے وہ کھلے گیٹ کے اندر چلا آیا۔ سردی بڑھ گئی تھی۔ لان خالی تھا۔ سب اندر تھے۔ اس نے گردن ادھر ادھر گمھا کر درمیانی دروازہ تلاش کیا۔ وہ سامنے ہی تھا۔ اس پہ گھنٹی لگی تھی لیکن پہلے اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھل گیا۔ اسے جانا تو سلیمان ماموں کی طرف تھا، سو ادھر رکنا بے سود تھا۔ وہ دروازے سے گزر کر سلیمان ماموں کے لان میں داخل ہو گیا۔
اتنے برسوں سے بنا اجازت دوسروں کے گھروں، لاکرز، موبائلز اور ای میلز میں خاموشی سے داخل ہو نے اور نکلنے کی عادت کے باوجود وہ آفیشل کام کے بغیر ٹریس پاسنگ نہیں کیا کرتا تھا۔ اب بھی یہ کرتے وقت اس کے ذہن میں یہی بات تھی کہ وہ اس کے ماموں کا نہیں، بلکہ سسر کا بھی گھر ہے۔ اندر جا کر وہ بتا دے گا کہ وہ کس طرح داخل ہوا۔ بات ختم!
سلیمان ماموں کا ہرا بھرا لان بھی سنسان اور سرد پڑا تھا۔ اسے پچھتاوا ہوا کہ اس نے پھول اٹھانے کا تکلف کیوں کیا۔ خوامخواہ ایک بوجھ اٹھاۓ پھر رہا ہے۔ اس نے گلدستہ لان کی میز پہ رکھ دیا اور خود گھر کے داخلی دروازے کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
گھنٹی باہر گیٹ پہ تھی اندر داخلی دروازے پہ نہیں۔ اب کیا صرف دروازہ کھٹکٹانے پہ کوئی باہر نکلے گا؟ بہت تذبذب سے اس نے داخلی دروازے پہ دستک دی۔ البتہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ اندر کمروں میں موجود افراد اس وقت یہ دستک نہیں سن پائیں گے۔ وہ جان بوجھ کر اس طرح کر رہا تھا، تا کہ اسے ان سے ملنا نہ پڑے اور وہ کہہ سکے ”ممی میں گیا تھا، مگر آپ کے بھائیوں نے دروازہ ہی نہیں کھولا، میں کیا کرتا، سو واپس آ گیا“۔
حسب توقع دروازہ کسی نے نہیں کھولا۔ وہ سرد پڑتے ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے گھر کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے یوں ہی جائزہ لینے لگا اس گھر میں کون کون ہے۔ مہمان بھی آۓ ہوں گے شادی کے۔ کوئی جاگ رہا ہے یا نہیں ایسی ہی باتوں کا سرسری سا معلوم کرنے وہ گھر کو گھوم پھر کر دیکھنے لگا۔ تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ البتہ لان کے داہنی رخ پہ کھلتی ایک کھڑکی کے دو شیشے کے پٹ کھلے تھے۔ اتنی سردی میں کون کھڑکی کھول کر بیٹھا ہے؟
اچنبھے سے بھنویں سکیڑے اس طرف آیا۔
شیشے کھلے تھے، البتہ جالی بند تھی۔ اس کے پیچھے پردے بھی گرے تھے۔ دو پردوں کے درمیان ایک درز سی تھی، جس سے کمرے کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں وہ عادت سے مجبور تھا۔ نچلا لب دانت سے دباۓ، اس نے احتیاط سے گردن ذرا اونچی کر کے اندر دیکھا۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی تھی۔ صرف ایک ہی بلب جل رہا تھا۔ روشنی کا دوسرا منبع بیڈ کے تکیہ پہ رکھا لیپ ٹاپ تھا۔ جس کے سامنے وہ کہنیوں کے بل اوندھی لیٹی تھی۔ اسکرین کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی۔ وہ ٹھوڑی تلے ہتھیلی رکھے، دوسرے ہاتھ کی انگلی لیپ ٹاپ کے ٹچ پیڈ پہ پھیر رہی تھی۔
یہ وہی تھی جس کو اس نے دوپہر میں دیکھا تھا۔ اس نے وہی سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ سلکی بال ملائی سے بنی جلد۔
اس کی کزن، اس کی بیوی، کیسا عجیب رشتہ تھا کہ دل میں کوئی احساس نہیں جاگتا تھا۔ نہ ہی اس سے ملنے کی کوئی خواہش تھی۔ نہ جانے کیوں، وہ مایوس ہوا تھا۔ جس طرح لوگ مڑمڑ کر اسے ہوٹل کی لابی میں دیکھ رہے تھے، اسے وہ سب کچھ ناگوار لگا تھا۔ گو کہ اس کا لباس ایسا نہ تھا، آستین پوری تھیں، قمیص لمبی تھی، نیچے کھلا ٹراؤزر تھا۔ مگر اس کے کپڑوں کی فال ہی کچھ ایسی تھی اور کچھ اس کا انداز کہ وہ توجہ کھینچتے تھے۔ اسے ایسی لڑکیاں کبھی بھی اچھی نہیں لگتی تھیں۔ اسے یہ لڑکی بھی قطعا اچھی نہیں لگی تھی۔
رات کی مقدس خاموشی میں بٹنوں کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا تو وہ چونکا۔ وہ اب اٹھ کر بیھٹتے ہوۓ بے چینی سے موبائل پہ کال ملا رہی تھی۔
ہیلو زارا؟ شاید رابطہ مل گیا تھا۔ تب ہی وہ دبے دبے جوش سے چہکی۔ کیسی ہو؟ سو تو نہیں گئی تھیں؟ حیا بول رہی ہوں۔
جہان نے سوچا، وہ کیوں سردی میں کھڑا کسی کے کمرے میں جھانک رہا ہے۔ اس کو ممی نے ماموں وغیرہ کے سارے نمبرز رکھے تھے، پھر وہ انہیں کال کر کے بتا کیوں نہیں رہا کہ وہ ان کے گھر آیا آ چکا ہے۔ اگر اس کی نیت اندر جانے کی ہوتی تو وہ لاک توڑ کر بھی اندر داخل ہو جاتا۔ بات ساری نیت کی تھی۔
ساری باتیں چھوڑو زارا اور میرے پاس جو بڑی خبر ہے وہ سنو اور تم یقین نہیں کرو گی، میں جانتی ہوں۔
وہ اندر موجود لڑکی کی باتیں بے توجہی سے سن رہا تھا۔ موبائل جیب سے نکالتے ہوئے وہ سلیمان ماموں کو فون کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس نے نمبر ملایا، پھر بند کر دیا۔ پھر ملایا، پھر بند کر دیا۔
کین یو بلیو اٹ زارا کہ مجھے یورپین یونین نے اسکالرشپ کے لیے سلیکٹ کر لیا ہے؟
موبائل کی اسکرین پہ انگلی سے نمبر لکھتا وہ جیسے چونکا تھا۔ یورپین یونین کا اسکالر شپ ارسمس منڈس کا ایکسچینج پروگرام؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ اپنی دوست سے جو گفتگو کر رہی تھی، اس میں یہی نام اس نے لیا تھا۔ کیا وہ اسکالرشپ کے لیے کہیں جا رہی تھی؟ اس نے موبائل واپس جیب میں ڈالا۔ اس کی ساری حسیات اندر ہوتی گفتگو پہ لگ گئیں۔
نہیں، اسپین کی Duesto نہیں، بلکہ ترکی کی سبانجی یونیورسٹی نے ہمیں سلیکٹ کیا ہے اور اب ہم ایک سمسٹر پڑھنے پانچ ماہ کے لیے استنبول جا رہے ہیں۔
باہر سردی اور تاریکی میں کھڑکی کے ساتھ کھڑے جہان کو محسوس ہوا، کسی نے اس کا سانس روک دیا ہو۔ ترکی؟ استنبول؟ پانچ ماہ؟ اس نے بے یقینی سے پردوں کی درز سے جھلکتے منظر کو دیکھا۔ اس کا دماغ جیسے سن ہو گیا تھا۔
وہ اب اپنی دوست کو سبانجی میں ہیڈ اسکارف پہ پابندی کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اس کی توجہ پھر بھٹک گئی۔ اسے لگا اسے پشانی پہ پسینہ آ گیا ہے، جیکٹ کی آستین سے ماتھا صاف کرتے ہوئے وہ ذرا پیچھے کو ہوا تو ساتھ میں لگے گملوں سے ہاتھ ٹکرایا۔ بے خیالی میں ہونے والے اس عمل سے گملا لڑھک گیا۔ نیچے گھاس تھی، اس لیے وہ ٹوٹا نہیں، مگر پتوں کی ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ بھی اندر سنائی دی تھی، تب ہی اس نے اس لڑکی کو چونک کر کھڑکی کی طرف دیکھتے دیکھا۔
وہ بہت احتیاط سے ایک طرف ہو گیا۔ وہ اتنی بیوقوف یا لاپروا نہیں تھی، اس کی حسیات کافی تیز تھیں۔ اسے اب یہاں سے چلے جانا چاہیے، اس سے قبل کہ وہ پکڑا جاۓ۔
ابا نے مجھے کبھی اسکارف لینے یا سر ڈھکنے پہ نہیں مجبور کیا، تھینک گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کھڑکی کی طرف نہیں آئی، بلکہ سلسلہ کلام وہی سے جوڑے کہنے لگی۔ وہ دوسری دفعہ چونکا تھا۔ تھینک گاڈ؟ اس بات پہ تھینک گاڈ کہ اس کے باپ نے کبھی اسے سر ڈھکنے کا نہیں کہا؟ عجیب لڑکی تھی یہ۔
چند لمحوں میں اس نے فیصلہ کر کیا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اسے اندر نہیں جانا۔ اسے ان لوگوں سے ابھی نہیں ملنا، اسے پہلے اپنی ”بیوی“ سے بات کرنی ہو گی۔ اسے ان سے ملنے اور ان کو اپنی طرف سےکوئی بھی امید دلانے سے قبل اس لڑکی کو جاننا اور اعتماد میں لینا ہو گا۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ کسی نہ کسی طرح اسے ترکی کا اسکالرشپ حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ اللہ، اللہ، اگر وہ ترکی آ گئی تو وہ بری طرح سے پھنس جاۓ گا۔ کیسے سنبھالے گا وہ سب کچھ؟
اس نے گردن موڑ کر لان کی میز پہ رکھے گلدستے کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر جیب سے لفافوں کا بنڈل نکالا۔ وہ لفافہ جس پر ایک روز قبل کی مہر درج تھی، اس نے وہ علیحدہ کیا، پھر اندرونی جیب سے پین نکالا۔
چند لمحے سوچتا رہا، پھر لفافے کے اندر رکھا چوکور سفید موٹا کاغذ باہر نکالا اور اس پہ لکھا ”ویلکم ٹو سبانجی“ یہ اسے چونکانے کے لیے بہت ہو گا۔ کسی اور مقصد سے لیے گئے لفافے پہ اس کا نام لکھ کر اس نے ٹھیک سے اسے بند کیا۔
اندر وہ ابھی تک اپنی دوست کو پرسوں ہونے والی مہندی کے بارے میں بتا رہی تھی۔
وہ دبے قدموں چلتا لان میں رکھی کرسیوں تک آیا، میز پہ رکھا بوکے اٹھایا اور متلاشی نظروں سے گھر کو دیکھا۔ کدھر رکھے وہ اس کو؟ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں سب سے پہلے حیا دیکھے۔ اس کے ماں باپ نہیں۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نام بھی کتنا غیر مانوس تھا نا۔
اسے یہ گھر کے اندر رکھنا چاہیے۔ کچن کا ایک دروازہ عموما باہر کی طرف کھلتا ہے، شاید وہ کھلا ہو۔ یہی سوچ کر وہ گھوم کر گھر کی دوسری طرف آیا۔ کچن کا بیرونی دروازہ بند تھا لیکن ایک کھڑکی جو باہر کی طرف کھلتی تھی، اس میں سے وہ یہ بوکے اندر رکھ سکتا تھا۔ کھڑکی اس طرح سے بنی تھی کہ باہر کی طرف شیشے کے پٹ تھے اور اندر کی طرف گرل تھی۔ گرل کا ڈیزائن کچھ ایسا تھا کہ وہ بوکے اس کے اندر سے گزار کر کاؤنٹر پہ رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے لیے پہلے شیشے کے پٹ کو کھولنا ہو گا۔
اس نے بس دو دفعہ کھینچا اور پٹ کی کنڈی اکهڑ گئی۔ دیسی چیزیں، خیر! اسے صرف پهول اندر رکهنے سے غرض تهی۔ نہایت آہستگی سے گلدستہ اور بند لفافہ گرل میں سے گزار کر اس نے کاؤنٹر پر رکها، پھر ہاتھ واپس کهینچ لیا۔ شیشے والا پٹ احتیاط سے بند کرتے ہوئے وہ پلٹ گیا۔
صبح جو بھی پهول دیکھے گا، لفافے پہ درج نام پڑھ کر ان کو حیا کے حوالے کر دے گا۔ وہ ضرور سوچے گی کہ رات کو ان کے گھر کے اندر کون پهول رکھ کر جا سکتا ہے۔ اس سے آگے کیا ہو گا، یہ اسے طے کرنا تها، لیکن جو بات اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی تهی، وہ یہ تهی کہ وہ اس زبردستی کی ملاقات سے بچ گیا۔ ایک ان چاہے، مجبوری کے بندهن سے فرار کی مہلت میں چند دن کا اضافہ ہو گیا۔ اب وہ ممی کو کہہ سکتا تها کہ وہ اس لیے اندر نہیں گیا کیونکہ ان کی بهتیجی ترکی آ رہی ہے اور یہ بات ممی کو پریشان کر دینے کے لیے کافی تهی۔
گهر سے نکلنے سے قبل کچھ سوچ کر وہ پورچ میں کهڑی گاڑیوں کی طرف آیا تها۔
* * * *
فریحہ نے گردن موڑ کر کچھ اچنبهے، کچھ نخوت سے اسے دیکها۔
بولو!
میرا خیال ہے، ہم ادهر بینچ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پر اعتماد سی سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے ہاتھ سے سڑک کنارے بنی بینچ کی طرف اشارہ کیا۔
لڑکے! میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، جو کہنا ہے یہیں کہو۔
ٹھیک ہے۔ اب آپ میری بات سنیں۔ کندھوں کو ذرا سا اچکا کر وہ اس کے سامنے کھڑا کہنے لگا۔ آپ نے مجھے پناه گزین کی اولاد کہا تها۔
اب بھی کہتی ہوں اور بہت جلد تمہیں اس جگہ سے نکلوا کر بھی دکهاؤں گی۔ اس نے ہلکی سی استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
لیڈی فریحہ! پناہ گزین کی اولاد ہونا بہتر ہوتا ہے، اپنے شوہر کے چهوٹے بهائی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور ہر دو روز بعد رات کے ساڑھے بارہ بجے مکینک شاپ میں وہ کرنے سے، جسے گناہ کہتے ہیں۔
اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس نے کسی گلابی، سنہری سے انسانی چہرے کو سفید پڑتے دیکها تها- ایسا جیسے کسی نے سفید پینٹ کر دیا ہو۔ فریحہ کا سارا خون ہی نچڑ گیا۔ کتنے ہی پل تو وہ شل کهڑی رہی۔
اب آپ میری بات سنیں۔ مجھے اور میری فیملی کو اگر آپ نے یہاں سے نکلوانے کی کوشش کی تو میں آپ کے شوہر کے پاس چلا جاؤں گا اور یہ مت سوچئے گا کہ وہ میری بات نہیں مانیں گے۔ میں ان کو وہ ثبوت بهی دکهاؤں گا، جو میں نے اکٹھے کیے ہیں۔ یہ مت بھولیے گا کہ کیمرا ہر گهر میں ہوتا ہے۔
فریحہ نے شاید کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ یوں پکڑی جائے گی۔ وہ اتنی ششدر تهی کہ جوابا کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ وہ اسے یوں ہی ہکا بکا چهوڑ کر پلٹ آیا۔ اس کا اپنا دل بھی زور سے دهک دهک کر رہا تها۔ بہت دنوں سے اس نے فریحہ کے سامنے خود پہ اعتماد قائم کیا تها اور یہ کیمرے والی بات تو ایک خالی دهمکی تهی، اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تها۔ سامنے کوئی مرد ہوتا تو رکھ کے دو تهپڑ لگاتا اور بک جھک کر چلتا بنتا، مگر فریحہ کا غرور کچھ ایسے گهائل ہوا تها کہ وہ سنبھل ہی نہ سکی اور وہ دبی مسکراہٹ کے ساتھ واپس آ گیا-
پھر دوبارہ وہ کرامت بے کی دوکان پر نہیں گیا۔ علی کرامت کے گهر جانا بهی اس نے ترک کر دیا۔ اس کی عزت نفس کو گوارا نہیں تها کہ اب وه ان کے گهر جائے۔ لیکن اکثر اسکول سے جاتے ہوئے بس اسٹاپ پر شٹل کا انتظار کرتے وہ علی کرامت کو اپنی ڈاکٹر ممی کے ساتھ آتے دیکهتا تو پھر کافی دیر ان کو دیکهتا رہتا۔ نقاب سے بهی ان کی آنکھوں کی مسکراہٹ اور نرمی چپهتی نہ تهی۔
عمر حاقان اکثر نخوت سے کہتا نظر آتا کہ اس کی چچی ایک بدصورت، سیاہ فارم عورت ہے۔ مگر جہان کو وہ عورت بہت خوبصورت لگتی تهی۔ مرہ جمیلہ۔ اس کی مرہ جمیلہ۔ اس نے بہت عرصے بعد بالآخر ایک دن وہ مره جمیلہ والا کارڈ ان کو دے ہی ڈالا۔ وہیں بس سٹاپ پر کهڑے کارڈ پلٹ کر دیکهتے وہ بے اختیار ہنس دی تھیں۔
پھر بہت عرصہ نہیں گزرا، جب اس نے سنا، نانا کی طبیعت خراب تهی۔ ممی کو اس خبر نے بے چین کر دیا تها۔ وہ بار بار پاکستان فون کرتیں۔ اسے نا بتاتیں، مگر وہ دروازے کی اوٹ میں کهڑا سنتا رہتا۔
پلیز بھائی! مجھے اس طرح سے منع مت کریں۔ میں ابا سے ملنا چاہتی ہوں۔ بس میں اور جہان آئیں گے، کسی کو پتا نہیں چلے گا، پلیز آپ مجھے آنے دیں۔
وہ آنسو پونچھتی منت بھرے لہجے میں کہہ رہی ہوتیں۔ ایک شام اس نے ہمت مجتمع کر کے ابا کے کمرے کا ایکسٹینشن ریسیور تب اٹھایا جب ابا سو رہے تھے اور ممی لونگ روم میں بیٹھی پاکستان بات کر رہی تھیں۔
کوئی ضرورت نہیں سبین! بابا بالکل ٹھیک ہیں۔ تم یہاں آنے کا مت سوچو۔ دوسری طرف فرقان ماموں کہہ رہے تھے۔
مگر میرا دل کہتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ میں آنا چاہتی ہوں۔
ہر گز نہیں۔ تمہارے اس مفرور شوہر نے سارے زمانے میں ہمیں بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم پہلے ہی لوگوں سے اس بات پر منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ ہمارا بہنوئی مفرور ہے اور سیاسی پناہ لے کر رہ رہا ہے۔ اب تم آؤ گی تو ساری دنیا کیا کہے گی؟
مجھے ابا سے زیادہ کسی کی پرواہ نہیں ہے اور سکندر میرے ساتھ تو نہیں آ رہے۔ میں بس ایک دن کے لیے آ جاتی ہوں، اگر رشتہ داروں سے سامنا ہو گیا، تب بھی وہ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ابا سے ملنے آنے پر کون مجھ پر انگلی اٹھا سکتا ہے بھائی؟ممی کو ماموں کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی
میری نات سنو سبین! ہم نے تمہارے شوہر کے اس کارنامے کے بعد لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ سکندر ذلت اور شرمندگی کے باعث ساری زندگی پاکستان کا رخ نہیں کر سکتا۔ آخر کارنامہ بھی تو کافی شرمناک انجام دیا ہے نا۔ ہم نے یہ بھی کہ دیا ہے کہ ہم نے تم لوگوں سے قطع تعلق کر لیا ہے۔
فون لائن پر چند لمحے ایک ششدر سی خاموشی چھا گئی، پھر ممی کی ڈوبتی آواز سنائی دی۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں بھائی؟ میں آپ کی بہن ہوں، آپ مجھے یوں ڈس اون نہیں کر سکتے۔ ہمارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے بچوں کا رشتہ ہوا ہے۔
سلیمان کی بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ اس رشتے کی بات بعد میں دیکھی جائے گی۔ ویسے بھی یہ تم نے اپنی خود غرضی کے باعث کیا۔ تم جانتی تھی کہ سکندر نے کیا، کیا ہے اور تمہیں ڈر تھا کہ ہم لوگ تمہیں چھوڑ نہ دیں، اس لیے تم نے یہ رشتہ کیا۔
ہاں! میں نے دکھائی خود غرضی۔ ہاں! میں نے چھبائی حقیقت۔ مگر میں نے یہ رشتہ جوڑنے کے لیے کیا۔ صرف اس لیے کہ میں آپ سے نہ کٹوں۔ اب آپ مجھے میرے باپ سے ملنے سے روک رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ لوگوں کے سامنے جھوٹے ثابت نہ ہو جائیں؟ ممی دبی دبی چیخی تھیں۔..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Episode 30 Episode 31 Episode 32 Episode 33 Episode 34 Episode 35 Episode 36 Episode 37 Episode 38 Episode 39 Episode 40 Episode 41 Episode 42 Episode 43 Episode 44 Episode 45 Episode 46 Episode 47 Episode 48 Episode 49 Episode 50 Episode 51 Episode 52 Episode 53 Episode 54 Episode 55 Episode 56 Episode 57 Episode 58 Episode 59 Episode 60 Episode 61 Episode 62 Episode 63 Episode 64 Episode 65 Episode 66 Episode 67 Episode 68 Episode 69 Episode 70 Episode 71 Episode 72 Last Episode 73

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: